Explained with ayahs 87–88
حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹوں کو حکم فرما رہے ہیں کہ تم ادھر ادھر جاؤ اور حضرت یوسف اور بنیامین کی تلاش کرو۔ عربی میں تحسس کا لفظ بھلائی کی جستجو کے لئے بولا جاتا ہے اور برائی کی ٹٹول کے لئے تجسس کا لفظ بولا جاتا ہے۔ ساتھ میں فرماتے ہیں کہ اللہ کی ذات سے مایوس نہ ہونا چاہیے اس کی رحمت سے مایوس وہی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں کفر ہوتا ہے۔ تم تلاش بند نہ کرو، اللہ سے نیک امید رکھو اور اپنی کوشش جاری رکھو۔ چناچہ یہ لوگ چلے، پھر مصر پہنچے، حضرت یوسف کے دربار میں حاضر ہوئے، وہاں اپنی خستہ حالی ظاہر کی کہ قحط سالی نے ہمارے خاندان کو ستا رکھا ہے، ہمارے پاس کچھ نہیں رہا، جس سے غلہ خریدتے اب ردی، واہی، ناقص،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
65۔ یعنی ہماری اس گزارش پر جو کچھ آپ دیں گے وہ گویا آپ کا صدقہ ہوگا۔ اس غلے کی قیمت میں جو پونجی ہم پیش کر رہے ہیں وہ تو بیشک اس لائق نہیں ہے کہ ہم کو اس قدر غلہ دیا جائے جو ہماری ضرورت کو کافی ہو۔
Read the full tafseer →يٰبَنِيَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ یعنی اے میرے بیٹو جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوتا،
حضرت یعقوب ؑ نے اتنے عرصہ کے بعد صاحبزادوں کو یہ حکم دیا کہ جاؤ یوسف اور ان کے بھائی کو تلاش کرو اور ان کے ملنے سے مایوس نہ ہو اس سے پہلے کبھی اس طرح کا حکم نہ دیا یہ سب چیزیں تقدیر الہی کے تابع تھیں اس سے پہلے ملنا مقدر نہ تھا اس لئے ایسا کوئی کام بھی نہیں کیا گیا اور اب ملاقات کا وقت آ چکا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے مناسب تدبیر دل میں ڈالی،
اور دونوں کی تلاش کا رخ مصر ہی کی طرف قرار دیا جو بنیامین کے حق میں تو معلوم اور متعین تھا مگر…
Read the full tafseer →يٰبَنِيَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ وَلَا تَايْـــــَٔـسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ ۭ اِنَّهٗ لَا يَايْـــــَٔـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ
جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ حضرت یعقوب نے بیٹوں کے سامنے اپنے دل کا یہ راز کھول دیا کہ وہ یوسف کے باب میں اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہیں تو صاف لفظوں میں ان سے نہایت پیار کے انداز میں یہ بھی کہہ دیا کہ اے میرے بیٹو جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کی ٹوہ لگاؤ اور خدا کی مشکل کشائی اور اس کی تائید و رحمت سے مایوس نہ ہو، اللہ کی تائید و رحمت سے صرف کافر ہی مایوس ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ جی جان کی بازی لگا کر یہ کام…
Read the full tafseer →87۔ 1 چناچہ اس یقین سے سرشار ہو کر انہوں نے اپنے بیٹوں کو یہ حکم دیا۔
87۔ 2 جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قَالَ وَمَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖٓ اِلَّا الضَّاۗلُّوْنَ) 15۔ الحجر :56) ' گمراہ لوگ ہی اللہ کی رحمت سے ناامید ہوتے ہیں ' اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو سخت حالات میں بھی صبر و رضا کا اور اللہ کی رحمت واسعہ کی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
54: چونکہ حضرت یعقوب ؑ کو یقین تھا کہ یوسف ؑ بھی کہیں نہ کہیں زندہ ہیں۔ اور بنیامین گرفتار ہیں اس لیے انہوں نے کچھ عرصے بعد پورے وثوق کے ساتھ حکم دیا کہ جا کر ان دونوں کو تلاش کرو۔ اتنے میں جو غلہ اب تک آیا تھا وہ ختم ہوچکا تھا اور قحط کی حالت جاری تھی۔ اس لیے ان بھائیوں نے یہ سوچا کہ پھر مصر جائیں۔ کیونکہ بنیامین تو وہاں یقینی طور پر موجود ہیں۔ پہلے ان کی واپسی کی کوشش کرنی چاہیے۔ پھر یوسف ؑ کا بھی کچھ سراغ لگانے کی کوشش کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے مصرف جا کر پہلے تو یوسف ؑ سے غلے کی بات کی تاکہ ان کا دل کچھ نرم پڑے تو بنیامین کی واپسی کی بھی درخواست کریں۔ اگلی آیتوں میں حضرت یوسف ؑ سے ان کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 87
یہ ہے اس دل کی آواز جو اللہ تک پہنچا ہوا ہے ! !۔ “ میرے بچو جا کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ”۔ اپنے پورے حواس کو استعمال کرو ، نہایت رقت سے ، گہری نظروں سے اور مستقل مزاجی سے تلاش کرو۔ اللہ کے فضل وکرم سے کسی بھی وقت مایوسی کا اظہار نہ کرو۔ یہاں اللہ کے کرم کے لئے (روح) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت پر گہرائی سے دلالت کرتا ہے اور اس میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ مشکلات کے بعد اب آسانیوں کا دور آنے والا ہے۔ کیونکہ جان کن مشکلات کی بعد اب اللہ کی رحمت کی شبنم سے روح کو تراوت ملنے والی ہے۔ '
ولا تایئسو۔۔۔۔۔۔۔…
Read the full tafseer →1 یعنی حق تعالیٰ کی مہربانی اور فیض سے ناامید ہونا کافروں کا شیوہ ہے۔ جنہیں اس کی رحمت واسعہ اور قدرت کاملہ کی صحیح معرفت نہیں ہوتی۔ ایک مسلمان کا کام یہ ہے کہ اگر پہاڑ کی چٹانوں اور سمندر کی موجوں کے برابر مایوس کن حالات پیش آئیں تب بھی خدا کی رحمت کا امیدوار رہے اور امکانی کوشش میں پست ہمتی نہ دکھلائے۔ جاؤ کوشش کر کے یوسف کا کھوج لگاؤ اور اس کے بھائی بنیامین کے چھڑانے کا کوئی ذریعہ تلاش کرو۔ کچھ بعید نہیں کہ حق تعالیٰ ہم سب کو پھر جمع کر دے۔ تیسرے بھائی کا ذکر شاید اس لیے نہیں کیا کہ وہ باختیار خود محض بنیامین کی وجہ سے رکا ہے۔ بنیامین چھوٹ جائے تو وہ کیوں پڑا رہے گا۔
Read the full tafseer →اِنَّهٗ لَا يَايْـــــَٔـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ
صاحب ایمان لوگ کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →84 اسی یقین کی بنا پر آپ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ جاؤ یوسف اور اس کے بھائی دونوں کے لیے کوشش کرو کہ وہ ہمیں مل جائیں اور تیسرے بیٹے کا جو مصر میں رہ گیا تھا آپ نے اس لیے نام نہ لیا کہ وہ خود اسی غرض سے وہاں اٹکا ہوا تھا کہ بن یمین کے حالات پر نگہداشت رکھے اور جب بھی کوئی رہائی کی صورت ممکن ہو اسے بروئے کار لائے اور انھیں تاکید کی کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ کیونکہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا مسلمانوں کا شیوہ نہیں۔
Read the full tafseer →159۔ کیا ٹھکانہ ہے اس اعتماد علی اللہ کا ! یہ ہے شان نبوت ! اظہار درد وغم اپنے مالک ومولی کے حضور میں کرکے اب آپ ظاہری تدبیروں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین کی تلاش پر ان کے انہی بھائیوں کو پھر لگاتے ہیں :۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیت نمبر 80 تا 93
ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…
Read the full tafseer →یبني اذھبوا فتحسسوا من یوسف واخیہ ولا تایئسوا من روح اللہ انہ لا یایئس من روح اللہ الا القوم الکفرون میرے بیٹو ! جاؤ ‘ یوسف کی اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو۔ اللہ کی رحمت سے آس کافر لوگ توڑا کرتے ہیں۔
حضرت ابن عباس نے تَحَسَّسُوا کا ترجمہ کیا : تلاش کرو ‘ ڈھونڈو۔ لغت میں تَحَسُّس کا معنی ہے : کسی کی سن گن ‘ تلاش کرنا۔ روح سے مراد ہے : رحمت۔ بعض کے نزدیک مراد ہے : مصیبت سے نجات اور اللہ کی عطا کردہ خوشی۔
الْکَافِرُوْن یعنی وہ لوگ جوا اللہ کی ذات وصفات کو نہیں جانتے اور انکار کرتے ہیں۔ اللہ کو پہچاننے والا اس کی رحمت سے کبھی بےآس نہیں ہوتا۔
غرض سب بھائی لوٹ کر مصر…
Read the full tafseer →(87) اسی لیے حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ میرے بیٹو ! جاؤ یوسف ؑ اور بنیامین کو تلاش کرو اور ان کی خبر لاؤ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید مت ہو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ سے اور اس کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں، جو کافر ہیں۔
Read the full tafseer →يٰبَنِيَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا۔۔ : ”بَنِیْنَ“ ”اِبْنٌ“ کی جمع ہے، یاء کی طرف مضاف ہوا تو نون گرگیا، یاء کو یائے متکلم میں ادغام کرکے آخر میں نصب دے دی۔ ”تَحَسَّسَ“ کا معنی ہے کسی چیز کو باریکی، حکمت اور صبر کے ساتھ بذریعۂ حواس تلاش کرنا۔ (الوسیط) ”من روح اللہ“ ”رَوْحٌ“ کا اصل معنی سانس لینا ہے، کہا جاتا ہے ”أَرَاحَ الإِْنْسَانُ“ ”انسان نے سانس لیا۔“ (مفردات) مراد اللہ کی طرف سے کشادگی و رحمت ہے، گلا گھٹ جانے اور سانس بند ہونے کے بعد سانس آنے میں جو راحت ولذت ہے وہ اللہ کی رحمت کا ایک نمونہ ہے، یعنی جاؤ اور اس بھائی کے ساتھ مل کر جو وہاں رہ گیا ہے، یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کی پوری…
Read the full tafseer →آیت نمبر 87
یٰبنی اذھبوا فتحسسوا من یوسف واخیہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا یقین تھا۔ اس صورت کئی صورتیں ہیں : یا تو خواب کے ذریعے، یا اللہ تعالیٰ نے بھیڑیے کو بولنے کی طاقت دی اور بھیڑیے نے بتایا جس طرح کہ واقعہ کی ابتدا میں ہے یا ملک الموت نے خبر دی کہ اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی روح کو قبض نہیں کیا اور یہ زیدہ ظاہر ہے۔ التحسس حواس کے ذریعے کسی چیز کو طلب کرنا ہے۔ یہ حس سے باب تفعل ہے یعنی اس آدمی کے پاس جاؤ جس نے تم سے تمہارا بھائی طلب کیا اور تم سے اسے لینے کا حیلہ اختیار کیا اور اس کے متعلق اور اس کے مذہب کے متعلق پوچھو اور روایت…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے نصر بن عربی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی کہ یعقوب (علیہ السلام) چوبیس سال ٹھہرے رہے نہیں جانتے تھے کہ یوسف زندہ ہے یا مرگیا ہے یہاں تک کہ ملک الموت ان کے پاس خلوت میں آئے یعقوب (علیہ السلام) نے اس سے پوچھا تو کون ہے اس نے کہا میں موت کا فرشتہ ہوں پھر اس نے پوچھا میں تجھ کو یعقوب (علیہ السلام) کے خدا کی قسم دیتا ہوں کیا تو نے یوسف (علیہ السلام) کی روح قبض کی تھی اس نے کہا نہیں۔ اس وقت یعقوب (علیہ السلام) نے (اپنے بیٹوں سے) فرمایا (آیت) ” یبنی اذھبوا فتحسسوا من یعسف واخیہ ولا تایئسوا من روح اللہ “ تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی مصر کی طرف گئے اور جب وہ یوسف…
Read the full tafseer →[يٰبَنِيَّ : اے میرے بیٹو ] [اذْهَبُوْا : تم لوگ جائو ] [ فَتَحَسَّسُوْا : پھر سراغ لگائو ] [ مِنْ يُّوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کا ] [ وَاَخِيْهِ : اور ان کے بھائی کا ] [ وَلَا تَايْـــــَٔـسُوْا : اور مایوس مت ہو ] [ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ : اللہ کی رحمت سے ] [ انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [ لَا يَايْـــــَٔـسُ : مایوس نہیں ہوتے ] [ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ : اللہ کی رحمت سے ] [اِلَّا : اِلَّا ] [الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ : الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ (87) ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
برادران یوسف کا تیسری بار مصر پہنچنا اور غلہ طلب کرنا اور ان کا سوال فرمانا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ‘ پھر بھائیوں کا قصور معاف فرمانا اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرنا
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے فرمانے پر ان کے بیٹے پھر مصر کی طرف روانہ ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تو اندازہ نہ تھا کہ کہاں ہوں گے البتہ بنیامین اور بڑے بھائی کو مصر ہی میں چھوڑ آئے تھے اس لئے اپنے والد کے فرمان کے مطابق کہ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو انہوں نے مصر ہی کی راہ لی نیز اس میں غلہ لانے کا فائدہ بھی پیش نظر تھا ‘ جب مصر پہنچے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) تک رسائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–87
بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون
(ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…
Read the full tafseer →74:۔ اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں سے فرمایا جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے نامید نہ ہونا کیونکہ اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا کافروں کا شیوہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
ربط آیات
برادران یوسف کا مصر سے واپسی کا ذکر ہو رہا تھا۔ انہوں نے کنعان واپس پہنچ کر باپ کو چھوٹے بھائی کے چوری میں ملوث ہوجانے کا واقعہ سنایا اور اس ضمن میں اپنی صداقت کے لئے بعض شہادتوں کی طرف بھی اشارہ کیا ، مگر یعقوب (علیہ السلام) نے ان پر اعتماد نہ کیا اور فرمایا کہ یہ ساری کہانی تمہارے اپنے نفسوں کی وضع کردہ ہے مگر اب میں صبر جمیل کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ شاید وہ ان سب بچھڑے ہوئے افراد کو میرے پاس لے آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔ ہر بات اس کے علم میں ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔
یعقوب (علیہ السلام) کی حالت زار
بیٹوں سے…
Read the full tafseer →يٰبَنِيَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ وَلَا تَايْـــــَٔـسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ ۭ اِنَّهٗ لَا يَايْـــــَٔـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ 87
حسس
فحقیقته : أدركته بحاستي، وأحست مثله، لکن حذفت إحدی السینین تخفیفا نحو : ظلت، وقوله تعالی: فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسى مِنْهُمُ الْكُفْرَ [ آل عمران/ 52]
( ح س س )
احسستہ کے اصل معنی بھی کسی چیز کو محسوس کرنے کے ہیں اور احسنت بھی احسست ہی ہے مگر اس میں ایک سین کو تحقیقا حذف کردیا گیا ہے جیسا کہ ظلت ( میں ایک لام مخذوف ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسى مِنْهُمُ الْكُفْرَ [ آل عمران/ 52] جب عیسٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →اس لیے
یٰـبَنِیَّ اذْھَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَاَخِیْہِ وَلاَ تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ ط اِنَّہٗ لاَ یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلاَّ الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 87)
(اے میرے بیٹو ! جاؤ یوسف ( علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی تلاش کرو۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی ہوتے ہیں۔ )
میرے دل میں امید کا چراغ روشن ہے۔ میں محسوس کررہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دکھوں کے دن ختم ہونے والے ہیں۔ اس لیے تم مایوسی کو چھوڑو اور جاکر یوسف ( علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو لگ بھگ 40 سال سے زائد عرصہ گزر چکا تھا۔ ان کی جدائی میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہر وقت خاموش اور غمگین رہتے تھے۔ اس غم نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ان کی عمر سے پہلے ہی بوڑھا کردیا تھا۔ طویل مدت گزرنے کے باوجود ان کا غم پہلے دن کی طرح تازہ تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو صدمے پر صدمہ پہنچتا ہے۔ پہلے یوسف (علیہ السلام) آنکھوں سے اوجھل ہوئے پھر بنیامین اور یہودہ بھی مصر میں رہ گئے۔ اس کے باوجود حضرت یعقوب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوئے۔ جب بیٹوں نے انہیں یہ بات کہی کہ آپ یوسف کو یاد کرتے ہی رہیں گے…
Read the full tafseer →تیسری بار مصر کی روانگی کی ہدایات :
87: یٰبَنِیَّ اذْھَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَاَخِیْہِ (اے میرے بیٹو ! جائو اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو) ان دونوں کے متعلق معلومات حاصل کرو اور ان کی خبر تلاش کرو۔ فتحسسوا یہ الاحساس سے تفعل ہے اور اس کا معنی معرفت و پہچان حاصل کرنا ہے۔ وَلَا تَا یْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ (اور تم ناامید نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے) رحمت الٰہی اور و سعت باری تعالیٰ سے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔ اِنَّہٗ (بیشک شان و معاملہ یہ ہے۔ ) لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ (اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے مگر کافرلوگ)…
Read the full tafseer →تفسیر : 87۔” یا بنی اذھبوا فتحسسوا “ اس کی خبر لائو اور اچھی طرح اس کو ڈھونڈو ” من یوسف واخیہ “۔۔۔۔۔ ” تحسس “ حاء اور جیم کے ساتھ معنی میں ایک دوسرے سے دور نہیں ہیں مگر تحسس حاء کے ساتھ خیر میں اور جیم کے ساتھ شر میں بولا جاتا ہے اور تحسس کا معنی کسی چیز کو اپنے حواس سے تلاش کرنا ۔ ” ولا تیاسوا من روح اللہ “ اللہ کی رحمت سے اور بعض نے کہا ہے کہ اللہ کی کشادگی سے۔” انہ لا یباس من روح اللہ الا القوم الکافرون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
87۔ 88۔ اوپر کے قصہ کے بعد یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ ادھر ادھر چل پھر کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی بنیامین کا پتہ لگاؤ خدا کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ وہ دونوں تمہیں مل جائیں خدا پر بھروسہ کر کے کمر ہمت چست باندھ اور اس کی جستجو میں نکلو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کیوں کہ خداوند عالم کی رحمت سے نا مید ہونا ان لوگوں کا کام ہے جو لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور ہر ایک کام میں اسے قادر مطلق نہیں تصور کرتے اس لئے میں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہی نیک گمان رکھتا ہوں جو میں نے بیان کیا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے باپ کا حکم پاکر گھر سے چل کھڑے ہوئے اور سیدھے پھر…
Read the full tafseer →یعنی یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا : (آیت) ” اے بیٹو ! جاؤ اور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی کو “ یعنی پوری حرص اور کوشش کے ساتھ دونوں کو تلاش کرو۔ (آیت) ” اور اللہ کے فیض سے ناامید نہ ہو “ کیونکہ امید بندے کو اپنے مقصد کے لئے کوشش اور جدو جہد کے لئے آمادہ کرتی ہے اور مایوسی اسے سست اور کاہل بنا دیتی ہے اور سب سے بہترین چیز جس کے بندے کو امید رکھنی چاہیے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت و مہربانی۔ (آیت) ” اور اللہ کے فیض سے کافر ہی ناامیدہوتے ہیں۔ “ کیونکہ کفار اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ان سے دور ہے، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–87
سرقہ کے بارے میں حکم
قول باری ہے (ارجعوا الی ابیکم فقولوا یا ابانا ان ابنک سرق و ما شھدنا الا بما علمنا وما کنا للغیب حافظین۔ تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ ” ابا جان ! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی۔ ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے) برادران یوسف نے صرف ظاہری حالت کی خبر دی۔ اس لئے کہ انہیں باطنی حالت یعنی اصل بات کا کوئی علم نہیں تھا اسی بنا پر انہوں نے کہا (وما کنا للغیب حافظین) ظاہری طور پر یہی کچھ ہوا تھا کہ شاہی پیمانہ ان کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوا تھا اس لئے بھائی ہی اس پیمانے کو چرانے والا قرار…
Read the full tafseer →144۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کی ممانعت :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر حضرت نے ان سے کہا اور پیار کے انداز میں اور نہایت صاف لفظوں میں کہا کہ اے میرے بیٹوتم جاؤ اور جاکر یوسف اور اس کے بھائی کی ٹوہ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہوؤکہ اللہ کی رحمت سے مایوس کافر لوگ ہی ہوا کرتے ہیں " جو اس کی قدرت، حکمت اور رحمت ورافت سے بیخبر ہوتے ہیں۔ اور وہ نہیں جانتے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے پس پردہ اس کی کیا کچھ حکمتیں کارفرما ہیں۔ اسی لئے وہ صبر سے عاری ہوتے ہیں اور اپنے مقصد میں ناکامی کے بعدوہ خود کشی بھی کرلیتے ہیں۔ بخلاف مومن صادق کے کہ وہ خیروشر کی ہر حالت میں اپنے رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیات 80 تا 93
اسرار و معارف
بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ جو اس کی رحمت اور قدرت کا صحیح علم نہیں رکھتے۔ اس کے برعکس مومن کی خواہ کیسے ہی حوصلہ شکن اور مایوس کن حالات پیش آئیں وہ کبھی اپنے مالک کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا۔ اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ ” یاس من رحمتہ اللہ “ کافر کی صفت ہے ورنہ یہ مطلب نہیں ہے کہ مایوس ہونے والا کافر ہوجاتا ہے۔ (روح)
Read the full tafseer →(12: 87 ) فتحسسوا من ۔ امرجمع مذکر۔ تم تلاش کرو۔ تم پتہ لگائو۔
تحس (تفعل) تحسس منہ۔ خبر دریافت کرنا۔ تحسس الخبر۔ خبر معلوم کرنے کی کوشش کرنا۔ الحاسۃ اس قوت کو کہتے ہیں کہ جس سے عوارض حسیّہ کا ادراک ہوتا ہے اس کی جمع حواس ہے جس کا اطلاق مشاعر خمسہ (سمع۔ بصر۔ شم۔ ذوق۔ لمس ) پر ہوتا ہے۔
لا تایئسوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم ناامید نہ ہو۔ یاس سے (باب سمع) یئس ییئس یاسا۔ اسم فاعل یائس ۔ (نیز ملاحظہ ہو 12:80)
روح اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ روح۔ فیض، رحمت۔ راحت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 87
سولت بنا لی ہے، گھڑ لی صبر جمیل ایسا صبر جس میں کوئی شکایت نہ ہو عسی شاید، امید ہے کہ ان یا تینی یہ کہ وہ لائے میرے پاس تولی اس نے منہ پھیرلیا یا سفی ہائے افسوس ابیضت سفید ہوگئی ( ہوگئیں) عینہ اس کی آنکھیں الحزن رنج و غم کظیم گھٹنے والا (غم برداشت کرنے والا) تذکر ذکر۔ یاد کرنا حرض کمزور ، بےجان اشکوا فریاد کرتا ہوں بثی میرا غم تحسوا تلاش کرو۔ کھوج لگاؤ لاتایئسوا تم مایوس نہ ہو روح اللہ اللہ کی رحمت
تشریح : آیت نمبر 83 تا 87
گزشتہ آیات میں حضرت یعقوب کے گیارہ بیٹوں کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جب ایک بہانے سے حضرت یوسف نے اپنے سگے بھائی بن یا مین کو روک لیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
فرزندگان یعقوب (علیہ السلام) کا دوبارہ مصر آنا
اوپر کے قصہ کے بعد یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ ادھر ادھر پھر کر یوسف (علیہ السلام) کو اور اس کے بھائی بنیامین کا پتہ لگاؤ۔ خدا کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ وہ دونوں تمہیں مل جاویں۔ خدا پر بھروسہ کرکے کمر ہمت چست باندھو اور اس کی جستجو میں نکلو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کیونکہ خدا پر جو ایمان رکھتے ہیں وہ ناامید نہیں ہوتے اور جو لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے وہ ناامید ہوتے ہیں۔ پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے باپ کا حکم پاکر گھر سے چلے اور سیدے مص میں داخل ہوئے اور عزیز مصر سے یہ آکر کہا کہ سے عزیز مصر ! ہم پر اور ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
[31] اس طرز خطاب میں ایک حد تک مجرموں کی دلدہی بھی آگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–92
برادران یوسف (علیہ السلام) کی ندامت :
(ف 1) اب وقت آگیا تھا ، کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے چہرہ انور سے نقاب کشائی کریں ، اور بھائیوں کو بتادیں ، کہ جس یوسف کو تم نے کنعان کے تاریک کنوئیں میں پھینکا تھا ، وہ اس وقت عرش حکومت پر جلوہ گر ہے ، چناچہ جب بھائی دو بار مصر میں غلہ لینے کے لئے گئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، کیا تم وہی نہیں ہو جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ یہ یہ فریب کئے ہیں ، انہوں نے جب دیکھا کہ پتے کی باتیں بتائی جاری ہیں ، اور ان باتوں کا بجز یوسف (علیہ السلام) کے اور کسی کو علم نہیں ہو سکتا ، تو پکار اٹھے کہ کہیں تمہیں تو یوسف (علیہ السلام) نہیں…
Read the full tafseer →87 ۔ اے میرے بیٹو ! تم پھر ایک بار واپس جائو اور مصر پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کا پتہ لگائو اور ان کی جستجو کرو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہو کیونکہ خدا کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کر رکھا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل سے ناامید ہوجانا کافروں کا شیوہ ہے اس لئے جائو غلہ بھی لائو اور بھائیوں کو بھی تلاش کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
ف 5۔ یعقوب (علیہ السلام) کا حب مخلوق میں اس قدر رونا موجب وسوسہ نہ ہو کیونکہ محبت امر اضطراری ہے اور گریہ بھی دلیل رقت قلب وترحم ہے اور خاص کر جب کہ محبت کا سبب کوئی امر دینی ہو اور کسی کو شبہ نہ ہو کہ جب یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا تھا فصبر جمیل تو پھر شکایت کیوں زبان پر لائے اس کا جواب خود قرآن میں ہے کہ اشکو ابثی وحزنی الی اللہ۔ یعنی شکایت الی الخلق منافی ہے صبر جمیل کے نہ کہ شکایت الی الخالق کہ عین دعاء والتجائے مطلوب ہے۔
Read the full tafseer →یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے ان یٹوں کو سہ بارہ مصر جانے کی ہدایت
۔ 103 یعقوب (علیہ السلام) نے اتنے عرصہ کے بعد صاحبزادوں کو یہ حکم دیا کہ جائو یوسف اور اس کے بھائی بنیامین کی تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو کیونکہ اس کی رحمت سے سوائے کافروں اور ناشکروں کے کوئی مایوس نہیں ہوتا۔ اس وقت جو حکم یعقوب نے دیا اس سے پہلے کبھی اس طرح کا حکم نہیں دیا تھا۔ یہ سب چیزیں تقدیر الٰہی کے تابع تھیں اور یعقوب (علیہ السلام) کی نبوی فراست بھی یقینا اس بات کو معلوم کرچکی تھی کہ ضرور کوئی حکمت اس میں موجود ہے۔ اب چونکہ ملاقات کا وقت قریب آچکا تھا اس لئے اس کے سامان ہونا بھی شروع ہوگئے۔ اس دفعہ یعقوب…
Read the full tafseer →Verse 87 begins with the order given by Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) : بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ (0 my sons, go and search for Yusuf and his brother ...).
It was after the passage of such a long time that Sayyidna Ya’ qub (علیہ السلام) asked his sons to ` go and search for Yusuf and his brother' - and not to lose hope in finding them. Before this, he had never given an order of this nature. All these things were subservient to the Divine destiny. Meeting them earlier than that was not so destined. Therefore, no such action was taken either. And now, the time to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
That is, it will be charitable of you if you give us that much grain as we require to fulfill our needs, because the goods we have brought for its barter are of less value than of the grain we require.
Read the full tafseer →