Yusuf 12:93

Yusuf · from ayah 93

12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰی وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا ۚ— وَاْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ ۟۠اِذۡهَبُوۡا بِقَمِيۡصِىۡ هٰذَا فَاَلۡقُوۡهُ عَلٰى وَجۡهِ اَبِىۡ يَاۡتِ بَصِيۡرًا‌ۚ وَاۡتُوۡنِىۡ بِاَهۡلِكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

Take this, my shirt, and cast it over the face of my father; he will become seeing. And bring me your family, all together."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 10 of surah · Ruku 4 of juzع

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:93

جاؤ، میرا یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے منہ پر ڈال دو، اُن کی بینائی پلٹ آئے گی، اور اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

میرا یہ کرتا تم لے جاؤ اور اسے میرے والد کے منھ پر ڈال دو کہ وه دیکھنے لگیں، اور آجائیں اور اپنے تمام خاندان کو میرے پاس لےآؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

میرا یہ قمیص لے جاؤ، اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا، اس سے ان کی بینائی واپس آجائے گی، اور اپنے سارے گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

میرا یہ کرتا لے جاؤ اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر کو میرے پاس لے آ ؤ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

میرا یہ قمیض لے جاؤ، سو اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ بینا ہو جائیں گے، اور (پھر) اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو ، وہ بینا ہوجائے گا اور اپنے گھر والوں کو، سب کو میرے پاس لے آؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ میری قمیص لے جاؤ اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا۔ وہ بینا ہوجائیں گے اور انھیں لے کر تم سب اہل و عیال سمیت میرے یہاں آؤ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم یہ کرتا لے جاؤ، میرے باپ کے چہرے پر ڈال دیجیو وہ دیکھنے لگیں گے۔ اور تم لوگ اپنے تمام اہل و عیال کے ساتھ میرے پاس آجاؤ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو ، اس سے ان کی بینائی لوٹ آئے گی، اور تم لے آؤ میرے پاس اپنے سب گھر والوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اب تم) میرے اس پیراہن کو لئے جاؤ اور اس کو میرے والد کے چہرہ پر ڈال دو (ان کی) آنکھیں روشن ہوجائیں گی۔ اور اپنے گھروالوں کو (بھی) سب کو میرے پاس لے آؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور (جا کر) اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو آپ کی بصارت لوٹ آئے گی اور تم لے آؤ میرے پاس اپنے تمام اہل خانہ کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو وہ بینا ہوجائیں گے اور اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آئو۔ (

— محترمہ رفعت اعجاز

Take this shirt of mine and throw it over my father's face. He will regain his sight. And bring to me all your family."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Go with this shirt of mine, and put it over the face of my father, and he will turn into a sighted man. And bring to me all your family.

— Muhammad Taqi Usmani

Go with this shirt of mine, and put it over the face of my father, and he will turn into a sighted man. And bring to me all your family.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Go with this shirt of mine, and cast it over the face of my father, his vision will return, and bring to me all your family."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Go with this shirt of mine and lay it on my father's face, he will become (again) a seer; and come to me with all your folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Take this, my shirt, and cast it over the face of my father; he will become seeing. And bring me your family, all together."

— Saheeh International

Take my shirt and place it unto my father's face. This will restore his eye-sight. Then bring the whole family to me."

— Muhammad Sarwar

Take this my shirt and cast it on my father's face, he will (again) be able to see, and come to me with all your families.

— Muhammad Habib Shakir

Go with this shirt of mine and cast it upon my father's face; he shall become clear-sighted; and bring unto me all your household.

— Abdul Majid Daryabadi

"Go with this my shirt, and cast it over the face of my father: he will come to see (clearly). Then come ye (here) to me together with all your family."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:93

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 93–95

چونکہ اللہ کے رسول حضرت یعقوب ؑ اپنے رنج وغم میں روتے روتے نابینا ہوگئے تھے، اس لئے حضرت یوسف ؑ اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی انشاء اللہ ان کی نگاہ روشن ہوجائے گی۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا، ادھر اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسف کی خوشبو بہنچا دی تو آپ نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف کی خوشبو آرہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 89–94

66۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی غیر معمولی قوتوں کا اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی قافلہ حضرت یوسف کا قمیص لیکر مصر سے چلا ہے اور ادھر سیکڑوں میل کے فاصلے پر حضرت یعقوب اس کی مہک پالیتے ہیں، مگر اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی یہ قوتیں کچھ ان کی ذاتی نہ تھیں بلکہ اللہ کی بخشش سے ان کو ملی تھیں اور اللہ جب اور جس قدر چاہتا تھا انہیں کام کرنے کا موقع دیتا تھا۔ حضرت یوسف برسوں مصر میں موجود رہے اور کبھی حضرت یعقوب کو ان کی خوشبو نہ آئی۔ مگر اب یکایک قوت ادراک کی تیزی کا یہ عالم ہوگیا کہ ابھی ان کا قمیص مصر سے چلا ہے اور وہاں ان کی مہک آنی شروع ہوگئی۔ یہاں یہ ذکر بھی دلچسپی سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اب تم (میرے باپ کو جا کر بشارت دو اور بشارت کے ساتھ) میرا یہ کرتہ (بھی) لیتے جاؤ اور اس کو میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو (اس سے) ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں گے (اور یہاں تشریف لے آئیں گے) اور اپنے (باقی) گھر والوں کو (بھی) سب کو میرے پاس لے آؤ (کہ سب ملیں اور خوش ہوں کیونکہ حالت موجودہ میں میرا جانا مشکل ہے اس لئے گھر والے ہی چلے آئیں) اور جب (یوسف ؑ سے بات چیت ہوچکی اور آپ کے فرمانے کے موافق کرتہ لے کر چلنے کی تیاری کی اور) قافلہ (شہر مصر سے) چلا (جس میں یہ لوگ بھی تھے) تو انکے باپ نے (پاس والوں سے) کہنا شروع کیا کہ اگر تم مجھ کو بڑھاپے میں بہکی باتیں کرنے والا نہ سمجھو تو ایک بات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرًا ۚ وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ۔ پیراہن یوسف کی کرامات : جس ضعفِ بصارت کا سبب غم و الم اور گریہ وزاری ہو، جیسا کہ آیت 84 میں گزر چکا ہے، اس کا واحد علاج یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز سامنے آئے جو نہ صرف اس سارے غم و الم کو دھو کر صاف کردے بلکہ اس کی لائی ہوئی خوشی رگ رگ میں ایک حیات تازہ دوڑا دے۔ حضرت یوسف کو بنیامین کے ذریعہ سے باپ کا سارا حال معلوم ہوچکا تھا کہ روتے روتے ان کی آنکھیں سفید پڑچکی ہیں۔ چناچہ انہوں نے اپنا کرتا بھائیوں کو دیا کہ اس کو لے جاؤ، میرے باپ کے منہ پر اس کو ڈال دینا۔ اس سے ان کی آنکھیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

93۔ 1 قمیص کے چہرے پر پڑنے سے آنکھوں کی بینائی کا بحال ہونا، ایک اعجاز اور کرامت کے طور پر تھا۔ 93۔ 2 یہ یوسف ؑ نے اپنے پورے خاندان کو مصر آنے کی دعوت دی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 91–93

57: یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ یقینا جانتے ہوں گے کہ ان کی جدائی سے ان کے والد بزرگوار پر کیا گذر رہی ہوگی۔ اس کے باوجود اتنے لمبے عرصے تک انہوں نے کسی بھی ذریعے سے اپنی خیریت کی کوئی خبر اپنے والد کو بھیجنے کی کوشش نہیں کی۔ اول تو عزیز کے گھر میں رہنے کے دوران خبر بھیجنا کچھ مشکل نہ ہونا چاہیے تھا۔ پھر قید سے آزادی کے بعد تو ان کو ملک پر مکمل اقتدار بھی حاصل ہوچکا تھا۔ وہ شروع ہی میں حضرت یعقوب ؑ اور اپنے سارے گھر والوں کو مصر بلانے کا انتظام کرسکتے تھے اور جو بات انہوں نے اپنے بھائیوں سے اب کہی وہ ان کی پہلی آمد کے موقع پر بھی فرما سکتے تھے اور اس طرح حضرت یعقوب ؑ کے رنج و غم…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 93 سوال یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ ان کی قمیض کی بو سے ان کے والد کی گئی ہوئی بینائی لوٹ آئے گی ؟ یہ ہے وہ علم جو انہیں اللہ نے دیا تھا۔ اور اچانک خوشی اور اچانک غم میں بعض اوقات ایسے معجزات صادر ہوجاتے ہیں جبکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ، نبی ، رسول ہیں اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) بھی نبی اور رسول ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی میں بحالت موجودہ شام کا سفر نہیں کرسکتا۔ تم جاؤ والدین اور اپنے سب متعلقین کو یہاں لے آؤ۔ چونکہ والد بزرگوار کی نسبت وحی سے یا بھائیوں کی زبانی معلوم ہوا ہوگا کہ بینائی نہیں رہی یا نگاہ میں فرق آگیا ہے، اس لیے اپنا قمیص دے کر فرمایا کہ یہ ان کی آنکھوں کو لگا دینا بینائی بحال ہوجائے گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ہر مرض کی اللہ کے ہاں دوا ہے۔ آنکھیں گئی تھیں ایک شخص کے فراق میں، اسی کے بدن کی چیز ملنے سے چنگی ہوئیں۔ یہ کرامت تھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی۔ " اور کرامت نہ کہیں تب بھی آجکل واقعات و مشاہدات کی بنا پر یہ بات مان لی گئی ہے کہ کسی سخت صدمہ یا غیر معمولی خوشی کے اثر سے بعض…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 92–93

آیت 92 قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ یہ اس قدر معمولی بات نہیں تھی جسے اس ایک فقرے میں ختم کردیا جاتا ‘ مگر حضرت یوسف کی شخصیت کے ترفع اور اخلاق کی عظمت کی دلیل ہے کہ آپ نے اپنے ان خطا کار بھائیوں کو فوراً غیر مشروط طور پر معاف کردیا۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ نبی اکرم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے مخالفین جن کے جرائم کی فہرست بڑی طویل اور سنگین تھی کو معاف کرتے ہوئے حضرت یوسف کے اسی قول کا تذکرہ کیا تھا۔ آپ نے فرمایا : اَنَا اَقُوْلُ کَمَا قَالَ اَخِیْ یُوْسُفُ : لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ”میں آج تمہارے بارے میں وہی کہوں گا جو میرے بھائی حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

90 بھائیوں کے ہاتھ قمیص بھیجنا اور سارے خاندان کو مصر لانے کی تاکید کرنا :۔ برادران یوسف کی سیدنا یوسف سے اس طرح حیرت انگیز ملاقات کے نتیجہ میں دو مسئلے از خود حل ہوگئے۔ ایک وہ مہم جس پر باپ نے ان بیٹوں کو بھیجا تھا۔ یعنی وہ جاکر یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کریں اور دوسرے غلہ کی فراہمی کا مسئلہ جس کے لیے برادران یوسف تھوڑا عرصہ پہلے شاہ مصر کے سامنے نہایت عاجزی سے التجا کر رہے تھے۔ اب وہ بس سیدنا یوسف کے حکم کے منتظر تھے چناچہ سیدنا یوسف نے کہا کہ تم اب واپس جاؤ اور اپنے پورے خاندان کو میرے ہاں لے آؤ اور یہ میری قمیص لے جاؤ اسے میرے والد کے چہرے پر پھراؤ گے تو انشاء اللہ ان کی بینائی بحال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

168۔ واقعہ اعجازی رنگ کا ہے، اور قصہ یوسفی سے جہاں اور بہت سے سبق براہ راست قدرت خداوندی کے مل رہے ہیں، انہی میں سے ایک یہ بھی ہے۔ 169۔ (والد ماجد تو بغیر یہاں آئے رہ ہی نہیں سکتے، وہ تو بہرحال تشریف لائیں گے لیکن ان کے ساتھ تم سب اور گھربار کو بھی لیتے آنا) (آیت) ” باھلکم اجمعین “۔ اس وقت تک حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا کنبہ اچھا خاصہ وسیع ہوچکا تھا بیٹے، بہوئیں، پوتے، پوتیاں سب ملا کر ستر نفوس تھے، توریت میں ہے :۔ ” اور یعقوب (علیہ السلام) اپنی سب نسل سمیت مصر میں آیا، وہ اپنے بیٹوں اور بیٹوں کے بیٹوں کو جو اس کے ساتھ تھے اور اپنی بیٹیوں اور اپنی بیٹیوں کی بیٹیوں کو اور اپنی سب نسل کر مصر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–93

آیت نمبر 80 تا 93 ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذھبوا بقمیصی ھذا فالقوہ علی وجہ ابي یات بصیرا میرا یہ کرتا لے جا کر میرے باپ کے منہ پر ڈال دو (اس سے) وہ بینا ہوجائیں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ میرے پاس بینا ہو کر آجائیں گے۔ حسن نے کہا : حضرت یوسف کو اللہ نے اطلاع دے دی ہوگی جب ہی تو آپ نے فرمایا کہ وہ بینا ہوجائیں گے۔ اللہ کی طرف سے اطلاع پانے کے بغیر وہ ایسی بات نہیں کہہ سکتے تھے۔ مجاہد نے کہا : حضرت جبرئیل نے حضرت یوسف کو (ا اللہ کی طرف سے) حکم دیا تھا کہ حضرت یعقوب کو اپنا کرتا بھیج دیجئے۔ یہ قمیص حضرت ابراہیم کا تھا ‘ جب آپ کو آگ میں ڈالا گیا تو کپڑے اتار لے گئے تھے ‘ اس وجہ سے حضرت جبرئیل نے جنت سے ایک ریشمی قمیص لا کر آپ کو پہنا دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(93) اب تم جاکر میرے باپ کو بشارت دو اور میری یہ قمیص بھی لیے جاؤ اور حضرت یوسف ؑ کی یہ قمیص جنت سے آیا ہوا لباس تھا اور ان کو ان کے چہرہ پر ڈال دو اس سے انکی آنکھیں روشن ہوجائیں گی اور باقی اپنے سب گھر والوں کو بھی جو تقریبا ستر اشخاص تھے میرے پاس لے آؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ۔۔ : بھائیوں کو معاف کردینے کے بعد گھر کے حالات کا تذکرہ ہوا، والد کے نابینا ہونے کی خبر پر ان کے علاج کے لیے اپنی قمیص بھیجی اور اپنے سارے گھر والوں کو اپنے پاس مصر میں لانے کا حکم دیا۔ یہ قمیص بھی عجیب تھی، کبھی یوسف ؑ کو بھیڑیے کے کھا جانے کے ثبوت پر پیش کی گئی اور والد کو نابینا کرگئی اور کبھی یوسف ؑ پر ارادۂ زنا کی تہمت لگی تو یہ ان کی صفائی بن گئی، اب اللہ کا حکم ہوا تو یعقوب ؑ کی بینائی واپس ملنے کا ذریعہ بن گئی۔ یہ سب میرے مالک کی قدرت و مشیت ہے : (فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ) [ یسٓ : 83 ] ”سو پاک ہے وہ کہ اسی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 89–93

آیت نمبر 89 تا 93 قولہ تعالیٰ : قال ھل علمتم مافعلتم بیوسف واخیہ استفہام بمعنی تذکیر وتوبیح ہے، اور یہی وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی : لتنبئھم بامرھم ھٰذا (لیوسف :15) میں تجھے ضرور ان کے اس معاملے سے آگاہ کروں گا۔ اذانتم جٰھلون یہ اس بات پر دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب انہوں نے پکڑا تھا اس وقت وہ ابھی چھوٹے تھے اور نبی نہیں کیونکہ جہالت کی صفت اسی صورت میں بیان کی جاسکتی ہے اور یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اب ان کی حالت بہتر ہے۔ یعنی یہ تم نے اس وقت کیا جب تم چھوٹے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن ؓ نے اس کا یہ معنی بیان کیا ہے۔ اور ان کا قول ان کنا لخٰطین (اگرچہ ہم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 92–93

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بھائیوں کو معاف کرنا : 1:۔ عبدبن حمید وابن منذر رحمہما اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تثریب “ سے مراد ہے کہ تم پر کوئی انکار نہیں (یعنی کوئی الزام نہیں) 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا تثریب “ سے مراد ہے کہ تم پر کوئی انکار نہیں (یعنی کوئی الزام نہیں) 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح فرما لیا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم کیا کہتے ہو تم کیا گمان کرتے ہو انہوں نے کہا آپ کریم چچا کے بیٹے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا (آیت) ” لا تثریب علیکم الیوم،…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِذْهَبُوْا : تم لوگ جائو ] [بِقَمِيْصِيْ هٰذَا : میری اس قمیص کے ساتھ ] [فَاَلْقُوْهُ : پھر ڈالو اس کو ] [عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ : میرے والد کے چہرے پر ] [ يَاْتِ : تو وہ آئیں گے ] [ بَصِيْرًا : دیکھنے والا ہوتے ہوئے ] [ وَاْتُوْنِيْ : اور تم لوگ آئو میرے پاس ] [ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ : اپنے تمام گھر والوں کے ساتھ ] نوٹ۔ 1: قَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا سے معلوم ہوا کہ جب انسان کسی تکلیف و مصیبت میں گرفتار ہو اور پھر اللہ تعالیٰ اسے نجات عطا فرما کر اپنی نعمت سے نوازیں تو اب اس کو گذشتہ مصائب کا ذکر کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے اس انعام و احسان کا ذکر کرنا چاہیے جو اب حاصل ہوا ہے۔ مصیبت سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ بھیجنا اور والد کے چہرہ پر ڈالنے سے بینائی واپس آجانا اور بیٹوں کا اقرار کرنا کہ ہم خطا وار ہیں اور استغفار کرنے کی درخواست کرنا جب بھائیوں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مذکورہ بالا گفتگو ہوچکی تو واپسی کا موقع آگیا ( اور مقصد بھی حل ہوگیا کیونکہ اپنے والد کے حکم سے یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو تلاش کرنے کے لیے سفر کرکے آئے تھے دونوں بھائی مل گئے) جب چلنے لگے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ لو یہ میرا کرتہ لے جاؤ میرے غم میں روتے روتے والد کی آنکھیں چلی گئیں اب تم میرا یہ کرتہ ان کے چہرہ پر ڈال دینا انشاء اللہ تعالیٰ ان کی بینائی واپس آجائے گی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–93

بار سوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) بحکم یعقوب (علیہ السلام) برائے تفحص یوسف و بنیامین قال اللہ تعالیٰ فاما دخلوا علیہ قالوا یایھا العزیز .... الیٰ .... واتونی باہلکم اجمعین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ ذکر تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو تاکید اکید کی کہ خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوں اور یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی تلاش میں نکلیں چناچہ یہ لوگ مصر روانہ ہوئے کہ اول تو اس بھائی کو لانے کی کوشش کریں جس کا نشان معلوم تھا اس کے بعد دوسرے بےنشان بھائی یعنی یوسف (علیہ السلام) کی تلاش شروع کریں اب آئندہ آیات میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ یعقوب (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق پھر مصر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

48:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی قمیص اتار کر بھائیوں کو دی اور فرمایا یہ لے جاؤ اور محترم ابا جان کے چہرے پر ڈالو اس سے ان کی بینائی میں جو نقص واقع ہوگیا ہے ٹھیک ہوجائے گا اور تمام اہل و عیال کو لے کر میرے پاس آجاؤ قمیص میں شفاء کا ہونا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو وحی سے معلوم ہوا تھا جیسا کہ محققین نے فرمایا ہے قال المحققون ان علم یوسف بان القاء ذلک القمیص علی وجہ یعقوب یوجب رد البصر کان بوحی اللہ الیہ ذلک (خازن ج 3 ص 314) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 88–93

ربط آیات جب یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے کنعان جا کر اپنے باپ کو بن یامین کی گرفتاری کا حال سنایا تو ان کا پرانا غم پھر تازہ ہوگیا پہلے وہ یوسف (علیہ السلام) کی جدائی میں پریشان تھے اب دوسرے بیٹے کی جدائی کی بات سنی تو دکھ دو چند ہوگیا مگر آپ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نامید نہیں ہوئے بلکہ بیٹوں سے کہا کہ جائو جا کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو تلاش کرو ، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو لے آئے۔ بن یامین بھی رہا ہوجائے اور یوسف (علیہ السلام) جس کا نام و نشان تک معلوم نہیں شاید وہ بھی مل جائے خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے اور اس سے کوئی بعید نہیں۔ فرمایا خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرًا ۚ وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ 93؀ۧ قمیص الْقَمِيصُ معروف، وجمعه قُمُصٌ وأَقْمِصَةٌ وقُمْصَانٌ. قال تعالی: إِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ [يوسف/ 26] ، وَإِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ [يوسف/ 27] وتَقَمَّصَهُ : لبسه، وقَمَصَ البعیر يَقْمُصُ ويَقْمِصُ : إذا نزا، والقُمْاصُ : داء يأخذه فلا يستقرّ به موضعه ومنه ( القَامِصَةُ ) في الحدیث . ( ق م ص ) القمیص قمیص ۔ کرتہ ۔ جمع قمص واقمصتہ وقمصان قرآن میں ہے : ۔ إِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ [يوسف/ 26] اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہو ۔ وَإِنْ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 92–93

قَالَ لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ط یَغْفِرُاللّٰہُ لَکُم ز وَھُوَاَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ اِذْھَبُوْا بِقَمِیْصِیْ ھٰذَا فَاَلْقُوْہُ عَلٰی وَجْہِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا ج وَاْتُوْنِیْ بِاَھْلِکُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 92، 93) (حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا آج تم پر کچھ الزام نہیں، اللہ تعالیٰ تم کو معاف کرے۔ وہ ارحم الراحمین ہے۔ میرا یہ کرتا لے جاؤ، میرے باپ کے چہرے پر ڈال دیجیے، وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور تم لوگ اپنے تمام اہل و عیال کے ساتھ میرے پاس آجاؤ۔ ) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا عفو ودرگزر بھائیوں نے جب اپنے جرم کا اعتراف کرلیاتو باوجود اس کے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 93–96

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے بھائیوں کو الوداع کہتے ہوئے اپنی قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کرنے کا حکم۔ نہ معلوم حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کتنے دنوں تک اپنے بھائیوں کو اپنے ہاں عزت و تکریم کے ساتھ ٹھہرایا۔ برادران جب اپنے وطن واپس جانے لگے تو انہیں الوداع کرتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) نے اپنی قمیص دیتے ہوئے فرمایا کہ اسے والد گرامی کے چہرہ اقدس پر رکھنا۔ جس سے ان کی بنائی لوٹ آئے گی۔ کیونکہ بنیامین انہیں گھریلو حالات اور والد محترم کی صحت کے بارے میں بتلا چکا تھا کہ آپ کے غم میں والد گرامی کی بینائی جاتی رہی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اظہارِ معجزہ : 93: پھر ان سے والد کے حالات دریافت کئے تو انہوں نے کہا زیادہ رونے کی وجہ سے ان کی آنکھیں جاتی رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا : اِذْھَبُوْا بِقَمِیْصِیْ ھٰذَا (تم میری یہ قمیص لے جائو) ایک قول یہ ہے کہ وہ متوارث قمیص تھی جو تعویذ کی صورت میں یوسف (علیہ السلام) کے پاس تھی یہ جنت سے آئی تھی۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے اسی کے بھیجنے کا حکم دیا تھا کیونکہ اس میں جنت کی خوشبو تھی وہ جب کسی مبتلائِ مصیبت پر ڈالی جاتی تو وہ صحیح ہوجاتا۔ فَاَلْقُوْہُ عَلٰی وَجْہِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا (پس اس کو میرے والد کے چہرہ پر ڈال دو ان کی بصارت واپس آجائے گی) بصربصیرًا تم کہو گے جاء البناء محکما۔ یہ بنیاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 93۔” اذھبوا بقمیصی ھذا فالقوہ علی وجہ ابی یات بصیرا “ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا تھا کہ اس طرح کرنے سے نگاہ ٹھیک ہوجائے گی ۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ قمیص جنت کی بنی ہوئی تھی ۔ مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے حکم دیا تھا کہ اپنی قمیص بھیج دیں یہ قمیص ابراہیم (علیہ السلام) کی تھی کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے کپڑے اتار کر ان کو عریان آگ میں ڈالا گیا تھا تو جبرئی (علیہ السلام) ان کے پاس جنت کے ریشم کی قمیص لائے تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو پہنچا دی تھی۔ یہ قمیص ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس رہ گئی پھر آپ (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

93۔ بعضی تفسیروں میں یہ جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے روایت لکھی ہے کہ یہ کرتہ جو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بھیجا تھا جس کے اثر سے چھ برس کی گئی ہوئی آنکھیں منہ پر ڈالتے ہی اچھی ہوگئیں یہ وہ کرتہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے آگ میں ڈالے جانے کے وقت خدا تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) جنت سے لائے تھے یہ کرتہ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو دیا اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو دیا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس کرتے کا ایک تعویذ بنا کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گلے میں ڈال دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے کہا : (آیت) ” تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ آنکھوں سے دیکھتا ہوا آئے گا “ کیونکہ ہر بیماری کا علاج اس کی ضد کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔ اس قمیص میں چونکہ یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کا اثر تھا جس کی جدائی نے اپنے باپ کے دل کو اس قدر حزن و غم سے لبریز کردیا تھا۔۔۔ جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔۔۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) چاہتے تھے کہ یہ قمیص ان کے باپ کو سونگھائی جائے تو ان کی روح، ان کا نفس اور ان کی بصارت لوٹ آئے گی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہیں جن کو بندے نہیں جانتے مگر اس معاملے پر یوسف (علیہ السلام) کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 88–96

اشیاء کا ناپ تول کر، لینا دینا قول باری (فاوف لنا الکیل۔ آپ ہمیں بھرپور غلہ عنایت فرمائیں) اس پر دلالت کرتا ہے کہ غلہ ناپنے والے کی اجرت فروخت کنندہ کے ذمہ عائد ہوگی اس لئے کہ فروخت کنندہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خریدار کیلئے فروخت شدہ چیز کی تعیین کرے اور ناپ یعنی کیل کے بغیر اس کا تعین نہیں ہوسکتا۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ (فاوف لنا الکیل) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلہ ناپنے کی ذمہ داری حضرت یوسف (علیہ السلام) پر تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ نے طعام یعنی خوردنی شے کو فروخت کرنے سے اس وقت تک کے لئے منع کردیا ہے جب تک یہ شے دو پیمانوں سے گزر نہ جائے یعنی فروخت کنندہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

152۔ یوسف کے کرتے کی عظمت شان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فرمایا کہ تم یہ کرتالے جاؤ اور اس کو لے جاکر میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا۔ اس سے ان کی بینائی لوٹ آئے گی اور تم اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتابھی عجیب تھا کہ تین عجیب اور عظیم الشان نشانیاں اس سے وابستہ ہیں۔ آپ کے بھائی جب اس پر جھوٹاخون لگا کرلے گئے تو ان کے والد نے کہا کہ وہ بھیڑیا کیسا تھا جس نے یوسف (علیہ السلام) کو کھالیا مگر ان کے کرتے کو پھاڑا تک نہیں۔ اس طرح اس کرتے سے ان کا جھوٹ کھل گیا۔ پھر اسی کرتے نے زلیخا کی تہمت کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–93

آیات 80 تا 93 اسرار و معارف بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 ۔ یعنی ہر مرض کی اللہ کے ہاں دوا ہے۔ ایک شکص کے فریق میں یعقوب ( علیہ السلام) کی آنکھیں ضائع ہوگئیں۔ اس کے بدن کی چیز ملنے سے درست ہوگئیں۔ یہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی کرامت تھی۔ (موضح) اور شدت فرح سے بینائی میں قوت پیدا ہوجانا طبی طرو پر بھی ثابت ہے۔ (رازی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 92–93

(12:92) تثریب۔ سرزنش ۔ الزام۔ گرفت۔ پکڑ۔ گناہ پر جھڑکنا۔ یا ڈانٹنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 88–93

لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 93 مسنا ہمیں پہنچی، ہمیں چھولیا الضر سختی اور پریشانی مزجۃ بیکار، معمولی اوف پورا کر تصدق صدقہ کر دے، نیکی کر ھل علمتم کیا تمہیں معلوم ہے، کیا تمہیں یاد ہے مافعلتم تم نے کیا کیا من اللہ اللہ نے احسان کیا من یتق جو تقویٰ اختیار کرتا ہے لایضیع ضائع نہیں کرتا اثر اختیار کیا، منتخب کرلیا لاتثریب الزام نہیں ہے یات بصیراً آنکھوں کی روشنی آئے گی ۔ تشریح آیت نمبر 88 تا 93 جب برادران یوسف نے اپنے والد کی یہ حالت دیکھی اور ان کی طرف سے حکم ہوا کہ تم جاؤ اور یوسف کو تلاش کرو تب یہ نو بھائی تیسری مرتبہ کنعان سے مصر پہنچ گئے۔ بادشاہ مصر کی خدمت میں پہنچے اور نہایت عاجزی اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 90–93

حضرت یوسف کے بھائیوں نے انہیں پہچان کر قصور کی معافی چاہی، پھر حضرت یوسف نے انہیں جنتی کرتہ دیا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے سر سے تاج اتارا اور اپنی پیشانی دکھائی۔ ان کی پیشانی پر ایک تل تھا اس کو دیکھ کر انہوں نے پہچان لیا کہ یہ یوسف ہیں اور کہنے لگے کہ کیا سچ مچ تم ہی یوسف ہو فرمایا کہ بیشک میں یوسف ہوں اور یہ میرا چھوٹا بھائی بنیامین ہے۔ خدا نے بڑا فضل کیا کہ مدت دراز کے بعد ہمیں ایک جگہ کیا جو شخص خدا سے ڈرتا ہے اور مصیبت کے وقت صبر کرتا ہے اس کا اجر اللہ پاک ضائع نہیں کرتا ہے۔ میرے اوپر کیسی کیسی مصیبت پڑی ہر حالت میں صبر ہی کرتا رہا اللہ تعالیٰ نے رحم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 93–100

[33] یہ سجدہ تعظیمیہ تھا جو سابقہ شریعتوں میں جائز تھا لیکن شریعت محمدی ﷺ میں ہر قسم کا سجدہ غیر اللہ کے لئے حرام کردیا گیا بلکہ یہ بھی جائز نہیں کہ کوئی انسان کسی دوسری ہستی کے آگے اپنا جسم دوہرا کرے۔ [43] یوسف (علیہ السلام) کی کریم النفسی ملاحظہ ہو کہ ایسے شدید دشمن بھائیوں پر ذرا الزام نہ آنے دیا بلکہ ذمہ داری شیطان کی قرار دے کر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حیثیت ایک ہی رکھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) قمیص دینے سے غرض یہ تھی کہ باپ کو تسلی ہو اور وہ اس نشانی کو دیکھ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگانی کا یقین کرلیں ، انہیں معلوم ہوجائے کہ واقعی میرا بیٹا یوسف (علیہ السلام) زندہ ہے ۔ حل لغات : تثریب : سرزنش ، ملامت ۔ یات بصیرا : آگاہ ہوجائے گا ، معلوم کریگا محاورہ ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

93 ۔ بس اب تم میرے باپ کے لئے یہ میرا کرتہ لے جائو اور اس کو میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو وہ بینا ہوجائیگا اور دیکھتا ہوا چلا آئے گا اور اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آئو ۔ یعنی ایسی حالت میں کہ باپ کی آنکھوں کی بینائی کمزورہو گئی ہے یا بالکل روشنی جاتی رہی ہے ۔ یہاں آنے میں دشواری ہوگی اس لئے تم ان کو جا کر بشارت دو اور یہ کرتہ ان کے منہ پر ڈال دو تو بینائی ٹھیک ہوجائے گی پھر سب کو میرے پاس لے آئو ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر مرض کی اللہ کے یہاں دوا ہے آنکھیں گئی تھیں ایک شخص کے فراق میں اسی کے بدن کی چیز ملنے سے چنگی ہوگئیں یہ کرامت تھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ یہ اس لیے فرمایا کہ ان کو خلل بصارت کا علم ہوگیا ہوگا اور یعقوب (علیہ السلام) کا اس کرتے کے ڈالنے بینا ہوجانا بطور معجزہ کے تھا اور قمیص علی الاصح کوئی خاص نہ تھا یہی معمولی لباس تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ تم میرا کرتہ کنعان لے جائو وہ ساری بات سمجھ جائیں گے ۔ 109 یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھائیو دیکھو ! یہ میرا کرتہ ہے تم اس کو ساتھ لے جائو اور والد بزرگوار کے چہرہ کی تہہ تک وہ پہنچ جائیں گے اور یقیناً تم سے یہ تقاضا بھی نہیں کریں گے کہ جب تک بنیامین اور اس بڑے بھائی کو ساتھ نہ لائو جو مصر میں خود ہی رک گیا تھا میں تمہارے ساتھ نہیں جائوں گا اس لئے کہ وہ کرتہ دیکھتے ہی ساری حقیقت کو پا جائیں گے اور یہ اس لئے کہ ایک بار میرا کرتہ تم نے پہلے بھی لے جا کر والد کے سامنے رکھا تھا اور وہ ساری حقیقت پا گئے تھے کہ یہ داستان جو یوسف کے بھائیوں نے گھڑی ہے کہ یوسف کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The previous verses about the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) have told us about the time when, by the will of Allah, it was appropriate for him to disclose his secret to his brothers. This he did. His brothers sought his forgiveness. He, not only that he forgave them, did not even choose to admonish them for what they had done to him in the past. In fact, he prayed to Allah Ta` la for them. Meeting his father was now his next concern. Given the conditions, he found it better that his father comes to him with the family. But, having come to know that his father had lost his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–94

66. This is an instance of the extraordinary powers the Prophets possess. Prophet Jacob perceived in Canaan the smell of Prophet Joseph’s shirt from such a distant place as Egypt as soon as the caravan started on the journey. At the same time it also shows, by contrast, that these powers of the Prophets are not inherent or personal characteristics but are bestowed on them by Allah as and when He wills. That is why Prophet Jacob could not perceive the smell of the clothes of Prophet Joseph as long as Allah did not will it, when he had been living in Egypt. In this connection, it should also be…

Read the full tafseer →