Explained with ayahs 83–86
بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر حضرت یعقوب ؑ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی حضرت یوسف ؑ کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضامندی کے ساتھ واپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
65۔ یعنی ہماری اس گزارش پر جو کچھ آپ دیں گے وہ گویا آپ کا صدقہ ہوگا۔ اس غلے کی قیمت میں جو پونجی ہم پیش کر رہے ہیں وہ تو بیشک اس لائق نہیں ہے کہ ہم کو اس قدر غلہ دیا جائے جو ہماری ضرورت کو کافی ہو۔
Read the full tafseer →وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ یعنی حضرت یعقوب ؑ نے اس دوسرے صدمے کے بعد صاحبزادوں سے اس معاملہ میں گفتگو کو چھوڑ کر اپنے رب کے سامنے فریاد شروع کی اور فرمایا کہ مجھے سخت رنج وغم ہے یوسف پر اور اس رنج و غم میں روتے روتے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں یعنی بینائی جاتی رہی یا بہت ضعیف ہوگئی مقاتل امام تفسیر نے فرمایا کہ یہ کیفیت یعقوب ؑ کی چھ سال رہی کہ بینائی تقریباً جاتی رہی تھی فَهُوَ كَظِيْمٌ یعنی پھر وہ خاموش ہوگئے کسی سے اپنا دکھ نہ کہتے تھے کظیم کظم سے بنا ہے جس کے معنی بند ہوجانے اور بھر جانے کے ہیں مراد یہ ہے کہ غم…
Read the full tafseer →وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ۔
وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ ، یعنی اس حادثہ کے بعد بیٹوں سے آزردہ اور الگ ہو کر وہ گوشہ میں بیٹھ گئے۔ اس تازہ حادثہ نے حضرت یوسف ؑ کے غم کو مزید شدت سے تازہ کردیا اور اس شدت غم میں ان کی زبان سے ہائے یوسف ! کے الفاظ بےساختہ نکل گئے۔ شدتِ غم اور کثرت گریہ سے ان کی آنکھیں سفید پڑگئیں اور ہر وقت سینہ میں غم دبائے رکھنے کے سبب سے وہ گھٹے گھٹے سے رہنے لگے۔ یہ واضح رہے کہ یہ ساری حالتیں ان کے تنہائی کے غم و الم کی بیان ہو رہی ہیں جس میں معاملہ تمام تر ان کے اور ان کے رب کے درمیان تھا۔ اس حقیقت کا…
Read the full tafseer →84۔ 1 یعنی اس تازہ صدمے نے یوسف ؑ کی جدائی کے قدیم صدمے کو بھی تازہ کردیا۔
84۔ 2 یعنی آنکھوں کی سیاہی، مارے غم کے، سفیدی میں بدل گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
54: چونکہ حضرت یعقوب ؑ کو یقین تھا کہ یوسف ؑ بھی کہیں نہ کہیں زندہ ہیں۔ اور بنیامین گرفتار ہیں اس لیے انہوں نے کچھ عرصے بعد پورے وثوق کے ساتھ حکم دیا کہ جا کر ان دونوں کو تلاش کرو۔ اتنے میں جو غلہ اب تک آیا تھا وہ ختم ہوچکا تھا اور قحط کی حالت جاری تھی۔ اس لیے ان بھائیوں نے یہ سوچا کہ پھر مصر جائیں۔ کیونکہ بنیامین تو وہاں یقینی طور پر موجود ہیں۔ پہلے ان کی واپسی کی کوشش کرنی چاہیے۔ پھر یوسف ؑ کا بھی کچھ سراغ لگانے کی کوشش کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے مصرف جا کر پہلے تو یوسف ؑ سے غلے کی بات کی تاکہ ان کا دل کچھ نرم پڑے تو بنیامین کی واپسی کی بھی درخواست کریں۔ اگلی آیتوں میں حضرت یوسف ؑ سے ان کی…
Read the full tafseer →یہ ایک غم زدہ والد کی نہایت ہی موثر تصویر کشی ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس غم کو جھیلنے کے لئے وہ تنہا ہیں ، اس میں ان کے اہل و عیال کے دل شریک نہیں ہیں۔ نہ وہ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور نہ یک جہتی کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ علیحدگی میں تنہا ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس سے قبل انہیں ایک صدمہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کی صورت میں پہنچ چکا تھا ، وہ اسے بھول نہ سکے۔ اور طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس صدمے میں بھی کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اب تازہ صدمہ یوسف (علیہ السلام) کے چھوٹے بھائی کی گرفتاری کی صورت میں پیش آیا ہے ، اور اس کی وجہ سے سابقہ زخم بھی تازہ ہوگئے ہیں۔ اب ان کے صبر جمیل کا پیمانہ لبریز ہوا…
Read the full tafseer →5 نیا زخم کھا کر پرانا زخم ہرا ہوگیا۔ بےاختیار پکار اٹھے " یٰا اَسَفٰی عَلٰی یُوْسُف " (ہائے افسوس یوسف)
6 یعنی بےرونق یا بےنور ہوگئیں۔ علی اختلاف القولین۔
7 حدیث میں ہے " نَحْنُ مَعَاشِرَ الْاَنْبِیَآءِ اَشَدُّ بَلائً ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمَثْلُ " یعنی انبیاء کی جماعت حق تعالیٰ کی طرف سے سخت ترین امتحانوں میں مبتلاء کی جاتی ہے۔ پھر امتحان کی اقسام ہیں۔ ہر نبی کو حق تعالیٰ اپنی حکمت اور اس کی استعداد کے موافق جس قسم کے امتحان میں چاہے مبتلا کرتا ہے۔ یعقوب (علیہ السلام) کے قلب میں یوسف کی فوق العادت محبت ڈال دی پھر ایسے محبوب اور ہونہار بیٹے کو جو خاندان ابراہیمی کا چشم و چراغ تھا، ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ
حضرت یعقوب کو حضرت یوسف سے بہت محبت تھی۔ بیٹے کے ہجر اور فراق میں آپ کے دل پر جو گزری تھی خود قرآن کے یہ الفاظ اس پر گواہ ہیں۔ یہ انسانی فطرت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے جسے یہاں اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی کے بچے کا فوت ہوجانا یقیناً بہت بڑا صدمہ ہے لیکن بچے کا گم ہوجانا اس سے کئی گنا بڑا صدمہ ہے۔ فوت ہونے کی صورت میں اپنے سامنے تجہیز و تکفین ہونے سے اپنے ہاتھوں دفن کرنے اور قبر بنا لینے سے کسی قدر صبر کا دامن ہاتھ میں رہتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس صبر میں ثبات پیدا ہوتا جاتا ہے۔ مگر بچے کے گم ہونے کی صورت میں اس کی یاد مستقل طور پر انسان…
Read the full tafseer →82 سیدنا یعقوب کی بینائی جانے کی وجہ :۔ یعنی اپنے بیٹوں کو کچھ لعنت ملامت نہیں کی اور درگزر سے کام لیا۔ حالانکہ اس واقعہ نے پرانے زخم کو پھر سے ہرا کردیا تھا۔ البتہ بےاختیار آپ کے منہ سے ہائے یوسف کے الفاظ نکل گئے جب کہ سیدنا یوسف کا غم آپ کی رگ رگ میں سرایت کرچکا تھا۔ کظیم اس مشک کو کہتے ہیں جسے لبالب بھر کر اس کا منہ بند کردیا گیا ہو۔ بالفاظ دیگر یوسف کا غم آپ کے گلے تک پہنچ چکا تھا۔ مگر پھر بھی آپ شکوہ شکایت یا بےقراری کا کوئی لفظ زبان سے نکالنا گوارا نہیں کرتے تھے اور سب کچھ ضبط ہی کئے جارہے تھے جس کا اثر آپ کی آنکھوں پر پڑا اور آپ کی بینائی جاتی رہی۔
Read the full tafseer →156۔ جسے فطرت بشری سے ذرا بھی واقفیت ہے وہ جانتا ہے کہ نئی چوٹ سے پرانی چوٹ تازہ ہوجاتی ہے اور تازہ غم سے پرانا غم ہرا ہوجاتا ہے۔ یہ امر انسان کے لئے طبعی ہے چناچہ اسی کے اقتضاء سے آپ (علیہ السلام) بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو از سر نو شدت کے ساتھ یاد کرنے لگے۔ پیغمبر اپنے جذبات و احساسات کے لحاظ سے بالکل بشر ہوتا ہے، مافوق البشر نہیں ہوتا ہے۔ یہ سبق قصہ یوسفی کے ایک ایک جزئیہ سے بار بار دہرایا جارہا ہے۔ (آیت) ” تولی عنھم “۔ یہ منہ پھیرلینا انقباض طبعی کے اثر سے تھا۔ (آیت) ” وابیضت عینہ من الحزن “۔ یہ اشک افشانی کمالات نبوت کے ذرا بھی منافی نہیں (جیسا کہ آج کل کے بعض نافہموں نے لکھ دیا ہے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیت نمبر 80 تا 93
ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…
Read the full tafseer →وتولی عنھم اور سب کی طرف سے منہ پھیرلیا۔
وقال یاسفے علی یوسف اور افسوس و حسرت سے کہنے لگے : ہائے یوسف۔ اَسَفَ کا معنی ہے : انتہائی حزن واندوہ۔َ
اَسَفاصل میں اسفی بیاء متکلم تھا۔ عبدالرزاق اور ابن جریر نے موقوفاً سعید بن جبیر کا قول نقل کیا ہے کہ سوائے امت محمدیہ کے کسی اور امت کو مصیبت کے وقت اِنَّا لِلّٰہِ وَانَّآاِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہنے کی تعلیم نہیں دی گئی۔ حضرت یعقوب پر بھی بپتا پڑی تو انہوں نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآاِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ نہیں کہا بلکہ حسرت و افسوس کا اظہار کیا۔ بیہقی نے بھی یہ روایت شعب الایمان میں نقل کی ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ ضعیف سند میں بوساطت حضرت ابن عباس اس کو…
Read the full tafseer →(84) اور ان سے الگ ہو کر کہنے لگے ہائے یوسف اور رنج وغم سے ان کی آنکھیں چندھیا گئیں، اور وہ غم سے دل ہی دل میں گھٹا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰٓاَسَفٰى۔۔ : ”يٰٓاَسَفٰى“ اصل میں یائے متکلم کے ساتھ ”یَا اَسَفِیْ“ تھا، تخفیف اور اظہار غم کے لیے یاء کو الف سے بدل دیا ہے۔ (وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ) ”غم سے اس کی آنکھیں سفید ہوگئیں“ یعنی آنسوؤں کے متواتر بہنے سے آنکھوں کی سیاہی پر سفیدی چھا گئی اور بینائی خراب ہوگئی۔ ”كَظِيْمٌ“ بمعنی ”مَکْظُوْمٌ“ ہے جو غم سے بھرا ہوا ہو، لیکن لوگوں سے چھپائے اور اظہار نہ کرے۔ اسی سے ہے : (وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ) [ آل عمران : 134 ] یعنی غصے کو روک لینے والے۔ ”کَظَمَ فُلَانٌ السِّقَاءَ“ یعنی فلاں نے بھرے ہوئے مشکیزے کا منہ بند کردیا۔ یعنی یعقوب ؑ نے جب بیٹوں کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 84
اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ وتولی عنھم یعنی آپ نے ان سے اعراض کیا : اس کی وجہ یہ تھی کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) تک بنیامین کی خبر پہنچی تو آپ کی پریشانی بہت زیادہ ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ہوسف (علیہ السلام) کے حوالے سے جو مصیبت آپ کو لاحق ہوئی تھی اسے تازہ فرمادیا۔ آپ نے فرمایا : یٰٓاسفی علی یوسف اور اپنے بیٹے بنیامین کو بھول گئے اس کا کوئی ذکر نہ کیا، یہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے۔ اور حضرت سعید بن جبیر نے کہا ہے : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف کے واپس لوٹنے کی امید نہیں تھی ورنہ آپ یٰٓاسفی علیٰ یوسف نہ کہتے۔ حضرت قتادہ اور حضرت حسن ؓ نے کہا : اس کا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے چند طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یاسفی علی یوسف “ یعنی ہائے افسوس۔
2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریروابن منذر رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یاسفی علی یوسف “ یعنی ہائے افسوس یوسف پر۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یاسفی علی یوسف “ سے مراد ہے یا جزعا اے بےصبری میری گھبراہٹ۔
4:۔ ابوعبید وابن سعید وابن ابی شیبہ وابن منذر رحمہم اللہ نے یونس (رح) سے روایت کیا کہ جب سعید بن حسن وفات پاگئے تو اس پر حسن ؓ سخت غمگین ہوگئے حسن ؓ سے اس بارے میں بات کی…
Read the full tafseer →[وَتَوَلّٰى: اور انھوں نے منہ پھیرا ] [ عَنْهُمْ : ان سے ] [وَقَالَ : اور کہا ] [ يٰٓاَسَفٰى: ہائے میرا افسوس ] [عَلٰي يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) (کی جدائی) پر [ وَابْيَضَّتْ : اور سفید ہوگئیں ] [ عَيْنٰهُ : ان کی دونوں آنکھیں [ مِنَ الْحُزْنِ : غم سے ] [فَهُوَ كَظِيْمٌ: تو وہ مشتقل غمزدہ ہیں ]
ترکیب : (آیت۔ 84) یٰاَسَفٰی میں اَسَفٌ پر یائے متکلم لگی ہوئی ہے۔ منادی پر جب یائے متکلم لگاتے ہیں تو عموماً اسے الف مقصورٰی کی طرح لکھتے ہیں جیسے یَا وَیْلَثٰی۔ یَا حَسْرَتٰی وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
برادران یوسف کا تیسری بار مصر پہنچنا اور غلہ طلب کرنا اور ان کا سوال فرمانا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف کے ساتھ کیا کیا ‘ پھر بھائیوں کا قصور معاف فرمانا اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرنا
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے فرمانے پر ان کے بیٹے پھر مصر کی طرف روانہ ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تو اندازہ نہ تھا کہ کہاں ہوں گے البتہ بنیامین اور بڑے بھائی کو مصر ہی میں چھوڑ آئے تھے اس لئے اپنے والد کے فرمان کے مطابق کہ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو انہوں نے مصر ہی کی راہ لی نیز اس میں غلہ لانے کا فائدہ بھی پیش نظر تھا ‘ جب مصر پہنچے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) تک رسائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–87
بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون
(ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…
Read the full tafseer →71:۔ بیٹوں کی لائی ہوئی ناپسندیدہ خبر پر اظہار کراہت کے طور پر ان سے اعراض کیا اور بنیامین کی جدائی سے غم یوسف (علیہ السلام) تازہ ہوگیا۔ ” وَابْیَضَّتْ عَیْنَاہُ “ غم فراق یوسف میں زیادہ رونے کی وجہ سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی آنکھیں سفید ہوگئیں۔ ” فَھُوَ کَظِیْمٌ“ اور وہ بیٹوں پر سخت ناراض تھے مگر ناراضی کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا غم یوسف میں اس قدر رونا اور اس قدر رنج وحزن کا اظہار بتقاضائے بشریت تھا۔ انسان کی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ غم واندوہ کے موقع پر وہ اپنے کو قابو میں نہیں رکھ سکتا یہی وجہ ہے کہ انسان کا صبر قابل تعریف ہے۔ و یجوز للنبی (علیہ السلام) ان یبلغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
ربط آیات
برادران یوسف کا مصر سے واپسی کا ذکر ہو رہا تھا۔ انہوں نے کنعان واپس پہنچ کر باپ کو چھوٹے بھائی کے چوری میں ملوث ہوجانے کا واقعہ سنایا اور اس ضمن میں اپنی صداقت کے لئے بعض شہادتوں کی طرف بھی اشارہ کیا ، مگر یعقوب (علیہ السلام) نے ان پر اعتماد نہ کیا اور فرمایا کہ یہ ساری کہانی تمہارے اپنے نفسوں کی وضع کردہ ہے مگر اب میں صبر جمیل کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ شاید وہ ان سب بچھڑے ہوئے افراد کو میرے پاس لے آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔ ہر بات اس کے علم میں ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔
یعقوب (علیہ السلام) کی حالت زار
بیٹوں سے…
Read the full tafseer →وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ 84
ولي
وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه .
فمن الأوّل قوله :
وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] .
ومن الثاني قوله :
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ،
( و ل ی ) الولاء والتوالی
اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →وَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَ قَالَ یٰٓـاَسَفٰی عَلٰی یُوْسُفَ وَابْیَضَّتْ عَیْنٰـہُ مِنَ الْحُزْنِ فَھُوَ کَظِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 84)
(اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے منہ پھیرا اور کہا، ہائے یوسف ( علیہ السلام) ۔ اور غم سے آپ کی آنکھیں سفید پڑگئیں اور آپ غم کی وجہ سے گھٹے گھٹے رہنے لگے۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے غم میں شدت کی وجہ
بیٹوں سے یہ باتیں کرنے کے بعد آپ ( علیہ السلام) نے ان سے پشت پھیری اور تخلیہ میں جا بیٹھے۔ اس نئے صدمے نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے غم کو بھی تازہ کردیا۔ صدمہ تو بن یامین کا بھی بہت تھا لیکن اس کی نوعیت دوسری تھی۔ یہوذا کی جدائی بھی گوارا نہ تھی۔ لیکن اس کی کیفیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں سے یہ کہتے ہوئے رخ پھیر لیتے ہیں کہ میں تو صبر ہی کروں گا اور مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے یوسف، بنیامین اور یہودہ سے جلدہی ملائے گا۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ٹھنڈی سانس بھری اور اپنا چہرہ بیٹوں سے پھیرتے ہوئے کہا کہ ہائے یوسف میں اس غم کی شکایت اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کرتا ہوں یہی انبیاء (علیہ السلام) اور صابر لوگوں کا طریقہ ہے۔ اس غم میں ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے جسم کا ایک ایک عضو یوسف کی یاد میں غم سے چور چور ہوچکا تھا۔ بیٹے باپ کو تسلی دینے کی بجائے قسم اٹھاتے ہوئے کہتے…
Read the full tafseer →والد کو اطلاع پر غم کی تازگی :
84: وَتَوَلّٰی عَنْھُمْ (اور ان کی طرف سے منہ پھیرا) جو خبر لائے تھے اس کو ناپسند کرتے ہوئے ان سے اعراض کیا۔ وَقَالَ یٰٓـاَ سَفٰی عَلٰی یُوْسُفَ (اور کہا اے میرے افسوس یوسف پر) الاسف کو مضاف کیا اپنی ذات کی طرف۔ اسفـؔ شدید غم و حزن و حسرت کو کہتے ہیں۔ اس میں الف یاء ؔ اضافت سے بدل ہے۔ اور اسف اور یوسف کے الفاظ میں بلا تکلف صفت تجانس پیدا ہوگئی ہے جیسا کہ : اثاقلتم الی الارض ارضیتم ] التوبہ : 38[ اور وہم ینہون عنہ وینئون عنہ ] انعام : 26[ اسی طرح : وہم یحسبون انہم یحسنون صنعًا ] الکہف : 104 [ اسی طرح مِنْ سَبَاٍ بِنَبَاٍٍ ] النمل : 22[ ان تمام مقامات پر یہ صفت…
Read the full tafseer →تفسیر 84۔” وتولی عنھم “ جب یعقوب (علیہ السلام) کو بنیا مین کی خبر پہنچی تو غم انتہاء کو پہنچ گیا اور اس کے غم نے یوسف (علیہ السلام) کا غم بھی تازہ کردیا تو ان بیٹوں سے اعراض کیا اور کہا ” وقال یا اسفا “ ہائے غم ” علی یوسف “ اور اسف سخت ترین غم ” وابیضت عیناہ من الحزن “ یعنی نابنیا ہوگئے تھے۔ مقاتل فرماتے ہیں چھ سال سے کچھ نہ دیکھ سکے تھے۔ ’ ’ فھو کظیم “ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کے اپنے والد سے جانے اور دوبارہ ملاقات کے درمیان اسی (80) سال کا عرصہ لگ گیا لیکن اس عرصہ میں یعقوب (علیہ السلام) کی آنکھیں خشک نہیں ہوئیں اور روئے زمین پر یعقوب (علیہ السلام) سے زیادہ معزز اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
84۔ 85۔ بنیامین کا قصہ سننے کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے کہ افسوس یوسف (علیہ السلام) پر مطلب یہ کہ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یاد ان کو آگئی اس کے معنے شدت غم کے ہیں جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کا غم حد سے بڑھ گیا اور پھر بنیامین کا حال بیٹوں سے یہ سنا کہ بادشاہ مصر نے اس کو روک رکھا ہے اس سے اور بھی دو چند صدمہ ہوا تو جوش محبت میں یہ کلمہ آپ کی زبان مبارک سے نکل گیا اور آپ بیٹوں کے فراق میں اس قدر روئے کہ آپ کی آنکھیں جاتی رہیں۔ سیاہی سفیدی سے بدل گئی مقاتل کہتے ہیں کہ یہ حالت آپ کی چھ برس تک رہی اور آپ کا یہ رونا اس سبب سے بھی تھا کہ…
Read the full tafseer →یعنی جب یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے انہیں یہ خبر سنائی تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے منہ پھیرلیا، ان پر غم واندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، دل میں چھپے ہوئے غم اور کرب کی وجہ سے رو رو کر ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں۔ (آیت) ” سو وہ اپنے آپ کو گھونٹ رہا تھا “ یعنی ان کا دل حزن و غم سے لبریز تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–87
سرقہ کے بارے میں حکم
قول باری ہے (ارجعوا الی ابیکم فقولوا یا ابانا ان ابنک سرق و ما شھدنا الا بما علمنا وما کنا للغیب حافظین۔ تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ ” ابا جان ! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی۔ ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے) برادران یوسف نے صرف ظاہری حالت کی خبر دی۔ اس لئے کہ انہیں باطنی حالت یعنی اصل بات کا کوئی علم نہیں تھا اسی بنا پر انہوں نے کہا (وما کنا للغیب حافظین) ظاہری طور پر یہی کچھ ہوا تھا کہ شاہی پیمانہ ان کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوا تھا اس لئے بھائی ہی اس پیمانے کو چرانے والا قرار…
Read the full tafseer →140۔ فراق یوسف کے غم میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی حالت زار کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے رخ پھیر کردرد بھرے انداز میں کہا کہ اے افسوس یوسف پر اور ان کے غم میں روتے روتے آپ کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں اور آپ دل ہی دل میں گھٹے جارہے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ ایک طبعی اور غیراختیاری امر ہے۔ اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بلکہ یہ تو فطرت کا تقاضا ہے۔ جیسا کہ ہمارے حضور نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم کے انتقال کے موقعہ پر ارشاد فرمایا تھا۔ ممنوع اور مذموم تو وہ جزع وفزع اور پیٹنا کوٹنا وغیرہ امورجاہلیہ ہیں جو انسان ایسے موقعہ پر اپنے اختیار سے کرتا ہے۔ جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیات 80 تا 93
اسرار و معارف
بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ اور اس کا اظہار نہیں کیا۔ معلوم ہوا کہ مصیبت پر رونا اور آنسو بہانا جائز ہے۔ حدیث میں ہے کہ جب آنحضرت کا صاجزادہ ابراہیم فوت ہوا تو آنحضرت ﷺ کی چشم مبارک سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا : آنکھ بہہ رہی ہے اور دل پر صدمہ ہے مگر ہم اپنے پروردگار کی مرضی کے خلاف نہیں کہہ سکتے۔ ابراہیم ! ہم کو تمہارے فراق پر بہت صدمہ ہے (صحیحن) ہاں مصیبت کے وقت نوحہ کرنا گریبان چاک کرنا اور منہ پہ طمانچے مارنا سخت ممنوع ہے۔ (روح) ۔
Read the full tafseer →(12: 84) تولی عنہم۔ اس نے ان سے منہ پھیرلیا۔
یاسفی۔ اصل میں یا اسفی تھا۔ یائے متکلم کو بوجہ تخفیف الف سے بدل دیا۔ ہائے افسوس۔ والاسف اشد الحزن علی ما فات۔ الاسف کسی کھوئی چیز پر شدت غم کو کہتے ہیں۔
صاحب المفردات نے لکھا ہے کہ۔ الاسف۔ حزن اور غضب کے مجموعہ کو کہتے ہیں۔ اور کبھی الاسف کا لفظ حزن اور غضب میں سے ہر ایک پر انفراداً بھی بولا جاتا ہے۔ اصل میں اس کے معنی جذبہ انتقام سے خون قلب کے جوش مارنے کے ہیں۔ اگر یہ کیفیت اپنے سے کمزور آدمی پر پیش آئے تو پھیل کر غضب کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور اگر اپنے سے طاقت ور آدمی پر ہو تو منقبض ہو کر حزن بن جاتی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے حزن اور غضب کی حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 87
سولت بنا لی ہے، گھڑ لی صبر جمیل ایسا صبر جس میں کوئی شکایت نہ ہو عسی شاید، امید ہے کہ ان یا تینی یہ کہ وہ لائے میرے پاس تولی اس نے منہ پھیرلیا یا سفی ہائے افسوس ابیضت سفید ہوگئی ( ہوگئیں) عینہ اس کی آنکھیں الحزن رنج و غم کظیم گھٹنے والا (غم برداشت کرنے والا) تذکر ذکر۔ یاد کرنا حرض کمزور ، بےجان اشکوا فریاد کرتا ہوں بثی میرا غم تحسوا تلاش کرو۔ کھوج لگاؤ لاتایئسوا تم مایوس نہ ہو روح اللہ اللہ کی رحمت
تشریح : آیت نمبر 83 تا 87
گزشتہ آیات میں حضرت یعقوب کے گیارہ بیٹوں کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جب ایک بہانے سے حضرت یوسف نے اپنے سگے بھائی بن یا مین کو روک لیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
یعقوب (علیہ السلام) کا رنج و الم سے آنکھیں کھو بیٹھنا
بنیامین کا قصہ سننے کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے کہ : افسوس حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یاد آگئی، بنیامین کا حال جب سنا تو حضرت یعقوب کا غم حد سے بڑھ گیا، اس سے اور بھی دوچند صدمہ ہوا اور آپ بیٹوں کے فراق میں اس قدر روئے کہ آپ کی آنکھیں جاتی رہیں۔ سیاہی سفیدی سے بدل گئی اس سبب سے بھی تھا کہ آپ جانتے تھے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں لیکن آپ کو ان کے دین کی طرف سے خیال پیدا ہوا کہ مصر میں سارے لوگ بت پرست ہیں، کبھی ان کے عقائد میں بھی فرق نہ آئے پھر یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے فہمائش کے طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
[30] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) جانتے تھے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع رکھتے تھے کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کے خواب میں وہ ان کا مستقبل دیکھ چکے تھے اور جانتے تھے کہ کسی نہ کسی دن یہ جدائی ختم ہونے والی ہے تاہم دل کے ہاتھوں مجبور تھے۔ جس کی جدائی ایک گھڑی کے لیے شاق تھی وہ برسوں کے لیے ان سے جدا ہوگیا تھا اس کے فراق کا زخم بھر نہیں سکتا تھا بلکہ اس بات کے
تصور نے کہ وہ زندہ موجود ہے مگر مجھ سے دور ہے درد فراق کی چبھن اور زیادہ کردی تھی۔
Read the full tafseer →حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا غم !
(ف 2) باپ کا بیٹے کے فراق میں رونا اور غم کھانا قدرتی بات ہے ، مگر حضرت یعقوب (علیہ السلام) صرف یوسف (علیہ السلام) کے باپ ہی نہیں ، بلکہ ایک قوم کے بھی باپ ہیں ، جن کی جانب ان کو خلعت نبوت دے کر مبعوث کیا گیا ہے ، اس لئے غیر موزوں بات ہے کہ ایک پیغمبر اپنے بیٹے کے فراق میں ملت کے درد کو بھول جائے ۔
بات اصل یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) تبلیغ و اشاعت کے فرائض مدت سے ادا کر رہے تھے ، اور پیرانہ سالی میں سہارے کی ضروت تھی اپنی اولاد میں یوسف (علیہ السلام) کے سوا کوئی اہل نظر نہ آتا تھا ، جو قوم کا بہترین قائد بن سکے ، اس لئے اس کی گمشدگی کا غم نسبتا زیادہ ہوا…
Read the full tafseer →84 ۔ پھر یہ کہہ کر یعقوب (علیہ السلام) ان کے پاس سے پھرے اور اپنارخ دوسری طرف کرلیا اور کہا ہائے افسوس ! یوسف (علیہ السلام) کی جدائی پر اور مارے غم کے روتے روتے یعقوب (علیہ السلام) کی دونوں آنکھیں سفید ہوگئیں یعنی زیادہ رونے سے آنکھوں کی سیاہی گھل گئی آنکھوں کی رونق یا آنکھوں کی بینائی جاتی رہی ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ غم کی بات منہ سے نہ نکالتا تھا مگر اس وقت اتنا نکلا ایسا درد اور اتنیمدت اور دبا رکھنا کس کا کام ہے سوائے پیغمبر کے ۔ 12 ۔
Read the full tafseer →ف 4۔ کیونکہ زیادہ رونے سے سیاہی آنکھوں کی کم ہوجاتی ہے اور آنکھیں بےرونق یا بالکل بےنور ہوجاتی ہیں اور شدت غم کے ساتھ جب شدت ضبط ہوگا جیسا کہ صابرین کی شان ہے تو کظم کی کیفیت پیدا ہوگی۔
Read the full tafseer →یعقوب نے منہ پھیرا اور یوسف کے غم کے تازہ ہونے کے باعث غم زدہ ہو کر فرمایا
۔ 100 ” واللہ المستعان علی ماتصفون “ کا فقرہ زبان سے ادا کرتے ہی ان سب کی طرف سے رخ پھیرلیا یعنی بات کو ذرا بھی آگے نہیں بڑھایا ان کو کچھ برا بھلا نہیں کہا ، کوئی واویلا نہیں کیا لیکن فطرت انسانی کو تو ہر انسان سمجھتا ہے کہ ہر نئی چوٹ سے پرانی تازہ ہوجاتی ہے اور تازہ غم سے پرانا غم ہرا ہوجاتا ہے اور یہ امر انسان سے طبعی ہے چناچہ اس کے اقتضاء سے آپ بھی حضرت یوسف کو از سر نو شدت کے ساتھ یاد کرنے لگے۔ پیغمبر اپنے جذبات اور احساسات کے لحاظ سے بالکل بشر ہوتا ہے۔ مافوق البشر نہیں ہوتا بس یہ سبق قصہ یوسفی کے ایک ایک جزء سے…
Read the full tafseer →Said in verse 84 was: وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ :` And he turned away from them and said, "How sad I am about Yusuf' and his eyes turned white with sorrow and he was suppressing (his anger and grief).' It means that, after this second shock, Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) closed this chapter of talking to his sons about this matter, and turned to his Lord with his plaint before Him as to how sad he was about Yusuf. at happened was that this constant crying at his separation from Yusuf (علیہ السلام) caused his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
That is, it will be charitable of you if you give us that much grain as we require to fulfill our needs, because the goods we have brought for its barter are of less value than of the grain we require.
Read the full tafseer →