Explained with ayahs 28–30
منافقین قریش
صحیح بخاری میں ہے الم تر معنی میں الم تعلم کے ہے یعنی کیا تو نہیں جانتا بوار کے معنی ہلاکت کے ہیں باریبوربورا سے بورا کے معنی ہلکین کے ہیں مراد ان لوگوں سے بقول ابن عباس ؓ کفار اہل مکہ ہیں اور قول ہے کہ مراد اس سے جبلہ بن ابہم اور اس کی اطاعت کرنے والے وہ عرب ہیں جو رومیوں سے مل گئے تھے لیکن مشہور اور صحیح قول ابن عباس ؓ کا اول ہی ہے۔ گو الفاظ اپنے عموم کے اعتبار سے تمام کفار مشتمل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر اور کل لوگوں کے لئے نعمت بنا کر بھیجا ہے جس نے اس رحمت و نعمت کی قدر دانی کی وہ جنتی ہے اور جس نے ناقدری کی وہ جہنمی ہے۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
سورة اِبْرٰهِیْم 39
یعنی دنیا میں ان کو اس کلمہ کی وجہ سے ایک پائدار نقطہ نظر، ایک مستحکم نظام فکر، اور ایک جامع نظریہ ملتا ہے جو ہر عقدے کو حل کرنے اور ہر گتھی کو سلجھانے کے لیے شاہ کلید کا حکم رکھتا ہے۔ سیرت کی مضبوطی اور اخلاق کی استواری نصیب ہوتی ہے جسے زمانہ کی گردشیں متزلزل نہیں کرسکتیں۔ زندگی کے ایسے ٹھوس اصول ملتے ہیں جو ایک طرف ان کے قلب کو سکون اور دماغ کو اطمینان بخشتے ہیں اور دوسری طرف انہیں سعی و عمل کی راہوں میں بھٹکنے، ٹھوکریں کھانے، اور تلون کا شکار ہونے سے بچاتے ہیں۔ پھر جب وہ موت کی سرحد پار کر کے عالم آخرت کے حدود میں قدم رکھتے ہیں تو وہاں کسی قسم کی حیرانی اور سراسیمگی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(آیت) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ۔ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلَوْنَهَا ۭ وَبِئْسَ الْقَرَارُ۔ یعنی کیا آپ ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بدلہ میں کفر اختیار کرلیا اور اپنی قوم کو جو ان کے کہنے پر چلتی تھی ہلاکت و بربادی کے مقام میں اتار دیا وہ جہنم میں چلیں گے اور جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے ،
یہاں نعمۃ اللہ سے اللہ تعالیٰ کی عام نعمتیں بھی مراد ہو سکتی ہیں جو محسوس و مشاہد ہیں اور جن کا تعلق انسان کے ظاہری منافع سے ہے جیسا کھانے پینے پہننے کی اشیاء زمین اور مکان وغیرہ اور وہ مخصوص معنوی نعمتیں بھی ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آگے کا مضمون۔ آیت 28 تا 34:۔ قریش کو وعید اور اہل ایمان کو بشارت : آگے نہایت صاف الفاظ میں پہلے قریش کو تہدید و وعید ہے کہ چونکہ انہی نے اپنی قوم کو اس ہلاکت کے گڑھے میں گرایا ہے اس وجہ سے ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو کامیابی کی بشارت ہے اور ساتھ ہی اس کامیابی کے لیے انہیں جو تیاری کرنی چاہیے اس کی طرف اشارہ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
تفسیر آیات 28 تا 30: اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ۔ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلَوْنَهَا ۭ وَبِئْسَ الْقَرَارُ۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28۔ 1 اس کی تفسیر صحیح بخاری میں ہے کہ اس سے مراد کفار مکہ ہیں، جنہوں نت رسالت محمدیہ کا انکار کر کے اور جنگ بدر میں مسلمانوں سے لڑ کر اپنے لوگوں کو ہلاک کروایا، تاہم اپنے مفہوم کے اعتبار سے یہ عام ہے اور مطلب یہ ہوگا کہ حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رحمتہ للعالمین اور لوگوں کے لئے نعمت الٰہیہ بنا کر بھیجا، پس جس نے اس نعمت کی قدر کی، اسے قبول کیا، اس نے شکر ادا کیا، وہ جنتی ہوگیا اور جس نے اس نعمت کو رد کردیا اور کفر اختیار کیے رکھا، وہ جہنمی قرار پایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
22: یہ مکہ مکرمہ کے کافر سرداروں کی طرف اشارہ ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا، لیکن انہوں نے ان نعمتوں کی ناشکری کی، جس کے نتیجے میں خود بھی تباہی مول لی اور اپنی قوم کو بھی تباہی کے راستے پر لے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
درس نمبر 115 تشریح آیات
28 ۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 52
سورة ابراہیم کا یہ دوسرا دور ہے ۔ یہ بھی دور اول کے مضامین ہی کو لیے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ پہلے حصے کا مضمون یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی لئے بھیجا گیا تھا کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکال لائیں اور ان کو یہ نصیحت کریں کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر بڑا فضل و کرم کیا ہے اور اعلان کردیا ہے کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہارے اوپر انعامات میں اضافہ کردوں گا اور اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
8 یعنی خدا کے احسانات سے متاثر ہو کر منعم حقیقی کی شکر گزاری اور اطاعت شعاری میں لگتے، یہ تو نہ ہوا، الٹے بغاوت پر کمربستہ ہوگئے، خدا کے مقابل دوسری چیزیں کھڑی کردیں جن پر خدائی اختیارات تقسیم کیے اور عبادت جو خدائے واحد کا حق تھا، وہ مختلف عنوانوں سے ان کے لیے ثابت کرنے لگے، تاکہ اس سلسلہ میں اپنے ساتھ دوسروں کی راہ ماریں اور انھیں بہکا کر اپنے دام سیادت میں پھنسائے رکھیں۔
9 یعنی بہتر ہے۔ بیوقوفوں کو جال میں پھنسا کر چند روز جی خوش کرلو اور دنیا کے مزے اڑا لو، مگر تابکے آخر دوزخ کی آگ میں ہمیشہ رہنا ہے۔ کیونکہ اس مزے اڑانے کا یہ ہی نتیجہ ہوگا۔ گویا یہ جملہ ایسا ہوا جیسے ایک طبیب کسی بد پرہیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آیت 28 اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا
اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت کی نعمت سے نوازا تھا مگر انہوں نے ہدایت ہاتھ سے دے کر ضلالت اور گمراہی خرید لی۔ اللہ اس کے رسول اور اس کی کتاب سے کفر کر کے انہوں نے اللہ کی نعمت سے خود کو محروم کرلیا۔
وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ
جیسے سورة ہود آیت 98 میں فرعون کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ روز محشر وہ اپنی قوم کی قیادت کرتا ہوا آئے گا اور اس پورے جلوس کو لا کر جہنم کے گھاٹ اتار دے گا۔ اسی طرح تمام قوموں اور تمام معاشروں کے گمراہ لیڈر اپنے اپنے پیروکاروں کو جہنم میں پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
36 ان لوگوں سے مراد قریشی مشرک سردار ہیں جن کے ہاتھ میں اس وقت سارے عرب کی باگ ڈور تھی۔ یہ لوگ بیت اللہ کے پاسبان تھے اور اسی پاسبانی کی وجہ سے ان کی عرب بھر میں عزت کی جاتی تھی۔ اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے آپ کو مبعوث فرمایا اور قرآن نازل فرمایا۔ یہ اللہ کی ان پر دوسری بڑی مہربانی تھی۔ مگر ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کا جواب ضد اور عناد سے دیا۔ حق کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔ پھر اس مخالفت میں بڑھتے ہی گئے تاآنکہ خود بھی تباہ ہوئے اور اپنی قوم کو بھی تباہ کرکے چھوڑا اور مرنے کے بعد خود بھی جہنم واصل ہوں گے اور اپنے پیرو کاروں کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
52۔ یہ ذکر سرداران کفر وپیشوایان ضلالت کا ہورہا ہے چھوٹے چھوٹے مذہبوں اور فلسفوں کے با بوں کا اور اہل باطل کے رئیسان نامدار کا۔ (آیت) ’ ’ بدلوا نعمت اللہ کفرا “۔ یعنی طرح طرح کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے بعد بجائے اس کے کہ شکر مزید ادا کرتے اور الٹے ناشکری اور کوشش ابطال حق میں مصروف ہوگئے۔ نعمۃ اللہ میں نعمۃ بہ طور اسم جنس کے ہے ایک مفرد نعمت مراد نہیں، ہر طرح کی نعمتیں مراد ہیں، (آیت) ” بئس القرار “۔ قرار کے لفظ سے یہ بھی نکل آیا کہ جہنم میں داخلہ بطور گزر گاہ کے نہ ہوگا بلکہ قیام و دوام کے لئے ہوگا۔ اے المفر (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
آیت نمبر 28 تا 34
ترجمہ : کیا آپ نے ان پر نظر نہیں ڈالی جنہوں نے اللہ کی نعمتوں یعنی ان کا شکر کو ناشکری سے بدل دیا اور وہ کفار قریش ہیں، اور اپنی قوم کو گمراہ کرکے ہلاکت کے گھر میں لا اتارا یعنی جہنم میں یہ عطف بیان ہے جس میں یہ سب داخل ہوں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے اور انہوں نے اللہ کے شریک ٹھہرالئے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ دین اسلام سے بہکائیں یاء کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اپنی دنیا میں (چند دن) مزے اڑالو، تمہاری جائے بازگشت تو آخر جہنم ہی ہے (اے نبی) میرے ان بندوں سے جو ایمان لائے ہیں کہہ دیجئے کہ نماز کی پابندی کریں، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے ظاہر اور…
Read the full tafseer →جھنم یصلونھا یعنی جہنم میں ‘ جس میں یہ خود بھی داخل ہوں گے (اور ان کے ساتھ والے بھی) سب کے سب جہنم کی گرمی میں جلیں گے۔ جَھَنَّمَ یا عطف بیان ہے یا فعل محذوف کا مفعول۔
وبئس القرار اور جہنم بری قرار گاہ ہے ‘ برا ٹھکانا ہے۔ ابن مردویہ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس نے حضرت عمر سے عرض کیا : امیر المؤمنین ! آیت اَلَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ کُفْرًا میں کون لوگ مراد ہیں ؟ حضرت عمر نے فرمایا : قریش کے وہ دو (قبیلے) جو سب سے زیادہ بدکار تھے ‘ بنی مغیرہ اور بنی امیہ۔ بنی مغیرہ کے شر سے تو بدر کی لڑائی میں تمہاری حفاظت ہوچکی (یعنی بدر میں ان کا زور ٹوٹ گیا) اور بنی امیہ کو ایک وقت تک مزے اڑانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(28۔ 29) اے محمد ﷺ کیا آپ کو ان کی خبر نہیں جنہوں نے نعمت خداوندی یعنی کتاب اور رسول کا انکار کیا مراد اس سے بنوامیہ اور بنو مغیرہ ہیں جو بدر کے دن مارے گئے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن اکرم کا انکار کیا اور ان مکہ والوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی بدر میں یا یہ کہ جہنم میں پہنچا دیا، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے دن اس جہنم میں داخل ہوں گے اور وہ بہت بری اترنے اور رہنے کی جگہ ہے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ الم ترالی الذین بدلوا“۔ (الخ)
ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عطا بن یسار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ آیت کریمہ ”۔ الم تر الی الذین بدلوا“۔ ان لوگوں کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا۔۔ :”الْبَوَارِ“ یہ ”بَارَ یَبُوْرُ“ (ن) کا مصدر ہے، معنی ہے :”فَرْطُ الْکَسَادِ“ یعنی انتہائی بےقدر و قیمت ہونا، پھر ہلاکت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ (راغب)
3 انسان کو اپنے وجود کی نعمت سب سے پہلے مفت ملی، اس نے اس کا شکر اپنے خالق کی اطاعت کے بجائے کفر، یعنی ناشکری اور اس کے وجود یا اطاعت و عبادت سے انکار کے ساتھ کیا اور جو شخص جس قدر سرداری اور نعمت سے بہرہ ور تھا اس نے اتنا ہی اپنی قوم کو غلط راستے پر لگا کر جہنم میں پہنچایا۔ اس لحاظ سے آیت عام ہے مگر سیاق وسباق اور مفسرین کے مطابق یہاں مراد کفار قریش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ابراہیم ؑ کی نسل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت نمبر 28 تا 30
قولہ تعالیٰ : الم تر الی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کے بدلے کفر کیا یعنی جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو ان میں مبعوث فرمایا تو انہوں نے آپ کی تکذیب کرتے ہوئے کفر اختیار کرلیا، اس سے مراد قریش ہیں اور آیت انہیں کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ سے یہی مروی ہے۔
ایک قول یہ ہے : یہ آیت ان مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ بدر کے مقام پر جنگ کی۔ ابو الطفیل نے کہا : میں نے حضرت علی ؓ کو فرماتے سنا ہے : یہ وہ قریش ہیں جنہیں بدر والے دن قتل کیا گیا۔ ایک قول یہ ہے : یہ قریش کے بنو مخزوم اور بنو امیہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
1:۔ امام عبدالرزاق، سعید بن منصور، بخاری، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے مراد مکہ کے رہنے والے کافر ہیں۔
2:۔ امام بخاری نے تاریخ میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابن مردویہ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ سے قریش میں سے فاجر ترین مراد ہیں بنو مغیرہ اور بنوامیہ بنومغیرہ کا بدر کی لڑائی میں تم نے کام تمام کردیا اور بنوامیہ کو کچھ عرصہ تک مزے اڑانے کا موقعہ دے دیا گیا۔
3:۔ امام ابن مردویہ نے روایت نقل کی کہ ابن عباس ؓ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →[جَهَنَّمَ : جو جہنم ہے ] [ يَصْلَوْنَهَا : وہ لوگ گریں گے اس میں ] [ وَبِئْسَ : اور کتنا برا ہے ] [الْقَرَارُ : یہ ٹھہرنا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کی بدحالی
ان آیات میں اول تو ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کو اختیار کیا، لیکن مفسرین نے فرمایا کہ ان سے مشرکین مکہ مراد ہیں ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مکہ معظمہ میں امن وامان کے ساتھ ٹھہرا دیا دنیوی اعتبار سے بھی ان پر انعام فرما دیا دنیا بھر سے ان کے پاس ضرورت کی چیزیں پہنچتی تھیں۔ (اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا) نیز ان پر یہ احسان فرمایا کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو انہیں میں سے مبعوث فرمایا اور انہیں کی زبان میں کتاب نازل فرمائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
مذمت کفار و مشرکین و مدح مومنین صالحین
قال اللہ تعالیٰ الم تر الی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا .... الیٰ .... ان الانسان لظلوم کفار
یہ آیت کفار مکہ کے حق میں نازل ہوئی جن پر اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے انعامات کیے اور ان کی ہدایت کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کیا جنہوں نے شجرہ طیبہ کی دعوت دی اور شجرہ خبیثہ کی مضرتوں سے آگاہ فرمایا مگر ان لوگوں نے اس نعمت کی ناشکری کا اور بجائے اس کے کہ منعم حقیقی کی شکر گزاری اور اطاعت شعاری کرتے اس کی ناشکری پر کمر بستہ ہوگئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قل لعبادی الذین امنوا میں اپنے خاص بندوں کو مراہم عبودیت بجا لانے کی تلقین فرمائی کہ تم اپنے منعم حقیقی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
29:۔ پانچویں بار وقائع کا ذکر ہے۔ یہ تخویف اخروی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت توحید اور دیگر بیشمار مادی انعامات کی ناشکری کی، خود شرک کیا اور اپنی قوموں کو شرک کی ترغیب دی اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کو جھٹلایا اس طرح اپنی قوموں کو جہنم کا ایندھن بنایا۔ ” اَلَّذِیْنَ بَدَّلُوْ “ سے اقوام گذشتہ کے کفار و مشرکین اور ان کے پیشوا مراد ہیں اس صورت میں ” اَلَمْ تَرَ “ سے رویت قلبی مراد ہوگی اور اگر اس سے کفار مکہ مراد ہوں جیسا کہ حضرت علی اور ابن عباس سے منقول ہے تو رویت سے رویت بصری مراد ہوگی ” والمراد مشرکوا قریش وان الایۃ نزلت فیھم عن ابن عباس و علی ؓ “ (قرطبی ج 9 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
(ربط آیات)
سب سے پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی پھر قیامت کا ذکر آیا ، اس کے بعد رسالت کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہوا پھر اللہ نے ایمان اور کلمہ توحید کی مثال پاکیزہ درخت کے ساتھ بیان فرمائی اور کفر وشرک کے کلمے کو ناپاک اور بدذائقہ درخت کے ساتھ تشبیہ دی ، پھر اللہ نے اہل ایمان کے ثابت قدم رہنے کی بات کی کہ اللہ تعالیٰ اسی پاک کلمے کے ساتھ اہل ایمان کو اس دنیا میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور مرنے کے بعد قبر میں اور پھر حشر میں بھی ثابت قدمی عطا فرمائے گا ، اب آج کی آیات میں اللہ نے کفر اور شرک کرنے والوں کا شکوہ بیان کیا ہے اور ان کے شرک کی تردید کی ہے ، ساتھ ساتھ ایمان والوں کو ترغیب بھی دی…
Read the full tafseer →جَهَنَّمَ ۚ يَصْلَوْنَهَا ۭ وَبِئْسَ الْقَرَارُ 29
جهنم
جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ
معرّب جهنام «1» ، وقال أبو مسلم : كهنّام «2» ، والله أعلم .
( ج ھ ن م ) جھنم
۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔
صلا
أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64]
والصَّلاةُ ،
قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
ترکیب : کفروا مفعول ثانی بدل کا جہنم بدل ہے دارالبوار سے۔ یقیموا و ینفقوا امر کے صیغے بحذف لام ای لیقیموا و لینفقوا کیونکہ قل اس پر دال ہے سرًا و علانیۃً مصدر ہیں موقع حال میں دائبیں حال الشمس والقمر سے ل مضاف ماموصولہ مضاف الیہ جملہ مفعول انکم من بقول اخفش زائد ہے۔ ھذا موصوف البلد صفت یا ھذا اسم اشارہ البلد مشارٌا لبہ یہ سب مفعول اول اجعل کا آتنا اس کا مفعول ثانی۔ ان نعبد ای عن نعبد من عصانی شرط فانک جواب والعائد محذوف ای لہ من ذریتی میں من زائدہ بواد موصوف عند بیتک صفت یا بدل علی الکبر حال ہے وہب لی سے۔
تفسیر : یہاں کلمہ خبیثہ کے پھل بیان فرماتا ہے الم تر سے لے کر الی النار تک کہ اللہ نے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
اَلَمْ تَرَا اِلَی الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ کُفْرًاوََّاَحَلُّوْا قَوْمَھُمْ دَارَالْبَوَارِ ۔ جَھَنَّمَ ج یَصْلَوْنَھَا ط وَبِئْسَ الْقَرَارُ ۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِہٖ ط قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَکُمْ اِلَی النَّارِ ۔ (سورۃ ابراھیم : 28۔ 29۔ 30)
(کیا آپ نے ان لوگوں کی حالت پر غور نہیں کیا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی جہنم میں لا اتارا، جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرائے تاکہ اس کے راستہ سے لوگوں کو گمراہ کرکے ہٹائیں۔ آپ ﷺ کہہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
فہم القرآن
ربط کلام : عقیدہ توحید کو چھوڑنے والا نہ صرف گمراہ اور ظالم ہوتا ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت کو بدلنے کا جرم بھی کرتا ہے۔
عقیدۂ توحید اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس عقیدہ کے ذریعے انسان کو اپنے سوا سب کی محتاجی اور در در کی ٹھوکریں کھانے سے بچالیتا ہے۔ اس سے نہ صرف انسان کو دینی اور دنیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں بلکہ انسان کی خودی اور غیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو شخص اس عظیم عقیدہ کو چھوڑ کر شرک اختیار کرتا ہے۔ وہ دردر کی ٹھوکریں کھانے کے ساتھ اپنی خودی بھی کھو بیٹھتا ہے۔ اس شخص کے کردار اور زیادتی کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کیا آپ نے ایسے لوگوں…
Read the full tafseer →29: جَھَنَّمَ (وہ جہنم ہے) یہ عطف بیان ہے یَصْلَوْنَہَا (وہ اس میں داخل ہونگے) وَبِئْسَ الْقَرَارُ (وہ ٹھہرنے کی بری جگہ ہے) جہنم بری قرار گاہ ہے۔
Read the full tafseer →29۔” جھنم یصلونھا “ اس میں وہ داخل ہوں گے۔” وبئس القرار “ جہنم بری جگہ ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ جنہوں نے اللہ کی نعمت کو بدل دیا انکار کر کے اس سے مراد کفار قریش ہیں کہ بدر کے دن انہوں نے فخر کیا اور عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ قریش کے دو بڑے گروہ جو سب سے زیادہ بدکار تھے ان میں بنی مغیرۃ اور بنی امیہ ہیں ۔ بنی مغیرہ کے شر سے تو بدر کی لڑائی میں تمہاری حفاظت ہوچکی اور بنو امیہ کو ایک وقت تک مزے اڑانے کا موقع دیا گیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
28۔ 30۔ صحیح بخاری، نسائی مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق، ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کی روایتوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش پر اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان کیا کہ اس قوم میں سے آنحضرت ﷺ کو نبی بنایا تاکہ قریش کی دین و دنیا درست ہوجاوے دنیا میں رسول کی برکت سے غیر قوموں پر فتح پاویں دین میں رسول سے راہ نجات سیکھ کر جس کے دائمی عیش میں رہیں لیکن فتح مکہ سے پہلے قریش لوگ اللہ کی اس نعمت سے خبر دار نہ ہوئے اور رسول وقت سے طرح طرح کی مخالفت کرتے رہے اور بت پرستی سے باز نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر کام…
Read the full tafseer →(جھنم یصلونھا) ” جن ہم، داخل ہوں گے وہ اس میں “ یعنی جہنم کی حرارت انہیں ہر جانب سے گھیرلے گی (وبئس القرار) ” اور (جہنم) بہت ہی براٹھکانہ ہے۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–52
حین سے مراد
قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
59۔ کفران نعمت کے ظلم کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا انہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا، یعنی توحید اور حق و ہدایت کی اس عظیم الشان نعمت کو جس جیسی دوسری کوئی نعمت ہو ہی نہیں سکتی، اور جس سے حضرت حق جل مجدہ نے نبی رحمت کی بعثت کے ذریعے ان کو نوازا، مگر انہوں نے اس کو اپنا کر اور اس کی قدر کرکے دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور رہنے کی بجائے الٹا اس کا کفر وانکار کیا اور اس طرح انہوں نے دارین کے اس خسران کو اپنایا، جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان ظالموں نے اللہ پاک کی اس عظیم الشان نعمت کو جو ان دارین کی سعادت و سرخروئی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
اچھے کلمے اور برے کلمے کی مثال
تشریح : جیسا اللہ کا کلام خوبصورت، فائدہ مند اور مکمل ہے اسی طرح اس کی دی ہوئی مثالیں بھی مقصد کو سمجھانے کے لیے انتہائی بہترین ہیں۔ اچھی بات صرف کہنے والے کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات بھی بڑے گہرے اور نہ ختم ہونے والے اور ہر سننے والے کے لیے اتنے فائدہ مند ہوتے ہیں کہ جیسے ایک صحت مند مضبوط درخت کا سایہ اور پھل فائدہ مند ہوتا ہے۔ بیشمار لوگوں کو اس سے بیشمار اور دیر پا فائدے ملتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ رشد و ہدایت کی باتیں ہیں اور کفر و شرک کی باتوں کو اللہ نے سوکھے سڑے بدنما اور بھدے درخت سے تشبیہ دی ہے۔ جس کی نہ جڑ مضبوط نہ پھل نہ سایہ۔ قوموں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ذرا ان لوگوں کا حال ملاحظہ ہو کہ قانون قدرت اور تقاضائے ربوبیت کس طرح نتائج مرتب کرتا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ جل جلالہ کی نعمتوں کو تو پایا مگر بجائے شکر ادا کرنے کے کفر کی راہ اختیار کرلی ، نعمائے الہی میں ظاہرا تو خود وجود انسانی اور اس کی بیشمار صلاحیتیں ہیں پھر اس کی ضرورتوں کی تکمیل کے اسباب وذرائع اور اس کے استعمال کے لیے بیشمار نعمتیں ، یہ سب کچھ از خود عظمت باری پہ بہت بڑی دلیل ہے ، جبکہ اللہ جل جلالہ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرما کر اور اپنی کتابیں نازل فرما کر انعامات کی حد کردی انسان ایک باشعور اور باصلاحیت مخلوق تھی اسے چاہئے تو یہ تھا کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 6 ۔ ان سے مراد کفار و مشرکین کے سردار ہیں۔ خصوصاً رؤسائے قریش، جن پر اللہ تعالیٰ نے یہ احسان فرمایا کہ ان کی رہنمائی کے لئے آنحضرت ﷺ کو مبعوث فرمایا، قرآن اتارا اور انہیں سارے عرب میں سرداری عطا کی مگر انہوں نے اس احسان کا بدلہ یہ دیا کہ ناشکری پر کمربستہ ہوگئے، آنحضرت ﷺ کو جھٹلایا اور آپ ﷺ کی مخالفت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا اور اس طرح دوسروں کے لئے بھی رکاوٹ بن گئے اور ان کو ہلاکت کے گڑھے میں لاڈالا۔ من جملہ اس کہے یوم بدر کا عذاب بھی ہے۔ (قرطبی۔ شوکانی) ۔
Read the full tafseer →14:29 ۔ جہنم۔ دار البوار۔ کا عطف بیان ہے دار البوار کی وضاحت کے لئے آیا ہے۔
یصلونھا۔ مضارع جمع مذکر غائب صلی سے (باب سمع) وہ اس میں داخل ہوں گے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جہنم کے لئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 31
بدلوا انہوں نے بدل دیا۔ نعمت اللہ اللہ کی نعمت احلوا اتارا دار البوار تباہی کا گھر (جہنم) اندادا (ند) شرکاء شریک تمتعوا تم فائدہ اٹھا لو۔ حاصل کرلو۔ مصیر ٹھکانا۔ عبادی میرے بندے یقیموا الصلوۃ وہ نماز قائم کرتے ہیں ینفقون وہ خرچ کرتے ہیں رزقنا ہم نے دیا ۔ سر چھپ کر۔ علانیۃ کھلم کھلا ۔ بیع تجارت، لین دین۔ خلل دوستی ، دوستانہ تعلقات
تشریح : آیت نمبر 28 تا 31
گزشتہ آیات میں اس بات کو تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کلمہ طیبہ کی برکتیں اور رحمتیں کیا ہیں ؟ اور کلمہ خبیثہ کی نحوستیں کیا کیا ہیں ؟ مکہ کے مغرور اور امتکبر سرداروں سے کہا جا رہا ہے کہ تمہیں تو اس بات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
قریش مکہ کی بربادی
اس آیت کا شان نزول اس طرح ہے کہ قریش پر اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان کیا کہ اس قوم میں سے آنحضرت ﷺ کو نبی بنایا تاکہ قریش کی دین و دنیا درست ہوجاویں لیکن فتح مکہ سے پہلے قریش لوگ اللہ کی اس نعمت سے خبردار نہ ہوئے اور رسول وقت سے طرح طرح کی مخالفت کرتے رہے اور بت پرستی سے باز نہ آئے، لیکن اللہ کی بارگاہ میں ہر کام کا وقت مقررہ ہے۔ اس لیے وقت مقرر تک ان کو مہلت دی گئی پھر آخر نتیجہ یہ ہوا کہ بدر کی لڑائی مٰ اللہ تعالیٰ نے قریش کے اکثر ان بڑے بڑے سرداروں کو جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کی ناشکری کی تھی مسلمانوں کے ہاتھ سے غارت کرادیا اور کتے کی موت مارے گئے اور آخرت میں فی النار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
[17] اس آیت میں کفار قریش کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے ان میں سے ایک پیغمبر بھیج کر ان پر بڑا ہی احسان کیا تھا لیکن انہوں نے احسان کے بدلے میں ناشکری کی اور مخالفت پر اتر آئے۔ خود بھی گمراہ ہوئے اور اپنی قوم کو بھی گمراہی میں دھکیل دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
قول ثابت :
(ف 1) حدیث میں آیا ہے کہ قبر کی تنہائی میں کام آنے نہیں پائے ، قول ثابت یعنی حقیقت توحید ہے ، جو لوگ وحدت و توحید کی حقیقت سے آگاہ ہیں وہ نہ تو دنیا میں مصائب سے گھبرائے ہیں اور نہ عالم قبر میں ان کے لیے فزع و خوف ہے ، اللہ ان کو توحید کے وسیلے سے توفیق دیتا ہے کہ جرات سے دنیا میں مشکلات کا مقابلہ کریں ۔ ان کے دل منور ہوجاتے ہیں توحید کا نور قلب میں جاگزین ہوجاتا ہے اور قبر کی تاریکی میں یہی نور جنت کی روشنی میں تبدیل ہوجاتا ہے ، اور وہ لوگ جنہیں اس دنیا میں اس حقیقت سے آگاہی نہیں دنیا و آخرت میں خائب و خاسر رہتے ہیں نہ یہاں انہیں کامیابی و کامرانی میسر ہوئی اور نہ آخرت میں ۔
Read the full tafseer →29 ۔ وہ ہلاکت و تباہی کا گھر جہنم ہے جس میں یہ سب داخل ہوں گے اور وہ رہنے کا برا ٹھکانہ اور جہنم بری قرار گاہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ان لوگوں سے مراد مکہ کے کافر روساء ہیں جو خود بھی نا سپاسی کرتے ہیں اور دوسرے کو بھی کفر و شرک پر ابھارتے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 7۔ اس میں اشارہ ہوگیا کہ ان کا داخل ہونا قرار اور دوام کے لیے ہوگا۔
Read the full tafseer →جہنم میں وہ جھلسے جائیں گے اور وہ بدترین جائے قرار ہے
30 ؎ ایک جگہ ارشاد ہے کہ ” اللہ کو تمہارے عذاب سے کیا کام ‘ اگر تم شکر کرو اور ایمان لائو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری شکرگزاری کو قبو ل کرنے والا اور تمہارے دلوں کے حال کو جاننے والا ہے۔ “ (النساء 4 : 137) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو گنہگاروں کے عذاب سے کوئی خوشی حاصل نہیں ہوتی نہ ہی وہ چاہتا ہے کہ اس کے گنہگار بندے اس عذاب میں مبتلا ہوں لیکن ازل سے اس نے اپنے لئے جو قانون مقرر کردیئے ہیں وہ ان کو کبھی نہیں توڑتا۔ غور کرو کہ جس وقت آدم کو جنت کی سرزمین سے نکال کر اس دنیا میں اس لئے بھیجا گیا کہ وہ اپنے عمل کے استحقاق سے اس جنت کو دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
Finally, said in verses 28 and 29 was:
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ الْقَرَارُ
Have you not seen those who changed the favour of Allah with disbelief and landed their people in the house of destruction, the Jahannam? They shall enter it. And it is an evil abode.
Here, نِعمَۃ اللہ (the favour of Allah) could mean the common physical blessings of Allah Ta’ ala. These are tangible and perceptible and relate to outward benefits of human beings such as food, drink, land, home and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
39. That is, the believers remain steadfast during the life of this world because of their stable system of life based on this pure word. For this gives than a straight point of view, a sound system of thought and a comprehensive theory of life, and it serves as a master key to the unraveling of all knots and the solving of all problems. With its help, they acquire that strength of character and that firmness of conduct which keep them steady in the face of every vicissitude of life. This provides them also with such solid principles of life which give them peace of mind and heart, and…
Read the full tafseer →