Yusuf 12:90

Yusuf · from ayah 90

12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ ؕ— قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَهٰذَاۤ اَخِیْ ؗ— قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا ؕ— اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ۟قَالُوۡۤا ءَاِنَّكَ لَاَنۡتَ يُوۡسُفُ‌ؕ قَالَ اَنَا يُوۡسُفُ وَهٰذَاۤ اَخِىۡ‌ ۖ قَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَاؕ اِنَّهٗ مَنۡ يَّتَّقِ وَيَصۡبِرۡ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Are you indeed Joseph?" He said "I am Joseph, and this is my brother. Allah has certainly favored us. Indeed, he who fears Allah and is patient, then indeed, Allah does not allow to be lost the reward of those who do good."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 10 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:90

وہ چونک کر بولے "کیا تم یوسفؑ ہو؟" اُس نے کہا، "ہاں، میں یوسفؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان فرمایا حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے کہا کیا (واقعی) تو ہی یوسف ؑ ہے۔ جواب دیا کہ ہاں میں یوسف ؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر فضل وکرم کیا، بات یہ ہے کہ جو بھی پرہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ تعالیٰ کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اس پر) وہ بول اٹھے : ارے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ یوسف نے کہا : میں یوسف ہوں، اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص تقوی اور صبر سے کام لیتا ہے، تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں، کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی، بیشک اللہ نے ہم پر احسان کیا بیشک جو پرہیزگاری اور صبر کرے تو اللہ نیکوں کا نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے: کیا واقعی تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے فرمایا: (ہاں) میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے بیشک اﷲ نے ہم پر احسان فرمایا ہے، یقیناً جو شخص اﷲ سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو بیشک اﷲ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا کیا یقینا واقعی تو ہی یوسف ہے ؟ کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، یقینا اللہ نے ہم پر احسان فرمایا ہے۔ بیشک حقیقت یہ ہے کہ جو ڈرے اور صبر کرے تو بیشک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ (چونک کر) بول اٹھے : کیا تم ہی یوسف ہو ؟ یوسف نے کہا : ہاں ! میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی (بنیامین) ہے۔ اللہ نے ہم پر بہت بڑا احسان فرمایا : کیونکہ جو کوئی اس سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ بولے کہ کیا آپ واقعۃً یوسف ہی ہیں ! ! اس نے کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر پنا فضل فرمایا۔ بیشک جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور ثابت قدم رہتے ہیں تو اللہ خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ (چونک کر) بولے ہائیں ! کیا آپ واقعی یوسف ہی ہیں ؟ فرمایا ہاں، میں یوسف ہوں اور یہ میرا (حقیقی) بھائی ہے، اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی تقوٰی (و پرہیزگاری) کو اپنائے رکھے اور صبر سے کام لیتا رہے تو یقینا اللہ ایسے نیکوکاروں کا اجر کبھی ضائع نہیں فرماتا،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بول پڑے ارے تو کیا تم یوسف ہی ہو ؟۔ فرمایا (ہاں) میں یوسف ہی ہوں اور یہ ہے میرا بھائی واقعی ہم پر اللہ نے (بڑا ہی) احسان کیا۔ واقعی جو شخص بھی تقوی اور صبر اختیار کرتا ہے سو اللہ نیک کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا : تو کیا آپ یوسف ہیں ؟ یوسف نے فرمایا : ہاں ! میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ یقیناً جو شخص تقویٰ کی روش اختیار کرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ایسے نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں ! میں ہی یوسف ہوں اور (بنیامین کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (

— محترمہ رفعت اعجاز

They exclaimed: "Are you indeed Joseph?" He said: "Yes, I am Joseph and this is my brother. Allah has surely been gracious to us. Indeed whoever fears Allah and remains patient, Allah does not allow the reward of such people to go to waste."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Is it that you are, in fact, Yusuf? He said, :I am Yusuf, and this is my brother. Allah has been very kind to us. Surely, whoever fears Allah and observes patience, Allah does not let the reward of such good people to go to waste.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Is it that you are, in fact, Yusuf? He said, :I am Yusuf, and this is my brother. Allah has been very kind to us. Surely, whoever fears Allah and observes patience, Allah does not let the reward of such good people to go to waste.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Are you indeed Yusuf" He said: "I am Yusuf, and this is my brother. Allah has indeed been gracious to us. He who has Taqwa, and is patient, then surely, Allah makes not the reward of the gooddoers to be lost."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Is it indeed thou who art Joseph? He said: I am Joseph and this is my brother. Allah hath shown us favour. Lo! he who wardeth off (evil) and endureth (findeth favour); for lo! Allah loseth not the wages of the kindly.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Are you indeed Joseph?" He said "I am Joseph, and this is my brother. Allah has certainly favored us. Indeed, he who fears Allah and is patient, then indeed, Allah does not allow to be lost the reward of those who do good."

— Saheeh International

Then they inquired, "Are you Joseph?" He said, "Yes, I am Joseph and this is my brother. God has indeed been gracious to us. One who exercises patience and observes piety should know that God does not ignore the reward of the righteous ones."

— Muhammad Sarwar

They said: Are you indeed Yusuf? He said: I am Yusuf and this is my brother; Allah has indeed been gracious to us; surely he who guards (against evil) and is patient (is rewarded) for surely Allah does not waste the reward of those who do good.

— Muhammad Habib Shakir

They said: art thou Yusuf indeed! He said: I am Yusuf and this is my brother; Allah hath surely been gracious unto us; verily whosoever feareth and endureth, then verily Allah wasteth not the hire of the well-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Art thou indeed Joseph?" He said, "I am Joseph, and this is my brother: Allah has indeed been gracious to us (all): behold, he that is righteous and patient,- never will Allah suffer the reward to be lost, of those who do right."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:90

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 89–92

جب بھائی حضرت یوسف ؑ کے پاس اس عاجزی اور بےبسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں تو حضرت یوسف ؑ کا دل بھر آیا نہ رہا گیا۔ اپنے سر سے تاج اتار دیا اور بھائیوں سے کہا کچھ اپنے کرتوت یاد بھی ہیں کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ؟ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ نری جہالت کا کرشمہ تھا اسی لئے بعض سلف فرماتے ہیں کہ اللہ کا ہر گنہگار جاہل ہے۔ قرآن فرماتا ہے آیت (ثم ان ربک للذین عملو السوء بجھالتہ) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو دفعہ کی ملاقات میں حضرت یوسف ؑ کو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم اللہ نہ تھا۔ اب کی مرتبہ حکم ہوگیا۔ آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 89–94

66۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی غیر معمولی قوتوں کا اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی قافلہ حضرت یوسف کا قمیص لیکر مصر سے چلا ہے اور ادھر سیکڑوں میل کے فاصلے پر حضرت یعقوب اس کی مہک پالیتے ہیں، مگر اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی یہ قوتیں کچھ ان کی ذاتی نہ تھیں بلکہ اللہ کی بخشش سے ان کو ملی تھیں اور اللہ جب اور جس قدر چاہتا تھا انہیں کام کرنے کا موقع دیتا تھا۔ حضرت یوسف برسوں مصر میں موجود رہے اور کبھی حضرت یعقوب کو ان کی خوشبو نہ آئی۔ مگر اب یکایک قوت ادراک کی تیزی کا یہ عالم ہوگیا کہ ابھی ان کا قمیص مصر سے چلا ہے اور وہاں ان کی مہک آنی شروع ہوگئی۔ یہاں یہ ذکر بھی دلچسپی سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ کیا سچ مچ تم ہی یوسف ہو ؟ تو یوسف ؑ نے فرمایا کہ ہاں میں ہی یوسف ہوں اور یہ بنیامین میرا حقیقی بھائی ہے بھائی کا ذکر اس لئے بڑھا دیا کہ ان کو اچھی طرح یقین آجائے نیز اس لئے بھی کہ ان پر اس وقت اپنے مقصد کی مکمل کامیابی واضح ہوجائے کہ جن دو کی تلاش میں تم نکلے تھے وہ دونوں بیک جا تمہیں مل گئے پھر فرمایا (آیت) قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا ۭ اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان و کرم فرمایا کہ اول ہم دونوں کو صبر وتقویٰ کی دو صفتیں عطا فرمائیں جو کلید کامیابی اور ہر مصیبت سے امان ہیں پھر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالُوْٓا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ ۭ قَالَ اَنَا يُوْسُفُ وَهٰذَآ اَخِيْ ۡ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا ۭ اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۔ حضرت یوسف کی زبان سے لفظ یوسف نکلنا تھا کہ یہ لوگ بول پڑے کہ اچھا ! آپ یوسف ہی ہیں ؟ ان کے اس فقرے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اس سے پہلے کی ملاقاتوں میں بھی چہرے، بشرے، انداز، اطوار سے انہیں یہ کھٹکتی رہی تھی کہ کہیں یہ یوسف تو نہیں ہیں ؟ لیکن کنعان کے اس کنوئیں میں، جس میں انہوں نے حضرت یوسف کو ڈالا تھا، اور اس تخت حکومت میں، جس پر حضرت یوسف اب فروکش تھے، اتنا بعد تھا کہ وہ یہ گمان نہیں کرسکتے تھے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

90۔ 1 بھائیوں نے جب عزیز مصر کی زبان سے اس یوسف ؑ کا تذکرہ سنا، جسے انہوں نے بچپن میں کنعان کے ایک تاریک کنویں میں پھینک دیا تھا، تو وہ حیران بھی ہوئے اور غور سے دیکھنے پر مجبور بھی کہ کہیں ہم سے ہم کلام بادشاہ، یوسف ؑ ہی تو نہیں ؟ ورنہ یوسف ؑ کے قصے کا اسے کس طرح علم ہوسکتا ہے ؟ چناچہ انہوں نے سوال کیا کہ کیا تو یوسف ؑ ہی تو نہیں ؟ 90۔ 2 سوال کے جواب میں اقرار و اعتراف کے ساتھ، اللہ کا احسان کا ذکر اور صبر وتقویٰ کے نتائج حسنہ بھی بیان کر کے بتلا دیا کہ تم نے مجھے ہلاک کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ اس نے نہ صرف یہ کہ کنوئیں سے نجات عطا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 89–90

56: اب تک تو وہ حضرت یوسف ؑ کو پہچانے نہیں تھے لیکن جب انہوں نے اپنا نام خود لیا۔ تو غور کرنے کے بعد ان لوگوں کو بھی یہ احتمال پیدا ہوگیا کہ یہی یوسف ؑ ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 90 اب ان کو یقین ہوگیا اور کہا کہ تم ہی یوسف (علیہ السلام) ہو۔ اگرچہ یوسف (علیہ السلام) اب ایک معمر آدمی ہیں۔ اس کے بچپن کے خدو خال صاف صاف نظر آنے لگے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اچانک اپنے آپ کو ظاہر کیا اور اجمالاً وہ ان کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے جہالت میں اپنے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ بس وہ صرف یہی بات کہتے ہیں اور اللہ کے ان احسانات کا تذکرہ کرتے ہیں جو ان پر اور ان کے بھائی پر ہوئے۔ اور یہ احسانات اس لیے ہوئے کہ ہم نے تقویٰ اور صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور یہ سب کچھ اللہ کے نظام عدل کا نتیجہ ہے۔ وہ متقین و صابرین کو جزائے خیر دیتا ہے۔ لیکن اس اچانک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 ممکن ہے اس سوال سے گھبرائے ہوں کہ اتنی مدت کے بعد یہ کون گھر کا بھیدی نکل آیا۔ پھر عزیز مصر کو یوسف کے قصہ سے کیا مطلب۔ غیر معمولی مہربانیاں اور بنیامین کے ساتھ خصوصی برتاؤ پہلے سے دیکھ ہی رہے تھے۔ اس سوال نے دفعتاً ان کا ذہن ادھر منتقل کردیا ہو کہ کہیں یوسف جسے ہم نے مصری قافلہ کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا یہ ہی تو نہیں ہے۔ جب ادھر توجہ ہوئی تو بغور دیکھا ہوگا اور ممکن ہے یوسف نے خود بھی اپنے کو اس دفعہ زیادہ واضح طور پر پیش کیا ہو، یا تصریحاً کہہ دیا ہو کہ میں یوسف ہوں۔ غرض وہ سخت متعجب و حیرت زدہ ہو کر بول اٹھے۔ " اِنَّکَ لَاَ نْتَ یُوْسُفٌ" (سچ بتاؤ کیا تم ہی یوسف ہو ؟ ) 6 جدائی کو ملاپ سے، ذلت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 89–90

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَاَخِيْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ آپ کا اپنے بھائیوں سے یہ سوال کرنا گویا اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کا حرف بہ حرف ایفا تھا جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ان الفاظ میں ہوا تھا : وَاَوْحَیْنَآ اِلَیْہِ لَتُنَبِّءَنَّہُمْ بِاَمْرِہِمْ ہٰذَا وَہُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ یہ تب کی بات ہے جب وہ سب بھائی مل کر آپ کو باؤلی میں پھینکنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان الفاظ میں آپ کے دل پر الہام کیا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب آپ اپنے بھائیوں کو یہ بات ضرور جتلائیں گے اور یہ ایسے وقت اور ایسی صورت حال میں ہوگا جب یہ بات ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

87 بھائیوں کا چونک اٹھنا اور اظہار ندامت :۔ شاہ مصر کے اس سوال پر وہ ایک دم چونک اٹھے کہ اسے ان باتوں کی کیسے خبر ہوگئی ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ شاہ مصر یوسف ہی ہو ؟ پھر اپنی اس حیرت واستعجاب کو دور کرنے کے لیے شاہ مصر سے سوال کیا : کیا آپ یوسف ہی تو نہیں ؟ شاہ مصر نے جواب دیا : ہاں میں یوسف ہی ہوں اور جسے میں نے پچھلی مرتبہ روک لیا تھا وہ میرا چھوٹا بھائی بن یمین ہے، جو اب میرے پاس ہے۔ دیکھ لو اللہ نے ہم پر کیسی رحمت فرمائی اور ہم دونوں بھائیوں کو طویل جدائی کے بعد ملا دیا۔ اور ذلت کو عزت سے، تکلیف کو راحت سے، اور تنگی کو آرام و سکون سے بدل دیا۔ جس بھائی کو تم نے کنویں میں ڈال دیا تھا۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

163۔ عزیز کی زبان سے یہ سوال ادا ہوتے ہی ان بھائیوں کے سامنے پچھلے واقعات کی یاد بجلی کی تیزی کے ساتھ آگئی، اور وہ اپنے رشک کے جذبات اور یوسف (علیہ السلام) کے خواب سے ان خیالات میں ترقی اور یوسف (علیہ السلام) وبنیامین کے ساتھ عداوت وہ گھر سے جنگل میں لے جانا اور کنوئیں میں گرانا وہ وہاں انہیں غلام کہہ کر قافلہ والوں کے ہاتھ فروخت کر ڈالنا اور اپنی بدسلوکیاں ایک ایک کرکے یاد آگئیں اور ساتھ ہی یہ خیال تازہ ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) کا خواب جھوٹا نہیں ہوسکتا تھا عجب نہیں کہ یہی اس کی تعبیر ہورہی ہو، (آیت) ” لانت “۔ استفہام حیرت وحیرانی کا ہے۔ الاستفھام یدل علی الاستعظام ای انھم تتعجبوا من ذلک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–93

آیت نمبر 80 تا 93 ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالواء انک لانت یوسف کہنے لگے : کیا سچ مچ آپ ہی یوسف ہیں ؟ یہ استفہام تقریری ہے (کیا واقعی آپ ہی یوسف ہیں ؟ ) ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ پہلے حضرت یوسف پردے کے پیچھے سے کلام کرتے تھے ‘ پھر جب ھَلْ عَلِمْتمْ مَّا فَعَلْتُمْ فرمایا تو پردہ ہٹا دیا اور نقاب اٹھا دیا۔ اس وقت بھائیوں نے پہچان لیا۔ میں کہتا ہوں : قصۂ مذکورہ کا تفصیلی بیان ابن اسحاق کے اس قول سے انکار کر رہا ہے اور ہے بھی بعد از فہم۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اس بات کو کہتے وقت آپ مسکرا دئیے ‘ مسکرانے سے موتیوں کے ہار کی طرح اگلے دانت سامنے آگئے اور بھائیوں نے دیکھ کر ان کو حضرت یوسف کے دانتوں کی طرح قرار دیا۔ عطاء کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(90) سوچ کر کہنے لگے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ فرمایا ہاں میں یوسف ہوں اور یہ بنیامین میرا سگا بھائی ہے، اللہ تعالیٰ نے صبر کی دولت دے کر ہم پر بڑا احسان کیا ہے اور واقعی جو خوشحالی میں گناہوں سے بچتا ہے اور تنگی میں صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ تقوی اور صبر کرنے والوں کے ثواب ضائع نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْٓا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ : بھائیوں کو یہ سن کر دھچکا لگا کہ برسوں پرانی بات جو ہمارے سوا کوئی نہیں جانتا، اس اجنبی سرزمین میں جاننے والا یہ کون نکل آیا ؟ پھر ان کے نقوش پر غور کرتے ہوئے فوراً نتیجے پر پہنچ گئے کہ یہ تو ہمارا وہی ستم رسیدہ بھائی یوسف ہے، پھر حیرت، تعجب اور دہشت کے ملے جملے جذبات کے ساتھ اس بات کا سوال کیا جسے تاکید کے تین طریقوں سے یقینی بھی قرار دیا ”کیا یقیناً واقعی تو ہی یوسف ہے۔“ ”اِنَّ“ ، لام تاکید اور ”اِنَّکَ“ کے بعد پھر ”أَنْتَ“ کے ساتھ تاکید، اتنے یقین کے باوجود سوال ہے جس میں کچھ شک بھی ہوتا ہے۔ قَالَ اَنَا يُوْسُفُ وَهٰذَآ اَخِيْ : فرمایا ہاں میں یوسف…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 89–93

آیت نمبر 89 تا 93 قولہ تعالیٰ : قال ھل علمتم مافعلتم بیوسف واخیہ استفہام بمعنی تذکیر وتوبیح ہے، اور یہی وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی : لتنبئھم بامرھم ھٰذا (لیوسف :15) میں تجھے ضرور ان کے اس معاملے سے آگاہ کروں گا۔ اذانتم جٰھلون یہ اس بات پر دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب انہوں نے پکڑا تھا اس وقت وہ ابھی چھوٹے تھے اور نبی نہیں کیونکہ جہالت کی صفت اسی صورت میں بیان کی جاسکتی ہے اور یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اب ان کی حالت بہتر ہے۔ یعنی یہ تم نے اس وقت کیا جب تم چھوٹے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن ؓ نے اس کا یہ معنی بیان کیا ہے۔ اور ان کا قول ان کنا لخٰطین (اگرچہ ہم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 89–90

صبرو تقوی اختیار کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔ 1:۔ ابوالشیخ نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ یحی بن دثاب نے یوں پڑھا (آیت) ء انک لانت یوسف “ ایک ہمزہ کے ساتھ۔ ابولشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ کی قرأت اسی طرح تھی (آیت) ” قال انا یوسف وھذا اخی “ یعنی میرے اور اس کے درمیان رشتہ داری ہے۔ (آیت) ” قد من اللہ علینا “ (اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا ) ۔ 3:۔ ابوالشیخ (رح) فرمایا (آیت ) ” انہ من یتق “ یعنی جو شخص زنا سے بچے (آیت ) ” ویصبر “ اور بغیر بیوی ہونے پر صبر کرے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” لایضیع اجر المحسنین “۔ 4:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ربیع بن انس سے روایت کیا کہ پہلی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ ءَ : کیا [ انكَ : بیشک ] [لَانتَ يُوْسُفُ : تو ہی تو یوسف ہے ] [ قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ انا : میں ] [ يُوْسُفُ : یوسف ہوں ] [ وَهٰذَآ : اور یہ [ اَخِيْ : میرا بھائی ہے ] [ قَدْ مَنَّ : احسان کیا ہے ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [عَلَيْنَا : ہم پر [ انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ [ مَنْ : جو ] [ يَّتَّقِ : تقوٰی کرتا ہے ] [وَيَصْبِرْ : اور صبر کرتا ہے ] [ فَان : تو بیشک ] [اللّٰهَ : اللہ ] [ لَا يُضِيْعُ : ضائع نہیں کرتا ] [اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ : خوب کاروں کے اجر کو ] نوٹ۔ 1: قَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا سے معلوم ہوا کہ جب انسان کسی تکلیف و مصیبت میں گرفتار…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مزید فرمایا : (اِنَّہٗ مَنْ یَّتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ) (جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا اجر ضائع نہیں فرماتا) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بطور قاعدہ کلیہ کے یہ بات بتادی کہ تقویٰ اور صبر کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ مدد فرماتا ہے اور یہ دونوں چیزیں مصائب سے نجات دلانے والی ہیں ‘ یہ نہیں فرمایا کہ میں نے صبر اور تقویٰ اختیار کیا اس لئے اس مرتبہ کو پہنچا کیونکہ اس میں ایک طرح سے اپنی تعریف تھی ‘ اور بھائیوں سے یوں نہیں کہا کہ تم متقی اور صابر نہیں ہو بلکہ قاعدہ بتا کر انہیں تنبیہ فرما دی کہ تمہیں متقی ہونا چاہئے تھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 88–93

بار سوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) بحکم یعقوب (علیہ السلام) برائے تفحص یوسف و بنیامین قال اللہ تعالیٰ فاما دخلوا علیہ قالوا یایھا العزیز .... الیٰ .... واتونی باہلکم اجمعین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ ذکر تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو تاکید اکید کی کہ خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوں اور یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی تلاش میں نکلیں چناچہ یہ لوگ مصر روانہ ہوئے کہ اول تو اس بھائی کو لانے کی کوشش کریں جس کا نشان معلوم تھا اس کے بعد دوسرے بےنشان بھائی یعنی یوسف (علیہ السلام) کی تلاش شروع کریں اب آئندہ آیات میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ یعقوب (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق پھر مصر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 89–90

76:۔ اب کی بار جب بھائیوں نے اپنے اہل و عیال کی تکلیف اور فاقہ کا ذکر کیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) بےاختیار ہوگئے اور راز فاش کردیا اور بھائیوں سے کہا کیا تمہیں معلوم ہے جو سلوک تم یوسف اور اس کے بھائی بنیامین سے کیا کرتے تھے جب تم نادان تھے۔ ولما قالوا مَسَّنَا وَ اَھْلَنَا الضُّرُّ و تضرعوا الیہ و طلبوا منہ ان یتصدق علیھم ارفضت عیناہ ولم یتمالک ان عفرھم نفسہ (مدارک ج 2 ص 181) ۔ ” قَالُوْا ءَاِنَّکَ الخ “ بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ جو سلوک کیا تھا وہ ایک راز تھا جسے ان کے اور یوسف (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا اس لیے وہ سمجھ گئے یہ یوسف ہی ہے اور بول اٹھے کیا تم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 88–93

ربط آیات جب یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے کنعان جا کر اپنے باپ کو بن یامین کی گرفتاری کا حال سنایا تو ان کا پرانا غم پھر تازہ ہوگیا پہلے وہ یوسف (علیہ السلام) کی جدائی میں پریشان تھے اب دوسرے بیٹے کی جدائی کی بات سنی تو دکھ دو چند ہوگیا مگر آپ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نامید نہیں ہوئے بلکہ بیٹوں سے کہا کہ جائو جا کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو تلاش کرو ، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو لے آئے۔ بن یامین بھی رہا ہوجائے اور یوسف (علیہ السلام) جس کا نام و نشان تک معلوم نہیں شاید وہ بھی مل جائے خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے اور اس سے کوئی بعید نہیں۔ فرمایا خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ 90؀ منن والمِنَّةُ : النّعمة الثّقيلة، ويقال ذلک علی وجهين : أحدهما : أن يكون ذلک بالفعل، فيقال : منَّ فلان علی فلان : إذا أثقله بالنّعمة، وعلی ذلک قوله : لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 164] والثاني : أن يكون ذلک بالقول، وذلک مستقبح فيما بين الناس إلّا عند کفران النّعمة، ولقبح ذلک قيل : المِنَّةُ تهدم الصّنيعة «4» ، ولحسن ذكرها عند الکفران قيل : إذا کفرت النّعمة حسنت المنّة . وقوله : يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُلْ لا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلامَكُمْ [ الحجرات/ 17] فالمنّة منهم بالقول، ومنّة اللہ عليهم بالفعل، وهو هدایته إيّاهم كما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْٓا ئَ اِنَّکَ لاََ نْتَ یُوْسُفُ ط قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَھٰذَٓا اَخِیْ ز قَدْمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا ط اِنَّہٗ مَنْ یَّتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لاَیُضِیْعُ اَجْرَالْمُحْسِنِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 90) (وہ کہنے لگے، کیا آپ ہی یوسف ( علیہ السلام) ہیں ؟ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا، کہ ہاں ! میں یوسف ( علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا۔ جو شخص بھی تقویٰ اختیار کرتا اور صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ ) افشائے راز معلوم ایسا ہوتا ہے کہ پہلی ملاقاتوں میں وہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھتے تھے تو انھیں اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 89–90

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف کی بےبسی اور انتہا درجے کی عاجزی دیکھ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنا تعارف کرواتے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی انتہا درجہ عاجز ہو کر ان کے سامنے فریاد کرتے ہیں۔ یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب کی عملی تعبیر کی ابتدا ہوتی ہے جو انہوں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ یقیناً حضرت یوسف (علیہ السلام) ابھی سوچ ہی رہے ہوں گے کہ میں نے بچپن میں خواب میں گیارہ ستاروں کو اپنے سامنے جھکتے ہوئے دیکھا تھا ہوسکتا ہے کہ اس کی تعبیر یہی ہو تب اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعے یہ اجازت عنایت فرمائی کہ اے یوسف ! اب وقت آگیا ہے کہ تم ان سے یہ سوال کرو اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

افشائے راز : 90: قَالُوْا ئَ اِنَّکَ (انہوں نے کہا کیا آپ) قراءت : کوفی و شامی دونوں نے دو ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ لَاَنْتَ یُوْسُفُ (سچ مچ یوسف ہو ) ۔ نحو : انت مبتداء اور لام ابتدائی ہے۔ اور یوسف خبر ہے اور جملہ ان کی خبر ہے۔ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَھٰذَآ اَخِیْ (کہا میں یوسف اور یہ میرا بھائی ہے) آپ نے اپنے بھائی کا تذکرہ کیا حالانکہ انہوں نے تو فقط آپ کے متعلق سوال کیا کیونکہ بھائی کے تذکرہ میں اس چیز کی وضاحت ہے جس کا انہوں نے سوال کیا۔ قَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا (تحقیق اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا) فرقت و جدائی کے بعد ملادیا۔ اور سلامتی اور عظمت عنایت فرمائی اور ملامت سے ابتداء نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

90۔” قالوء انک لانت یوسف “ ابن کثیر اور ابو جعفر نے ( انک) خبر کی بناء پر پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے استفہام کی بناء پر ۔ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) پردہ کے پیچھے سے گفتگو کر رہے تھے جب یوسف (علیہ السلام) نے ” ھل علمتم مافعلتم بیوسف “ کہا تو پردہ ہٹا دیا تو انہوں نے پہچان لایا اور ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات کہی تو مسکرائے تو انہوں نے پروئے ہوئے موتیوں کی طرح چمکدار دانت دیکھ کر آپ کو یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ تشبیہ دی اور استفہاما ًکہا ” ائنک لانت یوسف ؟ “ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نہ پہچانا تھا تو یوسف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 89–92

89۔ 92۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سامنے اپنے سختی کا حال بیان کیا تو ان کا دل امنڈ آیا باپ کا خیال آیا کہ میرے فراق میں خدا جانے ان کی کیا حالت ہوگی اور پھر بنیامین ان سے جدا ہوگیا اس سے اور بھی ان کو صدمہ پہنچا ہوگا اور قحط سالی کی بلا جدا ہے غرض کہ ان باتوں کو یاد کر کے یوسف (علیہ السلام) رونے لگے اور بھائیوں سے فرمایا کہ تم نے جو کچھ سلوک یوسف (علیہ السلام) اور اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ کیا وہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ کس طرح مکرو فریب سے ان کو باپ سے جدا کیا اور حقیقت میں تمہاری نادانی نے تمہیں اس بات پر آمادہ کیا تھا جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

انہوں نے پہنچان لیا کہ جو شخص ان سے مخاطب ہے وہ یوسف ہے اس لئے انہوں نے پوچھا : (آیت) ” کیا آپ یوسف ہیں ؟ انہوں نے کہا، ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، اللہ نے ہم پر احسان کیا ہے “ کہ اس نے ہمیں ایمان، تقویٰ اور زمین میں اقتدار سے نوازا۔ یہ سب کچھ صبر اور تقویٰ کا ثمرہ ہے۔ (آیت) ” بیشک جو شخص اللہ سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے “ یعنی جو کوئی فعل حرام سے پرہیز کرتا ہے، آلام و مصائب پر صبر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے۔ (آیت) ” تو اللہ نیکو کاروں کا اجرضائع نہیں کرتا۔ “ یہ تمام امور احسان کے زمرے میں آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی کے اعمال حسنہ کو ضائع نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 88–96

اشیاء کا ناپ تول کر، لینا دینا قول باری (فاوف لنا الکیل۔ آپ ہمیں بھرپور غلہ عنایت فرمائیں) اس پر دلالت کرتا ہے کہ غلہ ناپنے والے کی اجرت فروخت کنندہ کے ذمہ عائد ہوگی اس لئے کہ فروخت کنندہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خریدار کیلئے فروخت شدہ چیز کی تعیین کرے اور ناپ یعنی کیل کے بغیر اس کا تعین نہیں ہوسکتا۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ (فاوف لنا الکیل) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلہ ناپنے کی ذمہ داری حضرت یوسف (علیہ السلام) پر تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ نے طعام یعنی خوردنی شے کو فروخت کرنے سے اس وقت تک کے لئے منع کردیا ہے جب تک یہ شے دو پیمانوں سے گزر نہ جائے یعنی فروخت کنندہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

147۔ احسان خداوندی کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ افشاء راز کے اس موقع پر برادران یوسف نے چونک کر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ ہائیں کیا آپ واقعی یوسف ہیں ؟ تو اس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا حقیقی بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا کہ احسان فرمانے والا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ بس بڑی پھٹکار ہے ان لوگوں پر جو اس کے سو اوروں کے دروں پر جھکتے ہیں اور مافوق الاسباب طور پر غیر اللہ سے مدد مانگ کر جریمہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ جو کہ سنگین جرم اور ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس انکشاف پر وہ چونک کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–93

آیات 80 تا 93 اسرار و معارف بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ جو مصیبت سے نجات دے کر دونوں کو ملا دیا اور اس بلند مرتبہ پر پہنچا دیا، جسے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوَ (روح) 2 ۔ یعنی گناہوں سے بچتا رہے اور لوگوں کو ایذا سانی پر صبر کرتا رہے۔ 3 ۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ جس پر تکلیف پڑے اور وہ شرع سے باہر نہ ہو اور گھبراوے نہیں تو آخر بلا سے زیادہ عطا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:90 ) ء انک۔ استفہام حیرت اور حیرانی کا ہے۔ کیا سچ مچ تو (یوسف ہے) ۔ لانت یوسف۔ لام ابتدائیہ ہے۔ انت مبتداء اور یوسف اس کی خبر ہے (جملہ خبریہ ہے) ۔ علینا میں ضمیر جمع متکلم حضرت یوسف (علیہ السلام) اور حضرت بنیامین دونوں کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور جملہ برادران کے لئے بھی یتق۔ اصل میں یتق۔ اتقائ۔ مصدر (باب افتعال) مضارع واحد مذکر غائب بوجہ شرط مجزوم ہے۔ جو ڈرے گا ۔ تقویٰ اختیار کریگا یتق (لیتق) امر واحد مذکر غائب بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے ولیتق اللہ ربہ۔ اسے چاہیے کہ اپنے رب (اللہ) سے ڈرے۔ (2:283)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 88–93

لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 93 مسنا ہمیں پہنچی، ہمیں چھولیا الضر سختی اور پریشانی مزجۃ بیکار، معمولی اوف پورا کر تصدق صدقہ کر دے، نیکی کر ھل علمتم کیا تمہیں معلوم ہے، کیا تمہیں یاد ہے مافعلتم تم نے کیا کیا من اللہ اللہ نے احسان کیا من یتق جو تقویٰ اختیار کرتا ہے لایضیع ضائع نہیں کرتا اثر اختیار کیا، منتخب کرلیا لاتثریب الزام نہیں ہے یات بصیراً آنکھوں کی روشنی آئے گی ۔ تشریح آیت نمبر 88 تا 93 جب برادران یوسف نے اپنے والد کی یہ حالت دیکھی اور ان کی طرف سے حکم ہوا کہ تم جاؤ اور یوسف کو تلاش کرو تب یہ نو بھائی تیسری مرتبہ کنعان سے مصر پہنچ گئے۔ بادشاہ مصر کی خدمت میں پہنچے اور نہایت عاجزی اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 90–93

حضرت یوسف کے بھائیوں نے انہیں پہچان کر قصور کی معافی چاہی، پھر حضرت یوسف نے انہیں جنتی کرتہ دیا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے سر سے تاج اتارا اور اپنی پیشانی دکھائی۔ ان کی پیشانی پر ایک تل تھا اس کو دیکھ کر انہوں نے پہچان لیا کہ یہ یوسف ہیں اور کہنے لگے کہ کیا سچ مچ تم ہی یوسف ہو فرمایا کہ بیشک میں یوسف ہوں اور یہ میرا چھوٹا بھائی بنیامین ہے۔ خدا نے بڑا فضل کیا کہ مدت دراز کے بعد ہمیں ایک جگہ کیا جو شخص خدا سے ڈرتا ہے اور مصیبت کے وقت صبر کرتا ہے اس کا اجر اللہ پاک ضائع نہیں کرتا ہے۔ میرے اوپر کیسی کیسی مصیبت پڑی ہر حالت میں صبر ہی کرتا رہا اللہ تعالیٰ نے رحم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 90–92

[32] یہی وہ آیت ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے وقت اپنے جانی دشمنوں کے سامنے پڑھ کر یوسف (علیہ السلام) سے بھی بڑھ کر اپنی فراخ دلی کا ثبوت دیا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 85–92

برادران یوسف (علیہ السلام) کی ندامت : (ف 1) اب وقت آگیا تھا ، کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے چہرہ انور سے نقاب کشائی کریں ، اور بھائیوں کو بتادیں ، کہ جس یوسف کو تم نے کنعان کے تاریک کنوئیں میں پھینکا تھا ، وہ اس وقت عرش حکومت پر جلوہ گر ہے ، چناچہ جب بھائی دو بار مصر میں غلہ لینے کے لئے گئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، کیا تم وہی نہیں ہو جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ یہ یہ فریب کئے ہیں ، انہوں نے جب دیکھا کہ پتے کی باتیں بتائی جاری ہیں ، اور ان باتوں کا بجز یوسف (علیہ السلام) کے اور کسی کو علم نہیں ہو سکتا ، تو پکار اٹھے کہ کہیں تمہیں تو یوسف (علیہ السلام) نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

90 ۔ وہ کہنے لگے کیا واقعی تو یوسف (علیہ السلام) ہے ۔ یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا ہاں ! میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ بن یامین میرا بھائی ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا یقینا جو شخص گناہ کے ارتکاب سے ڈرتا ہے اور مصائب پر صبر کا شکوہ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے نیکو کاروں اور نیک کام کرنیوالوں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتا ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے تقویٰ اور صبر کی بات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے احسان کا اعتراف کیا تا کہ تکبر اور غرور کا شبہ نہ کیا جائے اور کسی بندے کو تقویٰ کی توفیق عطا فرمانا اور بلائوں پر صبر کی ہمیت دینا یہ اس کا بہت بڑا احسان ہے۔ حضرت شاہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 90–91

ف 1۔ یعنی ہم دونوں کو اول توفیق صبر وتقوی کی عطا فرمائی پھر اس کی برکت سے ہماری تکلیف کو راحت سے اور افتراق کو اجتماع سے اور قلت مال وجاہ سے مدل فرما دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

برادران یوسف کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی اور وہ یہ سن کر خوشی سے ہکا بکا رہ گئے ۔ 106 برادران یوسف نے اس موقع پر غیر متوقع گفتگو سنی تو چونکے اور لب و لہجہ پر غور کر کے ایک دم پکار اٹھے کہ ” کیا آپ واقعی یوسف ہیں ؟ “ وہ حیرانی کے عالم میں تھے کہ ہم تو ” عزیز مصر “ کے دربار میں کھڑے ہیں ، اس سے باتیں کر رہے ہیں ، اپنی عرضداشت پیش کر رہے ہیں یہ بےمحل یوسف کا ذکر کیسا ؟ صورت و شکل اور گفتگو کے طرز و اندازہ کو اب دوسری نیت سے دیکھا تو یوسف کی شکل نگاہ کے سامنے پھر گئی اور سمجھ گئے کہ بلاشبہ یہ یوسف ہے مگر حالت موجودہ کے پیش نظر قدرتی طور پر یہ جرأت نہیں ہوئی کہ یہ کہ اٹھیں کہ ” تو یوسف ہے۔ “…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

أَإِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ (Are you really the Yusuf?). Then, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) said: ` Yes, I am Yusuf and this is my brother, Benyamin.' He supplemented his statement by adding the name of his brother so that they become certain about him. In addition to that, he also wanted them to become sure right then about the total success of their mission, that is, the two they had started to search for were there before them, both at the same time and place. Then, he said: قَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْنَا ۖ إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ‌ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ‌ الْمُحْسِنِين ،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–94

66. This is an instance of the extraordinary powers the Prophets possess. Prophet Jacob perceived in Canaan the smell of Prophet Joseph’s shirt from such a distant place as Egypt as soon as the caravan started on the journey. At the same time it also shows, by contrast, that these powers of the Prophets are not inherent or personal characteristics but are bestowed on them by Allah as and when He wills. That is why Prophet Jacob could not perceive the smell of the clothes of Prophet Joseph as long as Allah did not will it, when he had been living in Egypt. In this connection, it should also be…

Read the full tafseer →