چٹیل میدان اور مخلوقات
صاف چٹیل میدان میں ساری مخلوق نیک و بد اللہ کے سامنے موجود ہوگی۔ اس وقت جو لوگ ماتحت تھے ان سے کہیں گے جو سردار اور بڑے تھے۔ اور جو انہیں اللہ کی عبادت اور رسول کی اطاعت سے روکتے تھے۔ کہ ہم تمہارے تابع فرمان تھے جو حکم تم دیتے تھے ہم بجا لاتے تھے۔ جو تم فرماتے تھے ہم مانتے تھے پس جیسے کہ تم ہم سے وعدے کرتے تھے اور ہمیں تمنائیں دلاتے تھے کیا آج اللہ کے عذابوں کو ہم سے ہٹاؤ گے ؟ اس وقت یہ پیشوا اور سردار کہیں گے کہ ہم تو خود راہ راست پر نہ تھے تمہاری رہبری کیسے کرتے ؟ ہم پر اللہ کا کلمہ سبقت کر گیا، عذاب کے مستحق ہم سب ہوگئے اب نہ ہائے وائے اور نہ بےقراری نفع دے اور نہ…
Read the full tafseer →سورة اِبْرٰهِیْم 28
برزوا کے معنی محض نکل کر سامنے آنے اور پیش ہونے ہی کے نہیں ہیں بلکہ اس میں ظاہر ہونے اور کھل جانے کا مفہوم بھی شامل ہے۔ اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ بےنقاب ہو کر سامنے آجانا کیا ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے تو بندے ہر وقت اپنے رب کے سامنے بےنقاب ہیں۔ مگر آخرت کی پیشی کے دن جب وہ سب کے سب اللہ کی عدالت میں حاضر ہوں گے تو انہیں خود بھی معلوم ہوگا کہ ہم اس احکم الحاکمین اور مالک یوم الدین کے سامنے بالکل بےنقاب ہیں، ہمارا کوئی کام بلکہ کوئی خیال اور دل کے گوشوں میں چھپا ہوا کوئی ارادہ تک اس سے مخفی نہیں ہے۔
سورة اِبْرٰهِیْم 29
یہ تنبیہ ہے ان سب لوگوں کے لیے جو دنیا میں آنکھیں بند کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
خلاصہ تفسیر
(ان کافروں کو اگر اپنی نجات کے متعلق یہ زعم ہو کر ہمارے اعمال ہم کو نافع ہوں گے تو اس کا قاعدہ کلیہ تو یہ سن لو کہ) جو لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان کی حالت باعتبار عمل کے یہ ہے (یعنی ان کے اعمال کی ایسی مثال ہے) جیسے کچھ راکھ ہو (جو اڑنے میں بہت خفیف ہوتی ہے) جس کو تیز آندھی کے دن میں تیزی کے ساتھ ہوا اڑا لے جائے (کہ اس صورت میں اس راکھ کا نام و نشان بھی نہ رہے گا اسی طرح) ان لوگوں نے جو کچھ عمل کئے تھے اس کا کوئی حصہ (یعنی اثر و نفع کے قبیل سے) ان کو حاصل نہ ہوگا (اس راکھ کی طرح ضائع و برباد ہوجائے گا) یہ بھی بڑی دور دراز کی گمراہی ہے) کہ گمان تو ہو کہ ہمارے عمل نیک…
Read the full tafseer →وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰۗؤُا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَيْنٰكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِيْصٍ
آخرت کی حضوری : وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا۔ بروز کے اصل معنی پردہ کی اوٹ سے باہر آنے کے ہیں۔ یہاں اس لفظ کے استعمال میں یہ بلاغت ہے کہ ایک وقت آئے گا جب وہ سارے لوگ جو اس دنیا میں اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کو اوٹ اور سپر بنائے ہوئے ہیں اور وہ لوگ بھی جو سرپرست اور سپر نے ہوئے ہیں سب صرف خدائے…
Read the full tafseer →21۔ 1 یعنی سب میدان محشر میں اللہ کے ربرو ہوں گے، کوئی کہیں چھپ نہ سکے گا۔
21۔ 2 بعض کہتے ہیں کہ جہنمی آپس میں کہیں گے کہ جنتیوں کو جنت اس لئے ملی کہ وہ اللہ کے سامنے روتے اور گڑگڑاتے تھے، آؤ ہم بھی اللہ کی بارگاہ میں آہو زاری کریں چناچہ وہ روئیں گے اور خوب آہو زاری کریں گے۔ لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، پھر کہیں گے کہ جنتیوں کو جنت ان کے صبر کرنے کی وجہ سے ملی، چلو ہم بھی صبر کرتے ہیں، وہ صبر کا بھرپور مظاہرہ کریں گے، لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا، پس اس وقت کہیں گے ہم صبر کریں یا بےصبری، اب چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں۔ یہ ان کی باہمی گفتگو جہنم کے اندر ہوگی۔ قرآن کریم میں اس کو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
15: اس آیت کریمہ میں آخرت کی زندگی کا ضروری ہونا بھی بیان فرمایا گیا ہے اور اس پر کافروں کو جو شبہ ہوتا ہے۔ اس کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ پہلے تو یہ فرمایا گیا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق ایک برحق مقصد کے لیے کی گئی ہے۔ اور وہ مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرماں برداروں کو انعام دیا جائے اور نافرمانوں اور ظالموں کو سزا ملے اگر آخرت کی زندگی نہ ہوتی تو نیک اور بد سب برابر ہوجاتے۔ لہذا انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک دوسری زندگی ہو جس میں ہر انسان کو اس کے مناسب بدلہ دیا جاسکے۔ رہا کافروں کا یہ اعتراض کہ مر کر مٹی میں مل جانے کے بعد انسان کس طرح دوبارہ زندہ ہوں گے۔ تو اس کا جواب اگلے جملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت نمبر 21 تا 22
دعوت اسلامی اور داعیان حق کی یہ داستان ، اور جھٹلانے والوں اور ڈکٹیٹروں کی یہ کہانی اب اس دنیا کے اسٹیج سے آخرت کے اسٹیج پر منتقل ہوگئی ہے اور نہایت ہی دلچسپ منظر ہے۔
وبرزوا للہ جمیعاً ( 14 : 21) “ اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بےنقاب ہوں گے ”۔ یہ سرکش ڈکٹیٹر بھی کھڑے ہیں۔ اللہ کے سامنے اور ان کے کمزور کردار والے متبعین بھی کھڑے ہیں جنہوں نے ذلت اور کمزور کا کردار پسند کرلیا تھا ۔ شیطان بھی ایک طرف کھڑا ہے۔ دوسری جانب وہ لوگ بھی کھڑے ہیں جو رسولوں پر ایمان لائے تھے اور نیک کام کرتے تھے ۔ یہ سب اب ایک میدان قیامت میں ہیں ، کھلے میدان میں ۔ اللہ کے لئے تو یہ پہلے بھی ظاہر…
Read the full tafseer →10 یعنی سب سے بڑی عدالت میں پیشی ہوگی۔
1 یہ اتباع اپنے متبوعین سے کہیں گے۔ یعنی دنیا میں تم بڑے بن کر بیٹھے تھے اور ہم نے تمہاری بہت تابعداری کی تھی۔ آج اس مصیبت کی گھڑی میں کچھ تو کام آؤ، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ عذاب الٰہی کے کسی حصہ کو ہم سے ذرا ہلکا کردو۔ یہ دوزخ میں جانے کے بعد کہیں گے یا میدان حشر میں، ابن کثیر نے پہلے احتمال کو ترجیح دی ہے لقولہ تعالیٰ (وَاِذْ يَتَـحَاۗجُّوْنَ فِي النَّارِ فَيَقُوْلُ الضُّعَفٰۗؤُا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا) 40 ۔ غافر :47) وغیر ذالک من الآیات۔ واللّٰہ اعلم۔
2 یعنی اگر خدا دنیا میں ہم کو ہدایت کی توفیق دیتا تو ہم تم کو بھی…
Read the full tafseer →آیت 21 وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا فَقَال الضُّعَفٰۗؤُا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَاب اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ
کمزور لوگ طاقتور لوگوں سے جنہیں وہ دنیا میں اپنے سردار اور لیڈر مانتے تھے کہیں گے کہ ہم آپ کے فرمانبردار تھے آپ کا ہر حکم مانتے تھے آپ کی خدمت کرتے تھے آپ کے جھنڈے اٹھاتے تھے آپ کے لیے زندہ باد کے نعرے لگاتے تھے تو کیا آپ ہماری ان خدمات کے عوض آج اس عذاب سے ہمیں کچھ رعایت دلا سکتے ہیں ؟
قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَيْنٰكُمْ
وہ کو را جواب دے دیں گے کہ ہم خود گمراہ تھے سو ہم نے تمہیں بھی گمراہ کیا۔
سَوَاۗءٌ…
Read the full tafseer →24 قیامت کو مطیع اور مطاع دونوں ایک جیسے بےبس ہوں گے :۔ اس آیت میں ان لوگوں کی اندھی تقلید کا ذکر ہے۔ یعنی دنیا میں جو لوگ آنکھیں بند کرکے دوسروں کے پیچھے چلنے کے عادی ہوتے ہیں یا اپنی کمزوری کو ایک معقول عذر سمجھ کر عالم لوگوں کی اطاعت کرتے ہیں یا اپنے بڑے بزرگوں کو پارسا سمجھ کر ان کی اندھی تقلید کرتے چلے جاتے ہیں جب وہ اللہ کی عدالت میں حاضر ہوں گے تو وہ اپنے بڑے بزرگوں سے جن کی یہ پیروی کرتے رہے تھے، پوچھیں گے کہ دنیا میں تو ہم ساری عمر تمہیں بڑا سمجھ کر تمہاری ہی اطاعت کرتے رہے۔ بتاؤ آج کی مشکل گھڑی میں ہماری کچھ حمایت کرسکتے ہو تاکہ ہمارا عذاب کچھ ہلکا ہی ہوجائے ؟ وہ کہیں گے کہ آج تو ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
35۔ ذکر قیامت کا ہورہا ہے۔ کوئی ایسا نہیں جس کی پیشی وہاں نہ ہو، اور کوئی ایسا نہیں کہ بجائے اللہ کی پیشی اس کے سامنے ہو۔
36۔ (چنانچہ ہم تمہاری ہی پیروی میں گمراہ ہوئے) (آیت) ” قال الضعفؤا للذین استکبروا “۔ یعنی جو لوگ اس دنیا میں عوام واصاغر سمجھے جاتے تھے وہ قیامت میں اسی دنیا کے خواص و اکابر سے یوں گفتگو کریں گے۔
37۔ (کہ شدید ترین مصیبت کے وقت اس کا کسی قدر ہلکا ہوجانا بھی بہت غنیمت معلوم ہوتا ہے) (آیت) ” من شیء “۔ یعنی کل عذاب تو بہرحال نہیں ہٹ سکتا۔ اس کا کچھ بھی جزء ہٹ جائے تو ہم اسی کو غنیمت سمجھیں۔ وہ جو دنیا میں خواص و اکابر سمجھے جاتے تھے وہ تمامتر اپنی بےبسی اور بےکسی کا اعتراف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
آیت نمبر 13 تا 21
ترجمہ : اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تم کو یقیناً ملک بدر کردیں گے الایہ کہ تم ہمارے مذہب میں داخل ہوجاؤ، تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کافروں ہی کو غارت کردیں گے اور ان کے ہلاکت کے بعد تم کو ان کی زمین پر بسا دیں گے، یہ مدد اور وراثت ارضی اس کیلئے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھے گا اور عذاب کی وعید کا ڈر رکھے گا اور رسولوں نے اپنی قوم کے مقابلہ میں اللہ سے مدد طلب کی اور اللہ کی اطاعت کے مقابلہ میں ہر سرکشی کرنے والا ضدی حق کا دشمن نامراد ہوگیا، اس کے سامنے جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا جہاں وہ پیپ کا پانی پلایا جائیگا، اور وہ ایسا پانی…
Read the full tafseer →وبرزوا اللہ جمیعا اور اللہ کے حکم سے (اور حساب فہمی کیلئے) سب کے سب (اپنی قبروں سے) باہر نکل آئے (یعنی قیامت کے دن یقیناً قبروں سے نکل آئیں گے ‘ گویا نکل ہی آئے) ۔
فقال الضعفؤ پس کہیں گے : کمزور (نچلے طبقہ کے) لوگ۔ کمزور سے مراد ہیں : مال و دولت میں کمزور ‘ یا عقل و دانش میں کمزور۔
للذین استکبروا ان لوگوں سے جو (دنیا میں) بڑے بن بیٹھے تھے۔ یعنی ان سرداروں اور لیڈروں سے کہیں گے جو پیغمبروں کے اتباع سے روکتے تھے۔
انا کنا لکم تبعا ہم تو بلاشبہ تمہارے تابع حکم تھے۔ تم نے پیغمبروں کی تکذیب اور ان سے اعراض کرنے کا حکم دیا تھا ‘ ہم تمہارے حکم پر چلے۔ تبعٌ‘ تابعٌکی جمع ہے۔
فھل انتم مغنون عنا من عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(19۔ 20) اے محمد ﷺ کیا آپ کو یہ معلوم نہیں (یہاں مخاطب اپنے نبی کو کیا ہے مگر مقصود آپ کی قوم ہے) کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو اظہار حق اور باطل یا یہ کہ زوال وفناء کے لیے پیدا کیا ہے مکہ والو اگر وہ چاہے تو تم سب کو ہلاک کردے یا موت دے دے اور ایک دوسری مخلوق پیدا کر دے جو تم سے بہتر ہو اور اللہ تعالیٰ کی تم سے زیادہ فرمانبردار ہو اور یہ کرنا اللہ کے لئے بالکل مشکل نہیں، اور بڑے درجے اور اچھے درجے کے لوگ سب اللہ کے حکم سے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے تو چھوٹے درجے کے لوگ بڑے درجے کے کافروں سے کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ ہم کو اپنے دین کی راہ دکھلاتا تو ہم تمہیں کو بھی اس کے دین کا راستہ…
Read the full tafseer →وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا۔۔ :”تَبَعًا“ یہ ”تَابِعٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”خَادِمٌ“ کی جمع ”خَدَمٌ“ ہے، یعنی اس دن دنیا میں چھپاؤ کی تمام جگہیں ختم ہوجائیں گی۔ پہاڑوں کی بلندیاں، سمندروں کی گہرائیاں اور سطح زمین کی کرویّت ختم ہو کر روٹی کی طرح صاف زمین پر ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگی۔ دنیا میں کمزور اور طاقت ور مرید و مرشد، رعایا اور سردار ایک جیسی عاجزی اور بےبسی کے ساتھ اللہ کے سامنے ہوں گے، تو کمزور لوگ اپنے گمراہ کرنے والے بڑوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے تھے اور اس وجہ سے ہم نے انبیاء کو جھٹلایا اور اللہ سے کفر کیا، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے بچانے میں ہمارے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت نمبر 21 تا 22
وبرزوا للہ جمیعا یعنی قیامت کے دن اپنی قبروں سے ظاہر ہوں گے۔ البروز کا معنی ظہور ہوتا ہے۔ اور براز کھلی جگہ کو کہتے ہیں کیونکہ وہ ظاہر ہوتی ہے، اسی سے لوگوں کے سامنے آنے والی عورت کو امرأۃ برزۃ کہا جاتا ہے۔ برزوا کا معنی ہوگا کہ وہ اپنی قبروں سے ظاہر ہوئے۔ فعل ماضی ہے مگر معنی مضارع کا ہے اور وخاب کل جبار عنید۔ کے ساتھ یہ متصل ہے، یعنی جب رسولوں نے فتح کی التجا کی تو قریب ہے کہ وہ انہیں ہلاک کردے گا، پھر روز حشر اٹھائے گا اور سب کے سب اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوں گے، کوئی چھپانے والا انہیں اللہ سے نہیں چھپا سکے گا۔ للہ یعنی اللہ تعالیٰ کے انہیں ظاہر کرنے کے حکم کی وجہ سے فقال…
Read the full tafseer →1:۔ امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقال الضعفوا “ یعنی تابعداری کرنے والے (آیت) ” للذین استکبروا “ یعنی قیادت کرنے والا لیڈر۔
2:۔ امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے (آیت) ” سوآء علینا اجزعنا امر صبرنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ سو سال تک بےقراری کریں گے اور سو سال تک صبر کریں گے۔
اہل جہنم کا مل کر زاری کرنا :
3:۔ امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ دوزخ والے بعض بعض سے کہیں گے آجاؤ ہم روئیں اور تضرع اور زاری کریں اللہ تعالیٰ کی طرف کیونکہ جنت والوں نے جنت کو پایا اپنے رونے سے اور اللہ تعالیٰ کی طرف تضرع…
Read the full tafseer →[وَبَرَزُوْا : اور وہ لوگ سامنے آئیں گے ] [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ جَمِيْعًا : سب کے سب ] [فَقَالَ : پھر کہیں گے ] [ الضُّعَفٰۗؤُا : ضعیف لوگ ] [لِلَّذِيْنَ : ان سے جنھوں نے ] [اسْـتَكْبَرُوْٓا : بڑائی چاہی [انا كُنَا : بیشک ہم تھے ] [ لَكُمْ : تمہاری ] [تَبَعًا : پیروی کرنے والے ] [ فَهَلْ : تو کیا ] [انتم : تم لوگ ] [مُّغْنُوْنَ : دور کرنے والے ہو ] [عَنَا : ہم سے ] [مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ : اللہ کے عذاب میں سے ] [مِنْ شَيْءٍ : کچھ بھی ] [ قَالُوْا : وہ لوگ کہیں گے ] [ لَوْ : اگر ] [هَدٰىنَا : ہدایت دیتا ہم کو ] [اللّٰهُ : اللہ ] [لَهَدَيْنٰكُمْ : تو ہم ضرور ہدایت دیتے تم کو ] [سَوَاۗءٌ:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
نیز فرمایا (اِنْ یَّشَاْ یُذْھِبْکُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ ) (اگر وہ چاہے تو تمہیں معدوم کردے اور نئی مخلوق پیدا فرما دے) (وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ ) (اور یہ اللہ پر ذرا بھی مشکل نہیں ہے)
اس کے بعد میدان حشر کا ایک منظر بیان فرمایا اور وہ یہ کہ قیامت کے دن چھوٹے بڑے سب قبروں سے نکل کر ظاہر ہونگے اس وقت جب عذاب سامنے آئے گا اور کفر و شرک کی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو آپس میں ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور پہچانیں گے اس وقت چھوٹے لوگ جو دنیا میں کمزور تھے اپنے بڑوں سرداروں چودھریوں اور لیڈروں کے پیچھے چلتے تھے اور ان کی بات ماننے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی دعوت…
Read the full tafseer →قیامت کے دن کی باہم گفتگو اور پیشوایان کفر کی ذلت اور ندامت کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ : وبرزوا للہ جمیعا .... الیٰ .... ام صبرنا مالنا من محیص۔
(ربط) گزشتہ آیات میں پیغمبروں کے انکار کی سزا کا ذکر تھا اب قیامت کے دن کافروں کی باہم گفتگو کو ذکر ہے کہ قیامت کے دن کفار اپنے پیشواؤں سے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمہارے پیرو تھے کیا آج کے دن تم ہم کو عذاب سے بچا سکتے ہو وہ انکار کریں گے کہ آج ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتے اور یہ عذر کریں گے کہ ہم خود گمراہ تھے اگر ہم راہ راست پر ہوتے تو تمہیں کیوں گمراہ کرتے چناچہ فرماتے ہیں، اور سب مومن اور کافر اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور قبروں سے نکل کر خدا کے…
Read the full tafseer →24:۔ وقائع کا چوتھی بار ذکر۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ اس میں قیامت کا ایک ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے۔ میدانِ حشر میں جب مشرک راہنما اور ان کے پیرو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے اور سب کو اپنا انجام سامنے نظر آرہا ہوگا کہ ابھی جہنم کے المناک عذاب میں داخل کیے جائیں گے اس وقت کمزور لوگ یعنی وہ عوام جو دنیا میں مشرک پیشواؤں کے بہکانے سے اور اہل اقتدار مشرکوں کے ڈر سے شرک میں مبتلا رہے میدانِ حشر میں وہ اپنے پیشواؤں اور لیڈروں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے پیچھے چل کر گمراہ ہوئے اور تم نے ہمیں کئی سبز باغ دکھا کر شرک کی راہ پر ڈالا اور اللہ کے پیغمبروں کو ماننے اور ان کی تبلیغ سننے سے روکا تو کیا آج تم…
Read the full tafseer →(ربط آیات)
رسالت کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے منکرین توحید رسالت کا انجام بھی بیان فرمایا اور یہ بھی کہ جو کفر شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور جن کا عقیدہ پاک نہیں ، ان کے اچھے اعمال بھی ضائع ہوجاتے ہیں ، قیامت کے دن ایسے اعمال راکھ کے ڈھیر کی مانند ہوں گے جنہیں آندھی اڑا لے جائے ، فرمایا اعمال کا دارومدار ایمان پر ہے ، جب تک ایمان درست نہیں ہوگا عقیدہ خالص نہیں ہوگا ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین نہیں ہوگا ، اس وقت تک اعمال بےسود ہونگے ایسے لوگوں نے کارخانہ قدرت کو سمجھا ہی نہیں ، وہ اس بات کو نہیں پاسکے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں برحق پیدا کیا ہے اور جزائے عمل واقع ہو کر رہے گی ،
(خدا کے…
Read the full tafseer →وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰۗؤُا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَيْنٰكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِيْصٍ
برز
البَرَاز : الفضاء، وبَرَزَ : حصل في براز، وذلک إمّا أن يظهر بذاته نحو : وَتَرَى الْأَرْضَ بارِزَةً
[ الكهف/ 47] تنبيها أنه تبطل فيها الأبنية وسكّانها، ومنه : المبارزة للقتال، وهي الظهور من الصف، قال تعالی: لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ [ آل عمران/ 154] ، وقال عزّ وجلّ : وَلَمَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
ترکیب : ان اللّٰہ جملہ قائم مقام دونوں مفعولوں کے الم تر سے۔ من عذاب اللّٰہ موضع نصب میں ہے حال ہو کر کیونکہ اصل میں شیء کی صفت ہے تقدیرہ من شیء من عذاب اللہ من زائدۃ ای شیئا کائنًا من عذاب اللہ الا ان استثناء منقطع ہے لان دعائہ لم یکن سلطاناً ای حجۃ مصرخی جمہور بفتح الیاء پڑھتے ہیں اور یہ جمع مصرخ کی اول ی جمع کا دوم ی متکلم میں ادغام ہوگیا وادخل برزوا پر معطوف۔
تفسیر : کفار کے غرور آمیز کلمات کے جواب میں پہلے تو خود ان کا برباد ہونا اور جہنم میں جانا اور ان کے بعد انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے گروہ کا ان کی زمین اور ملک پر قابض اور متصرف ہونا بیان فرمایا تھا۔ اب ان مخالفین کے دل پر اس بات…
Read the full tafseer →وَبَرَزُوْالِلّٰہِ جَمِعْیًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓـؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْ ٓا اِنَّا کُنَّا لَکُمْ تَبَعًا فَھَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ مِنْ شَیْ ئٍ ط قَالُوْا لَوْھَدٰنَا اللّٰہُ لَھَدَیْنٰـکُمْ ط سَوَآئٌ عَلَیْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَالَنَا مِنْ مَّحِیْص۔ (سورۃ ابراھیم : 21)
(اور ( قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ کے سامنے سب حاضر ہوں گے۔ تو کمزور لوگ، ان لوگوں سے جو بڑے بنے رہے، کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع رہے ہیں تو کیا آج تم ہمیں بچا سکتے ہو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے۔ وہ جواب دیں گے، اگر اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہدایت دی ہوتی تو ہم بھی تمہیں ہدایت کی راہ دکھاتے۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ جس طرح زمین و آسمانوں اور انسانوں کو پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا ہے اسی طرح دوبارہ زندہ کرنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ انسانوں کو دوبارہ پیدا کرے گا جس کے لیے لفظ ” بَرَزُوْا “ استعمال کیا ہے جس کا معنی ہے پردے سے نکلنا۔ پردے سے مراد عالم برزخ ہے جسے عرف عام میں قبر کی زندگی کہا جاتا ہے۔ قیامت کے پہلے مرحلہ میں ساری مخلوق موت کے گھاٹ اتار دی جائے گی۔ یہاں تک کہ زمین و آسمان بھی ختم کردیے جائیں گے۔ پھر ایک خاص مدت کے بعداللہ تعالیٰ اسرافیل کو پیدا کر کے اسے صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ جب اسرافیل صور پھونکے گا تو انسان اور ہر جاندار زندہ ہو کر اپنے اپنے مقام سے نکل کر…
Read the full tafseer →21: وَبَرَزُوْالِلّٰہِ جَمِیْعًا (وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمام باہر نکل آئیں گے) قیامت کے دن ظاہر ہونگے۔ ماضی کے لفظ سے اس لئے لائے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ جو اس نے خبر دی ہے وہ اسی طرح ہے جیسا کہ وہ ہوچکی اور اسکی مثال، و نادٰی اصحاب الجنۃ ] الاعراف : 44[ ونادٰی اصحاب النار ] الاعراف : 50[ وغیر ذلک۔
بروز کا مطلب :
اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپی نہیں کہ اس کے سامنے ظاہرہو۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ارتکاب فواحش کے وقت آنکھوں سے یہ گمان کر کے چھپتے تھے کہ یہ حالت اللہ تعالیٰ سے چھپنے والی ہے۔ (حالانکہ واقعہ میں ایسا نہیں تھا) جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ اپنے نفوس کے نزدیک بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے…
Read the full tafseer →21۔” وبرزوا اللہ جمعیا ً “ یعنی وہ سب کے سب اپنی قبروں سے باہر نکل آئے اور سب ظاہر ہوجائیں گے۔” فقال الضعفائ “ ان کی پیروی کرنے والے لوگ کہیں گے ” للذین استکبروا “ یعنی ان لیڈروں سے کہیں جو پیغمبروں کی پیروی سے روکتے تھے۔” انا کنا لکم تبعا ً “ جمع تابع کی ہے جیسے حرس جمع ہے حارس کی ۔ ” فھل انتم مغنون “ دفاع کرنے والے ہو ۔ ” عنا من عذاب اللہ من شی قالوا “ اپنے پیروکاروں سے کہو کہ وہ تمہیں اس عذاب سے نجات دیں ۔” لو ھدانا اللہ لھدینا کم “ اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تو تم کو بھی ہدایت دیتے لیکن جب ہم گمراہ ہوئے تو پھر ہم نے تمہیں گمراہی کی طرف دعوت دی ۔” سواء علینا اجز عنا ام صبرنا مالنا من…
Read the full tafseer →21۔ اس آیت میں فرمایا کہ ساری مخلوق قیامت کے دن ایک کشادہ میدان میں کھڑی کی جاوے گی اور ان کے اعمال وہاں ظاہر کئے جائیں گے۔ اگرچہ ہر شخص کے عمل کا علم خدا کو ہے مگر جزا و سزا کا دارو مدار اس نے اپنے علم پر نہیں رکھا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ وہاں سب کے عمل ظاہر کئے جائیں گے تاکہ ہر ایک کو دوسرے کے عمل کی خبر ہوجائے اور پھر عمل کے مطابق سزا کا ہونا عین انصاف پر خیال کیا جائے غرض کہ جب سب جمع ہولیں گے اور جزا سزا ہوجائے گی تو بچارے کمزور اور چھوٹی حیثیت کے آدمی بڑے لوگوں سے یہ کہیں گے کہ ہم تمہیں دیکھ کر اور تمہارے کہنے سے ہر ایک بات میں تمہارے ہی تابع رہے اور خدا و رسول پر ایمان نہیں لائے تمہیں بھی…
Read the full tafseer →(وبرزو اللہ جمعاً ) ” اور سب لوگ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے۔ “ یعنی قیامت کے روز جب صورپھونکا جائے گا تو تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوگی، سب اپنی اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی خدمت میں جائیں گے۔ وہ ایک ہموار زمین میں کھڑے ہوں گے جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے اور اس سے ان کی کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی۔ پس جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں گے تو آپس میں جھگڑا کریں گے، ہر شخص اپنے آپ کی مدافعت کرے گا۔ مگر وہ ایسا نہیں کرسکیں گے۔ (فقال الضعفوا) ” پس کمزور کہیں گے “ یعنی پیروی کرنے والے اور مقلدین (للذین استکبروا) ” بڑائی والوں کو “ یہ وہ لوگ ہیں…
Read the full tafseer →37۔ قیامت کے روز کفارکاباہم مکالمہ اور ان کے پیشواؤں کا اپنی گمراہی کا اقرار و اعتراف :
یعنی برزواماضی مضارع اور مستقبل کے معنی میں ہے، کہ ضعفاء اور مستکبرین کا یہ مکالمہ ومناظرہ ابھی ہوا نہیں بلکہ قیامت میں ہوگا، لیکن چونکہ اس کا وقوع نہایت یقینی اور انتہائی قطعی ہے، اس لیے اس کو ماضی کے صیغے سے تعبیر فرمایا گیا ہے، اور یہ بلاغت کا ایک مشہور و معروف اسلوب ہے، برزوا " براز " سے ماخوذ ومشتق ہے اور براز اس کھلے میدان کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی چیز کسی کو چھپانے والی موجود نہ ہو، (محاسن التاویل وغیرہ) سو جب پوری مخلوق اپنی قبروں سے نکل کر حشر کے اس کھلے میدان میں جمع ہوگی جس کی کوئی نظیرومثال اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–23
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال
تشریح : ان آیات میں مسلمان کے عقائد اللہ کی حاکمیت، یعنی توحید، آخرت اور کائنات کے وہ راز جو ابھی تک ہمارے بڑے سائنسدان بھی حل نہیں کرسکے ان کی طرف بڑے معنی خیز اشارات موجود ہیں جن کو بنیاد بنا کر زمین کے آغاز ساخت، عمل اور پھر انجام کے بارے میں کچھ کچھ معلومات مفکرین نے حاصل کی ہیں۔ یہی تمام مسائل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا گیا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں اور عرب میں ہی کیوں نازل ہوا۔ تو اس کا جواب دیا جا چکا ہے مزید جواب یہ ہے کہ اول تو انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی بہترین ہوسکتا ہے کوئی فرشتہ یا جن مناسب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
واضح دلائل اور اتمام حجت کے بعد بھی کفار اپنے رویے سے باز نہ آئے بلکہ پہلے سے بہت بڑھ گئے اور اللہ جل جلالہ کے رسولوں سے کہنے لگے کہ بہتر یہ ہے کہ تم بھی ہمارے ہی عقیدے پر واپس آجاؤ یعنی ان کی نادانی کی حد یہ ہے کہ بعثت سے پہلے تو رسول کوئی دعوت نہیں دیتے تو انہوں نے گمان یہی کر رکھا تھا کہ شاید یہ بھی ہمارے ہی عقیدے پر ہیں ۔
(نبی کی ولایت)
حالانکہ نبی قبل بعثت بھی کفر وشرک اور نافرمانی وسرکشی میں کبھی مبتلا نہیں ہوتا اور اس کے مزاج میں ایک خاص تقدس سمو دیا گیا ہوتا ہے جسے نبی کی ولایت کہا جاتا ہے اور اولیاء کی ولایت سے یہ اسی طرح شان ہوتی ہے جو اس کے ہر کام سے…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ تمہارے کہنے پر چلتے تھے اور اس وجہ سے ہم نے انبیاء ( علیہ السلام) کی تکذیب کی اور اللہ سے کفر کیا۔
4 ۔ ہم تو خود گمراہ رہے تمہیں سیدھی راہ کیسے لگاتے۔
Read the full tafseer →(14:21) برزوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ باب نصر بروز سے۔
وہ کھلم کھلا سامنے ہوئے۔ یا سامنے آنا۔ یہاں ماضی بمعنی مضارع مستقبل مستعمل ہے۔ وہ کھلم کھلا (اللہ کے ) سامنے آئینگے۔ (روز قیامت) قرآن مجید میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ برزوا کے لئے ملاحظہ ہو 3:154 ۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کا مرجع جملہ مخلوق ہے۔
الضعفؤا۔ اور الضعفاء میں محض رسم الخط کا فرق ہے۔
الضعفاء سے مراد وہ ضعیف الرائے لوگ ہیں جو دوسروں کی رائے کا اتباع کرتے ہیں۔ اور اسی طرح الذین الستکبروا سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ضعفاء کو اپنا مطیع اور متبع بنایا تھا۔ اور جنہوں نے ضعفاء کو گمراہ کیا اور اپنے نبیوں کی نصیحت کو سن کر اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 21
رماد راکھ۔ اشتدت تیز چلی۔ الریح ہوا۔ عاصف تیز آندھی۔ لایقتدرون وہ طاقت وقدرت نہیں رکھتے ہیں۔ کسبوا انہوں نے کمایا۔ یشآء وہ چاہتا ہے۔ یذھب وہ لے جائے۔ وہ جاتا ہے۔ خلق جدید نئی مخلوق ۔ برزوا وہ ظاہر ہوئے۔ وہ حاضر ہوں گے۔ الضعفوا (ضعیف) ، کمزور ۔ استکبروا انہوں نے تکبر کیا۔ بڑائی کی۔ تبع پیچھے ۔ تابع داری کرنا ۔ مغنون بچانے والے ، ہلکا کرنے والے۔ ھدنا اس نے ہمیں راستہ سمجھایا، بتایا ۔ اجزعنا کیا ہم گھبرائیں ، چلائیں محیص چھٹکارا پانے کی جگہ ۔
تشریح :- آیت نمبر 18 تا 21
قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ انسان دوسرے انسانوں کی بھلائی کے لئے جو کام بھی…
Read the full tafseer →تمام مخلوق قیامت کے دن میدان محشر میں جمع ہوگی جزا و سزا کے لیے۔
اس آیت میں فرمایا کہ ساری مخلوق قیامت کے دن ایک کشادہ میدان میں کھڑی کی جاوے گی اور ان کے اعمال وہاں ظاہر کیے جائیں گے اور پھر عمل کے مطابق جزا و سزا کا ہونا عین انصاف پر خیال کیا جائے گا۔ غرضیکہ جب سب جمع ہولیں گے اور جزا و سزا ہوجائے گی تو بجائے کمزور اور چھوٹی حیثیت کے آدمی بڑے لوگوں سے یہ کہیں گے کہ ہم تمہیں دیکھ کر اور تمہارے کہنے سے ہر ایک بات میں تمہارے ہی تابع رہے اور خدا و رسول پر ایمان نہیں لائے۔ تمہیں بھی اب مناسب ہے کہ یہاں ہماری کچھ کام آؤ اور خدا کے اس عذاب میں کسی قدر کم کراؤ۔ وہ جواب دیں گے کہ اگر ہم دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
[10] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328۔
Read the full tafseer →کمزوروں کی فریاد بڑوں بڑوں سے :
(ف 2) جب لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور جمع ہوں گے اور اپنے اپنے نامہ اعمال سے آگاہ ہوجائیں گے ، تو اسی وقت زمین کا وہ طبقہ جو ضعفاء اور کمزور لوگوں کا ہے ۔ کبراء اور بڑے بڑے لوگوں سے کہے گا ، ہم تو دنیا میں تمہارے تابع تھے ، جب تم نے عیش تکلیف کی محفلیں آراستہ کیں ، شراب و لے سے شغل کیا تو ہم نے تمہاری تقلید کی ، ہم سمجھے ، جب سمجھدار اور بڑے بڑے لوگ ان باتوں میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھے ، تو واقعی یہ بات جائز ہوگی ، ہم نے بےخوفی سے گناہ کی جانب قدم بڑھائے ، کیا آج تمہارے یہاں شنوائی نہیں ہے ؟ تمہارا اثرورسوخ کیا ہوا ، کیا یہاں رشوت نہیں چلتی ، اور کیا تم ہمیں عذاب سے…
Read the full tafseer →21 ۔ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو سب لوگ نکل کھڑے ہوں گے اور سب اس کے سامنے پیش ہوں گے پھر کمزور اور چھوٹے چھوٹے درجے کے لوگ اپنے روساء متکبرین اور بڑے درجے کے لوگوں سے کہیں گے ہم دنیا میں تمہارے کہنے پر چلا کرتے تھے اور ہم کو تمہارے تابع اور فرمانبردار تھے تو کیا تم آج ہم پر سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کچھ حصہ ہٹا سکتے ہو اور ہم کو عذاب خدا سے بچا سکتے ہو وہ بڑے درجہ کے لوگ جواب دیں گے اگر اللہ تعالیٰ ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو بھی ہدایت کرتے اور اگر اللہ تعالیٰ ہم کو عذاب سے بچنے کا راستہ دکھاتا تو ہم بھی تمہارے صحیح رہنمائی کرتے اب تو ہم سب کے لئے خواہ ہم گھبرائیں اور پریشان ہو یا…
Read the full tafseer →ف 9۔ یعنی اگر بالکل نہ بچاسکو تو کسی قدر بھی بچاسکتے ہو۔
1۔ اس سوال و جواب سے معلوم ہوگیا کہ طریق کفر کے اکابر بھی تابعین کے کچھ کام نہ آویں گے یہ طریق بھی نجات کا محتمل نہ رہا۔
Read the full tafseer →کمزوروں اور متکبروں کا ایک دوسرے پر سوال و جواب
22 ؎ زیر نظر آیت میں قیامت کا ذکر ہو رہا ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں جس کی حاضری وہاں نہ ہو اور کوئی ایسا نہیں کہ بجائے اللہ کے پیشی یا حاضری اس کے سامنے ہو۔ پیش ہونے والوں میں ہر قسم کے لوگ ہوں گے اگر پیر ہوں گے مرید بھی ‘ عالم ہوں گے تو جاہل بھی ‘ گروہوں گے تو چیلے بھی ‘ سردار اور آقا ہوں گے تو نوکر اور غلام بھی ‘ طاقتور ہوں گے تو کمزور بھی۔ دنیا کی صورت حال یہ تھی کہ چھوٹے ہمیشہ بڑے لوگوں کے تابع ہوتے ہیں اس لئے وہاں تابع ہوں گے تو متبوع بھی ہوں گے اور سب کے متعلق پوچھا جائے گا۔ فرمایا جب قیامت کا دن آئے گا تو طوعاً و کرماً سب کے سب اپنی اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–25
In the last verse here (8), it was said: قَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (And Musa said, "If you are ungrateful, you and all those on earth, then, Allah is free of all needs, worthy of every praise.) " This was said by Sayyidna Musa (علیہ السلام) to his people. He is telling them that should they or, for that matter, all inhabitants of the earth become ungrateful to Allah Ta’ ala, it is not going to cause any loss to Allah Ta’ ala. As for Him, He needs no praise or gratitude for Himself. He is Independent. He is beyond that. He is intrinsically Praised and…
Read the full tafseer →28. The word baruz means to emerge and also implies to become known. That is why it has been translated into“shall appear before Allah”, for it implies both these meanings. As a matter of fact, all the people are fully exposed all the time before Allah but they do not realize it. They will, however, realize it on the Day of Judgment when they shall be presented before the Greatest of all Judges that they were fully exposed before Him all along. So much so that every deed they did and each and everything they thought and desired is known to Him.
29. This is to serve as a warning to all those…
Read the full tafseer →