Explained with ayahs 83–86
بھائیوں کی زبانی یہ خبر سن کر حضرت یعقوب ؑ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے اس وقت فرمایا تھا جب انہوں نے پیراہن یوسف خون آلود پیش کر کے اپنی گھڑی ہوئی کہانی سنائی تھی کہ صبر ہی بہتر ہے۔ آپ سمجھے کہ اسی کی طرح یہ بات بھی ان کی اپنی بنائی ہوئی ہے بیٹوں سے یہ فرما کر اب اپنی امید ظاہر کی جو اللہ سے تھی کہ بہت ممکن ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ میرے تینوں بچوں کو مجھ سے ملا دے یعنی حضرت یوسف ؑ کو بنیامین کو اور آپ کے بڑے صاحبزادے روبیل کو جو مصر میں ٹھر گئے تھے اس امید پر کہ اگر موقعہ لگ جائے تو بنیامین کو خفیہ طور نکال لے جائیں یا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حکم دے اور یہ اس کی رضامندی کے ساتھ واپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
64۔ یعنی تمہارے نزدیک یہ باور کرلینا بہت آسان ہے کہ میرا بیٹا جس کے حسن سیرت سے میں خوب واقف ہوں ایک پیالے کی چوری کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ پہلے تمہارے لیے اپنے ایک بھائی کو جان بوجھ کر گم کردینا اور اس کے قمیص پر جھوٹا خون لگا کرلے آنا بہت آسان کام ہوگیا تھا۔ اب ایک دوسرے بھائی کو واقعی چور مان لینا اور مجھے آکر اس کی خبر دینا بھی ویسا ہی آسان ہوگیا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
یعقوب (علیہ السلام یوسف ؑ کے معاملہ میں ان سب سے غیر مطمئن ہوچکے تھے تو سابق پر قیاس کر کے) فرمانے لگے (کہ بنیامین چوری میں ماخوذ نہیں ہوا) بلکہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنا لی ہے سو (خیر مثل سابق) صبر ہی کروں گا جس میں شکایت کا نام نہ ہوگا (مجھ کو) اللہ سے امید ہے کہ ان سب کو (یعنی یوسف ؑ اور بنیامین اور جو بڑا بھائی اب مصر میں رہ گیا ہے ان تینوں کو) مجھ تک پہنچادے گا (کیونکہ) وہ (حقیقت حال سے) خوب واقف ہے (اس لئے اس کو سب کی خبر ہے کہ کہاں کہاں اور کس کس حال میں ہیں اور وہ) بڑی حکمت والا ہے (جب ملانا چاہے گا تو ہزاروں اسباب و تدابیر درست کر دے گا) اور (یہ جواب دے کر بوجہ اس کے…
Read the full tafseer →قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِيْ بِهِمْ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۔
" تسویل " کے معنی تزیین اور تسہیل کے ہیں۔ سول لہ الشیطان، شیطان نے اس کو گمراہ کیا اور اس کی نگاہوں میں کھبایا کہ فلاں کام کر گزرے۔ سولت لہ نفسہ کذا، اس کے نفس نے فلاں کام کو اس کے لیے آسان بنا دیا۔ اور اس کی نگاہوں میں کھبا دیا۔ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ، نکرہ موصوف یہاں مبتدا کے محل میں ہے اور خبر اس کی محذوف ہے۔ یعنی صبر جمیل ہی اس حالت میں اولی اور اختیار کے لائق ہے۔ صَبْرٌ جَمِيْلٌ اس صبر کو کہتے ہیں جو اظہار غم کے اوچھے طریقوں سے پاک…
Read the full tafseer →83۔ 1 حضرت یعقوب ؑ چونکہ حقیقت حال سے بیخبر تھے اور اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے انھیں حقیقت واقعہ سے آگاہ نہیں فرمایا۔ اس لئے وہ یہی سمجھے کہ میرے ان بیٹوں نے اپنی طرف سے بات بنا لی ہے۔ بنیامین کے ساتھ انہوں نے کیا معاملہ کیا ؟ اس کا یقینی علم تو حضرت یعقوب ؑ کے پاس نہیں تھا، تاہم یوسف ؑ کے واقعے پر قیاس کرتے ہوئے ان کی طرف سے حضرت یعقوب ؑ کے دل میں بجا طور پر شکوک شبہات تھے۔
83۔ 2 اب پھر سوائے صبر کے کوئی چارہ نہیں تھا، تاہم صبر کے ساتھ امید کا دامن بھی نہیں چھوڑا یوسف علیہ السلام، بنیامین اور وہ بڑا بیٹا ہے جو مارے شرم کے وہیں مصر میں رک گیا تھا کہ یا تو والد صاحب مجھے اسی طرح آنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
53: چونکہ حضرت یعقوب ؑ کو یقین تھا کہ بنیامین چوری نہیں کرسکتا۔ اس لیے انہوں نے یہ سمجھا کہ اس مرتبہ بھی ان لوگوں نے کوئی بہانہ بنایا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 83
تمہارے نفوس نے بہت ہی بڑے گناہ کو سہل بنا دیا ہے۔ تم بھائیوں کے خلاف سازش کرتے ہو۔ میں اس پر صبر ہی کرسکتا ہوں۔ یہ الفاظ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کے وقت بھی کہے تھے۔ لیکن اس بار یہاں وہ ایک امید بھی ظاہر کرتے ہیں کہ شاید اللہ ان سب کو واپس دلادے۔ بیشک اللہ ہی علیم و حکیم ہے۔ وہ میرے حالات سے بھی واقف ہے اور پسران کے بیانات کی حقیقت بھی جانتا ہے۔ واقعات و امتحانات کی حقیقت بھی وہ جانتا ہے اور جب بھی اللہ کی حکمت کا تقاضا ہوگا تمام واقعات و حقائق سامنے آجائیں گے۔
امید کی یہ کرن اس بوڑھے کے دل میں کہاں سے آئی۔ یہ خدا تعالیٰ سے امید کی کرن تھی ، ذات…
Read the full tafseer →4 پہلی بار کی بےاعتباری سے اس مرتبہ بھی حضرت یعقوب نے بیٹوں کا اعتبار نہ کیا۔ لیکن نبی کا کلام جھوٹ نہیں۔ بیٹوں کی بنائی بات تھی۔ حضرت یوسف بھی بیٹے تھے۔ " کذا فی الموضح " گویا " لَکُمْ " کا خطاب جنس ابناء کی طرف ہوا۔ واللہ اعلم۔ بعض مفسرین نے یہ مطلب لیا ہے کہ تم یہاں سے حفاظت کے کیسے وعدے کر کے اصرار کے ساتھ لے گئے وہاں پہنچ کر اتنا بھی نہ کہا کہ اس کے اسباب میں سے پیالہ برآمد ہونے سے چوری کیسے ثابت ہوگئی، شاید کسی نے چھپا دیا ہو۔ مدافعت تو کیا کرتے یہ کہہ کر کہ پہلے اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی اس کے جرم کو پختہ کردیا۔ تمہارے دل میں کھوٹ نہ ہو تو یہ طرز عمل اختیار نہ کرتے۔ اب باتیں بنانے…
Read the full tafseer →آیت 83 قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ
حضرت یعقوب نے یہاں پر پھر وہی فقرہ بولا جو حضرت یوسف کی موت کے بارے میں خبر ملنے پر بولا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ حقیقت وہ نہیں ہے جو وہ بیان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا : بہرحال میں اس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا۔
عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِيْ بِهِمْ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ
حضرت یعقوب کے لیے حضرت یوسف کا غم ہی کیا کم تھا کہ اب دیار غیر میں دوسرے بیٹے کے مصیبت میں گرفتار ہونے کی خبر مل گئی ‘ اور پھر تیسرے بیٹے یہودا کا دکھ اس پر مستزاد جس نے مصر سے واپس آنے سے انکار کردیا تھا مگر پھر…
Read the full tafseer →80 گمشدہ سامان کی برآمدگی سے چوری ثابت نہیں ہوجاتی :۔ یہ بعینہ وہی الفاظ ہیں جو سیدنا یعقوب نے اس وقت بھی کہے تھے جب برادران یوسف نے یوسف کو کنویں میں ڈالنے کے بعد رات کو روتے ہوئے باپ کے پاس آئے تھے اور ایک جھوٹا سا واقعہ بنا کر انھیں سنا دیا تھا۔ اب کی بار آپ نے بیٹوں سے پورا واقعہ سننے کے بعد جو انھیں تنبیہ کی تو اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ کیا تم یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ کسی شخص کے سامان سے کسی گم شدہ چیز کا برآمد ہونا اس بات کا یقینی ثبوت کب ہوتا ہے کہ اس شخص نے ضرور چوری کی ہے۔ ممکن ہے کسی دوسرے نے اس کے سامان میں وہ چیز رکھ دی ہو ؟ پھر تم نے یوسف پر چوری کا مزید الزام لگا کر بن یمین پر…
Read the full tafseer →153۔ (جیسا کہ واقعہ یوسف (علیہ السلام) میں پہلے ہی تم کرچکے ہو) شدت غم وحزن میں انسان ایسے ہی کلمات پر طبعا مضطر ہے اور پیغمبر بھی انسان ہی ہوتے ہیں، سارے انسانی جذبات کے ساتھ یہ گفتگو اب اس موقع کی ہے کہ بڑے بھائی اور بنیامین کو مصر میں چھوڑا اور سب بھائی کنعان میں اپنے والد ماجد کی خدمت میں پہنچے ہیں اور روئداد مصائب سنائی ہے۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ جو متہم ومشتبہ ہو، اس کو یقین کے ساتھ نہیں، لیکن حدودظن تک متہم ومشتبہ سمجھنا موجب معصیت نہیں کہ اس پر انسان طبعا مضطر ہی ہے۔
154۔ (اور میرے یوسف کے خواب کی تعبیر سچی نکل آئے) (آیت) ” بھم جمیعا “۔ بھم۔ صیغہ جمع کا ہے، تثنیہ کا نہیں، مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیت نمبر 80 تا 93
ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…
Read the full tafseer →قال یعقوب نے کہا : بات یوں نہیں جیسی تم نے بیان کی۔
بل سولت لکم انفسکم امرا بلکہ تم نے خود اپنے د ل سے اپنے لئے ایک بات بنا لی ہے۔ بادشاہ کو کب معلوم تھا کہ (شریعت اسرائیلی میں) چور کو پکڑ کر غلام بنا لینے کا حکم ہے ‘ تم خود اس غرض کیلئے بھائی کو مصر لے گئے تاکہ تم کو کچھ فوری فائدہ مل جائے۔
فصبر جمیل سو صبر ہی کروں گا ‘ جس میں شکایت کا نام نہ ہوگا (یعنی لوگوں سے شکایت نہ ہوگی) ۔
عسے اللہ ان یتیني بھم جمیعا اللہ سے امید ہے کہ ان سب کو مجھ تک پہنچا دے گا۔ یعنی حضرت یوسف کو ‘ بنیامین کو اور جو بھائی مصر میں رہ گیا ہے ‘ ان کو ‘ سب کو۔
انہ ھو العلیم الحکیم (میرے اور ان کے احوال سے) وہی خوب واقف…
Read the full tafseer →(83) یہ سن کر حضرت یعقوب ؑ نے ان سے فرمایا یہ بات ممکن نہیں بلکہ تم نے اپنے دل سے ایک بات نکال لی ہے لیکن میں صبر ہی کروں گا اور تم لوگوں سے کوئی شکایت نہیں کروں گا۔
مجھ کو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ یوسف، بنیامین اور یہودا کو مجھ تک پہنچا دے گا وہ اس بات سے خوب واقف ہے کہ وہ کہاں ہیں اور وہ ان سب کو مجھ سے ملانے میں بڑی حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ۔۔ : جب بڑے بھائی کی تجویز کے مطابق باقی بھائیوں نے کنعان پہنچ کر اپنے والد یعقوب ؑ سے یہ سب کچھ بیان کیا تو انھوں نے کہا کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اصل بات یہ نہیں بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لیے ایک کام مزین کردیا ہے، اب میرا کام صبر جمیل ہے۔ وہی لفظ منہ سے نکلا جو یوسف کو بھیڑیے کے کھائے جانے کی خبر سن کر نکلا تھا۔ اللہ اپنے بندوں خصوصاً رسولوں کو کتنا بڑا حوصلہ دیتا ہے کہ جگر ٹکڑے ٹکڑے کردینے والی خبر سن کر بھی نہ شکوہ نہ شکایت، نہ جزع فزع نہ واویلا۔ پہلے ایک بیٹے کی خبر پر بھی صبر جمیل، اب مزید دو بیٹوں کی خبر پر بھی وہی صبر جمیل۔ پہلے بھی اللہ ہی سے مدد مانگی :…
Read the full tafseer →آیت نمبر 83
اس میں دو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قال بل سولت یعنی اس نے آراستہ کردیا یالکم انفسکم اس بات کو کہ میرے بیٹے نے چوری نہیں کی، بلکہ یہ تو صرف ایسے کام کے لیے ہوا ہے جس کو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ فصبر جمیل یعنی میرا طریقہ صبر جمیل ہے یا صبر جمیل ہی مجھے زیبا ہے جس طرح کہ سورة کے آغاز میں گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ جب اسے اس کی اولاد کو یا اس کے مال کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو صبر جمیل کے ذریعے تسلی حاصل کرے اسی طرٖ اس حلیم و حکیم کی رضا اور تسلیم کو حرز جان بنائے اور اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور سارے انبیاء کی پیروی کرے۔ سعید بن ابی عروبہ نے عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
ظاہر حال پر شہادت دینا :
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” ان ابنک سرق “۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے فرمایا کہ یہ آدمی (یعنی عزیز مصر) نہیں جانتا کہ چور کو پکڑ لیا جاتا ہے اس کی چوری کی وجہ سے مگر تمہاری بات سے ہی اسکو علم ہوا ہوگا۔ اس نے کہا ہم نے وہی کہا جو ہم کو خبر تھی ہم نے جو یہ بیان کیا کہ وہ چور کو چوری کی وجہ سے پکڑ لیا جاتا ہے۔ اور یہ وہی بات تھی جو ہم جانتے تھے۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آپ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی شخص ان کی گواہی لکھے جب ان…
Read the full tafseer →[قَالَ : (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا ] [ بَلْ : بلکہ ] [ سَوَّلَتْ : خوشنما بنا کر پیش کیا ] [ لَكُمْ : تمہارے لئے ] [انفُسُكُمْ : تمہارے نفسوں نے ] [ اَمْرًا : ایک کام کو ] [ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ: تو (اب) خوبصورت صبر کرنا ہے ] [عَسَى اللّٰهُ ان : امید ہے کہ اللہ ] [يَاْتِيَنِيْ : لے آئے گا میرے پاس ] [بِهِمْ : ان کو ] [جَمِيْعًا : سب کو ] [ انهٗ : بیشک وہ ] [ هُوَ الْعَلِيْمُ : ہی جاننے والا ہے ] [الْحَكِيْمُ : حکمت والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
برادران یوسف کا اپنے والد کو چوری کا قصہ بتانا اور ان کا یقین نہ کرنا اور فرمانا کہ جاؤ یوسف کو اور اس کے بھائی کو تلاش کرو
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے جب سارا ماجرا سنایا اور بنیامین کے پکڑے جانے کا واقعہ بتایا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یقین نہ آیا۔ انہوں نے وہی الفاظ دہرا دئیے جو حضرت یوسف کی گمشدگی کے موقع پر فرمائے تھے یعنی (بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا) کہ میرے نزدیک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کہ بنیامین نے چوری کی ہو اور اسے وہیں دھر لیا گیا ہو میری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ تمہارے نفسوں نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے جو مجھے سمجھا رہے ہو ‘ واقعہ کچھ اور ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–87
بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون
(ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
70:۔ آپ مصر میں آدمی بھیج کر تصدیق کرلیں اور ان قافلہ والوں سے دریافت فرما لیں جن کے ہمراہ ہم آئے ہیں آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ہم سچ کہہ رہے ہیں۔ ” قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ الخ “ اس سے پہلے اندماج ہے۔ جب نو بھائی مصر سے روانہ ہو کر واپس وطن پہنچے اور سارا ماجرا حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا نہیں اس میں بھی تمہارا ہی فریب ہے تم نے یوسف کی طرح بنیامین کو بھی کہیں غائب کردیا ہے۔ اچھا میرا کام تو صبر ہی ہے یہ دکھ میرے لیے مقدر ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تینوں بھائیوں کو صحیح سلامت واپس لائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) غیب داں نہ تھے کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
ربط آیات
گزشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ شاہی پیمانہ بن یامین کے سامان سے برآد ہوا اور ان کے اپنے بھائیوں کے مطابق چور کو ایک سال تک غلام بن کر رہنا پڑتا تھا۔ لہٰذا یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کو واپس کنعان جانے سے روک دیا۔ برادران یوسف نے ہر چند بن یامین کو رہا کرانے کی کوشش کی اور اس سلسلہ میں طاقت استعمال کرنے کی دھمکی بھی دی مگر وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ پھر انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور منت سماجت پر اتر آئے۔ یوسف (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہمارا باپ بوڑھا اور نابینا ہوچکا ہے اور وہ اپنے چھوٹے بیٹے کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنے کے قابل نہیں ، لہٰذا آپ ہم میں سے کسی ایک کو بن…
Read the full tafseer →قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِيْ بِهِمْ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ 83
سول
والتَّسْوِيلُ : تزيين النّفس لما تحرص عليه، وتصویر القبیح منه بصورة الحسن، قال : بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْراً [يوسف/ 18]
( س و ل )
التسویل ۔ کے معنی نفس کے اس چیز کو مزین کرنا کے ہیں جس پر اسے حرص بھی ہو اور اس کے قبح کو خوشنما بناکر پیش کرنا کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْراً [يوسف/ 18] بلکہ تم اپنے دل سے ( یہ ) بات بنا لائے ۔
نفس
الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا ط فَصَبْرٌجَمِیْلٌ ط عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّاْ تِیْنِیْ بِہِمْ جَمِعْیًا ط اِنَّہٗ ھُوَالْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ ۔ (سورۃ یوسف : 83)
(حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ سن کر کہا بلکہ تمہارے لیے تمہارے نفسوں نے یہ بات آراستہ کردی ہے، اب صبر ہی زیبا ہے۔ امید ہے اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس لائے گا، بیشک وہی علیم و حکیم ہے۔ )
تسویل کا مفہوم
سَوَّلَتکا مصدر تسویل ہے۔ یہ تزیین اور تسہیل کے لیے بولا جاتا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ تعجب کی بات ہے کہ ایک بہت بڑی بات کو تمہارے نفسوں نے اس قدر آراستہ کیا کہ تم کس آسانی سے اسے اپنی زبانوں پر لے آئے۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا اپنے بیٹوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے دو وجہ سے بنیامین پر چوری کے الزام اور اپنے بیٹوں کی باتوں کو مسترد کیا۔ پہلی و جہ یہ تھی کہ وہ بحیثیت باپ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ میرا بیٹا بنیامین چوری نہیں کرسکتا کیونکہ اس نے اس سے پہلے کبھی ایسی غلطی نہیں کی۔ ایسا نیک اور دیانتدار بچہ پردیس میں جاکر کس طرح غلطی کرسکتا ہے۔ پھر وہ وہاں رہنے کے لیے نہیں بلکہ مجبوری کے عالم میں غلہ لینے کے لیے گیا ہے۔ ایسی صورت میں چوری کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس لیے بھی اپنے…
Read the full tafseer →83: چناچہ وہ والد کے پاس لوٹ کر گئے اور اپنے بھائی والی طے شدہ بات ان کو بتلائی۔ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا (بلکہ تم نے خود اپنے دل سے اپنے لئے ایک بات بنا لی ہے) تم نے اس کا ارادہ کیا ورنہ بادشاہ کو کہاں سے معلوم ہوا کہ جو شخص چور ہو اسکی سزا غلام بنانا ہے۔ اگر تمہارا فتویٰ اور بتلانا نہ ہوتا : فَصَبْرٌ جَمِیْلٌط عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِھِمْ جَمِیْعًا (پس صبر جمیل ہی میرے لئے ہے۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا) یوسف اور اس کے بھائی بنیامین بڑے سمیت : اِنَّہٗ ھُوَ الْعَلِیْمُ (بیشک وہی جاننے والا ہے) میرے غم کی حالت اور افسوس کی کیفیت کو…
Read the full tafseer →83۔” قال بل سولت کم “ مزین کردیا ہے ” افنسکم امرا “ اور اس میں اختصارے اس کا معنی پس وہ لوٹے اپنے والد کی طرف اور ان کے بڑے بھائی نے جو کچھ کہا تھا وہ والد کو بتایا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا ” بل سولت لکم انفسکم امرا “ تمہارا اپنے بھائی کو جلدی نفع کو لینے کے لیے مصر لے جانا ۔” فصبر جمیل عسیٰ اللہ ان یاتینی بھم جمعیا “ یوسف (علیہ السلام) ، بنیا مین اور ان کا بھائی جو مصر میں رہ گیا ۔ ” انہ ھو العلیم “ میرے غم کو ان کے گم ہونے پر ” الحکیم “ اپنی مخلوق کی تدبیر میں ۔
Read the full tafseer →83۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائیوں نے کنعان پہنچ کر باپ سے بنیامین کا قصہ بیان کیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی بات کو سچا نہیں جانا اور سمجھے کہ جس طرح انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو علیحدہ کیا اسی طرح بنیامین کو بھی انہوں نے مجھ سے جدا کیا۔ اسی بنا پر کہا کہ یہ بات کوئی بھی ٹھیک نہیں ہے یہ سب من گھڑت تمہارے دل نے یہ سب افترا پردازی کی ہے اور تم نے خود یہ بات ویسے گھڑ لی ہے کہاں بنیامین اور کہاں چوری اس سے اور چوری سے کیا علاقہ یا مطلب بل سولت لکم انفسکم امرا سے یہ مراد ہے کہ تم بنیامین کو ملک مصر میں بغرض منفعت کے لے گئے تھے اور اس کے عوض مضرت حاصل کر لائے یا یہ مراد ہے کہ…
Read the full tafseer →جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس پہنچے اور انہیں ان واقعات سے آگاہ کیا تو یعقوب (علیہ السلام) بہت غم زدہ ہوئے اور ان کی اداسی کئی گنا بڑھ گئی۔ پہلے کی طرح اس واقعہ میں بھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو مہتم قرار دیا (آیت) ” (اور) کہا بلکہ بنا لی ہے تمہارے جی نے ایک بات، پس اب صبر ہی بہتر ہے “ یعنی میں اس معاملے میں صبر جمیل کی پناہ لیتا ہوں جس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناراضی ہے نہ بےصبری کا مظاہرہ اور نہ مخلوق کے پاس شکوہ۔ اور جب انہوں نے دیکھا کہ غم و کرب بہت شدید ہوگیا تو انہوں نے سکون کا سہارا لینے کے لئے کہا : (آیت) ” شاید اللہ لے آئے میرے پاس ان سب کو “ یعنی یوسف، بنیامین اور سب سے بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–87
سرقہ کے بارے میں حکم
قول باری ہے (ارجعوا الی ابیکم فقولوا یا ابانا ان ابنک سرق و ما شھدنا الا بما علمنا وما کنا للغیب حافظین۔ تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ ” ابا جان ! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی۔ ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے) برادران یوسف نے صرف ظاہری حالت کی خبر دی۔ اس لئے کہ انہیں باطنی حالت یعنی اصل بات کا کوئی علم نہیں تھا اسی بنا پر انہوں نے کہا (وما کنا للغیب حافظین) ظاہری طور پر یہی کچھ ہوا تھا کہ شاہی پیمانہ ان کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوا تھا اس لئے بھائی ہی اس پیمانے کو چرانے والا قرار…
Read the full tafseer →137۔ صبر جمیل ہی کو اپنانے کے عزم کا اظہار وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیٹوں کی ان باتوں کے جواب میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ ایسے نہیں بلکہ تمہارے نفسوں ہی نے تمہارے لیے کسی بات کو گھڑ کر اس کو تمہاری نگاہوں میں کھبادیا ہے۔ پس میرا کام تو صبر جمیل ہی کو اپنائے رکھنا ہے۔ سو میں پہلے کی طرح اب بھی مخلوق کے آگے کسی طرح کی کوئی جزع وفزع نہیں کرونگا۔ اور میں اپنا معاملہ اللہ وحدہ لاشریک ہی کے حوالے کرتا ہوں کہ میرا چارہ کار صبر جمیل ہی ہے۔ اور میری امیدوں کا مرکز میرا اللہ ہی ہے۔ وہی بہتری فرمائے گا اور اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہر چیز کی باگ ڈور ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ صبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیات 80 تا 93
اسرار و معارف
بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ یعنی جب بڑے بھائی کی تجویز کے مطابق باقی بھائیوں نے کنعان پہنچ کر اپنے والد حضرت یعقوب ( علیہ السلام) سے یہ سب کچھ بیان یا تو انہوں نے کہا۔ (وحیدی) ۔
2 ۔ یہ جو کہتے ہو کہ بنیامین نے چوری کی اور وس اس کی سزا میں گرفتار کرلیا گیا، صرف یہی بات نہیں ہے کہ بلکہ اس میں تمہاری تسویل نفسانی کو بھی کچھ دخل ہے۔ وہ یہ کہ تم نے بنیامین کے غلام بنائے جانے کا خود ہی فتویٰ دیا اور پھر اس کے بھائی پر بھی چوری کی تہمت لگائی وغیرہ۔ (از روح) ۔
3 ۔ صبر جمیل (عمدہ صبر) سے مراد وہ صبر ہے جس میں انسان اللہ تعالیٰ کی مرضی پر مطمئن اور قانع ہو اور بندوں سے کوئی گلہ شکوہ نہ کرے اور نہ جزع و فزع سے کام لے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
(12: 82) القریۃ۔ بستی۔ بستی کے رہنے والے اس کی جمع قریٰ ہے جو کہ جمع سماعی نہیں ہے قیاسی ہے۔ کیونکہ قیاسی جمع فعلۃ کی فعال کے وزن پر آتی ہے جیسے ظبیۃ کی جمع ظباء ہے۔
العیر۔ قافلہ ۔ کارواں ۔ عار یعیر سے مشتق ہے جس کے معنی چلنے کے ہیں یہ مؤنث ہے اور اس کی جمع عیرات ہے۔
اقبلنا فیہا۔ جس میں ہم آئے ہیں۔ اقبل (افعال) سے بمعنی آگے آنا۔ متوجہ ہونا۔ رخ کرنا۔
(12: 73) بل سولت لکم انفسکم امرا۔ ملاحظہ ہو ۔ 12:18 ۔
بہم۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب آئی ہے کیونکہ اس وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے تین بیٹے جدا تھے۔ حضرت یوسف۔ بنیامین۔ اور یہودا (جس نے کہا تھا کہ میں تو اس ارض مصر سے نہیں ہٹوں گا۔ جب تک کہ میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 87
سولت بنا لی ہے، گھڑ لی صبر جمیل ایسا صبر جس میں کوئی شکایت نہ ہو عسی شاید، امید ہے کہ ان یا تینی یہ کہ وہ لائے میرے پاس تولی اس نے منہ پھیرلیا یا سفی ہائے افسوس ابیضت سفید ہوگئی ( ہوگئیں) عینہ اس کی آنکھیں الحزن رنج و غم کظیم گھٹنے والا (غم برداشت کرنے والا) تذکر ذکر۔ یاد کرنا حرض کمزور ، بےجان اشکوا فریاد کرتا ہوں بثی میرا غم تحسوا تلاش کرو۔ کھوج لگاؤ لاتایئسوا تم مایوس نہ ہو روح اللہ اللہ کی رحمت
تشریح : آیت نمبر 83 تا 87
گزشتہ آیات میں حضرت یعقوب کے گیارہ بیٹوں کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جب ایک بہانے سے حضرت یوسف نے اپنے سگے بھائی بن یا مین کو روک لیا…
Read the full tafseer →فرزندگان یعقوب (علیہ السلام) کی مصر سے واپسی، بنیامین کے حال کی خبر دینا
جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائیوں نے کنعان پہنچ کر باپ سے بنیامین کا قصہ بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ : یہ بھی تمہاری سب افترا پردازی اور من گھڑت ہے یعنی بادشاہ کو کیا خبر تھی کہ چور کی کیا سزا ہے۔ تمہی نے شیخی میں آکر کہ دیا کہ ہم میں سے جو چور ہو اسے غلام بنالیا جائے۔ تمہارے کہنے کے موافق بادشاہ نے کیا، خیر صبر کرنا چاہئے۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو پہلے تو فقط حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کا رنج تھا، اب بنیامین کی جدائی سے اور زیادہ رنج بڑھ گیا جس کی کوئی حد نہ رہی۔ پھر خیال کیا کہ ہر رنج کے ساتھ خوشی لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
[30] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) جانتے تھے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع رکھتے تھے کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کے خواب میں وہ ان کا مستقبل دیکھ چکے تھے اور جانتے تھے کہ کسی نہ کسی دن یہ جدائی ختم ہونے والی ہے تاہم دل کے ہاتھوں مجبور تھے۔ جس کی جدائی ایک گھڑی کے لیے شاق تھی وہ برسوں کے لیے ان سے جدا ہوگیا تھا اس کے فراق کا زخم بھر نہیں سکتا تھا بلکہ اس بات کے
تصور نے کہ وہ زندہ موجود ہے مگر مجھ سے دور ہے درد فراق کی چبھن اور زیادہ کردی تھی۔
Read the full tafseer →(ف 1) جب یہ لوگ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے ، اور انہوں نے یہ داستان غم سنائی ، تو آپ نے نہایت تاسف کے ساتھ اس خبر کو سنا ، مگر یقین نہ ہوا ، کیونکہ یہی لوگ تھے جنہوں نے اس سے قبل یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں بھی جھوٹ بولا تھا ، فرمایا تم جھوٹ بولتے ہو ، تم نے یہ قصہ گھڑ لیا ہے ، میں بہرحال صبر کا پتھر چھاتی پر رکھتا ہوں ، اور اس صدمہ کو برداشت کرتا ہوں ، مجھے خدا سے امید ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین دونوں بھائی بالآخر مجھ سے ضرور ملیں گے ، ۔ اور اللہ تعالیٰ ضرور ملاقات کا سامان بہم پہنچائیں گے ،
یہ عجیب بات ہے کہ وجدان صحیح سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ تو معلوم…
Read the full tafseer →83 ۔ بڑے بھائی کو چھوڑ کر جب بھائی واپس کنعان پہنچے تو انہوں نے تمام واقعہ بیان کیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ سب قصہ سنا کر فرمایا نہیں بن یامین نے چوری نہیں کی بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لئے ایک بات گھڑ لی ہے لہٰذا پہلے کی طرح اس واقعہ پر بھی صبر جمیل ہی میرا کام ہے مجھ کو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ ان سب کو مجھ تک پہنچا دے گا بیشک وہ بڑا علم والا اور بڑا حکمت والا ہے۔ چونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ سے ان بھائیوں کی حرکات سے پوری طرح غیر مطمئن تھے۔
اس لئے فرماای بل سولت لکم صبر جمیل وہ ہے جس میں غیر خدا سے شکوہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ سے شکایت صبر جمیل کے منافی…
Read the full tafseer →ف 2۔ اس لیے اس کو سب کی خبر ہے کہ کہاں کہاں اور کس کس حال میں ہیں۔
3۔ وہ جب ملانا چاہے گا ہزاروں اسباب وتدابیر درست کردے گا۔
Read the full tafseer →یعقوب نے کہا یہ ایک بات ہے جو تم نے گھڑ لی ہے لیکن اب صبر کے سوا چارہ کیا ہے ؟
۔ 99 شدت غم و حزن میں انسان ایسے ہی کلمات پر طبعاً مضطر ہے اور پیغمبر بھی انسان ہی ہوتا ہے۔ سارے انسانی جذبات کے ساتھ یہ گفتگو اب اس موقع کی ہے کہ بڑے بھئای اور بنیامین کو مصر میں چھوڑ کر اور سب بھائی کنعان میں اپنے والد ماجد کی خدمت میں پہنچے ہیں اور اپنی روئیداد مصائب سنائی ہے۔ یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) ےک معاملہ میں ان کی صداقت کا تجربہ کرچکے تھے اس لئے فرمایا نہیں تمہارے جی نے ایک بات بنا لی ہے ، واقعہ یوں نہیں ہے ، بنیامین اور چوری ؟ یہ نہیں ہو سکتا لیکن اب صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور پھر صبر…
Read the full tafseer →Commentary
After the detention of young Benyamin in Egypt, his brothers returned home and told Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) about what had happened there. They tried to assure him that they were telling the truth which can be confirmed from the people in Egypt, as well as, from the caravan they came with from Egypt to Canaan. From the later, he could also ascertain that Benyamin's theft was apprehended and he was arrested for it. Since Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) knew that they had lied to him earlier in the case of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، therefore, he could not believe them this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
That is, you readily believed that my son, whom I know to be of a noble character, had committed the theft of a cup. You have behaved in his case just as you behaved in the case of his elder brother. You made away with him and then pretended, without any pangs of conscience, that a wolf had devoured him and now, with the same ease, you tell me that the other brother has committed a theft.
Read the full tafseer →