Explained with ayahs 87–88
حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹوں کو حکم فرما رہے ہیں کہ تم ادھر ادھر جاؤ اور حضرت یوسف اور بنیامین کی تلاش کرو۔ عربی میں تحسس کا لفظ بھلائی کی جستجو کے لئے بولا جاتا ہے اور برائی کی ٹٹول کے لئے تجسس کا لفظ بولا جاتا ہے۔ ساتھ میں فرماتے ہیں کہ اللہ کی ذات سے مایوس نہ ہونا چاہیے اس کی رحمت سے مایوس وہی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں کفر ہوتا ہے۔ تم تلاش بند نہ کرو، اللہ سے نیک امید رکھو اور اپنی کوشش جاری رکھو۔ چناچہ یہ لوگ چلے، پھر مصر پہنچے، حضرت یوسف کے دربار میں حاضر ہوئے، وہاں اپنی خستہ حالی ظاہر کی کہ قحط سالی نے ہمارے خاندان کو ستا رکھا ہے، ہمارے پاس کچھ نہیں رہا، جس سے غلہ خریدتے اب ردی، واہی، ناقص،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
65۔ یعنی ہماری اس گزارش پر جو کچھ آپ دیں گے وہ گویا آپ کا صدقہ ہوگا۔ اس غلے کی قیمت میں جو پونجی ہم پیش کر رہے ہیں وہ تو بیشک اس لائق نہیں ہے کہ ہم کو اس قدر غلہ دیا جائے جو ہماری ضرورت کو کافی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
خلاصہ تفسیر
پھر (حضرت یعقوب ؑ کے حکم کے موافق کہ انہوں نے فرمایا تھا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ مصر کو چلے کیونکہ بنیامین کو مصر ہی میں چھوڑا تھا یہ خیال ہواہو گا کہ جس کا نشان معلوم ہے پہلے اس کے لانے کی تدبیر کرنا چاہئے کہ بادشاہ سے مانگیں پھر یوسف ؑ کے نشان کو ڈھونڈیں گے غرض مصر پہنچ کر) جب یوسف ؑ کے پاس (جس کو عزیز سمجھ رہے تھے) پہنچے (اور غلہ کی بھی حاجت تھی پس یہ خیال ہوا کہ غلہ کے بہانے سے عزیز کے پاس چلیں اور اس کی خرید کے ضمن میں خوشامد کی باتیں کریں جب اس کی طبیعت میں نرمی دیکھیں اور مزاج خوش پائیں تو بنیامین کی درخواست کریں اس لئے اول غلہ لینے کے متعلق گفتگو شروع کی…
Read the full tafseer →فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ۔ " ضر " اس تکلیف کو کہتے ہیں جو بھوک اور قحط وغیرہ کے سبب سے پنچتی ہے۔ " بضاعۃ مزجاۃ " ایسی پونجی جس کو کوئی قبول نہ کرے۔ حقیر، غیر مطلوب۔ اس لفظ کے استعمال سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ قیمت ادا کرنے کے لیے نقد کے بجائے کوئی ایسی جنس لے کر گئے تھے جس کی کوئی خاص مانگ نہیں تھی۔
حضرت یوسف کی خدمت میں دوبارہ حاضری : یہ اندازہ تو یہاں سے نہیں ہوتا کہ باپ کی اپیل کا ان پر کیا اثر پڑا لیکن…
Read the full tafseer →88۔ 1 یہ تیسری مرتبہ ان کا مصر جانا ہے۔
88۔ 2 یعنی غلہ لینے کے لئے ہم جو ثمن (قیمت) لے کر آئے ہیں، وہ نہایت قلیل اور حقیر ہے۔
88۔ 3 یعنی ہماری حقیر پونجی کو نہ دیکھیں، ہمیں اس کے بدلے میں پورا ناپ دیں۔
88۔ 4 یعنی ہماری حقیر پونجی قبول کر کے ہم پر احسان اور خیرات کریں۔ اور بعض مفسرین نے اس کے معنی کیے ہیں کہ ہمارے بھائی بنیامین کو آزاد کر کے ہم پر احسان فرمائیں۔
Read the full tafseer →55: مطلب یہ ہے قحط کی وجہ سے ہم سخت بدحالی کا شکار ہیں اس لیے اس مرتبہ ہم اتنی قیمت بھی نہیں لاسکے جو اپنے حصے کا غلہ خریدنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ لہذا اب جو کچھ آپ دیں گے وہ محض احسان ہی ہوگا قرآن کریم میں لفظ صدقہ استعمال ہوا ہے۔ صدقہ ایسے عطیہ کو کہتے ہیں جو کسی کے ذمے واجب نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاط احسان کے طور پر دیا جائے۔
Read the full tafseer →اب تیسری مرتبہ برادران یوسف (علیہ السلام) مصر کے شہر میں داخل ہوتے ہیں۔ قحط نے ان کا برا حال کر رکھا ہے۔ نقدی ختم ہے ، اب وہ ردی قسم کی مال اور روپیہ لے کر آئے ہیں اور اس کے سوا ان کے پاس کچھ بچا بھی نہیں ہے۔ یہ لوگ اس حال میں داخل ہوتے ہیں کہ ان کی شخصیت ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے ، اب وہ پرانی باتیں کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ اس کے حال میں داخل ہوتے ہیں کہ ان کی شخصیت ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے ، اب وہ پرانی باتیں کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ اس موقعے پر انہوں نے اپنی بدحالی کا جو شکوہ کیا اس سے ان کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے۔
آیت نمبر 88
یوسف (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ اس کے بھائی اس قدر خستہ حال ہوگئے…
Read the full tafseer →2 باپ کے فرمانے پر مصر کو پھر روانہ ہوئے۔ کیونکہ یوسف کا پتہ معلوم نہ تھا۔ یہ خیال کیا ہوگا کہ جس کا پتہ معلوم ہے (بنیامین) پہلے اس کی فکر کریں اور قحط کی وجہ سے غلہ کی ضرورت سے، عزیز کو ادھر بھی توجہ دلائیں۔ اگر دینے لینے کے معاملہ میں کچھ نرم پایا تو بنیامین کے متعلق گفت و شنید کریں گے۔ چناچہ پہلی بات انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے یہ ہی کہی کہ اے عزیز مصر ! آجکل قحط و ناداری کی وجہ سے ہم پر اور ہمارے گھر پر بڑی سختی گزر رہی ہے۔ سب اسباب گھر کا بک گیا۔ کچھ نکمی اور حقیر سے پونجی رہ گئی ہے وہ غلہ خریدنے کے لیے ساتھ لائے ہیں آپ کے مکارم اخلاق اور گزشتہ مہربانیوں سے امید ہے کہ ہماری ناقص…
Read the full tafseer →آیت 88 فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ
اگلے سال جب وہ لوگ اپنے والد کے حکم کے مطابق مصر پہنچے اور پھر حضرت یوسف کے سامنے پیش ہوئے۔
قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ
کئی سال سے لگاتار قحط کا سماں تھا۔ آہستہ آہستہ اس کے اثرات زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہو رہے ہوں گے۔ بھیڑبکریاں بھی ختم ہوچکی ہوں گی۔ اب تو ان کی اون بھی نہیں ہوگی جو اناج کی قیمت کے عوض دے سکیں۔
وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ
اس دفعہ ہم جو چیزیں غلے کی قیمت ادا کرنے کے لیے لے کر آئے ہیں وہ بہت کم اور ناقص ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ان سے غلے کی قیمت پوری نہیں ہوسکتی۔
وَتَصَدَّقْ…
Read the full tafseer →85 تیسری بار برادران یوسف یوسف (علیہ السلام) کے دربار میں :۔ اب ان بھائیوں کو یوسف کے متعلق تو کچھ علم نہ تھا کہ وہ کہاں ہوسکتا ہے اور کس سمت کو جاکر اسے تلاش کیا جائے۔ کیونکہ ظن ضرور تھا کہ جس قافلہ نے اسے کنویں سے نکالا تھا وہ مصر کو جارہا تھا۔ لہذا یہ امکان تھا کہ شاید وہ مصر میں ہی ہو۔ البتہ بن یمین کے متعلق یقین تھا کہ اسے شاہ مصر نے اپنے پاس رکھ لیا ہے اور تیسرا بھائی بھی ادھر ہی تھا۔ لہذا انہوں نے تیسری بار پھر مصر کا رخ کیا کچھ تھوڑی بہت پونجی بھی مہیا کرلی کہ اس قحط سالی کے زمانہ میں کچھ غلہ ہی لے آئیں گے اور اسی دوران اپنے بھائیوں کی بازیافت کے لیے بھی کوشش کریں گے چناچہ مصر پہنچ کر…
Read the full tafseer →160۔ (غلہ کی ناداری سے) (آیت) ” دخلوا علیہ “۔ ضمیر عزیز کی جانب ہے اور یوسف (علیہ السلام) ہی اب عزیز تھے۔ یہ تیسرا سفر بھی ان بھائیوں نے مصر ہی کا اختیار کیا ایک تو ” راشن “ کی حاجت شدید اور یہ حاجت وہیں سے پوری ہوسکتی تھی، دوسرے بنیامین کی رہائی کی کوئی تدبیر اگر ممکن تھی تو وہیں جانے سے بن پڑ سکتی تھی۔ (آیت) ” مسنا واھلنا الضر “۔ اب کی لہجہ میں اضطرار اور عاجزی قدرۃ اور عاجزی قدرۃ زاید ہے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ حاجت کے وقت یہ طریق اظہار جائز ہے اور اس سے حق تعالیٰ کی شکایت کا پہلو نہیں پیدا ہوتا۔ دل ذلک علی جواز اظہار مثل ذلک عند الحاجۃ الیہ وانہ لایجری مجری الشکوی من اللہ تعالیٰ (جصاص)
161۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیت نمبر 80 تا 93
ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…
Read the full tafseer →فلما دخلوا علبہ قالوا یایھا العزیز مسنا واھلنا الضر وجئنا ببضاعۃ مرحبۃ فاوف لنا الکیل وتصدق علینا ان اللہ یجزی المصدقین پھر جب یوسف کے پاس پہنچے تو کہنے لگے : اے عزیز ! ہم کو اور ہمارے گھر والوں کو (قحط کی وجہ سے) بڑی تکلیف پہنچی ہے اور ہم کچھ نکمی چیز لائے ہیں ‘ سو آپ پورا غلّہ دے دیجئے اور ہم کو خیرات (سمجھ کر) دے دیجئے۔ بیشک اللہ خیرات دینے والوں کو جزاء (خیر) دیتا ہے۔
الضُّرُّ بھوک کی شدت۔ مزجاۃ کا مرادی ترجمہ حضرت ابن عباس نے کیا : کھوٹے ‘ ردّی ‘ نہ چلنے والے درہم۔ حضرت ابن عباس کا یہ قول ابوعبید اور ابن ابی شیبہ اور ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ کی روایت میں آیا…
Read the full tafseer →(88) چناچہ جب دوسری مرتبہ بھی یہ سب مصر پہنچے تو کہنے لگے اے عزیز ہم اور ہمارے گھر والے قحط سے پریشان ہیں اور ہم کچھ کھوٹے سکے لائے ہیں جن کے عوض نہ اناج مل سکتا ہے اور نہ وہ لوگوں کے درمیان چلتے ہیں اور کچھ پہاڑی چیزیں صنوبر، جستہ الخضراء وغیرہ لائے ہیں اور عرب کے استعمال کی چیزیں مثلا اون، گھی وغیرہ لائے ہیں تو ہمیں اب بھی پورا اناج دے دیجیے جیسا کہ آپ نئے سکوں پر پورا اناج دیتے ہیں، اور ان قیمتوں کے فرق اور ماپوں کے فرق کو ملحوظ نہ رکھیے بلکہ ہمیں خیرات سمجھ کر دے دیجیے بیشک اللہ تعالیٰ خیرات دینے والوں کو دنیا و آخرت میں جزائے خیر دیتا ہے۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ۔۔ : ”مُّزْجٰىةٍ“ ”أَزْجٰی یُزْجِیْ إِزْجَاءً“ (ناقص واوی) دفع کرنا، ہٹانا، دھکیلنا، یعنی (غلے کے لیے) ایسی قیمت جسے کوئی خوشی سے قبول نہیں کرتا۔ باپ کے حکم پر تیاری کرکے بیٹے تیسری مرتبہ مصر کے لیے روانہ ہوگئے اور عزیز مصر سے ملے، جس نے ان کے بھائی کو روک رکھا تھا۔ اسے ادب کے ساتھ لقب سے مخاطب کرکے اپنی اور اپنے گھر والوں کی خستہ حالی اور بےچارگی بیان کی کہ ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر قحط، خشک سالی، بیٹوں کی جدائی سے والد کی حالت اور کئی مصیبتوں کی وجہ سے سخت تکلیف آ پڑی ہے اور غلے کے لیے ہم صحیح قیمت کا بندوبست نہیں کرسکے، محض اتنی سی پونجی لے کر آئے ہیں جو خوشی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 88
فلمادخلواعلیہ قالوایٰٓایھا العزیز یعنی روکنے والے مسناواھلناالضر یہ ان کے مصر آنے کی تیسری دفعہ تھی۔ کلام میں حذف ہے یعنی وہ مصر کی طرف نکلے، جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے تو انہوں نے کہا : مسنا یعنی ہمیں پہنچی ہے۔ واھلنا الضر یعنی بھوک اور حاجت، اس میں مصیبت یعنی بھوک کے وقت شکوہ کے جواز پر دلیل ہے، بلکہ جب فقر کی وجہ سے اسے اپنے اوپر کسی مصیبت کا خوف ہو تو اس پر واجب ہے۔ اور اس کے علاوہ جس آدمی سے نفع کی امید ہو اس کے سامنے اپنی حاجت کو ظاہر کرنا چاہیے، جس طرح کہ ڈاکٹر کے سامنے درد وغیرہ کی شکایت کرنا واجب ہے تاکہ وہ علاج کرے۔ اور یہ چیز توکل میں قدح کا باعث نہیں یہ اس…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قالوا یایھا العزیز مسنا واھلنا الضر “ سے مراد ہے معاشی نقصان۔
2:۔ ان جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجئنا ببضاعۃ “ سے مراد ہے دراھم ” مزجۃ “ سے مراد ہے غیر چالو (یعنی کھوٹے سکے ) ۔
3:۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ببضاعۃ مزجۃ “ یعنی ردی سامان (جیسے بوسیدہ رسیاں اور بورے وغیرہ ) ۔
4:۔ ابوعبیدہ وابن ابی شیبہ وابن منذر وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ”…
Read the full tafseer →[فَلَمَا : پھر جب ] [ دَخَلُوْا : وہ لوگ داخل (حاضر) ہوئے ] [ عَلَيْهِ : ان (علیہ السلام) پر ] [قَالُوْا : تو انھوں نے کہا ] [ يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ : اے عزیز ] [ مَسَّنَا : چھوا ہم کو ] [ وَاَهْلَنَا : اور ہمارے گھر والوں کو ] [الضُّرُّ : سختی نے ] [وَجِئْنَا : اور آئے ہم ] [بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ : ایک حقیر سی پونجی کے سات ] [ فَاَوْفِ : پس آپ (علیہ السلام) پورا کریں ] [ لَنَا : ہمارے لئے ] [الْكَيْلَ : پیمانہ بھرنے کو ] [ وَتَصَدَّقْ : اور آپ (علیہ السلام) حق سے زیادہ نچھاور کریں ] [عَلَيْنَا : ہم پر ] [ان : بیشک ] [اللّٰهَ : اللہ ] [ يَجْزِي : جزا دیتا ہے ] [الْمُتَصَدِّقِيْنَ : حق سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
برادران یوسف کا تیسری بار مصر پہنچنا اور غلہ طلب کرنا اور ان کا سوال فرمانا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ‘ پھر بھائیوں کا قصور معاف فرمانا اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرنا
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے فرمانے پر ان کے بیٹے پھر مصر کی طرف روانہ ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تو اندازہ نہ تھا کہ کہاں ہوں گے البتہ بنیامین اور بڑے بھائی کو مصر ہی میں چھوڑ آئے تھے اس لئے اپنے والد کے فرمان کے مطابق کہ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو انہوں نے مصر ہی کی راہ لی نیز اس میں غلہ لانے کا فائدہ بھی پیش نظر تھا ‘ جب مصر پہنچے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) تک رسائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
بار سوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) بحکم یعقوب (علیہ السلام) برائے تفحص یوسف و بنیامین
قال اللہ تعالیٰ فاما دخلوا علیہ قالوا یایھا العزیز .... الیٰ .... واتونی باہلکم اجمعین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ ذکر تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو تاکید اکید کی کہ خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہوں اور یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی تلاش میں نکلیں چناچہ یہ لوگ مصر روانہ ہوئے کہ اول تو اس بھائی کو لانے کی کوشش کریں جس کا نشان معلوم تھا اس کے بعد دوسرے بےنشان بھائی یعنی یوسف (علیہ السلام) کی تلاش شروع کریں اب آئندہ آیات میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ یعقوب (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق پھر مصر…
Read the full tafseer →75: یہ تیرہواں حال ہے فرزندان یعقوب (علیہ السلام) اب تیسری بار مصر وارد ہوگئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی اے عزیز ! ہم اور ہمارے اہل و عیال قحط سالی کی وجہ سے سخت تکلیف میں مبتلا ہیں اور اس دفعہ تو ہم بہت تھوڑی سی پونجی لائے ہیں۔ آپ مہربانی فرما کر ہمیں پورا غلہ دیدیں اور ہم پر احسان فرمائیں اللہ تعالیٰ آپ کو اس احسان کی جزا دے گا۔ ” مُزْجَاۃٍ “ معمولی، ناقص، بہت تھوڑی ای ببضاعۃ روؤیۃ کا سدۃ لاتنفق فی الطعام الا بتجوز من البائع (خازن ج 3 ص 311) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
ربط آیات
جب یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے کنعان جا کر اپنے باپ کو بن یامین کی گرفتاری کا حال سنایا تو ان کا پرانا غم پھر تازہ ہوگیا پہلے وہ یوسف (علیہ السلام) کی جدائی میں پریشان تھے اب دوسرے بیٹے کی جدائی کی بات سنی تو دکھ دو چند ہوگیا مگر آپ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نامید نہیں ہوئے بلکہ بیٹوں سے کہا کہ جائو جا کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو تلاش کرو ، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو لے آئے۔ بن یامین بھی رہا ہوجائے اور یوسف (علیہ السلام) جس کا نام و نشان تک معلوم نہیں شاید وہ بھی مل جائے خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے اور اس سے کوئی بعید نہیں۔ فرمایا خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا…
Read the full tafseer →فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ 88
عزیز
، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88]
( ع ز ز ) العزۃ
العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْہِ قَالُوْا یٰٓـاَیُّھَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَاَھْلَنَا الضُّرُّوَجِئْنَا بِبِضَاعَۃٍ مُّزْجٰۃٍ فَاَوْفِ لَنَا الْکَیْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا ط اِنَّ اللّٰہَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 88)
(جب وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا اے عزیز ! ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو قحط سالی سے بڑی تکلیف پہنچی اور ہم تھوڑی سی پونجی لے کر حاضر ہوئے ہیں تو آپ ہمیں غلہ بھی پورا دیجیے اور ہم کو صدقہ بھی عنایت فرمایئے، اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو بدلہ عطا فرماتا ہے۔ )
ضَرّ اس تکلیف کو کہتے ہیں جو بھوک اور قحط وغیرہ کے سبب سے پہنچتی ہے۔
بِضَاعَۃٍ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یعقوب کی ہدایت پر برادران یوسف کا مصر کی طرف جانا۔
برادران یوسف اب تیسری مرتبہ مصر پہنچ کر مصر کے بادشاہ ( یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات کرتے ہیں۔ اب کی بار فاقہ مستی کی وجہ سے ان کی حالت یہ ہوچکی تھی کہ بادشاہ کے حضور پیش ہوتے ہی فریاد کرنے لگے۔ اے عزیزمصر ! ہم اور ہمارے گھر والے قحط سالی اور فاقہ کشی کی و جہ سے انتہائی پریشان ہیں۔ غلہ لینے کے لیے جو رقم ہم لائے ہیں وہ بالکل ہی معمولی ہے لیکن آپ سے التجا ہے کہ آپ قیمت کے برابر غلہ دینے کی بجائے ہم پر صدقہ کریں۔ اللہ تعالیٰ صدقہ دینے والوں کو یقیناً جزا دیتا ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ سے پتا چل رہا ہے کہ…
Read the full tafseer →88: پھر وہ اپنے والد کے ہاں سے نکل کر مصر کی طرف روانہ ہوئے فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْہٖ (جب وہ اس کے پاس داخل ہوئے) یعنی یوسف (علیہ السلام) قَالُوْا یٰٓاَیُّھَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَاَھْلَنَا الضُّرُّ (اے عزیز مصر ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو قحط سے سخت تکلیف پہنچی ہے) شدت تکلیف اور بھوک سے کمزوری پیش آگئی۔ وَجِئْنَا بِبِضَا عَۃٍ مُّزْجٰۃٍ (اور ہم کھوٹے درا ہم لائے ہیں) ردی دراہم جن کو ہر تا جربے رغبتی سے پیچھے ہٹاتا ہے اور ان سے حقارت کا اظہار کرتا ہے یہ مُزْجٰۃ اَزْجَیْتُہ سے ہے جس کا معنی دفع کرنا اور پھینکنا ہے۔ نمبر 2۔ دوسرا قول یہ ہے ان کے دراہم زیوف کم قیمت تھے جن کو منت سے سماجت سے…
Read the full tafseer →88۔” فلما دخلوا علیہ قالوا یایھا العزیز مسنا واھلنا الضر “ شدت اور بھوک۔” وجئنا ببضاعۃ مزجۃ “ یعنی تھوڑے ردی پیسے جو غلہ کی قیمت نہیں بن سکتے مگر بائع کے چشم پوشی کرنے سے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ دراہم کھوٹے اور ردی تھے اور بعض نے کہا ہے کہ دیہاتیوں کے سامان اون پنیر وغیرہ تھی اور بعض نے کہا ہے کہ دیہاتیوں کے سامان اون پنیر وغیرہ تھی اور بعض نے کہا ہے کہ گندم کا ستو تھا اور بعض نے کہا ہے کہ چمڑا اور جوتے تھے۔” فاوف لنا الکیل “ جو آپ عمدہ پیسوں کے بدلے میں دیتے ہیں وہ میں ان پیسوں کے بدلے میں دیدیں۔” و تصدق علینا “ عمدہ اور ردی قیمت کے درمیان جو فرق ہے اس کا ہم پر احسان کریں اور غلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
87۔ 88۔ اوپر کے قصہ کے بعد یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ ادھر ادھر چل پھر کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی بنیامین کا پتہ لگاؤ خدا کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ وہ دونوں تمہیں مل جائیں خدا پر بھروسہ کر کے کمر ہمت چست باندھ اور اس کی جستجو میں نکلو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کیوں کہ خداوند عالم کی رحمت سے نا مید ہونا ان لوگوں کا کام ہے جو لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور ہر ایک کام میں اسے قادر مطلق نہیں تصور کرتے اس لئے میں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہی نیک گمان رکھتا ہوں جو میں نے بیان کیا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے باپ کا حکم پاکر گھر سے چل کھڑے ہوئے اور سیدھے پھر…
Read the full tafseer →پس وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ (آیت) ” جب وہ اس کے پاس گئے “ یعنی جب وہ یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (آیت) تو انہوں نے عاجزی کے ساتھ عرض کیا : (آیت) ” اے عزیز ! پڑی ہے ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر سختی اور ہم ناقص پونجی لے کر آئے ہیں، سو ہمیں بھرتی پوری دیں اور ہم پر خیرات کریں “ یعنی ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت محتاج ہوگئے ہیں۔ (آیت) ” اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں۔ “ یعنی ہم ایسا مال لے کر آئے ہیں جو قلیل، بےوقعت ہونے کی بنا پر کسی اہمیت کا حامل نہیں۔
(آیت) ” پس آپ ہمیں پورا غلہ دیجیے۔ “ یعنی ہمارے پاس قیمت کم ہونے کے باوجود، ہمیں قیمت سے زیادہ غلہ عنایت کرکے ہم پر صدقہ کیجیے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–96
اشیاء کا ناپ تول کر، لینا دینا
قول باری (فاوف لنا الکیل۔ آپ ہمیں بھرپور غلہ عنایت فرمائیں) اس پر دلالت کرتا ہے کہ غلہ ناپنے والے کی اجرت فروخت کنندہ کے ذمہ عائد ہوگی اس لئے کہ فروخت کنندہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خریدار کیلئے فروخت شدہ چیز کی تعیین کرے اور ناپ یعنی کیل کے بغیر اس کا تعین نہیں ہوسکتا۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ (فاوف لنا الکیل) یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ غلہ ناپنے کی ذمہ داری حضرت یوسف (علیہ السلام) پر تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ نے طعام یعنی خوردنی شے کو فروخت کرنے سے اس وقت تک کے لئے منع کردیا ہے جب تک یہ شے دو پیمانوں سے گزر نہ جائے یعنی فروخت کنندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
145۔ برادران یوسف کی لجاجت والتجاء :
سو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے اس حکم وارشاد پر برادران یوسف پھر مصر کے سفر پر روانہ ہوئے اور مصر میں انکے حضور ہوئے تو ان کے سامنے نہایت رقت انگیزانداز میں اپنی پریشانی اور خستہ حالی کا ذکر کیا۔ سرگزشت کا یہ حصہ چونکہ ظاہر اور واضح تھا اس لیے اس کو ذکر نہیں فرمایا گیا بلکہ درباریوسفی میں حاضری کے بعدکاحال بیان فرمایا گیا۔ بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ برادران یوسف نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے حاضرہوکر اپنی لجاجت اور حاجت و ضرورت کا ذکر بڑے ہی رقت انگیزانداز میں کیا کہ حضرت قلت کثرت عیال اور ہولناک قحط سالی کے باعث ہمارا حال بہت برا ہوگیا ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیات 80 تا 93
اسرار و معارف
بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ یعنی ہماری یہ پونچی اس قابل نہیں ہے کہ کوئی ہمیں اس کے بدلے غلہ دے سکے۔ تاہم اگر آپ ہم پر احسان فرمائیں کہ اس کی قیمت کا جتنا غلہ بنتا ہے اس سے زیادہ دے دیں یا اس کے ناقابلِ قبول ہونے سے چشم پوشی فرمائیں تو یہ آپ کا ہم پر صدقہ ہوگا۔ کہتے ہیں کہ اب کی بار وہ اون، پنیر وغیرہ لائے تھے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو رحم آگیا اور حقیقتِ حال ظاہر کردی۔ کذافی الموضح۔ (روح) ۔
Read the full tafseer →(12:88) دخلوا علیہ۔ وہ اس کے پاس گئے۔ (یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے)
مسنا الضر۔ ہمیں (سخت) تکلیف پہنچی ہے۔ ہم سخت مصیبت میں ہیں (غلہ کی ناداری کی وجہ سے)
مزجۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث مذجی۔ واحد مذکر۔ انجاء (افعال) مصدر۔ حقیر۔ قلیل بےقدر۔
فاوف لنا الکیل۔ ہمیں پورا ماپ دیدیں۔ (یعنی اگرچہ ہماری پونجی حقیر ہے لیکن ہم غلہ کی پوری مقدار کی درخواست کرتے ہیں) بضاعۃ مذجۃ ۔ حقیر سی قیمت۔
تصدق علینا۔ ای تفضل علینا وزدنا علی حقنا۔ ہم پر مہربانی کیجئے اور ہمارے حق سے بھی ہمیں زیادہ عنایت کیجئے۔ اس فضل یا زیادہ کو صدقہ کہا گیا ہے اس سے حقیقی صدقہ مراد نہیں ہے۔
المتصدقین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ خیرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–93
لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 93
مسنا ہمیں پہنچی، ہمیں چھولیا الضر سختی اور پریشانی مزجۃ بیکار، معمولی اوف پورا کر تصدق صدقہ کر دے، نیکی کر ھل علمتم کیا تمہیں معلوم ہے، کیا تمہیں یاد ہے مافعلتم تم نے کیا کیا من اللہ اللہ نے احسان کیا من یتق جو تقویٰ اختیار کرتا ہے لایضیع ضائع نہیں کرتا اثر اختیار کیا، منتخب کرلیا لاتثریب الزام نہیں ہے یات بصیراً آنکھوں کی روشنی آئے گی ۔
تشریح آیت نمبر 88 تا 93
جب برادران یوسف نے اپنے والد کی یہ حالت دیکھی اور ان کی طرف سے حکم ہوا کہ تم جاؤ اور یوسف کو تلاش کرو تب یہ نو بھائی تیسری مرتبہ کنعان سے مصر پہنچ گئے۔ بادشاہ مصر کی خدمت میں پہنچے اور نہایت عاجزی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
فرزندگان یعقوب (علیہ السلام) کا دوبارہ مصر آنا
اوپر کے قصہ کے بعد یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ ادھر ادھر پھر کر یوسف (علیہ السلام) کو اور اس کے بھائی بنیامین کا پتہ لگاؤ۔ خدا کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ وہ دونوں تمہیں مل جاویں۔ خدا پر بھروسہ کرکے کمر ہمت چست باندھو اور اس کی جستجو میں نکلو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کیونکہ خدا پر جو ایمان رکھتے ہیں وہ ناامید نہیں ہوتے اور جو لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے وہ ناامید ہوتے ہیں۔ پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے باپ کا حکم پاکر گھر سے چلے اور سیدے مص میں داخل ہوئے اور عزیز مصر سے یہ آکر کہا کہ سے عزیز مصر ! ہم پر اور ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
[31] اس طرز خطاب میں ایک حد تک مجرموں کی دلدہی بھی آگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–92
برادران یوسف (علیہ السلام) کی ندامت :
(ف 1) اب وقت آگیا تھا ، کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے چہرہ انور سے نقاب کشائی کریں ، اور بھائیوں کو بتادیں ، کہ جس یوسف کو تم نے کنعان کے تاریک کنوئیں میں پھینکا تھا ، وہ اس وقت عرش حکومت پر جلوہ گر ہے ، چناچہ جب بھائی دو بار مصر میں غلہ لینے کے لئے گئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، کیا تم وہی نہیں ہو جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ یہ یہ فریب کئے ہیں ، انہوں نے جب دیکھا کہ پتے کی باتیں بتائی جاری ہیں ، اور ان باتوں کا بجز یوسف (علیہ السلام) کے اور کسی کو علم نہیں ہو سکتا ، تو پکار اٹھے کہ کہیں تمہیں تو یوسف (علیہ السلام) نہیں…
Read the full tafseer →88 ۔ چناچہ یہ لڑکے پھر سفر میں گئے اور مصر پہنچ کر عزیز مصر کے سامنے پیش ہوئے تو ان سے کہا اے عزیز ! ہم کو اور ہمارے گھروالوں کو قحط کے باعث بڑی سختی پہنچ رہی ہے اور ہم یہ ناقص اور نکمی پونجی لائے ہیں مگر آپ اس کے ناقص ہونے پر نظر نہ کیجئے اور ہم کو پورا غلہ دے دیجئے اور ہم پر خیرات کیجئے اور خیرات سمجھ کر دیدیئے ، یقینا اللہ تعالیٰ خیرات کرنیوالوں کو اچھا صلہ دیتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قحط میں سب اسباب گھر کا بک گیا اب کی بار اون ، پنیر ایسی چیزیں لائے تھے اناج خریدنے کو۔ یہ حال سن کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو رحم آیا اپنے آپ کو ظاہر کیا اور سارے گھر کو بلوایا ۔ 12 ۔
خلاصہ :۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
ف 5۔ یعقوب (علیہ السلام) کا حب مخلوق میں اس قدر رونا موجب وسوسہ نہ ہو کیونکہ محبت امر اضطراری ہے اور گریہ بھی دلیل رقت قلب وترحم ہے اور خاص کر جب کہ محبت کا سبب کوئی امر دینی ہو اور کسی کو شبہ نہ ہو کہ جب یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا تھا فصبر جمیل تو پھر شکایت کیوں زبان پر لائے اس کا جواب خود قرآن میں ہے کہ اشکو ابثی وحزنی الی اللہ۔ یعنی شکایت الی الخلق منافی ہے صبر جمیل کے نہ کہ شکایت الی الخالق کہ عین دعاء والتجائے مطلوب ہے۔
Read the full tafseer →برادران یوسف کا تیسری بار عزیز مصر کے پاس جانا اور غلہ کی اپیل کرنا
۔ 104 برادران یوسف نے کچھ تو باپ کے اصرار پر اور کچھ اس لئے کہ واقعی قحط کی شدت انتہائی درجہ پر پہنچی ہوئی تھی اور غلہ کا سوائے مصری حکومت کے کہیں دور دور تک نام و نشان بھی نہ تھا۔ تیسری بار پھر مصر کا ارادہ کیا ظاہر ہے کہ اس بار وہ 9 بھائی تھے جب دربار شاہی میں پہنچے تو کہنے لگے ” اے عزیز مصر ! ہم کو اور ہمارے گھر والوں کو قحط نے سخت پریشانی میں ڈال دیا ہے اور اس مرتبہ ہم پونجی بھی بہت تھوڑی لائے ہیں اور جو لائے ہیں وہ حاضر ہے اب معاملہ خریدو فروخت اور لین دین کا نہیں ہم سے قیمت ادا نہیں ہو سکتی اس لئے تیری خدمت میں ہماری یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
Commentary
Mentioned in the verses appearing above is the remaining part of the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) and his brothers. It tells us that Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) asked his sons to go and search Yusuf (علیہ السلام) and his brother. So they travelled to Egypt for a third time - because they knew that Benyamin was there and they had to try to get him released first. As for Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، though his presence in Egypt was not known to them but, when the time comes for something to happen, human plans too start falling in place, unconsciously and without an…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
That is, it will be charitable of you if you give us that much grain as we require to fulfill our needs, because the goods we have brought for its barter are of less value than of the grain we require.
Read the full tafseer →