Yusuf 12:92

Yusuf · from ayah 92

12:92

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ ؕ— یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ؗ— وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۟قَالَ لَا تَثۡرِيۡبَ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ‌ؕ يَغۡفِرُ اللّٰهُ لَـكُمۡ‌ ۖ وَهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ‏

(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "No blame will there be upon you today. Allah will forgive you; and He is the most merciful of the merciful."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 10 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:92

اس نے جواب دیا، "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جواب دیا آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اللہ تمہیں بخشے، وه سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یوسف بولے : آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہوگی، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا آج تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یوسف ؑ نے فرمایا: آج کے دن تم پر کوئی ملامت (اور گرفت) نہیں ہے، اﷲ تمہیں معاف فرما دے اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں بخشے اور وہ رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یوسف نے کہا : آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا اب تم پر کچھ الزم نہیں۔ اللہ تم کو معاف کرے۔ وہ ارحم الراحمین ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

فرمایا (بےفکر رہو) اب تم پر کوئی الزام نہیں، اللہ تمہیں معاف فرمائے اور وہی ہے سب سے بڑا مہربان

— مولانا اسحاق مدنی

یوسف ؑ نے) کہا کہ (نہیں) آج تم پر کوئی الزام نہیں اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یوسف نے فرمایا : آج کے دن تم لوگوں پر کوئی ملامت نہیں اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یوسف نے کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب اور ملامت نہیں ہے۔ اللہ تم کو معاف کرے اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He replied: "No blame lies with you today. May Allah forgive you. He is the Most Merciful of all those that are merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :No reproach upon you today! May Allah forgive you, and He is the Most- Merciful of all the merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :No reproach upon you today! May Allah forgive you, and He is the Most- Merciful of all the merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "No reproach on you this day; may Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Have no fear this day! May Allah forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "No blame will there be upon you today. Allah will forgive you; and He is the most merciful of the merciful."

— Saheeh International

(Joseph) said, "No one will blame you on this day. God will forgive you; He is more Merciful than others.

— Muhammad Sarwar

He said: (There shall be) no reproof against you this day; Allah may forgive you, and He is the most Merciful of the merciful.

— Muhammad Habib Shakir

He said; no reproach upon you today. May Allah forgive you; and He is the Most Merciful of the merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "This day let no reproach be (cast) on you: Allah will forgive you, and He is the Most Merciful of those who show mercy!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:92

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 89–92

جب بھائی حضرت یوسف ؑ کے پاس اس عاجزی اور بےبسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں تو حضرت یوسف ؑ کا دل بھر آیا نہ رہا گیا۔ اپنے سر سے تاج اتار دیا اور بھائیوں سے کہا کچھ اپنے کرتوت یاد بھی ہیں کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ؟ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ نری جہالت کا کرشمہ تھا اسی لئے بعض سلف فرماتے ہیں کہ اللہ کا ہر گنہگار جاہل ہے۔ قرآن فرماتا ہے آیت (ثم ان ربک للذین عملو السوء بجھالتہ) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو دفعہ کی ملاقات میں حضرت یوسف ؑ کو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم اللہ نہ تھا۔ اب کی مرتبہ حکم ہوگیا۔ آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 89–94

66۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی غیر معمولی قوتوں کا اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی قافلہ حضرت یوسف کا قمیص لیکر مصر سے چلا ہے اور ادھر سیکڑوں میل کے فاصلے پر حضرت یعقوب اس کی مہک پالیتے ہیں، مگر اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی یہ قوتیں کچھ ان کی ذاتی نہ تھیں بلکہ اللہ کی بخشش سے ان کو ملی تھیں اور اللہ جب اور جس قدر چاہتا تھا انہیں کام کرنے کا موقع دیتا تھا۔ حضرت یوسف برسوں مصر میں موجود رہے اور کبھی حضرت یعقوب کو ان کی خوشبو نہ آئی۔ مگر اب یکایک قوت ادراک کی تیزی کا یہ عالم ہوگیا کہ ابھی ان کا قمیص مصر سے چلا ہے اور وہاں ان کی مہک آنی شروع ہوگئی۔ یہاں یہ ذکر بھی دلچسپی سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ یعنی میں تم سے تمہارے مظالم کا انتقام تو کیا لیتا، آج تم پر کوئی ملامت بھی نہیں کرتا، یہ تو اپنی طرف سے معافی کی خوشخبری سنا دی، پھر اللہ تعالیٰ سے سے دعاء کی يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۡ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ " یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں کو معاف فرما دیں، وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں " اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرً آ وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ یعنی میں تم سے تمہارے مظالم کا انتقام تو کیا لیتا آج تم پر کوئی ملامت بھی نہیں کرتا یہ تو اپنی طرف سے معافی کی خوش خبری سنا دی پھر اللہ تعالیٰ سے دعاء…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۭ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۡ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ۔ " تثریب " کے معنی کسی کو اس کے کسی قابل ملامت فعل پر ملامت کرنے کے ہیں۔ حضرت یوسف ؑ کا عفو و کرم : اگر سچے احساس ندامت کے ساتھ کوئی شخص اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتا ہے تو ایک کریم بن کریم اس کو معاف ہی کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اس کی معافی کی امید ہوتی ہے اس لیے کہ وہ تمام مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔ حضرت یوسف نے جب یہ محسوس فرمالیا کہ یہ لوگ سچے دل سے اپنی غلطی کے معترف ہیں تو انہوں نے نہایت فیاضی سے ان کو معاف فرما دیا کہ اب آپ لوگوں پر کوئی الزام نہیں اور خدا کے ہاں بھی ان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

92۔ 1 حضرت یوسف ؑ نے بھی پیغمبرانہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے فرمایا کہ جو ہوا سو ہوا۔ آج تمہیں کوئی سرزنش اور ملامت نہیں کی جائے گی۔ فتح مکہ والے دن رسول اللہ ﷺ نے بھی مکہ کے ان کفار اور سردران قریش کو، جو آپ کے خون کے پیاسے تھے اور آپ کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچائی تھیں، یہی الفاظ ارشاد فرما کر انھیں معاف فرما دیا تھا۔ ﷺ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 91–93

57: یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ یقینا جانتے ہوں گے کہ ان کی جدائی سے ان کے والد بزرگوار پر کیا گذر رہی ہوگی۔ اس کے باوجود اتنے لمبے عرصے تک انہوں نے کسی بھی ذریعے سے اپنی خیریت کی کوئی خبر اپنے والد کو بھیجنے کی کوشش نہیں کی۔ اول تو عزیز کے گھر میں رہنے کے دوران خبر بھیجنا کچھ مشکل نہ ہونا چاہیے تھا۔ پھر قید سے آزادی کے بعد تو ان کو ملک پر مکمل اقتدار بھی حاصل ہوچکا تھا۔ وہ شروع ہی میں حضرت یعقوب ؑ اور اپنے سارے گھر والوں کو مصر بلانے کا انتظام کرسکتے تھے اور جو بات انہوں نے اپنے بھائیوں سے اب کہی وہ ان کی پہلی آمد کے موقع پر بھی فرما سکتے تھے اور اس طرح حضرت یعقوب ؑ کے رنج و غم…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 92 آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ، کوئی انتقام نہیں اور تمہیں شرمندہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے تمام کدورتوں کو دل سے نکال دیا ہے۔ اللہ بھی تمہیں معاف کر دے۔ بیشک وہ ارحم الراحمین ہے۔ اب روئے سخن ایک دوسرے اہم معاملے کی طرف پھرجاتا ہے۔ اب اس باپ کی فکر دامن گیر ہوجاتی ہے جن کی آنکھیں یوسف (علیہ السلام) کے انتظار میں سفید ہوگئی ہیں۔ سب سے پہلے انہیں خوشخبری دینا ضروری ہے۔ سب سے پہلے ان سے ملنا فرض ہے۔ ان کے دل کی کدورتوں کو دور کرنا ضروری ہے اور وہ جس جسمانی اور روحانی اذیت میں ہیں ، اس سے ان کو جلد از جلد نکالنا ضروری ہے اور سب سے پہلے ان کی بینائی !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یوسف (علیہ السلام) بھائیوں سے اتنا بھی سننا نہیں چاہتے تھے فرمایا، یہ تذکرہ مت کرو آج میں تمہیں کوئی الزام نہیں دیتا۔ تمہاری سب غلطیاں معاف کرچکا ہوں۔ جو لفظ میں نے کہے محض حق تعالیٰ کا احسان اور صبر وتقویٰ کا نتیجہ ظاہر کرنے کی نیت سے کہے آج کے بعد تمہاری تقصیر کا ذکر بھی نہ ہوگا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ تم نے جو خطائیں خدا تعالیٰ کی کی ہیں، وہ بھی معاف کر دے۔ 11 میری مہربانی بھی اس کی مہربانی کا ایک پر تو ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 92–93

آیت 92 قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ یہ اس قدر معمولی بات نہیں تھی جسے اس ایک فقرے میں ختم کردیا جاتا ‘ مگر حضرت یوسف کی شخصیت کے ترفع اور اخلاق کی عظمت کی دلیل ہے کہ آپ نے اپنے ان خطا کار بھائیوں کو فوراً غیر مشروط طور پر معاف کردیا۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ نبی اکرم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے مخالفین جن کے جرائم کی فہرست بڑی طویل اور سنگین تھی کو معاف کرتے ہوئے حضرت یوسف کے اسی قول کا تذکرہ کیا تھا۔ آپ نے فرمایا : اَنَا اَقُوْلُ کَمَا قَالَ اَخِیْ یُوْسُفُ : لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ”میں آج تمہارے بارے میں وہی کہوں گا جو میرے بھائی حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

89 سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا بھائیوں کو فراخدلی سے معاف کردینا :۔ سیدنا یوسف نے ان کے اس اندیشہ کو بھانپ لیا اور انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا جو ہوچکا سو ہوچکا۔ آج تم پر کوئی گرفت نہیں، کوئی سرزنش نہیں اور آئندہ میں تمہاری ایسی تقصیر کا ذکر بھی نہ کروں گا۔ میں نے سب کچھ تمہیں معاف کیا اور اللہ سے دست بدعا ہوں کہ وہ بھی تمہیں معاف فرما دے اور مجھے قوی امید ہے کہ وہ ضرور تمہیں معاف فرما دے گا، کیونکہ وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

167۔ (تو جب میں نے تمہیں معاف کردیا، اور دل سے وہ باتیں بھلا دیں تو میرا خدا کیوں نہ معاف کرے گا، وہ تو تائبین کی خطائیں معاف کرتا ہی رہتا ہے) (آیت) ” لاتثریب علیکم الیوم “۔ میری طرف سے تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں، میں نے تمہیں معاف کردیا، میرا دل تمہاری طرف سے صاف ہوگیا یہی آیت وہ تھی، جو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے وقت اپنے جانی اور شدید دشمنوں کے مقابلہ میں پڑھ کر یوسف (علیہ السلام) سے بھی بڑھ کر اپنی فراخ دلی کا ثبوت دیا تھا :۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–93

آیت نمبر 80 تا 93 ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم وھو ارحم الرحمین یوسف نے کہا : آج تم پر کوئی الزام نہیں (یعنی میں نے معاف کیا) اللہ تمہارا قصور معاف کرے۔ وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے (امید ہے معاف کر دے گا) ۔ تَثْرِیْبٌ آنکھوں کی چربی چھیل دینا۔ ثرب آنکھوں پر چھائی ہوئی چربی۔ مجازاً کسی کو لعنت و ملامت کرنا جس سے مجرم کی آبروریزی اور توہین ہو رہی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ آج جبکہ میں تم لوگوں کو لعنت و ملامت کرسکتا ہوں لیکن کچھ نہیں کہتا تو پھر آئندہ کچھ برابھلا کہنے کا تو احتمال ہی نہیں ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ تمہارے اقرار کے بعد میں نے تم کو معاف کردیا۔ اللہ تم کو معاف کرے ‘ وہ ارحم الراحمین ہے اور میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(92) حضرت یوسف ؑ نے ان سے فرمایا تم پر آج کے بعد میری طرف سے کوئی الزام نہیں جو کچھ تم سے قصور ہوا اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمائے وہ والدین سے زیادہ مہربان ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ :”تَثْرِيْبَ“ کے معنی ملامت، ڈانٹ ڈپٹ، گناہ یاد دلانا سبھی آتے ہیں۔ فرمایا تمہیں ہرگز کوئی ملامت نہیں کرتا، نہ ڈانٹ ڈپٹ، نہ تمہیں کوئی یہ زیادتی یاد دلائے گا۔ ”الْيَوْمَ“ کا معنی صرف آج کا دن نہیں بلکہ مطلق زمانے کے لیے ہے، یعنی اب آئندہ تم پر کوئی ملامت نہیں۔ 3 یہ ہے شان نبوت، اگر کوئی دوسرا آدمی ہوتا تو ایسے قصور واروں پر قابو پالینے کے بعد انھیں ہرگز معاف نہ کرتا۔ یہی سلوک نبی ﷺ نے فتح مکہ کے بعد وہاں کے رہنے والوں سے فرمایا۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ (فتح مکہ کے دن) قریش کے سرداروں اور بڑے بڑے لوگوں نے کعبہ میں پنا لی، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، بیت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 89–93

آیت نمبر 89 تا 93 قولہ تعالیٰ : قال ھل علمتم مافعلتم بیوسف واخیہ استفہام بمعنی تذکیر وتوبیح ہے، اور یہی وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی : لتنبئھم بامرھم ھٰذا (لیوسف :15) میں تجھے ضرور ان کے اس معاملے سے آگاہ کروں گا۔ اذانتم جٰھلون یہ اس بات پر دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب انہوں نے پکڑا تھا اس وقت وہ ابھی چھوٹے تھے اور نبی نہیں کیونکہ جہالت کی صفت اسی صورت میں بیان کی جاسکتی ہے اور یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اب ان کی حالت بہتر ہے۔ یعنی یہ تم نے اس وقت کیا جب تم چھوٹے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن ؓ نے اس کا یہ معنی بیان کیا ہے۔ اور ان کا قول ان کنا لخٰطین (اگرچہ ہم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 92–93

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بھائیوں کو معاف کرنا : 1:۔ عبدبن حمید وابن منذر رحمہما اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تثریب “ سے مراد ہے کہ تم پر کوئی انکار نہیں (یعنی کوئی الزام نہیں) 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تثریب “ سے مراد ہے کہ تم پر کوئی انکار نہیں (یعنی کوئی الزام نہیں) 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح فرما لیا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم کیا کہتے ہو تم کیا گمان کرتے ہو انہوں نے کہا آپ کریم چچا کے بیٹے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا (آیت) ” لا تثریب علیکم الیوم،…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا [لَا تَثْرِيْبَ : کوئی بھی عتاب نہیں ہے ] [عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر ] [الْيَوْمَۭ : آج ] [ يَغْفِرُ : مغفرت کرے گا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ لَكُمْ : تم لوگوں کی ] [وَهُوَ : اور وہ ] [ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ : رحم کرنے والوں کا سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ] ث ر ب [ثَرَبًا : (ض) کسی کے کام کو برا سمجھنا۔] [تَثْرِیْبًا : (تفعیل) کسی کو اس کے کام پر سرزنش کرنا۔ عتاب کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 92 ۔]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رسول اللہ ﷺ نے بعثت کے بعد مکہ مکرمہ میں تیرہ (13) سال جن مصیبتوں کے ساتھ گزارے اور قریش مکہ کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچیں حتیٰ کہ آپ کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا یہ سب واقعات معروف و مشہور ہیں جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا تو اہل مکہ کو خوف تھا کہ دیکھئے ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے جب مکہ مکرمہ فتح کرلیا تو قریش مکہ خوف زدہ ہوئے اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ آج تو تلوار ہمارا خاتمہ کر دے گی اس موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے کعبہ شریف کا طواف کیا اور دو رکعتیں پڑھیں پھر کعبہ شریف کی چوکھٹ کے درمیان کھڑے ہو کر قریش مکہ سے دریافت فرمایا تم کیا کہتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–93

بار سوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) بحکم یعقوب (علیہ السلام) برائے تفحص یوسف و بنیامین قال اللہ تعالیٰ فاما دخلوا علیہ قالوا یایھا العزیز .... الیٰ .... واتونی باہلکم اجمعین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ ذکر تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو تاکید اکید کی کہ خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوں اور یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی تلاش میں نکلیں چناچہ یہ لوگ مصر روانہ ہوئے کہ اول تو اس بھائی کو لانے کی کوشش کریں جس کا نشان معلوم تھا اس کے بعد دوسرے بےنشان بھائی یعنی یوسف (علیہ السلام) کی تلاش شروع کریں اب آئندہ آیات میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ یعقوب (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق پھر مصر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 91–92

77:۔ اب بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برتری اور فوقیت و فضیلت کا اقرار کیا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیا۔ ” قَالَ لَا تَثْرِیْبَ الخ “ مگر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کوئی سرزنش نہ فرمائی اور معافی کا صاف اعلان کردیا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں میں اپنا حق معاف کرتا ہوں اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 88–93

ربط آیات جب یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے کنعان جا کر اپنے باپ کو بن یامین کی گرفتاری کا حال سنایا تو ان کا پرانا غم پھر تازہ ہوگیا پہلے وہ یوسف (علیہ السلام) کی جدائی میں پریشان تھے اب دوسرے بیٹے کی جدائی کی بات سنی تو دکھ دو چند ہوگیا مگر آپ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نامید نہیں ہوئے بلکہ بیٹوں سے کہا کہ جائو جا کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو تلاش کرو ، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو لے آئے۔ بن یامین بھی رہا ہوجائے اور یوسف (علیہ السلام) جس کا نام و نشان تک معلوم نہیں شاید وہ بھی مل جائے خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے اور اس سے کوئی بعید نہیں۔ فرمایا خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۭ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۡ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ 92؁ ثرب التَّثْرِيب : التقریع والتقریر بالذنب . قال تعالی: لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ [يوسف/ 92] ، وروي : «إذا زنت أمة أحدکم فلیجلدها ولا يثرّبها» «1» ، ولا يعرف من لفظه إلا قولهم : الثَّرْبُ ، وهو شحمة رقیقة، وقوله تعالی: يا أَهْلَ يَثْرِبَ [ الأحزاب/ 13] ، أي : أهل المدینة، يصح أن يكون أصله من هذا الباب والیاء تکون فيه زائدة . ( ث ر ب ) التثریب ( تفیل ) کے معنی ہیں کسی کو اس کی پر سر زنش اور زجرو توبیخ کرنا قرآن میں ہے ؛۔ لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ [يوسف/ 92] یوسف نے کہا کہ آج…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 92–93

قَالَ لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ط یَغْفِرُاللّٰہُ لَکُم ز وَھُوَاَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ اِذْھَبُوْا بِقَمِیْصِیْ ھٰذَا فَاَلْقُوْہُ عَلٰی وَجْہِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا ج وَاْتُوْنِیْ بِاَھْلِکُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 92، 93) (حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا آج تم پر کچھ الزام نہیں، اللہ تعالیٰ تم کو معاف کرے۔ وہ ارحم الراحمین ہے۔ میرا یہ کرتا لے جاؤ، میرے باپ کے چہرے پر ڈال دیجیے، وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور تم لوگ اپنے تمام اہل و عیال کے ساتھ میرے پاس آجاؤ۔ ) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا عفو ودرگزر بھائیوں نے جب اپنے جرم کا اعتراف کرلیاتو باوجود اس کے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 91–92

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جونہی اپنا تعارف کروایا تو بھائی ان کے سامنے معذرت پیش کرنے لگے۔ برادران یوسف نے دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اللہ کی قسم اٹھاتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برتری کا اعتراف کیا کہ اللہ نے آپ کو ہم پر بڑی عزت و عظمت عطا فرمائی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم خطا کار ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا بےفکر ہوجاؤ آج تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ تمہیں اللہ معاف فرمائے وہ سب سے بڑھ کر مہربان ہے۔ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے، حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پوتے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اعلانِ معافی : 92: قَالَ لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ (یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا آج تم پر کوئی الزام نہیں) روایت میں ہے کہ ابوسفیان اسلام لانے کیلئے آئے تو حضرت عباس ؓ نے ان کو کہا جب تم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جائو تو یہ کہنا قال لا تثریب علیکم الیوم۔ اس نے کہہ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے اور اس کو جس نے یہ تمہیں سکھایا ] نسائی، بیہقی[ روایت میں ہے کہ جب بھائیوں نے پہچان لیا تو آپ کی طرف پیغام بھیجا۔ تو ہمیں اپنے دستر خوان پر صبح و شام بلاتا ہے۔ اور ہمیں اپنی زیادتیوں کی وجہ سے حیاء آتی ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا۔ اہل مصرنے اگرچہ بادشاہ تو مجھے مان لیا۔ مگر وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

92۔” قال “ یوسف (علیہ السلام) نے اور وہ برباد تھے ” لا تثریب علیکم الیوم “ تم پر کوئی عار نہیں ہے اور آج کے بعد میں تمہارے گناہ کا تذکرہ نہ کروں گا ۔ ” یغفر اللہ لکم و ھو ارحم الراحمین “ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنا تعارف کرادیا تو والد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رو رو کر ان کی نگاہ ختم ہوگئی ہے تو اپنی قمیص ان کو دی اور کہا :

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 89–92

89۔ 92۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سامنے اپنے سختی کا حال بیان کیا تو ان کا دل امنڈ آیا باپ کا خیال آیا کہ میرے فراق میں خدا جانے ان کی کیا حالت ہوگی اور پھر بنیامین ان سے جدا ہوگیا اس سے اور بھی ان کو صدمہ پہنچا ہوگا اور قحط سالی کی بلا جدا ہے غرض کہ ان باتوں کو یاد کر کے یوسف (علیہ السلام) رونے لگے اور بھائیوں سے فرمایا کہ تم نے جو کچھ سلوک یوسف (علیہ السلام) اور اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ کیا وہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ کس طرح مکرو فریب سے ان کو باپ سے جدا کیا اور حقیقت میں تمہاری نادانی نے تمہیں اس بات پر آمادہ کیا تھا جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) یوسف (علیہ السلام) نے اپنے جو دو کرم کی بنا پر ان سے کہا : (آیت) ” آج تم پر کوئی الزام نہیں “ یعنی میں تمہارا کوئی مواخذہ اور تم پر کوئی ملامت نہیں کرتا۔ (آیت) ” اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کے گزشتہ جرائم پر عار دلائے بغیر ان کے ساتھ انتہائی نرمی اور فراخ دلی کا سلوک کیا اور ان کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعا کی، یہ احسان کی انتہا ہے، اس سلوک کا مظاہرہ اللہ تعالیٰ کے خاص اور چنے ہوئے بندے ہی کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 88–96

اشیاء کا ناپ تول کر، لینا دینا قول باری (فاوف لنا الکیل۔ آپ ہمیں بھرپور غلہ عنایت فرمائیں) اس پر دلالت کرتا ہے کہ غلہ ناپنے والے کی اجرت فروخت کنندہ کے ذمہ عائد ہوگی اس لئے کہ فروخت کنندہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خریدار کیلئے فروخت شدہ چیز کی تعیین کرے اور ناپ یعنی کیل کے بغیر اس کا تعین نہیں ہوسکتا۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ (فاوف لنا الکیل) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلہ ناپنے کی ذمہ داری حضرت یوسف (علیہ السلام) پر تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ نے طعام یعنی خوردنی شے کو فروخت کرنے سے اس وقت تک کے لئے منع کردیا ہے جب تک یہ شے دو پیمانوں سے گزر نہ جائے یعنی فروخت کنندہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

150۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے بھائیوں کے لیے معافی کا اعلان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ بےفکر رہوں کہ اب تم پر کوئی الزام نہیں۔ میں نے تمہیں سچے دل سے معاف کردیا ہے۔ یہی بات ہمارے حضور ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر کفار قریش سے فرمائی تھی۔ یعنی تم پر کوئی الزام نہیں۔ جاؤتم سب آزاد ہو۔ سو انتقام کا موقع مل جانے کے باوجودمعاف کردینا اور عفو و درگزر سے کام لینا حضرات انبیائے کرام کی سنت اور ان کے اخلاق عالیہ میں سے ہے۔ وباللہ التوفیق۔ " تثریب " کے معنی کسی قابل ملامت فعل پر ملامت کرنے کے ہیں۔ سوا گر کوئی سچے احساس ندامت کے ساتھ اپنی غلطی کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–93

آیات 80 تا 93 اسرار و معارف بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 ۔ تمہیں ہرگز کوئی ملامت نہیں کرتا اور نہ کسی حرکت پر گرفت کرتا ہوں۔ یہاں ” الیوم “ تقلید کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ مطلق زمانہ کے لئے ہے (روح) ۔ 6 ۔ یہ ہے شان نبوت۔ اگر کوئی دوسرا آدمی ہوتا ہے تو ایسے قصورواروں پر قابو پالینے کے بعد انہیں ہرگز معاف نہ کرتا۔ یہی سلوک نبی ﷺ نے فتح مکہ کے بعد وہاں کے رہنے والوں سے فرمایا۔ چناچہ تفاسیر میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے کہ آج میں تم سے کیا سلوک کرنے والا ہوں ؟ وہ بولے ” ابن عم کریم “ (آپ ﷺ تو ہمارے سخی اور رحم دل چچا کے بیٹے ہیں) فرمایا : ” لا تتریب تو علیکم یغفر اللہ لکم “ یعنی جائو، تم پر کوئی الزام نہیں۔ اللہ تمہیں معاف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 92–93

(12:92) تثریب۔ سرزنش ۔ الزام۔ گرفت۔ پکڑ۔ گناہ پر جھڑکنا۔ یا ڈانٹنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 88–93

لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 93 مسنا ہمیں پہنچی، ہمیں چھولیا الضر سختی اور پریشانی مزجۃ بیکار، معمولی اوف پورا کر تصدق صدقہ کر دے، نیکی کر ھل علمتم کیا تمہیں معلوم ہے، کیا تمہیں یاد ہے مافعلتم تم نے کیا کیا من اللہ اللہ نے احسان کیا من یتق جو تقویٰ اختیار کرتا ہے لایضیع ضائع نہیں کرتا اثر اختیار کیا، منتخب کرلیا لاتثریب الزام نہیں ہے یات بصیراً آنکھوں کی روشنی آئے گی ۔ تشریح آیت نمبر 88 تا 93 جب برادران یوسف نے اپنے والد کی یہ حالت دیکھی اور ان کی طرف سے حکم ہوا کہ تم جاؤ اور یوسف کو تلاش کرو تب یہ نو بھائی تیسری مرتبہ کنعان سے مصر پہنچ گئے۔ بادشاہ مصر کی خدمت میں پہنچے اور نہایت عاجزی اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 90–93

حضرت یوسف کے بھائیوں نے انہیں پہچان کر قصور کی معافی چاہی، پھر حضرت یوسف نے انہیں جنتی کرتہ دیا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے سر سے تاج اتارا اور اپنی پیشانی دکھائی۔ ان کی پیشانی پر ایک تل تھا اس کو دیکھ کر انہوں نے پہچان لیا کہ یہ یوسف ہیں اور کہنے لگے کہ کیا سچ مچ تم ہی یوسف ہو فرمایا کہ بیشک میں یوسف ہوں اور یہ میرا چھوٹا بھائی بنیامین ہے۔ خدا نے بڑا فضل کیا کہ مدت دراز کے بعد ہمیں ایک جگہ کیا جو شخص خدا سے ڈرتا ہے اور مصیبت کے وقت صبر کرتا ہے اس کا اجر اللہ پاک ضائع نہیں کرتا ہے۔ میرے اوپر کیسی کیسی مصیبت پڑی ہر حالت میں صبر ہی کرتا رہا اللہ تعالیٰ نے رحم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–92

[32] یہی وہ آیت ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے وقت اپنے جانی دشمنوں کے سامنے پڑھ کر یوسف (علیہ السلام) سے بھی بڑھ کر اپنی فراخ دلی کا ثبوت دیا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 85–92

برادران یوسف (علیہ السلام) کی ندامت : (ف 1) اب وقت آگیا تھا ، کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے چہرہ انور سے نقاب کشائی کریں ، اور بھائیوں کو بتادیں ، کہ جس یوسف کو تم نے کنعان کے تاریک کنوئیں میں پھینکا تھا ، وہ اس وقت عرش حکومت پر جلوہ گر ہے ، چناچہ جب بھائی دو بار مصر میں غلہ لینے کے لئے گئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، کیا تم وہی نہیں ہو جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ یہ یہ فریب کئے ہیں ، انہوں نے جب دیکھا کہ پتے کی باتیں بتائی جاری ہیں ، اور ان باتوں کا بجز یوسف (علیہ السلام) کے اور کسی کو علم نہیں ہو سکتا ، تو پکار اٹھے کہ کہیں تمہیں تو یوسف (علیہ السلام) نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

92 ۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا آج تم پر کوئی سرزنش ملامت اور الزام نہیں تمہارا قصور اللہ تعالیٰ معاف فرمائے وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ بھائیوں کے ذمہ حقوق العباد اور حقوق اللہ کے دونوں قصور تھے تم پر کوئی الزام نہیں کہہ کر اپنے قصور کی معافی کا اعلان کردیا اور حقوق اللہ کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کردی اپنے قلب کی صفائی سے بھی مطمئن کردیا اور خدا سے دعا بھی کردی ۔ گویا یوسف (علیہ السلام) کے دل میں کچھ تھا ہی نہیں ۔ قصور واروں کو معاف کرنا اور اس قدر عجلت سے معاف کرنا یہ کام انبیاء (علیہم السلام) ہی کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی بےفکر رہو میرا دل صاف ہوگیا۔ 3۔ اسی دعا سے یہ بھی مفہوم ہوگی کیا کہ میں نے بھی معاف کردیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ آج کا دن بچھڑے ہوئوں کے ملنے اور ٹوٹے ہوئے رشتوں کے جڑنے کا دن ہے۔ ملامت و الزام کی باتوں کا یہاں گزر نہیں میرا دل تو ہر طرح کی رنجشوں سے صاف ہے۔ رہا اللہ کا معاملہ تو اس کے لئے بھی میری دعائیں تمہارے ساتھ وہ تمہارے قصور بخش دے گا اور وہ ضرور بخش دے گا اس لئے ہی تو اس نے سب کو اپنی حفاظت وامان میں رکھ اور نئے بڑے عرصہ میں ہم میں سے کسی ایک کا نقصان نہیں ہوا اور معاملات میں ایک دوسرے نے جو زیادتی کی وہ ایک دوسرے سے معاف کرا لی گئی تو یہ سب کچھ کیوں ہوا اس لئے کہ وہ سب کے گناہوں و معاف کرنا چاہتا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لَا تَثْرِ‌يبَ عَلَيْكُمُ (No reproach upon you), that is, ` not to say much about taking a revenge of your injustices against me, on this day, I would not even blame you for it.' This much was the good news of forgiveness from his side which he let them hear. Then, he prayed for them before Allah Ta’ ala: يَغْفِرُ‌ اللَّـهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْ‌حَمُ الرَّ‌احِمِينَ (May Allah forgive you, and He is the most merciful of all the merciful). After that, he said: اذْهَبُوا بِقَمِيصِي هَـٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرً‌ا وَأْتُونِي بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ : ` Go with this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–94

66. This is an instance of the extraordinary powers the Prophets possess. Prophet Jacob perceived in Canaan the smell of Prophet Joseph’s shirt from such a distant place as Egypt as soon as the caravan started on the journey. At the same time it also shows, by contrast, that these powers of the Prophets are not inherent or personal characteristics but are bestowed on them by Allah as and when He wills. That is why Prophet Jacob could not perceive the smell of the clothes of Prophet Joseph as long as Allah did not will it, when he had been living in Egypt. In this connection, it should also be…

Read the full tafseer →