Ibrahim 14:33

Ibrahim · from ayah 33

14:33

وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآىِٕبَیْنِ ۚ— وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَالنَّهَارَ ۟ۚوَسَخَّرَ لَـكُمُ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ دَآئِبَيۡنِ‌ۚ وَسَخَّرَ لَـكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ‌ۚ‏

اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And He subjected for you the sun and the moon, continuous [in orbit], and subjected for you the night and the day.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 5 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:33

جس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسی نے تمہارے لیے سورج چاند کو مسخر کردیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں اور رات دن کو بھی تمہارے کام میں لگا رکھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہاری خاطر سورج اور چاند کو اس طرح کام پر لگایا کہ وہ مسلسل سفر میں ہیں، اور تمہاری خاطر رات اور دن کو بھی کام پر لگایا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہارے لیے سورج اور چاند مسخر کیے جو برابر چل رہے ہیں اور تمہارے لیے رات اور دن مسخر کیے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس نے تمہارے فائدہ کے لئے سورج اور چاند کو (باقاعدہ ایک نظام کا) مطیع بنا دیا جو ہمیشہ (اپنے اپنے مدار میں) گردش کرتے رہتے ہیں، اور تمہارے (نظامِ حیات کے) لئے رات اور دن کو بھی (ایک نظام کے) تابع کر دیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تمہاری خاطر سورج اور چاند کو مسخر کردیا کہ پے درپے چلنے والے ہیں اور تمہاری خاطر رات اور دن کو مسخر کردیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور تمہاری خاطر سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا جو لگاتار چل رہے ہیں اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام پر لگا دیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور سورج اور چاند کو بھی تمہاری نفع رسانی میں لگادیا، دونوں ایک ہی انداز پر گردش میں ہیں اور دن اور رات کو بھی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی نے تمہارے لئے کام میں لگا دیا سورج اور چاند (کے ان دو عظیم الشان کروں) کو، جو کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور اسی نے کام میں لگا دیا تمہارے بھلے کے لئے رات اور دن (کے اس عظیم الشان نظام) کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور تم کو ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے مانگی۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہوتو انہیں شمار نہ کرپاؤگے بیشک انسان بڑا ہی ناانصاف ہے بڑا ہی ناشکرا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور مسخر کردیا تمہارے لیے سورج اور چاند کو کہ مسلسل چل رہے ہیں اور مسخر کردیا تمہارے لیے رات کو اور دن کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا کہ دونوں دن رات ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ رات اور دن کو بھی تمہاری خدمت میں لگا دیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Who subjected for you the sun and the moon and both of them are constant on their courses, Who subjected for you the night and the day,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and He subjugated for you the sun and the moon, moving constantly, and subjugated for you the day and the night,

— Muhammad Taqi Usmani

and He subjugated for you the sun and the moon, moving constantly, and subjugated for you the day and the night,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And He has made the sun and the moon, both constantly pursuing their courses, to be of service to you; and He has made the night and the day to be of service to you.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And maketh the sun and the moon, constant in their courses, to be of service unto you, and hath made of service unto you the night and the day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And He subjected for you the sun and the moon, continuous [in orbit], and subjected for you the night and the day.

— Saheeh International

He made the sun and moon, each following its course, and the day and the night all subservient to you.

— Muhammad Sarwar

And He has made subservient to you the sun and the moon pursuing their courses, and He has made subservient to you the night and the day.

— Muhammad Habib Shakir

And He hath subjected for you the sun and the moon, two constant toils; and He hath subjected for you the night and the day.

— Abdul Majid Daryabadi

And He hath made subject to you the sun and the moon, both diligently pursuing their courses; and the night and the day hath he (also) made subject to you.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–34

سب کچھ تمہارا مطیع ہے اللہ کی طرح طرح کی بیشمار نعمتوں کو دیکھو۔ آسمان کو اس نے ایک محفوظ چھت بنا رکھا ہے زمین کو بہترین فرش بنا رکھا ہے آسمان سے بارش برسا کر زمین سے مزے مزے کے پھل کھیتیاں باغات تیار کردیتا ہے۔ اسی کے حکم سے کشتیاں پانی کے اوپر تیرتی پھرتی ہیں کہ تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائیں تم وہاں کا مال یہاں، یہاں کا وہاں لے جاؤ، لے آؤ، نفع حاصل کرو، تجربہ بڑھاؤ۔ نہریں بھی اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، تم ان کا پانی پیو، پلاؤ، اس سے کھیتیاں کرو، نہاؤ دھوؤ اور طرح طرح کے فائدے حاصل کرو۔ ہمیشہ چلتے پھرتے اور کبھی نہ تھکتے سورج چاند بھی تمہارے فائدے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اِبْرٰهِیْم 44 ”تمہارے لیے مسخر کیا“ کو عام طور پر لوگو غلطی سے ”تمہارے تابع کردیا“ کے معنی میں لے لیتے ہیں، اور پھر اس مضمون کی آیات سے عجیب عجیب معنی پیدا کرنے لگتے ہیں۔ حتی کہ بعض لوگ تو یہاں تک سمجھ بیٹھے کہ ان آیات کی رو سے تسخیر سمٰوات و ارض انسان کا منتہائے مقصود ہے۔ حالانکہ انسان کے لیے ان چیزوں کو مسخر کرنے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے قوانین کا پابند بنا رکھا ہے جن کی بدولت وہ انسان کے لیے نافع ہوگئی ہیں۔ کشتی اگر فطرت کے چند مخصوص قوانین کی پابند نہ ہوتی تو انسان کبھی بحری سفر نہ کرسکتا۔ دریا اگر مخصوص قوانین میں جکڑے ہوئی نہ ہوتے تو کبھی ان سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے تمہارے لئے سورج اور چاند کو مسخر کردیا کہ یہ دونوں ہمیشہ ایک حالت پر چلتے ہی رہتے ہیں دائبین داب سے مشتق ہے جس کے معنی عادت کے ہیں مراد یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر حال میں چلنا ان دونوں سیاروں کی عادت بنادی گئی کہ کبھی اس کے خلاف نہیں ہوتا مسخر کرنے کے یہ معنی نہیں کہ وہ تمہارے حکم اور اشاروں پر چلا کریں کیونکہ اگر شمس وقمر کو اس طرح انسان کا مسخر کردیا جاتا کہ وہ انسانی حکم کے تابع چلا کرتے تو انسانوں کے باہمی اختلاف کا یہ نتیجہ ہوتا کہ ایک انسان کہتا کہ آج آفتاب دو گھنٹے بعد نکلے کیونکہ رات میں کام زیادہ ہے دوسرا چاہتا کہ دو گھنٹے پہلے نکلے کہ دن کے کام زیادہ ہیں اس لئے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 32–34

تفسیر آیات 32 تا 34:۔ اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۚ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَ۔ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ۔ وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۔ یہ اسی مضمون کی مزید وضاحت ہے جو اوپر گزر چکا ہے کہ نعمتیں تو ساری کی ساری اللہ نے بخشیں لیکن ظالم مشرکوں نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33۔ 1 یعنی مسلسل چلتے رہتے ہیں، کبھی ٹھرتے نہیں رات کو، نہ دن کو۔ علاوہ ازیں ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ہیں لیکن کبھی ان کا باہمی تصادم اور ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ 33۔ 2 رات اور دن، ان کا باہمی تفاوت جاری رہتا ہے، کبھی رات، دن کا کچھ حصہ لے کر لمبی ہوجاتی ہے اور کبھی دن، رات کا کچھ حصہ لے کر لمبا ہوجاتا ہے۔ اور یہ سلسلہ ابتدائے کائنات سے چل رہا ہے، اس میں ایک رائی فرق نہیں آیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 31–34

23: اس سے مراد حساب و کتاب کا دن ہے۔ اس دن کوئی شخص پیسے خرچ کر کے جنت نہیں خرید سکے گا اور نہ دوستی کے تعلقات کی بنا پر اپنے آپ کو عذاب سے بچا سکے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 32–34

آیت نمبر 32 تا 34 یہ ایک زبردست تنقیدی حملہ ہے ، انسانی شعور پر کوڑے برسائے جا رہے ہیں۔ زمین و آسمان کے بڑے بڑے اجرام و پہاڑ ، شمس و قمر ، گردش لیل ونہار ، بارشیں اور پھل ، یہ سب کوڑے اور سنگ باری کا کام کر رہے ہیں۔ ان میں اس ظالم انسان کے شعور کے لئے سخت کاٹ بھی ہے اور پر محبت اور پرسوز آواز بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل فکر کے لئے اس کتاب کے معجزات میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر اور نفس انسانی کی الجھنوں کو عقیدۂ توحید کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اور ہر چمک کو ایک اشاراتی رنگ دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی نفس کے تصورات اور اشراقات میں سے ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی ندیوں میں پانی کا آنا اور کہیں سے کہیں پہنچنا گو کشتی کی طرح تمہارے کہنے میں نہیں، تاہم تمہارے کام میں وہ بھی لگی ہوئی ہیں۔ اسی طرح چاند سورج جو ایک معین نظام اور ضابطہ کے موافق برابر چل رہے ہیں، کبھی تھکتے نہیں نہ رفتار میں فرق پڑتا ہے۔ یا رات اور دن ایک دوسرے کے پیچھے ٹھہری ہوئی عادت کے موافق ہمیشہ چلے آتے ہیں یہ سب چیزیں گو اس معنی سے تمہارے قبضہ میں نہیں کہ تم جب چاہو اور جدھر چاہو ان کی قدرتی حرکت و تاثیر کو پھیر دو تاہم تم بہت سے تصرفات و تدابیر کر کے ان کے اثرات سے بیشمار فوائد حاصل کرتے ہو اور انسانی تصرف و تدبیر سے قطع نظر کر کے بھی وہ قدرتی طور پر ہر وقت تمہاری کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33 وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ان تمام چیزوں کے گنوانے سے انسان کو یہ جتلانا مقصود ہے کہ زمین کے دامن اور آسمان کی وسعتوں میں اللہ کی تمام تخلیقات اور فطرت کی تمام قوتیں مسلسل انسان کی خدمت میں اس کی نفع رسانی کے لیے مصروف کار ہیں اور وہ اس لیے کہ اس کائنات میں انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو سب مخلوقات سے اعلیٰ ہے۔ اللہ نے یہ بساط کون و مکان انسان ہی کے لیے بچھائی ہے اور باقی تمام اشیاء کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ اس کی ضروریات پوری کریں۔ یہی بات سورة البقرۃ کی آیت 29 میں اس طرح بیان فرمائی گئی ہے :…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 32–34

37 اللہ کی نعمتوں کی ناشکری :۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں بندوں پر اپنے احسانات کا ذکر کیا ہے جن کے بغیر ان کی زندگی ممکن ہی نہ تھی۔ مثلاً زمین اور آسمان پیدا کیے۔ زمین اس کائنات میں بنی نوع انسان کا مسکن ہے پھر زمین و آسمان میں ہواؤں اور بادلوں کا نظام جاری کیا تاکہ اس زمین میں بارش برسے اور انسانوں اور دوسرے جانوروں کو خوراک مہیا ہوسکے اور وہ زندہ رہ سکیں۔ اگر بارش کا سلسلہ منقطع ہوجائے تو انسان کو نہ کچھ پینے کو ملے اور نہ کھانے کو۔ پھر دودھ اور سواری کے لیے چوپائے بنائے اور بحری سفر کے لئے کشتیاں۔ اگر کشی کی ساخت میں چند مخصوص طبعی قوانین سے مدد نہ لی جاتی تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

57۔ (اور اس کا دینا بھی تمہارے حق میں قرین مصلحت ہوا) (آیت) ” من کل “۔ یعنی تمہاری ہر طلب کی ہوئی شے میں سے تمہیں کچھ دیا :۔ 58۔ (کہ نعمتوں کی قدر اور شکر نہیں کرتا بلکہ اور الٹا کفر ومعصیت میں مبتلا ہوجاتا ہے) (آیت) ” الظلوم کفار “۔ امام رازی (رح) کہتے ہیں کہ یہاں اللہ نے انسان کے یہ دو وصف بیان کئے ہیں، اور سورة نحل میں اپنے دو وصف ذکر کئے ہیں۔ ان اللہ لغفور رحیم گویا وہ آیت کے ٹھیک مقابل ہے اور انسان کی ناانصافی کے مقابلہ میں اللہ کی مغفرت اور انسان کے کفران نعمت کے مقابلہ میں اللہ کی رحمت ہے۔ والمقصود کانہ یقول ان کنت ظلوما فانا غفور وان کنت کفارا فانا رحیم (کبیر) (آیت) ” نعمت اللہ “۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 28–34

آیت نمبر 28 تا 34 ترجمہ : کیا آپ نے ان پر نظر نہیں ڈالی جنہوں نے اللہ کی نعمتوں یعنی ان کا شکر کو ناشکری سے بدل دیا اور وہ کفار قریش ہیں، اور اپنی قوم کو گمراہ کرکے ہلاکت کے گھر میں لا اتارا یعنی جہنم میں یہ عطف بیان ہے جس میں یہ سب داخل ہوں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے اور انہوں نے اللہ کے شریک ٹھہرالئے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ دین اسلام سے بہکائیں یاء کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اپنی دنیا میں (چند دن) مزے اڑالو، تمہاری جائے بازگشت تو آخر جہنم ہی ہے (اے نبی) میرے ان بندوں سے جو ایمان لائے ہیں کہہ دیجئے کہ نماز کی پابندی کریں، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے ظاہر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وسخر لکم الشمس والقمر دائبین اور تمہارے کام کیلئے سورج اور چاند کو بھی سرگرم کردیا۔ یعنی انسانوں کے منافع کیلئے یہ تیزی کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔ قاموس میں ہے : دَأَبَ فی عملہ کام میں کوشش اور محنت کی۔ دَأْبٌ‘ دَأَبٌ اور دُءُوْبٌ (مصدر) تیزی سے ہنکانا۔ دَآءِبَیْنَ شب و روز۔ یعنی دونوں تیز رفتاری کے ساتھ چلتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے اپنی اطاعت میں ان کو تیزرفتار بنا دیا۔ وسخر لکم الیل والنھار اور رات دن کو بھی تمہاری خدمت پر لگا دیا۔ رات دن کے پیچھے آتی ہے اور دن رات کے پیچھے۔ تمہارے آرام کیلئے رات بنا دی کہ کام کی تھکان اور ماندگی دور ہوجائے اور کسب معاش کیلئے دن کا اجالا کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(33) اور قیامت تک کے لیے تمہارے نفع کے لیے چاند وسورج کو مسخر بنایا اور رات دن کو مسخر بنایا کہ رات جاتی ہے دن آتا ہے اور دن جاتا ہے تو رات آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

دَاۗىِٕـبَيْنِ : یہ ”دَأَبَ یَدْأَبُ دَأْبًا“ سے اسم فاعل کا تثنیہ ہے، مسلسل چلنا، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے چلنے کے لیے جو نظام اور ضابطہ مقرر کردیا ہے اس پر لگا تار چلے جا رہے ہیں، نہ کبھی تھمتے ہیں اور نہ بگڑتے ہیں اور نہ رفتار میں کمی بیشی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–34

آیت نمبر 32 تا 34 قولہ تعالیٰ : اللہ الذی خلق السموت والارض یعنی بغیر کسی مثال کے اس نے ان کو بنایا اور ایجاد فرمایا۔ وانزل من السمآء یعنی بادلوں سے مآء فاخرج بہ من الثمرات یعنی درخت سے پھل نکالے۔ رزقا لکم تمہارے کھانے کے لیے۔ وسخر لکم الفلک لتجری فی البحر بامرہ اس کی تشریح سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ وسخر لکم الانھر یعنی میٹھے دریا مسخر کیے تاکہ تم ان سے پانی پیو، کھیتوں کو سیراب کرو اور کاشت کاری کرو، اور نمکین دریا مختلف فوائد کے حصول کے لیے مسخر کیے ہیں۔ وسخر لکم الشمس والقمر دآئبین یعنی نباتات وغیرہ میں سے جن کی اصلاح ان کے ذریعے ممکن ہوتی ہے ان کی اصلاح میں اللہ تعالیٰ نے سورج و چاند کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–34

1:۔ امام عبدالرزاق، سعید بن منصور، بخاری، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے مراد مکہ کے رہنے والے کافر ہیں۔ 2:۔ امام بخاری نے تاریخ میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابن مردویہ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے قریش میں سے فاجر ترین مراد ہیں بنو مغیرہ اور بنوامیہ بنومغیرہ کا بدر کی لڑائی میں تم نے کام تمام کردیا اور بنوامیہ کو کچھ عرصہ تک مزے اڑانے کا موقعہ دے دیا گیا۔ 3:۔ امام ابن مردویہ نے روایت نقل کی کہ ابن عباس ؓ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَسَخَّــرَ : اور اس لئے بیگار میں لگایا ] [ لَكُمُ : تمہارے لئے ] [الشَّمْسَ : سورج کو ] [وَالْقَمَرَ : اور چاند کو ] [دَاۗىِٕـبَيْنِ : مسلسل چلنے والے ہوتے ہوئے ] [وَسَخَّرَ : اور اس نے بیگار میں لگایا ] [لَكُمُ : تمہارے لئے ] [ الَّيْلَ : رات کو ] [وَالنَّهَارَ : اور دن کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 32–33

اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نعمتوں کا بیان اور انسان کی ناشکری کا تذکرہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفت خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا جو سب کی نظروں کے سامنے ہیں اور جن سے سب ہی مستفید ہوتے ہیں اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوقات ہیں نظروں کے سامنے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے خالق اور صانع ہونے پر دلالت کرتی ہیں دوم یوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس کے ذریعہ پھل نکالے جو تمہارے لیے رزق ہیں پانی برسنا بھی اسی کے حکم سے اور پھلوں کا پیدا ہوجانا بھی اسی کے حکم سے ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–34

مذمت کفار و مشرکین و مدح مومنین صالحین قال اللہ تعالیٰ الم تر الی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا .... الیٰ .... ان الانسان لظلوم کفار یہ آیت کفار مکہ کے حق میں نازل ہوئی جن پر اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے انعامات کیے اور ان کی ہدایت کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کیا جنہوں نے شجرہ طیبہ کی دعوت دی اور شجرہ خبیثہ کی مضرتوں سے آگاہ فرمایا مگر ان لوگوں نے اس نعمت کی ناشکری کا اور بجائے اس کے کہ منعم حقیقی کی شکر گزاری اور اطاعت شعاری کرتے اس کی ناشکری پر کمر بستہ ہوگئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قل لعبادی الذین امنوا میں اپنے خاص بندوں کو مراہم عبودیت بجا لانے کی تلقین فرمائی کہ تم اپنے منعم حقیقی کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 31–33

32:۔ یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے یہ دلیل تفصیلی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام عالم کا خالق ہے عالم علوی (اصمان، سورج، چاند) ۔ عالم سفلی (زمین، دریا، سمندر، حجر وشجر، بحر وبر) اور فضاء آسمانی میں جو کچھ ہے بادل بارش وغیرہ سب پر اللہ تعالیٰ کا قبضہ ہے اور ساری کائنات اس کے اختیار و تصرف میں اور اس کی مطیع فرمان ہے۔ زمین و آسمان کو اس نے پیدا کیا، بارش وہ برساتا اور پھل بھی وہی پیدا کرتا ہے، سمندروں میں بحری جہاز اس کے حکم سے چلتے ہیں، دریا میں بحری جہاز اس کے حکم سے چلتے ہیں، دریا اور ندیاں اس کے تابع فرمان ہیں۔ سورج چاند اور دن رات ہمارے نفع کے لیے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–34

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا اثبات اور کفر وشرک کا رد فرمایا تھا ، اس سلسلہ میں کلمہ توحید کی مثال پاکیزہ درخت کے ساتھ اور کلمہ کفر وشرک کی مثال ایک گندے درخت کے ساتھ بیان فرمائی فرمایا کہ دنیا وآخرت میں ایمان والوں کی ثابت قدمی کلمہ توحید کے ساتھ منسلک ہوتی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ منکرین نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کی جس کی وجہ سے کود بھی جہنم میں پہنچے اور دوسروں کو بھی ساتھ لے گئے ، خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ، فرمایا ، یہ لوگ چند دن تک فائدہ اٹھالیں ، بالآخر ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مخاطب کرکے فرمایا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ 33؀ۚ شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . ( ش م س ) الشمس کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے ۔ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–34

ترکیب : کفروا مفعول ثانی بدل کا جہنم بدل ہے دارالبوار سے۔ یقیموا و ینفقوا امر کے صیغے بحذف لام ای لیقیموا و لینفقوا کیونکہ قل اس پر دال ہے سرًا و علانیۃً مصدر ہیں موقع حال میں دائبیں حال الشمس والقمر سے ل مضاف ماموصولہ مضاف الیہ جملہ مفعول انکم من بقول اخفش زائد ہے۔ ھذا موصوف البلد صفت یا ھذا اسم اشارہ البلد مشارٌا لبہ یہ سب مفعول اول اجعل کا آتنا اس کا مفعول ثانی۔ ان نعبد ای عن نعبد من عصانی شرط فانک جواب والعائد محذوف ای لہ من ذریتی میں من زائدہ بواد موصوف عند بیتک صفت یا بدل علی الکبر حال ہے وہب لی سے۔ تفسیر : یہاں کلمہ خبیثہ کے پھل بیان فرماتا ہے الم تر سے لے کر الی النار تک کہ اللہ نے تو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 32–34

اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّـکُمْ ج وَسَخَّرَلَکُمُ الْفُلْکَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِہٖ ج وَسَخَّرَلَکُمُ الْاَنْھٰرَ ۔ ج وَسَخَّرَلَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ ج وَسَخَّرَلَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ ۔ ج وَاٰتٰـکُمْ مِّنْ کُلِّ مَاسَاَلْتُمُوْہُ ط وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لاَ تُحْصُوْھَا ط اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 32۔ 33۔ 34) (اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور بلندی سے پانی اتارا، پھر نکالے اس پانی سے تمہارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–34

فہم القرآن ربط کلام : جس اللہ کی عبادت اور اس کی راہ میں خرچ کرنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اس کی صفات یہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو انسان کو صرف حکم دیتا کہ مجھ پر ایمان لاؤ اور میری عبادت کرو۔ اس نے حکم دینے کی بجائے اپنی ذات پر ایمان لانے اور اپنی عبادت کے استحقاق کے بیشمار دلائل دیے ہیں۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اے لوگو ! اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی برسایا جس سے تمہارے کھانے پینے کے لیے انواع و اقسام کے پھل پیدا کیے۔ بس اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ کیونکہ تم جانتے ہو زمین و…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

33: وَ سَخَّرَلَکُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَدَآ ئِبَیْنِ (اور اس نے سورج اور چاند کو تمہارے کام کیلئے سرگرم عمل کردیا) دائبین ؔ یہ الشمس والقمر سے حال ہے۔ ای یدأبان فی سیرھما وہ اپنی رفتار میں اور روشنی اندھیرے کو اجالا کرنے اور زمین کی جس درستی کا تعلق ان سے ہے اس کو انجام دینے اور ابدان و نباتات کی اصلاح کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔ وَسَخَّرَ لَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ (اور اس نے دن اور رات کو تمہارے کام میں لگا دیا) تمہارے گزر اوقات اور نوم ویقظہ کیلئے پے درپے آجا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

33۔” وسخر لکم الشمس والقمر دائبین “ یہ دونوں دن و رات چلتے رہتے تا کہ اس کے ذریعے بندے اپنے مصالح کو انجام دیں ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے اپنی اطاعت میں ان کو تیز رفتار بنادیا ۔ ” وسخر لکم اللیل والنھار “ یہ ایک دوسرے کے پیچھے آتی ہے اور دن رات کے پیچھے اور رات دن کے پیچھے آتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–34

32۔ 34۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے اپنے بندوں پر جو احسان کئے ہیں ان کا حال بیان فرمایا کہ ہم نے آسمان و زمین کو تمہارے فائدہ کے لئے بنایا اور آسمان سے مینہ برسایا جس کی وجہ سے طرح طرح کے پھل درختوں میں لگتے ہیں اور ہزاروں قسم کے غلے پیدا ہوتے ہیں جس پر انسان کی زندگی کا دارو مدار ہے اور کشتیاں انسان کے قبضہ میں کردیں دریا کو بس میں کردیا تاکہ لوگ کشتیوں پر سوار ہو کر دریا کی راہ سے جہاں جی چاہے جائیں یہاں کی چیزیں وہاں اور وہاں کی یہاں لے جایا لے آیا کریں تجارت سے نفع اٹھائیں اور اس کے علاوہ دریا سے کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کریں اس کا پانی خود بھی پیویں اور اپنے جانوروں کو بھی پلائیں سورج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وسخرلکم الشمس والقمر دآئبین) ” اور کام میں لگادیا تمہارے لئے سورج اور چاند کو، ایک دستور پر برابر۔ “ ان کی رفتار میں نرمی آتی ہے نہ وہ سست پڑتے ہیں بلکہ تمہارے مصالح یعنی زمان واوقات کے حساب، تمہارے ابدان، تمہارے مویشی و حیوانات، کھیتوں اور باغات کے فائدے کے لئے رواں دواں رہتے ہیں۔ (وسخرلکم الیل) ” اور کام میں لگایا دیا تمہارے لئے رات کو “ تاکہ تم آرام کرسکو۔ (والنھار) ” اور دن کو “ تمہارے دیکھنے کے لئے تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–52

حین سے مراد قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 32–33

68۔ اللہ کی نعمتوں کا تقاضادل وجان سے اس کے آگے جھک جانا : سو زمین و آسمان کی یہ پوری کائنات جہاں ایک طرف اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے، وہاں دوسری طرف یہ اس کی بےپایاں رحمت کا ایک زندہ جاوید ثبوت بھی ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس سے تم لوگ یہ اندازہ کرسکتے ہو کہ کس قدر قادر مطلق اور کتنا مہربان ہے تمہارا وہ رب ذوالجلال جس نے یہ سب کچھ تمہیں محض اپنے کرم اور احسان سے عطا فرمایا، اس کا تقاضا ہے کہ تم لوگ دل وجان سے اپنے اس خالق ومالک کے آگے جھک جاؤ اور ہمیشہ اور ہر حال میں اس کے مطیع فرمان رہو، کہ یہ اس کا تم پر حق بھی ہے اور اسی میں تمہارا بھلا بھی ہے، دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔ وباللہ التوفیق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–34

صالح اعمال اور اللہ کے احسانات تشریح : یہ آیات مومن بندوں کو اس کی حیثیت، فرائض، اللہ کی وحدانیت، اس کے احسانات جو انسان پر کیے گئے اور تمام کائنات کا نقشہ بڑے ہی بہترین، جامع اور مختصر انداز میں بیان کر رہی ہیں۔ مخاطب پیارے رسول ﷺ کو کیا گیا ہے کہ ایمان لانے والے بندوں کو بتا دو کہ وہ اشرف المخلوقات ہیں اور زمین میں ان کو اللہ کا نائب بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اللہ جو مالک کائنات اور مالک روز جزا، منصف (انصاف کرنے والا) رحیم و جبار، سمیع وبصیر، غفور الرحیم اور ناظم اعلیٰ بادشاہوں کا بادشاہ ہے، ایسے عظیم الشان رب العلمین کا نائب یا خلیفہ ہونا کوئی معمولی بات نہیں، اس لیے انسان کو اپنے مالک کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 28–34

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف ذرا ان لوگوں کا حال ملاحظہ ہو کہ قانون قدرت اور تقاضائے ربوبیت کس طرح نتائج مرتب کرتا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ جل جلالہ کی نعمتوں کو تو پایا مگر بجائے شکر ادا کرنے کے کفر کی راہ اختیار کرلی ، نعمائے الہی میں ظاہرا تو خود وجود انسانی اور اس کی بیشمار صلاحیتیں ہیں پھر اس کی ضرورتوں کی تکمیل کے اسباب وذرائع اور اس کے استعمال کے لیے بیشمار نعمتیں ، یہ سب کچھ از خود عظمت باری پہ بہت بڑی دلیل ہے ، جبکہ اللہ جل جلالہ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرما کر اور اپنی کتابیں نازل فرما کر انعامات کی حد کردی انسان ایک باشعور اور باصلاحیت مخلوق تھی اسے چاہئے تو یہ تھا کہ ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے چلنے کے لئے جو نظام اور ضابطہ مقرر کردیا ہے اس پر لگاتار چلے جا رہے ہیں نہ کبھی تھمتے ہیں اور نہ بگڑتے ہیں اور نہ رفتار میں کمی یا زیادتی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 32–33

(14:33) دائبین۔ پھرنے والے۔ ایک دستور پر چلنے والے۔ اسم فاعل تثنیہ مذکر۔ الداب کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں۔ جیسے دأب فی السیر دأبا۔ وہ مسلسل چلا۔ نیز دأب کا لفظ عادت مستمرّہ پر بھی بولا جاتا ہے جیسے قرآن مجید میں ہے کداب ال فرعون (3:11) ان کا حال بھی فرعونیوں کا سا ہے یعنی ان کی سی عادت جس پر وہ ہمیشہ چلتے رہے ہیں۔ سخرلکم الشمس والقمر دائبین۔ اس نے سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا کہ وہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–34

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 34 انزل اس نے اتارا، نازل کیا۔ اخرج نکالا۔ الثمرات (ثمرۃ) ، (پھل، سبزہ، سبزی) رزق کھانے کو۔ سخر مسخر کردیا، حکم کے تابع کردیا ۔ الفلک کشتی، جہاز دائبین ہمیشہ کام میں لگے رہنے والے ۔ اتکم اس نے تمہیں دیا۔ سالتموہ تم نے اس سے مانگا۔ تعدوا تم گننا چاہو۔ تم شمار کرنا چاہو۔ لاتحصوا تم شمار نہ کرسکو گے۔ ظلوم بہت ظالم تشریح : آیت نمبر 32 تا 34 جیسا کہ گزشتہ آیات میں فرمایا گیا تھا کہ انسانی زندگی اور اس کی بقا و سلامتی کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ اللہ نے ایک نعمت کے طور پر اس کائنات میں بکھیر دی ہیں۔ جن پر ہر انسان کو اللہ کا شکر ادا ا کرنا چاہئے مگر انسان ہر آن اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–34

اللہ تعالیٰ کا احان بندو پر : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جو احسان کیے ہیں ان کا بیان فرمایا کہ ہم نے آسمان و زمین کو تمہارے فائدے کے لیے بنایا اور آسمان سے مینہ برسایا۔ جس کی وجہ سے طرح طرح کے پھل اور ہزاروں قسم کے غلے پیدا ہوتے ہیں جس پر انسان کی زندگی کا دارومدار ہے۔ اور کشتیاں انسان کے قبضہ میں کردیں دریا کو بس میں کردیا۔ تاکہ لوگ کشتیوں میں سوار ہوکر دریا کی راہ سے جہاں جی چاہے چائیں۔ تجارت کو ترقی ہو، سورج و چاند سے فائدہ اٹھائیں جو رات دن گردش میں رہتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ بس اسی پر اکتفا نہٰں بلکہ تمہاری ہر ایک خواہش کو بھی پورا کیا۔ اس لی اگر خدا کی نعمتیں شمار کی جائیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[81] کشتی، دریا، سورج، چاند، رات اور دن کو آدمی کے لئے مسخر کردینے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ نے ان کو ایسے قوانین کا پابند بنا رکھا ہے جن کی بدولت یہ انسان کے لئے نافع ہوگئے ہیں۔ اس آیت نے شرک کی بہت سی قسموں کی جڑ کاٹ دی اور اس حقیقت کو واضح کردیا کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہے سب انسان کی خدمات کے لئے ہیں نہ کہ اس لئے کہ الٹا انسان زمین آسمان، شجر حجر، دریا، سمندر، سورج اور چاند کی پرستش شروع کردے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–33

(ف 2) یعنی ایمان کے لیے ضروری ہے کہ عمل کی توفیق بھی ہو ورنہ صرف اقرار و اعتراف اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ، مومن وہ ہے جو اعمال صالح سے ایمان کا نبوت ، اس کا سر صبح کو خدا کے سامنے جھکے ، جو عین عبودیت کی نشانی ہے ، دیکھنے والا آگاہ ہو ، جو اللہ تعالیٰ میں اور بندے میں تعلق ہے ، نیز مال خدا کی راہ میں خرچ کرے اپنی قوت خڑچ کر کے نیکی جمع کرے غافل نہ ہو کیونکہ وقت ایسا آنے والا ہے کہ فرصت حیات ختم ہوجائے گی اور سا وقت نہ کچھ خریدا اور بیچا جاسکے گا ، دوستی محبت اور تعلقات اس وقت کام ہیں آئیں گے ۔ حل لغات : دار البوار : ہلاکت کا گھر ، یعنی دوزخ خلال : دوستی ، دوستاں

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

33 ۔ اور سورج اور چاند کو جو ہمیشہ مقررہ دستور پر چلتے رہتے ہیں تمہارے نفع کے لئے تمہارے کام میں لگا دیا اور نیز رات اور دن کو تمہارے نفع کے لئے تمہارے کام میں لگایا ۔ یعنی چاند ، سورج کا نفع یہ کہ روشنی ، گرمی ٹھنڈک کھیتوں کا پکنا پھلوں میں تری رہنا وغیرہ رات دن کا نفع یہ کہ معاش پیدا کرنا کمانا اور راحت و سکون حاصل کرنا وغیرہ ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 31–33

ف 2۔ مطلب یہ کہ عبادات بدنیہ ومالیہ کو ادا کرتے رہیں کہ یہی شکر ہے نعمت کا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سورج اور چاند کو مسخر کرنے والا بھی اللہ ہی ہے جو تمہارے کام بنانے والا ہے 34 ؎ غور کرو کہ ” رزقا لکم “ سخر لکم میں بار بار لکم (تمہارے لئے) کا تکرا رکتنا معنی خیز ہے گویا بتایا جا رہا ہے کہ تم ہی مقصود کائنات ہو ‘ باقی سب کچھ جو تم کو نظرآ رہا ہے یعنی زمین ‘ آسمان ‘ سورج ‘ ستارے ‘ سیارے ‘ درخت ‘ پہاڑ ‘ سمندر اور دریا بلکہ اس کائنات کا ایک ایک ذرہ تمہارے کام میں مصروف ہے اور اللہ نے ان سب کے اندر ایسی کشش رکھی ہے کہ ہرچیز اپنی اپنی جگہ اپنا کام بڑی مستعدی سے ادا کر رہی ہے۔ زمین و آسمان کے اس خلاء کے اندر کتنے کتنے بڑے اجرام فلکی آپ کو نظر آئے ان کی کشش ایک دوسرے کو بحال رکھنے کا باعث ہے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After that, it was said that 'We have subjugated the sun and the moon for you' as they both keep moving, always in the same state. The word: دَائِبَيْنِ ۖ (da'ibayn) is a derivation from دَأب da'b which means habit. The sense is that moving at all times and under all conditions has been made the habit of these two planets as it never happens contrary to that. The expression: سَخَّرَ‌ لَكُمُ ' (sakhkhara lakum: He subjugated for you) does not mean that they should be moving on your command. Had the sun and the moon been subjugated for human beings in a way that they would be moving under…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

44. The words sakh-khara-lakum of the text in (Ayats 32-33) have misled those people who have translated these into“subjected to you”. So much so that some of them interpret these verses to mean that the main aim of the life of man is to bring the earth and heavens under his subjection, whereas their real meaning is“the earth and heavens are subjected to certain laws and they serve you under these laws.”As a matter of fact Allah has subjected all these things to such laws as are beneficial for man. Had not a ship been subjected to certain physical laws, there could have been no navigation at…

Read the full tafseer →