Ibrahim 14:30

Ibrahim · from ayah 30

14:30

وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ ؕ— قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَی النَّارِ ۟وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا لِّيُـضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ‌ؕ قُلۡ تَمَتَّعُوۡا فَاِنَّ مَصِيۡرَكُمۡ اِلَى النَّارِ‏

اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھا لو آخرکار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they have attributed to Allah equals to mislead [people] from His way. Say, "Enjoy yourselves, for indeed, your destination is the Fire."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 5 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:30

اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں اِن سے کہو، اچھا مزے کر لو، آخرکار تمہیں پلٹ کر جانا دوزخ ہی میں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھا لو آخرکار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے اللہ کے ہمسر بنالیے کہ لوگوں کو اللہ کی راه سے بہکائیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ خیر مزے کرلو تمہاری بازگشت تو آخر جہنم ہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہوں نے اللہ کے ساتھ (اس کی خدائی میں) کچھ شریک بنا لیے، تاکہ لوگوں کو اس کے راستے سے گمراہ کریں۔ ان سے کہو کہ : (تھوڑے سے) مزے اڑا لو، کیونکہ آخر کار تمہیں جانا دوزخ ہی کی طرف ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ کے لیے برابر والے ٹھہراے کہ اس کی راہ سے بہکاویں تم فرماؤ کچھ برت لو کہ تمہارا انجام آگ ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انہوں نے اللہ کے لئے شریک بنا ڈالے تاکہ وہ (لوگوں کو) اس کی راہ سے بہکائیں۔ فرما دیجئے: تم (چند روزہ) فائدہ اٹھا لو بیشک تمہارا انجام آگ ہی کی طرف (جانا) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے اللہ کے لیے کچھ شریک بنا لیے، تاکہ اس کے راستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دے فائدہ اٹھالو، پس بیشک تمہارا لوٹنا آگ کی طرف ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان لوگوں نے اللہ کے کئی ہمسر بنا ڈالے تاکہ لوگوں کو اس کی راہ سے بھٹکا دیں۔ آپ ان سے کہئے : مزے اڑالو آخر تمہیں دوزخ کی طرف ہی لوٹنا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انہوں نے اللہ کے شریک ٹھہرائے تاکہ اس راستہ سے لوگوں کو گمراہ کرکے ہٹائیں کہہ دو چند دن عیش کرلو۔ بالآخر تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (بیان اس کا یہ ہے کہ) ان لوگوں نے ٹھہرا لئے اللہ کے لئے طرح طرح کے شریک، تاکہ (اس طرح یہ دوسرے لوگوں کو بھی) بہکا کر ہٹا دیں اللہ کی راہ سے، (ان سے) کہو کہ اچھا تم لوگ کچھ مزے اڑا لو (پر یاد رکھو کہ) آخرکار تمہیں جانا بہر حال (دوزخ کی) اس (ہولناک) آگ ہی کی طرف ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان لوگوں نے اللہ کے ساجھی قرار دیئے تھے تاکہ اس کی راہ سے (اپنے کو اور دوسروں کو) گمراہ کریں آپ کہہ دیجیے چندے عیش کرلو پھر تمہارا (آخری) انجام تو دوزخ ہی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہوں نے اللہ کے مد مقابل (شریک) ٹھہرا دیے ہیں تاکہ گمراہ کریں لوگوں کو اس کے راستے سے آپ کہیے کہ (دنیا کی زندگی میں) تم فائدہ اٹھا لو پھر یقیناً تمہارا لوٹنا آگ ہی کی طرف ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک مقرر کیے کہ لوگوں کو اس کے راستے سے گمراہ کریں کہہ دو کہ چند روز فائدے اٹھا لو، آخر کار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They have set up rivals to Allah that they may lead people astray from His way. Tell them: "Enjoy for a while. You are doomed to end up in the Fire!"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They have set up partners with Allah, so that they may mislead (the people) from His path. Say, :Enjoy (for a while). Then your ultimate journey is to the Fire.

— Muhammad Taqi Usmani

They have set up partners with Allah, so that they may mislead (the people) from His path. Say, :Enjoy (for a while). Then your ultimate journey is to the Fire.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they set up rivals to Allah, to mislead (men) from His path! Say: "Enjoy (your brief life)! But certainly, your destination is the (Hell) Fire!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they set up rivals to Allah that they may mislead (men) from His way. Say: Enjoy life (while ye may) for lo! your journey's end will be the Fire.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they have attributed to Allah equals to mislead [people] from His way. Say, "Enjoy yourselves, for indeed, your destination is the Fire."

— Saheeh International

To lead people astray, they claimed their idols were equal to God. (Muhammad), tell them, "Enjoy yourselves and know that the only place for you to go will be hell fire."

— Muhammad Sarwar

And they set up equals with Allah that they may lead (people) astray from His path. Say: Enjoy yourselves, for surely your return is to the fire.

— Muhammad Habib Shakir

And they have set up compeers unto Allah, that they may lead men astray from His way. Say thou: enjoy, then verily your vending is unto the Fire.

— Abdul Majid Daryabadi

And they set up (idols) as equal to Allah, to mislead (men) from the Path! Say: "Enjoy (your brief power)! But verily ye are making straightway for Hell!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 28–30

منافقین قریش صحیح بخاری میں ہے الم تر معنی میں الم تعلم کے ہے یعنی کیا تو نہیں جانتا بوار کے معنی ہلاکت کے ہیں باریبوربورا سے بورا کے معنی ہلکین کے ہیں مراد ان لوگوں سے بقول ابن عباس ؓ کفار اہل مکہ ہیں اور قول ہے کہ مراد اس سے جبلہ بن ابہم اور اس کی اطاعت کرنے والے وہ عرب ہیں جو رومیوں سے مل گئے تھے لیکن مشہور اور صحیح قول ابن عباس ؓ کا اول ہی ہے۔ گو الفاظ اپنے عموم کے اعتبار سے تمام کفار مشتمل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر اور کل لوگوں کے لئے نعمت بنا کر بھیجا ہے جس نے اس رحمت و نعمت کی قدر دانی کی وہ جنتی ہے اور جس نے ناقدری کی وہ جہنمی ہے۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–30

سورة اِبْرٰهِیْم 39 یعنی دنیا میں ان کو اس کلمہ کی وجہ سے ایک پائدار نقطہ نظر، ایک مستحکم نظام فکر، اور ایک جامع نظریہ ملتا ہے جو ہر عقدے کو حل کرنے اور ہر گتھی کو سلجھانے کے لیے شاہ کلید کا حکم رکھتا ہے۔ سیرت کی مضبوطی اور اخلاق کی استواری نصیب ہوتی ہے جسے زمانہ کی گردشیں متزلزل نہیں کرسکتیں۔ زندگی کے ایسے ٹھوس اصول ملتے ہیں جو ایک طرف ان کے قلب کو سکون اور دماغ کو اطمینان بخشتے ہیں اور دوسری طرف انہیں سعی و عمل کی راہوں میں بھٹکنے، ٹھوکریں کھانے، اور تلون کا شکار ہونے سے بچاتے ہیں۔ پھر جب وہ موت کی سرحد پار کر کے عالم آخرت کے حدود میں قدم رکھتے ہیں تو وہاں کسی قسم کی حیرانی اور سراسیمگی و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (اوپر جو کہا گیا ہے کہ ان لوگوں نے شکر نعمت کی جگہ کفر کیا اور اپنی قوم کو جہنم میں پہنچایا اس کفر اور پہنچانے کا بیان یہ ہے کہ) ان لوگوں نے اللہ کے ساجھی قرار دیئے تاکہ (دوسروں کو بھی) اس کے دین سے گمراہ کریں (پس ساجھی قرار دینا کفر ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنا جہنم میں پہچانا ہے) آپ (ان سب سے) کہہ دیجئے کہ چندے عیش کرلو کیونکہ آخر انجام تمہارا دوزخ میں جانا ہے (عیش سے مراد حالت کفر میں رہنا ہے کیونکہ ہر شخص کو اپنے مذہب میں لذت ہوتی ہے یعنی اور چندے کفر کرلو یہ تہدید ہے اور مطلب کیونکہ کا یہ ہے کہ چونکہ جہنم میں جانا تو تمہارا ضروری ہے اس واسطے کفر سے باز آنا تمہارا مشکل ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 28–30

آگے کا مضمون۔ آیت 28 تا 34:۔ قریش کو وعید اور اہل ایمان کو بشارت : آگے نہایت صاف الفاظ میں پہلے قریش کو تہدید و وعید ہے کہ چونکہ انہی نے اپنی قوم کو اس ہلاکت کے گڑھے میں گرایا ہے اس وجہ سے ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو کامیابی کی بشارت ہے اور ساتھ ہی اس کامیابی کے لیے انہیں جو تیاری کرنی چاہیے اس کی طرف اشارہ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔ تفسیر آیات 28 تا 30: اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ۔ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلَوْنَهَا ۭ وَبِئْسَ الْقَرَارُ۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30۔ 1 یہ تہدید و توبیخ ہے کہ دنیا میں تم جو کچھ چاہو کرلو، مگر کب تک ؟ بالآخر تمہارا ٹھکانا جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–30

22: یہ مکہ مکرمہ کے کافر سرداروں کی طرف اشارہ ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا، لیکن انہوں نے ان نعمتوں کی ناشکری کی، جس کے نتیجے میں خود بھی تباہی مول لی اور اپنی قوم کو بھی تباہی کے راستے پر لے گئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 28–30

درس نمبر 115 تشریح آیات 28 ۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 52 سورة ابراہیم کا یہ دوسرا دور ہے ۔ یہ بھی دور اول کے مضامین ہی کو لیے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ پہلے حصے کا مضمون یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی لئے بھیجا گیا تھا کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکال لائیں اور ان کو یہ نصیحت کریں کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر بڑا فضل و کرم کیا ہے اور اعلان کردیا ہے کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہارے اوپر انعامات میں اضافہ کردوں گا اور اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 29–30

8 یعنی خدا کے احسانات سے متاثر ہو کر منعم حقیقی کی شکر گزاری اور اطاعت شعاری میں لگتے، یہ تو نہ ہوا، الٹے بغاوت پر کمربستہ ہوگئے، خدا کے مقابل دوسری چیزیں کھڑی کردیں جن پر خدائی اختیارات تقسیم کیے اور عبادت جو خدائے واحد کا حق تھا، وہ مختلف عنوانوں سے ان کے لیے ثابت کرنے لگے، تاکہ اس سلسلہ میں اپنے ساتھ دوسروں کی راہ ماریں اور انھیں بہکا کر اپنے دام سیادت میں پھنسائے رکھیں۔ 9 یعنی بہتر ہے۔ بیوقوفوں کو جال میں پھنسا کر چند روز جی خوش کرلو اور دنیا کے مزے اڑا لو، مگر تابکے آخر دوزخ کی آگ میں ہمیشہ رہنا ہے۔ کیونکہ اس مزے اڑانے کا یہ ہی نتیجہ ہوگا۔ گویا یہ جملہ ایسا ہوا جیسے ایک طبیب کسی بد پرہیز…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30 وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ یعنی انہوں نے جھوٹے معبودوں کا ڈھونگ اس لیے رچایا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کی بندگی سے ہٹا کر گمراہ کردیں۔ ”اَنداد“ جمع ہے ’ نِد ‘ کی اس کے معنی مدمقابل کے ہیں۔ سورة البقرۃ کی آیت 22 میں بھی ہم پڑھ آئے ہیں : فَلاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا ”تو اللہ کے مدمقابل نہ ٹھہرایا کرو“۔ اس معاملے کی نزاکت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک صحابی نے حضور سے محاورۃً عرض کیا : مَاشَاء اللّٰہُ وَمَا شِءْتَ ”جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں“ تو آپ نے انہیں فوراً ٹوک دیا اور فرمایا : أَجَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّا ؟ مَا شَاء اللّٰہُ وَحْدَہٗ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 28–31

36 ان لوگوں سے مراد قریشی مشرک سردار ہیں جن کے ہاتھ میں اس وقت سارے عرب کی باگ ڈور تھی۔ یہ لوگ بیت اللہ کے پاسبان تھے اور اسی پاسبانی کی وجہ سے ان کی عرب بھر میں عزت کی جاتی تھی۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے آپ کو مبعوث فرمایا اور قرآن نازل فرمایا۔ یہ اللہ کی ان پر دوسری بڑی مہربانی تھی۔ مگر ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کا جواب ضد اور عناد سے دیا۔ حق کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔ پھر اس مخالفت میں بڑھتے ہی گئے تاآنکہ خود بھی تباہ ہوئے اور اپنی قوم کو بھی تباہ کرکے چھوڑا اور مرنے کے بعد خود بھی جہنم واصل ہوں گے اور اپنے پیرو کاروں کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53۔ دنیا کو مشیت حق نے دارالعمل بنارکھا ہے، دار الجزاء بنایا ہی نہیں، اس لئے کسی سخت کافر کو بھی دنیا میں سزا ملنا ہرگز ضروری نہیں، (آیت) ” جعلوا “۔ جعل کے معنی یہاں ٹھیرا لینے، قرار دے لینے، سمجھ لینے کے ہیں، والمراد من ھذا الجعل الحکم والاعتقاد (کبیر) (آیت) ” جعلوا للہ اندادا “۔ شرک کی مختلف صورتیں اور عجیب عجیب قسمیں مسلمانوں، موحدوں کے خیال میں بھی آنی مشکل ہیں۔۔ ایک شرک ستارہ پرستی کا ہے کہ زحل، مشتری، زہرہ وغیرہ مستقل دیویاں ہیں، ایک شرک آفتاب پرستی وماہتاب پرستی کا ہے کہ آفتاب اور ماہتاب بھی بڑے بڑے دیوتا اور اس نظام کائنات میں دخیل و متصرف ہیں ایک شرک اوتار پرستی کا ہے کہ خدا فلاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 28–34

آیت نمبر 28 تا 34 ترجمہ : کیا آپ نے ان پر نظر نہیں ڈالی جنہوں نے اللہ کی نعمتوں یعنی ان کا شکر کو ناشکری سے بدل دیا اور وہ کفار قریش ہیں، اور اپنی قوم کو گمراہ کرکے ہلاکت کے گھر میں لا اتارا یعنی جہنم میں یہ عطف بیان ہے جس میں یہ سب داخل ہوں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے اور انہوں نے اللہ کے شریک ٹھہرالئے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ دین اسلام سے بہکائیں یاء کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اپنی دنیا میں (چند دن) مزے اڑالو، تمہاری جائے بازگشت تو آخر جہنم ہی ہے (اے نبی) میرے ان بندوں سے جو ایمان لائے ہیں کہہ دیجئے کہ نماز کی پابندی کریں، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے ظاہر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجعلوا اللہ اندادا اور انہوں نے اللہ کی مثل دوسروں کو قرار دیا باوجودیکہ اللہ کا کوئی مثل نہ تھا۔ مثل قرار دینے سے مراد یہ ہے کہ نام اور عبادت میں اللہ کی طرح دوسروں کو قرار دیا (ا اللہ کی پرستش کی طرح دوسروں کو معبود الٰہ مانا) ۔ لیضلوا عن سبیلہ تاکہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو بھٹکا دیں۔ لِّیُضِلُوْا میں لام سبب اور علت کے لئے نہیں ہے کیونکہ اللہ کے سوا دوسروں کی پوجا کرنے سے ان کی غرض نہ خود گمراہ ہونا تھا نہ دوسروں کو گمراہ کرنا تھا ‘ بلکہ یہ لام غایت ہے یعنی اللہ کی مثل دوسروں کو قرار دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ گمراہ ہوگئے۔ قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار آپ کہہ دیجئے کہ چندے عیش کرلو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(30) اور ان لوگوں نے بتوں کو اللہ کے شریک قرار دے کر ان کی پوجا شروع کردی تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی اطاعت سے دوسروں کو بھی گمراہ کریں، اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ مکہ والو اپنے کفر میں مت رہو پھر قیامت کے دن تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا۔۔ : ”اَنْدَادًا“ ”نِدٌّ“ کی جمع ہے۔ راغب نے لکھا ہے : ”نَدِیْدُ الشَّیْءِ مُشَارِکُہُ فِیْ جَوْھَرِہِ“ کہ جو کسی چیز کے اصل میں شریک ہو، جبکہ مثل کا لفظ ہر مشارک پر بولا جاتا ہے، چناچہ ہر ”ند“ مثل ہے مگر ہر مثل ”ند“ نہیں۔ (اس لیے اس کا ترجمہ شریک کیا جاتا ہے) یعنی وہ ان کی پوجا کرنے لگے اور دکھ درد میں انھیں پکارنے لگے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کا جرم شرک کا ارتکاب اور لوگوں میں اس کی اشاعت کے ذریعے سے انھیں اسلام سے روکنا اور گمراہ کرنا قرار دیا ہے۔ ”تَمَتُّعٌ“ کچھ وقت تک فائدہ اٹھانے کو کہتے ہیں۔ قرآن میں جہاں بھی یہ لفظ ”تمتع“ یا ”تَمَتَّعُوْا“ (یعنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 28–30

آیت نمبر 28 تا 30 قولہ تعالیٰ : الم تر الی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کے بدلے کفر کیا یعنی جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو ان میں مبعوث فرمایا تو انہوں نے آپ کی تکذیب کرتے ہوئے کفر اختیار کرلیا، اس سے مراد قریش ہیں اور آیت انہیں کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ سے یہی مروی ہے۔ ایک قول یہ ہے : یہ آیت ان مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ بدر کے مقام پر جنگ کی۔ ابو الطفیل نے کہا : میں نے حضرت علی ؓ کو فرماتے سنا ہے : یہ وہ قریش ہیں جنہیں بدر والے دن قتل کیا گیا۔ ایک قول یہ ہے : یہ قریش کے بنو مخزوم اور بنو امیہ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–34

1:۔ امام عبدالرزاق، سعید بن منصور، بخاری، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے مراد مکہ کے رہنے والے کافر ہیں۔ 2:۔ امام بخاری نے تاریخ میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابن مردویہ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے قریش میں سے فاجر ترین مراد ہیں بنو مغیرہ اور بنوامیہ بنومغیرہ کا بدر کی لڑائی میں تم نے کام تمام کردیا اور بنوامیہ کو کچھ عرصہ تک مزے اڑانے کا موقعہ دے دیا گیا۔ 3:۔ امام ابن مردویہ نے روایت نقل کی کہ ابن عباس ؓ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَجَعَلُوْا : اور انھوں نے بنائے ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ اندَادًا : مدّمقابل ] [ لِيُضِلُّوْا : تاکہ وہ گمراہ کریں (لوگوں کو)] [ عَنْ سَبِيْلِهٖ : اس کے راستے سے ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [تمتَّعُوْا : تم لوگ فائدہ اٹھا لو ] [ فَان : پھر بیشک ] [مَصِيْرَكُمْ : تمہارا لوٹنا ] [ اِلَى النَارِ : آگ کی طرف ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر ان لوگوں کے شرک کرنے کا حال بیان فرمایا (وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِہٖ ) کہ ان لوگوں نے اللہ کے لیے انداد یعنی برابر والے تجویز کرلیے یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو شریک کردیا اور باطل معبودوں کو صفت الوہیت میں اللہ کی طرح مان لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا، جو ان کی اقتداء کرتے تھے اور ان کی راہ پر چلتے تھے ان لوگوں کی سزا بیان کرتے ہوئے فرمایا (قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَکُمْ اِلَی النَّارِ ) (یعنی تم اس دنیا میں نفع حاصل کرلو دنیا کی چیزوں سے فائدہ اٹھا لو یہ چند دن کا جینا اور نفع اٹھانا ہے کفر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–34

مذمت کفار و مشرکین و مدح مومنین صالحین قال اللہ تعالیٰ الم تر الی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا .... الیٰ .... ان الانسان لظلوم کفار یہ آیت کفار مکہ کے حق میں نازل ہوئی جن پر اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے انعامات کیے اور ان کی ہدایت کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کیا جنہوں نے شجرہ طیبہ کی دعوت دی اور شجرہ خبیثہ کی مضرتوں سے آگاہ فرمایا مگر ان لوگوں نے اس نعمت کی ناشکری کا اور بجائے اس کے کہ منعم حقیقی کی شکر گزاری اور اطاعت شعاری کرتے اس کی ناشکری پر کمر بستہ ہوگئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قل لعبادی الذین امنوا میں اپنے خاص بندوں کو مراہم عبودیت بجا لانے کی تلقین فرمائی کہ تم اپنے منعم حقیقی کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

31:۔ دفع عذاب کے لیے دو باتوں کا حکم فرمایا کہ اب وقت ہے شرک سے بچ جاؤ اور اللہ کے بندوں پر پوشیدہ اور علانیہ طور پر احسان کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو دنیوی اور اخروی عذاب سے بچ جاؤ گے۔ نماز بھی چونکہ خلاصی مصائب کا ایک ذریعہ اور امر مصلح ہے اس لیے اس کا بھی ذکر کیا گیا۔ جیسا کہ ارشاد ہے ” وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ “ (بقرہ) ۔ ” یُقِیْمُوْا “ اصل میں صیغہ امر غائب ہے لام امر محذوف ہے اصل میں ” لِیُقِیْمُوْا “ تھا بقرینہ قُلْ ۔ کیونکہ پہلے امر کے قرینہ سے دوسرے امر سے حذف لام جائز ہے کما فی الرضی امام کسائی اور زجاج نے بھی لام امر کو مقدر مانا ہے۔ ” ذھب الکسائی و الزجاج و جماعۃ الی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 28–31

(ربط آیات) سب سے پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی پھر قیامت کا ذکر آیا ، اس کے بعد رسالت کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہوا پھر اللہ نے ایمان اور کلمہ توحید کی مثال پاکیزہ درخت کے ساتھ بیان فرمائی اور کفر وشرک کے کلمے کو ناپاک اور بدذائقہ درخت کے ساتھ تشبیہ دی ، پھر اللہ نے اہل ایمان کے ثابت قدم رہنے کی بات کی کہ اللہ تعالیٰ اسی پاک کلمے کے ساتھ اہل ایمان کو اس دنیا میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور مرنے کے بعد قبر میں اور پھر حشر میں بھی ثابت قدمی عطا فرمائے گا ، اب آج کی آیات میں اللہ نے کفر اور شرک کرنے والوں کا شکوہ بیان کیا ہے اور ان کے شرک کی تردید کی ہے ، ساتھ ساتھ ایمان والوں کو ترغیب بھی دی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِيْرَكُمْ اِلَى النَّارِ 30؁ ندد نَدِيدُ الشیءِ : مُشارِكه في جَوْهَره، وذلک ضربٌ من المماثلة، فإنّ المِثْل يقال في أيِّ مشارکةٍ کانتْ ، فكلّ نِدٍّ مثلٌ ، ولیس کلّ مثلٍ نِدّاً ، ويقال : نِدُّهُ ونَدِيدُهُ ونَدِيدَتُهُ ، قال تعالی: فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 22] ، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 165] ، وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْداداً [ فصلت/ 9] وقرئ : (يوم التَّنَادِّ ) [ غافر/ 32] «2» أي : يَنِدُّ بعضُهم من بعض . نحو : يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–34

ترکیب : کفروا مفعول ثانی بدل کا جہنم بدل ہے دارالبوار سے۔ یقیموا و ینفقوا امر کے صیغے بحذف لام ای لیقیموا و لینفقوا کیونکہ قل اس پر دال ہے سرًا و علانیۃً مصدر ہیں موقع حال میں دائبیں حال الشمس والقمر سے ل مضاف ماموصولہ مضاف الیہ جملہ مفعول انکم من بقول اخفش زائد ہے۔ ھذا موصوف البلد صفت یا ھذا اسم اشارہ البلد مشارٌا لبہ یہ سب مفعول اول اجعل کا آتنا اس کا مفعول ثانی۔ ان نعبد ای عن نعبد من عصانی شرط فانک جواب والعائد محذوف ای لہ من ذریتی میں من زائدہ بواد موصوف عند بیتک صفت یا بدل علی الکبر حال ہے وہب لی سے۔ تفسیر : یہاں کلمہ خبیثہ کے پھل بیان فرماتا ہے الم تر سے لے کر الی النار تک کہ اللہ نے تو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 28–30

اَلَمْ تَرَا اِلَی الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ کُفْرًاوََّاَحَلُّوْا قَوْمَھُمْ دَارَالْبَوَارِ ۔ جَھَنَّمَ ج یَصْلَوْنَھَا ط وَبِئْسَ الْقَرَارُ ۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِہٖ ط قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَکُمْ اِلَی النَّارِ ۔ (سورۃ ابراھیم : 28۔ 29۔ 30) (کیا آپ نے ان لوگوں کی حالت پر غور نہیں کیا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی جہنم میں لا اتارا، جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرائے تاکہ اس کے راستہ سے لوگوں کو گمراہ کرکے ہٹائیں۔ آپ ﷺ کہہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 28–30

فہم القرآن ربط کلام : عقیدہ توحید کو چھوڑنے والا نہ صرف گمراہ اور ظالم ہوتا ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت کو بدلنے کا جرم بھی کرتا ہے۔ عقیدۂ توحید اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس عقیدہ کے ذریعے انسان کو اپنے سوا سب کی محتاجی اور در در کی ٹھوکریں کھانے سے بچالیتا ہے۔ اس سے نہ صرف انسان کو دینی اور دنیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں بلکہ انسان کی خودی اور غیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو شخص اس عظیم عقیدہ کو چھوڑ کر شرک اختیار کرتا ہے۔ وہ دردر کی ٹھوکریں کھانے کے ساتھ اپنی خودی بھی کھو بیٹھتا ہے۔ اس شخص کے کردار اور زیادتی کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کیا آپ نے ایسے لوگوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

30: وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا (انہوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنائے) عبادت میں مثیل بنا لئے۔ نمبر 2۔ نام میں مثیل بنا لیے۔ لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِہٖ (تاکہ وہ گمراہ کریں اس کے راستہ سے) قراءت : یہ یاؔ ء کے فتحہ کے ساتھ ہے مکی وابو عمرو نے اسی طرح پڑھا ہے۔ قُلْ تَمَتَّعُوْا (کہہ دو تھوڑا عیش کرلو) دنیا میں مراد اس سے رسوائی و ذلت ہے ذوالنون (رح) کہتے ہیں التمتع یہ ہے کہ بندہ اپنی طاقت بھر خواہش پوری کرے۔ فَاِنَّ مَصِیْرَکُمْ اِلَی النَّارِ (پس بیشک تمہارا ٹھکانہ آگ ہے) اسکی طرف لوٹنا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

30۔” وجعلوا اللہ اندادًا “ اس سے مراد اللہ کی مثل دوسروں کو قرار دیا ، باوجود یکہ اللہ کا کو ث مثل نہیں ۔ ” لیضلوا “ ابن کثیر اور ابو عمرو نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا۔ اسی طرح سورة حج میں لقمان اور زمر میں بھی پڑھا ہے اور دوسرے قراء کے نزدیک یاء کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ ” عن سبیلہ قل تمتعوا “ زندہ رہو دنیا میں ۔” فان مصیر کم الی النار “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 28–31

28۔ 30۔ صحیح بخاری، نسائی مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق، ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کی روایتوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش پر اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان کیا کہ اس قوم میں سے آنحضرت ﷺ کو نبی بنایا تاکہ قریش کی دین و دنیا درست ہوجاوے دنیا میں رسول کی برکت سے غیر قوموں پر فتح پاویں دین میں رسول سے راہ نجات سیکھ کر جس کے دائمی عیش میں رہیں لیکن فتح مکہ سے پہلے قریش لوگ اللہ کی اس نعمت سے خبر دار نہ ہوئے اور رسول وقت سے طرح طرح کی مخالفت کرتے رہے اور بت پرستی سے باز نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر کام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وجعلو اللہ انداداً ) ” اور ٹھہرائے انہوں نے اللہ کے لئے مقابل “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور شریک (لیضلواعن سبیلہ) ” تاکہ اس کے راستے سے گمراہ کریں۔ “ یعنی، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہمسر بناکر اور ان کی عبادت کی طرف دعوت دے کر بندوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا سکیں (قل) ان کو وعید سناتے ہوئے کہہ دیجئے (تمتعوا) اپنے کفر اور گمراہی سے تھوڑا سا فائدہ اٹھالو۔ پس یہ تمہیں کوئی فائدہ نہ دیں گے (فان مصیرکم الی النار) ” اس لیے کہ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے “ اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–52

حین سے مراد قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

61۔ مشرکوں کے شرک کا ذکر وبیان : یعنی توحید کی اس عظمت شان کے باجود لوگوں نے اللہ وحدہ لاشریک کے طرح طرح کے شریک ٹھہرالیے، کہ فلاں سے فلاں ہماری حاجت پوری ہوتی ہے، فلاں سے فلاں کام بنتا ہے، وغیرہ وغیرہ چناچہ مشرکین مکہ نے بیت اللہ شریف کے اندر تین سو ساٹھ بت بنا رکھے تھے، تاکہ ہر کام کے الگ معبود ہو، اور ہر روز ایک نئے معبود کے سامنے جھکیں، اور آج کلمہ گو مشرک نے بھی طرح طرح کی سرکاریں گھڑ رکھی ہیں، کانواں والی سرکار، بلیوں والی سرکار، اور کمبل والی سرکار وغیرہ وغیرہ، اور یہ کہ کہیں نوکری ملتی ہے، کہیں اولاد ملتی ہے، کہیں باؤلے کتے کے کاٹے کا علاج ہوتا ہے، اور کہیں پیٹ کے درد کا، کہیں خارش…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 24–30

اچھے کلمے اور برے کلمے کی مثال تشریح : جیسا اللہ کا کلام خوبصورت، فائدہ مند اور مکمل ہے اسی طرح اس کی دی ہوئی مثالیں بھی مقصد کو سمجھانے کے لیے انتہائی بہترین ہیں۔ اچھی بات صرف کہنے والے کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات بھی بڑے گہرے اور نہ ختم ہونے والے اور ہر سننے والے کے لیے اتنے فائدہ مند ہوتے ہیں کہ جیسے ایک صحت مند مضبوط درخت کا سایہ اور پھل فائدہ مند ہوتا ہے۔ بیشمار لوگوں کو اس سے بیشمار اور دیر پا فائدے ملتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ رشد و ہدایت کی باتیں ہیں اور کفر و شرک کی باتوں کو اللہ نے سوکھے سڑے بدنما اور بھدے درخت سے تشبیہ دی ہے۔ جس کی نہ جڑ مضبوط نہ پھل نہ سایہ۔ قوموں کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 28–34

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف ذرا ان لوگوں کا حال ملاحظہ ہو کہ قانون قدرت اور تقاضائے ربوبیت کس طرح نتائج مرتب کرتا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ جل جلالہ کی نعمتوں کو تو پایا مگر بجائے شکر ادا کرنے کے کفر کی راہ اختیار کرلی ، نعمائے الہی میں ظاہرا تو خود وجود انسانی اور اس کی بیشمار صلاحیتیں ہیں پھر اس کی ضرورتوں کی تکمیل کے اسباب وذرائع اور اس کے استعمال کے لیے بیشمار نعمتیں ، یہ سب کچھ از خود عظمت باری پہ بہت بڑی دلیل ہے ، جبکہ اللہ جل جلالہ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرما کر اور اپنی کتابیں نازل فرما کر انعامات کی حد کردی انسان ایک باشعور اور باصلاحیت مخلوق تھی اسے چاہئے تو یہ تھا کہ ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 ۔ ان کو پوجا کرنے لگے اور دکھ درد میں انہیں پکارنے لگے۔ 8 ۔ یعنی اچھا ! اگر تم باز نہیں آتے تو چند روز دنیا کے مزے اڑالو مگر کب تک ؟ آخر کار تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا ہے۔ یہ ڈرانے اور متنبہ کرنے کے لئے فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(14:30) اندادا۔ مقابل ۔ برابر۔ ند کی جمع۔ ند اس کو کہتے ہیں جو کسی کی ذات اور جوہر۔ یضلوا۔ ای یضلوا الناس۔ لوگوں کو گمراہ کریں۔ بھٹکائیں۔ سبیلہ۔ میں ہٖ ضمیر واحدمذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ تمتعوا۔ امر۔ جمع مذکر حاضر (باب تفعل) تمتع سے تم فائدہ اٹھالو۔ تم برت لو۔ قرآن مجید میں دنیاوی سازوسامان کے متعلق جہاں کہیں بھی تمتعوا آیا ہے تو اس سے تہدید (ڈرانا دھمکانا) مراد ہے۔ مصیرکم۔ مصیر۔ اسم ظرف مکان۔ مضاف کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مضاف الیہ تمہارے لوٹنے کی جگہ۔ صار یصیر۔ (ضرب) سے مراد ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہونا ہے۔ اسی لئے مصیر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی چیز نقل و حرکت کے بعد پہنچ کر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 28–31

لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 31 بدلوا انہوں نے بدل دیا۔ نعمت اللہ اللہ کی نعمت احلوا اتارا دار البوار تباہی کا گھر (جہنم) اندادا (ند) شرکاء شریک تمتعوا تم فائدہ اٹھا لو۔ حاصل کرلو۔ مصیر ٹھکانا۔ عبادی میرے بندے یقیموا الصلوۃ وہ نماز قائم کرتے ہیں ینفقون وہ خرچ کرتے ہیں رزقنا ہم نے دیا ۔ سر چھپ کر۔ علانیۃ کھلم کھلا ۔ بیع تجارت، لین دین۔ خلل دوستی ، دوستانہ تعلقات تشریح : آیت نمبر 28 تا 31 گزشتہ آیات میں اس بات کو تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کلمہ طیبہ کی برکتیں اور رحمتیں کیا ہیں ؟ اور کلمہ خبیثہ کی نحوستیں کیا کیا ہیں ؟ مکہ کے مغرور اور امتکبر سرداروں سے کہا جا رہا ہے کہ تمہیں تو اس بات پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 28–30

قریش مکہ کی بربادی اس آیت کا شان نزول اس طرح ہے کہ قریش پر اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان کیا کہ اس قوم میں سے آنحضرت ﷺ کو نبی بنایا تاکہ قریش کی دین و دنیا درست ہوجاویں لیکن فتح مکہ سے پہلے قریش لوگ اللہ کی اس نعمت سے خبردار نہ ہوئے اور رسول وقت سے طرح طرح کی مخالفت کرتے رہے اور بت پرستی سے باز نہ آئے، لیکن اللہ کی بارگاہ میں ہر کام کا وقت مقررہ ہے۔ اس لیے وقت مقرر تک ان کو مہلت دی گئی پھر آخر نتیجہ یہ ہوا کہ بدر کی لڑائی مٰ اللہ تعالیٰ نے قریش کے اکثر ان بڑے بڑے سرداروں کو جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کی ناشکری کی تھی مسلمانوں کے ہاتھ سے غارت کرادیا اور کتے کی موت مارے گئے اور آخرت میں فی النار…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–32

[17] اس آیت میں کفار قریش کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے ان میں سے ایک پیغمبر بھیج کر ان پر بڑا ہی احسان کیا تھا لیکن انہوں نے احسان کے بدلے میں ناشکری کی اور مخالفت پر اتر آئے۔ خود بھی گمراہ ہوئے اور اپنی قوم کو بھی گمراہی میں دھکیل دیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–30

قول ثابت : (ف 1) حدیث میں آیا ہے کہ قبر کی تنہائی میں کام آنے نہیں پائے ، قول ثابت یعنی حقیقت توحید ہے ، جو لوگ وحدت و توحید کی حقیقت سے آگاہ ہیں وہ نہ تو دنیا میں مصائب سے گھبرائے ہیں اور نہ عالم قبر میں ان کے لیے فزع و خوف ہے ، اللہ ان کو توحید کے وسیلے سے توفیق دیتا ہے کہ جرات سے دنیا میں مشکلات کا مقابلہ کریں ۔ ان کے دل منور ہوجاتے ہیں توحید کا نور قلب میں جاگزین ہوجاتا ہے اور قبر کی تاریکی میں یہی نور جنت کی روشنی میں تبدیل ہوجاتا ہے ، اور وہ لوگ جنہیں اس دنیا میں اس حقیقت سے آگاہی نہیں دنیا و آخرت میں خائب و خاسر رہتے ہیں نہ یہاں انہیں کامیابی و کامرانی میسر ہوئی اور نہ آخرت میں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

30 ۔ اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساجھی اور ہمسر مقرر کئے ہیں تا کہ اپنی قوم کے لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکائیں آپ ان سے کہئے اچھا چند روز عیش اور مزا اڑا لو اور فائدہ اٹھا لو پھر تم کو آخر کا دوزخ ہی کی طرف واپس ہونا ہے اور تمہاری باز گشت جہنم کی طرف ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ عیش سے مراد حالت کفر میں رہنا ہے کیونکہ ہر شخص کو اپنے مذہب میں لذت ہوتی ہے یعنی اور چندرے کفر کرلو یہ تہدید ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمسر بنانے والوں کا بالآخر انجام کیا ہوگا ؟ 31 ؎ دنیا کیا ہے ؟ بار بار عرض کیا جا چکا کہ دنیا دارالعمل ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے دارالجزاء نہیں بنایا یہی وجہ ہے کہ بہت سے سخت سے سخت کافروں کو بھی دنیا میں سزا ملنا ہرگز ضروری نہیں اور مکافات عمل اس سے ایک علیحدہ چیز ہے۔ ” جعلو اللہ اندادا “ شرک کی مختلف صورتیں اور عجیب عجیب قسمیں مسلمانوں موحدوں کے خا ال میں ان کا آنا مشکل ہے۔ ایک شرک ستارہ پرستی کا ہے کہ زحل ‘ مشتری ‘ زہرہ وغیرہ مستقل دیویاں تسلیم کی گئ ہیں ایک شرک آفتاب پرستی ہے کہ آفتاب و مہتاب بھی بڑے بڑے دیوتا اور اس نظام کائنات میں دخیل و متصرف ہیں ایک شرک اوتار پرستی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Appearing at the beginning of Surah Ibrahim there were subjects related to the mission of messengers and prophets, and to the states of one's ultimate return, and to the Hereafter. Mentioned after that was the commendation of the belief in Tauhid, the Oneness of Allah and, along with it, a condemnation of the profession of disbelief and the ascription of partners in the divinity of Allah which was clarified through examples. Then, those who adopted the later attitude were censured for the reason that they, rather than being grateful for the blessings of Allah Ta’ ala, chose to take…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–30

39. That is, the believers remain steadfast during the life of this world because of their stable system of life based on this pure word. For this gives than a straight point of view, a sound system of thought and a comprehensive theory of life, and it serves as a master key to the unraveling of all knots and the solving of all problems. With its help, they acquire that strength of character and that firmness of conduct which keep them steady in the face of every vicissitude of life. This provides them also with such solid principles of life which give them peace of mind and heart, and…

Read the full tafseer →