Explained with ayahs 89–92
جب بھائی حضرت یوسف ؑ کے پاس اس عاجزی اور بےبسی کی حالت میں پہنچے اپنے تمام دکھ رونے لگے اپنے والد کی اور اپنے گھر والوں کی مصیبتیں بیان کیں تو حضرت یوسف ؑ کا دل بھر آیا نہ رہا گیا۔ اپنے سر سے تاج اتار دیا اور بھائیوں سے کہا کچھ اپنے کرتوت یاد بھی ہیں کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ؟ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ نری جہالت کا کرشمہ تھا اسی لئے بعض سلف فرماتے ہیں کہ اللہ کا ہر گنہگار جاہل ہے۔ قرآن فرماتا ہے آیت (ثم ان ربک للذین عملو السوء بجھالتہ) بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی دو دفعہ کی ملاقات میں حضرت یوسف ؑ کو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم اللہ نہ تھا۔ اب کی مرتبہ حکم ہوگیا۔ آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
66۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کی غیر معمولی قوتوں کا اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی قافلہ حضرت یوسف کا قمیص لیکر مصر سے چلا ہے اور ادھر سیکڑوں میل کے فاصلے پر حضرت یعقوب اس کی مہک پالیتے ہیں، مگر اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی یہ قوتیں کچھ ان کی ذاتی نہ تھیں بلکہ اللہ کی بخشش سے ان کو ملی تھیں اور اللہ جب اور جس قدر چاہتا تھا انہیں کام کرنے کا موقع دیتا تھا۔ حضرت یوسف برسوں مصر میں موجود رہے اور کبھی حضرت یعقوب کو ان کی خوشبو نہ آئی۔ مگر اب یکایک قوت ادراک کی تیزی کا یہ عالم ہوگیا کہ ابھی ان کا قمیص مصر سے چلا ہے اور وہاں ان کی مہک آنی شروع ہوگئی۔
یہاں یہ ذکر بھی دلچسپی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
خلاصہ تفسیر
پھر (حضرت یعقوب ؑ کے حکم کے موافق کہ انہوں نے فرمایا تھا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ مصر کو چلے کیونکہ بنیامین کو مصر ہی میں چھوڑا تھا یہ خیال ہواہو گا کہ جس کا نشان معلوم ہے پہلے اس کے لانے کی تدبیر کرنا چاہئے کہ بادشاہ سے مانگیں پھر یوسف ؑ کے نشان کو ڈھونڈیں گے غرض مصر پہنچ کر) جب یوسف ؑ کے پاس (جس کو عزیز سمجھ رہے تھے) پہنچے (اور غلہ کی بھی حاجت تھی پس یہ خیال ہوا کہ غلہ کے بہانے سے عزیز کے پاس چلیں اور اس کی خرید کے ضمن میں خوشامد کی باتیں کریں جب اس کی طبیعت میں نرمی دیکھیں اور مزاج خوش پائیں تو بنیامین کی درخواست کریں اس لئے اول غلہ لینے کے متعلق گفتگو شروع کی…
Read the full tafseer →قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَاَخِيْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ۔
افشائے راز : حضرت یوسف ؑ بھائی اور شریف بھائی تھے۔ بھائیوں کی اس بدحالی اور پریشانی اور ان کی اس لجاجت آمیز درخواست بالخصوص درخواست صدقہ نے ان کے دل کو ہلا دیا۔ یہ بڑے طنطنہ کے لوگ تھے لیکن اب حالا نے اس طرح ان کے اعصاب ڈھیلے کردیے تھے کہ صدقہ کے لیے درخواست کرنے میں بھی انہیں عار نہ تھا۔ حضرت یوسف اس صورت حال سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ بیگانگی کا جو پردہ ان کے اور ان کے بھائیوں کے درمیان اب تک حائل تھا اس کو مزید برقرار رکھنا انہوں نے مناسب نہیں خیال فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ اپنی…
Read the full tafseer →89۔ 1 جب انہوں نے نہایت عاجزی کے انداز میں صدقہ و خیرات یا بھائی کی رہائی کی اپیل کی تو ساتھ ہی باپ کے بڑھاپے، ضعف اور بیٹے کی جدائی کے صدمے کا بھی ذکر کیا، جس سے یوسف ؑ کا دل بھر آیا، آنکھیں نمناک ہوگئیں اور انکشاف حال پر مجبور ہوگئے۔ تاہم بھائیوں کی زیادتیوں کا ذکر کر کے ساتھ ہی اخلاق کریمانہ کا بھی اظہار فرما دیا کہ یہ کام تم نے ایسی حالت میں کیا جب تم جاہل اور نادان تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
56: اب تک تو وہ حضرت یوسف ؑ کو پہچانے نہیں تھے لیکن جب انہوں نے اپنا نام خود لیا۔ تو غور کرنے کے بعد ان لوگوں کو بھی یہ احتمال پیدا ہوگیا کہ یہی یوسف ؑ ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 89
اب ان کے کانوں میں ایک ایسی آواز پڑی جو انہیں مانوس نظر آئی۔ انہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے چہرے کے خدو خال اب ایسے نظر آئے کہ وہ دیکھا ہوا چہرہ ہے۔ اس سے قبل وہ اپنے آپ کو بظاہر عزیز مصر کے سامنے پاتے تھے اور یہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے کہ یہ شخص یوسف (علیہ السلام) بھی ہو سکتا ہے کیونکہ وہ شاہی دربار کے رعب کے نیچے تھے لیکن اب دور ہی سے انہیں نظر آگیا کہ یہ تو بھائی کا چہرہ ہے۔
Read the full tafseer →3 یعنی دونوں میں جدائی ڈالی اور دونوں سے بیر رکھا۔
4 اللہ اکبر۔ صبر اور مروت و اخلاق کی حد ہوگئی کہ تمام عمر بھائیوں کی شکایت کا ایک حرف زبان پر نہ لائے۔ اتنا سوال بھی اس لیے کیا کہ وہ لوگ اپنے ذہنوں میں بیسیوں برس پہلے کے حالات کو ایک مرتبہ مستحضر کرلیں تاکہ ماضی و حال کے موازنہ سے خدا تعالیٰ کے احسانات کی حقیقت روشن ہو، جو یوسف پر ان مصائب و حوادث کے بعد ہوئے جن کی طرف آگے (قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا) 12 ۔ یوسف :90) میں اشارہ ہے۔ پھر سوال کا پیرایہ ایسا نرم اختیار کیا۔ جس میں ان کے جرم سے زیادہ معذرت کا پہلو نمایاں ہے یعنی جو حرکت اس وقت تم سے صادر ہوئی ناسمجھی اور بیوقوفی سے ہوگئی۔ تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَاَخِيْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ
آپ کا اپنے بھائیوں سے یہ سوال کرنا گویا اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کا حرف بہ حرف ایفا تھا جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ان الفاظ میں ہوا تھا : وَاَوْحَیْنَآ اِلَیْہِ لَتُنَبِّءَنَّہُمْ بِاَمْرِہِمْ ہٰذَا وَہُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ یہ تب کی بات ہے جب وہ سب بھائی مل کر آپ کو باؤلی میں پھینکنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان الفاظ میں آپ کے دل پر الہام کیا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب آپ اپنے بھائیوں کو یہ بات ضرور جتلائیں گے اور یہ ایسے وقت اور ایسی صورت حال میں ہوگا جب یہ بات ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں…
Read the full tafseer →86 سیدنا یوسف کا اپنا آپ جتلا دینا :۔ اپنے بھائیوں اور گھر والوں کی یہ داستان غم ان الفاظ میں سن کر سیدنا یوسف (علیہ السلام) اب زیادہ دیر حالات پر پردہ ڈالے رکھنا برداشت نہ کرسکے۔ دل بھر آیا اور ان کی اسی التجا کے جواب میں ان سے یہ پوچھا : کچھ وہ واقعہ بھی یاد ہے جو سلوک تم نے اپنے بھائی یوسف سے کیا تھا۔ پھر اس کے بعد اپنے اس چھوٹے بھائی بن یمین سے کرتے رہے ہو ؟ اس سوال میں سیدنا یوسف نے پیرایہ بھی ایسا اختیار کیا جس سے انھیں مزید ندامت نہ ہو یعنی جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ ناسمجھی یا بےوقوفی کی بنا پر کرتے رہے ہو۔
Read the full tafseer →162۔ (اور اپنے افعال کے انجام سے بیخبر ) اس طرز خطاب میں خود ایک حد تک ان مجرموں کی دلدہی آگئی، (آیت) ” جھلون “۔ اکابر سلف نے کہا ہے کہ ہر معصیت جہالت ہی سے سرزد ہوتی ہے۔ قال بعض السلف کلم من عصی اللہ فھو جاھل (ابن کثیر) لما لم یفعلوا مایقتضیہ العلم ولا یقدم علیہ الاجاھل سماھم جاھلین (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیت نمبر 80 تا 93
ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…
Read the full tafseer →قال ھل علمتم ما فعلتم بیوسف واخیہ اذا انتم جاہلون بولے : کیا وہ بھی تم کو یاد ہے جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا تھا جبکہ تمہاری جہالت کا زمانہ تھا۔ یعنی جو ظلم تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کہ یوسف کو لے جا کر اس کے بھائی کو اکیلا کردیا اور طرح طرح سے اس کو ذلیل کیا کہ وہ بےچارا اب اپنی ذلت کو زبان پر بھی نہیں لاسکتا تھا۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو برا سلوک اور بےجا حرکت تم نے کی ‘ وہ بھی تم کو یاد ہے ‘ اس سے توبہ کرو۔ اِذْ اَنْتُمْ جَاھِلُوْنَ کا یہ مطلب ہے کہ اس وقت اپنے فعل کی برائی سے تم ناواقف تھے یا اس کے نتیجے سے ناواقف تھے۔ حضرت یوسف کا مقصد تھا توبہ کی ترغیب دینا اور…
Read the full tafseer →(89) یہ سن کر حضرت یوسف ؑ ان سے فرمانے لگے وہ بھی تمہیں یاد ہے جو کچھ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا تھا جب کہ تمہاری جہالت اور شباب کا زمانہ تھا۔
Read the full tafseer →قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَاَخِيْهِ : بھائیوں کی بےبسی و درماندگی دیکھ کر اور صدقے کے سوال پر یوسف ؑ کا دل بھر آیا اور معاملے کو مزید طول دینے کی تاب نہ رہی اور وہ وقت آگیا جس کے متعلق کنویں میں اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی تھی کہ یہ لوگ جو کچھ اب کر رہے ہیں ایک وقت ضرور آئے گا جب تم انھیں اس کی خبر دو گے اور یہ سوچتے بھی نہ ہوں گے۔ چناچہ کچھ ناراضگی کا اظہار اور زیادہ تر ان کی غلطی کا عذر خود ہی کرتے ہوئے فرمایا، کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا، جب تم نادان تھے ؟
اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ : یعنی جو کچھ تم نے کیا اس کی وجہ تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
آیت نمبر 89 تا 93
قولہ تعالیٰ : قال ھل علمتم مافعلتم بیوسف واخیہ استفہام بمعنی تذکیر وتوبیح ہے، اور یہی وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی : لتنبئھم بامرھم ھٰذا (لیوسف :15) میں تجھے ضرور ان کے اس معاملے سے آگاہ کروں گا۔ اذانتم جٰھلون یہ اس بات پر دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب انہوں نے پکڑا تھا اس وقت وہ ابھی چھوٹے تھے اور نبی نہیں کیونکہ جہالت کی صفت اسی صورت میں بیان کی جاسکتی ہے اور یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اب ان کی حالت بہتر ہے۔ یعنی یہ تم نے اس وقت کیا جب تم چھوٹے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حسن ؓ نے اس کا یہ معنی بیان کیا ہے۔ اور ان کا قول ان کنا لخٰطین (اگرچہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
صبرو تقوی اختیار کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔
1:۔ ابوالشیخ نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ یحی بن دثاب نے یوں پڑھا (آیت) ء انک لانت یوسف “ ایک ہمزہ کے ساتھ۔
ابولشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ کی قرأت اسی طرح تھی (آیت) ” قال انا یوسف وھذا اخی “ یعنی میرے اور اس کے درمیان رشتہ داری ہے۔ (آیت) ” قد من اللہ علینا “ (اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا ) ۔
3:۔ ابوالشیخ (رح) فرمایا (آیت ) ” انہ من یتق “ یعنی جو شخص زنا سے بچے (آیت ) ” ویصبر “ اور بغیر بیوی ہونے پر صبر کرے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” لایضیع اجر المحسنین “۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے ربیع بن انس سے روایت کیا کہ پہلی…
Read the full tafseer →[قَالَ : (یوسف (علیہ السلام) نے) کہا ] [ هَلْ : کیا ] [ عَلِمْتم : تم لوگوں نے جانا ] [ مَا : اس کو جو ] [ فَعَلْتم : تم لوگوں نے کیا ] [ بِيُوْسُفَ : یوسف کے ساتھ ] [وَاَخِيْهِ : اور اس کے بھائی کے ساتھ ] [اِذْ : جب ] [ انتم : تم لوگ ] [ جٰهِلُوْنَ : غلط سوچ والے تھے ]
Read the full tafseer →وہ لوگ اپنی معروض پیش کر ہی رہے تھے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سوال فرمالیا (ھَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَاَخِیْہِ اِذْ اَنْتُمْ جٰھِلُوْنَ ) (کیا تم جانتے ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا جبکہ تم جاہل تھے) بھائیوں نے تو غلہ طلب کیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے یہ فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ بعض حضرات نے ان دونوں باتوں میں ربط بتاتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہ جو تم کہہ رہے ہو کہ قحط سالی کی وجہ سے ہمارے اور ہمارے گھر والوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے یہ تو بہت بڑی تکلیف نہیں کسی نہ کسی طرح زندگی گزار ہی رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
بار سوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) بحکم یعقوب (علیہ السلام) برائے تفحص یوسف و بنیامین
قال اللہ تعالیٰ فاما دخلوا علیہ قالوا یایھا العزیز .... الیٰ .... واتونی باہلکم اجمعین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ ذکر تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو تاکید اکید کی کہ خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوں اور یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی تلاش میں نکلیں چناچہ یہ لوگ مصر روانہ ہوئے کہ اول تو اس بھائی کو لانے کی کوشش کریں جس کا نشان معلوم تھا اس کے بعد دوسرے بےنشان بھائی یعنی یوسف (علیہ السلام) کی تلاش شروع کریں اب آئندہ آیات میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ یعقوب (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق پھر مصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
76:۔ اب کی بار جب بھائیوں نے اپنے اہل و عیال کی تکلیف اور فاقہ کا ذکر کیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) بےاختیار ہوگئے اور راز فاش کردیا اور بھائیوں سے کہا کیا تمہیں معلوم ہے جو سلوک تم یوسف اور اس کے بھائی بنیامین سے کیا کرتے تھے جب تم نادان تھے۔ ولما قالوا مَسَّنَا وَ اَھْلَنَا الضُّرُّ و تضرعوا الیہ و طلبوا منہ ان یتصدق علیھم ارفضت عیناہ ولم یتمالک ان عفرھم نفسہ (مدارک ج 2 ص 181) ۔ ” قَالُوْا ءَاِنَّکَ الخ “ بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ جو سلوک کیا تھا وہ ایک راز تھا جسے ان کے اور یوسف (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا اس لیے وہ سمجھ گئے یہ یوسف ہی ہے اور بول اٹھے کیا تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
ربط آیات
جب یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے کنعان جا کر اپنے باپ کو بن یامین کی گرفتاری کا حال سنایا تو ان کا پرانا غم پھر تازہ ہوگیا پہلے وہ یوسف (علیہ السلام) کی جدائی میں پریشان تھے اب دوسرے بیٹے کی جدائی کی بات سنی تو دکھ دو چند ہوگیا مگر آپ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نامید نہیں ہوئے بلکہ بیٹوں سے کہا کہ جائو جا کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو تلاش کرو ، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو لے آئے۔ بن یامین بھی رہا ہوجائے اور یوسف (علیہ السلام) جس کا نام و نشان تک معلوم نہیں شاید وہ بھی مل جائے خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے اور اس سے کوئی بعید نہیں۔ فرمایا خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا…
Read the full tafseer →قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَاَخِيْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ 89
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا
جهل
الجهل علی ثلاثة أضرب :
- الأول : وهو خلوّ النفس من العلم، هذا هو الأصل، وقد جعل ذلک بعض المتکلمین معنی مقتضیا للأفعال الخارجة عن النظام، كما جعل العلم معنی مقتضیا للأفعال الجارية علی النظام .
- والثاني : اعتقاد الشیء بخلاف ما هو عليه .
- والثالث : فعل الشیء بخلاف ما حقّه أن يفعل، سواء اعتقد فيه اعتقادا صحیحا أو فاسدا، كمن يترک الصلاة متعمدا، وعلی ذلک قوله تعالی: قالُوا : أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَ ھَلْ عَلِمْتُمْ مَّافَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَاَخِیْہِ اِذْاَنْتُمْ جٰھِلُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 89)
(حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا کیا تمہیں معلوم ہے جو تم نے یوسف ( علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا، جب تم جاہل تھے۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کمال اخلاق اور مروت
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب بھائیوں کی بےکسی، بےبسی اور لجاجت آمیز لہجہ دیکھا تو دل پہ ایک چوٹ لگی۔ آپ چونکہ کریم بھائی تھے اور مکارمِ اخلاق کے پیکر تھے آپ ( علیہ السلام) کو یہ دیکھ کر نہایت دکھ ہوا کہ میرے یہ بھائی جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اور بڑے طنطنے کے لوگ تھے، آج اس حد تک پریشان ہیں کہ نہ صرف معمولی پونجی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف کی بےبسی اور انتہا درجے کی عاجزی دیکھ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنا تعارف کرواتے ہیں۔
یوسف (علیہ السلام) کے بھائی انتہا درجہ عاجز ہو کر ان کے سامنے فریاد کرتے ہیں۔ یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب کی عملی تعبیر کی ابتدا ہوتی ہے جو انہوں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ یقیناً حضرت یوسف (علیہ السلام) ابھی سوچ ہی رہے ہوں گے کہ میں نے بچپن میں خواب میں گیارہ ستاروں کو اپنے سامنے جھکتے ہوئے دیکھا تھا ہوسکتا ہے کہ اس کی تعبیر یہی ہو تب اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعے یہ اجازت عنایت فرمائی کہ اے یوسف ! اب وقت آگیا ہے کہ تم ان سے یہ سوال کرو اور…
Read the full tafseer →89: جب انہوں نے کہا مَسَّنَا وَاَہْلَنَا الضُّرُّ اور گڑگڑائے اور اس سے صدقہ طلب کیا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو کی جھڑی لگ گئی اور بےتابانہ یہ کہہ کر ان سے اپنا تعارف کرایا۔ قَالَ ھَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ ( کہا کیا تم جانتے ہو جو کچھ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا اس حرکت کی قباحت و برائی سے واقف ہو جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کی۔ وَاَخِیْہِ اِذْ اَنْتُمْ جٰھِلُوْنَ (اور اس کے بھائی کے ساتھ جبکہ تم ناواقف تھے) اسکی قباحت سے واقف نہ تھے نمبر 2۔ جب تم بیوقوفی اور غصہ کی تیزی میں تھے۔ فعلتم باخیہ سے اس غم پر تعریض کی جو بھائی کو بھائی سے جدا کر کے دکھ پہنچایا…
Read the full tafseer →89۔” قال ھل علمتم ما فعلتم بیوسف واخیہ اذانتم جاھلون “ عطاء (رح) کا اختلاف ہے کہ کس بات نے یوسف (علیہ السلام) کو یہ کلام کرنے پر ابھارا ۔ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ جب انہوں نے یہ کلام کی تو یوسف (علیہ السلام) کا دل نرم ہوا اور آنسو بہنے لگے اور جو چیز وہ چھپا رہے تھے وہ ظاہر ہوگئی۔
اور بعض نے کہا ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے یعقوب (علیہ السلام) کا وہ خط پڑھا جو بھائی لائے تھے تو آنسوئوں پر ضبط نہ کرسکے اور یہ بات کہی ۔ ” ھل علمتم ما فعلتم بیوسف الخ۔۔۔۔
” اذانتم جاھلون “ کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ کا انجام کیا ہوگا ؟ اور بعض نے کہا ہے کہ ” جاھلون مذنبون و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–92
89۔ 92۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سامنے اپنے سختی کا حال بیان کیا تو ان کا دل امنڈ آیا باپ کا خیال آیا کہ میرے فراق میں خدا جانے ان کی کیا حالت ہوگی اور پھر بنیامین ان سے جدا ہوگیا اس سے اور بھی ان کو صدمہ پہنچا ہوگا اور قحط سالی کی بلا جدا ہے غرض کہ ان باتوں کو یاد کر کے یوسف (علیہ السلام) رونے لگے اور بھائیوں سے فرمایا کہ تم نے جو کچھ سلوک یوسف (علیہ السلام) اور اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ کیا وہ تمہیں خوب معلوم ہے کہ کس طرح مکرو فریب سے ان کو باپ سے جدا کیا اور حقیقت میں تمہاری نادانی نے تمہیں اس بات پر آمادہ کیا تھا جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ بات…
Read the full tafseer →جب معاملہ اپنی انتہا اور شدت کو پہنچ گیا، تو یوسف (علیہ السلام) نرم پڑگئے اور انہوں نے ان کو اپنا تعارف کروایا اور ان پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” کیا تمہیں معلوم ہے، تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا ؟ “ رہے یوسف (علیہ السلام) تو ان کے ساتھ ان کا سلوک ظاہر ہے اور رہا ان کا بھائی بنیامین تو شاید۔۔۔۔۔۔ واللہ۔۔۔۔۔۔ اس سے مراد بھائیوں کا یہ قول ہے (آیت) یا اس سے مراد وہ حادثہ ہے جس کی بنا پر باپ اور بیٹے میں جدائی واقع ہوئی اور اس جدائی کے اصل سبب اور موجب وہی تھے۔ (آیت) ” جب تم ناسمجھ تھے “ یہ ان کی جہالت پر ایک قسم کا اعتزار ہے یا ان پر زجروتوبیخ ہے کیونکہ انہوں نے جاہلوں کا سا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–96
اشیاء کا ناپ تول کر، لینا دینا
قول باری (فاوف لنا الکیل۔ آپ ہمیں بھرپور غلہ عنایت فرمائیں) اس پر دلالت کرتا ہے کہ غلہ ناپنے والے کی اجرت فروخت کنندہ کے ذمہ عائد ہوگی اس لئے کہ فروخت کنندہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خریدار کیلئے فروخت شدہ چیز کی تعیین کرے اور ناپ یعنی کیل کے بغیر اس کا تعین نہیں ہوسکتا۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ (فاوف لنا الکیل) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلہ ناپنے کی ذمہ داری حضرت یوسف (علیہ السلام) پر تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ نے طعام یعنی خوردنی شے کو فروخت کرنے سے اس وقت تک کے لئے منع کردیا ہے جب تک یہ شے دو پیمانوں سے گزر نہ جائے یعنی فروخت کنندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
145۔ برادران یوسف کی لجاجت والتجاء :
سو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے اس حکم وارشاد پر برادران یوسف پھر مصر کے سفر پر روانہ ہوئے اور مصر میں انکے حضور ہوئے تو ان کے سامنے نہایت رقت انگیزانداز میں اپنی پریشانی اور خستہ حالی کا ذکر کیا۔ سرگزشت کا یہ حصہ چونکہ ظاہر اور واضح تھا اس لیے اس کو ذکر نہیں فرمایا گیا بلکہ درباریوسفی میں حاضری کے بعدکاحال بیان فرمایا گیا۔ بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ برادران یوسف نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے حاضرہوکر اپنی لجاجت اور حاجت و ضرورت کا ذکر بڑے ہی رقت انگیزانداز میں کیا کہ حضرت قلت کثرت عیال اور ہولناک قحط سالی کے باعث ہمارا حال بہت برا ہوگیا ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیات 80 تا 93
اسرار و معارف
بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ دونوں میں جدائی ڈالی اور دونوں سے بیر رکھا۔ استفہام زجرو توبیخ کے لئے ہے۔ (شوکانی) ۔
11 ۔ یعنی جو کچھ تم نے کیا اس کی وجہ تمہاری نادانی و بیوقوفی تھی۔ گویا حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے بھائیوں کو ان کی حرکت تو یاد دلائی مگر اس خیال سے کہ وہ شرمندہ نہ ہوں خود ہی ان کے لئے معذرت کا پہلو نکال دیا یہ انتہائی مروت کا مقام ہے جس کی توقع ایک نبی ﷺ سے ہی ہوسکتی ہے۔ (ازروح) ۔
Read the full tafseer →(12: 89) اذ انتم جاھلون۔ جب تم نادان تھے۔ جب تم لا علمی کی وجہ سے اپنے فعل کی قباحت کے ادراک سے قاصر تھے۔ یہاں جہالت بمعنی لا علمی آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 93
مسنا ہمیں پہنچی، ہمیں چھولیا الضر سختی اور پریشانی مزجۃ بیکار، معمولی اوف پورا کر تصدق صدقہ کر دے، نیکی کر ھل علمتم کیا تمہیں معلوم ہے، کیا تمہیں یاد ہے مافعلتم تم نے کیا کیا من اللہ اللہ نے احسان کیا من یتق جو تقویٰ اختیار کرتا ہے لایضیع ضائع نہیں کرتا اثر اختیار کیا، منتخب کرلیا لاتثریب الزام نہیں ہے یات بصیراً آنکھوں کی روشنی آئے گی ۔
تشریح آیت نمبر 88 تا 93
جب برادران یوسف نے اپنے والد کی یہ حالت دیکھی اور ان کی طرف سے حکم ہوا کہ تم جاؤ اور یوسف کو تلاش کرو تب یہ نو بھائی تیسری مرتبہ کنعان سے مصر پہنچ گئے۔ بادشاہ مصر کی خدمت میں پہنچے اور نہایت عاجزی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
فرزندگان یعقوب (علیہ السلام) کا دوبارہ مصر آنا
اوپر کے قصہ کے بعد یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ ادھر ادھر پھر کر یوسف (علیہ السلام) کو اور اس کے بھائی بنیامین کا پتہ لگاؤ۔ خدا کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ وہ دونوں تمہیں مل جاویں۔ خدا پر بھروسہ کرکے کمر ہمت چست باندھو اور اس کی جستجو میں نکلو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کیونکہ خدا پر جو ایمان رکھتے ہیں وہ ناامید نہیں ہوتے اور جو لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے وہ ناامید ہوتے ہیں۔ پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے باپ کا حکم پاکر گھر سے چلے اور سیدے مص میں داخل ہوئے اور عزیز مصر سے یہ آکر کہا کہ سے عزیز مصر ! ہم پر اور ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
[31] اس طرز خطاب میں ایک حد تک مجرموں کی دلدہی بھی آگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–92
برادران یوسف (علیہ السلام) کی ندامت :
(ف 1) اب وقت آگیا تھا ، کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے چہرہ انور سے نقاب کشائی کریں ، اور بھائیوں کو بتادیں ، کہ جس یوسف کو تم نے کنعان کے تاریک کنوئیں میں پھینکا تھا ، وہ اس وقت عرش حکومت پر جلوہ گر ہے ، چناچہ جب بھائی دو بار مصر میں غلہ لینے کے لئے گئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، کیا تم وہی نہیں ہو جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ یہ یہ فریب کئے ہیں ، انہوں نے جب دیکھا کہ پتے کی باتیں بتائی جاری ہیں ، اور ان باتوں کا بجز یوسف (علیہ السلام) کے اور کسی کو علم نہیں ہو سکتا ، تو پکار اٹھے کہ کہیں تمہیں تو یوسف (علیہ السلام) نہیں…
Read the full tafseer →89 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے کہا کچھ تم کو وہ سلوک اور وہ برتائو بھی یاد ہے اور تم کو معلوم ہے جو تم نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ اس زمانہ میں کیا تھا جب تم جہالت میں مبتلا تھے۔ یعنی اس بات کو سن کر گھبرائے کہ عزیز مصر کو اس سے کیا بحث ! اور یہاں یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ کیسا پھر سنبھل کر غور کیا ، شاید پہچانے ہوں کہ ہم نے مصری قافلہ کے ہاتھ اسکو فروخت کیا تھا کہیں یہ یوسف (علیہ السلام) ہی نہ ہو اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی اذا نتم جاہلوں کہہ کر سوال جرم کو نرم کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
ف 5۔ یعقوب (علیہ السلام) کا حب مخلوق میں اس قدر رونا موجب وسوسہ نہ ہو کیونکہ محبت امر اضطراری ہے اور گریہ بھی دلیل رقت قلب وترحم ہے اور خاص کر جب کہ محبت کا سبب کوئی امر دینی ہو اور کسی کو شبہ نہ ہو کہ جب یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا تھا فصبر جمیل تو پھر شکایت کیوں زبان پر لائے اس کا جواب خود قرآن میں ہے کہ اشکو ابثی وحزنی الی اللہ۔ یعنی شکایت الی الخلق منافی ہے صبر جمیل کے نہ کہ شکایت الی الخالق کہ عین دعاء والتجائے مطلوب ہے۔
Read the full tafseer →۔ 105 گویا بھائیوں کی بات سن کر جوش محبت سے بےقرار ہوگئے اس وقت ان کے سامنے اور کوئی بات نہ تھی صرف یہ تھی کہ میرے بھائی فقر و فاقہ میں مبتلا ہیں اور میں مسند عزت پر بیٹھا ہوا ہوں اور وہ دریوزہ گروں کی طرح دس سوال دراز کئے ہوئے ہیں لہٰذا ان کو اپنے کئے کی ٹھیک ٹھیک سزا مل چکی ہے اس لئے زیادہ خاموش میری طرف سے زیادتی نہ ہوجائے ۔ اس طرح بےاتخیار ان اک جی چاہا کہ اپنے آپ کو ظاہر کردی۔ ھل علمتم ما فعلتم یوسف واخیہ ؟ تمہیں وہ بات بھی یاد ہے جو یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کی تھی ؟ کہنے کو تو وہ سب کچھ کہہ گئے اور یہ سب کچھ کہے بغیر چارہ بھی نہ تھا کیونکہ ان کو یاد تو دلانا ہی تھا کہ میں مصر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
Commentary
Mentioned in the verses appearing above is the remaining part of the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) and his brothers. It tells us that Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) asked his sons to go and search Yusuf (علیہ السلام) and his brother. So they travelled to Egypt for a third time - because they knew that Benyamin was there and they had to try to get him released first. As for Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، though his presence in Egypt was not known to them but, when the time comes for something to happen, human plans too start falling in place, unconsciously and without an…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–94
66. This is an instance of the extraordinary powers the Prophets possess. Prophet Jacob perceived in Canaan the smell of Prophet Joseph’s shirt from such a distant place as Egypt as soon as the caravan started on the journey. At the same time it also shows, by contrast, that these powers of the Prophets are not inherent or personal characteristics but are bestowed on them by Allah as and when He wills. That is why Prophet Jacob could not perceive the smell of the clothes of Prophet Joseph as long as Allah did not will it, when he had been living in Egypt.
In this connection, it should also be…
Read the full tafseer →