Explained with ayahs 22–23
طوطا چشم دشمن شیطان
اللہ تعالیٰ جب بندوں کی قضا سے فارغ ہوگا، مومن جنت میں کافر دوزخ میں پہنچ جائیں گے، اس وقت ابلیس ملعون جہنم میں کھڑا ہو کر ان سے کہے گا کہ اللہ کے وعدے سچے اور برحق تھے، رسولوں کی تابعداری میں ہی نجات اور سلامتی تھی، میرے وعدے تو دھوکے تھے میں تو تمہیں غلط راہ پر ڈالنے کے لئے سبز باغ دکھایا کرتا تھا۔ میری باتیں بےدلیل تھیں میرا کلام بےحجت تھا۔ میرا کوئی زور غلبہ تم پر نہ تھا تم تو خواہ مخواہ میری ایک آواز پر دوڑ پڑے۔ میں نے کہا تم نے مان لیا رسولوں کی سچے وعدے ان کی بادلیل آواز ان کی کامل حجت والی دلیلیں تم نے ترک کردیں۔ ان کی مخالفت اور میری موافقت کی۔ جس کا نتیجہ آج اپنی…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 33
تَحیّہ کے لغوی معنی ہیں دعائے درازی عمر۔ مگر اصطلاحا عربی زبان میں یہ لفظ اس کلمہ خیر مقدم یا کلمہ استقبال کے لیے بولا جاتا ہے جو لوگ آمنا سامنا ہونے پر سب سے پہلے ایک دوسرے سے کہتے ہیں۔ اردو میں اس کا ہم معنی لفظ یا تو ”سلام“ ہے، یا پھر علیک سلیک۔ لیکن پہلا لفظ استعمال کرنے سے ترجمہ ٹھیک نہیں ہوتا اور دوسرا لفظ مبتذل ہے، اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ ”استقبال“ کیا ہے۔
تَحِیَّتُھُمْ کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کے درمیان آپس میں ایک دوسرے کے استقبال کا طریقہ یہ ہوگا، اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کا اس طرح استقبال ہوگا۔ نیز سلامٌ میں دعائے سلامتی کا مفہوم بھی ہے اور…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے وہ ایسے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (اور) وہ ان میں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (اور) وہاں ان کو سلام اس لفظ سے کیا جائے گا السلام علیکم (یعنی باہم بھی اور فرشتوں کی طرف سے بھی لقولہ تعالیٰ) (آیت) اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ولقولہ تعالیٰ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّار الآیۃ)
Read the full tafseer →وَاُدْخِلَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۭ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ۔
اہل ایمان کا انجام : اہل کفر و شرک کا انجام واضح کردینے کے بعد یہ اہل ایمان کا انجام بیان ہوا کہ وہ جنت میں ہوں گے اور وہاں وہ ایک دوسرے کو اہلاً و سہلاً ، احسنت و مرحبا اور سلام و رحمت کے ساتھ خیر مقدم کریں گے اس لیے کہ انہوں نے ایک دوسرے کو صحیح مشورے دیے جن کا انجام ان کے سامنے بہتر سے بہتر شکل میں موجود ہوگا۔ اوپر کفار کی باہمی لعن طعن کے مقابل میں رکھ کے اس آیات کو پڑھیے تب اس کا اصل زور سامنے آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
23۔ 1 یہ اہل شقاوت و اہل کفر کے مقابلے میں اہل سعادت اور اہل ایمان کا تذکرہ ہے۔ ان کا ذکر ان کے ساتھ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کے اندر اہل ایمان والا کردار اپنانے کا شوق ورغبت پیدا ہو۔
23۔ 2 یعنی آپس میں ان کا تحفہ ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ علاوہ ازیں فرشتے بھی ہر ہر دروازے سے داخل ہو ہو کر انھیں سلام عرض کریں گے۔
Read the full tafseer →17: اوپر دوزخیوں کا مکالمہ مذکور تھا کہ وہ ایک دوسرے کو ملامت بھی کریں گے اور اس بات کا اعلان بھی کہ ان کے لئے تباہی کے سوا کچھ نہیں، اس کے مقابلے میں جنت والوں کا طریقہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ہر ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو تباہی کے بجائے سلامتی کا پیغام دیں گے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 23
اب پردہ گرتا ہے۔۔۔ کیا ہی خوبصورت منظر ہے۔ دعوت اسلامی اور داعیوں اور جھٹلانے والوں اور سرکش ڈکٹیٹروں کی یہ کیا ہی خوبصورت کہانی ہے۔
ذرا پیچھے اس کہانی کے تمام مناظر پر دوبارہ نگاہ ڈالیں اور اس فضا کو ذہن میں رکھیں۔ پہلے منظر میں تحریک اسلامی اور جاہلیت کا مقابلہ اس کرۂ ارض پر دکھایا گیا۔ رسولان کرام کا گروہ سرکشوں کے مقابلے میں کھڑا تھا۔
واستفتحوا ۔۔۔۔۔ جبار عنید (15) من ورائہ ۔۔۔۔۔ صدید (16) یتجرعہ ولا۔۔۔۔۔۔ عذاب غلیظ (17) ( 14 : 15 تا 17) “ انہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یوں ان کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبار دشمن حق نے منہ کی کھائی ، پھر اس کے بعد آگے اس کے لئے جہنم ہے۔ وہاں اسے کچ لہو…
Read the full tafseer →4 یہ بطور مقابلہ کفار کی سزا کے بعد مومنین کا انجام بیان فرمایا۔
5 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ دنیا میں " سلام " دعا ہے سلامتی مانگنے کی، وہاں " سلام " کہنا مبارکباد ہے سلامتی ملنے پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
آیت 22 وَقَال الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ
جب تمام بنی نوع انسان کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا اور اہل جنت کو جنت کی طرف اور اہل جہنم کو جہنم کی طرف لے جایا جا رہا ہوگا تو شیطان کہے گا :
وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ
میں تم پر کسی قسم کا جبر نہیں کرسکتا تھا اور تمہیں زبردستی برائی کی طرف نہیں لاسکتا تھا۔ یہ اختیار مجھے اللہ نے دیا ہی نہیں تھا۔
اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ
میں نے تم لوگوں کو ورغلایا معصیت کی دعوت دی اللہ کی نافرمانیوں اور بےحیائی کے کاموں کی ترغیب دی اور تم لوگوں نے میرا کہا مان لیا۔
فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ
کیونکہ اللہ…
Read the full tafseer →28 یہاں اہل جنت کا ذکر اسی سنت الٰہی کے مطابق آیا ہے کہ جہاں اہل دوزخ کا ذکر آئے تو ساتھ ہی اہل جنت کا تھوڑا سا ذکر کردیا جائے اور جہاں اہل جنت کا تفصیلی ذکر آئے تو ساتھ ہی مختصر سا اہل دوزخ کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔
29 تحیۃ کے معنی ہیں دعائے درازی عمر اور یہاں دنیا میں جو ایک دوسرے کی ملاقات کے وقت سلام یا السلام علیکم کہا جاتا ہے تو یہ دراصل مخاطب کے لیے امن و سلامتی اور تندرستی کی دعا ہوتی ہے اور جنت میں سلامتی تو پہلے ہی موجود ہوگی وہاں سلام کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہیں یہ سلامتی مبارک ہو۔
Read the full tafseer →44۔ یعنی اہل جنت جب آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے یا فرشتے انہیں سلام کریں گے تو سلامتی ہی کی دعا سے ایک دوسرے کو مخاطب کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
آیت نمبر 22 تا 27
ترجمہ : اور جب فیصلہ چکا دیا جائیگا، اور اہل جنت، جنت میں، دوزخی دوزخ میں داخل کر دئیے جائیں گے اور دوزخی شیطان کے پاس جمع ہوں گے تو ابلیس ان سے کہے گا، حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے بعث اور جزاء کے جتنے وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا کہ (بعث وغیرہ) کچھ ہونے والا نہیں ہے میں نے اس کو پورا نہیں کیا (یعنی اس کا جھوٹ ہونا ظاہر ہوگیا) اور میری تم پر کوئی زور زبردستی تو تھی نہیں کہ جس کے ذریعہ میں تم کو اپنی اطاعت پر مجبور کرتا البتہ اتنی بات ضرورت ہے کہ میں نے تم کو دعوت دی تو تم نے میری بات پر لبیک کہہ دیا، لہٰذا اب تم میری دعوت پر لبیک کہنے پر مجھے…
Read the full tafseer →وادخل الذین امنوا وعملوا الصلحت جنت تجری من تحتھا الانھار خلدین فیھا باذن ربھم اور جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام کئے ‘ ان کو یقیناً ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے (درختوں اور عمارتوں) کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ‘ ان جنتوں میں وہ اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے۔ جنتیوں کو جنت میں لے جانے والے ملائکہ ہوں گے جو بحکم خداوندی جنت کے اندر ان کو لے جائیں گے۔
تحیتھم فیھا سلم وہاں ان کو لفظ سلام کہہ کر سلام کیا جائے گا۔ یعنی ایک ‘ دوسرے کو سلام کرے گا اور فرشتے سب کو سلام کریں گے۔ بعض نے کہا : سلامتی کی تحیت اللہ کی طرف سے ہوگی۔
Read the full tafseer →(23) اور جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور احکام خداوندی کو پوری طرح بجالائے ان کو ایسے باغوں میں داخل کیا جائے گا جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہریں جاری ہوں گی اور وہ جنت میں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں جب آپس میں ملیں گے تو ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔
Read the full tafseer →وَاُدْخِلَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق یہاں بھی مشرکین اور شیطان کے ذکر کے بعد ایمان اور عمل صالح والوں کا انجام ذکر فرمایا کہ وہ جنتوں میں داخل کردیے گئے۔ مراد یہ ہے کہ کیے جائیں گے، مگر بات اتنی یقینی ہے کہ اسے ماضی کے لفظ سے بیان کیا کہ سمجھو یہ کام ہوچکا۔ اس سے پہلے شیطان اور مشرکین، کمزور اور سرداروں کی گفتگو میں بھی ماضی کا صیغہ یہی حکمت رکھتا ہے۔
وَاُدْخِلَ : ”داخل کیے جائیں گے“ داخل کون کرے گا ؟ اس کی تین جہتیں ہیں، اصل تو اللہ تعالیٰ ہے جو جنت میں بھیجنے کا حکم دے گا، پھر فرشتے ہیں جو اس کے حکم سے انھیں جنت میں لے جائیں گے، تیسرے ان کا ایمان اور عمل صالح…
Read the full tafseer →آیت نمبر 23
قولہ تعالیٰ : وادخل الذین امنوا وعملوا الصلحت، جنت اس سے مراد فی جنات ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ دخول متعدی نہیں جس طرح کہ اس کی نقیض جو کہ خروج ہے وہ متعدی نہیں ہوتی، لہٰذا اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا، یہ مہدوی کا قول ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے دوزخیوں کی حالت کے متعلق بیان فرمایا تو اس کے بعد جنتیوں کے حالات کے بارے میں خبر دی ہے۔ جمہور کی قراءت کے متعلق یہ ادخل فعل مجہول ہے، جب کہ حضرت حسن بصری نے اسے ادخل پڑھا ہے یعنی مضارع کا صیغہ بطور استئناف آیا ہے۔ باذن ربھم یعنی اس کے حکم سے۔ ایک قول کے مطابق اللہ کی مشیت مراد ہے۔ باذنی کی جگہ باذن ربھم تعظیم اور تفخیم کے لیے فرمایا ہے۔ تحیتھم فیھا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تتحیتھم فیھا سلم “ سے مراد یہ ہے کہ فرشتے ان کو جنت میں سلام کریں گے۔
Read the full tafseer →[وَاُدْخِلَ : اور داخل کئے گئے ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَعَمِلُوا : اور انھوں نے عمل کئے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [ جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [ تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِهَا : جن کے نیچے سے ] [ الْانهٰرُ : نہریں ] [ خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِيْهَا : ان میں ] [ بِاِذْنِ رَبِهِمْ : اپنے رب کی اجازت سے ] [ تَحِيَّتُهُمْ : اس کا دعا دینا ہے ] [ فِيْهَا : ان میں ] [ سَلٰمٌ: سلام ]
Read the full tafseer →اہل ایمان کا ثواب
دوسری آیت میں ان حضرات کے اجرو ثواب کا تذکرہ فرمایا جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ میں مشغول رہے ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ اپنے رب کے حکم سے ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی اور صرف داخلہ ہی نہیں ہوگا خلود بھی ہوگا ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب آپس میں ملاقات کریں گے تو ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا دیں گے آپس میں بھی ایک دوسرے کو سلام کریں گے اور فرشتے ان کے پاس آئیں گے تو وہ بھی السلام علیکم کہیں گے اس کی مزید تشریح سورة یونس کے پہلے رکوع کے ختم پر گزر چکی ہے وہاں فرمایا ہے (تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ وَ اٰخِرُ دَعْوٰیھُمْ اَنِ…
Read the full tafseer →اہل سعادت کے حال اور مآل کا ذکر
وادخل الذین امنوا .... الیٰ .... تحیتھم فیہا سلام۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں اشقیاء کا حال اور مآل بیان کیا اب اہل سعادت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے درختوں اور مکانوں کے نیچے نہریں جارہی ہوں گے اور وہ ان میں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں ان کی آپس کی دعاء ملاقات سلام ہوگی جس سے اس امر کا اظہار مطلوب ہوگا کہ وہ ہمیشہ ہر آفت سے سلامت رہیں گے۔
Read the full tafseer →26:۔ یہ ایمان والوں اور اعمال خیر بجا لانیوالوں کے لیے بشارت اخروی ہے پہلے رؤساء مشرکین، و اعیان شرک، ان کے پیرؤوں، ابلیس اور اس کے متبعین کا المناک انجام بیان کیا گیا یہاں اہل توحید کا نیک انجام بتایا گیا کہ آخرت میں ان کا ابدی اور دائم ٹھکانا جنت میں ہوگا اور وہ ہر قسم کے سکون میں ہوں گے اور تمام آفات و بلیات سے محفوط ہوں گے اور فرشتوں کی طرف سے انہیں اسلام کا تحفہ ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں تابع اور متبوع کا ذکر تھا ، جن لوگوں نے کفر ، شرک اور معاصی میں ایک دوسرے کا اتباع کیا عقل سے کام نہ لیا اور آنکھیں بند کرکے ایک دوسرے کے پیچھے چلتے رہے ، اللہ نے ان کا حال بیان کیا جو قیامت کے دن پیش آنے والا ہے اس وقت پیچھے چلنے والے کمزور لوگ اپنے لیڈروں اور پیشواؤں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمہارے تابع تھے ، تم جس طرح کہتے رہے ، ہم کرتے رہے ، لہذا آج اللہ کے عذاب میں کچھ تخفیف کرا کے دو ، مگر متبوعین صاف جواب دیں گے کہ ہم تو خود کفر وشرک اور گمراہی میں غرق تھے تمہیں راہ راست پر کیے لاتے ، اب ہم سب برابر کے مجرم ہیں اور سزا کے مستحق ہیں ہم بیقراری کا اظہار کریں…
Read the full tafseer →وَاُدْخِلَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۭ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23
أمن
والإِيمان
يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
ترکیب : ان اللّٰہ جملہ قائم مقام دونوں مفعولوں کے الم تر سے۔ من عذاب اللّٰہ موضع نصب میں ہے حال ہو کر کیونکہ اصل میں شیء کی صفت ہے تقدیرہ من شیء من عذاب اللہ من زائدۃ ای شیئا کائنًا من عذاب اللہ الا ان استثناء منقطع ہے لان دعائہ لم یکن سلطاناً ای حجۃ مصرخی جمہور بفتح الیاء پڑھتے ہیں اور یہ جمع مصرخ کی اول ی جمع کا دوم ی متکلم میں ادغام ہوگیا وادخل برزوا پر معطوف۔
تفسیر : کفار کے غرور آمیز کلمات کے جواب میں پہلے تو خود ان کا برباد ہونا اور جہنم میں جانا اور ان کے بعد انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے گروہ کا ان کی زمین اور ملک پر قابض اور متصرف ہونا بیان فرمایا تھا۔ اب ان مخالفین کے دل پر اس بات…
Read the full tafseer →وَاُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّھِمْ ط تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 23)
(اور داخل کیے جائیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے بھلے کام کیے ایسے باغوں میں جن کے نیچے ندیاں رواں ہوں گی ان میں وہ اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے۔ ان کی دعا اس جنت میں ایک دوسرے پر سلام ہوگی۔ )
مومن کا انجام
قرآن کریم نے اپنے اسلوب کے مطابق پہلے کفار، مشرکین اور معصیت کاروں کا انجام بیان فرمایا۔ اب ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جارہا ہے جنھوں نے دنیا میں ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کیا۔ وہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے بعد جنتیوں کے مرتبہ و مقام کا تذکرہ۔
قرآن مجید کا کتنا مؤثر اور دلکش انداز ہے کہ جب کفار کا ذکر کرتا ہے تو ان کے ساتھ جنتیوں کے اوصاف کا بیان ہوتا ہے۔ جنت کے ذکر کے بعد جہنم کا بیان اور جہنم کے بیان کے بعد جنت کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ اسی دلربا اسلوب کے پیش نظر جہنمیوں کے ذکر کے بعد جنتیوں کا تذکرہ شروع ہوا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور صالح عمل کرتے رہے انہیں ایسے باغوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ اپنے رب کے حکم سے ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ وہاں ان پر ہر طرف سے اللہ کی رحمتیں نازل ہوں گی۔ وہ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعائیں دیں گے…
Read the full tafseer →نیکوں کا انجام :
23: وَاُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا (اور ایمان والوں اور اعمال صالحہ کرنے والوں کو ایسے باغات میں داخل کیا جائے گا جنکے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے) یہ برزوا پر عطف ہے۔ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ (اپنے رب کے اذن سے) یہ ادخل کے متعلق ہے یعنی ان کو فرشتے جنت میں لے جائیں گے اللہ
تعالیٰ کے امر اور اذن سے تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ (اور اس کا سلام اسمیں سلام کے لفظ سے ہوگا) وہ جنت میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے نمبر 2۔ فرشتے ان کو سلام کریں گے۔
Read the full tafseer →تفسیر 23۔” وادخل الذین آمنوا وعملوالصلحت ۔۔۔۔ تا ۔۔ فیھا سلام “ بعض ، بعض کو سلام کرتے ہیں اور فرشتے ان پر سلامتی بھیجتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ
Read the full tafseer →23۔ اس سے اوپر کی آیت میں اللہ جل جلالہ نے کفار کا حال بیان فرما کر اس آیت میں مومنوں کے اجر اور ان پر اپنی خاص مہربانیوں کا ذکر کیا کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان کو جنت میں داخل کیا جاوے گا جہاں نہریں بہتی ہوں گی اور پھر اپنے فضل سے ان کو ہمیشہ ہمیشہ وہاں رکھنے کا ذکر فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ آپس میں وہ لوگ مبارکبادی کے طور پر ایک دوسرے کو سلام کریں گے اور فرشتے بھی خدا کے حکم سے جاجا کر انہیں سلام کیا کریں گے یہاں تک کہ آیتوں کے موافق خود خدا بھی ان پر سلام بھیجے گا اور جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا کے غم اور رنج اور فکر و مصیبت سے وہ امن میں رہیں گے کیونکہ وہاں دنیا…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو دیئے جانے والے عذاب کا ذکر کرنے کے بعد اطاعت کرنے والوں کے لئے ثواب کا ذکر فرمایا ہے۔ چناچہ فرمایا : (وادخل الذین امنوا وعملوا الصلحٰت) ” اور داخل کئے گئے وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کئے نیک “ یعنی وہ لوگ جنہوں نے قول وفعل اور اعتقاد کے ساتھ دین کو قائم کیا۔ (جنت تجری من تحتھا الانھر) ” ایسے باغات میں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں “ ان جنتوں میں ایسی لذات وشہوات ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ (خالدین فیھا باذن ربھم ) ” وہ ان میں اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے “ یعنی وہ اپنی قوت واختیار سے جنت میں…
Read the full tafseer →48۔ مدارنجات ایمان صادق اور عمل صالح :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ داخل کردیا گیا ہوگا ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے، ایسی عظیم الشان جنتوں میں جن کے نیچے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہونگی، سو اس سے اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ مدارنجات دراصل یہی دو چیزیں ہیں، ایمان صادق اور عمل صالح، اور بس، خواہ ایسا شخص کوئی بھی ہو، قوم یا رنگ ونسل، وغیرہ کا اس میں کوئی دخل اور سوال نہیں، کیونکہ یہ چیزیں انسان کے بس اور اس کے اختیار میں نہیں، اور غیراختیاری چیزیں معیار و مدار فضیلت نہیں سکتی، پس معیار فضیلت اور مدار نجات دو ہی چیزیں ہیں جو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب آخری امید کے طور پر یہ بات باقی رہ جائے گی کہ شاید جن معبودان باطلہ کی پرستش کرتے عمر گذار دی وہی کسی کام آجائیں تو اس کا یہ ہوگا کہ جب قیامت کے روز فیصلہ ہوچکے گا تو کافر شیطان کے گرد جمع ہو کر کہیں گے کہ ہماری بربادی کا سبب تو تو بنا خود تو تباہ ہوا تھا ہمیں بھی لے ڈوبا اب ان بتوں کو کہو اور خود ہمارے لیے کچھ کرو تو وہ کم از کم اس روز کو کھری بات کہے گا کہ نامرادو مجھے ملامت کرنے آئے ہو ذرا غور کرو کہ اللہ جل جلالہ نے تمہارے ساتھ حق اور کھرے وعدے کئے تھے اور ان پر دلائل قطعیہ قائم فرمائے تھے جبکہ میں نے بھی تم سے وعدے کئے تھے مجھے اس سے انکار نہیں مگر یہ بھی سن…
Read the full tafseer →ف 15 ۔ یعنی اس کی توفیق اور مہربانی سے۔
16 ۔ یعنی آپس میں ملتے وقت السلام علیکم کہیں گے یا فرشتے ان سے سلام علیکم کہیں گے۔ یعنی ” تم پر سلامتی ہو “۔ اس میں مبارک باد کا مفہوم بھی ہے اور دعا کا بھی۔ (کذافی الوحیدی) ۔
Read the full tafseer →(14:23) تحیتہم۔ ان کی دعائے ملاقات۔ ان کی دعائے خیر۔ تحیۃ مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ تحیۃ اصل میں اسم مصدر ہے۔ یہ لفظ بقائے دوام درازی عمر اور ثانوی اعتبار سے خیرو برکت اور استحکام کی دعا کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تحیتہم فیھا سلام کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا سے خوش آمدید کہیں گے۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ فرشتے ان کو سلامتی کی دعا سے خوش آمدید کہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 23
قضی فیصلہ کردیا گیا۔ الامر کام ، حکم وعد اس نے وعدہ کیا۔ اخلفت میں نے وعدہ خلافی کی۔ سلطن دلیل ، قوت، زور۔ دعوت میں نے بلایا، میں نے دعوت دی۔ استجبتم تم نے جواب دیا۔ تم نے قبول کیا۔ لاتلومونی تم مجھے لعنت ملامت نہ کرو۔ مصرخی میرا مددگار، میری فریاد کو پہنچنے والا اشرکتمونی تم نے مجھے شریک کیا۔ مجھے شریک ٹھہرایا۔ ادخل۔ داخل کیا گیا ۔ داخل کئے جائیں گے اذن اجازت ، توفیق۔ تحیۃ دعا۔ سلام سلام، سلامتی۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 23
جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ذلیل کر کے اپنی بارگاہ سے نکال دیا تھا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن تک اس بات کے لئے مہلت مانگ لی تھی کہ وہ…
Read the full tafseer →مومنوں کی بخشش
ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اچھے عمل کیے وہ جنتوں میں داخل ہوں گے اور وہ جنتیں ایسی ہوں گی جن کے گھروں اور درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی تاکہ اہل جنت کو زیادہ لطف حاصل ہو۔ وہ اپنے رب کے حکم اور اس کے فضل کی وجہ سے ان جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب وہ آپس میں ملاقات کریں گے تو ایک دوسرے کو سلامتی کی بشارت دیں گے اسی طرح ملائکہ بھی خدا کے حکم سے جا جا کر انہیں سلام کیا کریں گے۔ جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا کے غم و رنج اور فکر و مصیبت سے وہ امن میں رہیں گے اور ہر طرح چین و آرام سے صحیح و سلامت ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ دخول جنت کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
[11] شیطان کو عقیدۃ ً تو کوئی بھی اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا نہ اس کی پرستش کرتا ہے بلکہ لوگ اس پر لعنت ہی بھیجتے ہیں لیکن دانستہ یا نادانستہ طور پر اس کی پیروی ضرور کی جاتی ہے۔ اعتقادی شرک کے مقابلے میں یہ عملی شرک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(ف 1) وہ شیطان جس نے دنیا میں عیب کو ہمیشہ صواب دکھایا ، جس نے گناہوں کو سنوار سنوار کر پیش کیا ، کہے گا ، جناب اللہ کا وعدہ سچا ہے ، میں نے اب تک جو کچھ کہا ، جھوٹ کہا مگر میں آپ کو گمراہ کرنے کا ذمہ دار نہیں میں نے تو صرف دعوت دی ہے ، وسوسہ اندازی سے کام لیا ہے ، برے خیالات کی تائید کی ہے ، لیکن یہ تمہارا قصور ہے ، کہ تم نے میری دعوت پر کان دھرا ، اور میری رائے سے اتفاق کیا ، آج میں تمہارے کام نہیں آسکتا ، اور نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو ، ہم دونوں ظالم ہیں ، اور دونوں کے لئے عذاب مقدر ہے ۔
(آیت) ” وما کان لی علیکم من سلطن “۔ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ، کہ ان شریر نفوس کی حدود امتیاز…
Read the full tafseer →23 ۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور نیک کام کرتے رہے وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ایسے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن باغوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کی باہمی ملاقات اور تحیہ السلام علیکم ہوگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دنیا میں سلام دعا ہے سلامتی مانگنی وہاں سلام کہنا مبارک باد ہے سلامتی پر ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 2۔ کیونکہ اصلی علت عذاب کی تمہارا ہی فعل ہے اور میرا فعل تو محض سبب ہے جو بعید اور غیر مستلزم ہے۔
3۔ پس اس سے معبودین غیر اللہ کا بھروسہ بھی قطع ہوا کیونکہ جو ان معبودین کی عبادت کا اصل بانی و محرک ہے جب اس نے صاف جواب دیا تو اور ون سے کیا امید ہوسکتی ہے پس نجات کفار کے سب طریقے مسدود ہوگئے۔
Read the full tafseer →مومنوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے وہ باغات میں سیر و تفریح کریں گے
24 ؎ مومنوں کیلئے جو کچھ تیار کیا گیا ہے اس کا نام اسلام کی زبان میں جنت ہے۔ اس مقام کا نام جو نیکوکار انسانوں کا دائمی گھر ہوگا قرآن کریم میں عموماً ” الجنۃ “ یعنی ایک باغ بتایا گیا ہے اور کہیں کہیں اس کو مناسب اضافتوں کے ساتھ بھی ادا کیا گیا ہے مثلاً ” جنۃ النعیم “ نعمت کا باغ ” جنۃ الخلد “ یعنی بقائے دوام کا باغ اور اس کو ” الجنۃ الفردوس “ ” روضۃ “ ” دارالخلد “ ” جنت عدن “ یعنی دائمی سکونت کے باغات ” دارالمقامۃ “ اور ” دارالسلام “ ام و سلامتی کا گھر۔ اس موجودہ دنیوی زندگی میں بھی اگرچہ لذتیں اور مسرتیں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →33. The Arabic word tahiyyah is literally a prayer for long life, but in usage it is a greeting at meeting. Therefore, the expression may mean: They will welcome one another with peace be upon you, or will be welcomed with these words. It may also be noted that the word salam implies both a prayer for peace and a congratulation on it.
Read the full tafseer →