Explained with ayahs 89–92
جب بھائی حضرت یوسف ؑ کے پاس اس عاجزی اور بےبسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں تو حضرت یوسف ؑ کا دل بھر آیا نہ رہا گیا۔ اپنے سر سے تاج اتار دیا اور بھائیوں سے کہا کچھ اپنے کرتوت یاد بھی ہیں کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ؟ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ نری جہالت کا کرشمہ تھا اسی لئے بعض سلف فرماتے ہیں کہ اللہ کا ہر گنہگار جاہل ہے۔ قرآن فرماتا ہے آیت (ثم ان ربک للذین عملو السوء بجھالتہ) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو دفعہ کی ملاقات میں حضرت یوسف ؑ کو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم اللہ نہ تھا۔ اب کی مرتبہ حکم ہوگیا۔ آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
66۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی غیر معمولی قوتوں کا اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی قافلہ حضرت یوسف کا قمیص لیکر مصر سے چلا ہے اور ادھر سیکڑوں میل کے فاصلے پر حضرت یعقوب اس کی مہک پالیتے ہیں، مگر اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی یہ قوتیں کچھ ان کی ذاتی نہ تھیں بلکہ اللہ کی بخشش سے ان کو ملی تھیں اور اللہ جب اور جس قدر چاہتا تھا انہیں کام کرنے کا موقع دیتا تھا۔ حضرت یوسف برسوں مصر میں موجود رہے اور کبھی حضرت یعقوب کو ان کی خوشبو نہ آئی۔ مگر اب یکایک قوت ادراک کی تیزی کا یہ عالم ہوگیا کہ ابھی ان کا قمیص مصر سے چلا ہے اور وہاں ان کی مہک آنی شروع ہوگئی۔
یہاں یہ ذکر بھی دلچسپی سے…
Read the full tafseer →اب تو برادران یوسف کے پاس بجز جرم وخطا کے اعتراف اور یوسف ؑ کے فضل و کمال کے اقراء کے چارہ نہ تھا سب نے یک زبان ہو کر کہا (آیت) تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِــــِٕيْنَ بخدا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم سب پر فضیلت اور برتری عطا فرمائی اور آپ اسی کے مستحق تھے اور ہم نے جو کچھ کیا بیشک ہم اس میں خطا وار تھے للہ معاف کر دیجئے یوسف ؑ نے جواب میں اپنی پیغمبرانہ شان کے مطابق فرمایا،
Read the full tafseer →قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِــــِٕيْنَ۔ " ایثار " کے معنی ترجیح اور فضیلت دینے کے ہیں۔
اعترافِ حق : اس مرحلہ میں آخر انہوں نے خدا کی قسم کھا کر اقرار کیا کہ بیشک خدا نے آپ کو ہم پر فضیلت دی اور ہم غلطی پر تھے۔ یعنی ہم نے اس غم و غصہ میں یہ سارے پاپڑ بیلے کہ ہمارے باپ ہمارے مقابل میں کیوں آپ کو خاص مہر و محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اب خود اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر کھلی ہوئی فضیلت دے کر ہم پر ہماری غلطی واضح فرما دی۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کو جو فضیلت حاصل ہوئی آپ اس کے سزاوار تھے اور ہم نے جو کچھ کیا ہم اس میں غلطی پر تھے۔
Read the full tafseer →91۔ 1 بھائیوں نے جب یوسف ؑ کی شان دیکھی تو اپنی غلطی اور کوتاہی کا اعتراف کرلیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
57: یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ یقینا جانتے ہوں گے کہ ان کی جدائی سے ان کے والد بزرگوار پر کیا گذر رہی ہوگی۔ اس کے باوجود اتنے لمبے عرصے تک انہوں نے کسی بھی ذریعے سے اپنی خیریت کی کوئی خبر اپنے والد کو بھیجنے کی کوشش نہیں کی۔ اول تو عزیز کے گھر میں رہنے کے دوران خبر بھیجنا کچھ مشکل نہ ہونا چاہیے تھا۔ پھر قید سے آزادی کے بعد تو ان کو ملک پر مکمل اقتدار بھی حاصل ہوچکا تھا۔ وہ شروع ہی میں حضرت یعقوب ؑ اور اپنے سارے گھر والوں کو مصر بلانے کا انتظام کرسکتے تھے اور جو بات انہوں نے اپنے بھائیوں سے اب کہی وہ ان کی پہلی آمد کے موقع پر بھی فرما سکتے تھے اور اس طرح حضرت یعقوب ؑ کے رنج و غم…
Read the full tafseer →آیت نمبر 91
انہوں نے اپنی غلطی کا صاف صاف اقرار کرلیا۔ گناہ کا اعتراف کرلیا۔ انہوں نے جان لیا کہ اللہ نے ان پر اسے ترجیح دے دی ہے کیونکہ وہ حلیم الطبع ، متقی اور محسن تھے۔ اور ان کے اس صاف صاف اعتراف کے جواب میں حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کو تہ دل سے معاف فرماتے ہیں۔ اس طرح ان کی شرمندگی میں کمی آتی ہے اور اہل کرم کا شیوہ ہی عفو و درگزر ہوتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) جس طرح مشکلات میں کامیاب ہوئے تھے ، اسی طرح اقتدار کی آزمائش میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ یقیناً وہ محسنین میں سے ایک تھے۔
Read the full tafseer →9 یعنی تجھ کو ہر حیثیت سے ہم پر فضیلت دی اور تو اسی لائق تھا، ہماری غلطی اور بھول تھی کہ تیری قدر نہ پہچانی، آخر تیرا خواب سچا اور ہمارا حسد بیکار ثابت ہوا۔
Read the full tafseer →قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِــــِٕيْنَ
یقیناً ہم خطاکار ہیں بلاشبہ ظلم و زیادتی کے مرتکب ہم ہی ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →88 سیدنا یوسف کے اس جواب پر ان کے سارے کارنامے ان کی آنکھوں کے سامنے پھرگئے اور برملا اعتراف کرنے لگے بیشک غلط کار ہم ہی تھے اور آپ اسی عزت کے مستحق تھے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے پھر اس خیال سے کہ اگرچہ شاہ مصر ان کا بھائی ہے وہ اس وقت بادشاہ ہے۔ ممکن ہے ہمیں سابقہ خطاؤں پر مؤاخذہ کرے۔ لہذا دل ہی دل میں کچھ ڈر بھی رہے تھے۔
Read the full tafseer →166۔ (تمہارے اور بنیامین دونوں کے ساتھ اپنے معاملات میں) بڑے بھائیوں اور وہ بھی ایسے خیرہ سر بڑے بھائیوں کا، چھوٹے بھائی سے عجز ونیاز کے ساتھ معافی مانگنا، اللہ اکبر، کیسا مؤثر سماں ہوگا ! تاللہ سے الخاطئین تک پڑھ جائیے تو لب و لہجہ میں حسرت، ندامت، معذرت سب کچھ ملیں گی، (آیت) ” لقد اثرک اللہ علینا “۔ بیشک اللہ نے تمہیں بزرگی دے رکھی ہے اور تم بزرگی کے اہل بھی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیت نمبر 80 تا 93
ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…
Read the full tafseer →قالوا تا اللہ لقد اترک اللہ علینا وان کنا لخطئین بولے : بخدا ! بلاشبہ اللہ نے آپ کو ہم پر برتری عطا فرمائی اور ہم یقیناً خطاوار تھے۔ یعنی معذرت پیش کرتے ہوئے انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ جمال صورت اور کمال سیرت اور تمام دنیوی و اُخروی فضائل کے لحاظ سے اللہ نے آپ کو ہم پر برتری عطا فرمائی اور ہم نے جو کچھ آپ کے ساتھ کیا ‘ اس کے ہم خطاوار ہیں۔ خٰطِءِیْنَ قصداً خطا کرنے والے) خَطَأَ قصداً خطا کی اور اَخْطَأَ (باب افعال) نادانستہ خطا کی۔
Read the full tafseer →(91) چناچہ حضرت یوسف ؑ کے بھائی حضرت یوسف ؑ سے بطور معذرت کہنے لگے بخدا تمہیں اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضیلت فرمائی ہے اور جو کچھ تم نے کیا بیشک اس میں ہم آپ کے ساتھ برائی کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ۔۔ : بھائیوں کے سامنے اپنے ظلم و ستم کا وہ سارا منظر آگیا جو ان کے ہاتھوں ہوا تھا تو انھوں نے قسم کھا کر اعتراف کیا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر، تقویٰ اور دوسری صفات حسنہ کی وجہ سے ہم پر برتری اور فوقیت عطا فرمائی ہے۔ ”وَاِنْ كُنَّا“ اصل میں ”اِنَّا کُنَّا“ تھا، جس کی دلیل ”خَاطِءِیْنَ“ پر آنے والا لام ہے۔ ”اِنَّ“ اور لام کے ساتھ تاکید بھی قسم ہی کی ایک صورت ہے کہ یقیناً ہم آپ پر ظلم کرکے جانتے بوجھتے ہوئے غلط اور گناہ کا کام کرنے والے تھے۔ ”خَاطِءِیْنَ“ اور ”مُخْطِءِیْنَ“ کے فرق کے لیے دیکھیے آیت (29) کی تفسیر۔ بھائیوں کے اعتراف گناہ کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
آیت نمبر 89 تا 93
قولہ تعالیٰ : قال ھل علمتم مافعلتم بیوسف واخیہ استفہام بمعنی تذکیر وتوبیح ہے، اور یہی وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی : لتنبئھم بامرھم ھٰذا (لیوسف :15) میں تجھے ضرور ان کے اس معاملے سے آگاہ کروں گا۔ اذانتم جٰھلون یہ اس بات پر دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب انہوں نے پکڑا تھا اس وقت وہ ابھی چھوٹے تھے اور نبی نہیں کیونکہ جہالت کی صفت اسی صورت میں بیان کی جاسکتی ہے اور یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اب ان کی حالت بہتر ہے۔ یعنی یہ تم نے اس وقت کیا جب تم چھوٹے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن ؓ نے اس کا یہ معنی بیان کیا ہے۔ اور ان کا قول ان کنا لخٰطین (اگرچہ ہم…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اپنا تعارف کرایا کہ وہ ایک ایسے آدمی کو ملے جو حلیم الطبع تھا۔ جس نے کسی درد والم کا اظہار نہیں کیا تھا اور نہ ان کو ان کے اعمال پر تنبیہ کی تھی۔
Read the full tafseer →[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ تَاللّٰهِ : اللہ کی قسم ] [ لَقَدْ اٰثَرَكَ : یقینا ترجیح دی ہے آپ (علیہ السلام) کو [اللّٰهُ : اللہ نے [عَلَيْنَا : ہم پر ] [وَان : اور بیشک ] [ كُنَا : ہم تھے [ لَخٰطِــــِٕيْنَ : یقینا غلطی کرنے والے ]
Read the full tafseer →حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو پتہ چل گیا کہ عزیز مصر جو ہمیں غلہ دیتا رہا ہے یہ تو ہمارا بھائی یوسف ہے جسے ہم نے کنویں میں ڈالا تھا ‘ پہلے دو بار جو غلہ لینے کے لئے آئے تھے یوسف (علیہ السلام) کو نہ انہوں نے پہچانا تھا اور نہ انہیں یہ گمان تھا کہ یہ شخص ہمارا بھائی یوسف ہوسکتا ہے لیکن تیسری مرتبہ کے چکر میں جب بات کھل کر سامنے آگئی کہ یہ یوسف ہے تو آنکھیں نیچی ہوگئیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) پر جو اللہ نے احسان فرمایا اس کے اقرار کے ساتھ اپنے جرم کے اعتراف کے بغیر چارہ نہ رہا لہٰذا ان کی زبان سے یہ نکلا (تَاللّٰہِ لَقَدْ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَاِنْ کُنَّا لَخٰطِءِیْنَ ) (اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
بار سوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) بحکم یعقوب (علیہ السلام) برائے تفحص یوسف و بنیامین
قال اللہ تعالیٰ فاما دخلوا علیہ قالوا یایھا العزیز .... الیٰ .... واتونی باہلکم اجمعین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ ذکر تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو تاکید اکید کی کہ خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوں اور یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی تلاش میں نکلیں چناچہ یہ لوگ مصر روانہ ہوئے کہ اول تو اس بھائی کو لانے کی کوشش کریں جس کا نشان معلوم تھا اس کے بعد دوسرے بےنشان بھائی یعنی یوسف (علیہ السلام) کی تلاش شروع کریں اب آئندہ آیات میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ یعقوب (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق پھر مصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
77:۔ اب بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برتری اور فوقیت و فضیلت کا اقرار کیا اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرلیا۔ ” قَالَ لَا تَثْرِیْبَ الخ “ مگر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کوئی سرزنش نہ فرمائی اور معافی کا صاف اعلان کردیا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں میں اپنا حق معاف کرتا ہوں اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ بھی تمہیں معاف فرما دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
ربط آیات
جب یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے کنعان جا کر اپنے باپ کو بن یامین کی گرفتاری کا حال سنایا تو ان کا پرانا غم پھر تازہ ہوگیا پہلے وہ یوسف (علیہ السلام) کی جدائی میں پریشان تھے اب دوسرے بیٹے کی جدائی کی بات سنی تو دکھ دو چند ہوگیا مگر آپ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نامید نہیں ہوئے بلکہ بیٹوں سے کہا کہ جائو جا کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو تلاش کرو ، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو لے آئے۔ بن یامین بھی رہا ہوجائے اور یوسف (علیہ السلام) جس کا نام و نشان تک معلوم نہیں شاید وہ بھی مل جائے خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے اور اس سے کوئی بعید نہیں۔ فرمایا خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا…
Read the full tafseer →قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِــــِٕيْنَ 91
أثر
والإيثار للتفضل ومنه :[ آثرته، وقوله تعالی: وَيُؤْثِرُونَ عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الحشر/ 9] وقال : تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 91] وبَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَياةَ الدُّنْيا [ الأعلی/ 16] .
وفي الحدیث : «سيكون بعدي أثرة» «5» أي : يستأثر بعضکم علی بعض .
( ا ث ر )
اور الایثار ( افعال ) کے معنی ہیں ایک چیز کو اس کے افضل ہونے کی وجہ سے دوسری پر ترجیح دینا اور پسندکرنا اس سے آثرتہ ہے یعنی میں نے اسے پسند کیا ۔ قرآن میں ہے :۔ { وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ } [ الحشر : 9] دوسروں کو اپنی ذات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →قَالُوْا تَاللّٰہِ لَقَدْ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَاِنْ کُنَّا لَخٰطِئِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 91)
(برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) کہنے لگے، اللہ تعالیٰ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر برتری بخشی اور بیشک ہم ہی غلطی پر تھے۔ )
اعتراف حق
یاد ہوگا کہ برادرانِ یوسف کو جو حضرت یوسف (علیہ السلام) پر سب سے زیادہ غصہ تھا وہ اس بات پر تھا کہ ہمارے والد آخر یوسف ( علیہ السلام) کو ہم پر ترجیح کیوں دیتے ہیں، ان کی تمام شفقت اور عنایت یوسف ( علیہ السلام) ہی کے لیے کیوں ہے، اس میں ایسی کیا بات ہے کہ ہمارے والد اسے زیادہ چاہتے ہیں حالانکہ ہم دس بھائی ہیں۔ قبائلی زندگی کے حوالے سے اس شخص کو زیادہ عزت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جونہی اپنا تعارف کروایا تو بھائی ان کے سامنے معذرت پیش کرنے لگے۔
برادران یوسف نے دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اللہ کی قسم اٹھاتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برتری کا اعتراف کیا کہ اللہ نے آپ کو ہم پر بڑی عزت و عظمت عطا فرمائی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم خطا کار ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا بےفکر ہوجاؤ آج تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ تمہیں اللہ معاف فرمائے وہ سب سے بڑھ کر مہربان ہے۔
یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے، حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پوتے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل…
Read the full tafseer →طلب معافی :
91: قَالُوْا تَا للّٰہِ لَقَدْ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیْنَا (انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہم پر ترجیح دی) تمہیں چُنا اور علم و حلم کے ذریعہ ہم پر فضیلت دی۔ اور تقوی اور صبر حسن عنایت فرمایا۔ وَاِنْ کُنَّا لَخٰطِئِیْنَ (یقینا ہم غلطی کرنے والے تھے) اور بیشک ہماری شان و حالت یہ ہے کہ بلاشبہ ہم جان بوجھ کر گناہ کرنے والے ہیں۔ نہ ہم گناہوں سے بچے اور نہ صبر کیا یقینا اللہ تعالیٰ نے آپ کو بادشاہت سے عزت دی اور ہمیں مسکین بنا کر تیری خدمت میں پیش کردیا۔
Read the full tafseer →91۔” قالوا “ معذرت کرتے ہوئے ” تا اللہ لقد آثرک اللہ علینا “ اللہ نے تجھے اختیار کیا اور ہم پر فضلیت دی ” وان کنا لخاطنین “ جو کچھ تیرے ساتھ ہم نے کیا نہ یہ کیا کہ گناہ گار تھے ۔ کہا جاتا ہے خطئی خطاء جب جان بوجھ کرے اور اخطاء کہا جاتا ہے جب بغیر عمد کے کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
89۔ 92۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سامنے اپنے سختی کا حال بیان کیا تو ان کا دل امنڈ آیا باپ کا خیال آیا کہ میرے فراق میں خدا جانے ان کی کیا حالت ہوگی اور پھر بنیامین ان سے جدا ہوگیا اس سے اور بھی ان کو صدمہ پہنچا ہوگا اور قحط سالی کی بلا جدا ہے غرض کہ ان باتوں کو یاد کر کے یوسف (علیہ السلام) رونے لگے اور بھائیوں سے فرمایا کہ تم نے جو کچھ سلوک یوسف (علیہ السلام) اور اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ کیا وہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ کس طرح مکرو فریب سے ان کو باپ سے جدا کیا اور حقیقت میں تمہاری نادانی نے تمہیں اس بات پر آمادہ کیا تھا جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ بات…
Read the full tafseer →(آیت) ” انہوں نے کہا، اللہ کی قسم، اللہ نے آپ کو ہمارے مقابلے میں پسند کرلیا ہے “ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو مکارم اخلاق اور محاسن عادات کے ذریعے سے ہم پر فضیلت سے نوازا، ہم نے آپ کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا، ہم نے آپ کو تکلیف پہنچانے اور آپ کو اپنے باپ سے دور کرنے کی خواہش کی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فضیلت بخشی اور ان امور کو آپ کے لئے ممکن بنادیا جو آپ چاہتے تھے۔ (آیت) ” اور بلا شبہ ہم خطا کار تھے۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–96
اشیاء کا ناپ تول کر، لینا دینا
قول باری (فاوف لنا الکیل۔ آپ ہمیں بھرپور غلہ عنایت فرمائیں) اس پر دلالت کرتا ہے کہ غلہ ناپنے والے کی اجرت فروخت کنندہ کے ذمہ عائد ہوگی اس لئے کہ فروخت کنندہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خریدار کیلئے فروخت شدہ چیز کی تعیین کرے اور ناپ یعنی کیل کے بغیر اس کا تعین نہیں ہوسکتا۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ (فاوف لنا الکیل) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلہ ناپنے کی ذمہ داری حضرت یوسف (علیہ السلام) پر تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ نے طعام یعنی خوردنی شے کو فروخت کرنے سے اس وقت تک کے لئے منع کردیا ہے جب تک یہ شے دو پیمانوں سے گزر نہ جائے یعنی فروخت کنندہ…
Read the full tafseer →149۔ برادران یوسف کا اعتراف جرم و قصور :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر انہوں نے کہا کہ " بلاشبہ اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی "۔ علم وحلم اور فضل و کمال ہر اعتبار سے۔ اور یقینا ہم سخت خطاکار تھے۔ سو اللہ نے آپ کو حسن ظاہر وباطن کے کمال اور جامعیت سے نوازدیا ہے۔ اور ایسا اور اس قدر کہ ہمارے تصور میں بھی نہیں آسکتا تھا۔ لہذا اب آپ للہ ہمیں معاف کردیں کہ آپ کی اس فضیلت و برزگی اور عظمت شان کا تقاضایہی ہے کہ آپ ہمیں معاف کردیں۔ بہرکیف اس موقع پر برادران یوسف نے خدا کی قسم کھاکر اقرار کیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی اور ہم بڑے خطاکار تھے جو اپنے باپ کو آپ کی بناء پر خطاکار سمجھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیات 80 تا 93
اسرار و معارف
بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ یعنی تقویٰ ور صبر کی وجہ سے تمہیں اللہ نے فضیلت دی اور ہم نے تمہارے ساتھ جو کچھ کیا اس میں ہم قصوروار ہیں۔ (روح) ۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں : تیرا خواب سچا تھا اور ہمارا حسد غلط (موضح) ۔
Read the full tafseer →(12: 91) اثرک۔ اثر یؤثر ایثار (افعال) ایک چیز کو اس کے افضل ہونے کی وجہ سے دوسری پر ترجیح دینا اور پسند کرنا۔ ماضی واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ اس نے تجھ کو فضلیت بخشی۔
قرآن میں اور جگہ آیا ہے ویؤثرون علی انفسھم (59:9) دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں۔ خطئین۔ خاطیٔکی جمع ۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ بحالت نصب وجر خطأ سے۔ خطار کار ۔ گنہگار خطا کرنے والے۔ چوکنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 93
مسنا ہمیں پہنچی، ہمیں چھولیا الضر سختی اور پریشانی مزجۃ بیکار، معمولی اوف پورا کر تصدق صدقہ کر دے، نیکی کر ھل علمتم کیا تمہیں معلوم ہے، کیا تمہیں یاد ہے مافعلتم تم نے کیا کیا من اللہ اللہ نے احسان کیا من یتق جو تقویٰ اختیار کرتا ہے لایضیع ضائع نہیں کرتا اثر اختیار کیا، منتخب کرلیا لاتثریب الزام نہیں ہے یات بصیراً آنکھوں کی روشنی آئے گی ۔
تشریح آیت نمبر 88 تا 93
جب برادران یوسف نے اپنے والد کی یہ حالت دیکھی اور ان کی طرف سے حکم ہوا کہ تم جاؤ اور یوسف کو تلاش کرو تب یہ نو بھائی تیسری مرتبہ کنعان سے مصر پہنچ گئے۔ بادشاہ مصر کی خدمت میں پہنچے اور نہایت عاجزی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
حضرت یوسف کے بھائیوں نے انہیں پہچان کر قصور کی معافی چاہی، پھر حضرت یوسف نے انہیں جنتی کرتہ دیا
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے سر سے تاج اتارا اور اپنی پیشانی دکھائی۔ ان کی پیشانی پر ایک تل تھا اس کو دیکھ کر انہوں نے پہچان لیا کہ یہ یوسف ہیں اور کہنے لگے کہ کیا سچ مچ تم ہی یوسف ہو فرمایا کہ بیشک میں یوسف ہوں اور یہ میرا چھوٹا بھائی بنیامین ہے۔ خدا نے بڑا فضل کیا کہ مدت دراز کے بعد ہمیں ایک جگہ کیا جو شخص خدا سے ڈرتا ہے اور مصیبت کے وقت صبر کرتا ہے اس کا اجر اللہ پاک ضائع نہیں کرتا ہے۔ میرے اوپر کیسی کیسی مصیبت پڑی ہر حالت میں صبر ہی کرتا رہا اللہ تعالیٰ نے رحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
[32] یہی وہ آیت ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے وقت اپنے جانی دشمنوں کے سامنے پڑھ کر یوسف (علیہ السلام) سے بھی بڑھ کر اپنی فراخ دلی کا ثبوت دیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–92
برادران یوسف (علیہ السلام) کی ندامت :
(ف 1) اب وقت آگیا تھا ، کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے چہرہ انور سے نقاب کشائی کریں ، اور بھائیوں کو بتادیں ، کہ جس یوسف کو تم نے کنعان کے تاریک کنوئیں میں پھینکا تھا ، وہ اس وقت عرش حکومت پر جلوہ گر ہے ، چناچہ جب بھائی دو بار مصر میں غلہ لینے کے لئے گئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، کیا تم وہی نہیں ہو جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ یہ یہ فریب کئے ہیں ، انہوں نے جب دیکھا کہ پتے کی باتیں بتائی جاری ہیں ، اور ان باتوں کا بجز یوسف (علیہ السلام) کے اور کسی کو علم نہیں ہو سکتا ، تو پکار اٹھے کہ کہیں تمہیں تو یوسف (علیہ السلام) نہیں…
Read the full tafseer →91 ۔ بھائیوں نے کہا خدا کی قسم اس میں شک نہیں کہ تجھ کو اللہ تعالیٰ نے ہم پر ترجیح دی اور ہر اعتبار سے تجھ کو ہم پر فضلیت عطا فرمائی اور ہم نے جو کچھ کیا بیشک ہم اس میں خطا وار تھے ۔ انہوں نے معذرت کے طور پر کہا کہ تم جس لائق تھے تمہارے ساتھ و ہ ہوا اور ہم نے جو کچھ کیا برا کیا تو ہم کو معاف کر دے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تیرا خواب سچ تھا اور ہمارا حسد غلط ۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
ف 1۔ یعنی ہم دونوں کو اول توفیق صبر وتقوی کی عطا فرمائی پھر اس کی برکت سے ہماری تکلیف کو راحت سے اور افتراق کو اجتماع سے اور قلت مال وجاہ سے مدل فرما دیا۔
Read the full tafseer →برادران یوسف نے اعتراف کرلیا کہ لالہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دے دی ہم گناہگار تھے
۔ 107 یوسف (علیہ السلام) کی زبان سے یہ سنتے ہی جب انہوں نے پہچان لیا اور عجز و ندامت کا سرجھکا کر بولے کہ ْیوسف (علیہ السلام) نے اپنے برادران کی اس خستہ حلای اور پریشانی کو دیکھا تو ان کی اخلاقی برتری اور پیغمبرانہ رحمت ورافت اس کو برداشت نہ کرسکی اور عفو و درگزر اور حلم و کرم کے ساتھ فوراً یہ ارشاد فرمایا جو کچھ ہونا تھا وہ ہوچکا اب ہم سب کو یہ تمام داستان فراموش کر دینی چاہئے۔ میں بارگاہ الہی میں دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہاری اس غلطی کو معاف کر دے کیونکہ وہی سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور پیار کرنے والا ہے ۔
Read the full tafseer →Now the brothers of Yusuf (علیہ السلام) had no choice left with them but to confess the wrongs they had done and admit the grace and excellence of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) . So, in one voice, they all said: تَاللَّـهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّـهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَاطِئِينَ : ` By God, Allah has given to you preference over us [ which you deserved ], and we were surely in error [ in whatever we did - and so, forgive us in the name of Allah ].' To this in reply, Sayyidna Yusuf' (علیہ السلام) said what a prophet of his stature would say:
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
66. This is an instance of the extraordinary powers the Prophets possess. Prophet Jacob perceived in Canaan the smell of Prophet Joseph’s shirt from such a distant place as Egypt as soon as the caravan started on the journey. At the same time it also shows, by contrast, that these powers of the Prophets are not inherent or personal characteristics but are bestowed on them by Allah as and when He wills. That is why Prophet Jacob could not perceive the smell of the clothes of Prophet Joseph as long as Allah did not will it, when he had been living in Egypt.
In this connection, it should also be…
Read the full tafseer →