Explained with ayahs 80–82
جب برادران یوسف اپنے بھائی کے چھٹکار سے مایوس ہوگئے، انہیں اس بات نے شش وپنچ میں ڈال دیا کہ ہم والد سے سخت عہد پیمان کر کے آئے ہیں کہ بنیامین کو آپ کے حضور میں پہنچا دیں گے۔ اب یہاں سے یہ کسی طرح چھوٹ نہیں سکتے۔ الزام ثابت ہوچکا ہماری اپنی قراد داد کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے اب بتاؤ کیا کیا جائے اس آپس کے مشورے میں بڑے بھائی نے اپنا خیال ان لفظوں میں ظاہر کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس زبردست ٹہوس وعدے کے بعد جو ہم ابا جان سے کر کے آئے ہیں، اب انہیں منہ دکھانے کے قابل تو نہیں رہے نہ یہ ہمارے بس کی بات ہے کہ کسی طرح بنیامین کو شاہی قید سے آزاد کرلیں پھر اس وقت ہمیں اپنا پہلا قصور اور نادم کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
64۔ یعنی تمہارے نزدیک یہ باور کرلینا بہت آسان ہے کہ میرا بیٹا جس کے حسن سیرت سے میں خوب واقف ہوں ایک پیالے کی چوری کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ پہلے تمہارے لیے اپنے ایک بھائی کو جان بوجھ کر گم کردینا اور اس کے قمیص پر جھوٹا خون لگا کرلے آنا بہت آسان کام ہوگیا تھا۔ اب ایک دوسرے بھائی کو واقعی چور مان لینا اور مجھے آکر اس کی خبر دینا بھی ویسا ہی آسان ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
اِرْجِعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْكُمْ یعنی بڑے بھائی نے کہا کہ میں تو یہیں رہوں گا آپ سب لوگ اپنے والد کے پاس واپس جائیں اور ان کو بتلائیں کہ آپ کے صاحبزادہ نے چوری کی اور ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اپنے چشم دید حالات ہیں کہ مال مسروقہ ان کے سامان میں سے ہمارے سامنے برآمد ہوا،
وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْن یعنی ہم نے جو آپ سے عہد کیا تھا کہ ہم بنیامین کو ضرور واپس لائیں گے یہ عہد ظاہری حالات کے اعتبار سے تھا غیب کا حال تو ہم نہ جانتے تھے کہ یہ چوری کر کے گرفتار اور ہم مجبور ہوجائیں گے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے بھائی بنیامین کی پوری حفاظت کی کہ کوئی ایسا کام ان سے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
81۔ 82:۔ اِرْجِعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْكُمْ فَقُوْلُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ ۚ وَمَا شَهِدْنَآ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ۔ وَسْـــَٔـلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَالْعِيْرَ الَّتِيْٓ اَقْبَلْنَا فِيْهَا ۭ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ۔
" وسئل القریۃ " میں مضاف محذوف ہے۔ یعنی وسئل اھل القریۃ۔
یہوذا نے بھائیوں کو یہ مشورہ دیا کہ میں تو یہاں سے کھسکتا نہیں البتہ تم لوگ اپنے باپ کے پاس جاؤ اور ان ان سے عرض کرو کہ آپ کے صاحبزادے نے چوری کی۔ جو کچھ ہمارے علم میں آیا ہے، ہم وہی کہہ رہے ہیں۔ ہم غیب کے عالم نہیں ہیں۔ ہم جس بستی میں ٹھہرے تھے اس کے لوگوں سے بھی…
Read the full tafseer →82۔ 1 اَلْقَرْیَۃَ مراد مصر ہے جہاں وہ غلہ لینے گئے تھے۔ مطلب اہل مصر ہیں۔ اسی طرح والْعِیرَ سے مراد اصحاب العیر یعنی اہل قافلہ ہیں۔ آپ مصر جا کر اہل مصر سے اور اس قافلے والوں سے، جو ہمارے ساتھ آیا ہے، پوچھ لیں کہ ہم جو کچھ بیان کر رہے ہیں، وہ سچ ہے، اس میں جھوٹ کی کوئی آمیزش نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
53: چونکہ حضرت یعقوب ؑ کو یقین تھا کہ بنیامین چوری نہیں کرسکتا۔ اس لیے انہوں نے یہ سمجھا کہ اس مرتبہ بھی ان لوگوں نے کوئی بہانہ بنایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
درس نمبر 110 تشریح آیات
80 ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ 101
برادران یوسف اب برادر خورد کے چھڑانے سے مایوس ہوچکے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے دربار سے ذرا ہٹ کر وہ ایک مجلس مشاورت منعقد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب منظر ہے ۔ سیاق کلام میں سب کے اقوال و تجاویز کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ البتہ اس مشاورت کا آخری قول اور فیصلہ کن تجویز یہاں دے دی گئی۔
آیت نمبر 80 تا 82
برادران یوسف (علیہ السلام) میں سے بڑے بھائی سب سے پہلے ان کو یاد دلاتے ہیں کہ والد نے تم سے پختہ عہد لیا ہے اور یہ کہ اس سے پہلے تم یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھی زیادتی کرچکے ہو ، اور وہ اس کا اقرار کرلیتے ہیں۔ پھر ہو فیصلہ کن تجویز دیتے ہیں کہ وہ مصر کو اس…
Read the full tafseer →3 یعنی آپ معتبر آدمی بھیج کر اس بستی والوں سے تحقیق کرلیں جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ نیز دوسرے قافلہ والوں سے دریافت فرما لیں جو ہمارے ساتھ رہے اور واپس آئے ہیں۔ آپ کو ثابت ہوجائے گا کہ ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں۔
Read the full tafseer →وَسْـــَٔـلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَالْعِيْرَ الَّتِيْٓ اَقْبَلْنَا فِيْهَا ۭ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ
آپ مصر سے بھی حقیقت حال معلوم کرا سکتے ہیں یا پھر جس قافلے کے ساتھ ہم گئے تھے اس کے سب لوگ وہاں موجود تھے ان کے سامنے یہ سب کچھ ہوا تھا۔ آپ ان میں سے کسی سے بھی پوچھ لیں وہ سارا ماجرا آپ کو بتادیں گے۔
Read the full tafseer →79 یعنی اگر آپ ہم پر اعتبار نہیں کرتے تو اہل مصر سے دریافت کرلیجئے یا اس قافلہ والوں سے پوچھ لیجئے جو ہمارے ہمراہی تھے۔ ان شہادتوں سے آپ کو یقین آجائے گا کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں سچی بات ہی کہہ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہاں قریۃ کا لفظ اہل لقریہ یعنی بستی والوں کے معنی میں اور العیر قافلہ والوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
Read the full tafseer →152۔ یعنی اگر آپ ہماری بات کا یقین نہیں کرتے تو اپنے کسی معتبر آدمی کو بھیج کر مصر سے تصدیق کرا لیجئے یا ہمارے ساتھ جو اور اہل قافلہ تھے انہی سے دریافت کرلیجئے سب ہمارے ہی بیان کی تصدیق کریں گے۔ (آیت) ” والعیرالتی اقبلنا فیھا “۔ اس وقت سفر کا عام طریقہ یہی تھا کہ بہت سے لوگ مل کر اور قافلہ بنا کر سفر کرتے تھے اور پھر قحط وگرانی کی مصیبت تو آس پاس کے ملکوں میں پھیلی ہوئی تھی، آل یعقوب (علیہ السلام) کے علاوہ اور بھی خدا معلوم کتنے اس طرح قافلہ بنا کر مصر پہنچ رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیت نمبر 80 تا 93
ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…
Read the full tafseer →واسئل القریۃ التی کنا فیھا اور اس بستی سے جہاں ہم تھے ‘ آپ دریافت کرلیں۔ قریہ سے مراد ہے : مصر۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : مصر کا وہ گاؤں مراد ہے جہاں منادی نے آکر روکا تھا اور اسی جگہ سے ان کو مصر واپس لوٹناپڑا تھا۔
والعیر التی اقبلنا فیھا اور جس قافلے میں ہم آئے ہیں ‘ اس سے بھی آپ دریافت کرلیں۔ حضرت یعقوب کے ہم وطن کچھ کنعانی باشندے بھی اسی قافلے میں آئے تھے۔ ابن اسحاق نے کہا : جو بھائی مصر میں رک گیا تھا ‘ وہ جانتا تھا کہ حضرت یوسف کے سابق واقعہ کی وجہ سے میں اور میرے بھائی باپ کی نظر میں متہم ہیں ‘ اسلئے اس نے بھائیوں سے کہا کہ باپ سے یہ بات کہنا۔
وانا لصدقون اور ہم بلاشک و شبہ یقیناً سچے…
Read the full tafseer →(82) اور اگر یقین نہ ہو تو اس بستی والوں میں سے جو مصر ہی کی ایک بستی ہے کسی سے پوچھ لیجیے اور اس قافلہ والوں سے پوچھ لیجیے جن میں شامل ہو کر ہم یہاں آئے ہیں اور ان کے ساتھ قبیلہ کنعان کے کچھ لوگ آئے تھے اور ہم نے جو کچھ آپ سے بیان کیا اس میں ہم بالکل سچے ہیں، چناچہ سب بھائیوں نے واپس آکر حضرت یعقوب ؑ سے یہ ساری بات بیان کردی۔
Read the full tafseer →وَسْـــَٔـلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا۔۔ : اس میں انھوں نے اپنی صفائی کے لیے تین چیزیں بتائیں : 1 اس بستی (والوں) سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے۔ 2 اس قافلے (والوں) سے بھی جس کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ 3 اور (قسم ہے کہ) بیشک ہم یقیناً سچے ہیں۔ اپنی صفائی میں اتنی شہادتیں پیش کرنے کا باعث یہ تھا کہ انھیں معلوم تھا کہ والد ہماری بات پر اعتبار نہیں کریں گے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 82
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ وسئل القریۃ التی کنافیھا والعیر اسکے ذریعے وہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس اپنی شہادت کو ثابت کررہے ہیں اور اپنے آپ سے الزام کو ختم کر نیکی کوشش کر رہے ہیں تاکہ آپ ان پر الزام نہ لگائیں اور وسل القریۃ سے مراد اہل قریۃ ہیں مضاف محذوف ہے اور قریۃ سے مراد مصر ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد وہ گاؤں ہے جسمیں وہ اترے وسئل القریۃ کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ اگرچہ جمادات پر مبنی ہے مگر آپ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں، اور اللہ تعالیٰ جمادات کو بھی آپکی خاطر زبان عطا فرمائے گا اور وہ گفتگو کریں گے اگر یہ معنی مراد لیا جائے تو پھر اضمار کی ضرورت ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
ظاہر حال پر شہادت دینا :
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” ان ابنک سرق “۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے فرمایا کہ یہ آدمی (یعنی عزیز مصر) نہیں جانتا کہ چور کو پکڑ لیا جاتا ہے اس کی چوری کی وجہ سے مگر تمہاری بات سے ہی اسکو علم ہوا ہوگا۔ اس نے کہا ہم نے وہی کہا جو ہم کو خبر تھی ہم نے جو یہ بیان کیا کہ وہ چور کو چوری کی وجہ سے پکڑ لیا جاتا ہے۔ اور یہ وہی بات تھی جو ہم جانتے تھے۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آپ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی شخص ان کی گواہی لکھے جب ان…
Read the full tafseer →[وَسْـــَٔـلِ : اور آپ پوچھ لیں ] [ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ : اس بستی والوں سے ] [ كُنَا : ہم تھے ] [ فِيْهَا : جس میں ] [ وَالْعِيْرَ الَّتِيْٓ: اور اس قافلہ سے ] [اَقْبَلْنَا : ہم آگے بڑھے (یعنی آئے)] [ فِيْهَا : جس میں ] [ وَانا : اور بیشک ہم ] [ لَصٰدِقُوْنَ : یقینا سچ کہنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
برادران یوسف کا اپنے والد کو چوری کا قصہ بتانا اور ان کا یقین نہ کرنا اور فرمانا کہ جاؤ یوسف کو اور اس کے بھائی کو تلاش کرو
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے جب سارا ماجرا سنایا اور بنیامین کے پکڑے جانے کا واقعہ بتایا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یقین نہ آیا۔ انہوں نے وہی الفاظ دہرا دئیے جو حضرت یوسف کی گمشدگی کے موقع پر فرمائے تھے یعنی (بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا) کہ میرے نزدیک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کہ بنیامین نے چوری کی ہو اور اسے وہیں دھر لیا گیا ہو میری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ تمہارے نفسوں نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے جو مجھے سمجھا رہے ہو ‘ واقعہ کچھ اور ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–87
بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون
(ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
70:۔ آپ مصر میں آدمی بھیج کر تصدیق کرلیں اور ان قافلہ والوں سے دریافت فرما لیں جن کے ہمراہ ہم آئے ہیں آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ہم سچ کہہ رہے ہیں۔ ” قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ الخ “ اس سے پہلے اندماج ہے۔ جب نو بھائی مصر سے روانہ ہو کر واپس وطن پہنچے اور سارا ماجرا حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا نہیں اس میں بھی تمہارا ہی فریب ہے تم نے یوسف کی طرح بنیامین کو بھی کہیں غائب کردیا ہے۔ اچھا میرا کام تو صبر ہی ہے یہ دکھ میرے لیے مقدر ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تینوں بھائیوں کو صحیح سلامت واپس لائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) غیب داں نہ تھے کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
ربط آیات
گزشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ شاہی پیمانہ بن یامین کے سامان سے برآد ہوا اور ان کے اپنے بھائیوں کے مطابق چور کو ایک سال تک غلام بن کر رہنا پڑتا تھا۔ لہٰذا یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کو واپس کنعان جانے سے روک دیا۔ برادران یوسف نے ہر چند بن یامین کو رہا کرانے کی کوشش کی اور اس سلسلہ میں طاقت استعمال کرنے کی دھمکی بھی دی مگر وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ پھر انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور منت سماجت پر اتر آئے۔ یوسف (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہمارا باپ بوڑھا اور نابینا ہوچکا ہے اور وہ اپنے چھوٹے بیٹے کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنے کے قابل نہیں ، لہٰذا آپ ہم میں سے کسی ایک کو بن…
Read the full tafseer →وَسْـــَٔـلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَالْعِيْرَ الَّتِيْٓ اَقْبَلْنَا فِيْهَا ۭ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ 82
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
اِرْجِعُوْ ٓا اِلٰٓی اَبِیْکُمْ فَقُوْلُوْا یٰٓـاَبَانَـآ اِنَّ ابْنَکَ سَرَقَ ج وَمَا شَھِدْنَـآ اِلاَّ بِمَا عَلِمْنَا وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ ۔ وَسْئَلِ الْقَرْیَۃَ الَّتِیْ کُنَّا فِیْھَا وَالْعِیْرَالَّتِیْ ٓ اَقْبَلْنَا فِیْھَا ط وَاِنَّا لَصٰدِقُوْن۔ (سورۃ یوسف : 81، 82)
(تم لوٹ جاؤ اپنے باپ کی طرف پھر عرض کرو اے ہمارے محترم باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم نے وہی بات کہی ہے جو ہمارے علم میں آئی اور ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں۔ اور آپ اس بستی کے لوگوں سے بھی پوچھ لیجیے جس میں ہم رہے ہیں اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بالکل سچے ہیں۔ )
یہوذا نے بھائیوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف جب بنیامین کو رہا کروانے میں نا کام ہوئے تو علیحدہ ہو کر مشورہ کرنے لگے۔
نامعلوم برادران یوسف نے بنیامین کو رہا کروانے کے لیے کس قدر منت سماجت اور ترلے کیے ہوں گے۔ مگر بادشاہ نے ان کی کوئی بات تسلیم نہ کی۔ جب بادشاہ سے پوری طرح مایوس ہوگئے تو انہوں نے علیحدہ ہو کر آپس میں مشورہ کیا کر اب کیا کرنا چاہیے۔ بالآخر ان کا بڑا بھائی جس کا نام مؤرخین یہودہ بتلاتے ہیں کہنے لگا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم سب سے والد صاحب نے قسمیں اٹھوا کر وعدہ لیا ہے کہ تم ہر صورت بنیامین کو اپنے ساتھ واپس لاؤ گے اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ تم اس سے پہلے یوسف کے ساتھ…
Read the full tafseer →82: وَسْئَلِ الْقَرْیَۃَ الَّتِیْ کُنَّا فِیْھَا (اور اس بستی سے جہاں ہم تھے۔ آپ دریافت کرلیں) یعنی مصر میں آدمی بھیج کر واقعہ کی اصلیت معلوم کرلیں۔ وَالْعِیْرَ الَّتِیْ اَقْبَلْنَا فِیْھَا (اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے ہیں) قافلہ والوں سے۔ یہ لوگ یعقوب (علیہ السلام) کے پڑوسی کنعانی لوگ تھے۔ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ (اور بیشک ہم سچے ہیں) اپنی اس بات میں۔
Read the full tafseer →82۔” واسال القریۃ التی کنا فیھا “ یعنی بستی والوں سے اور وہ مصر کے لوگ ہیں ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ مصر کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے انہوں نے اس سے مصر کی طرف کوچ کیا تھا۔” والعیر التی اقبلنا فیھا “ یعنی وہ قابلہ جس میں ہم تھے کیونکہ ان کے ساتھ یعقوب (علیہ السلام) کے پڑوس میں کنعان کی ایک اور قوم بھی سفر میں تھیں۔” وانا لصادقون “ اگر یہ اعتراض ہو کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد کو اطلاع دیئے بغیر اپنے بھائی کو اپنے پاس کیسے روک لیا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ والد کو اس سے شدید محبت ہے اور اس کے نہ جانے کی وجہ سے ان کو تکلیف ہوگی تو یوسف (علیہ السلام) کے لیے والد کو تکلیف دینا کیسے جائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
80۔ 82۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی بنیامین کی رہائی سے ناامید ہوگئے تو صلاح و مشورہ کرنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہیے عزیز مصر تو کسی طرح ہماری التجا قبول نہیں کرتا۔ بڑا بھائی جس کا نام روبیل تھا اس نے یہ کہا کہ تم سب جانتے ہو کہ چلتے وقت تمہارے باپ نے بنیامین کے واپس لانے کے لئے خدا کو درمیان میں دے کر قول قرار لیا تھا اور اس سے پہلے تم سے ایک قصور اور سرزد ہوچکا ہے کہ تم یوسف (علیہ السلام) کو باپ سے جدا کرچکے ہو۔ ایسی حالت میں میری تو غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ اب باپ کو منہ دکھاؤں میں تو اب یہاں سے ہلنے کا نہیں جب تک باپ کی اجازت نہیں آئے گی میں یہیں رہوں گا یا لڑ بھڑ کر عزیز مصر سے…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور دریافت کرلیجیے “ یعنی اگر آپ کو ہماری بات میں کوئی شک ہے، تو (آیت) ” اس بستی سے جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے جس میں ہم آئے ہیں “ ہم نے جو آپ کو خبر سنائی ہے اس کے بارے میں پوری اطلاع رکھتے ہیں۔ (آیت) ” اور ہم البتہ سچے ہیں۔ “ ہم نے جھوٹ بولا ہے نہ ہم نے تغیر و تبدیل کیا ہے، بلکہ یہی واقعات ہیں۔ ( جو ہم آپ کو بتا رہے ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–87
سرقہ کے بارے میں حکم
قول باری ہے (ارجعوا الی ابیکم فقولوا یا ابانا ان ابنک سرق و ما شھدنا الا بما علمنا وما کنا للغیب حافظین۔ تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ ” ابا جان ! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی۔ ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے) برادران یوسف نے صرف ظاہری حالت کی خبر دی۔ اس لئے کہ انہیں باطنی حالت یعنی اصل بات کا کوئی علم نہیں تھا اسی بنا پر انہوں نے کہا (وما کنا للغیب حافظین) ظاہری طور پر یہی کچھ ہوا تھا کہ شاہی پیمانہ ان کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوا تھا اس لئے بھائی ہی اس پیمانے کو چرانے والا قرار…
Read the full tafseer →136۔ اپنی سچائی کی تائید و تصدیق کے لیے اہتمام مزید کا ذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی سچائی کی تائید و تصدیق کے لیے اپنے باپ سے مزید کہا کہ آپ پوچھ لیجئے اس بستی سے جس میں ہم لوگ فروکش تھے اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے تھے اور بلاشبہ ہم ہر طرح سے سچے ہیں بستی سے مراد اس کے باشندے ہیں۔ سو برادران یوسف نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ پوچھ لیجئے اس بستی کے باشندوں سے جس میں ہم لوگ فروکش تھے۔ اور اس قافلے سے جس میں ہم واپس آئے۔ وہ سب ہماری صفائی اور سچائی کی گواہی دیں گے کہ واقعتہ ہم ہر طرح سچے ہیں۔ دیکھ لیجئے کہ ایک مرتبہ جب کسی کا اعتماد کھوجائے تو پھر اس کو دوبارہ اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیات 80 تا 93
اسرار و معارف
بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…
Read the full tafseer →ف 18 ۔ جہاں چوری کا یہ واقعہ پیش آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
(12: 82) القریۃ۔ بستی۔ بستی کے رہنے والے اس کی جمع قریٰ ہے جو کہ جمع سماعی نہیں ہے قیاسی ہے۔ کیونکہ قیاسی جمع فعلۃ کی فعال کے وزن پر آتی ہے جیسے ظبیۃ کی جمع ظباء ہے۔
العیر۔ قافلہ ۔ کارواں ۔ عار یعیر سے مشتق ہے جس کے معنی چلنے کے ہیں یہ مؤنث ہے اور اس کی جمع عیرات ہے۔
اقبلنا فیہا۔ جس میں ہم آئے ہیں۔ اقبل (افعال) سے بمعنی آگے آنا۔ متوجہ ہونا۔ رخ کرنا۔
(12: 73) بل سولت لکم انفسکم امرا۔ ملاحظہ ہو ۔ 12:18 ۔
بہم۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب آئی ہے کیونکہ اس وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے تین بیٹے جدا تھے۔ حضرت یوسف۔ بنیامین۔ اور یہودا (جس نے کہا تھا کہ میں تو اس ارض مصر سے نہیں ہٹوں گا۔ جب تک کہ میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
لغات القرآن آیت نمبر 80 تا 82
استیئسوا وہ مایوس ہوگئے خلصوا وہ الگ جا بیٹھے نجی خفیہ بات کرنے والا کبیر بڑا الم تعلموا کیا تمہیں معلوم نہیں موثق پختہ، پکا فرطتم تم نے زیادتی کی ہے لنابرح میں ہرگز نہ چھوڑوں گا، نہیں ٹلوں گا حتی یاذن جب تک اجازت دیتا ہے یحکم وہ فیصلہ کرتا ہے ارجعوا لوٹ جاؤ ابنک تیرا بیٹا اسئل پوچھ لے العیر قافلہ اقبلنا ہم سامنے آئے
تشریح آیت نمبر 80 تا 82
جب برادران یوسف اپنی تدبیر اور کوشش میں ناکام ہوگئے اور انہوں نے اچھی طرح اندازہ کرلیا کہ بادشاہ بن یا مین کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑے گا اور اس نے بن یا مین کو اپنا باقاعدہ غلام بنا لیا ہے تب برادران یوسف اس تصور سے بےچین ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی بنیامین کی رہائی سے ناامید ہوگئے تو صلاح ومشورہ کرنے لگے کہ ان کیا کرنا چاہئے، عزیز مصر تو کسی طرح ہماری التجا قبول نہیں کرتا، بڑا بھائی جس کا نام روبیل تھا، اس نے کہا کہ باپ نے بنیامین کے واپس لانے لئے خدا کو درمیان میں دے کر قول وقرار لیا تھا پہلے بھی قصور سرزد ہوچکا ہے، میری غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ باپ کو منہ دکھاؤں۔ جب تک باپ کی اجازت نہیں آوے گی میں یہیں رہوں گا اور اپنے بھائی کو لے کر جاؤں گا۔ قتل ہوں گے یا قتل کریں گے بغیر اس کو لئے نہیں جائیں گے۔ خدا احکم الحاکمین ہے اسی کے ہاتھ میں ہمارا فیصلہ ہے۔ جو تقدیر میں ہوگا وہ ہوگا تم اگر گھر جاتے ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
[30] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) جانتے تھے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع رکھتے تھے کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کے خواب میں وہ ان کا مستقبل دیکھ چکے تھے اور جانتے تھے کہ کسی نہ کسی دن یہ جدائی ختم ہونے والی ہے تاہم دل کے ہاتھوں مجبور تھے۔ جس کی جدائی ایک گھڑی کے لیے شاق تھی وہ برسوں کے لیے ان سے جدا ہوگیا تھا اس کے فراق کا زخم بھر نہیں سکتا تھا بلکہ اس بات کے
تصور نے کہ وہ زندہ موجود ہے مگر مجھ سے دور ہے درد فراق کی چبھن اور زیادہ کردی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
(ف 1) بالآخر یہ لوگ مایوس ہوگئے ، اور انہوں نے دیکھا کہ اب کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی ، اب بنیامین کا یہاں سے چھڑا لے جانا ناممکن ہے ، اس لئے اب اس سوچ میں پڑگئے کہ ابا کو کیا جواب دیں گے ، یوسف (علیہ السلام) کی وجہ سے پہلے ہی بدنام ہیں ، اب اور بھی بھرم کھل جائے گا ، ہم ابا کو یقین دلا کر لائے تھے ، کہ پوری پوری حفاظت کریں گے ، اب کس منہ سے کہیں گے کہ وہ ہمارے ساتھ نہیں آسکا ، صلاح ومشورہ کے بعد قرار پایا کہ اصل واقع ان کے گوش گزار کردیا جائے ، اور کہہ دیا جائے کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے ، ہم کیا جانتے تھے کہ یہ اس طرح چور بنے گا ، ہمیں غیب کی کیا خبر تھی ، جو پہلے سے معلوم کرلیتے ، ہم…
Read the full tafseer →82 ۔ اور نیز یہ کہ آپ اس بستی کے لوگوں سے دریافت کرلیجئے جہاں ہم مقیم تھے اور ان قافلہ والوں سے پوچھ لیجئے جن کے ساتھ ہم تھے اور شامل ہو کر ان کے ساتھ آئے ہیں اور یقین مانیے ہم بالکل سچ کہتے ہیں ۔ یعنی آپ یا تو مصر میں کسی کو بھیج کر دریافت کرلیجئے کہ یہ واقعہ ہوا یا نہیں یا دوسرے قافلوں کے لوگ جن کے ساتھ شامل ہو کر ہم آئے ہیں ان قافلے والوں سے پوچھ لیجئے غالباً قحط عام تھا اس لئے اور لوگ بھی کنعان کے آس پاس کے مصر جاتے ہوں گے اور کئی کئی قافلے مل کر چلتے ہوں گے جو آنے میں یا جانے میں ساتھ ہوجاتے ہوں گے۔
Read the full tafseer →ف 1۔ معلوم ہوتا ہے کہ اور بھی کنعان یا آس پاس کے لوگ غلہ لینے گئے ہوں گے۔
Read the full tafseer →وہ کونسا قافلہ تھا جس سے یہ لوگ کنعان گئے تھے جس سے تصدیق کیلئے انہوں نے والد سے کہا
۔ 98 اس بستی سے مراد مصر ہے اور قافلہ سے مراد وہ قافلہ ہے جو کنعان کے قرب و جوار سے دوسرے لوگوں کا گیا ہوا تھا اور جن کی موجودگی میں یہ سارا معاملہ ہوا تھا جو مصر میں یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں اور کارندوں کے درمیان ہوا۔ یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے جو مصر سے واپس آئے تھے انہوں نے والد بزرگوار سے عرض کی کہ اگر آپ ہماری اس بات اک یقین نہیں کرتے تو اپنے کسی معتبر آدمی کو بھیج کر مصر سے تصدیق کرا لیجیے یا ہمارے ساتھ جو اور اہل قافلہ تھے انہی سے دریافت کر لیجیے سب ہمارے بیان کی تصدیق کریں گے۔ اس وقت سفر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
Then, in verse 81, it was said: ارْجِعُوا إِلَىٰ أَبِيكُمْ , that is, the oldest brother said: I am going to stay here. You all go back to your father and tell him that his son has committed a theft, and that whatever we are saying is what we have seen with our own eyes, and that the stolen property was recovered from his baggage before us.
As for the last sentence of verse 81: وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ (and we could not guard against the unseen), it means that ` the pledge we had given to you to bring back Benyamin definitely was given in terms of outwardly visible circumstances.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
That is, you readily believed that my son, whom I know to be of a noble character, had committed the theft of a cup. You have behaved in his case just as you behaved in the case of his elder brother. You made away with him and then pretended, without any pangs of conscience, that a wolf had devoured him and now, with the same ease, you tell me that the other brother has committed a theft.
Read the full tafseer →