صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مسلمان سے جب اس کی قبر میں سوال ہوتا ہے تو وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد رسول اللہ ہیں یہی مراد اس آیت کی ہے۔ مسند میں ہے کہ ایک انصاری کے جنازے میں ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے قبرستان پہنچے ابھی تک قبر تیار نہ تھی۔ آپ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے آس پاس ایسے بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرند ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں جو تنکا تھا اس سے آپ زمین پر لکیریں نکال رہے تھے جو سر اٹھا کردو تین مرتبہ فرمایا کہ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ چاہو بندہ جب دنیا کی آخرت اور آخرت کی پہلی گھڑی میں ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے نورانی چہرے والے فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
سورة اِبْرٰهِیْم 39
یعنی دنیا میں ان کو اس کلمہ کی وجہ سے ایک پائدار نقطہ نظر، ایک مستحکم نظام فکر، اور ایک جامع نظریہ ملتا ہے جو ہر عقدے کو حل کرنے اور ہر گتھی کو سلجھانے کے لیے شاہ کلید کا حکم رکھتا ہے۔ سیرت کی مضبوطی اور اخلاق کی استواری نصیب ہوتی ہے جسے زمانہ کی گردشیں متزلزل نہیں کرسکتیں۔ زندگی کے ایسے ٹھوس اصول ملتے ہیں جو ایک طرف ان کے قلب کو سکون اور دماغ کو اطمینان بخشتے ہیں اور دوسری طرف انہیں سعی و عمل کی راہوں میں بھٹکنے، ٹھوکریں کھانے، اور تلون کا شکار ہونے سے بچاتے ہیں۔ پھر جب وہ موت کی سرحد پار کر کے عالم آخرت کے حدود میں قدم رکھتے ہیں تو وہاں کسی قسم کی حیرانی اور سراسیمگی و…
Read the full tafseer →آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ یعنی اللہ تعالیٰ مؤمنین کو تو کلمہ طیبہ اور قول ثابت پر ثابت قدم رکھتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں قبر ہی سے ان کے لئے راحت کے سامان جمع ہوجاتے ہیں مگر ظالموں یعنی کفار و مشرکین کو یہ خداوندی نصرت و امداد نہیں ملتی منکر نکیر کے سوالات کا صحیح جواب نہیں دے سکتے اور انجام کار ابھی سے ایک قسم کے عذاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں
وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ یعنی اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو چاہتا ہے کوئی طاقت نہیں جو اس کے ارادہ اور مشیت کو روک سکے حضرت ابی بن کعب ؓ، عبد اللہ بن مسعود، ؓ حذیفہ بن یمان، ؓ وغیرہ حضرات صحابہ نے فرمایا ہے کہ مومن کو اس کا…
Read the full tafseer →يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ۔
" کلمہ ثابت " سے مراد کلمہ توحید ہے : قول ثابت سے مراد وہی کلمہ توحید ہے جس کی آسمان و زمین اور فطرت و کائنات دونوں میں پائداری و استواری کی تعریف اوپر گزر چکی ہے۔ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ میں اضلال سے مراد کوششوں اور محنتوں کو رائیگاں کردینا ہے جیسا کہ سورة محمد کی آیت 1 میں ہے " الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ اضل اعمالہم (جنہوں نے کفر کیا اور خدا کی راہ سے لوگوں کو روکا خدا نے ان کی کوششیں رایگاں کردیں) "۔…
Read the full tafseer →27۔ 1 اس کی تفسیر حدیث میں اس طرح آتی ہے کہ ' موت کے بعد قبر میں جب مسلمان سے سوال کیا جاتا ہے، تو وہ جواب میں اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں پس یہی مطلب ہے اللہ کے فرمان، (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) 14۔ ابراہیم :27) کا (صحیح بخاری) ایک اور حدیث میں ہے کہ ' جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں اور وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔ پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے اٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں کہ اس شخص کے بارے میں تیری کیا رائے ہے، وہ مومن ہوتا ہے تو جواب دیتا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
21: دنیا میں جماؤ عطا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مومن پر کتنی زبردستی کی جائے وہ توحید کے اس کلمے کو چھوڑ نے کے لئے تیار نہیں ہوتا، اور آخرت میں جماؤ پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قبر میں جب اس سے سوال و جواب ہوگا تو وہ اپنے اس کلمے اور عقیدے کا اظہار کرے گا جس کے نتیجے میں اسے آخرت کی ابدی نعمتیں نصیب ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
آیت نمبر 24 تا 27
کلمہ طیبہ کی مثال اچھے درخت کی دی گئی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے ، پھلتا پھولتا ہے ، اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیکار جڑی بوٹیوں کی ہے ، جن کو کسان جہاں دیکھتا ہے بیکار اور مضر سمجھتے ہوئے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کسی جگہ اس کے لئے قرار نہیں ہے۔ یہ تمثیل اور تمثیلی منظر انبیاء اور سرکش اور ڈکٹیٹروں کے قصے سے لیا گیا ہے۔ اس قصے میں انبیاء اور داعیوں کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جھٹلانے والے سرکشوں کا جو انجام بتایا گیا ہے یہ تمثیل اس پر مبنی ہے۔ سلسلہ انبیاء ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ درخت تاریخ کے مختلف موسموں میں اپنا پھل دیتا رہا ہے ، کسی…
Read the full tafseer →4 یعنی حق تعالیٰ توحید و ایمان کی باتوں سے جن کی مضبوطی و پائیداری پچھلی مثال میں ظاہر کی گئی مومنین کو دنیا و آخرت میں مضبوط ثابت قدم رکھتا ہے۔ رہی قبر کی منزل جو دنیا و آخرت کے درمیان برزخ ہے اس کو ادھر یا ادھر جس طرف چاہیں شمار کرسکتے ہیں۔ چناچہ سلف سے دونوں قسم کے اقوال منقول ہیں۔ غرض یہ ہے کہ مومنین دنیا کی زندگی سے لے کر محشر تک اسی کلمہ طیبہ کی بدولت مضبوط اور ثابت قدم رہیں گے۔ دنیا میں کیسی ہی آفات و حوادث پیش آئیں، کتنا ہی سخت امتحان ہو، قبر میں نکیرین سے سوال و جواب ہو، محشر کا ہولناک منظر ہوش اڑا دینے والا ہو، ہر موقع پر یہ ہی کلمہ توحید ان کی پامردی اور استقامت کا ذریعہ بنے گا۔
5…
Read the full tafseer →آیت 27 يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ
یہاں قول ثابت سے مراد ایمان ہے۔ آخرت پر پختہ ایمان رکھنے والا شخص دنیا کے اندر اپنے کردار اور نظریات میں مضبوط اور ثابت قدم ہوتا ہے۔ اس کے حوصلے اس کے موقف اور اس کی صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ استقامت بخشتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اسی طرح کا ثبات آخرت میں بھی عطا ہوگا۔
Read the full tafseer →34 کلمہ طیبہ کی برکات میں سے ایک یہ ہے کہ مومن کسی حال میں بھی نہیں گھبراتا۔ وہ مصائب و مشکلات کے دور میں بھی اللہ پر بھروسہ رکھتا، ثابت قدم رہتا اور استقلال سے سب کچھ برداشت کرجاتا ہے اور آخرت میں تو اسے بعینہ وہی حالات و مناظر پیش آئیں گے جن پر وہ پہلے ہی ایمان رکھتا تھا۔ لہذا وہاں بھی اس کے گھبرانے کی کوئی وجہ نہ ہوگی اور اس کلمہ کی برکت سے وہاں بھی وہ ثابت قدم رہے گا۔
35 قبر میں سوال و جواب :۔ دنیا اور آخرت کے علاوہ ایک تیسرا مقام عالم برزخ یا قبر کا مقام ہے یعنی قبر میں جب فرشتے میت سے سوال کریں گے تو اس وقت بھی مومن ثابت قدم رہے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
سیدنا براء بن عازب…
Read the full tafseer →49۔ یعنی دنیا کے ہر امتحان میں بھی اور آخرت کے امتحان میں بھی۔ اسی دنیا کی زندگی میں ہر فرد بشر کو کیسی کیسی مشکلات کا سامنا ہوتا رہتا ہے۔ یہی ایمان ہی کی صراط مستقیم ایسی ہے جو اسے ہر امتحان میں ثابت قدم رکھتی اور ہر تاریکی میں روشنی دکھلاتی رہتی ہے اور پھر برزخ اور محشر میں ایک سے بڑھ کر ایک ہولناک منظر کے وقت بھی آڑے آنے والی چیز یہی کلمہ توحید و ایمان ہے۔ نجات کی راہ میں اور آخرت دونوں میں بجز دین توحید کے اور کوئی نہیں۔
50۔ (دنیا وآخرت دونوں میں) بےدین حقیقی چین اور آرام سے دنیا میں بھی محروم رہتا ہے اور آخرت میں اس کی حرمان نصیبی تو ظاہر ہی ہے۔ (آیت) ” الظلمین “۔ یعنی راہ توحید و ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
آیت نمبر 22 تا 27
ترجمہ : اور جب فیصلہ چکا دیا جائیگا، اور اہل جنت، جنت میں، دوزخی دوزخ میں داخل کر دئیے جائیں گے اور دوزخی شیطان کے پاس جمع ہوں گے تو ابلیس ان سے کہے گا، حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے بعث اور جزاء کے جتنے وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا کہ (بعث وغیرہ) کچھ ہونے والا نہیں ہے میں نے اس کو پورا نہیں کیا (یعنی اس کا جھوٹ ہونا ظاہر ہوگیا) اور میری تم پر کوئی زور زبردستی تو تھی نہیں کہ جس کے ذریعہ میں تم کو اپنی اطاعت پر مجبور کرتا البتہ اتنی بات ضرورت ہے کہ میں نے تم کو دعوت دی تو تم نے میری بات پر لبیک کہہ دیا، لہٰذا اب تم میری دعوت پر لبیک کہنے پر مجھے…
Read the full tafseer →یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ ویضل اللہ الظلمین اللہ ایمان والوں کو اس پکی بات (یعنی کلمۂ طیبہ) کی برکت سے دنیا اور آخرت میں مضبوط رکھتا ہے اور ظالموں (یعنی کافروں) کو (دین و امتحان میں) بچلا دیتا ہے۔ الْقَوْلِ الثَّابِت سے مراد ہے : کلمۂ توحید جس کا اعتراف خلوص کے ساتھ کیا گیا ہو۔ خلوص دل سے کلمۂ توحید کا اقرار دل میں جم جاتا ہے اور اس کا ثواب اللہ کے ہاں ثابت ہوجاتا ہے۔ دین کے معاملات میں دنیا کے اندر جو دکھ اور آلام اہل ایمان پر آتے ہیں ‘ ان کے ایمان کو نہیں ہلا سکتے ‘ وہ ایمان پر مضبوطی سے جمے رہتے ہیں۔ جیسے حضرت زکریا ‘ حضرت یحییٰ ‘ حضرت جرجیس ‘ حضرت…
Read the full tafseer →(27) جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے یا یہ کہ ان حضرات کو جو میثاق کے دن طیب خاطر سے ایمان لائے اور وہی لوگ اصحاب ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ کلمہ لا الہ الا اللہ“ ، کی برکت سے دنیا میں بھی مضبوط رکھتا ہے کہ وہ اس سے رجوع نہیں کرتے اور قبر میں بھی منکر نکیر کے سوال کے وقت انھیں ثابت قدم رکھتا ہے۔
اور ان مشرکین کو اللہ تعالیٰ کلمہ ”لاالہ الا اللہ“۔ سے دنیا میں بچلا دیتا ہے کہ وہ خوشی سے اس کے قائل نہیں ہوتے اور قبر میں بھی اور جس وقت وہ قبروں سے نکالے جاتے ہیں تب بھی انکو اس پر ثبات نہیں عطا کرتا اور وہ اہل شقاوت میں سے ہوتے ہیں اور بچلا نا اور ثابت قدم رکھنا یا یہ کہ منکرنکیر کے سامنے…
Read the full tafseer →يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : قول ثابت سے مراد کلمہ شہادت اور عقیدۂ توحید ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا میں سخت سے سخت آزمائشوں اور سزاؤں میں بھی اسلام پر قائم رکھتا ہے۔ اصحاب الاخدود کو دیکھ لیجیے، ان انبیاء و شہداء کو دیکھ لیجیے جو اللہ کی راہ میں قتل کردیے گئے، مگر انھوں نے اسلام کا دامن نہیں چھوڑا۔ ابراہیم ؑ کے آگ میں پھینکے جانے کو دیکھ لیجیے، ہمارے نبی ﷺ اور صحابہ کرام ؓ مثلاً بلال، عمار، یاسر، خباب، سمیہ، خبیب وغیرہم ؓ پر آنے والی تنگیوں اور تکلیفوں کو دیکھ لیجیے۔ اس آیت میں فرمایا کہ ان لوگوں کا کلمہ شہادت پر قائم رہنا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 27
قولہ تعالیٰ : یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قول ثابت لا الہ الا اللہ ہے۔ نسائی نے حضرت براء ؓ سے روایت کیا آپ نے فرمایا : یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ کہا جائے گا : تیرا رب کون ہے ؟ بندہ کہے گا : میرا رب اللہ اور میرا دین دین محمد ﷺ ہے، پس یہی اللہ کا ارشاد : یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ ہے۔
میں (قرطبی) نے کہا : امام مسلم کے بعض طرق میں حضرت براء ؓ سے موقوفا اسی طرح مروی ہے کہ یہ آپ کا قول ہے جب کہ اس کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ یہ مرفوع ہے جس…
Read the full tafseer →1:۔ امام طیالسی، بخاری، مسلم، ابوداود، ترمذی، نسائی ابن ماجہ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان سے جب قبر میں سوال کیا جائے گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) ” یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “
2:۔ امام ابن مردویہ نے براء بن عازب ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ قبر کے بارے میں ہے اگر وہ نیک آدمی ہے تو…
Read the full tafseer →[يُثَبِتُ : جما دیتا ہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [الَّذِينَ : ان لوگوں کو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ : جم جانے والی بات ہے ] [فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی میں ] [وَفِي الْاٰخِرَةِ : اور آخرت میں (بھی)] [وَيُضِلُّ : اور گمراہ کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں کو ] [وَيَفْعَلُ : اور کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [مَا : وہ جو ] [ يَشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ وَ یَفْعَلُ اللّٰہُ مَا یَشَآءُ ) (اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ظالمین سے کافرین مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے اللہ کی فطرت کو بدل دیا اور قول ثابت کی طرف راہ نہ پائی اور گمراہوں کی تقلید کرلی اور واضح دلائل کا اثر نہ لیا تو دنیا میں بھی اللہ نے انہیں راہ حق سے دور رکھا اور آخرت میں بھی وہ کلمہ ایمان زبان سے ادا نہ کرسکیں گے حدیث شریف میں ہے کہ جب منافق اور کافر سے قبر میں سوال کیا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق) کیا کہتا ہے تو جواب دیتا ہے لا ادری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
مثال کلمہ ایمان و کلمہ کفر، و ذکر سوال قبر
قال اللہ تعالیٰ : الم ترکیف ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ .... الیٰ .... ویفعل اللہ ما یشاء۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کافروں اور مومنوں کے اخروی نتائج کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں کلمہ ایمان اور کلمہ کفر کی مثال بیان فرماتے ہیں اور عالم برزخ میں اس کا اثر اور ثمر بیان کرتے ہیں تاکہ کلمہ توحید کی فضیلت اور کلمہ کفر کی قباحت ظاہر ہو۔
اس آیت میں کلمہ طیبہ سے کلمہ لا الہ الا اللہ مراد ہے۔ جیسا کہ حدیث میں اس کی تصریح ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اس کے تابع ہے وہ بھی مراد ہے کیوں کہ ملزوم کے ساتھ لوازم کا ہونا ضروری ہے مگر چونکہ اہل ایمان اس امت سے پہلے بھی گزرے ہیں جو…
Read the full tafseer →28:۔ یہ بشارت دنیوی واخروی ہے۔ ” اَلْاٰخِرَۃَ “ سے عالم برزخ مراد ہے یعنی اللہ تعالیٰ اہل اخلاص مومنین کو دنیا میں اور قبر میں کلمہ توحید کی برکت سے ثابت قدم رکھتا ہے ای یثبتھم بالبقاء علی ذلک مدۃ حیاتھم تاحیات ان کو ایمان پر قائم رکھتا ہے وفی الاخرۃ فلا یتلعثمون اذا سئلوا عن معتقدھم ھناک ولا تدھشہم الاھوال (روح ج 13 ص 217) ۔ اور قبر میں سوال جواب میں گھبرائیں گے نہیں اس تقریر کے مطابق یہ آیت عذاب قبر کے ثبوت پر دلیل ہے۔ یا اس سے قیامت مراد ہے اس صورت میں اس کا متعلق محذوف ہوگا ای یجیزھم یعنی آخرت میں ان کو ثواب دے گا۔ اس طرح یہ ترکیب ” علفتھا تبناً و ماء بارداً “ کے قبیل سے ہوگی۔ ” و یُضِلُّ…
Read the full tafseer →(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں رسالت ، قیامت اور جزائے عمل کا ذکر تھا ، اب توحید کا ذکر ہو رہا ہے ۔ گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے بات سمجھائی کہ توحید کے پاک کلمے کی مثال پاکیزہ درخت کی ہے جس کی جڑ مضبوط ، تنا ثابت اور شاخیں فضا میں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں ، ایسا درخت سدا بار آور ہوتا ہے ، اسی طرح کلمہ توحید کی جڑ عالم ملکوت میں ہے اور اس کلمے کو دنیا میں اپنا کر لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، مومن کے دل میں اس کلمے کی تصدیق قلبی بہت گہری ہوتی ہے ، زبان سے اس کا اقرار بھی بڑا سچا ہوتا ہے ، اور اعضاوجوارح کے ساتھ وہ ہمیشہ صداقت کا ثبوت پیش کرتا ہے ، اس کے اعمال واخلاق ظاہر ہوتے…
Read the full tafseer →يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ 27ۧ
ثبت
الثَّبَات ضدّ الزوال، يقال : ثَبَتَ يَثْبُتُ ثَبَاتاً ، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45]
( ث ب ت ) الثبات
یہ زوال کی ضد ہے اور ثبت ( ن ) ثباتا کے معنی ایک حالت پر جمے رہنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] مومنو جب ( کفار کی ) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم…
Read the full tafseer →1 ؎ سچی بات وہ ہے کلمہ اشھد ان لا آلہ الا اللہ 12
Read the full tafseer →یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ج وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ قف لا وَیَفْعَلُ اللّٰہُ مَایَشَآئُ ۔ (سورۃ ابراھیم : 27)
(اللہ تعالیٰ ثباتِ قدم عطا فرمائے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اس پختہ قول کی برکت سے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کے اعمال رائیگاں کردے گا۔ اور اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے۔ )
کلمہ طیبہ مومن کے لیے ثبات قدم کا باعث ہے
مذکورہ بالا آیات میں جس کلمہ طیبہ کا ذکر ہوا ہے وہی کلمہ ہے جو ایک مومن کے ایمان کا ذریعہ اور اس کی سیرت صالح کا ضامن ہے۔ اللہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : باطل عقیدہ کی بےثباتی اور اس کی ناپائیداری کا ذکر کرنے کے بعد عقیدہ توحید کا دنیا اور آخرت میں فائدہ ذکر فرمایا ہے۔
عقیدۂ توحید اپنانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کا صرف آخرت میں نہیں بلکہ دنیا کی زندگی اور موت کے وقت بھی اس کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ عقیدۂ توحید کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ پر خالص ایمان لاتے ہوئے خوشی اور غمی، عسر اور یسر میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔ اس کا دنیوی زندگی میں فائدہ یہ ہے کہ آدمی خوشی کے وقت اپنے آپ سے باہر نہیں ہوتا اور غم کے وقت مایوسی کا شکار نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کلمہ توحید کی وجہ سے مسلمان کو…
Read the full tafseer →27: یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (اللہ تعالیٰ مضبوط کرتے ہیں ایمان والوں کو) یعنی اس پر ان کو ہمیشگی دیتے ہیں بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ (قائم رہنے والی بات سے) وہ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کا اقرار بالقلب و القالب ہے فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (دنیا کی زندگی میں) جب ان کو دین کے سلسلہ میں آزمایا جاتا ہے تو پھر بھی وہ زائل نہیں ہوتے جیسا کہ اصحاب اخدود ثابت قدم رہے وغیرہ وَفِی الْاٰخِرَۃِ ( اور آخرت میں) جمہور کہتے ہیں کہ اس سے مراد قبر میں تلقین جواب منکر نکیر ہے اور درست بات پر ثابت قدمی ہے حضرت براء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے مومن کی روح کے قبض ہونے کا ذکر فرمایا۔ پھر…
Read the full tafseer →قول ثابت کی وضاحت
27۔” یثبت اللہ الذین آمنوا بالقول الثابت “ اس سے کلمہ توحید مراد ہے اور وہ لا الہ الا اللہ ہے۔ ” فی الحیوۃ الدنیا “ موت سے پہلے۔” وفی الاخرۃ “ اس سے مراد قبر ہے۔ یہی اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور بعض نے کہا کہ ” فی الحیوۃ الدنیا “ سے مراد قبر میں سوال و جواب کا ہونا ہے اور آخرت میں جی اٹھنے کے بعد سوال و جواب ہوگا ۔ یہی صحیح ہے۔ حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب مسلمان سے قبر میں سوال پوچھا جائے گا تو وہ گواہی دے گا ” ان لاالہ الا اللہ وان محمد ا ً رسول اللہ “ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” یثبت اللہ الذین آمنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ…
Read the full tafseer →27۔ بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد و نسائی وغیرہ میں چند روایتوں سے جو تفسیر اور شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی آدمی مرجاتا ہے اور اس کو اس کے عزیز و اقارب دفن کر کے الٹے پھرنے لگتے ہیں تو ابھی یہ لوگ اس مردہ کی قبر کے ایسے پاس ہوتے ہیں کہ ان کے چلنے میں ان کے پیروں کی کھس کھساہٹ کی آواز ہوتی ہے وہ مردہ کے کان میں جاتی ہے کہ اتنے میں منکر نیکر دو فرشتے آن کر مردہ کو اٹھا کر بٹھلا دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ رب تیرا کون ہے اور دین تیرا کیا ہے اگر یہ مردہ سچا مسلمان ہے تو ان فرشتوں کی خوفناک صورت کا اثر اس مردہ کے دل پر کچھ بھی نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے جو کامل طور پر قلبی ایمان کو قائم کرتے ہیں۔ جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے یہ اعمال اس ایمان کا ثمرہ ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دنیا کے اندر شبہات کے وارد ہونے کے وقت ہدایت اور یقین کے ذریعے سے ثبات اور استقامت عطا کرتا ہے اور جب شہوات پیش آتی ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں قطعی اور پختہ ارادہ عطا کرتا ہے تب وہ خواہش نفس اور اس کی مراد پر اس امر کو مقدم رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ آخرت میں، موت کے وقت دین اسلام اور خاتمہ بالخیر پر ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور قبر میں منکر نکیر کے سوالات کے وقت صحیح جواب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–52
حین سے مراد
قول باری ہے (توتی اکلھا کل حین باذن ربھا۔ ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے پھل دے رہا ہے) ابو ظبیان نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا ” صبح اور شام ! سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس شجرۂ طیبہ سے کھجور کا درخت مراد ہے جو ہر چھ ماہ بعد پھل دیتا ہے۔ مجاہد، عامر اور عکرمہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اسی طرح الحکم اور حماد سے بھی ان کا یہی قول منقول ہے۔ عکرمہ سے ایک روایت میں ان کا یہ قول مروی ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ آیت میں وارد لفظ ’ حسین ‘ سے مراد دو مہینے ہیں جو کھجور اتارنے سے لے کر نئے شگوفے نکلنے تک کی مدت ہے۔ سعید بن المسیب سے یہ بھی مروی ہے کہ…
Read the full tafseer →55۔ اہل ایمان کے لئے دنیا میں بھی ثابت قدمی :
کہ وہ راہ حق و صواب پر قائم اور ثابت قدم رہتے ہیں، اور زیغ وضلال کے جھگڑوں سے محفوظ رہتے ہیں، اور ہر فیصلہ کن مرحلے پر اس ایمان کی برکت اور اپنے رب کی عنایت و توفیق سے وہ صحیح فیصلہ کرتے ہیں اور ان کا رب ان کے ایمان کی برکت سے ان کی صحیح راہنمائی فرماتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ ان الذین امنو وعملوالصالحات یہدیہم ربہم بایمانہم تجری من تحتہم الانہار فی جنات النعیم (یونس : 9) یعنی بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے ان کا رب ان کی راہنمائی فرمائے گا ان کے ایمان کی برکت سے اور اس کے نتیجے میں، یہاں تک کہ وہ نعمتوں بھری ان جنتوں سے سرفراز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
اچھے کلمے اور برے کلمے کی مثال
تشریح : جیسا اللہ کا کلام خوبصورت، فائدہ مند اور مکمل ہے اسی طرح اس کی دی ہوئی مثالیں بھی مقصد کو سمجھانے کے لیے انتہائی بہترین ہیں۔ اچھی بات صرف کہنے والے کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات بھی بڑے گہرے اور نہ ختم ہونے والے اور ہر سننے والے کے لیے اتنے فائدہ مند ہوتے ہیں کہ جیسے ایک صحت مند مضبوط درخت کا سایہ اور پھل فائدہ مند ہوتا ہے۔ بیشمار لوگوں کو اس سے بیشمار اور دیر پا فائدے ملتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ رشد و ہدایت کی باتیں ہیں اور کفر و شرک کی باتوں کو اللہ نے سوکھے سڑے بدنما اور بھدے درخت سے تشبیہ دی ہے۔ جس کی نہ جڑ مضبوط نہ پھل نہ سایہ۔ قوموں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب آخری امید کے طور پر یہ بات باقی رہ جائے گی کہ شاید جن معبودان باطلہ کی پرستش کرتے عمر گذار دی وہی کسی کام آجائیں تو اس کا یہ ہوگا کہ جب قیامت کے روز فیصلہ ہوچکے گا تو کافر شیطان کے گرد جمع ہو کر کہیں گے کہ ہماری بربادی کا سبب تو تو بنا خود تو تباہ ہوا تھا ہمیں بھی لے ڈوبا اب ان بتوں کو کہو اور خود ہمارے لیے کچھ کرو تو وہ کم از کم اس روز کو کھری بات کہے گا کہ نامرادو مجھے ملامت کرنے آئے ہو ذرا غور کرو کہ اللہ جل جلالہ نے تمہارے ساتھ حق اور کھرے وعدے کئے تھے اور ان پر دلائل قطعیہ قائم فرمائے تھے جبکہ میں نے بھی تم سے وعدے کئے تھے مجھے اس سے انکار نہیں مگر یہ بھی سن…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ یعنی دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں کلمہ شہادت اور عقیدہ توحید پر ثابت قدم رکھتا ہے بعض مفسرین (رح) نے ” دنیا کی زندگی “ سے مراد قبر کا اور آخرت سے مراد قیامت کے دن کا حساب لیا ہے یعنی قبر میں جب مومن سے عقیدہ توحید اور دین کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو وہ بدوں کسی تردد کے نہایت یقین اور پختگی سے جواب دیتا ہے اور کافر و منافق کی طرح ھالا ادری (افسوس میں نہیں جانتا) نہیں کہتا۔ قبر میں منکر و نکیر (فرشتوں) کا آنا، ان کا مردوہ سے اس کے عقیدہ کے بارے میں سوال کرنا اور اس موقع پر مومن کا ” عقیدہ توحید “ پر ثابت قدم رہنا صحیح احادیث سے ثابت ہے مثلاً براء ؓ بن عازب سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے…
Read the full tafseer →(14:27) یثبت اللہ ۔۔ بالقول الثابت۔ ثبات بخشتا ہے اللہ تعالیٰ اس قول ثابت (کلمہ طیبہ) کی برکت سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 27
ضرب اس نے چلایا، بیان کیا، مارا۔ کلمۃ طیبۃ پاکیزہ بات، شجرۃ درخت ۔ اصل بنیاد، جڑ ثابت جمی ہوئی۔ فرع شاخ۔ شاخیں توتی دیتا ہے۔ اکل پھل۔ کل حین ہر وقت، ہر آن۔ الامثال مثالیں۔ یتذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ غور فکر کرتے ہیں۔ کلمۃ خبیثۃ گندی بات۔ اجتثت اکھاڑ لیا گیا، اکھاڑ لیا جائے ۔ فوق اوپر۔ قرار جماؤ، استحکام۔ یثبت جماتا ہے۔ ثابت رکھتا ہے۔ القول الثابت مضبوط و مستحکم بات۔ یضل وہ گم راہ کرتا ہے۔ یفعل وہ کرتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 27
قرآن کریم میں عام زندگی کی چھوٹی چھوٹی مثالوں سے بڑی سے بڑی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کفار و مشرکین عرب طرح طرح سے اللہ اور اس کے رسول…
Read the full tafseer →عالم برزخ۔ قبر کی زندگی کے حالات
شان نزول : اس آیت کی جو بیان ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی آدمی مر جاتا ہے اور اس کو اس کے عزیز و اقارب دفن کرکے الٹے پھرنے لگتے ہیں تو ابھی یہ لوگ اس مردہ کی قبر کے آس پاس ہوتے ہیں کہ ان کے چلنے کی آواز کان میں جاتی ہے۔ کہ اتنے میں منکر و نکیر دو فرشتے آن کر مردہ کو اٹھا کر بٹھلا دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تمہارا رب کون ہے، دین کیا ہے اور سید عالم ﷺ کی طرف اشارہ کرکے دریافت کرتے ہیں کہ ان کی نسبت تو کیا کہتا تھا۔ تو مومن اس منزل پر بفضل الہی ثابت رہتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ میرا دین اسلام ہے، اور یہ محمد ﷺ میرے نبی ہیں، وہ فرشتے کہتے ہیں : ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
[16] یعنی کلمہ توحید۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
قول ثابت :
(ف 1) حدیث میں آیا ہے کہ قبر کی تنہائی میں کام آنے نہیں پائے ، قول ثابت یعنی حقیقت توحید ہے ، جو لوگ وحدت و توحید کی حقیقت سے آگاہ ہیں وہ نہ تو دنیا میں مصائب سے گھبرائے ہیں اور نہ عالم قبر میں ان کے لیے فزع و خوف ہے ، اللہ ان کو توحید کے وسیلے سے توفیق دیتا ہے کہ جرات سے دنیا میں مشکلات کا مقابلہ کریں ۔ ان کے دل منور ہوجاتے ہیں توحید کا نور قلب میں جاگزین ہوجاتا ہے اور قبر کی تاریکی میں یہی نور جنت کی روشنی میں تبدیل ہوجاتا ہے ، اور وہ لوگ جنہیں اس دنیا میں اس حقیقت سے آگاہی نہیں دنیا و آخرت میں خائب و خاسر رہتے ہیں نہ یہاں انہیں کامیابی و کامرانی میسر ہوئی اور نہ آخرت میں ۔
Read the full tafseer →27 ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان والے ہیں دنیا میں بھی اور دوسرے عالم میں بھی پکی بات پر قائم اور ثابت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں اور نا انصافوں کو گمراہ اور بےراہ رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ یعنی کلمہ توحید کی برکت سے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا میں بھی ثبات عطا کرتا ہے اور قبر میں بھی توحید پر اور کلمہ طیب پر ثابت رکھتا ہے اور حشر میں بھی اہل کفر کو بےراہ رکھتا ہے اور ہدایت کی توفیق نہیں دیتا اور اپنی حکمت و مصلحت سے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قبر میں جو مضبوط بات کہے گا ٹھکانہ نیک پاوے گا اور جو بجلی بات کہے گا خراب ہوگا ۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ف 5۔ یعنی خوب پھلتا ہے کوئی فصل ماری نہ جاتی ہو اسی طرح کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ کی ایک جڑ ہے یعنی اعتقاد جو مومن کے قلب میں استحکام کے ساتھ جانگیر ہے اور اس کی کچھ شاخیں ہیں یعنی اعمال صالحہ جو ایمان پر مرتب ہوتے ہیں جو بارگاہ قبولیت میں آسمان کی طرف لے جائے جاتے ہیں پھر ان پر رضائے دائمی کا ثمرہ مرتب ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ ایمان والوں کو اپنے ایمان پر قائم رہنے اور جمے رہنے کی توفیق وافر عطا کرتا ہے
28 ؎ ذرا غور کرو کہ اس دنیا کی زندگی میں ہر فرد و بشر کو کیسی کیسی مشکلات کا سامنا ہوتا رہتا ہے۔ یہ ایمان ہی کی صراط مستقیم ایسی ہے جو اسے ہر امتحان میں ثابت قدیم رکھتی اور ہر تاریکی میں روشنی دکھلاتی رہیس ہے اور پھر برزخ اور محشر میں ایک سے بڑھ کر ایک ہولناک منظر کے وقت بھی آڑے آنے والی چیز یہی کلمہ توحید و ایمان ہے …… نجات کی راہ دنیا اور آخرت دونوں میں بجز دین توحید کے اور کوئی نہیں۔ بےدین حقیقی چین سے دنیا میں بھی محروم رہتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی حرمان نصیبی تو ظاہر ہے ” الظلمین “ یعنی راہ توحید و ایمان…
Read the full tafseer →Towards the end of the verse (27), it was said: وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ (And Allah lets the unjust go astray). It means: As for the believers, Allah Ta` ala keeps them firm on Kalimah Taiyyibah, the 'stable word' as a result of which things of comfort assemble around them right from the grave. But, the unjust, that is, the disbelievers and polytheists, remain deprived of this Divine help and support. They cannot answer the questions asked in the grave by angles Munkar and Nakir correctly. The out-come is that they start experiencing a sort of punishment right from that point…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
39. That is, the believers remain steadfast during the life of this world because of their stable system of life based on this pure word. For this gives than a straight point of view, a sound system of thought and a comprehensive theory of life, and it serves as a master key to the unraveling of all knots and the solving of all problems. With its help, they acquire that strength of character and that firmness of conduct which keep them steady in the face of every vicissitude of life. This provides them also with such solid principles of life which give them peace of mind and heart, and…
Read the full tafseer →