احسان اور احسن سلوک
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی اطاعت کا اور اپنے حق ماننے کا اور مخلوق رب سے احسان وسلوک کرنے کا حکم دے رہا ہے فرماتا ہے کہ نماز برابر پڑھتے رہیں جو اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت ہے اور زکوٰۃ ضرور دیتے رہیں قرابت داروں کو بھی اور انجان لوگوں کو بھی۔ اقامت سے مراد وقت کی، حد کی، رکوع کی، خشوع کی، سجدے کی حفاظت کرنا ہے۔ اللہ کی دی ہوئی روزی اس کی راہ میں پوشیدہ اور کھلے طور پر اس کی خوشنودی کے لئے اوروں کو بھی دینی چاہئے تاکہ اس دن نجات ملے جس دن کوئی خریدو فروخت نہ ہوگی نہ کوئی دوستی آشنائی ہوگی۔ کوئی اپنے آپ کو بطور فدیے کے بیچنا بھی چاہے تو بھی ناممکن جیسے فرمان ہے آیت…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 41
مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کی روش کفار کی روش سے مختلف ہونی چاہیے۔ وہ تو کافر نعمت ہیں۔ انہیں شکر گزار ہونا چاہیے اور اس شکر گزاری کی عملی صورت یہ ہے کہ نماز قائم کریں اور خدا کی راہ میں اپنے مال خرچ کریں۔
سورة اِبْرٰهِیْم 42
یعنی نہ تو وہاں کچھ دے دلا کر ہی نجات خریدی جاسکے گی اور نہ کسی کی دوستی کام آئے گی کہ وہ تمہیں خدا کی پکڑ سے بچالے۔
Read the full tafseer →(آیت) مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ۔ لفظ خلال خلۃ کی جمع بھی ہو سکتی ہے جس کے معنی بےغرض دوستی کے ہیں اور اس لفظ کو باب مفاعلۃ کا مصدر بھی کہہ سکتے ہیں جیسے قتال دفاع وغیرہ اس صورت میں اس کے معنی دو شخصوں کے آپس میں دونوں طرف سے مخلصانہ دوستی کرنے کے ہوں گے اس جملہ کا تعلق اوپر کے بیان کئے ہوئے دونوں حکم یعنی نماز اور صدقہ کے ساتھ ہے۔
مطلب یہ ہے کہ آج تو اللہ تعالیٰ نے طاقت فرصت عطا فرما رکھی ہے کہ نماز ادا کریں اور اگر پچھلی عمر میں غفلت سے کوئی نماز رہ گئی ہے تو اس کی قضاء کریں اسی طرح آج مال تمہاری ملک اور قبضہ میں ہے اس کو اللہ کے لئے خرچ کر کے دائمی…
Read the full tafseer →قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ۔
خلٰل کے معنی دوستی اور مواخات کے ہیں اور لفظ " بیع " بعض مواقع میں خریدو فروخت دونوں معنوں میں آتا ہے۔ جب تبادلہ چیز کا چیز سے ہو تو معاملت کے دونوں فریق بائع بھی ہوتے ہیں اور مشتری بھی۔
مسلمانوں کو پیغام : قریش کو کو انذیر کے بعد اب یہ پیغام مسلمانوں کے لیے ہے کہ ان سے کہہ دو کہ وہ نماز کا اہتمام کریں اور خدا کی راہ میں سرا و علانیۃ دونوں طرح خرچ کریں۔ سراً اس لیے کہ انفاق فی سبیل اللہ کی اصل روح اخلاص ہے اور…
Read the full tafseer →31۔ 1 نماز کو قائم کرنے کا مطلب ہے کہ اسے اپنے وقت پر اور نماز کو ٹھیک طریقہ کے ساتھ اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے، جس طرح کہ نبی ﷺ کی سنت ہے۔ انفاق کا مطلب ہے زکوٰۃ ادا کی جائے، اقارب کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے اور دیگر ضرورت مندوں پر احسان کیا جائے یہ نہیں کہ صرف اپنی ذات اور اپنی ضروریات پر تو بلا دریغ خوب خرچ کیا جائے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بتلائی ہوئی جگہوں پر خرچ کرنے سے گریز کیا جائے۔ قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ جہاں نہ خریدو فروخت ممکن ہوگی نہ کوئی دوستی ہی کسی کام آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
23: اس سے مراد حساب و کتاب کا دن ہے۔ اس دن کوئی شخص پیسے خرچ کر کے جنت نہیں خرید سکے گا اور نہ دوستی کے تعلقات کی بنا پر اپنے آپ کو عذاب سے بچا سکے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 31
میرے بندوں سے کہیں کہ میرا شکر اقامت صلوٰۃ کے ذریعہ ادا کریں۔ نماز شکر الٰہی ادا کرنے کا مخصوص ترین طریقہ ہے۔ پھر میرا شکر ادا کرنے کا اہم طریقہ انفاق فی سبیل اللہ ہے جو کچھ میں نے ان کو دیا ہے ، اس سے اعلانیہ اور خفیہ خرچ کریں۔ خفیہ اس وقت جب لینے والوں کی عزت نفس کی حفاظت بھی مقصود ہو اور دینے والوں کی مروت بھی محفوظ ہو ، کیونکہ جو لوگ تفاخر ، ظاہر داری اور مقابلے کے لئے خرچ کرتے ہیں وہ انفاق فی سبیل اللہ نہیں ہوتا ، اور اعلانیہ وہاں خرچہ کریں جہاں صدقات واجبہ کا ادا کرنا مقصود ہو ، اور جہاں انفاق کو مثالی بنانا مقصود ہو ، دونوں طریقوں میں سے کسی طریقے کا انتخاب کرنے والے کے…
Read the full tafseer →10 کفار کے احوال ذکر کرنے کے بعد مومنین مخلصین کو متنبہ فرماتے ہیں کہ وہ پوری طرح بیدار رہیں، وظائف عبودیت میں ذرا فرق نہ آنے دیں، دل و جان سے خالق کی عبادت اور مخلوق کی خدمت کریں کہ وہ بھی بہترین عبادت ہے۔ نمازوں کو ان کے حقوق و حدود کی رعایت کے ساتھ خشوع و خضوع سے ادا کرتے رہیں۔ خدا نے جو کچھ دیا ہے اس کا ایک حصہ خفیہ یا اعلانیہ مستحقین پر خرچ کریں۔ غرض کفار جو شرک اور کفران نعمت پر تلے ہوئے ہیں ان کے بالمقابل مومنین کو جان و مال سے حق تعالیٰ کی طاعت و شکر گزاری میں مستعدی دکھلانا چاہیے۔
11 یعنی نماز اور انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ نیکیاں اس دن کام آئیں گی، بیع و شراء یا محض دوستانہ تعلقات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
آیت 31 قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ
یہاں یہ نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے رسول اللہ کو مخاطب کر کے اہل ایمان کو بالواسطہ حکم دیا جا رہا ہے اور یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے اہل ایمان کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ پورے مکی قرآن میں یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے براہ راست مسلمانوں سے خطاب نہیں کیا گیا۔ سورۃ الحج میں ایک مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں مگر اس سورة کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس میں جو حکمت ہے وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جہاں تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
36 ان لوگوں سے مراد قریشی مشرک سردار ہیں جن کے ہاتھ میں اس وقت سارے عرب کی باگ ڈور تھی۔ یہ لوگ بیت اللہ کے پاسبان تھے اور اسی پاسبانی کی وجہ سے ان کی عرب بھر میں عزت کی جاتی تھی۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے آپ کو مبعوث فرمایا اور قرآن نازل فرمایا۔ یہ اللہ کی ان پر دوسری بڑی مہربانی تھی۔ مگر ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کا جواب ضد اور عناد سے دیا۔ حق کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔ پھر اس مخالفت میں بڑھتے ہی گئے تاآنکہ خود بھی تباہ ہوئے اور اپنی قوم کو بھی تباہ کرکے چھوڑا اور مرنے کے بعد خود بھی جہنم واصل ہوں گے اور اپنے پیرو کاروں کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبیں گے۔
Read the full tafseer →54۔ (بلکہ خالص اور کامل انصاف ہی کا سکہ چلے گا) (آیت) ” لعبادی “۔ عبادی میں مومن بندوں کی اضافت حق تعالیٰ کا اپنی ذات پاک کی طرف کرنا ان کے غایت اکرام وشرف کیلئے ہے۔ خصھم بالاضافۃ تنویھا لھم (بیضاوی) (آیت) ” وینفقوا “۔ یعنی نیک اور مطابق شریعت کاموں میں خرچ کرتے رہیں۔ حکم انفاق قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی آیا ہے ظاہر ہے کہ مراد مطلق خرچ کرنا نہیں، بلکہ امور خیر میں خرچ کرنا ہے۔ (آیت) ” مما رزقنھم “۔ رزق کو حق تعالیٰ نے اپنی جانب منسوب کرکے اوپر بھی اشارہ کردیا کہ رزق حلال ہونی چاہیے، حرام کمائی کا گزر ہی نہ ہو۔ (آیت) ” سرا وعلانیۃ “۔ پوشیدہ وعلانیہ جہاں جیسی بھی مصلحت شرعی نظر آئے۔ (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
آیت نمبر 28 تا 34
ترجمہ : کیا آپ نے ان پر نظر نہیں ڈالی جنہوں نے اللہ کی نعمتوں یعنی ان کا شکر کو ناشکری سے بدل دیا اور وہ کفار قریش ہیں، اور اپنی قوم کو گمراہ کرکے ہلاکت کے گھر میں لا اتارا یعنی جہنم میں یہ عطف بیان ہے جس میں یہ سب داخل ہوں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے اور انہوں نے اللہ کے شریک ٹھہرالئے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ دین اسلام سے بہکائیں یاء کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اپنی دنیا میں (چند دن) مزے اڑالو، تمہاری جائے بازگشت تو آخر جہنم ہی ہے (اے نبی) میرے ان بندوں سے جو ایمان لائے ہیں کہہ دیجئے کہ نماز کی پابندی کریں، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے ظاہر اور…
Read the full tafseer →قل لعبادی الذین امنوا یقیموا الصلوۃ وینفقوا مما رزقنھم سرا وعلانیۃ (اے محمد ! ) آپ میرے ان بندوں سے جو ایمان لے آئے ہیں ‘ کہہ دیجئے کہ وہ نمازیں قائم کریں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے ‘ اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر طور پر راہ خدا میں کچھ خرچ کریں۔ اہل ایمان کو خصوصی طور پر نماز پڑھنے اور راہ خدا میں خرچ کرنے کی ہدایت کرنے کا حکم دیا اور مؤمنوں کو خاص طور پر عبادی فرمایا اور اپنے بندے قرار دیا ‘ اس سب سے مقصود اہل ایمان کی عزت افزائی ہے اور اس امر پر تنبیہ کرنی مقصود ہے کہ اہل ایمان ہی حقیقتاً حقوق عبدیت کو ادا کرنے اور تعمیل احکام کرنے والے ہیں ‘ وہ امر کی تعمیل کریں گے۔
یُقِیْمُُوا ‘ قُلْ…
Read the full tafseer →(31) اے محمد ﷺ میرے مومن بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ پانچوں نمازوں کی کمال وضو، رکوع وجود اور تمام آداب اور اس کے تمام واجبات اور اہتمام کے ساتھ پابندی رکھیں اور جو ہم نے ان کو اموال دیے ہیں ان میں سے چھپا کر اور ظاہر کر کے صدقہ کیا کریں۔
قیامت کے آنے سے پہلے کہ جس میں نہ فدیہ ہوگا اور نہ دوستی کافر و مومن کسی کو کسی کی دوستی فائدہ مند نہ ہوگی ان خوبیوں کے مالک اصحاب رسول اکرم ﷺ ہیں۔
Read the full tafseer →قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : انسان سارے ہی اللہ کے بندے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کا ”عِبَادِیْ“ (میرے بندے) کہنا بہت بڑی عزت افزائی ہے، جیسا کہ فرمایا : (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا) [ بنی إسرائیل : 1 ] ”پاک ہے وہ جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا۔“ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ ان لوگوں سے کہہ دیں جن میں دو وصف ہیں، ایک تو یہ کہ وہ صرف میرے بندے ہیں، کسی غیر کے نہیں، جو اپنے نام عبداللہ، عبد الرحمٰن اور ان جیسے رکھتے ہیں، نہ کہ عبد الحسین، عبد النبی، پیراں دتہ، غوث بخش وغیرہ اور جو قولاً و عملاً صرف میری عبادت اور بندگی کرتے ہیں، نہ کہ کسی غیر کی اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 31
قولہ تعالیٰ : قل لعبادی الذین امنوا یعنی اہل مکہ نے اللہ کی نعمت کو کفر کے ساتھ تبدیل کرلیا ہے سو آپ اسے فرمائیے جو ایمان لایا اور جس نے اپنی عبودیت کو ثابت کردیا ہے کہ یقیموا الصلوٰۃ یعنی پانچوں نمازیں ادا کریں، یعنی آپ ان کو ارشاد فرمائیں کہ قائم کرو، امر کے ساتھ شرط مقدر ہے، جس طرح آپ کہتے ہیں : اللہ کی اطاعت کر وہ تجھے جنت میں داخل کرے گا، یعنی اگر تو اس کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے جنت میں داخل کرے گا۔ یہ فراء کا قول ہے۔ زجاج نے کہا : یقموا مجزوم ہے اصل میں۔ لیقیموا ہے لام کو ساقط کردیا گیا ہے کیونکہ قل کی وجہ سے غائب کا صیغہ ہونے کے باوجود امر پر دلالت کرتا ہے یہ احتمال بھی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
1:۔ امام عبدالرزاق، سعید بن منصور، بخاری، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے مراد مکہ کے رہنے والے کافر ہیں۔
2:۔ امام بخاری نے تاریخ میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابن مردویہ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے قریش میں سے فاجر ترین مراد ہیں بنو مغیرہ اور بنوامیہ بنومغیرہ کا بدر کی لڑائی میں تم نے کام تمام کردیا اور بنوامیہ کو کچھ عرصہ تک مزے اڑانے کا موقعہ دے دیا گیا۔
3:۔ امام ابن مردویہ نے روایت نقل کی کہ ابن عباس ؓ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [لِعِبَادِيَ الَّذِينَ : میرے ان بندوں سے جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے کہ ] [يُقِيْمُوا : چاہیے کہ وہ لوگ قائم رکھیں ] [الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [وَيُنْفِقُوْا : اور چاہیے کہ وہ لوگ خرچ کریں ] [ مِمَا : اس میں سے جو ] [ رَزَقْنٰهُمْ : ہم نے عطا کیا ان کو ] [سِرًّا : چھپاتے ہوئے ] [وَّعَلَانيَةً : اور ظاہر ہوتے ہوئے ] [مِّنْ قَبْلِ : اس سے پہلے ] [ان : کہ ] [يَاْتِيَ : آئے ] [يَوْمٌ: ایک ایسا دن ] [ لَّا بَيْعٌ: کوئی سودا نہیں ہے ] [ فِيْهِ : جس میں ] [ وَلَا خِلٰلٌ: اور نہ ہی یارانے ]
ترکیب : (آیت۔ 31) یُقِیْمُوْا اور یُنْفِقُوْا کے نون اعرابی گرے ہوئے ہیں۔ اس سے…
Read the full tafseer →قیامت کے دن نہ بیع ہوگی نہ دوستی
اس کے بعد فرمایا (قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) (الآیۃ) کہ آپ میرے مومن بندوں سے فرما دیں کہ اس دن کے آنے سے پہلے جس میں کوئی خریدو فروخت اور دوستی نہ ہوگی، نماز قائم کریں اور جو مال ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدہ طور پر اور ظاہر طور پر خرچ کریں، اس میں نماز اور انفاق کا حکم دیا، پوشیدہ طور پر مال کو خرچ کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ نفس کو ریا کاری کا موقع نہیں ملتا اور ظاہراً خرچ کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ دوسروں کو بھی عمل خیر کی توفیق ہوجاتی ہے، لوگوں کے سامنے نیک عمل کرنے کا نام ریا کاری نہیں ریا کاری اس جذبے کا نام ہے کہ لوگ معتقد ہوں اور تعریف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
مذمت کفار و مشرکین و مدح مومنین صالحین
قال اللہ تعالیٰ الم تر الی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا .... الیٰ .... ان الانسان لظلوم کفار
یہ آیت کفار مکہ کے حق میں نازل ہوئی جن پر اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے انعامات کیے اور ان کی ہدایت کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کیا جنہوں نے شجرہ طیبہ کی دعوت دی اور شجرہ خبیثہ کی مضرتوں سے آگاہ فرمایا مگر ان لوگوں نے اس نعمت کی ناشکری کا اور بجائے اس کے کہ منعم حقیقی کی شکر گزاری اور اطاعت شعاری کرتے اس کی ناشکری پر کمر بستہ ہوگئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قل لعبادی الذین امنوا میں اپنے خاص بندوں کو مراہم عبودیت بجا لانے کی تلقین فرمائی کہ تم اپنے منعم حقیقی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
32:۔ یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے یہ دلیل تفصیلی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام عالم کا خالق ہے عالم علوی (اصمان، سورج، چاند) ۔ عالم سفلی (زمین، دریا، سمندر، حجر وشجر، بحر وبر) اور فضاء آسمانی میں جو کچھ ہے بادل بارش وغیرہ سب پر اللہ تعالیٰ کا قبضہ ہے اور ساری کائنات اس کے اختیار و تصرف میں اور اس کی مطیع فرمان ہے۔ زمین و آسمان کو اس نے پیدا کیا، بارش وہ برساتا اور پھل بھی وہی پیدا کرتا ہے، سمندروں میں بحری جہاز اس کے حکم سے چلتے ہیں، دریا میں بحری جہاز اس کے حکم سے چلتے ہیں، دریا اور ندیاں اس کے تابع فرمان ہیں۔ سورج چاند اور دن رات ہمارے نفع کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
(ربط آیات)
سب سے پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی پھر قیامت کا ذکر آیا ، اس کے بعد رسالت کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہوا پھر اللہ نے ایمان اور کلمہ توحید کی مثال پاکیزہ درخت کے ساتھ بیان فرمائی اور کفر وشرک کے کلمے کو ناپاک اور بدذائقہ درخت کے ساتھ تشبیہ دی ، پھر اللہ نے اہل ایمان کے ثابت قدم رہنے کی بات کی کہ اللہ تعالیٰ اسی پاک کلمے کے ساتھ اہل ایمان کو اس دنیا میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور مرنے کے بعد قبر میں اور پھر حشر میں بھی ثابت قدمی عطا فرمائے گا ، اب آج کی آیات میں اللہ نے کفر اور شرک کرنے والوں کا شکوہ بیان کیا ہے اور ان کے شرک کی تردید کی ہے ، ساتھ ساتھ ایمان والوں کو ترغیب بھی دی…
Read the full tafseer →قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ 31
عبد
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
ترکیب : کفروا مفعول ثانی بدل کا جہنم بدل ہے دارالبوار سے۔ یقیموا و ینفقوا امر کے صیغے بحذف لام ای لیقیموا و لینفقوا کیونکہ قل اس پر دال ہے سرًا و علانیۃً مصدر ہیں موقع حال میں دائبیں حال الشمس والقمر سے ل مضاف ماموصولہ مضاف الیہ جملہ مفعول انکم من بقول اخفش زائد ہے۔ ھذا موصوف البلد صفت یا ھذا اسم اشارہ البلد مشارٌا لبہ یہ سب مفعول اول اجعل کا آتنا اس کا مفعول ثانی۔ ان نعبد ای عن نعبد من عصانی شرط فانک جواب والعائد محذوف ای لہ من ذریتی میں من زائدہ بواد موصوف عند بیتک صفت یا بدل علی الکبر حال ہے وہب لی سے۔
تفسیر : یہاں کلمہ خبیثہ کے پھل بیان فرماتا ہے الم تر سے لے کر الی النار تک کہ اللہ نے تو…
Read the full tafseer →قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ سِرًّاوَّعَلاَنِیَۃً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیَ یَوْمٌ لاَّبَیْعٌ فِیْہِ وَلاَ خِلٰلٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 31)
(آپ ﷺ فرما دیجئے میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے ہیں کہ وہ نماز کا اہتمام رکھیں۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کریں۔ اس سے پیشتر کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خریدوفروخت ہوگی اور نہ دوستی کام آئے گی۔ )
مسلمانوں کو پیغام
قریش کو تنبیہ اور انذار کے بعد مسلمانوں کو نصیحت کی جارہی ہے اور بالواسطہ یہ بتانا مقصود ہے کہ قریش کے دن گنے جا چکے ہیں، یہ گرتی ہوئی دیوار کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : توحید کے فوائد اور شرک کے نقصانات کا ذکر کرنے کے بعد توحید کے تقاضوں کا بیان ہے۔
مخلوق ہونے کے ناطے تمام انسان اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں مگر جن لوگوں نے کفر و شرک اختیار کیا وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی سے نکل کر شیطان کے بندے بن جاتے ہیں۔ قرآن مجید نے انہیں ” عبدالطاغوت “ قرار دیا ہے۔
ان کے مقابلے میں جنہوں نے عقیدۂ توحید اپنایا انہیں قرآن مجید آمنوا کے اعزاز سے نوازتا ہے۔ انھیں اللہ تعالیٰ اپنے بندے قرار دیتا ہے۔ جن کے بارے میں سرور دو عالم ﷺ کو ارشاد ہوا :” آپ انہیں فرمائیں کہ اے اللہ کے بندو ! توحید کا تقاضا ہے کہ پانچ وقت نماز قائم کرو جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا فرمایا اس…
Read the full tafseer →ایمان والوں کا شرف :
31: قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (کہہ دیں میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے) اپنی طرف اضافت کر کے ان کو شرف بخشا۔
قراءت : شامی، حمزہ، علی، الاعشیٰ نے سکون یاءؔ سے پڑھا یُقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ وَیُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ (وہ نماز کو قائم کریں اور جو ہم نے رزق دیا اس میں سے خرچ کریں) یہاں مقولہ محذوف ہے کیونکہ قل کا لفظ مقولے کا تقاضا کرتا ہے اور وہ اقیموا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ان کو کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور خرچ کریں) اقیموا الصلٰوۃ وانفقوا یقیموا الصلٰوۃ وینفقوا نمبر 2۔ وہ امر ہے اور وہ خود مقولہ ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ لیقیموا ولینفقوا لام کو قُل ؔ کی…
Read the full tafseer →31۔” قل لعبادی الذین آمنوا یقیموا الصلوٰۃ “ یہ مجزوم ہے جرا ہونے کی وجہ سے۔” وینفقوا مما رزقناھم سراو علانیۃ من قبل ان یاتی یوم لابیع ولا خلال “ نہ ان میں کوئی دوستی ہوگی اور نہ ہی کوئی خریدو فروخت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
28۔ 30۔ صحیح بخاری، نسائی مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق، ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کی روایتوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش پر اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان کیا کہ اس قوم میں سے آنحضرت ﷺ کو نبی بنایا تاکہ قریش کی دین و دنیا درست ہوجاوے دنیا میں رسول کی برکت سے غیر قوموں پر فتح پاویں دین میں رسول سے راہ نجات سیکھ کر جس کے دائمی عیش میں رہیں لیکن فتح مکہ سے پہلے قریش لوگ اللہ کی اس نعمت سے خبر دار نہ ہوئے اور رسول وقت سے طرح طرح کی مخالفت کرتے رہے اور بت پرستی سے باز نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر کام…
Read the full tafseer →(قل لعبادی الذین امنوا) ” میرے مومن بندوں سے کہہ دو ۔ “ یعنی انہیں ان امور کا حکم دیجئے جن میں ان کی اصلاح ہے اور انہیں یہ بھی حکم دیا کہ اس سے قبل کہ ان کی اصلاح ممکن نہ ہو وہ فرصت کو غنیمت جانیں۔ (یقیموا الصلوٰۃ) وہ ظاہری اور باطنی آداب کے ساتھ نماز قائم کریں (وینفقواممارزقنھم ) ” اور ہم نے جو انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کریں۔ “ یعنی ہم نے انہیں کم یا زیادہ جو بھی نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے خرچ کریں (سراوعلانیۃ) ” چھپے اور ظاہر “ یہ حکم نفقات واجبہ مثلاً زکوٰۃ اور نفقات کفالت اور نفقات مستحبہ مثلاً عام صدقات وغیرہ کو شامل ہے۔ (آیت) ” پہلے اس کے کہ وہ دن آجائے، جس میں نہ کوئی سودا ہوگا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–52
حین سے مراد
قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →67۔ آخرت کے لئے تیاری نزول موت سے قبل :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ خرچ کرتے ہیں اس ہولناک دن کے آنے سے پہلے جس میں کچھ کام نہیں آسکے گا سوائے اپنے ایمان وعمل کے، سو اس ہولناک دن کے آنے سے پہلے جو کرنا ہے کرلو، جو کمانا ہے کمالو، کہ پھر اس کا موقع ملنے والا نہیں، اپنے کیے کرائے کے سوا کچھ بھی کام نہیں آسکے گا، کہ اس یوم عظیم میں نہ کسی طرح کی کوئی خریدوفروخت ہوگی اور نہ کوئی دوست نوازی کام آئے گی، بس اپنا ہی ایمان وعمل کام آئے گا، اور بس۔ وباللہ التوفیق لمایحب، ویریدوعلی مایحب ویرید، حال من الاحوال۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
صالح اعمال اور اللہ کے احسانات
تشریح : یہ آیات مومن بندوں کو اس کی حیثیت، فرائض، اللہ کی وحدانیت، اس کے احسانات جو انسان پر کیے گئے اور تمام کائنات کا نقشہ بڑے ہی بہترین، جامع اور مختصر انداز میں بیان کر رہی ہیں۔ مخاطب پیارے رسول ﷺ کو کیا گیا ہے کہ ایمان لانے والے بندوں کو بتا دو کہ وہ اشرف المخلوقات ہیں اور زمین میں ان کو اللہ کا نائب بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اللہ جو مالک کائنات اور مالک روز جزا، منصف (انصاف کرنے والا) رحیم و جبار، سمیع وبصیر، غفور الرحیم اور ناظم اعلیٰ بادشاہوں کا بادشاہ ہے، ایسے عظیم الشان رب العلمین کا نائب یا خلیفہ ہونا کوئی معمولی بات نہیں، اس لیے انسان کو اپنے مالک کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ذرا ان لوگوں کا حال ملاحظہ ہو کہ قانون قدرت اور تقاضائے ربوبیت کس طرح نتائج مرتب کرتا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ جل جلالہ کی نعمتوں کو تو پایا مگر بجائے شکر ادا کرنے کے کفر کی راہ اختیار کرلی ، نعمائے الہی میں ظاہرا تو خود وجود انسانی اور اس کی بیشمار صلاحیتیں ہیں پھر اس کی ضرورتوں کی تکمیل کے اسباب وذرائع اور اس کے استعمال کے لیے بیشمار نعمتیں ، یہ سب کچھ از خود عظمت باری پہ بہت بڑی دلیل ہے ، جبکہ اللہ جل جلالہ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرما کر اور اپنی کتابیں نازل فرما کر انعامات کی حد کردی انسان ایک باشعور اور باصلاحیت مخلوق تھی اسے چاہئے تو یہ تھا کہ ان…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ مراد ہے قیامت کا دن، جس میں نیک اعمال خریدے جاسکیں گے نہ کسی کی دوستی اور محبت کام آئے گی کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچا سکے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی نیک عمل بکتے نہیں اور کوئی دوستی سے رعایت نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →(14:31) یقیموا۔ مضارع منصوب اقامۃ سے صیغہ جمع مذکر غائب وہ ٹھیک ٹھیک ادا کریں۔ پابندی سے ادا کریں۔
خلال۔ دوستی۔ باب مفاعلۃ سے مخالۃ مصدر نیز خلۃ کی جمع بھی ہوسکتی ہے۔ جس کے معنی دوستی کے ہیں۔ خلیل دوست۔ گہرا دوست۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 31
بدلوا انہوں نے بدل دیا۔ نعمت اللہ اللہ کی نعمت احلوا اتارا دار البوار تباہی کا گھر (جہنم) اندادا (ند) شرکاء شریک تمتعوا تم فائدہ اٹھا لو۔ حاصل کرلو۔ مصیر ٹھکانا۔ عبادی میرے بندے یقیموا الصلوۃ وہ نماز قائم کرتے ہیں ینفقون وہ خرچ کرتے ہیں رزقنا ہم نے دیا ۔ سر چھپ کر۔ علانیۃ کھلم کھلا ۔ بیع تجارت، لین دین۔ خلل دوستی ، دوستانہ تعلقات
تشریح : آیت نمبر 28 تا 31
گزشتہ آیات میں اس بات کو تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کلمہ طیبہ کی برکتیں اور رحمتیں کیا ہیں ؟ اور کلمہ خبیثہ کی نحوستیں کیا کیا ہیں ؟ مکہ کے مغرور اور امتکبر سرداروں سے کہا جا رہا ہے کہ تمہیں تو اس بات پر…
Read the full tafseer →قیامت میں دوستی کام نہٰں آئے گی۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے محبوب ﷺ جو لوگ تم کو سچا رسول مان چکے ہیں ان کو نماز اور زکوۃ کی تاکید کردو اور ان کو یہ سمجھا دو کہ یہاں دنیا میں تو فرض اور نفل صدقہ خیرات میں تھوڑا سا مال خرچ کرنے سے ایک کے بدلہ میں سات سو تک کمانے کی تجارت کا موقع حاصل ہے۔ جس سے نیکی کا پلڑا بھاری ہوکر آدمی کی نجات قیامت کے دن ہوسکتی ہے۔ لیکن خاص اس دن عذاب الہی سے چھٹکارہ ہوجانے کے بدلے میں کوئی شخص تمام دنیا کا مال متاع بھی دینا چاہے گا تو چھٹکارہ نہ ہوسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
[17] اس آیت میں کفار قریش کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے ان میں سے ایک پیغمبر بھیج کر ان پر بڑا ہی احسان کیا تھا لیکن انہوں نے احسان کے بدلے میں ناشکری کی اور مخالفت پر اتر آئے۔ خود بھی گمراہ ہوئے اور اپنی قوم کو بھی گمراہی میں دھکیل دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
(ف 2) یعنی ایمان کے لیے ضروری ہے کہ عمل کی توفیق بھی ہو ورنہ صرف اقرار و اعتراف اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ، مومن وہ ہے جو اعمال صالح سے ایمان کا نبوت ، اس کا سر صبح کو خدا کے سامنے جھکے ، جو عین عبودیت کی نشانی ہے ، دیکھنے والا آگاہ ہو ، جو اللہ تعالیٰ میں اور بندے میں تعلق ہے ، نیز مال خدا کی راہ میں خرچ کرے اپنی قوت خڑچ کر کے نیکی جمع کرے غافل نہ ہو کیونکہ وقت ایسا آنے والا ہے کہ فرصت حیات ختم ہوجائے گی اور سا وقت نہ کچھ خریدا اور بیچا جاسکے گا ، دوستی محبت اور تعلقات اس وقت کام ہیں آئیں گے ۔
حل لغات :
دار البوار : ہلاکت کا گھر ، یعنی دوزخ
خلال : دوستی ، دوستاں
Read the full tafseer →31 ۔ اب آگے مومنین کو ارشاد ہے اے پیغمبر میرے ان بندوں سے جو ایمان والے ہیں کہہ دیجئے کہ وہ نماز پڑھا کریں اور وہ نماز کی پابندی رکھیں اور جو روزی ہم نے ان کو دی ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے پوشیدہ اور ظاہر کچھ خرچ اور خیرات بھی کیا کریں جس دن نہ تجارت ہوگی نہ اس دن کسی قسم کی خریدو فروخت ہوگی اور نہ اس دن کوئی دوستی کام آئے گی ۔ یعنی وہ حشر کا دن ہے جس میں صرف نیک اعمال ہی کام آسکتے ہیں ، نہ کوئی بیع شرا چلتی ہے کہ نیک اعمال خرید لئے جائیں نہ اس دن کوئی دوست ہوگا جو بدون اعمال صالحہ کے محض دوستی کی بناء پر کام آجائے نا سپاسوں کے مقابلے میں شکر گزاروں کا ذکر فرمایا خفیہ علانیہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
ف 2۔ مطلب یہ کہ عبادات بدنیہ ومالیہ کو ادا کرتے رہیں کہ یہی شکر ہے نعمت کا۔
Read the full tafseer →میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ دن آنے سے قبل کہ کوئی دوستی کام نہ آئے گی توبہ کر لو
32 ؎ یہ حکم نبی اعظم و آخر ﷺ کو دیا جا رہا ہے اور آپ ﷺ کی وساطت سے ساری امت کے ہر ہر فرد کو بھی ہے کہ وہ دوسروں تک یہ پیغام پہنچا دیں کہ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ نمازوں کی پابندی کریں کہ اول وقت میں ساری شرطوں کے ساتھ اس کو قائم کریں اور جو کچھ ان کو دیا گیا ہے اس میں سے پوشیدہ یا اعلانیہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں اس سے پہلے کہ وہ دن آئے کہ اس میں خریدو فروخت نہیں اور نہ اس روز کوئی دوستی کام آئے گی بلکہ خالص اور کامل انصاف ہی کا سکہ چلے گا۔ عبادی میں مومن بندوں کی اضافت حق تعالیٰ کا اپنی ذات سے کرنا ان کے غایت…
Read the full tafseer →Said in the last sentence of verse 31 was: مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَالٌ (be-fore there comes a day in which there is neither trade nor friendship). The word: خِلَال (khilal) used here can be taken as the plural form of خُلَّۃُ (khullah) which means selfless friendship. Then, this word could also be taken as a verbal noun of the derived form of مُفَاعلۃ (mufa` alah), such as qital, difa` etc. In that case, it would mean a friendship between two per-sons which is mutual and sincere. This sentence relates to both the injunctions of Salah and Sadaqah described…
Read the full tafseer →41. That is, the believers should adopt an attitude of gratitude in contrast to the disbelievers (Ayat 29). The practical form their gratitude should take is that they should establish Salat and spend their wealth in the way of Allah.
42. That is, on that Day none shall be able to rescue himself either by ransom or by intercession.
Read the full tafseer →