Explained with ayahs 24–26
لا الہ الا اللہ کی شہادت
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ پاکیزہ درخت کی طرح کا مومن ہے اس کی جڑ مضبوط ہے۔ یعنی مومن کے دل میں لا الہ الا اللہ جما ہوا ہے اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ یعنی اس توحید کے کلمہ کی وجہ سے اس کے اعمال آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہیں۔ کہ مراد اس سے مومن کے اعمال ہیں اور اس کے پاک اقوال اور نیک کام۔ مومن مثل کھجور کے درخت کے ہے۔ ہر وقت ہر صبح ہر شام اس کے اعمال آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجور کا ایک خوشہ لایا گیا۔ تو آپ نے اسی آیت کا پہلا حصہ تلاوت فرمایا اور فرمایا کہ پاک درخت سے مراد…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 37
”یہ لفظ کلمہ طیبہ کی ضد ہے جس کا اطلاق اگرچہ ہر خلاف حقیقت اور مبنی بر غلط قول پر ہوسکتا ہے، مگر یہاں اس سے مراد ہر وہ باطل عقیدہ ہے جس کو انسان اپنے نظام زندگی کی بنیاد بنائے، عام اس سے کہ وہ دہریت ہو، الحادو زندقہ ہو، شرک و بت پرستی ہو، یا کوئی اور ایسا تخیل جو انبیاء (علیہم السلام) کے واسطے سے نہ آیا ہو۔
سورة اِبْرٰهِیْم 38
دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ عقیدہ باطل چونکہ حقیقت کے خلاف ہے اس لیے قانون فطرت کہیں بھی اس سے موافقت نہیں کرتا۔ کائنات کا ہر ذرہ اس کی تکذیب کرتا ہے۔ زمین و آسمان کی ہر شے اس کی تردید کرتی ہے۔ زمین میں اس کا بیج بونے کی کوشش کی جائے تو ہر…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور گندہ کلمہ کی (یعنی کلمہ کفر و شرک کی) مثال ایسی ہے جیسے ایک خراب درخت ہو (مراد درخت حنظل ہے) کہ وہ زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جاوے (اور) اس کو (زمین میں) کچھ اثبات نہ ہو (خراب فرمایا باعتبار اس کی بو اور مزہ اور رنگ کے یا اس کے پھل کی بو اور مزہ اور رنگ کے یہ صفت طیبہ کے مقابل ہوئی اور اوپر سے اکھاڑنے کا مطلب یہ ہے کہ جڑ اس کی دور تک نہیں ہوتی اوپر ہی رکھی ہوتی ہے یہ اَصْلُهَا ثَابِتٌ کے مقابل فرمایا اور مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ اسی کی تاکید کے لئے فرمایا اور اس کی شاخوں کا اونچا نہ جانا اور اس کے پھل کا تفکہا مطلوب نہ ہونا ظاہر ہے یہی حال کلمہ کفر کا ہے کہ گو کافر کے دل…
Read the full tafseer →وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِۨ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ۔
کلمہ خبیثہ سے مراد : کلمہ خبیث سے مراد کلمہ شرک اور مبنی بر شرک و کفر عقائد و نظریات ہیں۔
شجرہ خبیثہ سے مراد : شجرۃ خبیثۃ۔ جھا جھنکاڑ کے قسم کا دخت جس میں نہ پھول نہ پھل نہ سایہ نہ غذا۔ ہاتھ لگائیے تو اس کے کانٹے ہاتھوں کا زخمی کرے، چکھیے تو اس کی تلخی سے زبان اینٹھ جائے، پاس بیٹھیے تو اس کی بو سے قوت شامہ ماؤف ہو کے رہ جائے۔ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ۔ یعنی زمین میں اس کی کوئی جڑ نہیں۔ اکھاریے تو زمین کے اوپر ہی سے اس کو اکھاڑ لیجیے۔ اس میں ذرا ثبات نہیں…
Read the full tafseer →26۔ 1 کلمئہ خبیثہ سے مراد کفر اور شجرہ خبیثہ سے حنظل (اندرائن) کا درخت مراد ہے۔ جس کی جڑ زمین کے اوپر ہی ہوتی ہے اور ذرا سے اشارے سے اکھڑ جاتی ہے۔ یعنی کافر کے اعمال بالکل بےحیثیت۔ نہ وہ آسمان پر چڑھتے ہیں، نہ اللہ کی بارگاہ میں وہ قبولیت کا درجہ پاتے ہیں۔
Read the full tafseer →20: ناپاک کلمہ سے مراد کفر کا کلمہ ہے، اس کی مثال ایسا خراب درخت ہے جس کی کوئی مضبوط جڑ نہ ہو ؛ بلکہ وہ جھاڑ جھنکاڑ کی شکل میں خود اگ آئے، اس میں جماؤ بالکل نہیں ہوتا، اس لئے جو شخص چاہے اسے آسانی سے اکھاڑ ڈالتا ہے، اسی طرح کافرانہ عقیدوں کی کوئی عقلی یا نقلی بنیاد نہیں ہوتی، ان کی تردید آسانی سے کی جاسکتی ہے، اور غالباً اس سے مسلمانوں کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ کفر وشرک کے جن عقیدوں نے آج مسلمانوں پر زمین تنگ کی ہوئی ہے عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ان کو اس طرح اکھاڑ پھینکا جائے گا جیسے جھاڑ جھنکاڑ کو اکھاڑ پھینک دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
آیت نمبر 24 تا 27
کلمہ طیبہ کی مثال اچھے درخت کی دی گئی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے ، پھلتا پھولتا ہے ، اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیکار جڑی بوٹیوں کی ہے ، جن کو کسان جہاں دیکھتا ہے بیکار اور مضر سمجھتے ہوئے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کسی جگہ اس کے لئے قرار نہیں ہے۔ یہ تمثیل اور تمثیلی منظر انبیاء اور سرکش اور ڈکٹیٹروں کے قصے سے لیا گیا ہے۔ اس قصے میں انبیاء اور داعیوں کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جھٹلانے والے سرکشوں کا جو انجام بتایا گیا ہے یہ تمثیل اس پر مبنی ہے۔ سلسلہ انبیاء ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ درخت تاریخ کے مختلف موسموں میں اپنا پھل دیتا رہا ہے ، کسی…
Read the full tafseer →1 کلمہ کفر، جھوٹی بات اور ہر ایک کلام جو خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہو " کلمہ خبیثہ " میں داخل ہے۔
2 اکثر نے اس سے حنظل (اندرائن) مراد لیا ہے گو عموم لفظ میں ہر خراب درخت شامل ہوسکتا ہے۔
3 یعنی جڑ کچھ نہ ہو، ذرا اشارہ سے اکھڑ جائے۔ گویا اس کے بودے پن اور ناپائیداری کو ظاہر فرمایا، دونوں مثالوں کا حاصل یہ ہوا کہ مسلمانوں کا دعوائے توحید و ایمان پکا اور سچا ہے جس کے دلائل نہایت صاف و صحیح اور مضبوط ہیں، موافق فطرت ہونے کی وجہ سے اس کی جڑیں قلوب کی پہنائیوں میں اتر جاتی ہیں اور اعمال صالحہ کی شاخیں آسمان قبول سے جا لگتی ہیں۔ (ۭاِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ…
Read the full tafseer →وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِۨ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ
بھلائی اور اس کے اثرات کے مقابلے میں برائی برائی کی دعوت اور برائی کے اثرات کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بہت عمدہ مضبوط اور پھلدار درخت کے مقابلے میں جھاڑ جھنکاڑ۔ نہ اس کی جڑوں میں مضبوطی نہ وجود کو ثبات نہ سایہ نہ پھل۔ برائی بعض اوقات لوگوں میں رواج بھی پا جاتی ہے انہیں بھلی بھی لگتی ہے اور اس کی ظاہری خوبصورتی میں لوگوں کے لیے وقتی طور پر کشش بھی ہوتی ہے۔ جیسے مال حرام کی کثرت اور چمک دمک لوگوں کو متاثر کرتی ہے مگر حقیقت میں نہ تو برائی کو ثبات اور دوام حاصل ہے اور نہ اس کے اثرات میں…
Read the full tafseer →33 خلافت اور دوسرے نظام ہائے حیات :۔ کلمہ طیبہ کے مقابلہ میں کلمہ خبیثہ (گندی بات) یعنی شرک و کفر کی مثال ایسے پودے سے دی گئی ہے جس کی سب صفات شجرہ طیبہ کے برعکس ہیں اس کی جڑ زمین کے اندر گہرائی تک نہیں جاتی بلکہ اوپر ہی اوپر زمین کے قریب ہی رہتی ہے کہ ہوا کا ایک تیز جھونکا آئے تو اسے بیخ و بن سے اکھاڑ کر پرے پھینک دے یہ مثال ہر باطل بات اور باطل نظام پر صادق آتی ہے۔ ہمارے ہاں جو مثل مشہور ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، وہ اسی مضمون کا مصداق ہے۔ حدیث کی رو سے شجرہ خبیثہ سے مراد اندرائن کا پودہ ہے۔ (پنجابی تمہ) جس کا پھل سخت کڑوا ہوتا ہے یعنی جہاں بھی باطل نظام حیات رائج ہوگا۔ کڑوے برگ و بار ہی…
Read the full tafseer →48۔ (زمین میں) تو ظاہر ہے کہ جب اس کی جڑ ہی جمی ہوئی نہیں، تو اس کی شاخیں کہاں سے بلند ہوں گی اور اس میں پھل کہاں سے آئیں گے ؟ (آیت) ” کلمۃ خبیثۃ “۔ یعنی کلمہ کفر وشرک۔ (آیت) ” اجتثت من فوق الارض “۔ راہ ایمان و توحید کے سوا جتنی بھی راہیں ہیں، خواہ انہیں مذہب کا لقب دیا جائے یا فسلفہ کہہ کر پکارا جائے یا اور کوئی شاندار نام رکھ دیا جائے بہرحال وہ سب بالکل سطحی ہوں گی، عمق انمیں نام کو نہ ہوگا۔۔ ایسا درخت جسے زمین کے اوپر ہی اوپر اکھاڑ لیاجائے۔ (آیت) ” مالھا من قرار “۔ غیر اسلامی جتنے فلسفے، جتنے نظریئے، جتنے مذاہب ہیں، وہ عقلا ہی کب ثابت ہیں ؟ قرآنی فقرہ سے مقصود ان کی بےحقیقتی کی تاکید ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
آیت نمبر 22 تا 27
ترجمہ : اور جب فیصلہ چکا دیا جائیگا، اور اہل جنت، جنت میں، دوزخی دوزخ میں داخل کر دئیے جائیں گے اور دوزخی شیطان کے پاس جمع ہوں گے تو ابلیس ان سے کہے گا، حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے بعث اور جزاء کے جتنے وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا کہ (بعث وغیرہ) کچھ ہونے والا نہیں ہے میں نے اس کو پورا نہیں کیا (یعنی اس کا جھوٹ ہونا ظاہر ہوگیا) اور میری تم پر کوئی زور زبردستی تو تھی نہیں کہ جس کے ذریعہ میں تم کو اپنی اطاعت پر مجبور کرتا البتہ اتنی بات ضرورت ہے کہ میں نے تم کو دعوت دی تو تم نے میری بات پر لبیک کہہ دیا، لہٰذا اب تم میری دعوت پر لبیک کہنے پر مجھے…
Read the full tafseer →ومثل کلمۃ خبیثۃ اور ناپاک کلمہ کی مثال ایسی ہے۔ بظاہر کلمۂ خبیثہ سے مراد ہے : وہ کلمۂ توحید و رسالت جو نفاق کے ساتھ کہا جائے ‘ اللہ کی رضامندی پیش نظر نہ ہو۔
کشجرۃ خبیثۃ جیسے خراب درخت۔ یعنی غیر مفید ‘ ناکارہ درخت جس کی جڑ زمین کے اندر پیوست نہ ہو۔
اجتثت من فوق الارض جس کو زمین کے اوپر سے ہی اکھاڑ لیا جائے ‘ اس کے سونتے زمین کے اوپر ہی رکھے ہوں۔
ما لھا من قرار (زمین کے اندر) اس کا جماؤ نہ ہو۔ اسی طرح اس کلمہ کی حالت ہے جو رضائے الٰہی کیلئے نہ ہو ‘ اس کا کبھی کوئی فائدہ نہیں۔ ابن مردویہ نے بوساطت حبان بن شعبہ ‘ حضرت انس بن مالک کا قول بیان کیا کہ شجرۂ خبیثہ ‘ شربانہ ہے۔ حضرت انس سے پوچھا گیا :…
Read the full tafseer →(26) اور ناپاک کلمہ یعنی کفر وشرک کی مثال ایسی ہے جیسا کہ ایک خبیث درخت ہو اس سے مراد حنظل ہے جس میں نہ کسی قسم کا نفع ہے اور نہ مٹھاس، اسی طرح، شرک میں بھی نہ نفع ہے اور نہ مٹھاس اور جیسا کہ شرک مذموم ہے کسی بھی تعریف کے لائق نہیں، اسی طرح مشرک بھی مذموم ہے، وہ بھی کسی تعریف کے قابل نہیں۔ اس درخت کو زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیاجائے اور اس کو میں ثبات نہ ہو، اسی طرح مشرک کے استحکام کے لیے کوئی حجت نہیں ہوتی اور نہ شرک کی حالت میں کوئی عمل قبول ہوتا ہے، جس طرح کہ حنظل کے درخت کے ثبات اور قرار کے لیے کوئی جڑ وغیرہ نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ۔۔ : اور خبیث کلمہ (گندی بات) سے مراد کفر و شرک کی بات ہے۔ اس کی مثال اس بےکار پودے کی ہے جسے جڑ سے اکھیڑ پھینک دیا گیا ہو اور وہ اتنا کمزور ہو کہ اس کی جڑ زمین میں قائم ہی نہ رہ سکتی ہو۔ معمولی سا ہوا کا جھونکا ہی اسے اکھیڑ پھینکنے کے لیے کافی ہو۔ اسی طرح کلمہ کفر دنیا یا آخرت میں ہر طرح بےکار ہے، کسی کام نہیں آئے گا۔ انس ؓ نے اس سے مراد حنظل (تماں، اندرائن) لیا ہے۔ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة إبراہیم : 3119 ] البتہ نبی کریم ﷺ سے انس ؓ کی یہ روایت مرفوعاً ثابت نہیں۔ [ ضعیف سنن الترمذی للألبانی : 3119 ] طنطاوی نے فرمایا، یہ صرف بطور مثال ایک فرضی پودا ہے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 26
قولہ تعالیٰ : ومثل کلمۃ خبیثۃ کشجرۃ خبیثۃ، کلمۃ خبیثۃ سے مراد کلمہ کفر ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد بذات خود کافر ہے۔ اور شجرہ خبیثہ سے حضرت انس ؓ کی حدیث کے مطابق ایلوا ہے، یہی حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول بھی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ ایسا درخت ہے جو زمین پر پیدا ہی نہیں ہوا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ہی ایک قول کے مطابق اس کا معنی تھوم کا پودا بھی بیان ہوا ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے مراد کھنبی یا کائی ہے۔ ایک قول کے مطابق : یہ کشوث ہے اور کشوث ایسا درخت ہے جس کے نہ پتے ہوتے ہیں اور نہ ہی زمین میں اس کی کوئی جڑ ہوتی ہے، شاعر نے کہا :
وھم کشوت فلا اصل ولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
1:۔ امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے ” الاسماء والصفات “ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترکیف ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ “ سے مراد ہے ” لا الہ اللہ “ کی گواہی (آیت) ” کشجرۃ طیبۃ “ سے مراد ہے مومن ” اصلھاثابت “ یعنی وہ کہتا ہے ‘ الا الہ الا اللہ “ ثابت (یعنی وہ مضبوط ہے) مومن کے قول میں (آیت) ” وفرعھا فی السمآء “ یعنی اس کے ذریعے مومن کا عمل بلند ہوتا ہے آسمان کی طرف (آیت ) ” ومثل کلمۃ خبیثۃ “ سے مراد ہے شرک اور ” کشجرۃ خبیثۃ “ سے مراد ہے کافر ،” اجتثت من فوق الارض مالھا من قرار “ یعنی شرک ایسا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں کہ جس کو کافر پکڑتا ہے نہ اس کی کوئی دلیل ہے…
Read the full tafseer →[وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ : اور کسی ردّی بات کی مثال ] [ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِۨ : ایک ایسے ردّی درخت کی مانند ہے ] [اجْتُثَّتْ : جس کو اکھاڑا گیا ] [ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ زمین کے اوپر سے ] [مَا لَهَا : نہیں ہے اس کے لئے ] [ مِنْ قَرَارٍ : کوئی بھی ٹھہرائو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو قول ثابت پر ثابت رکھتا ہے
تیسری آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو قول ثابت (پکی بات یعنی لا الہ الا اللہ) پر دنیا میں بھی ثابت رکھتا ہے اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں کلمہ ایمان پر جمانے اور مضبوط رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ شیاطین کے بہکانے اور گمراہ کرنے کا اہل ایمان پر اثر نہیں ہوتا مومن بندہ آخر دم تک ایمان پر جما ہوا رہتا ہے اور آخرت میں کلمہ ایمان پر جما رہنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ قبر میں منکر نکیر کے سوال پر مومنانہ جواب دلوا دیتا ہے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان آدمی سے جب قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
مثال کلمہ ایمان و کلمہ کفر، و ذکر سوال قبر
قال اللہ تعالیٰ : الم ترکیف ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ .... الیٰ .... ویفعل اللہ ما یشاء۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کافروں اور مومنوں کے اخروی نتائج کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں کلمہ ایمان اور کلمہ کفر کی مثال بیان فرماتے ہیں اور عالم برزخ میں اس کا اثر اور ثمر بیان کرتے ہیں تاکہ کلمہ توحید کی فضیلت اور کلمہ کفر کی قباحت ظاہر ہو۔
اس آیت میں کلمہ طیبہ سے کلمہ لا الہ الا اللہ مراد ہے۔ جیسا کہ حدیث میں اس کی تصریح ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اس کے تابع ہے وہ بھی مراد ہے کیوں کہ ملزوم کے ساتھ لوازم کا ہونا ضروری ہے مگر چونکہ اہل ایمان اس امت سے پہلے بھی گزرے ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
27:۔ یہ توحید پر پہلی دلیل نقلی ہے اجمالی از تمام انبیاء (علیہم السلام) و جملہ مؤمنین کلمہ طیبہ سے مراد توحید اور کلمہ خبیژہ سے مراد شرک ہے۔ توحید ایک ایسے درخت کی مانند ہے جو نہایت مضبوط ہے جس کی جڑیں بھی محکم اور اس کی ٹہنیاں بھی پائیدار اور دور دور تک پھیلی ہوئی اور اپنے اپنے وقت میں لوگ اس کے پھل سے فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طرح توحید بھی محکم ہے جو تمام ادیان سابقہ میں محکم رہی ہے اور تمام انبیاء سابقین اپنے اپنے وقت میں توحید کی تبلیغ کرتے رہے ہیں اور ماننے والے اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ اور شرک ایک ایسے کمزور درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں بالکل ناپائیدار ہوں اور یک معمولی سا جھٹکا بھی اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(ربط آیات)
اس سے پہلے رسالت اور قیامت کے متعلق ذکر تھا اور اب توحید کا بیان آرہا ہے ، آج کی آیات کریمہ میں اللہ کی وحدانیت کی بنیاد ذکر کی جارہی ہے جبکہ اس کے دلائل اگلی آیات میں آرہے ہیں جیسا کہ گذشتہ دروس میں بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ مکی سورتوں میں دین کے بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے ، جن میں توحید ، رسالت ، قیامت اور جزائے عمل کے عقائد شامل ہیں ، ان سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے معترضین کا رد اچھے طریقے سے کیا ہے ۔
(کلمہ طیبہ کی مثال)
آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا مسئلہ ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے ، بعض اوقات مثال کے ذریعے کسی چیز کی کما حقہ وضاحت ہو کر وہ چیز انسانی ذہن کے…
Read the full tafseer →وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِۨ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ 26
مثل
والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] .
( م ث ل ) مثل ( ک )
المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف…
Read the full tafseer →1 ؎ ومعنی خبثت اسلوصلیت 12 کشاف احتبثات برکندن 12 منہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَآء۔ تُؤْتِیْ ٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ م بِاِذْنِ رَبِّھَا ط وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ تَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ وَمَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیْثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیْثَۃِ نِ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْارْضِ مَالَھَا مِنْ قَرَارٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 24۔ 25۔ 26)
(کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ کس طرح تمثیل بیان فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی۔ وہ ایک شجرہ طیبہ کے مانند ہے جس کی جڑ زمین میں اتری ہوئی ہے اور جس کی شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اپنا پھل ہر فصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فہم القرآن
ربط کلام : کلمہ طیبہ کے بعد کلمہ خبیثہ کی مثال۔
کلمہ طیبہ کے مقابلہ میں کلمہ خبیثہ ہے۔ جس طرح کلمہ طیبہ کے دنیاو آخرت میں فوائد وثمرات ہیں۔ اسی طرح دنیا اور آخرت میں کلمہ خبیثہ کے مضمرات اور نقصانات ہیں۔ اگر تعمق نگاہی کے ساتھ دیکھا جائے تو عقیدہ کا سب سے پہلا اثر انسان کی سوچ پر پڑتا ہے۔ اگر عقیدہ ٹھیک ہے تو اس کی سوچ مثبت اور ٹھیک ہوگی، اگر عقیدہ غلط ہے تو اس کی سوچ بھی منفی اور غلط ہوگی۔ دوسرے الفاظ میں سوچ تبدیل ہوگی تو انسان تبدیل ہوگا۔ انسان تبدیل ہوگا تو پورا نظام تبدیل ہوگا۔ اس لیے دین سب سے زیادہ زورعقیدہ کی درستگی پر دیتا ہے، جسے قرآن و حدیث کی زبان میں ایمان کہا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →خبیث کلمے کی مثال :
26: وَمَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیْثَۃٍ (اور خبیث کلمہ کی مثال) وہ کلمہ کفر ہے کَشَجَرَۃٍ خَبِیْثَۃِ (خبیث درخت جیسی ہے) اس سے ہر وہ درخت مراد ہے جس کا پھل اچھانہ ہو۔ حدیث میں فرمایا وہ اند رائن (کوڑ تُنبے) کا پودا ہے۔ اڑجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ (جس کو اکھاڑ لیا جائے زمین کے اوپر ہی سے) اس کے وجود کا استیصال کردیا جائے الاجتثاثؔ کی حقیقت تمام جثہ کو لے لینا۔ یہ لفظ اصلھا ثابت کے بالمقابل ہے۔ مَالَھَا مِنْ قَرَارٍ (اس کے لئے ٹھہرائو نہیں) یعنی استقرار و پختگی نہیں جیسا کہا جاتا ہے قر الشیٔ قرارًا جیسے ثبت ثبوتًا خوب مضبوطی سے جمنا۔ اس سے ایسی بات کو مشابہت دی جس کی کوئی…
Read the full tafseer →26۔” ومثل کلمۃ خبیثۃ “ کلمہ خبیثہ سے مراد شرک ہے۔ ” کشجرۃ خبیثۃ “ اس سے مراد حنظل ( کوڑ تما) کا درخت ہے۔ بعض نے کہا کہ لہسن کا درخت ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مرادپیلو کا درخت ہے۔ ” احتثت “ وہ زمین سے اکھڑ جائے۔ ” من فوق الارض ما لھا من قرار “ وہ زمین پر ثابت نہیں یعنی اس کی جڑیں زمین میں مضبوط نہیں اور نہ ہی اس کی شاخیں بلندی پر پہنچتی ہیں ۔ یہی مثال کافر کی ہے کہ اس کے کسی کام میں خیر نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی اچھا کام اوپر جاتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کا نیک عمل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24۔ 26۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے مومنوں اور کافروں کی ایک ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ جیسے کوئی پاکیزہ درخت ہے کہ اس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں اوپر کو پھیلی ہوئی ہوں اور ہمیشہ اس میں پھل لگتے ہوں اسی طرح خدا کا کلمہ پاک لا الہ الا اللہ ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل میں مضبوطی سے جگہ پکڑے ہوئے ہوتی ہے اور اس کے عمل شاخوں کی طرح آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ اس کو قیامت کے دن معلوم ہوگا۔ اور کفر و گمراہی کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بےفیض درخت جس کی جڑ بالکل ہی مضبوط نہ ہو زمین کے اوپر ہی اوپر پھیلی ہوئی ہو اس کو کسی طرح قیام نہیں ذرا سی ٹھیس میں اپنی جگہ سے اکھڑ جاتا ہے۔ اسی طرح کفار کے غلط عقیدہ…
Read the full tafseer →پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلمۂ توحید کی ضد کلمۂ کفر اور اس کی شاخوں کا ذکر فرمایا۔ چناچہ فرمایا : (آیت) ” اور گندی بات کی مثال، جیسے گندادرخت ہے “ جو کھانے اور ذائقے میں بدترین درخت ہے اور اس سے مراد اندرائن وغیرہ کا پودا ہے (اجتثت) یعنی اس پودے کو اکھاڑ لیا گیا (من فوق الارض مالھا من قرار) ” زمین کے اوپر سے، اس کو کوئی ٹھہراؤ نہیں “ یعنی اس پودے کو ثبات حاصل نہیں اس پودے کی رگیں نہیں ہیں جو اس کو سہارا دے کر کھڑا کرسکیں اور نہ یہ کوئی اچھا پھل لاتا ہے بلکہ اس میں پھل پایا بھی جاتا ہے تو انتہائی بدذائقہ۔
اسی طرح کفر اور گناہ کی بات قلب میں کوئی فائدہ مند مضبوطی اور ثبات پیدا نہیں کرتی، اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–52
حین سے مراد
قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →54۔ شجرہ خبیثہ کی تمثیل کا ذکر وبیان :
سوتوحید کے شجرہ طیبہ یعنی پاکیزہ درخت کی تمثیل کے بعداس کے کفر و شرک کے کلمہ خبیثہ کی تمثیل پیش فرمائی گئی ہے، جس کی اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے۔ کفر و شرک کے شجرہ خبیثہ کے لئے کوئی ٹھہراؤ نہیں ہوسکتا، کہ کفر وباطل کے شجرہ خبیثہ کا وجود وکیان کسی حجت وبرہان پر نہیں محض ادہام وظنون پر قائم ہوتا ہے، جو کہ حق کی چوٹ پر تے اور ضرب لگتے ہی۔ ھبآء منثوراہو جاتا ہے اور کلمہ خبیثہ چونکہ کلمہ طیبہ کے بالمقابل اور اس کی ضد ہے، اس لئے یہ کفر وباطل کی ہر شکل وصورت کو عام وشامل ہے، خواہ وہ کفر و شرک ہو، یا دہریت ولامذہبیت، یا الحادوزندقہ، یا کوئی ایسا خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
اچھے کلمے اور برے کلمے کی مثال
تشریح : جیسا اللہ کا کلام خوبصورت، فائدہ مند اور مکمل ہے اسی طرح اس کی دی ہوئی مثالیں بھی مقصد کو سمجھانے کے لیے انتہائی بہترین ہیں۔ اچھی بات صرف کہنے والے کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات بھی بڑے گہرے اور نہ ختم ہونے والے اور ہر سننے والے کے لیے اتنے فائدہ مند ہوتے ہیں کہ جیسے ایک صحت مند مضبوط درخت کا سایہ اور پھل فائدہ مند ہوتا ہے۔ بیشمار لوگوں کو اس سے بیشمار اور دیر پا فائدے ملتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ رشد و ہدایت کی باتیں ہیں اور کفر و شرک کی باتوں کو اللہ نے سوکھے سڑے بدنما اور بھدے درخت سے تشبیہ دی ہے۔ جس کی نہ جڑ مضبوط نہ پھل نہ سایہ۔ قوموں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب آخری امید کے طور پر یہ بات باقی رہ جائے گی کہ شاید جن معبودان باطلہ کی پرستش کرتے عمر گذار دی وہی کسی کام آجائیں تو اس کا یہ ہوگا کہ جب قیامت کے روز فیصلہ ہوچکے گا تو کافر شیطان کے گرد جمع ہو کر کہیں گے کہ ہماری بربادی کا سبب تو تو بنا خود تو تباہ ہوا تھا ہمیں بھی لے ڈوبا اب ان بتوں کو کہو اور خود ہمارے لیے کچھ کرو تو وہ کم از کم اس روز کو کھری بات کہے گا کہ نامرادو مجھے ملامت کرنے آئے ہو ذرا غور کرو کہ اللہ جل جلالہ نے تمہارے ساتھ حق اور کھرے وعدے کئے تھے اور ان پر دلائل قطعیہ قائم فرمائے تھے جبکہ میں نے بھی تم سے وعدے کئے تھے مجھے اس سے انکار نہیں مگر یہ بھی سن…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں اس درخت سے مراد حنظلہ (اندرائن) ہے۔ (ترمذی) ۔ یہی حال شرک و کفر کا ہے جس کی نہ کوئی دلیل ہوتی ہے نہ دل پر اس کا اثر ہوتا ہے نہ اس سے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی عمل قبول ہوتا ہے۔ بودی اتنی ہوتی ہے کہ ذرا سے غور و فکر سے اس کا بےحقیقت ہونا واضح ہوجاتا ہے۔ (کذافی الوحیدی) ۔
Read the full tafseer →(14:26) کلمۃ خبیثۃ ۔ اس سے مراد کفروشرک ہے۔
اجتثت۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ اجتثاث (افتعال) وہ جڑ سے اکھاڑ لی گئی۔ اس کو جڑ سے اکھاڑ لیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 27
ضرب اس نے چلایا، بیان کیا، مارا۔ کلمۃ طیبۃ پاکیزہ بات، شجرۃ درخت ۔ اصل بنیاد، جڑ ثابت جمی ہوئی۔ فرع شاخ۔ شاخیں توتی دیتا ہے۔ اکل پھل۔ کل حین ہر وقت، ہر آن۔ الامثال مثالیں۔ یتذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ غور فکر کرتے ہیں۔ کلمۃ خبیثۃ گندی بات۔ اجتثت اکھاڑ لیا گیا، اکھاڑ لیا جائے ۔ فوق اوپر۔ قرار جماؤ، استحکام۔ یثبت جماتا ہے۔ ثابت رکھتا ہے۔ القول الثابت مضبوط و مستحکم بات۔ یضل وہ گم راہ کرتا ہے۔ یفعل وہ کرتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 27
قرآن کریم میں عام زندگی کی چھوٹی چھوٹی مثالوں سے بڑی سے بڑی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کفار و مشرکین عرب طرح طرح سے اللہ اور اس کے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
مومنوں اور کافروں کی ایک ایک مثال
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کی ایک ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ جیسے کوئی پاکیزہ درخت ہے کہ اس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں اوپر کو پھیلی ہوئی ہوں اور ہمیشہ اس میں پھل لگتے ہوں، اسی طرح خدا کا کلمہ توحید ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل میں مضبوطی سے جگہ پکڑے ہوئے ہوتی ہے۔ اور اس کے عمل شاخوں کی طرح آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں، جس کا نتیجہ اس کو قیام کے دن معلوم ہوگا اور کفر و گمراہی کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بےفیض درخت یعنی اندرائن کا درخت کہ وہ تلخ اور بدبودار ہوتا ہے، جڑ بالکل کمزور ہے اس کو کسی طرح قیام نہیں ذرا سی ٹھیس میں اپنی جگہ سے اکھڑ جاتا ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →[15] کلمہ خبیثہ یعنی گندی بات۔ مراد اس سے ہر وہ باطل عقیدہ ہے جس کو انسان اپنے نظام زندگی کی بنیاد بنائے، چاہے وہ بت پرستی ہو، دہریت و الحاد ہو یا کوئی اور ایسا نظریہ ہو جو انبیاء کے واسطے سے نہ آیا ہو۔
Read the full tafseer →کفر وشرک شجرہ خبیثہ :
(ف 2) کفر وشرک کو ایک ایسے درخت سے تشبیہ دی ہے ۔ جو بےاصل ہو ، بدوضع اور مکروہ ہو ، بےفائدہ ہو ، جس کی جڑیں زمین پر پھیلی ہوں ، اور قطر زمین میں گڑی ہوئی نہ ہوں ، یعنی جو بےبنیاد ہو ، دلائل ومنطق جس کی تائید نہ کریں ، عقل سلیم ٹھکرائے ، قلب وضمیر قبول نہ کرے ، اور اس کے تعلق لادلائل کی وجہ سے دنیا اسے مردہ قرار دے ۔
یہ کفر وشرک کی کتنی عمدہ مثال ہے ، پاک قلب اور سلجھے ہوئے دماغ کے لوگ کبھی کفر کو قبول نہیں کرتے ، ان کے لئے اس میں کوئی جاذبیت نہیں ہوتی ، اور بڑی بات یہ ہے کہ اس نوع کے عقائد کو ثبات وقرار نہیں ہوتا ، ایمان کے مقابلہ میں یہ پنپ نہیں سکتے ، صداقت اور سچائی…
Read the full tafseer →26 ۔ اور نا پاک اور گندے کلمہ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک خبیث اور نا پاک درخت جو زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھیڑ لیا جائے اس درخت کو کسی قسم کا جمائو اور مضبوطی میسر نہیں ۔ نا پاک کلمہ جیسے کلمہ کفر و شرک درخت کا تنا نہیں جو چاہے اور جب چاہے اکھیڑ لے جڑ دور تک نہیں کافر کے دل میں اگرچہ اس کی جڑ ہے مگر محض سطحی جو ذرا سے جھٹکے میں اکھڑ جائے پھر نہ کوئی بو نہ کوئی مزہ ، نہ کھانے کے قابل کوئی پھل جس پر کوئی اچھا اثر مرتب ہو۔
ہو سکتا ہے کلمہ طیبہ کے ساتھ دیگر کلمات تسبیح و تسہیل بھی مراد ہوں ، پہلے درخت سے کھجور کا درخت مراد لیا گیا ہے اور دوسرے درخت سے حنظل مراد لیا گیا ہے اور حنظل کی بیل مراد ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ف 5۔ یعنی خوب پھلتا ہے کوئی فصل ماری نہ جاتی ہو اسی طرح کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ کی ایک جڑ ہے یعنی اعتقاد جو مومن کے قلب میں استحکام کے ساتھ جانگیر ہے اور اس کی کچھ شاخیں ہیں یعنی اعمال صالحہ جو ایمان پر مرتب ہوتے ہیں جو بارگاہ قبولیت میں آسمان کی طرف لے جائے جاتے ہیں پھر ان پر رضائے دائمی کا ثمرہ مرتب ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درخت سے دی جاسکتی ہے اور دی گئی ہے
27 ؎ کلمہ خبیثہ کلمہ طیبہ کی ضد ہے اس لئے ضروری ہے کہ سمجھ لیا جائے کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ بلاشبہ اس میں بھی مختلف رائیں قائم کی گئیں لیکن تفہیم میں اس سے مراد کفر ہے اور کفر ایک خبیث درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں نہیں ہوتیں یعنی زمین میں اس کی جڑیں نہیں ہوتیں اور یہ بھی کہ ہوا کا ایک جھونکا آیا تو اسے اکھاڑ کر زمین پر پھینک دیا۔ ایسے درخت کی شاخیں کہاں ہوں گی اور اس پر پھل کہاں لگے گا۔ اس سے مراد ہر وہ باطل عقیدہ ہے جس کو انسان اپنے نظام زندگی کیبنیاد بنائے عام اس سے کہ وہ شرک ‘ کفر ہو ‘ دہریت ہو ‘ الحادو زندقہ ہو ‘ شرک و بت…
Read the full tafseer →Commentary
In verse 18, Allah Ta` ala has likened the deeds of disbelievers to ashes which, if blown away by the wind, would scatter all over leaving no traces behind and making it impossible for someone interested to retrieve them and put them back to some use. So, the verse: مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ ۖ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ (The deeds of those who disbelieve their Lord are like ashes blown away by the wind on a stormy day - 18) means that the deeds of disbelievers - though, they may obviously be good too - still, they too do not…
Read the full tafseer →37. Evil word is the opposite of pure word. It may be applied to everything that is unreal and wrong but here it stands for any false creed that one might adopt as a basis of his system of life, irrespective of whether it be atheism or heresy or disbelief or shirk or idol worship or any other ism that has not been brought by a Messenger.
38. And evil word (false creed) has no stability because it is against the law of nature. Therefore, everything in the universe opposes it and refutes it, as if the earth hates it and is ready to spit out its seeds every time they are sown in it, and if some…
Read the full tafseer →