Yusuf 12:85

Yusuf · from ayah 85

12:85

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰی تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ ۟قَالُوۡا تَاللّٰهِ تَفۡتَؤُا تَذۡكُرُ يُوۡسُفَ حَتّٰى تَكُوۡنَ حَرَضًا اَوۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡهَالِكِيۡنَ

بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "By Allah, you will not cease remembering Joseph until you become fatally ill or become of those who perish."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 10 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:85

بیٹوں نے کہا "خدارا! آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کیے جاتے ہیں نوبت یہ آ گئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے یا اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیٹوں نے کہا واللہ! آپ ہمیشہ یوسف کی یاد ہی میں لگے رہیں گے یہاں تک کہ گھل جائیں یا ختم ہی ہو جائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کے بیٹے کہنے لگے : اللہ کی قسم ! آپ یوسف کو یاد کرنا نہیں چھوڑیں گے، یہاں تک کہ بالکل گھل کر رہ جائیں گے، یا ہلاک ہو بیٹھیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے خدا کی قسم! آپ ہمیشہ یوسف کی یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ گور کنارے جا لگیں یا جان سے گزر جائیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بولے: اﷲ کی قسم! آپ ہمیشہ یوسف (ہی) کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ قریب مرگ ہو جائیں گے یا آپ وفات پا جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا اللہ کی قسم ! تو ہمیشہ یوسف کو یاد کرتا رہے گا، یہاں تک کہ گھل کر مرنے کے قریب ہوجائے، یا ہلاک ہونے والوں سے ہوجائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ حالت دیکھ کر وہ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! آپ تو یوسف کو یاد کرتے ہی رہیں گے تاآنکہ اپنے آپ کو غم میں گھلا دیں یا ہلاک ہوجائیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ بولے کہ بخدا آپ یوسف ہی کی یاد میں رہیں گے یہاں تک کہ ازکار رفتہ ہو کے رہ جائیں گے یا ہلاک ہی ہوجائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(یہ دیکھ کر) بیٹوں نے کہا اللہ کی قسم، آپ تو یوسف کو یونہی یاد کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ آپ جاں بلب ہوجائیں گے، یا بالکل ہلاک ہی ہوجائیں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

(بیٹے) بولے تم تو واللہ یوسف ہی کی یاد میں سدا لگے رہو گے یہاں تک کہ جاں بلب ہوجاؤ گے یا دم ہی نکل جائے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا : (ابا جان !) اللہ کی قسم آپ تو یوسف ہی کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ یا تو (اسی صدمے میں) گھل جائیں گے یا فوت ہوجائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیٹے کہنے لگے کہ واللہ ! اگر آپ اسی طرح یوسف کو یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا بیمار ہوجائیں گے یا جان سے ہی چلے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The sons said: "By Allah! You will continue to remember Joseph until you will either consume yourself with grief, or will die."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :By God, you will not stop remembering Yusuf until you collapse or perish.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :By God, you will not stop remembering Yusuf until you collapse or perish.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "By Allah! You will never cease remembering Yusuf until you become weak with old age, or until you be of the dead."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: By Allah, thou wilt never cease remembering Joseph till thy health is ruined or thou art of those who perish!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "By Allah, you will not cease remembering Joseph until you become fatally ill or become of those who perish."

— Saheeh International

They said, "You are always remembering Joseph. By God, it will either make you sick or you will die".

— Muhammad Sarwar

They said: By Allah! you will not cease to remember Yusuf until you are a prey to constant disease or (until) you are of those who perish.

— Muhammad Habib Shakir

They said: by Allah! thou wilt not cease remembering Yusuf until thou art wizened or thou be of the dead.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "By Allah! (never) wilt thou cease to remember Joseph until thou reach the last extremity of illness, or until thou die!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:85

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 83–86

بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر حضرت یعقوب ؑ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی حضرت یوسف ؑ کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضامندی کے ساتھ واپس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 84–88

65۔ یعنی ہماری اس گزارش پر جو کچھ آپ دیں گے وہ گویا آپ کا صدقہ ہوگا۔ اس غلے کی قیمت میں جو پونجی ہم پیش کر رہے ہیں وہ تو بیشک اس لائق نہیں ہے کہ ہم کو اس قدر غلہ دیا جائے جو ہماری ضرورت کو کافی ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤ ُ ا تَذْكُرُ يُوْسُفَ یعنی صاحبزادے والد کے اس شدید غم واندوہ اور اس پر صبر جمیل کو دیکھ کر کہنے لگے کہ بخدا آپ تو یوسف ؑ کو ہمیشہ یاد ہی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ بیمار پڑجائیں اور ہلاک ہونے والوں میں داخل ہوجائیں (آخر ہر صدمہ اور غم کی کوئی انتہا ہوتی ہے مرور ایام سے انسان اس کو بھول جاتا ہے مگر آپ اتنا طویل عرصہ گذرنے کے بعد بھی اسی روز اول میں ہیں اور آپ کا غم اسی طرح تازہ ہے)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ يُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِيْنَ۔ " تاللہ " عربی میں " و " کی طرح " ت " بھی قسم کے لیے آتی ہے۔ تفتؤا، لاتزال کے معنی میں ہے۔ حرض اس شخص کو کہتے ہیں جو ہلاکت کے قریب پہنچ جائے اور ازکار رفتہ ہو کے رہ جائے۔ باپ کو بیٹوں کی ملامت : سعادت مند بیٹوں نے یہ سب کچھ کر گزرنے کے بعد باپ کو نصیحت کرنی شروع کی کہ خدا کی قسم ! آپ اسی طرح یوسف کی یاد میں لگے رہیں گے یہاں تک کہ ازکار رفتہ ہو کر رہ جائیں گے یا ہلاک ہی ہوجائیں گے۔ یہ ملحوظ رہے کہ اس نصیحت کا انداز اگرچہ بظاہر ہمدردانہ ہے لیکن درپردہ اس کے اندر بھی ان کا وہی جذبہ حسد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

85۔ 1 حَرَض اس جسمانی عارضے یا ضعف عقل کو کہتے ہیں جو بڑھاپے، عشق یا پے درپے صدمات کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوتا ہے، یوسف ؑ کے ذکر سے بھائیوں کی آتش حسد پھر بھڑک اٹھی اور اپنے باپ کو یہ کہا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 84–87

54: چونکہ حضرت یعقوب ؑ کو یقین تھا کہ یوسف ؑ بھی کہیں نہ کہیں زندہ ہیں۔ اور بنیامین گرفتار ہیں اس لیے انہوں نے کچھ عرصے بعد پورے وثوق کے ساتھ حکم دیا کہ جا کر ان دونوں کو تلاش کرو۔ اتنے میں جو غلہ اب تک آیا تھا وہ ختم ہوچکا تھا اور قحط کی حالت جاری تھی۔ اس لیے ان بھائیوں نے یہ سوچا کہ پھر مصر جائیں۔ کیونکہ بنیامین تو وہاں یقینی طور پر موجود ہیں۔ پہلے ان کی واپسی کی کوشش کرنی چاہیے۔ پھر یوسف ؑ کا بھی کچھ سراغ لگانے کی کوشش کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے مصرف جا کر پہلے تو یوسف ؑ سے غلے کی بات کی تاکہ ان کا دل کچھ نرم پڑے تو بنیامین کی واپسی کی بھی درخواست کریں۔ اگلی آیتوں میں حضرت یوسف ؑ سے ان کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 85 یہ نہایت ہی مکروہ اور بغض و حسد سے زہر آلود بات ہے ، خدا کی قسم آپ اپنے آپ کو یوسف (علیہ السلام) کی یاد میں ہلاک کر رہے ہیں۔ آپ دیکھتے نہیں کہ آپ پگھل کر رہ گئے ہیں۔ آخر اس غم واندوہ اور ماتم کا اب کیا فائدہ ؟ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ۔ یوسف (علیہ السلام) تو اب گیا وہ لوٹ کر آنے والا نہیں ہے۔ لیکن والدان کی اس بات رد فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بس چھوڑ دو مجھے۔ میرا غم اور میرا شکوہ اللہ ہی سے ہے۔ میرا میرے رب کے ساتھ تعلق ہے اور میں اللہ کی جانب سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 85–86

8 موضح القرآن میں ہے۔ یعنی کیا تم مجھ کو صبر سکھاؤ گے ؟ بےصبر وہ ہے جو مخلوق کے آگے خالق کے بھیجے ہوئے درد کی شکایت کرے۔ میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ (یوسف زندہ ہے ضرور ملے گا اور اس کا خواب پورا ہو کر رہے گا) یہ مجھ پر آزمائش ہے دیکھوں کس حد پر پہنچ کر بس ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 84–85

وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ حضرت یعقوب کو حضرت یوسف سے بہت محبت تھی۔ بیٹے کے ہجر اور فراق میں آپ کے دل پر جو گزری تھی خود قرآن کے یہ الفاظ اس پر گواہ ہیں۔ یہ انسانی فطرت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے جسے یہاں اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی کے بچے کا فوت ہوجانا یقیناً بہت بڑا صدمہ ہے لیکن بچے کا گم ہوجانا اس سے کئی گنا بڑا صدمہ ہے۔ فوت ہونے کی صورت میں اپنے سامنے تجہیز و تکفین ہونے سے اپنے ہاتھوں دفن کرنے اور قبر بنا لینے سے کسی قدر صبر کا دامن ہاتھ میں رہتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس صبر میں ثبات پیدا ہوتا جاتا ہے۔ مگر بچے کے گم ہونے کی صورت میں اس کی یاد مستقل طور پر انسان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 85–86

83 اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے :۔ باپ کے منہ سے آہ سن کر بھی حاسد بیٹوں کو ان پر رحم نہ آیا بلکہ الٹا باپ کو ملامت کرنے لگے کہ اب اس کے قصہ کو چھوڑتے بھی ہو یا نہیں ؟ یا اسی کے غم میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے ؟ مغموم باپ نے انھیں جواب دیا کہ میں تمہیں تو کچھ نہیں کہتا۔ تم نے جو کچھ چاہا کرلیا۔ میں تو اپنی پریشان حالی کو اللہ کے سامنے پیش کرتا اور اسی سے صبر کی توفیق چاہتا ہوں۔ کیونکہ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یوسف ابھی زندہ ہے جسے اللہ نے مجھ سے دور کردیا ہے۔ کیونکہ سیدنا یوسف کو جو خواب آیا تھا اس وجہ سے آپ کو یقین تھا کہ یقیناً یوسف زندہ ہے اور کسی نہ کسی دن ضرور اس سے ملاقات ہوگی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

157۔ لڑکوں نے یہ جھنجھلا کر اور جزبز ہو کر کہا ہے۔۔۔ بوڑھوں کی ضد پر یہ جوانوں کا جھنجھلاہٹ بشری کی کتنی صحیح تصویر ہے۔ (آیت) ” تاللہ “۔ خدا کی قسم جس میں ناگواری اور حیرت کے جذبات بھی شامل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–93

آیت نمبر 80 تا 93 ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا تا اللہ تفتؤ تذکر یوسف حتی تکون حرضا او تکون من الھالکین بیٹے کہنے لگے : آپ تو ہمیشہ یوسف ہی کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ گھل گھل کر جاں بلب ہوجائیں یا مر ہی جائیں۔ حَرَضًا بیماری یا پیرانہ سالی کی وجہ سے ہلاکت کے قریب پہنچا ہوا شخص۔ حرض اصل میں مصدر ہے ‘ اسلئے نہ اس کی جمع آتی ہے نہ مؤنث کا صیغہ ‘ اس جگہ مصدر بمعنی صفت ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : حرض کا معنی ہے : غم یا عشق پیرانہ سالی کی وجہ سے بدن کا ‘ یا مذہب کا ‘ یا عقل کا بگاڑ اور خرابی اور جس کے بدن ‘ یا مذہب ‘ یا عقل میں خرابی پیدا ہوگئی ہو ‘ یا بیمارہو ‘ یا جان بلب ہو ‘ اس کو بھی حرض کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(85) اور ان کی اولاد کہنے لگی خدا کے لئے آپ ہمیشہ حضرت یوسف ؑ ہی کی یاد میں لگے رہو گے یہاں تک کہ گھل گھل کر ہلاک ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا۔۔ : تاء قسم کے لیے ہوتی ہے، لفظ ”اللہ“ پر آتی ہے اور عموماً ایسے موقع پر قسم کے لیے آتی ہے جس میں کوئی تعجب ہو۔ ”فَتِئَ یَفْتَؤُ“ ہٹ جانا، بھول جانا۔ اس سے پہلے عموماً ”مَا“ آتا ہے اور معنی ہمیشہ رہنا، نہ بھولنا ہوتا ہے، یہاں بھی اصل ”مَا تَفْتَؤُ“ تھا ”مَا“ کو معلوم ہونے کی وجہ سے حذف کردیا ہے، یعنی تو ہمیشہ یوسف کو یاد کرتا رہے گا، اسے نہیں بھولے گا، اسے یاد کرنے سے باز نہیں آئے گا۔ بیٹوں اور پوتوں کو، باپ کی حالت زار دیکھ کر رحم آتا تھا، جب ان کا غم اس حد تک پہنچ گیا تو انھوں نے باپ سے کہا کہ اللہ کی قسم ! آپ یوسف کو اسی طرح ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے حتیٰ کہ گھل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 85–86

آیت نمبر 85 تا 86 قولہ تعالیٰ : قالوا تاللہ تفتؤتذکریوسف یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو آپ کے بیٹے نے کہا تاللہ تفتؤاتذکر یوسف کسائی نے کہا : فتأت وفتئت افعل ذالک یعنی مازلت۔ فراء کا خیال ہے کہ لامضمرہ ہے یعنی لاتفتا اس نے شعر بطور استشہاد بیان کیا ہے : فقلت یمین اللہ أبرح قاعدًا ولو قطعوا راسی لدیک وأوصالی یہاں ابرح اصل میں لا ابرح ہے۔ نحاس نے کہا : جو حسن نے کہا ہے وہ صحیح ہے۔ خلیل اور سیبویہ کا خیال ہے کہ ” لا “ قسم میں مضمر ہوتا ہے کیونکہ اس میں کوئی اشکال نہیں اور اگر واجب ہوتا تو لام اور نون کے ساتھ ہوتا۔ اور آپ کے بیٹوں نے آپ کو یہ بات اس لیے کہی کیونکہ وہ یقین سے جانتے تھے کہ آپ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 85–86

1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” تاللہ تفتوا تذکر یوسف “ کے بارے میں فرمایا کہ تو برابر یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ کرتا رہے گا۔ (آیت ) ” حتی تکون حرضا “ یہاں تک تو اس مرض میں دفن ہوجائے گا۔ (آیت ) ” او تکون من الھلکین “ یعنی تو ہوجائے گا مردوں میں سے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” قالو تاللہ تفتوا تذکر یوسف “ کے بارے میں فرمایا کہ تو برابر یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ کرتا رہے گا اور تو اس کی محبت سے سستی نہیں کرے گا۔ (آیت) ” حتی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ تَاللّٰهِ : اللہ کی قسم ] [ تَفْتَؤُا : آپ کرتے رہیں گے ] [ تَذْكُرُ يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ ] [ حَتّٰى : یہاں تک کہ [تَكُوْنَ : آپ ہوجائیں ] [حَرَضًا : لاغر ] [ اَوْ : یا ] [ تَكُوْنَ : آپ ہوجائیں ] [مِنَ الْهٰلِكِيْن : ہلاک ہونے والوں میں سے ] ت ء [فَتْئًا : (ف۔ س) کسی کام کو کرتے رہنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 85]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–88

برادران یوسف کا تیسری بار مصر پہنچنا اور غلہ طلب کرنا اور ان کا سوال فرمانا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ‘ پھر بھائیوں کا قصور معاف فرمانا اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرنا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے فرمانے پر ان کے بیٹے پھر مصر کی طرف روانہ ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تو اندازہ نہ تھا کہ کہاں ہوں گے البتہ بنیامین اور بڑے بھائی کو مصر ہی میں چھوڑ آئے تھے اس لئے اپنے والد کے فرمان کے مطابق کہ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو انہوں نے مصر ہی کی راہ لی نیز اس میں غلہ لانے کا فائدہ بھی پیش نظر تھا ‘ جب مصر پہنچے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) تک رسائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–87

بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون (ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

72:۔ ” حَرَضًا “ قریب الموت یا جسمانی اور دماغی لحاظ سے بیکار۔ بیٹوں نے کہا آپ اب بھی یوسف کو نہیں بھلاتے وہ خدا جانے کب کا مٹ مٹا چکا ہے آپ ہمیشہ یوسف کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ کی تمام قوتیں جواب دے چکیں یا آپ ہلاک ہوجائیں مگر یوسف کو اب نہیں دیکھ پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 84–87

ربط آیات برادران یوسف کا مصر سے واپسی کا ذکر ہو رہا تھا۔ انہوں نے کنعان واپس پہنچ کر باپ کو چھوٹے بھائی کے چوری میں ملوث ہوجانے کا واقعہ سنایا اور اس ضمن میں اپنی صداقت کے لئے بعض شہادتوں کی طرف بھی اشارہ کیا ، مگر یعقوب (علیہ السلام) نے ان پر اعتماد نہ کیا اور فرمایا کہ یہ ساری کہانی تمہارے اپنے نفسوں کی وضع کردہ ہے مگر اب میں صبر جمیل کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ شاید وہ ان سب بچھڑے ہوئے افراد کو میرے پاس لے آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔ ہر بات اس کے علم میں ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) کی حالت زار بیٹوں سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ يُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِيْنَ 85؀ فتیء يقال : ما فَتِئْتُ أفعل کذا، وما فَتَأْتُ کقولک : ما زلت . قال تعالی: تَفْتَؤُا تَذْكُرُ يُوسُفَ [يوسف/ 85] . (ت ء ) مافتات ومافتئت افعل کذا ( بمعنی مازلت ) میں اس کا م کو برابر کرتارہا ۔ قرآن میں ہے ؛تَفْتَؤُا تَذْكُرُ يُوسُفَ [يوسف/ 85] آپ یوسف کو اسی طرح یا د کرتے ہی رھوگے حرض الحَرَض : ما لا يعتدّ به ولا خير فيه، ولذلک يقال لما أشرف علی الهلاك : حَرِضَ ، قال عزّ وجلّ : حَتَّى تَكُونَ حَرَضاً [يوسف/ 85] ، ( ح ر ض ) الحرض اس چیز کو کہتے ہیں جو نکمی ہوجائے اس لئے جو چیز قریب بہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْا تَاللّٰہِ تَفْتَؤُا تَذْکُرُ یُوْسُفَ حَتّٰی تَکُوْنَ حَرَضًا اَوْتَکُوْنَ مِنَ الْھٰلِکِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 85) (وہ بولے اللہ تعالیٰ کی قسم ! آپ ہمیشہ یوسف ( علیہ السلام) ہی کو یاد کرتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ ازکار رفتہ ہو کر رہ جائیں گے یا ہلاک ہی ہوجائیں گے۔ ) بیٹوں کی ملامت تَاللّٰہِکا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی قسم ” تا “ عربی زبان میں ” و “ کی طرح قسم کے لیے بھی آتا ہے۔ تَفْتَؤُا، لاتزال کے معنی میں ہے یعنی ہمیشہ۔ ” حرض “ اس آدمی کو کہتے ہیں جو ہلاکت کے قریب ہوجائے اور کسی کام کے قابل نہ رہے۔ بیٹوں نے جب اپنے والد ماجد کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یاد میں آہیں بھرتے ہوئے سنا تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 84–86

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں سے یہ کہتے ہوئے رخ پھیر لیتے ہیں کہ میں تو صبر ہی کروں گا اور مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے یوسف، بنیامین اور یہودہ سے جلدہی ملائے گا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ٹھنڈی سانس بھری اور اپنا چہرہ بیٹوں سے پھیرتے ہوئے کہا کہ ہائے یوسف میں اس غم کی شکایت اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کرتا ہوں یہی انبیاء (علیہ السلام) اور صابر لوگوں کا طریقہ ہے۔ اس غم میں ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے جسم کا ایک ایک عضو یوسف کی یاد میں غم سے چور چور ہوچکا تھا۔ بیٹے باپ کو تسلی دینے کی بجائے قسم اٹھاتے ہوئے کہتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بیٹوں کی ملامت : 85: قَالُوْا تَاللّٰہِ تَفْتَؤُا (بیٹے کہنے لگے آپ تو ہمیشہ ہی) یہ لا تفتأ تھا حرف نفی کو حذف کردیا کیونکہ وہ ملتبس نہیں ہوتا اگر یہ اثبات ہوتا تو لام و نون کے بغیر چارہ کا رنہ تھا۔ لا تفتا کا معنی لاتزال والا ہے۔ تَذْکُرُ یُوْسُفَ حَتّٰی تَکُوْنَ حَرَضًا (یاد کرتا رہے گا یوسف کو یہاں تک کہ تو گھل گھل کر جان بلب ہوجائے) مرض کی وجہ سے ہلاکت کے کنارے پر ہونا۔ اَوْ تَکُوْنَ مِنَ الْھٰلِکِیْنَ (یا تو ہوجائے ہلاک ہونیوالا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

85۔” قالوا “ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ” تاللہ تفتو تذکر یوسف حتیٰ تکون حرضا “ یعنی ہمیشہ یوسف (علیہ السلام) کا تذکر ہ کرتے ہیں ۔ حرضا ً کا معنی ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ دفن ہوجائیں گے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ الحرض موت سے کم حالت یعنی موت کے قریب ہوجانا ۔ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ فاسد جس میں عقل نہ ہو اور الحرض جس کا جسم اور عقل خراب ہوچکی ہو اور بعض نے کہا غم میں پگھل رہے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ حرض کا معنی ہے غم یا عشف پیرا نہ سالی کی وجہ سے بدن کا یا مذہب کا ، یا عقل کی بگاڑ ہوگئی اور آیت کا معنی یہ ہے کہ حتیٰ کہ آپ کمزور جسم مخبول العقل ہوجائیں گے ۔ ” او تکون من الھالکین “ یعنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 84–85

84۔ 85۔ بنیامین کا قصہ سننے کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے کہ افسوس یوسف (علیہ السلام) پر مطلب یہ کہ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یاد ان کو آگئی اس کے معنے شدت غم کے ہیں جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کا غم حد سے بڑھ گیا اور پھر بنیامین کا حال بیٹوں سے یہ سنا کہ بادشاہ مصر نے اس کو روک رکھا ہے اس سے اور بھی دو چند صدمہ ہوا تو جوش محبت میں یہ کلمہ آپ کی زبان مبارک سے نکل گیا اور آپ بیٹوں کے فراق میں اس قدر روئے کہ آپ کی آنکھیں جاتی رہیں۔ سیاہی سفیدی سے بدل گئی مقاتل کہتے ہیں کہ یہ حالت آپ کی چھ برس تک رہی اور آپ کا یہ رونا اس سبب سے بھی تھا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” اور کہا، اے افسوس یوسف پر “ یعنی پرانا حزن و غم اور نہ ختم ہونے والا اشتیاق جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا، ظاہر ہوگیا اور اس نئی اور پہلی مصیبت کی نسبت قدرے ہلکی مصیبت نے پہلی مصیبت کی یاد تازہ کردی۔ یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے ان کے حال پر تعجب کرتے ہوئے کہا : ” اللہ کی قسم ! آپ اسی طرح یوسف کو یاد کرتے رہیں گے “ یعنی آپ اپنے تمام احوال میں یوسف (علیہ السلام) کو یاد کرتے رہے ہیں۔ (آیت) ” یہاں تک کہ آپ فنا ہوجائیں گے “ آپ حرکت تک نہیں کرسکیں گے اور آپ میں بولنے کی قدرت نہیں رہے گی۔ (آیت) ” یا ہوجائیں گے آپ ہلاک۔ “ یعنی آپ یوسف (علیہ السلام) کو یاد کرنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 81–87

سرقہ کے بارے میں حکم قول باری ہے (ارجعوا الی ابیکم فقولوا یا ابانا ان ابنک سرق و ما شھدنا الا بما علمنا وما کنا للغیب حافظین۔ تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ ” ابا جان ! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی۔ ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے) برادران یوسف نے صرف ظاہری حالت کی خبر دی۔ اس لئے کہ انہیں باطنی حالت یعنی اصل بات کا کوئی علم نہیں تھا اسی بنا پر انہوں نے کہا (وما کنا للغیب حافظین) ظاہری طور پر یہی کچھ ہوا تھا کہ شاہی پیمانہ ان کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوا تھا اس لئے بھائی ہی اس پیمانے کو چرانے والا قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

141۔ برادران یوسف کی اپنے باپ کو تسلی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ اباجان آپ یوسف کو یاد کرتے کرتے یونہی جاں بلب یا ہلاک ہوجائیں گے۔ یہ انہوں نے آپ کی حالت پر ترس کھاتے ہوئے کہا۔ حالانکہ اس سب کا باعث اور سبب وہ خود ہی تھے۔ بہرکیف اس طرح انہوں نے باپ کو تسلی دینے کی کوشش کی لیکن یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ ان کی اس نصیحت کا انداز اگرچہ بظاہر بڑا ہمدردانہ ہے لیکن درپردہ اس کے اندران کا وہی جذبہ حسدکارفرما ہے جو ان کے ان تمام اقدامات کا باعث بناجن کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا۔ کیونکہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس توقع پر باپ سے دور کیا تھا کہ اس کے بعدباپ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–93

آیات 80 تا 93 اسرار و معارف بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 85–86

ف 7 ۔ یعنی یہ کہ یوسف زندہ ہیں اور ایک دن ایسا آئے گا کہ میرے اور تمہارے سجدہ کرنے کا خواب جو انہوں نے دیکھا تھا سچا ہوگا۔ مجھے اس کا پورا یقین ہے اور اللہ تعالیٰ میری یہ امید برلائے گا۔ (ازروح) اس آیت پر شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یعنی تم کیا مجھے صبر سکھائو گے۔ بےصبر وہ ہے جو خلق کے آگے شکایت کرے خالق کی میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھ پر آزمائش ہے دیکھوں کس حد کو پہنچ کر بس ہو۔ (از موضح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12: 85) تاللہ۔ خدا کی قسم ۔ بخدا۔ تفتؤ۔ اصل میں لا تفتؤ تھا۔ افعال ناقصہ میں سے ہے چونکہ آیت میں تاللہ تفتؤ ہے اس لئے حرفِ نفی حذف ہوگیا۔ کیونکہ قسم کے ساتھ جب علامت اثبات نہیں ہوتی تو وہ نفی پر محمول ہوتی ہے۔ لا تفتؤ ای لا تزال۔ تو ہمیشہ رہتا ہے تو ہمیشہ رہے گا۔ تاللہ تفتؤ تذکر یوسف بخدا آپ تو یوسف (علیہ السلام) ہی کی یاد میں لگے رہیں گے۔ حرضا۔ مضمحل ۔ بےکار۔ بیمار۔ جو چیز نکمی اور بےکار ہوجائے اور درخور اعتناء نہ رہے دراصل یہ مصدر ہے۔ حرض یحرض (سمع) حرضا۔ باب نصر۔ ضرب سے بھی انہیں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مصدر حرض وحروض۔ بری بیماری میں مبتلا ہو کر لاغر و ناتواں ہونا۔ الھالکین۔ اسم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–87

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 87 سولت بنا لی ہے، گھڑ لی صبر جمیل ایسا صبر جس میں کوئی شکایت نہ ہو عسی شاید، امید ہے کہ ان یا تینی یہ کہ وہ لائے میرے پاس تولی اس نے منہ پھیرلیا یا سفی ہائے افسوس ابیضت سفید ہوگئی ( ہوگئیں) عینہ اس کی آنکھیں الحزن رنج و غم کظیم گھٹنے والا (غم برداشت کرنے والا) تذکر ذکر۔ یاد کرنا حرض کمزور ، بےجان اشکوا فریاد کرتا ہوں بثی میرا غم تحسوا تلاش کرو۔ کھوج لگاؤ لاتایئسوا تم مایوس نہ ہو روح اللہ اللہ کی رحمت تشریح : آیت نمبر 83 تا 87 گزشتہ آیات میں حضرت یعقوب کے گیارہ بیٹوں کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جب ایک بہانے سے حضرت یوسف نے اپنے سگے بھائی بن یا مین کو روک لیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 84–85

یعقوب (علیہ السلام) کا رنج و الم سے آنکھیں کھو بیٹھنا بنیامین کا قصہ سننے کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے کہ : افسوس حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یاد آگئی، بنیامین کا حال جب سنا تو حضرت یعقوب کا غم حد سے بڑھ گیا، اس سے اور بھی دوچند صدمہ ہوا اور آپ بیٹوں کے فراق میں اس قدر روئے کہ آپ کی آنکھیں جاتی رہیں۔ سیاہی سفیدی سے بدل گئی اس سبب سے بھی تھا کہ آپ جانتے تھے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں لیکن آپ کو ان کے دین کی طرف سے خیال پیدا ہوا کہ مصر میں سارے لوگ بت پرست ہیں، کبھی ان کے عقائد میں بھی فرق نہ آئے پھر یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے فہمائش کے طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–86

[30] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) جانتے تھے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع رکھتے تھے کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کے خواب میں وہ ان کا مستقبل دیکھ چکے تھے اور جانتے تھے کہ کسی نہ کسی دن یہ جدائی ختم ہونے والی ہے تاہم دل کے ہاتھوں مجبور تھے۔ جس کی جدائی ایک گھڑی کے لیے شاق تھی وہ برسوں کے لیے ان سے جدا ہوگیا تھا اس کے فراق کا زخم بھر نہیں سکتا تھا بلکہ اس بات کے تصور نے کہ وہ زندہ موجود ہے مگر مجھ سے دور ہے درد فراق کی چبھن اور زیادہ کردی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 85–92

برادران یوسف (علیہ السلام) کی ندامت : (ف 1) اب وقت آگیا تھا ، کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے چہرہ انور سے نقاب کشائی کریں ، اور بھائیوں کو بتادیں ، کہ جس یوسف کو تم نے کنعان کے تاریک کنوئیں میں پھینکا تھا ، وہ اس وقت عرش حکومت پر جلوہ گر ہے ، چناچہ جب بھائی دو بار مصر میں غلہ لینے کے لئے گئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، کیا تم وہی نہیں ہو جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ یہ یہ فریب کئے ہیں ، انہوں نے جب دیکھا کہ پتے کی باتیں بتائی جاری ہیں ، اور ان باتوں کا بجز یوسف (علیہ السلام) کے اور کسی کو علم نہیں ہو سکتا ، تو پکار اٹھے کہ کہیں تمہیں تو یوسف (علیہ السلام) نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

85 ۔ بیٹے کہنے لگے خدا کی قسم تو تو ہمیشہ یوسف (علیہ السلام) ہی کا تذکرہ کرتا رہے گا یہاں تک کہ تو گھل گھل کر قریب المرگ ہوجائے یا جان دے کر مرنے والوں میں شامل ہوجائے۔ بیٹوں نے یعقوب (علیہ السلام) کی حالت دیکھ کر یہ کہا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس بیٹے کے جانے سے پھر یوسف (علیہ السلام) کا غم تازہ ہوا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 85–89

ف 5۔ یعقوب (علیہ السلام) کا حب مخلوق میں اس قدر رونا موجب وسوسہ نہ ہو کیونکہ محبت امر اضطراری ہے اور گریہ بھی دلیل رقت قلب وترحم ہے اور خاص کر جب کہ محبت کا سبب کوئی امر دینی ہو اور کسی کو شبہ نہ ہو کہ جب یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا تھا فصبر جمیل تو پھر شکایت کیوں زبان پر لائے اس کا جواب خود قرآن میں ہے کہ اشکو ابثی وحزنی الی اللہ۔ یعنی شکایت الی الخلق منافی ہے صبر جمیل کے نہ کہ شکایت الی الخالق کہ عین دعاء والتجائے مطلوب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

غم کی کیفیت میں یعقوب ڈوب گئے تو بیٹوں نے کہا یوسف کی یاد میں کب تک کھلتے رہو گے ۔ 101 عام حالات میں سمجھا جاتا ہے کہ چھوٹے بہن بھائی اور اولاد میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا لیکن یہ سب باتیں کہنے کی حد تک ہیں اولاد اور بہن ، بھائیوں میں فطرت نے ایک بہت بڑا فرق خود روا رکھا ہے جس کا اناکر نہیں کیا جاسکتا۔ غور کرو کہ اولاد ماں باپ کی وارث ہے ، کتنی ؟ والدین کی ہرچیز کی اور ایک خاص حد کے اندر والدین بھی اولاد کے وارث ہیں لیکن حقیقی بہن بھائی بھی ایک دوسرے کے وارث قرار نہیں دیئے گئے فطرت نے زبان سے کچھ نہ بول کر کچھ نہ کہہ کر سب کچھ کہہ دیا بشرطیکہ کوئی سمجھنے والا ہو۔ بیٹوں نے یعقوب (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

When the sons of Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) saw the extreme suffering and patience of their father, they said: قَالُوا تَاللَّـهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ‌ يُوسُفَ (By God, you will not stop remembering Yusuf ...), meaning thereby that every shock ends, after all, and so does every sorrow. The passage of days in life makes one forget them. But, he continues to be where he was, even after the passage of such a long time with his sorrow being as fresh as when it came.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 84–88

That is, it will be charitable of you if you give us that much grain as we require to fulfill our needs, because the goods we have brought for its barter are of less value than of the grain we require.

Read the full tafseer →