Yusuf 12:86

Yusuf · from ayah 86

12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْۤ اِلَی اللّٰهِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۟قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّـىۡ وَحُزۡنِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏

انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "I only complain of my suffering and my grief to Allah, and I know from Allah that which you do not know.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 10 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:86

اُس نے کہا "میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا، اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے کہا کہ میں تو اپنی پریشانیوں اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں، مجھے اللہ کی طرف سے وه باتیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یعقوب نے کہا : میں اپنے رنج و غم کی فریاد (تم سے نہیں) صرف اللہ سے کرتا ہوں، اور اللہ کے بارے میں جتنا میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہوں نے فرمایا: میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد صرف اﷲ کے حضور کرتا ہوں اور میں اﷲ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا میں تو اپنی ظاہر ہوجانے والی بےقراری اور اپنے غم کی شکایت صرف اللہ کی جناب میں کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یعقوب نے جواب دیا : میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد (اللہ کے سوا) کسی سے نہیں کرتا۔ اور اللہ سے میں کچھ ایسی چیزیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ اللہ ہی سے کرتا ہوں اور میں اللہ کی جانب سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعقوب نے فرمایا میں تو بس اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اپنے اللہ کے حضور ہی کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جس کا علم تمہیں نہیں۔

— مولانا اسحاق مدنی

یعقوب ؑ نے) فرمایا میں تو اپنے رنج وغم کی شکایت بس (اپنے) اللہ ہی سے کررہا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یعقوب نے فرمایا : میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم لوگ نہیں جانتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا میں تو اپنے دکھ درد کا اظہار اللہ سے کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: "I will address my sorrow and grief only to Allah, and I know from Allah what you do not know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :I do not complain of my anguish and sorrow to anyone but Allah, and I know from Allah what you do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :I do not complain of my anguish and sorrow to anyone but Allah, and I know from Allah what you do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "I only complain of my grief and sorrow to Allah, and I know from Allah that which you know not."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: I expose my distress and anguish only unto Allah, and I know from Allah that which ye know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "I only complain of my suffering and my grief to Allah, and I know from Allah that which you do not know.

— Saheeh International

He replied, "I only complain of my sorrow and grief to God. I know about God what you do not know.

— Muhammad Sarwar

He said: I only complain of my grief and sorrow to Allah, and I know from Allah what you do not know.

— Muhammad Habib Shakir

He said: I only bewail my cogitation and grief unto Allah, and I know from Allah that which ye know not.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "I only complain of my distraction and anguish to Allah, and I know from Allah that which ye know not...

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:86

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 83–86

بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر حضرت یعقوب ؑ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی حضرت یوسف ؑ کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضامندی کے ساتھ واپس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 84–88

65۔ یعنی ہماری اس گزارش پر جو کچھ آپ دیں گے وہ گویا آپ کا صدقہ ہوگا۔ اس غلے کی قیمت میں جو پونجی ہم پیش کر رہے ہیں وہ تو بیشک اس لائق نہیں ہے کہ ہم کو اس قدر غلہ دیا جائے جو ہماری ضرورت کو کافی ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حضرت یعقوب ؑ نے صاحبزادوں کی بات سن کر فرمایا (آیت) اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللّٰهِ یعنی میں تو اپنی فریاد اور رنج وغم کا اظہار تم سے یا کسی دوسرے سے نہیں کرتا بلکہ اللہ جل شانہ کی ذات سے کرتا ہوں اس لئے مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور ساتھ ہی یہ بھی ظاہر فرمایا کہ میرا یہ یاد کرنا خالی نہ جائے گا میں اپنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ چیز جانتا ہوں جس کی تم کو خبر نہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہوا ہے کہ وہ پھر مجھے ان سب سے ملائیں گے

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللّٰهِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ " بث " کا بالکل ٹھیک ترجمہ پریشانی ہے۔ باپ کا جواب : حضرت یعقوب نے جواب میں فرمایا کہ میرے اس غم و الم پر مجھے ملامت نہ کرو، میں اپنی پریشانی اور غم کا شکوہ اپنے اللہ ہی سے کر رہا ہوں۔ کسی اور سے نہیں کر رہا ہوں۔ رونا دھونا وہ برا ہے جو خدا کے سوا کسی اور کے آگے ہو، اگر بندہ اپنے رب ہی کے آگے روتا ہے تو یہ کوئی برائی نہیں بلکہ یہ بھی عبادت ہے۔ اور یہ نہ سمجھو کہ میں یہ کوئی بےسود کام کر رہا ہوں۔ خدا کے معاملے میں تمہارا تجربہ اور ہے، میرا تجربہ کچھ اور ہے۔ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

86۔ 1 اس سے مراد یا تو خواب ہے جس کی بابت انھیں یقین تھا کہ اس کی تعبیر ضرور سامنے آئے گی اور وہ یوسف ؑ کو سجدہ کریں گے یا ان کا یقین تھا کہ یوسف ؑ زندہ موجود ہیں، اور اس سے زندگی میں ضرور ملاقات ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 84–87

54: چونکہ حضرت یعقوب ؑ کو یقین تھا کہ یوسف ؑ بھی کہیں نہ کہیں زندہ ہیں۔ اور بنیامین گرفتار ہیں اس لیے انہوں نے کچھ عرصے بعد پورے وثوق کے ساتھ حکم دیا کہ جا کر ان دونوں کو تلاش کرو۔ اتنے میں جو غلہ اب تک آیا تھا وہ ختم ہوچکا تھا اور قحط کی حالت جاری تھی۔ اس لیے ان بھائیوں نے یہ سوچا کہ پھر مصر جائیں۔ کیونکہ بنیامین تو وہاں یقینی طور پر موجود ہیں۔ پہلے ان کی واپسی کی کوشش کرنی چاہیے۔ پھر یوسف ؑ کا بھی کچھ سراغ لگانے کی کوشش کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے مصرف جا کر پہلے تو یوسف ؑ سے غلے کی بات کی تاکہ ان کا دل کچھ نرم پڑے تو بنیامین کی واپسی کی بھی درخواست کریں۔ اگلی آیتوں میں حضرت یوسف ؑ سے ان کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 86 ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک پیغمبر کے دل میں اللہ کی حاکمیت اور اختیار مطلق کا کس قدر گہرا شعور ہوتا ہے۔ خدا رسیدہ لوگوں کو اللہ کے انعامات کا بھی احساس ہوتا ہے اور اللہ کی جلالت شان کا گہرا شعور بھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے متعلق جو ظاہری صورت حالات تھی وہ نہایت ہی مایوس کن تھی اور ایک طویل عرصہ بھی گزر چکا تھا۔ ان کی تو زندگی کی امید ہی قطع ہوچکی تھی چہ جائیکہ یہ امید ہو کہ وہ اپنے والد کو اپنے پاس آنے کی دعوت دیں گے اور اس مایوس کن صورت حال ہی کے نتیجے میں ان کے بیٹوں نے ان کے اس تازہ تجسس پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ لیکن یہ تمام حالات اس اللہ کے بندے کی اس پختہ امید کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 85–86

8 موضح القرآن میں ہے۔ یعنی کیا تم مجھ کو صبر سکھاؤ گے ؟ بےصبر وہ ہے جو مخلوق کے آگے خالق کے بھیجے ہوئے درد کی شکایت کرے۔ میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ (یوسف زندہ ہے ضرور ملے گا اور اس کا خواب پورا ہو کر رہے گا) یہ مجھ پر آزمائش ہے دیکھوں کس حد پر پہنچ کر بس ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 86 قَالَ اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللّٰهِ میں نے تم لوگوں سے تو کچھ نہیں کہا میں نے تمہیں تو کوئی لعن طعن نہیں کی تم سے تو میں نے کوئی باز پرس نہیں کی۔ یہی الفاظ تھے جو نبی اکرم نے طائف کے دن اپنی دعا میں استعمال فرمائے تھے : اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضُعْفَ قُوَّتِیْ وَقِلَّۃَ حِیْلَتِیْ وَھَوَانِیْ عَلَی النَّاسِ اِلٰی مَنْ تَکِلُنِیْ ؟ 1 ”اے اللہ ! میں تیری جناب میں فریاد لے کر آیا ہوں اپنی قوت کی کمزوری اور اپنے وسائل کی کمی کی اور لوگوں کے سامنے میری جو توہین ہو رہی ہے اس کی۔ اے اللہ ! تو نے مجھے کس کے حوالے کردیا ہے ؟ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 85–86

83 اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے :۔ باپ کے منہ سے آہ سن کر بھی حاسد بیٹوں کو ان پر رحم نہ آیا بلکہ الٹا باپ کو ملامت کرنے لگے کہ اب اس کے قصہ کو چھوڑتے بھی ہو یا نہیں ؟ یا اسی کے غم میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے ؟ مغموم باپ نے انھیں جواب دیا کہ میں تمہیں تو کچھ نہیں کہتا۔ تم نے جو کچھ چاہا کرلیا۔ میں تو اپنی پریشان حالی کو اللہ کے سامنے پیش کرتا اور اسی سے صبر کی توفیق چاہتا ہوں۔ کیونکہ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یوسف ابھی زندہ ہے جسے اللہ نے مجھ سے دور کردیا ہے۔ کیونکہ سیدنا یوسف کو جو خواب آیا تھا اس وجہ سے آپ کو یقین تھا کہ یقیناً یوسف زندہ ہے اور کسی نہ کسی دن ضرور اس سے ملاقات ہوگی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

158۔ نہ تمہیں اس کے الطاف بیکراں کا وہ علم ہے جو مجھے ہے اور نہ تمہیں وہ اسرار وعلوم مرحمت ہوئے ہیں جو مجھے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ “۔ یعنی میں جو کچھ بھی عرض ومعروض شکوہ وشکایت کررہا ہوں اپنے اللہ سے کررہا ہوں، تمہیں اس سے کیا سروکار اور تم اس میں خواہ مخواہ ہی دخل دے رہے ہو، مفسرتھانوی (رح) نے لکھا ہے صبر جمیل کے منافی اگر ہے توشکایت الی الخلق نہ کہ شکایت الی الخالق جو عین دعاء والتجائے مطلوب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–93

آیت نمبر 80 تا 93 ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ یعقوب نے کہا : میں تو بس اللہ ہی سے اپنے رنج و غم کا شکوہ کرتا ہوں۔ بَثَّسخت ترین غم جس کو ضبط کرنے کی تاب نہ رہے اور آدمی اس کو ظاہر کرنے اور پھیلانے پر مجبور ہوجائے (لغت میں بَثَّ کا معنی ہے : پھیلانا) حسن بصری نے بَثَّ کا ترجمہ کیا ہے : حال۔ مقصد یہ ہے کہ میں تم سے ‘ کسی سے شکایت نہیں کرتا ‘ اللہ ہی سے شکوہ کرتا ہوں۔ تم مجھے چھوڑ دو ‘ مجھے شکایت سے نہ روکو۔ بغوی کا بیان ہے کہ حضرت یعقوب کے پاس ان کا ایک ہمسایہ آیا اور اس نے کہا : یعقوب ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کی صحت بدن تباہ ہوگئی اور آپ فنا ہوچکے حالانکہ اپنے باپ کی عمر کو نہیں پہنچے ہیں۔ فرمایا : یوسف…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(86) حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا میں تو اپنے رنج وغم کی صرف اللہ سے شکایت کرتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ حضرت یوسف ؑ نے جو بچپن میں خواب دیکھا تھا وہ سچا ہے اور ہم ان کو سجدہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم اور اس کے لطف کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے اور میں خوب جانتا ہوں کہ یوسف ؑ زندہ ہیں کیوں کہ عزرائیل ؑ حضرت یعقوب ؑ کے پاس آئے، حضرت یعقوب ؑ نے ان سے دریافت کیا کہ جن لوگوں کی تم نے روحیں قبض کی ہیں کہ ان میں یوسف ؑ کی بھی روح قبض کی ہے عزرائیل ؑ نے فرمایا نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ۔۔ :”بَثَّ یَبُثُّ“ کا لفظی معنی پھیلانا ہے، فرمایا : (وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً) [ النساء : 1 ] ”اور ان دونوں میں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔“ ”بَثَّ الرِّیْحُ التُّرَابَ“ ”ہوا نے مٹی اڑائی۔“ آدمی پر جب مصائب آئیں تو ان سے پیدا ہونے والے جس غم کو وہ چھپا سکے وہ حزن کہلاتا ہے اور جو چھپا نہ سکے ”بَثٌّ“ کہلاتا ہے۔ اس آیت پر شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی تم کیا مجھے صبر سکھاؤ گے، بےصبر وہ ہے جو خلق کے آگے شکایت کرے خالق کی، میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھ پر آزمائش ہے، دیکھوں کس حد کو پہنچ کر بس ہو۔“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 85–86

آیت نمبر 85 تا 86 قولہ تعالیٰ : قالوا تاللہ تفتؤتذکریوسف یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو آپ کے بیٹے نے کہا تاللہ تفتؤاتذکر یوسف کسائی نے کہا : فتأت وفتئت افعل ذالک یعنی مازلت۔ فراء کا خیال ہے کہ لامضمرہ ہے یعنی لاتفتا اس نے شعر بطور استشہاد بیان کیا ہے : فقلت یمین اللہ أبرح قاعدًا ولو قطعوا راسی لدیک وأوصالی یہاں ابرح اصل میں لا ابرح ہے۔ نحاس نے کہا : جو حسن نے کہا ہے وہ صحیح ہے۔ خلیل اور سیبویہ کا خیال ہے کہ ” لا “ قسم میں مضمر ہوتا ہے کیونکہ اس میں کوئی اشکال نہیں اور اگر واجب ہوتا تو لام اور نون کے ساتھ ہوتا۔ اور آپ کے بیٹوں نے آپ کو یہ بات اس لیے کہی کیونکہ وہ یقین سے جانتے تھے کہ آپ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 85–86

1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” تاللہ تفتوا تذکر یوسف “ کے بارے میں فرمایا کہ تو برابر یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ کرتا رہے گا۔ (آیت ) ” حتی تکون حرضا “ یہاں تک تو اس مرض میں دفن ہوجائے گا۔ (آیت ) ” او تکون من الھلکین “ یعنی تو ہوجائے گا مردوں میں سے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” قالو تاللہ تفتوا تذکر یوسف “ کے بارے میں فرمایا کہ تو برابر یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ کرتا رہے گا اور تو اس کی محبت سے سستی نہیں کرے گا۔ (آیت) ” حتی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا ] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [اَشْكُوْا : میں ظاہر کرتا ہوں ] [ بَثِّيْ : اپنی پراگندی کو [وَحُزْنِيْٓ : اور اپنے غم کو ] [اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف ] [وَاَعْلَمُ : اور میں جانتا ہوں ] [مِنَ اللّٰهِ : اللہ (کی طرف) سے ] [مَا : اس کو جو ] [لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے ] ش ک و [شَکْوًا : (ن) کسی چیز کو ظاہر کرنا۔ بیان کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 86] [مِشْکٰوۃٌ: ظاہر کرنے کا آلہ۔ چراغ رکھنے کا طاق۔ مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْھَا مِصْبَاحٌ (اس کے نور کی مثال ایک طاق جیسی ہے جس میں ایک چراغ ہے) 24:35] [اِشْتِکَائً : (افتعال) اہتمام سے بیان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–88

برادران یوسف کا تیسری بار مصر پہنچنا اور غلہ طلب کرنا اور ان کا سوال فرمانا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ‘ پھر بھائیوں کا قصور معاف فرمانا اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرنا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے فرمانے پر ان کے بیٹے پھر مصر کی طرف روانہ ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تو اندازہ نہ تھا کہ کہاں ہوں گے البتہ بنیامین اور بڑے بھائی کو مصر ہی میں چھوڑ آئے تھے اس لئے اپنے والد کے فرمان کے مطابق کہ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو انہوں نے مصر ہی کی راہ لی نیز اس میں غلہ لانے کا فائدہ بھی پیش نظر تھا ‘ جب مصر پہنچے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) تک رسائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–87

بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون (ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

73:۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا میں اپنا غم واندوہ اللہ سے بیان کرتا ہوں کیونکہ وہی غمزدہ اور اندوہ گیں لوگوں کا غمگسار اور یار و مددگار ہے اور اللہ کی طرف سے مجھے وہ علم حاصل ہے جو تمہیں حاصل نہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ میرا بیٹا یوسف زندہ ہے کیونکہ بچپن میں اس نے جو خواب دیکھا تھا وہ برحق ہے اس لیے وہ یقیناً ہم سے ملے گا اور میں اور تم سب اس کے سامنے سجدہ بجا لائیں گے۔ معناہ واللہ اعلم ان رؤیا یوسف حق وصدق وانی اوانتم سنسجد لہ (خازن ج 3 ص 310) یا مطلب یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ انبیاء (علیہم السلام) پر امتحانات آتے رہتے ہیں لیکن آخر میں آرام و راحت کا وقت بھی آتا ہے۔ یوسف کی جدائی ایک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 84–87

ربط آیات برادران یوسف کا مصر سے واپسی کا ذکر ہو رہا تھا۔ انہوں نے کنعان واپس پہنچ کر باپ کو چھوٹے بھائی کے چوری میں ملوث ہوجانے کا واقعہ سنایا اور اس ضمن میں اپنی صداقت کے لئے بعض شہادتوں کی طرف بھی اشارہ کیا ، مگر یعقوب (علیہ السلام) نے ان پر اعتماد نہ کیا اور فرمایا کہ یہ ساری کہانی تمہارے اپنے نفسوں کی وضع کردہ ہے مگر اب میں صبر جمیل کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ شاید وہ ان سب بچھڑے ہوئے افراد کو میرے پاس لے آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔ ہر بات اس کے علم میں ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) کی حالت زار بیٹوں سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللّٰهِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 86؀ شكا الشَّكْوُ والشِّكَايَةُ والشَّكَاةُ والشَّكْوَى: إظهار البثّ ، يقال : شَكَوْتُ واشْتَكَيْتُ «3» ، قال تعالی:َّما أَشْكُوا بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّه[يوسف/ 86] ( ش ک و ) الشکو واشکایتہ والشاۃ والشکولی کے معنی اظہار غم کے ہیں اور شکوت فاشکیت دونوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ ما أَشْكُوا بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ [يوسف/ 86] کہ میں تو اپنے غم اور انددہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں ۔ بث أصل البَثِّ : التفریق وإثارة الشیء کبث الریح التراب، وبثّ النفس ما انطوت عليه…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْ ٓ اِلَی اللّٰہِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَالاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 86) (حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا، میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ اللہ تعالیٰ ہی سے کرتا ہوں اور میں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے۔ ) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا پر از حکمت جواب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کی نصیحت کے جواب میں فرمایا کہ تم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ، تمہیں میرے رونے دھونے پر اعتراض ہے حالانکہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے سامنے آہ وزاری نہیں کرتا کیونکہ میں خوب جانتا ہوں کہ میری پریشانی اور میرا غم اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 84–86

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں سے یہ کہتے ہوئے رخ پھیر لیتے ہیں کہ میں تو صبر ہی کروں گا اور مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے یوسف، بنیامین اور یہودہ سے جلدہی ملائے گا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ٹھنڈی سانس بھری اور اپنا چہرہ بیٹوں سے پھیرتے ہوئے کہا کہ ہائے یوسف میں اس غم کی شکایت اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کرتا ہوں یہی انبیاء (علیہ السلام) اور صابر لوگوں کا طریقہ ہے۔ اس غم میں ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے جسم کا ایک ایک عضو یوسف کی یاد میں غم سے چور چور ہوچکا تھا۔ بیٹے باپ کو تسلی دینے کی بجائے قسم اٹھاتے ہوئے کہتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

86: قَالَ اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْ اِلَی اللّٰہِ (کہا بیشک میں شکوہ کرتا ہوں اپنے رنج اور غم کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) البث وہ شدید غم جس پر صبر نہ ہوسکے پھر وہ اس کا اظہار دوسرے کے پاس کرے۔ مطلب یہ ہوا میں کسی کے ہاں شکوہ نہیں کرتا نہ تمہارے ہاں اور نہ غیر کے ہاں میں تو بارگاہ الٰہی میں شکوہ کرتا ہوں۔ اور اس سے دعا والتجاء کرنے والا ہوں۔ تم میری شکایت کے درمیان حائل نہ ہو۔ تفسیری روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ میں تم پر اس لئے ناراض ہوا۔ کیونکہ تم نے ایک بکری ذبح کی۔ تمہارے دروازہ پر ایک مسکین آیا تم نے اس کو کھانا نہ دیا۔ مجھے اپنی مخلوق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

86۔” قال “ یعقوب (علیہ السلام) نے اس وقت جب ان کی سختی دیکھی ۔ ” انما اشکوا بشی و حزنی الی اللہ “ بت شدید غم۔ انما اشکوا بثی و حزنی الی اللہ کا شان نزول روایت کیا گیا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کا ایک پڑوسی آپ (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہنے لگا اے یعقوب (علیہ السلام) آپ کی حالت کس چیز نے تبدیل کردی ہے آپ تو بالکل کمزور اور فنا ہوچکے ہیں حالانکہ اس عمر کو نہیں پہنچے جس کو آپ (علیہ السلام) کے والد پہنچے تھے تو یعقوب (علیہ السلام) نے کہا مجھے اس آزمائش نے کمزور اور فناء کردیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کا غم دے کر مجھ سے لی ہے تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ اے یعقوب کیا آپ میری مخلوق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

86۔ صحیحین میں حضرت انس ؓ کی روایت سے جو حدیث ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک قبر کے پاس ایک عورت کو روتے ہوئے دیکھ کر منع کیا اس عورت نے آنحضرت ﷺ کو نہیں پہچانا اور یہ کہنے لگی کہ میری جیسی مصیبت تم پر پڑے تو تم کو میرے دل کا حال معلوم ہو جب لوگوں نے اس عورت کو جتلایا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں تو اس عورت نے اپنی بیقراری کی عذر خواہی آنحضرت ﷺ سے کی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بیقراری کے روکنے میں اور صبر کرنے میں اسی وقت بڑا اجر ہے جب کہ آدمی ابتداء مصیبت کے وقت صبر کر 1 ؎ ورنہ رفتہ رفتہ تو مصیبت کے بعد خود ہی آدمی کو ایک طرح کا قرار حاصل ہوجاتا ہے اس صحیح حدیث کے مضمون اور حضرت یعقوب (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) یعقوب (علیہ السلام) نے کہا : (آیت) ” میں تو کھولتا ہوں اپنا اضطراب “ یعنی میں جو بات کرتا ہوں (آیت) ” اور اپنا غم “ وہ جو میرے دل میں پوشیدہ ہے (آیت) ” اللہ کے سامنے “ یعنی میں اپنے حزن و غم کا شکوہ تمہارے پاس یا کسی اور کے پاس نہیں کرتا، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس کرتا ہوں۔ اس لئے تم جو چاہو کہتے رہو۔ (آیت) ” اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے “ یعنی میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ضرور انہیں میرے پاس لوٹائے گا اور ان سب کو میرے پاس اکٹھا کرکے میری آنکھیں ٹھنڈی کرے گا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 81–87

سرقہ کے بارے میں حکم قول باری ہے (ارجعوا الی ابیکم فقولوا یا ابانا ان ابنک سرق و ما شھدنا الا بما علمنا وما کنا للغیب حافظین۔ تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ ” ابا جان ! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی۔ ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے) برادران یوسف نے صرف ظاہری حالت کی خبر دی۔ اس لئے کہ انہیں باطنی حالت یعنی اصل بات کا کوئی علم نہیں تھا اسی بنا پر انہوں نے کہا (وما کنا للغیب حافظین) ظاہری طور پر یہی کچھ ہوا تھا کہ شاہی پیمانہ ان کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوا تھا اس لئے بھائی ہی اس پیمانے کو چرانے والا قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

142۔ اللہ پاک کے حضور اپنی شکایت پیش کرنا ممنوع نہیں، محمود و مطلوب ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیٹوں کی اس بات کے جواب میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ میں تو اپنے غم کی شکایت صرف اللہ سے کرتا ہوں جو کہ ممنوع و محذور نہیں بلکہ مطلوب و محمود ہے۔ بہرکیف حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کی اس حاسدانہ بات کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ میں تو اپنے غم اور پریشانی کی شکایت اللہ کے حضور ہی کرتا ہوں۔ نہ کہ کسی اور کے آگے۔ پھر تم کو اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے ؟ براتو وہ ہے کہ انسان رب کی طرف سے آئی ہوئی مصیبت کی شکایت اس کی مخلوق کے سامنا کرے۔ میں تو اپنی شکایت اسی قادر مطلق کے حضور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–93

آیات 80 تا 93 اسرار و معارف بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 85–86

ف 7 ۔ یعنی یہ کہ یوسف زندہ ہیں اور ایک دن ایسا آئے گا کہ میرے اور تمہارے سجدہ کرنے کا خواب جو انہوں نے دیکھا تھا سچا ہوگا۔ مجھے اس کا پورا یقین ہے اور اللہ تعالیٰ میری یہ امید برلائے گا۔ (ازروح) اس آیت پر شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی تم کیا مجھے صبر سکھائو گے۔ بےصبر وہ ہے جو خلق کے آگے شکایت کرے خالق کی میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھ پر آزمائش ہے دیکھوں کس حد کو پہنچ کر بس ہو۔ (از موضح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12: 86 ) اشکوا۔ شکو سے مضارع واحد متکلم ۔ میں کھولتا ہوں۔ میں شکوہ کرتا ہوں ۔ میں اظہار غم کرتا ہوں۔ شکا۔ یشکو شکوی وشکوا و شکاوۃ وشکایۃ شکایت کرنا۔ وتشتکی الی اللہ۔ (58:1) اور خدا سے شکایت ِ (رنج وملال) کرتی ہے۔ بثی۔ مضاف مضاف الیہ بث اس انتہائی حزن وملال اور غم کو کہتے ہیں جس کو انسان ہزارکوشش کے باوجود چھپا نہ سکے۔ بثی میری زبوں حالی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–87

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 87 سولت بنا لی ہے، گھڑ لی صبر جمیل ایسا صبر جس میں کوئی شکایت نہ ہو عسی شاید، امید ہے کہ ان یا تینی یہ کہ وہ لائے میرے پاس تولی اس نے منہ پھیرلیا یا سفی ہائے افسوس ابیضت سفید ہوگئی ( ہوگئیں) عینہ اس کی آنکھیں الحزن رنج و غم کظیم گھٹنے والا (غم برداشت کرنے والا) تذکر ذکر۔ یاد کرنا حرض کمزور ، بےجان اشکوا فریاد کرتا ہوں بثی میرا غم تحسوا تلاش کرو۔ کھوج لگاؤ لاتایئسوا تم مایوس نہ ہو روح اللہ اللہ کی رحمت تشریح : آیت نمبر 83 تا 87 گزشتہ آیات میں حضرت یعقوب کے گیارہ بیٹوں کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جب ایک بہانے سے حضرت یوسف نے اپنے سگے بھائی بن یا مین کو روک لیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائیوں نے یعقوب (علیہ السلام) کو ان سخت لفظوں میں فہمائش کی جس کا ذکر اوپر گزرا تو یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو یہ جواب دیا کہ '' میں بےصبری کرکے اللہ تعالیٰ کی آزمائش کی شکایت کسی دوسرے سے کروں تو تم مجھ کو صبر کی فہمائش کرو۔ میں تو اپنے غم کا حال اسی پاک پروردگار سے عرض کرتا ہوں جس آزمائش کے طور پر یہ مصیبت ڈالی ہے۔ اے بیٹو ! تم کو معلوم نہ ہو تو نہ ہو مگر مجھ کو اللہ کی کریمی صفت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو خواب یوسف (علیہ السلام) کو دکھایا ہے اس کا ظہور میری آنکھوں کے سامنے ہوگا اور میری زندگی میں یوسف (علیہ السلام) ایک دفعہ مجھ سے ضرور ملے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–86

[30] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) جانتے تھے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع رکھتے تھے کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کے خواب میں وہ ان کا مستقبل دیکھ چکے تھے اور جانتے تھے کہ کسی نہ کسی دن یہ جدائی ختم ہونے والی ہے تاہم دل کے ہاتھوں مجبور تھے۔ جس کی جدائی ایک گھڑی کے لیے شاق تھی وہ برسوں کے لیے ان سے جدا ہوگیا تھا اس کے فراق کا زخم بھر نہیں سکتا تھا بلکہ اس بات کے تصور نے کہ وہ زندہ موجود ہے مگر مجھ سے دور ہے درد فراق کی چبھن اور زیادہ کردی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 85–92

برادران یوسف (علیہ السلام) کی ندامت : (ف 1) اب وقت آگیا تھا ، کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے چہرہ انور سے نقاب کشائی کریں ، اور بھائیوں کو بتادیں ، کہ جس یوسف کو تم نے کنعان کے تاریک کنوئیں میں پھینکا تھا ، وہ اس وقت عرش حکومت پر جلوہ گر ہے ، چناچہ جب بھائی دو بار مصر میں غلہ لینے کے لئے گئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، کیا تم وہی نہیں ہو جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ یہ یہ فریب کئے ہیں ، انہوں نے جب دیکھا کہ پتے کی باتیں بتائی جاری ہیں ، اور ان باتوں کا بجز یوسف (علیہ السلام) کے اور کسی کو علم نہیں ہو سکتا ، تو پکار اٹھے کہ کہیں تمہیں تو یوسف (علیہ السلام) نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

86 ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جواب دیا میں تو اپنے اضطراب اور اپنے رنج و غم کی صرف اللہ سے شکایت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم کیا مجھ کو صبر سکھائو گے لیکن بےصبر وہ ہے جو خلق کے آگے شکایت کرے خالق کی میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درددیا ہے اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھ پر آزمائش ہے دیکھوں کس حدپر پہنچ کر بس ہو۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 85–89

ف 5۔ یعقوب (علیہ السلام) کا حب مخلوق میں اس قدر رونا موجب وسوسہ نہ ہو کیونکہ محبت امر اضطراری ہے اور گریہ بھی دلیل رقت قلب وترحم ہے اور خاص کر جب کہ محبت کا سبب کوئی امر دینی ہو اور کسی کو شبہ نہ ہو کہ جب یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا تھا فصبر جمیل تو پھر شکایت کیوں زبان پر لائے اس کا جواب خود قرآن میں ہے کہ اشکو ابثی وحزنی الی اللہ۔ یعنی شکایت الی الخلق منافی ہے صبر جمیل کے نہ کہ شکایت الی الخالق کہ عین دعاء والتجائے مطلوب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یعقوب نے فرمایا بیٹو ! میں نے تم کو تو کچھ نہیں کہا اپنا غم اللہ کے سامنے پیش کیا ہے ؟ ۔ 102 یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا بیٹو ! مجھے تم کچھ نہ کہو میں تو اپنی حکایت درد و غم صرف اپنے خداوند ذو الجلال والا کرام کی بارگاہ بےکس پناہ میں بیان کر رہا ہوں۔ مجھے اس سے مت دروکو۔ اس واقعہ میں اور ان حالات میں جو حکمتیں مستور ہیں اور جو راز پوشیدہ ہیں انہیں میں ہی جانتا ہوں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں تم ایک خاموش تماشائی کی طرح دیکھتے رہو کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ ہاں ! مجھے یہ معلوم نہیں کہ ان سارے واقعات سے پردہ جب اٹھے گا تو وہ وقت میں دیکھوں گا یا نہیں ؟ اور یہی بات سب سے زیادہ میرے لئے باعث…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After hearing the concern of his sons, Sayyidna Ya'qub (علیہ السلام) said: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّـهِ that is, ` I complain of my anguish and sorrow, not to you, or to anyone else, but to Allah jalla thana'uh Himself. Therefore, leave me alone as I am.' And, along with what he said, he also indicated that ` this remembrance of his will not go to waste for he knew from Allah Ta` ala what they did not know - that he has been promised by Him that He would bring them all together with him.'

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 84–88

That is, it will be charitable of you if you give us that much grain as we require to fulfill our needs, because the goods we have brought for its barter are of less value than of the grain we require.

Read the full tafseer →