Explained with ayahs 22–23
طوطا چشم دشمن شیطان
اللہ تعالیٰ جب بندوں کی قضا سے فارغ ہوگا، مومن جنت میں کافر دوزخ میں پہنچ جائیں گے، اس وقت ابلیس ملعون جہنم میں کھڑا ہو کر ان سے کہے گا کہ اللہ کے وعدے سچے اور برحق تھے، رسولوں کی تابعداری میں ہی نجات اور سلامتی تھی، میرے وعدے تو دھوکے تھے میں تو تمہیں غلط راہ پر ڈالنے کے لئے سبز باغ دکھایا کرتا تھا۔ میری باتیں بےدلیل تھیں میرا کلام بےحجت تھا۔ میرا کوئی زور غلبہ تم پر نہ تھا تم تو خواہ مخواہ میری ایک آواز پر دوڑ پڑے۔ میں نے کہا تم نے مان لیا رسولوں کی سچے وعدے ان کی بادلیل آواز ان کی کامل حجت والی دلیلیں تم نے ترک کردیں۔ ان کی مخالفت اور میری موافقت کی۔ جس کا نتیجہ آج اپنی…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 30
یعنی تمہارے تمام گلے شکوے اس حد تک تو بالکل صحیح ہیں کہ اللہ سچا تھا اور میں جھوٹا تھا۔ اس واقعے سے مجھے ہرگز انکار نہیں ہے۔ اللہ کے وعدے اور اس کی وعیدیں، تم دیکھ ہی رہے ہو کہ ان میں سے ہر بات جوں کی توں سچی نکلی۔ اور میں خود مانتا ہوں کہ جو بھروسے میں نے تمہیں دلائے، جن فائدوں کے لالچ تمہیں دیے، جن خوشنما توقعات کے جال میں تم کو پھانسا اور سب سے بڑھ کر یہ یقین جو تمہیں دلایا کہ اول تو آخرت واخرت کچھ بھی نہیں ہے، سب محض ڈھکوسلا ہے، اور اگر ہوئی بھی تو فلاں حضرت کے تصدق سے تم صاف بچ نکلو گے، بس ان کی خدمت میں نذر و نیاز کی رشوت پیش کرتے رہو اور پھر جو چاہو کرتے پھرو، نجات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
خلاصہ تفسیر
(ان کافروں کو اگر اپنی نجات کے متعلق یہ زعم ہو کر ہمارے اعمال ہم کو نافع ہوں گے تو اس کا قاعدہ کلیہ تو یہ سن لو کہ) جو لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان کی حالت باعتبار عمل کے یہ ہے (یعنی ان کے اعمال کی ایسی مثال ہے) جیسے کچھ راکھ ہو (جو اڑنے میں بہت خفیف ہوتی ہے) جس کو تیز آندھی کے دن میں تیزی کے ساتھ ہوا اڑا لے جائے (کہ اس صورت میں اس راکھ کا نام و نشان بھی نہ رہے گا اسی طرح) ان لوگوں نے جو کچھ عمل کئے تھے اس کا کوئی حصہ (یعنی اثر و نفع کے قبیل سے) ان کو حاصل نہ ہوگا (اس راکھ کی طرح ضائع و برباد ہوجائے گا) یہ بھی بڑی دور دراز کی گمراہی ہے) کہ گمان تو ہو کہ ہمارے عمل نیک…
Read the full tafseer →وَقَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ ۭ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ مَآ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ ۭ اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ ۭ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔
شیطان کا جواب : وَقَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ۔ یعنی جب ائمہ کفر اور ان کے پیرو وں کا قضیہ ختم…
Read the full tafseer →22۔ 1 یعنی اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر و شرک جہنم میں چلے جائیں گے تو شیطان جہنمیوں سے کہے گا
22۔ 2 اللہ نے جو وعدے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے کئے تھے کہ نجات میرے پیغمبروں پر ایمان لانے میں ہے۔ وہ حق پر تھے ان کے مقابلے میں میرے وعدے تو سراسر دھوکا اور فریب تھے۔ جس طرح اللہ نے فرمایا ' شیطان ان سے وعدے کرتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے لیکن شیطان کے یہ وعدے محض دھوکا ہیں ' (النساء۔ 20)
22۔ 3 دوسرا یہ کہ میری باتوں میں کوئی دلیل و حجت نہیں ہوتی تھی، نہ میرا کوئی دباؤ ہی تم پر تھا۔
22۔ 4 ہاں میری دعوت اور پکار تھی، تم نے میری بےدلیل پکار کو مان لیا اور پیغمبروں کی دلیل و حجت سے بھرپور باتوں کو رد…
Read the full tafseer →16: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شیطان کو شریک ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ایسی ہی اطاعت کی جائے جیسی اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے۔ شیطان اس وقت کہے گا کہ اب میں تمہارے اس طریق کار کے صحیح ہونے کا انکار کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت نمبر 21 تا 22
دعوت اسلامی اور داعیان حق کی یہ داستان ، اور جھٹلانے والوں اور ڈکٹیٹروں کی یہ کہانی اب اس دنیا کے اسٹیج سے آخرت کے اسٹیج پر منتقل ہوگئی ہے اور نہایت ہی دلچسپ منظر ہے۔
وبرزوا للہ جمیعاً ( 14 : 21) “ اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بےنقاب ہوں گے ”۔ یہ سرکش ڈکٹیٹر بھی کھڑے ہیں۔ اللہ کے سامنے اور ان کے کمزور کردار والے متبعین بھی کھڑے ہیں جنہوں نے ذلت اور کمزور کا کردار پسند کرلیا تھا ۔ شیطان بھی ایک طرف کھڑا ہے۔ دوسری جانب وہ لوگ بھی کھڑے ہیں جو رسولوں پر ایمان لائے تھے اور نیک کام کرتے تھے ۔ یہ سب اب ایک میدان قیامت میں ہیں ، کھلے میدان میں ۔ اللہ کے لئے تو یہ پہلے بھی ظاہر…
Read the full tafseer →3 یعنی حساب کتاب کے بعد جب جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں جانے کا فیصلہ ہوچکے گا اس وقت کفار دوزخ میں جا کر یا داخل ہونے سے پہلے ابلیس لعین کو الزام دیں گے کہ مردود تو نے دنیا میں ہماری راہ ماری اور اس مصیبت میں گرفتار کرایا۔ اب کوئی تدبیر مثلاً سفارش وغیرہ کا انتظام کر۔ تاکہ عذاب الٰہی سے رہائی ملے۔ تب ابلیس ان کے سامنے لیکچر دے گا جس کا حاصل یہ ہے کہ بیشک حق تعالیٰ نے صادق القول پیغمبروں کے توسط سے ثواب و عقاب اور دوزخ و جنت کے متعلق سچے وعدے کیے تھے جن کی سچائی دنیا میں دلائل وبراہین سے ثابت تھی اور آج مشاہدے سے ظاہر ہے۔ میں نے اس کے بالمقابل جھوٹی باتیں کہیں اور جھوٹے وعدے کیے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
آیت 22 وَقَال الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ
جب تمام بنی نوع انسان کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا اور اہل جنت کو جنت کی طرف اور اہل جہنم کو جہنم کی طرف لے جایا جا رہا ہوگا تو شیطان کہے گا :
وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ
میں تم پر کسی قسم کا جبر نہیں کرسکتا تھا اور تمہیں زبردستی برائی کی طرف نہیں لاسکتا تھا۔ یہ اختیار مجھے اللہ نے دیا ہی نہیں تھا۔
اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ
میں نے تم لوگوں کو ورغلایا معصیت کی دعوت دی اللہ کی نافرمانیوں اور بےحیائی کے کاموں کی ترغیب دی اور تم لوگوں نے میرا کہا مان لیا۔
فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ
کیونکہ اللہ…
Read the full tafseer →25 یعنی جب لوگوں کے اعمال کا حساب لینے کے بعد اہل جنت کو جنت میں اور اہل دوزخ کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا۔
26 شیطان کا دوزخیوں سے خطاب :۔ شیطان چونکہ خود بھی دوزخ میں جائے گا تو اہل دوزخ کو جو اسے ملامت کر رہے ہوں گے، مخاطب کرکے کہے گا۔ دیکھو ! ایک وعدہ تو تم سے اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ کیا تھا جو یہ تھا کہ قیامت کا دن یقیناً آنے والا ہے اس دن ہر شخص کی اللہ کے حضور پیشی ہوگی۔ ہر ایک سے اس کے اعمال دنیا سے متعلق باز پرس ہوگی پھر اعمال کے مطابق ہر ایک کو جزا یا سزا دی جائے گی۔ یہ وعدہ بالکل سچا تھا جسے تم نے خود مشاہدہ کرلیا ہے۔ اور ایک وعدہ میں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ تم سے کیا تھا۔…
Read the full tafseer →39۔ (اہل دوزخ سے ان کے گلے شکو وں کے جواب میں) (آیت) ’ ’ قضی الامر “۔ فیصلہ سے مراد یہ کہ مطیع جنت میں اور نافرمان دوزخ میں پہنچ چکیں گے۔
40۔ اللہ کا وعدہ یہ کہ ایک روز جزاوسزا کا آنے والا ہے۔ اہل ایمان کو اس روز نجات نصیب ہوگی اور اہل کفر کو ہلاکت۔ دنیا میں اس عقیدہ پر دلائل قوی قائم ہیں اور آخرت میں اسی کے صدق کا ظہور ہوگا۔ شیطان کا وعدہ یہ کہ کفر پر ایمان کو کوئی ترجیح نہیں اور کوئی جزا وسزا آخرت میں نہیں ہونا ہے۔ دنیا میں اس عقیدہ کے ابطال پر دلائل قوی قائم ہیں۔ اور آخرت میں اسی ابطال کا ظہور ہوگا۔
41۔ (کہ عذاب کا اصل باعث خود تمہارا ہی فعل ہوا ہے۔ میرا اس میں کیا دخل) (آیت) ” ماکان لی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
آیت نمبر 22 تا 27
ترجمہ : اور جب فیصلہ چکا دیا جائیگا، اور اہل جنت، جنت میں، دوزخی دوزخ میں داخل کر دئیے جائیں گے اور دوزخی شیطان کے پاس جمع ہوں گے تو ابلیس ان سے کہے گا، حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے بعث اور جزاء کے جتنے وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا کہ (بعث وغیرہ) کچھ ہونے والا نہیں ہے میں نے اس کو پورا نہیں کیا (یعنی اس کا جھوٹ ہونا ظاہر ہوگیا) اور میری تم پر کوئی زور زبردستی تو تھی نہیں کہ جس کے ذریعہ میں تم کو اپنی اطاعت پر مجبور کرتا البتہ اتنی بات ضرورت ہے کہ میں نے تم کو دعوت دی تو تم نے میری بات پر لبیک کہہ دیا، لہٰذا اب تم میری دعوت پر لبیک کہنے پر مجھے…
Read the full tafseer →وقال الشیطن لما قضی الامر جب معاملہ کا فیصلہ ہوچکا تو شیطان (ابلیس) نے کہا۔ یعنی فیصلہ سے فراغت ہوچکے گی۔ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو چکیں گے تو شیطان کافروں سے کہے گا۔ مقاتل نے کہا : شیطان کیلئے ایک تخت رکھا جائے گا ‘ تمام کفار اپنے پیشواؤں کے ساتھ اس کے پاس جمع ہوں گے اور جن و انس دونوں قسم کے بدبختوں میں وہ تقریر کریں گے۔
ابن جریر ‘ ابن مردویہ ‘ ابن ابی حاتم ‘ بغوی ‘ طبرانی اور ابن المبارک نے حضرت عقبہ بن عامر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ اگلوں پچھلوں کو ‘ سب کو جمع کر کے ان کا فیصلہ کرچکے گا تو اہل ایمان کہیں گے : ہمارے رب نے ہمارے درمیان فیصلہ کردیا۔…
Read the full tafseer →(22) جب اہل جنت، جنت میں اور دوزخی، دوزخ میں داخل کردیے جائیں گے تو شیطان دوزخ میں دوزخیوں سے کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی تم سے جنت دوزخ بعث بعد الموت حساب، کتاب پل صراط میزان اعمال کے سچے وعدے کیے تھے اور میں نے بھی تم سے وعدے کیے تھے کہ جنت دوزخ حساب، کتاب، بعث بعد الموت، پل صراط، میزان اعمال کچھ نہیں ہوگا اور میرے ان جھوٹے وعدوں پر دلائل قطعیہ قائم تھے اور میری تم پر کوئی حجت اور قدرت کا زور تو چلتا نہیں تھا، سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں اپنی طرف بلایا بلکہ زیادہ ملامت اپنے آپ کو کرو کیوں کہ تم نے میری بات پر عمل کیا، نہ میں تمہارا مددگار ہوں اور نہ تمہیں دوزخ سے بچانے والا ہوں اور نہ تم…
Read the full tafseer →بِمُصْرِخِكُمْ : ”صُرَاخٌ“ کا معنی چیخنا چلانا ہے جو مصیبت سے بچانے کے لیے بطور فریاد ہوتا ہے۔ ”اَصْرَخَ یُصْرِخُ“ باب افعال میں ہمزہ ازالۂ ماخذ کے لیے ہے، یعنی اس مصیبت کو جو چیخنے کا باعث ہے دور کرنا، جیسے ”شَکَانِیْ فَأَشْکَیْتُہُ“ کہ اس نے مجھ سے شکایت کی تو میں نے اس کی شکایت دور کردی۔ اسی لیے عام طور پر ”صُرَاخٌ“ کا معنی فریاد اور ”اِصْرَاخٌ“ کا معنی فریاد رسی کرلیا جاتا ہے۔ ”بِمُصْرِخِيَّ“ اصل میں ”بِمُصْرِخِیْنَ“ جمع مذکر سالم تھا، یاء متکلم کی طرف مضاف ہوا تو نون اعرابی گرگیا اور یاء کے یاء میں ادغام کے ساتھ ”بِمُصْرِخِیّ“ ہوگیا۔
وَقَال الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ۔۔ : فیصلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت نمبر 21 تا 22
وبرزوا للہ جمیعا یعنی قیامت کے دن اپنی قبروں سے ظاہر ہوں گے۔ البروز کا معنی ظہور ہوتا ہے۔ اور براز کھلی جگہ کو کہتے ہیں کیونکہ وہ ظاہر ہوتی ہے، اسی سے لوگوں کے سامنے آنے والی عورت کو امرأۃ برزۃ کہا جاتا ہے۔ برزوا کا معنی ہوگا کہ وہ اپنی قبروں سے ظاہر ہوئے۔ فعل ماضی ہے مگر معنی مضارع کا ہے اور وخاب کل جبار عنید۔ کے ساتھ یہ متصل ہے، یعنی جب رسولوں نے فتح کی التجا کی تو قریب ہے کہ وہ انہیں ہلاک کردے گا، پھر روز حشر اٹھائے گا اور سب کے سب اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوں گے، کوئی چھپانے والا انہیں اللہ سے نہیں چھپا سکے گا۔ للہ یعنی اللہ تعالیٰ کے انہیں ظاہر کرنے کے حکم کی وجہ سے فقال…
Read the full tafseer →شیطان سب سے مکر کرجائے گا :
1:۔ امام ابن مبارک نے زہد میں، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ اور ابن عساکر نے سند ضعیف کے ساتھ عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ اگلے پچھلوں کو جمع فرما کر ان کا فیصلہ کرچکے گے تو اہل ایمان کہیں گے کہ ہمارے رب نے ہمارے درمیان فیصلہ فرما دیا اب کوئی شخص ایسا ہو جو ہمارے رب سے ہماری سفارش کرے، لوگ کہیں گے کہ ایسے آدم (علیہ السلام) ہوسکتے ہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے ان کو بنایا تھا اور ان سے کلام کیا تھا، چناچہ سب لوگ جا کر آدم (علیہ السلام) سے گزارش کریں گے کہ ہمارا رب ہمارا فیصلہ کرچکا اور حکم جاری کرچکا اب آپ اٹھ کر ہماری…
Read the full tafseer →[وَقَالَ : اور کہے گا ] [ الشَّيْطٰنُ : شیطان ] [ لَمَا : جب ] [ قُضِيَ : فیصلہ کردیا جائے گا ] [ الْاَمْرُ : تمام معاملات کا ] [ ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ نے ] [وَعَدَكُمْ : وعدہ کیا تم لوگوں سے ] [ وَعْدَ الْحَقِّ : حق کا وعدہ ] [ وَوَعَدْتُّكُمْ : اور میں نے وعدہ کیا تم سے ] [ فَاَخْلَفْتُكُمْ : پھر میں نے وعدہ خلافی کی تم سے ] [ وَمَا كَان : اور نہیں تھا ] [لِيَ : میرے لئے ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ مِّنْ سُلْطٰنٍ : کوئی بھی اختیار ] [ اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ ] [دَعَوْتُكُمْ : میں نے دعوت دی تمہیں ] [ فَاسْتَجبتم لِيْ : پھر قبول کیا تم لوگوں نے میری (دعوت)] [ فَلَا…
Read the full tafseer →قیامت کے دن فیصلے ہوچکنے کے بعد شیطان کا اپنے ماننے والوں سے بیزار ہونا اور انہیں بیوقوف بنانا
یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت میں اہل دوزخ کی ایک بہت بڑی بےوقوفی کا تذکرہ فرمایا ہے شیطان مردود لوگوں کی بےوقوفی ظاہر کرے گا اور اپنی صفائی پیش کرے گا دنیا میں تو اس نے اپنے ماننے والوں کو خوب بہکایا اور راہ حق سے ہٹا کر کفر و شرک کی دلدل میں پھنسایا لیکن قیامت کے دن اپنے ماننے والوں ہی کو الزام دے گا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر بھروسہ نہ کیا اس کے وعدے سچے تھے اور میرے وعدوں پر کان دھرا اور ان کو مانا حالانکہ میرے سارے وعدے جھوٹے تھے اب دیکھو مجھے کچھ الزام نہ دو میرا تم پر کوئی زور تو چلتا نہ تھا…
Read the full tafseer →جہنم میں شیطان کی تقریر
قال اللہ تعالیٰ : وقال الشیطن لما قضی الامر .... الیٰ .... لہم عذاب الیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ضعفاء کفار کی اپنے رئیسوں اور سرداروں سے باہم گفتگو کا ذکر تھا اس آیت میں شیطان کی گفتگو کا ذکر ہے جو تمام کافروں کا رئیس اور سردار ہے شیطان اس وقت جو تقریر کرے گا حق تعالیٰ نے اس آیت میں اس کا ذکر کیا ہے جب اہل جنت جنت میں اور اہل نار دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو تمام اہل دوزخ جمع ہو کر متفقہ طور پر ابلیس کو لعنت ملامت کریں گے کہ تو نے ہم کو تباہ و برباد کیا تو اس وقت ابلیس کھڑا ہوگا اور الزام دفع کرنے کے لیے (آگ کے ایک منبر پر کھڑا ہو کر خطبہ دے گا) ۔ یہ وقت کافروں پر عیب…
Read the full tafseer →25:۔ کفار و مشرکین جب جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے تو سب ابلیس پر لعن طعن کرنے لگیں گے۔ اس وقت ابلیس سب کو جواب دے گا۔ دیکھوں اللہ تعالیٰ نے تم سب سے ایک سچا وعدہ فرمایا تھا کہ اگر تم میرے پیغمبروں کی پیروی کروگے اور میری توحید کو مانو گے تو میں تمہیں آخرت میں لازوال نعمتوں سے سرفراز کروں گا اور ایک جھوٹا سا وعدہ میں نے بھی تم سے کیا تھا کہ زندگی بس یہی ہے اس کے بعد کوئی زندگی اور حساب کتاب نہیں اور اگر ہوا بھی تو یہ تمہارے معبودانِ باطلہ سفارش کر کے تمہیں چھڑا لیں گے (روح) مگر تم نے اللہ کے سچے وعدے پر اعتماد نہ کیا اور میری جھوٹ بات مان لی حالانکہ میں نے تم پر کوئی جبر و تشدد بھی نہیں کیا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں تابع اور متبوع کا ذکر تھا ، جن لوگوں نے کفر ، شرک اور معاصی میں ایک دوسرے کا اتباع کیا عقل سے کام نہ لیا اور آنکھیں بند کرکے ایک دوسرے کے پیچھے چلتے رہے ، اللہ نے ان کا حال بیان کیا جو قیامت کے دن پیش آنے والا ہے اس وقت پیچھے چلنے والے کمزور لوگ اپنے لیڈروں اور پیشواؤں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمہارے تابع تھے ، تم جس طرح کہتے رہے ، ہم کرتے رہے ، لہذا آج اللہ کے عذاب میں کچھ تخفیف کرا کے دو ، مگر متبوعین صاف جواب دیں گے کہ ہم تو خود کفر وشرک اور گمراہی میں غرق تھے تمہیں راہ راست پر کیے لاتے ، اب ہم سب برابر کے مجرم ہیں اور سزا کے مستحق ہیں ہم بیقراری کا اظہار کریں…
Read the full tafseer →وَقَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ ۭ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ مَآ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ ۭ اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ ۭ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 22
شطن
الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
ترکیب : ان اللّٰہ جملہ قائم مقام دونوں مفعولوں کے الم تر سے۔ من عذاب اللّٰہ موضع نصب میں ہے حال ہو کر کیونکہ اصل میں شیء کی صفت ہے تقدیرہ من شیء من عذاب اللہ من زائدۃ ای شیئا کائنًا من عذاب اللہ الا ان استثناء منقطع ہے لان دعائہ لم یکن سلطاناً ای حجۃ مصرخی جمہور بفتح الیاء پڑھتے ہیں اور یہ جمع مصرخ کی اول ی جمع کا دوم ی متکلم میں ادغام ہوگیا وادخل برزوا پر معطوف۔
تفسیر : کفار کے غرور آمیز کلمات کے جواب میں پہلے تو خود ان کا برباد ہونا اور جہنم میں جانا اور ان کے بعد انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے گروہ کا ان کی زمین اور ملک پر قابض اور متصرف ہونا بیان فرمایا تھا۔ اب ان مخالفین کے دل پر اس بات…
Read the full tafseer →وَقَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمْ وَعْدَالْحَقِّ وَوَعَدْتُکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ ط وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلاَّ ٓ اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ ج فَلاَ تَلُوْمُوْنِیْ وَلُوْمُـْوٓٓا اَنْفُسَکُمْ ط مَآ اَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ ط اِنِّیْ کَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَکْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ ط اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (سورۃ ابراھیم : 22)
(جب معاملے کا فیصلہ ہوچکے گا شیطان بولے گا بیشک اللہ تعالیٰ نے جو تم سے وعدہ کیا تھا وہ وعدہ سچا تھا۔ اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا، پس میں نے تم سے وعدہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کا جمع ہو کر شیطان کے پاس جانا۔
قرآن مجید کے سیاق وسباق سے معلوم ہو رہا ہے کہ چھوٹے بڑے جہنمی آپس میں بحث و تکرار اور جھگڑنے کے بعد شیطان اکبر کے پاس جائیں گے۔ اس کے سامنے آہ وزاریاں کرتے ہوئے فریادیں کریں گے کہ ہم سب تیری وجہ سے گمراہ ہوئے اور جہنم میں پہنچے۔ تو دنیا میں ہمیں بڑی امیدیں دلایا کرتا اور ہمارے دلوں میں جھوٹی تسلیاں پیدا کرتا تھا، اب بتا کہ ہمارے لیے جہنم سے نکلنے کا کوئی راستہ ہوسکتا ہے اس حال میں تو ہماری کیا مدد کرسکتا ہے ؟ شیطان اکبر سب سے زیادہ اذیتوں اور عذاب میں مبتلا ہوگا۔ وہ ان سے بھی زیادہ درماندگی اور ذلت و رسوائی کے لہجے میں جواب دے گا…
Read the full tafseer →شیطان کا خطاب :
22: وَقَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ (جب معاملے کا فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا) جب جنت کا اہل جنت کیلئے اور دوزخ کا اہل دوزخ کیلئے فیصلہ ہوچکے گا اور وہ حساب و کتاب سے فارغ ہوجائیں گے اور جنت والے جنت اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہوجائیں گے۔ روایت تفسیر میں ہے کہ شیطان اس وقت آگ کے منبر پر خطبہ دے گا۔ اہل نارکو خطاب کرتے ہوئے کہے گا۔ اِنَّ اللّٰہَ وعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْ تُّکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ (بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا پس میں نے اس کے خلاف کیا) وعدالحقؔ سے بعث و جزاء علی الاعمال کا وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →وقال الشیطان لما قضی الامر کی تفسیر
تفسیر 22۔” وقال الشیطان لما قضی الامر ان اللہ وعد کم وعد الحق “ جب وہ شیطان کی بات سن لیں گے تو اپنے آپ سے نفرت ہوجائے گی ، اس پر ان کو آواز دی جائے گی جتنی نفرت آج تم کو اپنے آپ سے ہو رہی ہے، اس سے زیادہ نفرت اللہ کو تم سے اس وقت بھی جب تم کو ایمان کی دعوت دی جا رہی تھی اور تم انکار کر رہے تھے ، یہ سن کر وہ پکار اٹھیں گے اے نفرت اللہ کو تم سے اس وقت تھی جب تم کو ایمان کی دعوت دی جا رہی تھی اور تم انکار کررہے تھے ، یہ سن کر وہ پکار اٹھیں گے اے نفرت اللہ کو تم سے اس وقت تھی جب تم کو ایمان کی دعوت دی جا رہی تھی اور تم انکار کررہے تھے ، یہ سن کر وہ پکار اٹھیں…
Read the full tafseer →22۔ اوپر چھوٹے بہکانے والوں کا ذکر فرما کر اس آیت میں سب سے بڑے بہکانے والے کا ذکر فرمایا اس آیت میں شیطان کی جن باتوں کا ذکر ہے یہ اس وقت کی شیطان کی باتیں ہیں جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو چکیں گے۔ چناچہ خود اللہ تعالیٰ نے آیت میں صراحت فرما دی ہے کہ جب فیصلہ ہوچکے گا اس وقت شیطان یہ باتیں کرے گا۔ تفسیر شعبی میں جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ کے طور پر کھڑے ہو کر شیطان یہ باتیں کرے گا۔ تفسیر شعبی میں جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ کے طور پر کھڑے ہو کر شیطان یہ باتیں کرے گا چناچہ شعبی کی روایت کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن دو خطیب لوگوں کے سامنے کھڑے ہوں گے ایک…
Read the full tafseer →(قال الشیطٰن) شیطان، جو دنیا میں واقع ہونے والی ہر برائی کا سبب ہے جہنمیوں سے براءت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہو کر کہے گا : (لماقضی الامر) ” جب فیصلہ ہوچکے گا سب امور کا “ اور جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جہنمی جہنم میں دھکیل دیئے جائیں گے۔ (ان اللہ وعدکم وعدالحق) ” جو وعدہ اللہ نے کیا تھا وہ تو سچ تھا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی زبان پر تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا مگر تم نے اس کی اطاعت نہ کی، اگر تم نے اس کی اطاعت کی ہوتی تو تم فوزعظیم سے بہرہ ور ہوتے (ووعدتکم ) ” اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا “ بھلائی کا (فاخلفتکم) ” پس میں نے تم سے وعدہ خلافی کی “ یعنی میں نے تمہیں جو…
Read the full tafseer →41۔ دوزخ میں شیطان کا خطاب اپنے پیروکاروں سے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب فیصلہ چکا دیا جائے گا یعنی عملی اور آخری طور پر کہ جنتی جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوجائیں گے (جعلنا اللہ منہم) اور دوزخیوں کو دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا، جس کا یہاں تصور بھی ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تو اس وقت شیطان دوزخ میں پڑے اپنے ان اشقیاء اور بدبخت ساتھیوں، دوستوں کو خطاب کرکے یہ زوردار تقریر سنائے گا جس سے ان کے باطن اور بھی جلیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ روایات میں وارد ہے کہ جب دوزخی دوزخ میں شیطان کو کو سیں گے اور اس کو برا بھلا کہیں گے کہ اسی نے ہمیں اس ہولناک انجام سے دوچار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب آخری امید کے طور پر یہ بات باقی رہ جائے گی کہ شاید جن معبودان باطلہ کی پرستش کرتے عمر گذار دی وہی کسی کام آجائیں تو اس کا یہ ہوگا کہ جب قیامت کے روز فیصلہ ہوچکے گا تو کافر شیطان کے گرد جمع ہو کر کہیں گے کہ ہماری بربادی کا سبب تو تو بنا خود تو تباہ ہوا تھا ہمیں بھی لے ڈوبا اب ان بتوں کو کہو اور خود ہمارے لیے کچھ کرو تو وہ کم از کم اس روز کو کھری بات کہے گا کہ نامرادو مجھے ملامت کرنے آئے ہو ذرا غور کرو کہ اللہ جل جلالہ نے تمہارے ساتھ حق اور کھرے وعدے کئے تھے اور ان پر دلائل قطعیہ قائم فرمائے تھے جبکہ میں نے بھی تم سے وعدے کئے تھے مجھے اس سے انکار نہیں مگر یہ بھی سن…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ حضرت کعب بن مالک سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا، دوزخی پہلے رونے پیٹنے کی صلاح کریں گے چناچہ وہ پانچ سو برس تک خوب روئیں پیٹیں گے لیکن جب دیکھیں گے کہ کوئی فائدہ نہیں ہوا تو صبر کرنے کی صلاح کریں گے چناچہ پانچ سو برس تک صبر کئے رہیں گے۔ پھر جب دیکھیں گے کہ اس سے بھئی کوئی فائدہ نہیں ہوا تو کہیں گے۔ سواء علینا اجر عنا اور صبرنا مالنا من محیص۔ (قرطبی) ۔
6 ۔ ان لوگوں کو جو اسے الزام دیں گے کہ تو ہی نے ہمیں آف میں پھنسایا۔ حسن (رح) سے مروی ہے کہ ابلیس قیامت کے دن جہنم میں آگے کے منبر پر کھڑا ہو کر یہ اعلان کرے گا اور تمام مخلوقات سن رہی ہوگی۔ (قرطبی) ۔
7 ۔ یعنی دوزخی دوزخ میں اور جتنی جنت…
Read the full tafseer →(14:22) لما قضی الامر۔ جب معاملہ طے ہوچکے گا۔ یعنی جب (سب کی قسمت کا فیصلہ ہوچکے گا) ۔
فاخلفتکم۔ ماضی واحد متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں نے تم سے وعدہ خلافی کی اخلاف (افعال) مصدر۔
لا تلومونی۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ اصل میں تلوموننی تھا۔ نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ تم مجھے ملامت نہ کرو۔ تم مجھے الزام مت دو ۔ لوم سے باب نصر۔
لوموا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تم ملامت کرو۔ مصرخکم۔ اسم فاعل مضاف۔ کم ۔ ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مضاف الیہ ۔ صرخ یصرخ باب نصر۔ چیخنا۔ فریاد کرنا۔ (فعل لازم) ۔
صرخ القوم۔ (فعل متعدی) بمعنی فریاد رسی کرنا۔ مدد کرنا۔ مصرخ فریاد رسی کرنے والا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 23
قضی فیصلہ کردیا گیا۔ الامر کام ، حکم وعد اس نے وعدہ کیا۔ اخلفت میں نے وعدہ خلافی کی۔ سلطن دلیل ، قوت، زور۔ دعوت میں نے بلایا، میں نے دعوت دی۔ استجبتم تم نے جواب دیا۔ تم نے قبول کیا۔ لاتلومونی تم مجھے لعنت ملامت نہ کرو۔ مصرخی میرا مددگار، میری فریاد کو پہنچنے والا اشرکتمونی تم نے مجھے شریک کیا۔ مجھے شریک ٹھہرایا۔ ادخل۔ داخل کیا گیا ۔ داخل کئے جائیں گے اذن اجازت ، توفیق۔ تحیۃ دعا۔ سلام سلام، سلامتی۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 23
جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ذلیل کر کے اپنی بارگاہ سے نکال دیا تھا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن تک اس بات کے لئے مہلت مانگ لی تھی کہ وہ…
Read the full tafseer →قیامت کے روز شیطان کا اعلان
اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ جب جنت جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوچکیں گے تو سب دوزخی جمع ہو کر ابلیس کو ملامت کریں گے اور ابلیس ان سے یوں کہے گا کہ مجھے ملامت کیا کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ وعدہ کیا تھا وہ سچا وعدہ تھا اور میں نے جو وعدہ کیا تھا وہ جھوٹا تھا اور میں نے تم سے الٹی بات کہی تھی، میری تم پر کچھ زبردستی تو تھی ہی نہیں۔ اگر تم میرا کہنا نہ مانتے تو میں تمہیں اپنے زور سے کچھ کافر تھوڑا ہی بنا سکتا تھا۔ تم نے کیوں میرا کہنا مانا۔ میرے پاس تو کوئی دلیل بھی نہ تھی تم نے میرے قول کو کیونکر سچ جانا۔ میں نے بےدلیل اور بےحجت تم کو بد کام کی طرف بلایا تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
[11] شیطان کو عقیدۃ ً تو کوئی بھی اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا نہ اس کی پرستش کرتا ہے بلکہ لوگ اس پر لعنت ہی بھیجتے ہیں لیکن دانستہ یا نادانستہ طور پر اس کی پیروی ضرور کی جاتی ہے۔ اعتقادی شرک کے مقابلے میں یہ عملی شرک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(ف 1) وہ شیطان جس نے دنیا میں عیب کو ہمیشہ صواب دکھایا ، جس نے گناہوں کو سنوار سنوار کر پیش کیا ، کہے گا ، جناب اللہ کا وعدہ سچا ہے ، میں نے اب تک جو کچھ کہا ، جھوٹ کہا مگر میں آپ کو گمراہ کرنے کا ذمہ دار نہیں میں نے تو صرف دعوت دی ہے ، وسوسہ اندازی سے کام لیا ہے ، برے خیالات کی تائید کی ہے ، لیکن یہ تمہارا قصور ہے ، کہ تم نے میری دعوت پر کان دھرا ، اور میری رائے سے اتفاق کیا ، آج میں تمہارے کام نہیں آسکتا ، اور نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو ، ہم دونوں ظالم ہیں ، اور دونوں کے لئے عذاب مقدر ہے ۔
(آیت) ” وما کان لی علیکم من سلطن “۔ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ، کہ ان شریر نفوس کی حدود امتیاز…
Read the full tafseer →22 ۔ اور جب سب باتوں کا فیصلہ ہوچکے گا اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو چکیں گے تو شیطان کو دیکھ کر سب گناہ گار اس پر ملامت کریں گے کہ تیری وجہ سے ہم کو یہ عذاب بھگتنا پڑا اس وقت شیطان ملامت کرنے والوں کو جواب دے گا بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جتنے وعدے کئے تھے وہ سچے وعدے کئے تھے اور میں نے تم سے جو وعدے کئے تھے تو میں نے تم سے جھوٹ بولا اور میں نے وہ وعدے تم سے خلاف کئے تھے اور میرا تم پر کوئی زور اور غلبہ تو تھا نہیں مگر صرف اتنی بات تھی کہ میں نے تم کو بلایا اور تم نے میری بات مان لی سو تم مجھے کسی طرح کی ملازمت نہ کرو بلکہ اپنے اوپر خود ملامت کرو نہ میں تمہاری کوئی فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 2۔ کیونکہ اصلی علت عذاب کی تمہارا ہی فعل ہے اور میرا فعل تو محض سبب ہے جو بعید اور غیر مستلزم ہے۔
3۔ پس اس سے معبودین غیر اللہ کا بھروسہ بھی قطع ہوا کیونکہ جو ان معبودین کی عبادت کا اصل بانی و محرک ہے جب اس نے صاف جواب دیا تو اور ون سے کیا امید ہوسکتی ہے پس نجات کفار کے سب طریقے مسدود ہوگئے۔
Read the full tafseer →شیطان کا اعتراف کہ اللہ نے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا ‘ میں نے ایک بات کہی تم نے تسلیم کرلی
23 ؎ ” لما قضی الامر “ ” جب فیصلہ ہوچکے گا “ تو شیطان کہے گا یعنی اپنے مریدوں سے کہ تمہارے تمام گلے شکوے اس حد تک تو صحیح ہیں کہ اللہ سچا تھا اور اس کا وعدہ بھی سچا نکلا اور میں جھوٹا تھا اور میرا وعدہ بھی جھوٹا نکلا۔ اتنی بات تو مجھے بھی معلوم تھی اور ہے نہ اس سے پہلے انکار تھا اور نہ اب ہے۔ بلاشبہ اللہ کے وعدے صحیح اور سچ ‘ اس کی وعیدیں صحیح اور سچ اور اس وقت تم بھی دیکھ رہے ہو کہ ان میں سے ہر ایک بات جوں کی توں صحیح جس طرح اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے دنیا میں تم کو بتائی اور میں خود مانتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →30. When the criminals will charge Satan with leading them astray, he will plead guilty, as if to say: You yourselves see now that all the promises and warnings made by Allah have come out true and all the promises which I made have proved to be false. I also confess that it was all deception that I gave you false assurances of prosperity, beguiled you by greed and enticed you in the snare of great expectations. I assured you that in the first instance there will be no life in the Hereafter, and that, if there be any, you will be freed by the intercession of such and such a saint. The only…
Read the full tafseer →