Explained with ayahs 24–26
لا الہ الا اللہ کی شہادت
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ پاکیزہ درخت کی طرح کا مومن ہے اس کی جڑ مضبوط ہے۔ یعنی مومن کے دل میں لا الہ الا اللہ جما ہوا ہے اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ یعنی اس توحید کے کلمہ کی وجہ سے اس کے اعمال آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہیں۔ کہ مراد اس سے مومن کے اعمال ہیں اور اس کے پاک اقوال اور نیک کام۔ مومن مثل کھجور کے درخت کے ہے۔ ہر وقت ہر صبح ہر شام اس کے اعمال آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجور کا ایک خوشہ لایا گیا۔ تو آپ نے اسی آیت کا پہلا حصہ تلاوت فرمایا اور فرمایا کہ پاک درخت سے مراد…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 34
کلمہ طیبہ کے لفظی معنی ”پاکیزہ بات“ کے ہیں، مگر اس سے مراد وہ قول حق اور عقیدہ صالحہ جو سراسر حقیقت اور راستی پر مبنی ہو۔ یہ قول اور عقیدہ قرآن مجید کی رو سے لازما وہی ہوسکتا ہے جس میں توحید کا اقرار، انبیاء (علیہم السلام) اور کتب آسمانی کا اقرار، اور آخرت کا اقرار ہو، کیونکہ قرآن انہی امور کو بنیادی صداقتوں کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔
سورة اِبْرٰهِیْم 35
دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین سے لے کر آسمان تک چونکہ سارا نظام کائنات اسی حقیقت پر مبنی ہے جس کا اقرار ایک مومن اپنے کلمہ طیبہ میں کرتا ہے، اس لیے کسی گوشے میں بھی قانون فطرت اس سے نہیں ٹکراتا، کسی شے کی بھی اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
خلاصہ تفسیر
کیا آپ کو معلوم نہیں (اب معلوم ہوگیا) کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی (اچھی اور موقع کی) مثال بیان فرمائی ہے کلمہ طیبہ کی کی (یعنی کلمہ توحید و ایمان کی) کہ وہ مشابہ ہے ایک پاکیزہ دوخت کے (مراد کھجور کا درخت ہے) جس کی جڑ (زمین کے اندر) خوب گڑی ہوئی ہو اور اس کی شاخیں اونچائی میں جارہی ہوں (اور) وہ (یعنی خوب پھلتا ہو کوئی فصل ماری نہ جاتی ہو اسی طرح کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ کی ایک جڑ ہے یعنی اعتقاد جو مومن کے قلب میں استحکام کے ساتھ جائگیر ہے اور اس کی کچھ شاخیں ہیں یعنی اعمال صالحہ جو ایمان پر مرتب ہوتے ہیں جو بارگاہ قبولیت میں آسمان کی طرف لے جائے جاتے ہیں پھر ان پر رضائے دائمی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آگے کا مضمون۔ آیات 24 تا 27:۔ توحید اور شرک کی تمثیل : اوپر کی آیات میں شرکیہ و کفریہ اعمال کی تمثیل بیان ہوئی۔ اب آگے کی آیات میں شرکیہ عقائد و نظریات اور اور توحید اور اس پر مبنی عقائد و نظریات کی تمثیل بیان ہورہی ہے۔ تاکہ واضح ہوسکے کہ شریک کی کوئی بنیاد نہ عقل و فطرت کے اندر ہے اور نہ خدا کے ہاں اس کی کوئی جڑ ہے اس وجہ سے اس پر بنی اعمال سب ہوا میں اڑ جائیں گے۔ اس کے برعکس توحید کی بنیاد عقل و فطرت میں بھی ہے اور عند اللہ بھی اس کی بنیاد ہے، زمین بھی اس کی جڑیں گہری اتری ہوئیں ہیں اور فضا میں بھی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں، اس وجہ سے جو لوگ توحید پر قائم ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
23۔ 1 یہ اہل شقاوت و اہل کفر کے مقابلے میں اہل سعادت اور اہل ایمان کا تذکرہ ہے۔ ان کا ذکر ان کے ساتھ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کے اندر اہل ایمان والا کردار اپنانے کا شوق ورغبت پیدا ہو۔
23۔ 2 یعنی آپس میں ان کا تحفہ ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ علاوہ ازیں فرشتے بھی ہر ہر دروازے سے داخل ہو ہو کر انھیں سلام عرض کریں گے۔
Read the full tafseer →18: کلمہ طیبہ سے مراد کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ ہے اور اکثر مفسرین نے فرمایا ہے کہ پاکیزہ درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے جس کی جڑیں زمین میں مضبوطی کے ساتھ جمی ہوتی ہیں، اور تیز ہوائیں اور آندھیاں اسے نقصان نہیں پہنچاسکتیں، نہ اسے اپنی جگہ سے ہلا سکتی ہیں، اسی طرح جب توحید کا کلمہ انسان کے دل و دماغ میں پیوست ہوجاتا ہے تو ایمان کی خاطر اسے کیسی ہی تکلیفوں یا مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے اس کے ایمان میں کوئی کمزوری نہیں آتی ؛ چنانچہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ کو ہر قسم کی اذیتیں دی گئیں ؛ لیکن توحید کا جو کلمہ ان کے دل میں گھر کرچکا تھا اس میں مصائب کی ان آندھیوں سے ذرہ برابر تزلزل نہیں آیا، کھجور کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
آیت نمبر 24 تا 27
کلمہ طیبہ کی مثال اچھے درخت کی دی گئی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے ، پھلتا پھولتا ہے ، اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیکار جڑی بوٹیوں کی ہے ، جن کو کسان جہاں دیکھتا ہے بیکار اور مضر سمجھتے ہوئے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کسی جگہ اس کے لئے قرار نہیں ہے۔ یہ تمثیل اور تمثیلی منظر انبیاء اور سرکش اور ڈکٹیٹروں کے قصے سے لیا گیا ہے۔ اس قصے میں انبیاء اور داعیوں کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جھٹلانے والے سرکشوں کا جو انجام بتایا گیا ہے یہ تمثیل اس پر مبنی ہے۔ سلسلہ انبیاء ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ درخت تاریخ کے مختلف موسموں میں اپنا پھل دیتا رہا ہے ، کسی…
Read the full tafseer →6 یعنی دیکھئے اور غور کیجئے، کیسی با موقع اور معنی خیز مثال ہے۔ عقل مند جس قدر اس میں غور کرے سینکڑوں باریکیاں نکلتی چلی آئیں۔
7 " ستھری بات " میں کلمہ توحید، معرفت الٰہی کی باتیں، ایمان و ایمانیات، قرآن، حمد وثناء، تسبیح و تہلیل، سچ بولنا سب داخل ہے۔
8 اکثر روایات و آثار میں یہاں " ستھرے درخت " کا مصداق کھجور کو قرار دیا ہے، گو دوسرے ستھرے درخت بھی اس کے تحت میں مندرج ہوسکتے ہیں۔
9 یعنی اس کی جڑیں زمین کی گہرائیوں میں پھیلی ہوئی ہوں کہ زور کا جھکڑ بھی جڑ سے نہ اکھیڑ سکے اور چوٹی آسمان سے لگی ہو یعنی شاخیں بہت اونچی اور زمینی کثافتوں سے دور ہوں۔
Read the full tafseer →آیت 24 اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً
کلمہ طیبہ سے عام طور پر تو کلمہ توحید ”لَا اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ“ مراد لیا جاتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ لَا اِلٰہَ الاَّ اللّٰہ افضل الذکر ہے لیکن یہاں کلمہ طیبہ سے توحید پر مبنی عقائد و نظریات بھلائی کی ہر بات کلام طیب اور حق کی دعوت مراد ہے۔
Read the full tafseer →30 کلمہ طیبہ کے لغوی معنی ہے پاکیزہ بات اور اس سے مراد کلمہ توحید یعنی (لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ ) ہے۔ یہی وہ کلمہ ہے کہ جب عقیدہ و عمل کی شکل اختیار کرلیتا ہے تو یہ جہاں تمام تر بھلائیوں کی بنیاد بن جاتا ہے وہاں ہر طرح کی برائی کی جڑ بھی کاٹ پھینکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر نبی نے اپنی دعوت کا آغاز اسی کلمہ سے کیا ہے۔
31 کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ ہے :۔ پاکیزہ درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے اور پاکیزہ درخت کی مومن سے مثال پیش کی گئی ہے جس کے دل میں کلمہ طیبہ یا کلمہ توحید رچ بس گیا ہو۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ کے پاس بیٹھے تھے۔…
Read the full tafseer →45۔ کلمہ توحید کی شاخیں وہ اعمال حسنہ ہیں جو ایمان پر مرتب ہوتے ہیں اور بارگارہ قبولیت میں آسمان کی طرف لے جائے جاتے ہیں۔ کلمہ حق کا بول بالا دنیا میں بھی رہتا ہے اور آخرت میں بھی۔ (آیت) ” فی السمآء “۔ سے مراد صرف بلندی کی سمت ہے۔ اے فی جھۃ العلو (روح) ومعنی فی السمآء جھۃ العلو (بحر) (آیت) ” کلمۃ طیبۃ “۔ یعنی کلمہ ایمان و توحید۔ (آیت) ” اصلھاثابت “۔ یعنی اس کی جڑ زمین میں خوب مضبوط ہے۔ کلمہ توحید و ایمان کی بھی اسی طرح ایک جڑ ہوتی ہے۔ یعنی عقیدہ صحیح جو قلب مومن میں راسخ رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
آیت نمبر 22 تا 27
ترجمہ : اور جب فیصلہ چکا دیا جائیگا، اور اہل جنت، جنت میں، دوزخی دوزخ میں داخل کر دئیے جائیں گے اور دوزخی شیطان کے پاس جمع ہوں گے تو ابلیس ان سے کہے گا، حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے بعث اور جزاء کے جتنے وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا کہ (بعث وغیرہ) کچھ ہونے والا نہیں ہے میں نے اس کو پورا نہیں کیا (یعنی اس کا جھوٹ ہونا ظاہر ہوگیا) اور میری تم پر کوئی زور زبردستی تو تھی نہیں کہ جس کے ذریعہ میں تم کو اپنی اطاعت پر مجبور کرتا البتہ اتنی بات ضرورت ہے کہ میں نے تم کو دعوت دی تو تم نے میری بات پر لبیک کہہ دیا، لہٰذا اب تم میری دعوت پر لبیک کہنے پر مجھے…
Read the full tafseer →الم تر کیف ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی ہے کلمۂ طیبہ (یعنی کلمۂ توحید و ایمان) کی کہ وہ مشابہ ہے ایک
پاکیزہ درخت کے جس کی جڑ خوب گڑی ہوئی ہے اور شاخیں اونچائی میں جا رہی ہیں۔
ضَرَبَ مَثَلاً مثل بیان کی ‘ قائم کی۔ مثل وہ کہاوت جو کسی چیز کو کسی چیز سے تشبیہ دینے کیلئے بیان کی جاتی ہے۔ کلمۂ طیبہ سے مراد ہے : کلمۂ توحید جو خلوص کے ساتھ ادا کیا جائے۔ شجرۂ طیبہ سے مراد ہے : قوی ‘ بلند ‘ خوش ثمر درخت۔
کَلِمَۃً طَیِّبَۃً ‘ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً کی تفسیر ہے یا مثلاً سے بدل ہے۔ اَصْلُھَا ثَابِتٌ یعنی اس کی جڑ زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(24۔ 25) اے محمد ﷺ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ کی کیسی اچھی مثال بیان فرمائی کہ مومن مشابہ ہے کھجور کے درخت کے جس کی جڑ خوب گہری ہوئی ہو، اس طرح سچے مومن کا دل کلمہ لا الہ الا اللہ پر خوب قائم رہتا ہے اور اس کی شاخیں اونچائی میں جاری ہوں، ایسے ہی سچے مومن کا عمل قبول ہوتا ہے اور وہ درخت اللہ کے حکم سے ہر فصل میں پھل دیتا ہے اسی طرح سچے مومن ہر وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بھلائی کے کاموں میں مصروف رہتا ہے اور کہا گیا ہے کہ اللہ کے حکم سے نفع اور تعریف میں یہ لفظ کلمہ طیبہ کی صفت ہے جیسا کہ کھجور کا پاکیزہ درخت اس کا پھل بھی پاکیزہ ہے، اسی طرح مومن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
اَلَمْ تَرَ : یہ خطاب اولاً رسول اللہ ﷺ سے ہے اور پھر ہر اس شخص سے ہے جو خطاب کے لائق ہے۔ استفہام سے مراد پوچھنا نہیں بتانا ہے۔ اسے استفہام تقریری کہتے ہیں۔ ”کیا تو نے نہیں دیکھا ؟“ یہاں دیکھنے سے مراد علم اور جاننا ہے جو کائنات کو دیکھنے اور اس میں غور و فکر سے حاصل ہوتا ہے۔ مفسر آلوسی کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ”الم تر“ کا مخاطب بعض اوقات وہ شخص ہوتا ہے جو پہلے سے اس بات سے واقف ہو، ایسی صورت میں مراد تعجب کا اظہار ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کا مخاطب وہ شخص ہوتا ہے جو اس سے واقف نہ ہو، اس وقت مراد ایک تو اسے بتانا ہوتا ہے اور ایک اس بات پر تعجب کا اظہار ہوتا ہے کہ اتنی مشہور بات بھی تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت نمبر 24 تا 25
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: الم تر کیف ضرب اللہ مثلا جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کی مثال بیان فرمائی اور وہ ہے کرماد اشتدت بہ الریح فی یوم عاصف (ابراہیم :18) تو مومنین کے احوال کی مثال بھی ذکر فرما دی۔ پھر اس مثال کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : کلمۃ طیبۃ یعنی کلمۃ طیبۃ الثمر ایسا کلمہ جس کا پھل پاکیزہ ہے ثمر کو اس لیے حذف کردیا گیا کہ کلام اس پر دلالت کر دہا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کلمہ طیبہ سے مراد لا الہ الا اللہ ہے، جب کہ شجرہ طیبہ سے مراد مومن ہے۔
مجاہد اور ابن جریج نے کہا : کلمہ طیبہ سے مراد ایمان ہے، عطیہ عوفی اور ربیع بن انس نے کہا : یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
1:۔ امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے ” الاسماء والصفات “ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم ترکیف ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ “ سے مراد ہے ” لا الہ اللہ “ کی گواہی (آیت) ” کشجرۃ طیبۃ “ سے مراد ہے مومن ” اصلھاثابت “ یعنی وہ کہتا ہے ‘ الا الہ الا اللہ “ ثابت (یعنی وہ مضبوط ہے) مومن کے قول میں (آیت) ” وفرعھا فی السمآء “ یعنی اس کے ذریعے مومن کا عمل بلند ہوتا ہے آسمان کی طرف (آیت ) ” ومثل کلمۃ خبیثۃ “ سے مراد ہے شرک اور ” کشجرۃ خبیثۃ “ سے مراد ہے کافر ،” اجتثت من فوق الارض مالھا من قرار “ یعنی شرک ایسا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں کہ جس کو کافر پکڑتا ہے نہ اس کی کوئی دلیل ہے…
Read the full tafseer →[اَ : کیا ] [ لَمْ تَرَ : آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] [ كَيْفَ : کیسے ] [ ضَرَبَ : بیان کی ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [مَثَلًا : ایک مثال جو ] [كَلِمَةً طَيِّبَةً : ایک ایسی پاکیزہ بات کی ہے جو ] [كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ : ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے ] [اَصْلُهَا : اس کی جڑ ] [ ثَابِتٌ: جمی رہنے والی ہے ] [وَّفَرْعُهَا : اور اس کی شاخ ] [ فِي السَّمَاۗءِ : آسمان میں ہے ]
نوٹ۔ 1: کَلِمَۃً طَیِّبَۃً سے کلمہ توحید اور اس پر مبنی عقائد و نظریات ہیں۔ شَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ وہ درخت جو پھل دینے والا، سایہ دار اور نفع بخش ہو۔ درخت چونکہ زمین اور فضا دونوں سے غذا اور قوت حاصل کرتا ہے اس لئے فرمایا کہ اَصْلُھَا…
Read the full tafseer →کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی مثال
یہ تین آیات ہیں جن میں پہلی آیت میں کلمہ طیبہ کو شجرہ طیبہ سے تشبیہ دی ہے اور دوسری آیت میں کلمہ خبیثہ کو شجرہ خبیثہ سے تشبیہ دی ہے حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ کلمہ طیبہ سے کلمہ ایمان لا الٰہ الا اللہ مراد ہے اور کلمہ خبیثہ سے کلمہ کفر مراد ہے، کلمہ طیبہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایسے پاکیزہ درخت کی طرح ہے جس کی جڑ خوب مضبوطی کے ساتھ زمین میں جمی ہوئی ہے اور اس کی شاخیں اونچائی میں اوپر جا رہی ہوں اور وہ ہمیشہ پھل دیتا ہو جب بھی اس کی فصل آئے تو فصل ضائع نہ ہو۔ سنن ترمذی (تفسیر سورة ابراہیم) میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ شجرہ طیبہ (پاکیزہ درخت) سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
مثال کلمہ ایمان و کلمہ کفر، و ذکر سوال قبر
قال اللہ تعالیٰ : الم ترکیف ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ .... الیٰ .... ویفعل اللہ ما یشاء۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کافروں اور مومنوں کے اخروی نتائج کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں کلمہ ایمان اور کلمہ کفر کی مثال بیان فرماتے ہیں اور عالم برزخ میں اس کا اثر اور ثمر بیان کرتے ہیں تاکہ کلمہ توحید کی فضیلت اور کلمہ کفر کی قباحت ظاہر ہو۔
اس آیت میں کلمہ طیبہ سے کلمہ لا الہ الا اللہ مراد ہے۔ جیسا کہ حدیث میں اس کی تصریح ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اس کے تابع ہے وہ بھی مراد ہے کیوں کہ ملزوم کے ساتھ لوازم کا ہونا ضروری ہے مگر چونکہ اہل ایمان اس امت سے پہلے بھی گزرے ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
27:۔ یہ توحید پر پہلی دلیل نقلی ہے اجمالی از تمام انبیاء (علیہم السلام) و جملہ مؤمنین کلمہ طیبہ سے مراد توحید اور کلمہ خبیژہ سے مراد شرک ہے۔ توحید ایک ایسے درخت کی مانند ہے جو نہایت مضبوط ہے جس کی جڑیں بھی محکم اور اس کی ٹہنیاں بھی پائیدار اور دور دور تک پھیلی ہوئی اور اپنے اپنے وقت میں لوگ اس کے پھل سے فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طرح توحید بھی محکم ہے جو تمام ادیان سابقہ میں محکم رہی ہے اور تمام انبیاء سابقین اپنے اپنے وقت میں توحید کی تبلیغ کرتے رہے ہیں اور ماننے والے اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ اور شرک ایک ایسے کمزور درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں بالکل ناپائیدار ہوں اور یک معمولی سا جھٹکا بھی اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(ربط آیات)
اس سے پہلے رسالت اور قیامت کے متعلق ذکر تھا اور اب توحید کا بیان آرہا ہے ، آج کی آیات کریمہ میں اللہ کی وحدانیت کی بنیاد ذکر کی جارہی ہے جبکہ اس کے دلائل اگلی آیات میں آرہے ہیں جیسا کہ گذشتہ دروس میں بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ مکی سورتوں میں دین کے بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے ، جن میں توحید ، رسالت ، قیامت اور جزائے عمل کے عقائد شامل ہیں ، ان سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے معترضین کا رد اچھے طریقے سے کیا ہے ۔
(کلمہ طیبہ کی مثال)
آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا مسئلہ ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے ، بعض اوقات مثال کے ذریعے کسی چیز کی کما حقہ وضاحت ہو کر وہ چیز انسانی ذہن کے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِي السَّمَاۗءِ 24ۙ
ضَرْبُ المَثلِ
هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ
[ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ،
ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ترکیب : کلمۃ موصوف طیبۃ صفت بدل ہے مثلاً سے اور کشجرۃ الخ کلمۃ کی لغت اور بعض نے کلمۃ کو مرفوع پڑھا ہے کہ کشجرہ کو خبر مانا ہے تؤتی لغت ہے فی الحیوٰۃ الدنیا متعلق ہے یثبت سے اور ممکن ہے کہ کشجرۃ خبر ہو مبتدا مخدوف کی ای ہے اور پھر طیبۃ اور اصلہا و توتی یہ سب شجرہ کی لغت ہوں اور جملہ بدل ہو مثلاً سے
تفسیر : اشقیاء اور سعداء کا حال بیان فرما کر ان کے حال کی زیادہ تشریح کرنے کو ایک مثال بیان فرماتا ہے اور وہ یہ ہے کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ شجرہ طیبہ یعنی پاک یا اچھے اور عمدہ پیڑ کے چار وصف بیان فرما کر کلمہ طیبہ کو اس کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے اول 2 ؎ صفت طیبۃ ہونا یعنی اچھا ہونا خواہ باعتبار شکل و صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَآء۔ تُؤْتِیْ ٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ م بِاِذْنِ رَبِّھَا ط وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ تَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ وَمَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیْثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیْثَۃِ نِ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْارْضِ مَالَھَا مِنْ قَرَارٍ ۔ (سورۃ ابراھیم : 24۔ 25۔ 26)
(کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ کس طرح تمثیل بیان فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی۔ وہ ایک شجرہ طیبہ کے مانند ہے جس کی جڑ زمین میں اتری ہوئی ہے اور جس کی شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اپنا پھل ہر فصل…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نیا خطاب۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ بات ودیعت فرمائی ہے کہ اسے کوئی بات مثال دے کر سمجھائی جائے تو نہ صرف اسے سمجھ آجاتی ہے بلکہ وہ بات اسے زندگی بھر یاد رہتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اہم ترین مسائل کو امثال کے ذریعے سمجھایا ہے۔ پہلے پارے میں دین اسلام کو بارش کے ساتھ تشبیہ دی۔ بارش میں فوائد بھی ہیں اور کچھ نقصان کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔ گویا کہ دین میں فوائد کے ساتھ قربانی بھی دینا پڑتی ہے۔ (البقرۃ : 19) دین اسلام بارش کی طرح فائدہ مند چیز ہے لیکن جس طرح اچھی زمین بارش کا فائدہ اٹھا کر نباتات اگاتی ہے اور خراب زمین اس کا فائدہ نہیں اٹھا پاتی یہی…
Read the full tafseer →کلمہ طیبہ کی مثال :
24: اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَـلًا (کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی) ضرب کا معنی اسکی تعریف کی اور وضاحت کی کَلِمَۃً طَیِّبَۃً (ایک پاکیزہ کلمہ کی) یہ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے ای جعل کلمۃ طیبۃ : اس نے پاکیزہ کلمہ بنایا۔ کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ (جیسے پاکیزہ درخت) یہ ضرب اللہ مثلاً کی تفسیر ہے جیسا کہ کہتے ہیں شرّف الامیرزیدا، کساہ حلۃ وحملہ علی فرسٍنمبر 2۔ مثلاً اور کلمۃ یہ دونوں ضرب سے متعلق ہیں ای ضرب کلمۃ طیبۃ مثلًا اس نے کلمہ طیبہ کی مثال بیان کی پھر فرمایا کشجرۃ طیبۃ یہ متبدا محذوف کی خبر ہے۔ ایھی کشجرۃ طیبۃ وہ پاکیزہ درخت کی…
Read the full tafseer →24۔” الم ترکیف ضرب اللہ مثلا ً “ کہ کیا تم نہیں جانتے مثل کہتے ہیں کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ من کل الوجوہ تشبیہ دی جائے۔ ” کلمۃ طیبہ “ اس سے مراد لا الہ الا اللہ ہے ” کشجرۃ طیبہ “ اس سے مراد کھجور ہے کہ جس کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ ابو ظبیان نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ درخت جنت میں ہے۔” اصلھا ثابت “ زمین میں اس کی جڑیں ” وفرعھا “ اس کی بلندی ” فی السمائ “ اسی طرح یہ کلمہ مؤمن کے دل میں راسخ ہے۔ معرفت و تصدیق کے ساسھت جب ان الفاظ کے ساتھ کلام کرتا ہے تو اس طرف چڑھتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ عزوجل کے پاس پہنچ جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” الیہ یصعدالکم الطیب والعمل الصالح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24۔ 26۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے مومنوں اور کافروں کی ایک ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ جیسے کوئی پاکیزہ درخت ہے کہ اس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں اوپر کو پھیلی ہوئی ہوں اور ہمیشہ اس میں پھل لگتے ہوں اسی طرح خدا کا کلمہ پاک لا الہ الا اللہ ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل میں مضبوطی سے جگہ پکڑے ہوئے ہوتی ہے اور اس کے عمل شاخوں کی طرح آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ اس کو قیامت کے دن معلوم ہوگا۔ اور کفر و گمراہی کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بےفیض درخت جس کی جڑ بالکل ہی مضبوط نہ ہو زمین کے اوپر ہی اوپر پھیلی ہوئی ہو اس کو کسی طرح قیام نہیں ذرا سی ٹھیس میں اپنی جگہ سے اکھڑ جاتا ہے۔ اسی طرح کفار کے غلط عقیدہ…
Read the full tafseer →(آیت) ” کیا آپ نے نہیں دیکھا، کیسے بیان کی اللہ نے ایک مثال، ستھری بات “ یہاں کلمہ طیبہ (ستھری بات) سے مراد ہے اس امر کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کی فروعات (ایسے ہے) (کشجرۃ طیبۃ) ” جیسے ایک ستھرا درخت ہے “ اور اس سے مراد کھجورکا درخت ہے (اصلھا ثابت) ” اس کی جڑ مضبوط ہے “ یعنی زمین میں مضبوطی سے گڑی ہوئی ہے (وفرعھا) ” اور اس کی شاخیں “ یعنی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ (فی السمآء) ” آسمان میں “ اور یہ درخت دائمی طور پر کثیر الفوائد ہے۔
Read the full tafseer →51۔ پاکیزہ کلمے کی عظیم الشان مثال کا ذکر وبیان :
یعنی کلمہ توحید و ایمان کی، جس کی جڑیں مومن صادق کے دل کے اندر اتری ہوئی ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہوتی ہیں اور ایسی گہری اور اس قددر مضبوظ اور پختہ کہ جب تک دل باقی ہے کوئی ان کو اس سے نکال نہیں سکتا، سو توحید خداوندی اور ایمان و یقین کی دولت کا عکاس و علمبردار یہ پاکیزہ کلمہ جو مومن صادق کے قلب طاہر کی ارض طیبہ میں جاگزین ہوتا ہے۔ مومن کو ایسا پاکیزہ انسان بنا دیتا ہے کہ اس کا دل پاک، اس کی زبان پاک، اس کا جسم پاک، اس کا لباس پاک، اس کا رہن سہن پاک، اور اس کا کھانا پینا پاک، سبحان اللہ کیسا عظیم الشان کلمہ ہے یہ، سو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
اچھے کلمے اور برے کلمے کی مثال
تشریح : جیسا اللہ کا کلام خوبصورت، فائدہ مند اور مکمل ہے اسی طرح اس کی دی ہوئی مثالیں بھی مقصد کو سمجھانے کے لیے انتہائی بہترین ہیں۔ اچھی بات صرف کہنے والے کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات بھی بڑے گہرے اور نہ ختم ہونے والے اور ہر سننے والے کے لیے اتنے فائدہ مند ہوتے ہیں کہ جیسے ایک صحت مند مضبوط درخت کا سایہ اور پھل فائدہ مند ہوتا ہے۔ بیشمار لوگوں کو اس سے بیشمار اور دیر پا فائدے ملتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ رشد و ہدایت کی باتیں ہیں اور کفر و شرک کی باتوں کو اللہ نے سوکھے سڑے بدنما اور بھدے درخت سے تشبیہ دی ہے۔ جس کی نہ جڑ مضبوط نہ پھل نہ سایہ۔ قوموں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب آخری امید کے طور پر یہ بات باقی رہ جائے گی کہ شاید جن معبودان باطلہ کی پرستش کرتے عمر گذار دی وہی کسی کام آجائیں تو اس کا یہ ہوگا کہ جب قیامت کے روز فیصلہ ہوچکے گا تو کافر شیطان کے گرد جمع ہو کر کہیں گے کہ ہماری بربادی کا سبب تو تو بنا خود تو تباہ ہوا تھا ہمیں بھی لے ڈوبا اب ان بتوں کو کہو اور خود ہمارے لیے کچھ کرو تو وہ کم از کم اس روز کو کھری بات کہے گا کہ نامرادو مجھے ملامت کرنے آئے ہو ذرا غور کرو کہ اللہ جل جلالہ نے تمہارے ساتھ حق اور کھرے وعدے کئے تھے اور ان پر دلائل قطعیہ قائم فرمائے تھے جبکہ میں نے بھی تم سے وعدے کئے تھے مجھے اس سے انکار نہیں مگر یہ بھی سن…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ ” کلمہ طیبہ “ (اچھی بات) سے مراد لا الہ اللہ اللہ ہے یا تسبیح وتحمید یا ہر اچھی بات ہے۔ (شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(14:24) ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ۔ کلمہ طیبہ سے مراد ایمان و توحید ہے۔ اس فقرہ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔
(1) کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ۔ یہ قولہ تعالیٰ ضرب اللہ مثلا کی تفسیر ہے۔
(2) مثلا وکلمۃ طیبۃ بوجہ ضرب کے مفعول ہونے کے منصوب ہیں اور کلام یوں ہے۔
ضرب اللہ کلمۃ طیبۃ مثلا۔ بمعنی جعلھا مثلا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کلمہ طیبہ کو مثال کے طور پر بیان فرماتا ہے۔ کلمۃ طیبۃ بوجہ موصوف وصفت ہونے کے ہم اعراب ہیں۔
(3) اللہ تعالیٰ کلمہ طیبہ کے لئے مثال بیان فرماتا ہے ای ضرب اللہ لکلمۃ طیبۃ مثلا۔
(4) کلمۃ طیبۃ۔ کا نصب بوجہ مثلا کے بدل ہونے کے ہے۔
(5) کشجرۃ طیبۃ کا جر بوجہ ک حرف تشبیہ کے ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 27
ضرب اس نے چلایا، بیان کیا، مارا۔ کلمۃ طیبۃ پاکیزہ بات، شجرۃ درخت ۔ اصل بنیاد، جڑ ثابت جمی ہوئی۔ فرع شاخ۔ شاخیں توتی دیتا ہے۔ اکل پھل۔ کل حین ہر وقت، ہر آن۔ الامثال مثالیں۔ یتذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ غور فکر کرتے ہیں۔ کلمۃ خبیثۃ گندی بات۔ اجتثت اکھاڑ لیا گیا، اکھاڑ لیا جائے ۔ فوق اوپر۔ قرار جماؤ، استحکام۔ یثبت جماتا ہے۔ ثابت رکھتا ہے۔ القول الثابت مضبوط و مستحکم بات۔ یضل وہ گم راہ کرتا ہے۔ یفعل وہ کرتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 27
قرآن کریم میں عام زندگی کی چھوٹی چھوٹی مثالوں سے بڑی سے بڑی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کفار و مشرکین عرب طرح طرح سے اللہ اور اس کے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
مومنوں اور کافروں کی ایک ایک مثال
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کی ایک ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ جیسے کوئی پاکیزہ درخت ہے کہ اس کی جڑ مضبوط ہو اور شاخیں اوپر کو پھیلی ہوئی ہوں اور ہمیشہ اس میں پھل لگتے ہوں، اسی طرح خدا کا کلمہ توحید ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل میں مضبوطی سے جگہ پکڑے ہوئے ہوتی ہے۔ اور اس کے عمل شاخوں کی طرح آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں، جس کا نتیجہ اس کو قیام کے دن معلوم ہوگا اور کفر و گمراہی کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بےفیض درخت یعنی اندرائن کا درخت کہ وہ تلخ اور بدبودار ہوتا ہے، جڑ بالکل کمزور ہے اس کو کسی طرح قیام نہیں ذرا سی ٹھیس میں اپنی جگہ سے اکھڑ جاتا ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →[12] کلمہ طیبہ کے معنی ہیں پاکیزہ بات، مراد اس سے کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ ہے۔
[13] مراد اس سے صرف بلندی کی سمت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
پاک درخت :
(ف 1) نیک بات ، پاکیزہ خیالات کی مثال عظمت وبقاء اور اور نفع کے لحاظ سے ایک خوش منظر درخت کی سی ہے جس کی جڑیں مضبوط ہوں ، جس کی بلندی آسمان سے باتیں کرے ، اور ہر وقت پھلوں سے لدا رہے ۔ غرض یہ ہے کہ اسلام جڑوں کے لحاظ سے مضبوط ہے ، دنیا کی کوئی قوت اسے اکھاڑ نہیں سکتی ، اس کی عظمت و رفعت کا یہ عالم ہے ، کہ آسمان تک بلند ہے ، ہر وقت نسل انسانی اس کے پھلوں سے استفادہ کرتی رہتی ہے اس کے برکات وفیوض ہمیشہ جاری رہتے ہیں ، یعنی اسلام شجرہ طبیہ ہے ، ایک پاک اور نفع رساں درخت کی مانند ہے ۔
Read the full tafseer →24 ۔ اے پیغمبر کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا اور کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ اور ستھری و پاکیزہ بات کی ایک کیسی اچھی مثال بیان کی ہے وہ کلمہ طیبہ ایسا ہے جیسے ایک پاکیزہ درخت کہ اس کی جڑ خوب مضبوط جمی ہوئی ہو اور اس کی شاخیں بلندی میں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں۔
Read the full tafseer →ف 4۔ مراد کھجور کا درخت ہے۔
Read the full tafseer →کلمہ طیبہ کی مثال پاکیزہ درخت سے دی جاسکتی ہے اور دی گئی ہے
25 ؎ زیر نظر آیت میں ” کلمہ طیبہ “ سے مراد کیا ہے ؟ مکتلف رائیں قائم کی گئیں ہیں ہمارے خیال میں اس سے مراد ایمان ہے جس کو یہاں بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ ایمان ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے اور پاکیزہ اور عمدہ درخت کی یہ صفات ہوتی ہیں کہ اس کی جڑیں کافی گہری ہوتی ہیں ‘ کوئی تند و تیز آندھی بھی اسے اکھیڑ نہیں سکتی ‘ اس کی شاخیں خوب پھیلی ہوئی اور اونچی ہوتی ہیں اور اس طرح اس کا سایہ بھی خوب گھنا ہوتا ہے اور پھر اس پر پھل بھی بکثرت لگتا ہے وہ پھل دار بھی ہوتا ہے اور اس کا پھل مقدار میں زیادہ اور ذائقہ میں لذیذ ہوتا ہے۔ فرمایا ایمان بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →34. Though the expression literally means pure word, here it stands for truthful saying and righteous creed. According to the Quran, this saying and creed are the acceptance of the doctrine of Tauhid, belief in Prophethood and revelation, and in the life of the Hereafter, for it declares these things to be the fundamental truths.
35. This is to show the strength and extent of the pure word. As the entire system of the universe hangs upon the reality contained in this pure word which the believer professes, the earth and its entire system cooperates with him and the heaven with its entire…
Read the full tafseer →