Ibrahim 14:25

Ibrahim · from ayah 25

14:25

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّهَا ؕ— وَیَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ ۟تُؤۡتِىۡۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِيۡنٍۢ بِاِذۡنِ رَبِّهَا‌ؕ وَيَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ‏

اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو۔ اور خدا لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

It produces its fruit all the time, by permission of its Lord. And Allah presents examples for the people that perhaps they will be reminded.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 4 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Ibrahim

All translations of 14:25

ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ اِن سے سبق لیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو۔ اور خدا لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت اپنے پھل ﻻتا ہے، اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے سامنے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وه نصیحت حاصل کریں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اپنے رب کے حکم سے وہ ہر آن پھل دیتا ہے۔ اللہ (اس قسم کی) مثالیں اس لیے دیتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہر وقت پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ سمجھیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ (درخت) اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دے رہا ہے، اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اپنا پھل اپنے رب کے حکم سے ہر وقت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر آن پھل دے رہا ہے۔ اللہ لوگوں کے لئے مثالیں اس لیے بیان کرتا ہے کہ وہ سبق حاصل کریں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ اپنا پھل ہر فصل میں اپنے رب کے حکم سے دیتا رہتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے تمثیلیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ ہر وقت پھل دیتا ہو اپنے رب کے حکم سے، اور اللہ (ایسے ہی عظیم الشان) مثالیں بیان فرماتا ہے لوگوں (کی فہمائش) کے لئے، تاکہ وہ سبق لیں،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ اپنا پھل ہر فصل میں اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا رہتا ہے۔ اور اللہ لوگوں کے لئے تمثیلات اس لئے بیان کرتا ہے تاکہ وہ خوب سمجھ لیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ (درخت) ہر فصل میں اپنا پھل لاتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور اللہ مثالیں بیان کرتا ہے لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت اخذ کریں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا اور میوے دیتا ہو۔ اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

ever yielding its fruit in every season with the leave of its Lord. Allah gives examples for mankind that they may take heed.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It brings its fruits at all times with the will of its Lord. Allah sets forth the parables for the people, so that they may take lesson.

— Muhammad Taqi Usmani

It brings its fruits at all times with the will of its Lord. Allah sets forth the parables for the people, so that they may take lesson.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Giving its fruit at all times, by the leave of its Lord, and Allah sets forth parables for mankind in order that they may remember.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Giving its fruit at every season by permission of its Lord? Allah coineth the similitudes for mankind in order that they may reflect.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It produces its fruit all the time, by permission of its Lord. And Allah presents examples for the people that perhaps they will be reminded.

— Saheeh International

and yields fruits in every season, by the permission of its Lord? God sets forth parables for people so that they may take heed.

— Muhammad Sarwar

Yielding its fruit in every season by the permission of its Lord? And Allah sets forth parables for men that they may be mindful.

— Muhammad Habib Shakir

Giving its fruit at every season, by the command of the Lord. And Allah propoundeth similitudes for mankind that haply they may be admonished.

— Abdul Majid Daryabadi

It brings forth its fruit at all times, by the leave of its Lord. So Allah sets forth parables for men, in order that they may receive admonition.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 14:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–26

لا الہ الا اللہ کی شہادت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ پاکیزہ درخت کی طرح کا مومن ہے اس کی جڑ مضبوط ہے۔ یعنی مومن کے دل میں لا الہ الا اللہ جما ہوا ہے اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ یعنی اس توحید کے کلمہ کی وجہ سے اس کے اعمال آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہیں۔ کہ مراد اس سے مومن کے اعمال ہیں اور اس کے پاک اقوال اور نیک کام۔ مومن مثل کھجور کے درخت کے ہے۔ ہر وقت ہر صبح ہر شام اس کے اعمال آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجور کا ایک خوشہ لایا گیا۔ تو آپ نے اسی آیت کا پہلا حصہ تلاوت فرمایا اور فرمایا کہ پاک درخت سے مراد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة اِبْرٰهِیْم 36 یعنی وہ ایسا بار آور اور نتیجہ خیز کلمہ ہے کہ جو شخص یا قوم اسے بنیاد بنا کر اپنی زندگی کا نظام اس پر تعمیر کرے، اس کو ہر آن اس کے مفید نتائج حاصل ہوتے رہتے ہیں۔ وہ فکر میں سلجھاؤ، طبیعت میں سلامت، مزاج میں اعتدال، سیرت میں مضبوطی، اخلاق میں پاکیزگی، روح میں لطافت، جسم میں طہارت و نظافت، برتاؤ میں خوشگواری، معاملات میں راست بازی، کلام میں صداقت شعاری، قول وقرار میں پختگی، معاشرت میں حسن سلوک، تہذیب میں فضیلت، تمدن میں توازن، معیشت میں عدل و مواساۃ، سیاست میں دیانت، جنگ میں شرافت، صلح میں خلوص اور عہدوپیمان میں وثوق پیدا کرتا ہے، وہ ایک ایسا پارس ہے جس کی تاثیر اگر کوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–25

خلاصہ تفسیر کیا آپ کو معلوم نہیں (اب معلوم ہوگیا) کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی (اچھی اور موقع کی) مثال بیان فرمائی ہے کلمہ طیبہ کی کی (یعنی کلمہ توحید و ایمان کی) کہ وہ مشابہ ہے ایک پاکیزہ دوخت کے (مراد کھجور کا درخت ہے) جس کی جڑ (زمین کے اندر) خوب گڑی ہوئی ہو اور اس کی شاخیں اونچائی میں جارہی ہوں (اور) وہ (یعنی خوب پھلتا ہو کوئی فصل ماری نہ جاتی ہو اسی طرح کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ کی ایک جڑ ہے یعنی اعتقاد جو مومن کے قلب میں استحکام کے ساتھ جائگیر ہے اور اس کی کچھ شاخیں ہیں یعنی اعمال صالحہ جو ایمان پر مرتب ہوتے ہیں جو بارگاہ قبولیت میں آسمان کی طرف لے جائے جاتے ہیں پھر ان پر رضائے دائمی کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 24–25

آگے کا مضمون۔ آیات 24 تا 27:۔ توحید اور شرک کی تمثیل : اوپر کی آیات میں شرکیہ و کفریہ اعمال کی تمثیل بیان ہوئی۔ اب آگے کی آیات میں شرکیہ عقائد و نظریات اور اور توحید اور اس پر مبنی عقائد و نظریات کی تمثیل بیان ہورہی ہے۔ تاکہ واضح ہوسکے کہ شریک کی کوئی بنیاد نہ عقل و فطرت کے اندر ہے اور نہ خدا کے ہاں اس کی کوئی جڑ ہے اس وجہ سے اس پر بنی اعمال سب ہوا میں اڑ جائیں گے۔ اس کے برعکس توحید کی بنیاد عقل و فطرت میں بھی ہے اور عند اللہ بھی اس کی بنیاد ہے، زمین بھی اس کی جڑیں گہری اتری ہوئیں ہیں اور فضا میں بھی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں، اس وجہ سے جو لوگ توحید پر قائم ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

25۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ مومن کی مثال اس درخت کی طرح ہے، جو گرمی ہو یا سردی ہر وقت پھل دیتا ہے۔ اسی طرح مومن کے اعمال صالحہ شب و روز کے لمحات میں ہر آن اور ہر گھڑی آسمان کی طرف لے جائے جاتے ہیں، کَلِمَۃ طَیِّبَۃ سے اسلام، یا لا اِلٰہ الا اللہ اور شجرہ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے (صحیح بخاری)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

19: یعنی یہ درخت سدا بہار ہے، اس پر کبھی خزاں نہیں ہوتی، اور وہ ہر حال میں پھل دیتا ہے اگر اس سے مراد کھجور کا درخت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا پھل سارے سال کھایا جاتا ہے، نیز جس زمانے میں بظاہر اس پر پھل نہیں ہوتا، اس زمانے میں بھی اس سے مختلف فائدے حاصل کئے جاتے ہیں، کبھی اس سے نیرا نکال کر پیا جاتا ہے، کبھی اس کے تنے کا گودا نکال کر کھایا جاتا ہے، اور کبھی اس کے پتوں سے مختلف چیزیں بنائی جاتی ہیں، اسی طرح جب کوئی شخص توحید کے کلمے پر ایمان لے آتا ہے تو چاہے خوش حال ہو یا تنگدست، عیش و آرام میں یا تکلیفوں میں ہر حال میں اس کے ایمان کی بدولت اسکے اعمال نامے میں نیکیاں بڑھتی رہتی ہیں اور…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 24–27

آیت نمبر 24 تا 27 کلمہ طیبہ کی مثال اچھے درخت کی دی گئی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے ، پھلتا پھولتا ہے ، اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیکار جڑی بوٹیوں کی ہے ، جن کو کسان جہاں دیکھتا ہے بیکار اور مضر سمجھتے ہوئے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کسی جگہ اس کے لئے قرار نہیں ہے۔ یہ تمثیل اور تمثیلی منظر انبیاء اور سرکش اور ڈکٹیٹروں کے قصے سے لیا گیا ہے۔ اس قصے میں انبیاء اور داعیوں کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جھٹلانے والے سرکشوں کا جو انجام بتایا گیا ہے یہ تمثیل اس پر مبنی ہے۔ سلسلہ انبیاء ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ درخت تاریخ کے مختلف موسموں میں اپنا پھل دیتا رہا ہے ، کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی کوئی فصل پھل سے خالی نہ جائے یا فرض کیجیے بارہ مہینے صبح و شام اس پر تازہ پھل لگا کرے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25 تُؤْتِيْٓ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۢ بِاِذْنِ رَبِّهَا اس درخت کی جڑیں زمین میں مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں اس کی شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور اس کا پھل بھی متواتر آ رہا ہے۔ وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَال للنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ کوئی بھلائی کا کام ہو نیکی کی دعوت ہو راہ حق کی کوئی تحریک ہو جس نے بھی ایسی کسی نیکی کی ابتدا کی اس نے گویا اپنے لیے ایک بہت عمدہ پھلدار درخت لگا لیا۔ یہ درخت جب تک باقی رہے گا اپنے اثرات وثمرات سے نہ معلوم کس کس کو فیض یاب کرے گا۔ جیسے کسی نے بھلائی کی دعوت دی اور اس دعوت کو کچھ لوگوں نے قبول کیا انہوں نے اس دعوت کو مزید آگے پھیلایا یوں اس نیکی کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

32 کلمہ طیبہ کے ثمرات :۔ یعنی جس کی کوئی فصل پھل سے خالی نہیں جاتی اور اس مثال کا مطلب یہ ہے کہ جب کلمہ توحید کسی مومن کے دل میں رچ بس جاتا ہے اور اس میں اس کی جڑ پیوست ہوتی ہے اور وہ اپنی پوری زندگی اسی کلمہ کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیتا ہے تو اس سے جو اعمال صالحہ صادر ہوتے ہیں۔ اس کا فائدہ صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ آس پاس کا معاشرہ بھی ان سے فیضیاب ہوتا ہے اور ہر آن ہوتا رہتا ہے۔ پھر یہی اعمال صالحہ آسمان کی بلندیوں تک جا پہنچتے ہیں۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ( مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا ۭاِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

46۔ (اور اس کا کوئی پھل کسی فصل میں بھی ضائع نہیں جاتا) ایمان اور اعمال صالحہ پر رضائے الہی کا ثمرہ اسی طرح دائما مرتب ہوتا رہتا ہے اس کے کبھی ضائع جانے کا احتمال نہیں۔ اسی سے ملتی ہوئی ایک تمثیل عہد نامہ عتیق میں بھی ملتی ہے :۔ ” مبارک وہ آدمی ہے جو شریروں کی صلاح پر نہیں چلتا۔ سو وہ اس درخت کے مانند ہوگا جو پانی کی نہروں کے کنارے پر لگایا جائے اور اپنے وقت پر میوے لائے۔ جس کے پتے مرجھاتے نہیں اور اپنے ہر ایک کام میں پھلتا پھولتا رہے گا۔ شریر ایسے نہیں بلکہ بھوسے کی مانند ہیں جسے ہوا اڑا لے جاتی ہے۔ “ (زبور۔ 1: 4) 47۔ (معنی ومقصود کو اور پھر اسی پر عمل کرتے رہیں) تمثیلات کی غرض وغایت بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–27

آیت نمبر 22 تا 27 ترجمہ : اور جب فیصلہ چکا دیا جائیگا، اور اہل جنت، جنت میں، دوزخی دوزخ میں داخل کر دئیے جائیں گے اور دوزخی شیطان کے پاس جمع ہوں گے تو ابلیس ان سے کہے گا، حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے بعث اور جزاء کے جتنے وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا کہ (بعث وغیرہ) کچھ ہونے والا نہیں ہے میں نے اس کو پورا نہیں کیا (یعنی اس کا جھوٹ ہونا ظاہر ہوگیا) اور میری تم پر کوئی زور زبردستی تو تھی نہیں کہ جس کے ذریعہ میں تم کو اپنی اطاعت پر مجبور کرتا البتہ اتنی بات ضرورت ہے کہ میں نے تم کو دعوت دی تو تم نے میری بات پر لبیک کہہ دیا، لہٰذا اب تم میری دعوت پر لبیک کہنے پر مجھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تؤتی اکلھا کل حین باذن ربھا جو اپنے خالق کے ارادے اور تخلیق کی وجہ سے ہر (اس) وقت پھل دیتا ہے (جو اس کے رب نے پھل لانے کیلئے مقرر کردیا ہے) ۔ کلمۂ طیبہ کی بھی یہی حالت ہے ‘ مؤمن کے دل میں اس کی جڑ یعنی ایمان مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔ جب یہ کلمہ زبان سے نکلتا ہے تو اوپر اٹھنے اور اللہ تک پہنچنے سے اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِلَیْہِ یَصَعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ اللہ ہی کی طرف پاکیزہ کلمہ چڑھتا ہے۔ ترمذی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سبحان اللہ پڑھنا (قیامت کے دن) میزان (عدل) کا آدھا حصہ ہوگا اور الحمد اللہ (پڑھنا) میزان کو (نیکیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 24–25

(24۔ 25) اے محمد ﷺ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ کی کیسی اچھی مثال بیان فرمائی کہ مومن مشابہ ہے کھجور کے درخت کے جس کی جڑ خوب گہری ہوئی ہو، اس طرح سچے مومن کا دل کلمہ لا الہ الا اللہ پر خوب قائم رہتا ہے اور اس کی شاخیں اونچائی میں جاری ہوں، ایسے ہی سچے مومن کا عمل قبول ہوتا ہے اور وہ درخت اللہ کے حکم سے ہر فصل میں پھل دیتا ہے اسی طرح سچے مومن ہر وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بھلائی کے کاموں میں مصروف رہتا ہے اور کہا گیا ہے کہ اللہ کے حکم سے نفع اور تعریف میں یہ لفظ کلمہ طیبہ کی صفت ہے جیسا کہ کھجور کا پاکیزہ درخت اس کا پھل بھی پاکیزہ ہے، اسی طرح مومن کی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 24–25

اَلَمْ تَرَ : یہ خطاب اولاً رسول اللہ ﷺ سے ہے اور پھر ہر اس شخص سے ہے جو خطاب کے لائق ہے۔ استفہام سے مراد پوچھنا نہیں بتانا ہے۔ اسے استفہام تقریری کہتے ہیں۔ ”کیا تو نے نہیں دیکھا ؟“ یہاں دیکھنے سے مراد علم اور جاننا ہے جو کائنات کو دیکھنے اور اس میں غور و فکر سے حاصل ہوتا ہے۔ مفسر آلوسی کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ”الم تر“ کا مخاطب بعض اوقات وہ شخص ہوتا ہے جو پہلے سے اس بات سے واقف ہو، ایسی صورت میں مراد تعجب کا اظہار ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کا مخاطب وہ شخص ہوتا ہے جو اس سے واقف نہ ہو، اس وقت مراد ایک تو اسے بتانا ہوتا ہے اور ایک اس بات پر تعجب کا اظہار ہوتا ہے کہ اتنی مشہور بات بھی تمہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–25

آیت نمبر 24 تا 25 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: الم تر کیف ضرب اللہ مثلا جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کی مثال بیان فرمائی اور وہ ہے کرماد اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف (ابراہیم :18) تو مومنین کے احوال کی مثال بھی ذکر فرما دی۔ پھر اس مثال کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : کلمۃ طیبۃ یعنی کلمۃ طیبۃ الثمر ایسا کلمہ جس کا پھل پاکیزہ ہے ثمر کو اس لیے حذف کردیا گیا کہ کلام اس پر دلالت کر دہا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کلمہ طیبہ سے مراد لا الہ الا اللہ ہے، جب کہ شجرہ طیبہ سے مراد مومن ہے۔ مجاہد اور ابن جریج نے کہا : کلمہ طیبہ سے مراد ایمان ہے، عطیہ عوفی اور ربیع بن انس نے کہا : یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–26

1:۔ امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے ” الاسماء والصفات “ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترکیف ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ “ سے مراد ہے ” لا الہ اللہ “ کی گواہی (آیت) ” کشجرۃ طیبۃ “ سے مراد ہے مومن ” اصلھاثابت “ یعنی وہ کہتا ہے ‘ الا الہ الا اللہ “ ثابت (یعنی وہ مضبوط ہے) مومن کے قول میں (آیت) ” وفرعھا فی السمآء “ یعنی اس کے ذریعے مومن کا عمل بلند ہوتا ہے آسمان کی طرف (آیت ) ” ومثل کلمۃ خبیثۃ “ سے مراد ہے شرک اور ” کشجرۃ خبیثۃ “ سے مراد ہے کافر ،” اجتثت من فوق الارض مالھا من قرار “ یعنی شرک ایسا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں کہ جس کو کافر پکڑتا ہے نہ اس کی کوئی دلیل ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[تُؤْتِيْٓ: وہ دیتا ہے ] [ اُكُلَهَا : اپنے پھل ] [ كُلَّ حِيْنٍۢ: ہر وقت ] [ بِاِذْنِ رَبِهَا : اپنے رب کی اجازت سے ] [ وَيَضْرِبُ : اور بیان کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [الْاَمْثَالَ : مثالیں ] [لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [لَعَلَهُمْ : شاید وہ لوگ ] [ يَتَذَكَّرُوْنَ : نصیحت حاصل کریں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 25–26

اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو قول ثابت پر ثابت رکھتا ہے تیسری آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو قول ثابت (پکی بات یعنی لا الہ الا اللہ) پر دنیا میں بھی ثابت رکھتا ہے اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں کلمہ ایمان پر جمانے اور مضبوط رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ شیاطین کے بہکانے اور گمراہ کرنے کا اہل ایمان پر اثر نہیں ہوتا مومن بندہ آخر دم تک ایمان پر جما ہوا رہتا ہے اور آخرت میں کلمہ ایمان پر جما رہنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ قبر میں منکر نکیر کے سوال پر مومنانہ جواب دلوا دیتا ہے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان آدمی سے جب قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ لا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–27

مثال کلمہ ایمان و کلمہ کفر، و ذکر سوال قبر قال اللہ تعالیٰ : الم ترکیف ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ .... الیٰ .... ویفعل اللہ ما یشاء۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کافروں اور مومنوں کے اخروی نتائج کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں کلمہ ایمان اور کلمہ کفر کی مثال بیان فرماتے ہیں اور عالم برزخ میں اس کا اثر اور ثمر بیان کرتے ہیں تاکہ کلمہ توحید کی فضیلت اور کلمہ کفر کی قباحت ظاہر ہو۔ اس آیت میں کلمہ طیبہ سے کلمہ لا الہ الا اللہ مراد ہے۔ جیسا کہ حدیث میں اس کی تصریح ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اس کے تابع ہے وہ بھی مراد ہے کیوں کہ ملزوم کے ساتھ لوازم کا ہونا ضروری ہے مگر چونکہ اہل ایمان اس امت سے پہلے بھی گزرے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–26

27:۔ یہ توحید پر پہلی دلیل نقلی ہے اجمالی از تمام انبیاء (علیہم السلام) و جملہ مؤمنین کلمہ طیبہ سے مراد توحید اور کلمہ خبیژہ سے مراد شرک ہے۔ توحید ایک ایسے درخت کی مانند ہے جو نہایت مضبوط ہے جس کی جڑیں بھی محکم اور اس کی ٹہنیاں بھی پائیدار اور دور دور تک پھیلی ہوئی اور اپنے اپنے وقت میں لوگ اس کے پھل سے فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طرح توحید بھی محکم ہے جو تمام ادیان سابقہ میں محکم رہی ہے اور تمام انبیاء سابقین اپنے اپنے وقت میں توحید کی تبلیغ کرتے رہے ہیں اور ماننے والے اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ اور شرک ایک ایسے کمزور درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں بالکل ناپائیدار ہوں اور یک معمولی سا جھٹکا بھی اسے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–26

(ربط آیات) اس سے پہلے رسالت اور قیامت کے متعلق ذکر تھا اور اب توحید کا بیان آرہا ہے ، آج کی آیات کریمہ میں اللہ کی وحدانیت کی بنیاد ذکر کی جارہی ہے جبکہ اس کے دلائل اگلی آیات میں آرہے ہیں جیسا کہ گذشتہ دروس میں بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ مکی سورتوں میں دین کے بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے ، جن میں توحید ، رسالت ، قیامت اور جزائے عمل کے عقائد شامل ہیں ، ان سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے معترضین کا رد اچھے طریقے سے کیا ہے ۔ (کلمہ طیبہ کی مثال) آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا مسئلہ ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے ، بعض اوقات مثال کے ذریعے کسی چیز کی کما حقہ وضاحت ہو کر وہ چیز انسانی ذہن کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تُؤْتِيْٓ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۢ بِاِذْنِ رَبِّهَا ۭ وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 25؁ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ حين الحین : وقت بلوغ الشیء وحصوله، وهو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 24–25

ترکیب : کلمۃ موصوف طیبۃ صفت بدل ہے مثلاً سے اور کشجرۃ الخ کلمۃ کی لغت اور بعض نے کلمۃ کو مرفوع پڑھا ہے کہ کشجرہ کو خبر مانا ہے تؤتی لغت ہے فی الحیوٰۃ الدنیا متعلق ہے یثبت سے اور ممکن ہے کہ کشجرۃ خبر ہو مبتدا مخدوف کی ای ہے اور پھر طیبۃ اور اصلہا و توتی یہ سب شجرہ کی لغت ہوں اور جملہ بدل ہو مثلاً سے تفسیر : اشقیاء اور سعداء کا حال بیان فرما کر ان کے حال کی زیادہ تشریح کرنے کو ایک مثال بیان فرماتا ہے اور وہ یہ ہے کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ شجرہ طیبہ یعنی پاک یا اچھے اور عمدہ پیڑ کے چار وصف بیان فرما کر کلمہ طیبہ کو اس کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے اول 2 ؎ صفت طیبۃ ہونا یعنی اچھا ہونا خواہ باعتبار شکل و صورت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 24–26

اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَآء۔ تُؤْتِیْ ٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ م بِاِذْنِ رَبِّھَا ط وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ تَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ وَمَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیْثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیْثَۃِ نِ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْارْضِ مَالَھَا مِنْ قَرَارٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 24۔ 25۔ 26) (کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ کس طرح تمثیل بیان فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی۔ وہ ایک شجرہ طیبہ کے مانند ہے جس کی جڑ زمین میں اتری ہوئی ہے اور جس کی شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اپنا پھل ہر فصل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–26

فہم القرآن ربط کلام : کلمہ طیبہ کے بعد کلمہ خبیثہ کی مثال۔ کلمہ طیبہ کے مقابلہ میں کلمہ خبیثہ ہے۔ جس طرح کلمہ طیبہ کے دنیاو آخرت میں فوائد وثمرات ہیں۔ اسی طرح دنیا اور آخرت میں کلمہ خبیثہ کے مضمرات اور نقصانات ہیں۔ اگر تعمق نگاہی کے ساتھ دیکھا جائے تو عقیدہ کا سب سے پہلا اثر انسان کی سوچ پر پڑتا ہے۔ اگر عقیدہ ٹھیک ہے تو اس کی سوچ مثبت اور ٹھیک ہوگی، اگر عقیدہ غلط ہے تو اس کی سوچ بھی منفی اور غلط ہوگی۔ دوسرے الفاظ میں سوچ تبدیل ہوگی تو انسان تبدیل ہوگا۔ انسان تبدیل ہوگا تو پورا نظام تبدیل ہوگا۔ اس لیے دین سب سے زیادہ زورعقیدہ کی درستگی پر دیتا ہے، جسے قرآن و حدیث کی زبان میں ایمان کہا گیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

] 25: تُؤْتِیْ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ 0 (وہ اپنا پھل ہر اس گھڑی دیتا ہے) وہ اپنا پھل ہر اس وقت میں لاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر فرمایا بِاِذْنِ رَبِّھَا (اپنے رب کے حکم سے) اپنے خالق کے میسر فرمانے اور اسکی تکوین سے وَیضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (اللہ تعالیٰ لوگوں کیلئے مثالیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں) کیونکہ مثالیں بیان کرنے سے بات ذہنوں میں اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے اور خوب نصیحت اثر پذیر ہوتی ہے اور معانی عملی صورت میں سامنے آجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25۔” توتی اکلھا “ اس کے پھل اس کو ڈھانپ لیں گے۔” کل حین باذن ربھا “ لغت میں حین ایک وقت کو کہا جاتا ہے۔ کل حین کی مختلف تفاسیر اس کے معنی میں مفسرین رحمہم اللہ کا اختلاف ہے۔ مجاہد اور عکرمہ رحمہما اللہ کا قول ہے کہ یہاں حین سے مراد ایک مکمل سال ہے کیونکہ کھجور سال میں ایک مرتبہ پھل دیتی ہے۔ سعید بن جبیر و قتادہ و حسن رحمہم اللہ کا قول ہے کہ اس سے چھ ماہ مراد ہیں کہ اس مدت میں پھل کا ظاہر ہونا پھر پکنا ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اس سے مراد چھ ماہ ہی ہیں ۔ بعض نے کہا کہ چار ماہ اس کے ظاہر ہونے سے لے کر اس کے پانے تک سعید بن المسیب نے کہا کہ اس سے مراد دو ماہ ہیں ، اتنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–26

24۔ 26۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے مومنوں اور کافروں کی ایک ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ جیسے کوئی پاکیزہ درخت ہے کہ اس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں اوپر کو پھیلی ہوئی ہوں اور ہمیشہ اس میں پھل لگتے ہوں اسی طرح خدا کا کلمہ پاک لا الہ الا اللہ ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل میں مضبوطی سے جگہ پکڑے ہوئے ہوتی ہے اور اس کے عمل شاخوں کی طرح آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ اس کو قیامت کے دن معلوم ہوگا۔ اور کفر و گمراہی کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بےفیض درخت جس کی جڑ بالکل ہی مضبوط نہ ہو زمین کے اوپر ہی اوپر پھیلی ہوئی ہو اس کو کسی طرح قیام نہیں ذرا سی ٹھیس میں اپنی جگہ سے اکھڑ جاتا ہے۔ اسی طرح کفار کے غلط عقیدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(توتی اکلھا) ” وہ پھل لاتا ہے “ (کل حین باذن ربھا) ” ہر وقت پر اپنے رب کے حکم سے “ یہی حال شجر ایمان کا ہے، اس کی جڑیں علم و اعتقاد کے اعتبار سے بندۂ مومن کے قلب کی گہرائیوں میں نہایت مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں، اس کی شاخیں یعنی کلمات طیبات، عمل صالح، اخلاق جمیلہ، آداب حسنہ ہمیشہ آمان کی طرف بلند رہتی ہیں۔ بندۂ مومن کی طرف سے ایسے اعمال واقوال بلند ہوتے ہیں، جو شجر ایمان سے نکلتے ہیں، جن سے بندۂ مومن اور دیگر لوگ منتفع ہوتے ہیں۔ (آیت) ” اور اللہ لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ “ ان سے جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے اور ان سے جن سے ان کو روکا ہے، کیونکہ ضرب الامثال…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–52

حین سے مراد قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

52۔ شجرۃ طیبہ کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے شجرۃ طیبہ یعنی پاکیزہ درخت کی تمثیل بیان فرمائی گئی ہے کہ کلمہ توحید کی مثال ایک ایسے عظیم الشان اور پاکیزہ درخت کی سی ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر گہری اتری ہوئی ہوں اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہوں۔ جو اس کی انتہائی عظمت کی بھی دلیل ہے، اور اس کی انتہائی قوت کی بھی، اور اس کی بھی کہ اس کا پھل ہر قسم کے قاذورات اور ان کے شوائب و اثرات سے بھی پاک، صاف اور محفوظ ہوتا ہے، اور ایسے درخت کا پھل نہایت لذیذ بھی ہوتا ہے، اور انتہائی پاکیزہ اور معیاری بھی، سو شجرہ ایمان کا ثمرہ اور اس کا پھل بھی ایسی ہی بےمثال اور پاکیزہ درخت (شجرئہ طیبہ) سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 24–30

اچھے کلمے اور برے کلمے کی مثال تشریح : جیسا اللہ کا کلام خوبصورت، فائدہ مند اور مکمل ہے اسی طرح اس کی دی ہوئی مثالیں بھی مقصد کو سمجھانے کے لیے انتہائی بہترین ہیں۔ اچھی بات صرف کہنے والے کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات بھی بڑے گہرے اور نہ ختم ہونے والے اور ہر سننے والے کے لیے اتنے فائدہ مند ہوتے ہیں کہ جیسے ایک صحت مند مضبوط درخت کا سایہ اور پھل فائدہ مند ہوتا ہے۔ بیشمار لوگوں کو اس سے بیشمار اور دیر پا فائدے ملتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ رشد و ہدایت کی باتیں ہیں اور کفر و شرک کی باتوں کو اللہ نے سوکھے سڑے بدنما اور بھدے درخت سے تشبیہ دی ہے۔ جس کی نہ جڑ مضبوط نہ پھل نہ سایہ۔ قوموں کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–27

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اب آخری امید کے طور پر یہ بات باقی رہ جائے گی کہ شاید جن معبودان باطلہ کی پرستش کرتے عمر گذار دی وہی کسی کام آجائیں تو اس کا یہ ہوگا کہ جب قیامت کے روز فیصلہ ہوچکے گا تو کافر شیطان کے گرد جمع ہو کر کہیں گے کہ ہماری بربادی کا سبب تو تو بنا خود تو تباہ ہوا تھا ہمیں بھی لے ڈوبا اب ان بتوں کو کہو اور خود ہمارے لیے کچھ کرو تو وہ کم از کم اس روز کو کھری بات کہے گا کہ نامرادو مجھے ملامت کرنے آئے ہو ذرا غور کرو کہ اللہ جل جلالہ نے تمہارے ساتھ حق اور کھرے وعدے کئے تھے اور ان پر دلائل قطعیہ قائم فرمائے تھے جبکہ میں نے بھی تم سے وعدے کئے تھے مجھے اس سے انکار نہیں مگر یہ بھی سن…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ۔ اس طرح کلمہ طیبہ بھی مومن کو ہر آن بہشت کے میوے کھلائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کھجور کے درخت کو مومن سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح اس درکت کے پتے نہیں گرتے اسی طرح مومن کی دعا بھی ضائع نہیں جاتی۔ (قرطبی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(14:25) تؤ تی۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ ضمیر فاعل شجرۃ کی طرف راجع ہے۔ وہ دیتی ہے ۔ وہ لاتی ہے۔ یعنی وہ درخت دیتا ہے یا لاتا ہے۔ اکلھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اکل ۔ میوہ۔ پھل۔ خوراک۔ اکل یا کل سے اکل واکل۔ جو چیز کھائی جائے۔ اسے اکل کہتے ہیں۔ اکلھا۔ اس درخت کا پھل۔ یتذکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ خوب سمجھ لیں۔ وہ نصیحت پکڑیں۔ تذکر تفعل مصدر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–27

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 27 ضرب اس نے چلایا، بیان کیا، مارا۔ کلمۃ طیبۃ پاکیزہ بات، شجرۃ درخت ۔ اصل بنیاد، جڑ ثابت جمی ہوئی۔ فرع شاخ۔ شاخیں توتی دیتا ہے۔ اکل پھل۔ کل حین ہر وقت، ہر آن۔ الامثال مثالیں۔ یتذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ غور فکر کرتے ہیں۔ کلمۃ خبیثۃ گندی بات۔ اجتثت اکھاڑ لیا گیا، اکھاڑ لیا جائے ۔ فوق اوپر۔ قرار جماؤ، استحکام۔ یثبت جماتا ہے۔ ثابت رکھتا ہے۔ القول الثابت مضبوط و مستحکم بات۔ یضل وہ گم راہ کرتا ہے۔ یفعل وہ کرتا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 27 قرآن کریم میں عام زندگی کی چھوٹی چھوٹی مثالوں سے بڑی سے بڑی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کفار و مشرکین عرب طرح طرح سے اللہ اور اس کے رسول…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 24–26

مومنوں اور کافروں کی ایک ایک مثال ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کی ایک ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ جیسے کوئی پاکیزہ درخت ہے کہ اس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں اوپر کو پھیلی ہوئی ہوں اور ہمیشہ اس میں پھل لگتے ہوں، اسی طرح خدا کا کلمہ توحید ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل میں مضبوطی سے جگہ پکڑے ہوئے ہوتی ہے۔ اور اس کے عمل شاخوں کی طرح آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں، جس کا نتیجہ اس کو قیام کے دن معلوم ہوگا اور کفر و گمراہی کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بےفیض درخت یعنی اندرائن کا درخت کہ وہ تلخ اور بدبودار ہوتا ہے، جڑ بالکل کمزور ہے اس کو کسی طرح قیام نہیں ذرا سی ٹھیس میں اپنی جگہ سے اکھڑ جاتا ہے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[14] یعنی ایک اچھی ذات کے درخت کی طرح جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے۔ کلمہ توحید کی بھی اس طرح ایک جڑ ہوتی ہے یعنی اعتقاد جو قلب مومن میں راسخ ہوتا ہے اور اس کی شاخیں یعنی اعمال صالحہ بارگاہ قبولیت میں آسمان کی طرف لے جائے جاتے ہیں پھر ان پر رضائے الٰہی کا ثمرہ دائماً مرتب ہوتا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 24–25

پاک درخت : (ف 1) نیک بات ، پاکیزہ خیالات کی مثال عظمت وبقاء اور اور نفع کے لحاظ سے ایک خوش منظر درخت کی سی ہے جس کی جڑیں مضبوط ہوں ، جس کی بلندی آسمان سے باتیں کرے ، اور ہر وقت پھلوں سے لدا رہے ۔ غرض یہ ہے کہ اسلام جڑوں کے لحاظ سے مضبوط ہے ، دنیا کی کوئی قوت اسے اکھاڑ نہیں سکتی ، اس کی عظمت و رفعت کا یہ عالم ہے ، کہ آسمان تک بلند ہے ، ہر وقت نسل انسانی اس کے پھلوں سے استفادہ کرتی رہتی ہے اس کے برکات وفیوض ہمیشہ جاری رہتے ہیں ، یعنی اسلام شجرہ طبیہ ہے ، ایک پاک اور نفع رساں درخت کی مانند ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

25 ۔ وہ درخت اپنے رب کے حکم سے ہر فضل کے موقعہ پر اپنا پھل لاتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اس لئے مثالیں بیان فرماتا ہے تا کہ وہ اچھی طرح سمجھ لیں اور مقصود کو ذہن نشین کرسکیں اور سوچیں اور غور کریں ۔ یعنی کلمہ توحید کی ایک جڑ ہے جو مومن کے قلب میں مضبوط اور خوب جمی ہوئی ہے اور اس درخت کی شاخیں ہیں یعنی مومن کے اعمال صالحہ جو آسمان تک پہنچتے ہیں اور ان اعمال صالحہ سے فوز و صلاح الٰہی کے ثمرات مرتب ہوتے ہیں ۔ مثال بیان کرنے سے مطلب آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے اور وہ مطلب اوقع فی النفس ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–27

ف 5۔ یعنی خوب پھلتا ہے کوئی فصل ماری نہ جاتی ہو اسی طرح کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ کی ایک جڑ ہے یعنی اعتقاد جو مومن کے قلب میں استحکام کے ساتھ جانگیر ہے اور اس کی کچھ شاخیں ہیں یعنی اعمال صالحہ جو ایمان پر مرتب ہوتے ہیں جو بارگاہ قبولیت میں آسمان کی طرف لے جائے جاتے ہیں پھر ان پر رضائے دائمی کا ثمرہ مرتب ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس درخت کے پھل ہر وقت تیار پکے رہتے ہیں اور کبھی بھی وہ پھل سے خالی نہیں ہوا 26 ؎ یعنی وہ ایسا بار آور اور نتیجہ خیز کلمہ ہے کہ جو شخص یا قوم اسے بنیاد بنا کر اپنی زندگی کا نظام اس پر تعمیر کرے اس کو ہر آن اس کے مفید نتائج حاصل ہوتے رہتے ہیں۔ وہ فکر میں سلجھائو ‘ طبیعت میں سلامت ‘ مزاج میں اعتدال ‘ سیرت میں مضبوطی ‘ اخلاق میں پاکیزگی ‘ روح میں لطافت ‘ جسم میں طہارت و نظامت ‘ برتائو میں خوشگواری ‘ معاملات میں راست بازی ‘ کلام میں صداقت شعاری ‘ قول وقرار میں پختگی ‘ معاشرت میں حسن سلوک ‘ تہذیب میں فضیلت ‘ تمدن میں توازن ‘ معیشت میں عدل و مواساۃ سیاست میں دیانت ‘ جنگ میں شرافت ‘ صلح میں خلوص اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–25

In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُ‌وا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْ‌ضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

36. That is, the pure word is so fruitful that every person (or community) who bases his system of life on it, gets benefit from it every moment for it helps to produce clearness in thought, balance in temperament, strength in character, purity in morals, firmness in conduct, righteousness in talk, straightforwardness in conversation, good temperament in social behavior, nobility in culture, justice and equity in economy, honesty in politics, nobility in war, sincerity in peace; confidence in promises and pledges. In short, it is the elixir that changes everything into gold if one makes the…

Read the full tafseer →