Yusuf 12:81

Yusuf · from ayah 81

12:81

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤی اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ ۚ— وَمَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ ۟اِرۡجِعُوۡۤا اِلٰٓى اَبِيۡكُمۡ فَقُوۡلُوۡا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابۡنَكَ سَرَقَ‌ۚ وَمَا شَهِدۡنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَمَا كُنَّا لِلۡغَيۡبِ حٰفِظِيۡنَ‏

تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Return to your father and say, "O our father, indeed your son has stolen, and we did not testify except to what we knew. And we were not witnesses of the unseen,

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 10 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:81

تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ "ابا جان، آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا، جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں، اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کر سکتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم سب والد صاحب کی خدمت میں واپس جاؤ اور کہو کہ اباجی! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی اور ہم نے وہی گواہی دی تھی جو ہم جانتے تھے۔ ہم کچھ غیب کی حفاﻇت کرنے والے نہ تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جاؤ۔ اپنے والد کے پاس واپس جاؤ، اور ان سے کہو کہ : ابا جان ! آپ کے بیٹے نے چوری کرلی تھی اور ہم نے وہی بات کہی ہے جو ہمارے علم میں آئی ہے، اور غیب کی نگہبانی تو ہمارے بس میں نہیں تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم اپنے باپ کی طرف لوٹ جاؤ پھر (جا کر) کہو: اے ہمارے باپ! بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے (اس لئے وہ گرفتار کر لیا گیا) اور ہم نے فقط اسی بات کی گواہی دی تھی جس کا ہمیں علم تھا اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اپنے باپ کی طرف واپس جاؤ، پس کہو اے ہمارے باپ ! بیشک تیرے بیٹے نے چوری کرلی اور ہم نے شہادت نہیں دی مگر اس کے مطابق جو ہم نے جانا اور ہم غیب کی حفاظت کرنے والے نہ تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم لوگ اپنے باپ سے جاکر کہو : ابا جان ! آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے۔ ہم نے وہی گواہی دی جو ہم جانتے تھے اور ہم پوشیدہ چیزوں کے نگہبان نہیں ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم لوگ اپنے باپ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اے ہمارے باپ ! آپ کے بیٹے نے چوری کی اور ہم نے وہی بات کہی ہے جو ہمارے علم میں آئی، ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ اے ابا جان، یقین کیجئے کہ آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے، اور ہم وہی بیان کر رہے ہیں جو ہم نے خود دیکھا ہے اور ہم نہیں تھے غیب کی خبر رکھنے والے،

— مولانا اسحاق مدنی

تم لوگ اپنے باپ کے پاس واپس جاؤ اور ان سے کہو کہ اے ابا آپ کے بیٹے نے چوری کی اور ہم تو شاہد اتنے ہی کے تھے جتنا ہم جانتے تھے اور ہم غیب کے تو جاننے والے تھے نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تم لوٹ جاؤ اپنے والد کے پاس اور (جا کر) کہو کہ ابا جان ! آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم گواہی نہیں دے سکتے مگر اسی چیز کی جس کے بارے میں ہمیں علم ہے اور ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم سب والد کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا جان ! آپ کے بیٹے نے وہاں جا کر چوری کی ہے اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق آپ سے اس کے لے آنے کا عہد کیا تھا۔ مگر ہم غیب کی باتوں کے جاننے والے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So go back to your father and tell him: "Father! Your son has certainly been guilty of stealing. We did not see him stealing but testify according to what we know, and obviously we had no power to keep watch over that what is altogether hidden from us.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Go back to your father and say, _Our father, your son has committed theft, and we do not testify except what we know, and we could not guard against the unseen.

— Muhammad Taqi Usmani

Go back to your father and say, _Our father, your son has committed theft, and we do not testify except what we know, and we could not guard against the unseen.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Return to your father and say, `O our father! Verily, your son has stolen, and we testify not except according to what we know, and we could not know the Unseen!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Return unto your father and say: O our father! Lo! thy son hath stolen. We testify only to that which we know; we are not guardians of the Unseen.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Return to your father and say, "O our father, indeed your son has stolen, and we did not testify except to what we knew. And we were not witnesses of the unseen,

— Saheeh International

"Go to our father and tell him, 'Father, your son committed theft. We say only what we have seen and we have no control over the unseen.

— Muhammad Sarwar

Go back to your father and say: O our father! surely your son committed theft, and we do not bear witness except to what we have known, and we could not keep watch over the unseen:

— Muhammad Habib Shakir

Return unto your father, and say: our father! verily thy son hath stolen, and we testify not save according to that which we know; and of the unseen we could not be guards.

— Abdul Majid Daryabadi

"Turn ye back to your father, and say, 'O our father! behold! thy son committed theft! we bear witness only to what we know, and we could not well guard against the unseen!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:81

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 80–82

جب برادران یوسف اپنے بھائی کے چھٹکار سے مایوس ہوگئے، انہیں اس بات نے شش وپنچ میں ڈال دیا کہ ہم والد سے سخت عہد پیمان کر کے آئے ہیں کہ بنیامین کو آپ کے حضور میں پہنچا دیں گے۔ اب یہاں سے یہ کسی طرح چھوٹ نہیں سکتے۔ الزام ثابت ہوچکا ہماری اپنی قراد داد کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے اب بتاؤ کیا کیا جائے اس آپس کے مشورے میں بڑے بھائی نے اپنا خیال ان لفظوں میں ظاہر کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس زبردست ٹہوس وعدے کے بعد جو ہم ابا جان سے کر کے آئے ہیں، اب انہیں منہ دکھانے کے قابل تو نہیں رہے نہ یہ ہمارے بس کی بات ہے کہ کسی طرح بنیامین کو شاہی قید سے آزاد کرلیں پھر اس وقت ہمیں اپنا پہلا قصور اور نادم کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 80–83

64۔ یعنی تمہارے نزدیک یہ باور کرلینا بہت آسان ہے کہ میرا بیٹا جس کے حسن سیرت سے میں خوب واقف ہوں ایک پیالے کی چوری کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ پہلے تمہارے لیے اپنے ایک بھائی کو جان بوجھ کر گم کردینا اور اس کے قمیص پر جھوٹا خون لگا کرلے آنا بہت آسان کام ہوگیا تھا۔ اب ایک دوسرے بھائی کو واقعی چور مان لینا اور مجھے آکر اس کی خبر دینا بھی ویسا ہی آسان ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 81–82

اِرْجِعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْكُمْ یعنی بڑے بھائی نے کہا کہ میں تو یہیں رہوں گا آپ سب لوگ اپنے والد کے پاس واپس جائیں اور ان کو بتلائیں کہ آپ کے صاحبزادہ نے چوری کی اور ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اپنے چشم دید حالات ہیں کہ مال مسروقہ ان کے سامان میں سے ہمارے سامنے برآمد ہوا، وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْن یعنی ہم نے جو آپ سے عہد کیا تھا کہ ہم بنیامین کو ضرور واپس لائیں گے یہ عہد ظاہری حالات کے اعتبار سے تھا غیب کا حال تو ہم نہ جانتے تھے کہ یہ چوری کر کے گرفتار اور ہم مجبور ہوجائیں گے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے بھائی بنیامین کی پوری حفاظت کی کہ کوئی ایسا کام ان سے نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 81–82

81۔ 82:۔ اِرْجِعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْكُمْ فَقُوْلُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ ۚ وَمَا شَهِدْنَآ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ۔ وَسْـــَٔـلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَالْعِيْرَ الَّتِيْٓ اَقْبَلْنَا فِيْهَا ۭ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ۔ " وسئل القریۃ " میں مضاف محذوف ہے۔ یعنی وسئل اھل القریۃ۔ یہوذا نے بھائیوں کو یہ مشورہ دیا کہ میں تو یہاں سے کھسکتا نہیں البتہ تم لوگ اپنے باپ کے پاس جاؤ اور ان ان سے عرض کرو کہ آپ کے صاحبزادے نے چوری کی۔ جو کچھ ہمارے علم میں آیا ہے، ہم وہی کہہ رہے ہیں۔ ہم غیب کے عالم نہیں ہیں۔ ہم جس بستی میں ٹھہرے تھے اس کے لوگوں سے بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

80۔ 1 یعنی ہم نے جو عہد کیا تھا کہ ہم بنیامین کو باحفاظت واپس لے آئیں گے، تو یہ ہم نے اپنے علم کے مطابق عہد کیا تھا، بعد میں جو واقعہ پیش آگیا اور جس کی وجہ سے بنیامین کو ہمیں چھوڑنا پڑا، یہ تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ دوسرا مطلب یہ ہے ہم نے چوری کی جو سزا بیان کی تھی چور کو ہی چوری کے بدلے میں رکھ لیا جائے، تو یہ سزا ہم نے اپنے علم کے مطابق ہی تجویز کی تھی۔ اس میں کسی قسم کی بدنیتی شامل نہیں تھی۔ لیکن یہ اتفاق کی بات تھی کہ جب سامان کی تلاشی لی گئی تو مسروقہ کٹورا بنیامین کے سامان سے نکل آیا۔ 81۔ 2 یعنی مستقبل میں پیش آنے والے واقعات سے ہم بیخبر تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 78–83

53: چونکہ حضرت یعقوب ؑ کو یقین تھا کہ بنیامین چوری نہیں کرسکتا۔ اس لیے انہوں نے یہ سمجھا کہ اس مرتبہ بھی ان لوگوں نے کوئی بہانہ بنایا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 80–82

درس نمبر 110 تشریح آیات 80 ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ 101 برادران یوسف اب برادر خورد کے چھڑانے سے مایوس ہوچکے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے دربار سے ذرا ہٹ کر وہ ایک مجلس مشاورت منعقد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب منظر ہے ۔ سیاق کلام میں سب کے اقوال و تجاویز کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ البتہ اس مشاورت کا آخری قول اور فیصلہ کن تجویز یہاں دے دی گئی۔ آیت نمبر 80 تا 82 برادران یوسف (علیہ السلام) میں سے بڑے بھائی سب سے پہلے ان کو یاد دلاتے ہیں کہ والد نے تم سے پختہ عہد لیا ہے اور یہ کہ اس سے پہلے تم یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھی زیادتی کرچکے ہو ، اور وہ اس کا اقرار کرلیتے ہیں۔ پھر ہو فیصلہ کن تجویز دیتے ہیں کہ وہ مصر کو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی مجھے چھوڑ دو اور تم سب جا کر باپ سے عرض کرو کہ ایسا واقعہ پیش آیا، جس کی کوئی توقع نہ تھی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی تم کو قول دیا تھا کہ اپنی دانست پر۔ یہ کیا خبر تھی کہ بنیامین چوری کر کے پکڑا جائے گا۔ یا ہم نے چور کو پکڑ رکھنا بتایا اپنے دین کے موافق۔ یہ نہ معلوم تھا کہ " بھائی چور ہے۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَمَا شَهِدْنَآ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ ابا جان ! ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہم تو آپ کو وہی حقیقت بتا رہے ہیں جو ہمارے علم میں آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ بن یا میں نے چوری کی ہے اور اس جرم میں وہ وہاں پکڑا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

78 یعنی ہم نے بچشم خود دیکھا تھا کہ گمشدہ پیالہ اس کے سامان سے نکلا تھا۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اس نے چوری کی ہے اور جب ہم نے آپ سے اس کی حفاظت کرنے کا عہد و پیمان کیا تھا اس وقت ہمیں یہ تو معلوم نہ تھا کہ وہ مصر جاکر چوری کرے گا، اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ہم سے پوچھا کہ تمہارے ہاں چور کی کیا سزا ہے، تو ہم نے وہی بات بتائی جو ہم جانتے تھے یعنی چور اس شخص کی غلامی میں ایک سال رہے جس کی اس نے چوری کی ہے۔ مگر ہمیں یہ کیا خبر تھی کہ ہمارا یہ بیان ہم پر ہی لاگو ہونے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

151۔ یعنی ہمیں کیا خبر تھی کہ بنیامین یہ حرکت کرے گا ورنہ ہم کبھی قول وقرار نہ کرتے۔ (آیت) ” وما شھدنا الا بما علمنا “۔ یعنی قول وقرار دیتے وقت تو ہم نے صرف اتنی ہی ذمہ داری لی تھی جتنی ہمارے ظاہر علم میں آسکتی تھی، فقہاء نے یہاں سے یہ نکالا ہے کہ ظاہر علم پر بھی بغیر حقیقت علم کے شمول کے اسم علم کا اطلاق جائز ہے۔ ھذا یدل علی جواز اطلاق اسم العلم من طریق الظاھر وان لم یعلم حقیقتہ (جصاص)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 80–93

آیت نمبر 80 تا 93 ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ارجعوا الی ابیکم فقولوا یابانا ان ابنک سرق تم لوگ اپنے والد کے پاس لوٹ جاؤ اور جا کر کہہ دو : ابا ! آپ کے بیٹے (بنیامین) نے چوری کی۔ یعنی بظاہر امر ہم نے اس کے سامان سے چوری کا مال برآمدہوتے دیکھا (جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی نے چوری کی) ۔ وما شھدنا الا بما علمنا اور ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو مشاہدہ سے ہم کو معلوم ہوا۔ یعنی ہم جو کہہ رہے ہیں کہ اس نے چوری کی ‘ اس وجہ سے کہہ رہے ہیں کہ ہم کو یقین ہوچکا اور ہم نے خود دیکھ لیا کہ بادشاہ کا پیمانہ اس کے تھیلے سے برآمد ہوا۔ بعض اہل تفسیر نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا : ہم نے کوئی شہادت کبھی بغیر ذاتی علم کے نہیں دی ‘ اسلئے ہماری طرف سے شہادت نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(81) پھر یہودا نے اپنے بھائیوں سے کہا میرے بھائیوں تم اپنے باپ کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ آپ کے بیٹے نے بادشاہ کے پیمانہ کی جو کہ سونے کا تھا چوری کرلی ہے اور ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہمیں مشاہدہ سے معلوم ہوا کہ وہ چرائی ہوئی چیز بنیامین کے سامان میں سے ملی ہے۔ اور اگر ہم غیب کی باتوں سے واقف ہوتے تو ہم ان کو ہرگز اپنے ساتھ لے کر نہ جاتے اور رات کے وقت تو ہم ان کی نگرانی نہیں کر رہے تھے کہ انہوں نے کیا کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِرْجِعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْكُمْ۔۔ : البتہ تم واپس جا کر والد کو بتاؤ کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے، اگر تم بھی واپس نہ گئے تو والد اور زیادہ پریشان ہوں گے کہ شاید تمام بیٹے ہی گرفتار ہوگئے، یا ان کا کیا بنا، اس لیے واپس جا کر انھیں حقیقت حال سے آگاہ کرو۔ وَمَا شَهِدْنَآ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ ہم نے بھائی کے چور ہونے کی شہادت اپنے علم ہی کے مطابق دی ہے، کیونکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے اس کے سامان سے پیمانہ نکلتا ہوا دیکھا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے عزیز مصر کو جو مسئلہ بتایا کہ چور کی یہ سزا ہے تو وہ ہم نے اپنے علم ہی کے مطابق بتایا کہ ہمارے باپ دادا کی شریعت کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 81 ارجعوٓا الیٰ ابیکم کا قول اسی نے کہا جس نے فلن ابرح الارض کہا تھا فقولو یٰٓابانآ ان ابنک سرق حضرت ابن عباس ؓ ضحاک اور ابورزین نے اس کو إن ابنک سرق پڑھا ہے، نحاس نے کہا : مجھے محمد بن احمد بن عمر نے بیان کیا انہوں نے کہا ہمیں ابن شاذان نے بیان کیا انہوں نے کہا ہیں احمد بن ابی سریح بغدادی نے بیان کیا انہوں نے کہا : میں نے کسائی کو یاأبانا ابنک سرق پڑھتے ہوئے سنا ہے، یعنی سین کے ضمہ اور راء مک سورة کی شد کے ساتھ، یعنی تیرے بیٹے کی طرف چوری کو منسوب کیا گیا ہے، جیسے خونتہ، وفسقتہ وفجرتہ کہا جاتا ہے ان عادات کی طرف کسی کی نسبت کی جائے۔ زجاج نے کہا : سرق میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ ایک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 81–83

ظاہر حال پر شہادت دینا : 1:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” ان ابنک سرق “۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے فرمایا کہ یہ آدمی (یعنی عزیز مصر) نہیں جانتا کہ چور کو پکڑ لیا جاتا ہے اس کی چوری کی وجہ سے مگر تمہاری بات سے ہی اسکو علم ہوا ہوگا۔ اس نے کہا ہم نے وہی کہا جو ہم کو خبر تھی ہم نے جو یہ بیان کیا کہ وہ چور کو چوری کی وجہ سے پکڑ لیا جاتا ہے۔ اور یہ وہی بات تھی جو ہم جانتے تھے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آپ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی شخص ان کی گواہی لکھے جب ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِرْجِعُوْٓا : تم لوگ لوٹو ] [ اِلٰٓى اَبِيْكُمْ : اپنے والد کی طرف ] [ فَقُوْلُوْا : پھر کہو ] [ يٰٓاَبَانآ : اے ہمارے والد ] [ ان : بیشک ] [ابْنَكَ : آپ کے بیٹے نے ] [ سَرَقَ : چوری کی ] [ وَمَا شَهِدْنَآ : اور ہم نے گواہی نہیں دی ] [ اِلَّا : مگر ] [ بِمَا : اس کی جو ] [ عَلِمْنَا : ہم نے جانا [ وَمَا كُنَا : اور ہم نہیں تھے ] [ لِلْغَيْبِ : غیب کی ] [حٰفِظِيْنَ : حفاظت کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 81–83

برادران یوسف کا اپنے والد کو چوری کا قصہ بتانا اور ان کا یقین نہ کرنا اور فرمانا کہ جاؤ یوسف کو اور اس کے بھائی کو تلاش کرو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے جب سارا ماجرا سنایا اور بنیامین کے پکڑے جانے کا واقعہ بتایا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یقین نہ آیا۔ انہوں نے وہی الفاظ دہرا دئیے جو حضرت یوسف کی گمشدگی کے موقع پر فرمائے تھے یعنی (بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا) کہ میرے نزدیک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کہ بنیامین نے چوری کی ہو اور اسے وہیں دھر لیا گیا ہو میری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ تمہارے نفسوں نے اپنے پاس سے بات بنا لی ہے جو مجھے سمجھا رہے ہو ‘ واقعہ کچھ اور ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–87

بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون (ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 80–81

69:۔ یہ بارہواں حال ہے۔ جب وہ بنیامین کی واپسی سے ناامید ہوگئے تو علیحدہ ہو کر مشورہ کیا۔” قَالَ کَبِیْرُھُمْ الخ “ بڑے بھائی یہودا نے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم اپنے باپ کو اللہ کا عہد دے کر آئے ہو اور اس سے پہلے تم یوسف کے بارے میں بھی غلطی کرچکے ہو اس لیے میں تو یہاں سے نہیں ہلوں گا یہاں تک کہ باپ مجھے اجازت دے یا اللہ تعالیٰ مجھے بذریعہ الہام واپس جانے کا حکم فرما دے یا اللہ تعالیٰ میرے واپس جانے کی کوئی اور باعزت راہ نکال دے۔ یعنی عزیز مصر بنیامین مجھے واپس دے دے اور میں اسے لے کر واپس چلا جاؤ۔ ” اِرْجِعُوْا اِلیٰ اَبِیْکُمْ الخ “ تم سب واپس جاؤ اور والد گرامی کی خدمت میں عرض کرنا کہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 80–83

ربط آیات گزشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ شاہی پیمانہ بن یامین کے سامان سے برآد ہوا اور ان کے اپنے بھائیوں کے مطابق چور کو ایک سال تک غلام بن کر رہنا پڑتا تھا۔ لہٰذا یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کو واپس کنعان جانے سے روک دیا۔ برادران یوسف نے ہر چند بن یامین کو رہا کرانے کی کوشش کی اور اس سلسلہ میں طاقت استعمال کرنے کی دھمکی بھی دی مگر وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ پھر انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور منت سماجت پر اتر آئے۔ یوسف (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہمارا باپ بوڑھا اور نابینا ہوچکا ہے اور وہ اپنے چھوٹے بیٹے کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنے کے قابل نہیں ، لہٰذا آپ ہم میں سے کسی ایک کو بن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِرْجِعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْكُمْ فَقُوْلُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ ۚ وَمَا شَهِدْنَآ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ 81 ؀ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 81–82

اِرْجِعُوْ ٓا اِلٰٓی اَبِیْکُمْ فَقُوْلُوْا یٰٓـاَبَانَـآ اِنَّ ابْنَکَ سَرَقَ ج وَمَا شَھِدْنَـآ اِلاَّ بِمَا عَلِمْنَا وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ ۔ وَسْئَلِ الْقَرْیَۃَ الَّتِیْ کُنَّا فِیْھَا وَالْعِیْرَالَّتِیْ ٓ اَقْبَلْنَا فِیْھَا ط وَاِنَّا لَصٰدِقُوْن۔ (سورۃ یوسف : 81، 82) (تم لوٹ جاؤ اپنے باپ کی طرف پھر عرض کرو اے ہمارے محترم باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم نے وہی بات کہی ہے جو ہمارے علم میں آئی اور ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں۔ اور آپ اس بستی کے لوگوں سے بھی پوچھ لیجیے جس میں ہم رہے ہیں اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بالکل سچے ہیں۔ ) یہوذا نے بھائیوں کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 80–82

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف جب بنیامین کو رہا کروانے میں نا کام ہوئے تو علیحدہ ہو کر مشورہ کرنے لگے۔ نامعلوم برادران یوسف نے بنیامین کو رہا کروانے کے لیے کس قدر منت سماجت اور ترلے کیے ہوں گے۔ مگر بادشاہ نے ان کی کوئی بات تسلیم نہ کی۔ جب بادشاہ سے پوری طرح مایوس ہوگئے تو انہوں نے علیحدہ ہو کر آپس میں مشورہ کیا کر اب کیا کرنا چاہیے۔ بالآخر ان کا بڑا بھائی جس کا نام مؤرخین یہودہ بتلاتے ہیں کہنے لگا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم سب سے والد صاحب نے قسمیں اٹھوا کر وعدہ لیا ہے کہ تم ہر صورت بنیامین کو اپنے ساتھ واپس لاؤ گے اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ تم اس سے پہلے یوسف کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

واپسی کا مشورہ : 81: اِرْجِعُوْا اِلٰٓی اَبِیْکُمْ فَقُوْلُوْا یٰٓاَ بَانَآ اِنَّ ابْنَکَ سَرَقَ (تم اپنے والد کی طرف لوٹ جائو اور اس کو کہو اے ہمارے ابا بیشک تیرے بیٹے نے چوری کی ہے) قراءت : سُرِّق پڑھا گیا جس کا معنی چوری کی طرف نسبت کرنا ہے۔ وَمَا شَھِدْنَآ (اور ہم نے گواہی نہیں دی) اس کے متعلق چوری کی اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا (مگر وہی جو ہم نے جانا) یعنی اس کا سرقہ اور یہ یقین کہ صاع اس کے تھیلے سے نکالا گیا۔ وَمَاکُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ (اور ہم غیب کی باتوں کے حافظ نہ تھے) اور ہمیں تو معلوم نہ تھا کہ وہ عنقریب چوری کرے گا جب ہم نے آپ سے قسم دے کر وعدہ کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 81۔” ارجعوا الی ابیکم “ جو بھائی مصر میں رک گیا اس نے اپنے بھائیوں کو یہ کہا ” فقولو ا یا ابانا ان ابنک سر ق و ما شھدنا الا بما علمنا “ ہم نے وہی بات کی جس کا ہم نے مشاہدہ کیا کہ وہ پیالہ اس کے سامان سے برآمد ہوا تھا اور بعض نے کہا ہے کہ ان کو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس آدمی ( بادشاہ) کو یہ بات تمہاری وجہ سے معلوم ہوئی کہ چوری کے مال کے بدلے میں بندہ کو قید کیا جاتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کے سامنے وہی گواہی دے جو ہم جانتے تھے کہ چور کو غلام بنایا جاتا ہے اور یہ قانون یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں کے ہاں تھا۔” وما کنا للغیب حافظین “ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 80–82

80۔ 82۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی بنیامین کی رہائی سے ناامید ہوگئے تو صلاح و مشورہ کرنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہیے عزیز مصر تو کسی طرح ہماری التجا قبول نہیں کرتا۔ بڑا بھائی جس کا نام روبیل تھا اس نے یہ کہا کہ تم سب جانتے ہو کہ چلتے وقت تمہارے باپ نے بنیامین کے واپس لانے کے لئے خدا کو درمیان میں دے کر قول قرار لیا تھا اور اس سے پہلے تم سے ایک قصور اور سرزد ہوچکا ہے کہ تم یوسف (علیہ السلام) کو باپ سے جدا کرچکے ہو۔ ایسی حالت میں میری تو غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ اب باپ کو منہ دکھاؤں میں تو اب یہاں سے ہلنے کا نہیں جب تک باپ کی اجازت نہیں آئے گی میں یہیں رہوں گا یا لڑ بھڑ کر عزیز مصر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” اپنے باپ کے پاس جاؤ اور کہو، ابا جان ! آپ کے بیٹے نے تو چوری کی “ یعنی وہ چوری کے جرم میں دھر لیا گیا ہے اس کے باوجود کہ ہم نے اس کے بارے میں بھرپور کوشش کی مگر ہم اس کو ساتھ نہ لاسکے۔ صورت حال یہ ہے کہ ہم کسی ایسی چیز کی گواہی نہیں دیتے جو ہمارے سامنے نہ تھی ہم تو صرف اسی چیز کا مشاہدہ کرسکتے تھے جو ہمارے سامنے تھی، کیونکہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ بادشاہ کا پیمانہ بنیامین کی خرجی سے برآمد ہوا۔ (آیت) ” اور ہم کو غیب کی بات کا دھیان نہ تھا “ اگر ہمیں غیب کا علم ہوتا تو ہم اسے اپنے ساتھ لے جانے کی خواہش کرتے نہ اس کو ساتھ لے جانے کے لئے اتنی کوشش کرتے اور نہ آپ کو کوئی عہد دیتے۔ ہمارے وہم و…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 81–87

سرقہ کے بارے میں حکم قول باری ہے (ارجعوا الی ابیکم فقولوا یا ابانا ان ابنک سرق و ما شھدنا الا بما علمنا وما کنا للغیب حافظین۔ تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ ” ابا جان ! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی۔ ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے) برادران یوسف نے صرف ظاہری حالت کی خبر دی۔ اس لئے کہ انہیں باطنی حالت یعنی اصل بات کا کوئی علم نہیں تھا اسی بنا پر انہوں نے کہا (وما کنا للغیب حافظین) ظاہری طور پر یہی کچھ ہوا تھا کہ شاہی پیمانہ ان کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوا تھا اس لئے بھائی ہی اس پیمانے کو چرانے والا قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

134۔ ہم وہی کچھ بیان کررہے ہیں جو ہم نے خوددیکھا : کہ بادشاہ کی طرف سے تفیش ہونے پر اس کا وہ گمشدہ پیالہ ہمارے سامنے اس کے سامان سے برآمد ہوا۔ اور یہ سب کچھ بالکل ہمارے سامنے ہوا۔ اور آپ کے بیٹے کا یہ جرم و قصور سب کے سامنے ظاہر ہوا جس کے نتیجے میں بادشاہ کے وزیرنے جو کہ اس کا قائم مقام تھا مسروقہ پیالہ برآمدہونے پر ہماری ہی شریعت اور ہمارے ہی دین و قانون کے مطابق اس کو اپنے یہاں روک لیا۔ کیونکہ ہم نے اس کے پوچھنے پر یہ بتایا تھا کہ ہماری ہی شریعت اور ہمارے دین و قانون میں چور کے بارے میں یہی حکم ہے۔ سو ایسے میں ہم بالکل بےبس ہوگئے تھے۔ ہمارا اس میں کوئی قصور نہیں۔ یہاں پر کلام کا اتنا حصہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 80–93

آیات 80 تا 93 اسرار و معارف بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 16 ۔ یعنی ہم نے جو بنیامین کے چور ہونے کو تسلیم کرلیا وہ اس بنا پر کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے چوری کا کٹورا اس کے سامان سے نکلتا دیکھا یا ہم نے جو عزیز مصر۔ یوسف ( علیہ السلام) ۔ کو مسئلہ بتایا کہ چور کی سزا یہ ہے کہ اسے غلام بنا لیا جائے تو وہ آپ کی اور آپ کے باپ دادا ہی کی شریعت کے مطابق تھا۔ (از وحیدی) ۔ 17 ۔ کہ بنیامین مصر میں جا کر چوری کرے گا۔ ورنہ ہم اسے اپنے ساتھ کیوں لے جاتے یا آپ کو یہ پختہ عہد کیوں دیتے کہ اسے اپنے ساتھ ضرور واپس لائیں گے۔ (کذافی الروح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12: 81) وما شھدنا الا بما علمنا۔ ہم تو شاہد صرف اتنے ہی کے تھے جتنا ہم جانتے تھے۔ یعنی بنیامین کے متعلق قول و قرار دیتے وقت تو ہم نے صرف اتنی ہی ذمہ داری لی تھی جتنی ہمارے ظاہر علم میں آسکتی تھی۔ حفظین۔ حافظ کی جمع بحالت نصب وجر۔ حفاظت کرنے والے ۔ نگہبانی کرنے والے وما کنا للغیب حفظین۔ یعنی جو کچھ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوا۔ اس کے متعلق ہم کیا حفاظتی قدم لے سکتے تھے۔ (یعنی بنیامین کا پیمانہ چرانا نہ ہمارے روبرو ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا اور نہ ہی کسی اور طریقہ سے ہمارے علم میں آیا۔ لہٰذا ہم غائب کے متعلق کوئی حفاظتی قدم نہ لے سکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 80–82

لغات القرآن آیت نمبر 80 تا 82 استیئسوا وہ مایوس ہوگئے خلصوا وہ الگ جا بیٹھے نجی خفیہ بات کرنے والا کبیر بڑا الم تعلموا کیا تمہیں معلوم نہیں موثق پختہ، پکا فرطتم تم نے زیادتی کی ہے لنابرح میں ہرگز نہ چھوڑوں گا، نہیں ٹلوں گا حتی یاذن جب تک اجازت دیتا ہے یحکم وہ فیصلہ کرتا ہے ارجعوا لوٹ جاؤ ابنک تیرا بیٹا اسئل پوچھ لے العیر قافلہ اقبلنا ہم سامنے آئے تشریح آیت نمبر 80 تا 82 جب برادران یوسف اپنی تدبیر اور کوشش میں ناکام ہوگئے اور انہوں نے اچھی طرح اندازہ کرلیا کہ بادشاہ بن یا مین کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑے گا اور اس نے بن یا مین کو اپنا باقاعدہ غلام بنا لیا ہے تب برادران یوسف اس تصور سے بےچین ہوگئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 80–82

جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی بنیامین کی رہائی سے ناامید ہوگئے تو صلاح ومشورہ کرنے لگے کہ ان کیا کرنا چاہئے، عزیز مصر تو کسی طرح ہماری التجا قبول نہیں کرتا، بڑا بھائی جس کا نام روبیل تھا، اس نے کہا کہ باپ نے بنیامین کے واپس لانے لئے خدا کو درمیان میں دے کر قول وقرار لیا تھا پہلے بھی قصور سرزد ہوچکا ہے، میری غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ باپ کو منہ دکھاؤں۔ جب تک باپ کی اجازت نہیں آوے گی میں یہیں رہوں گا اور اپنے بھائی کو لے کر جاؤں گا۔ قتل ہوں گے یا قتل کریں گے بغیر اس کو لئے نہیں جائیں گے۔ خدا احکم الحاکمین ہے اسی کے ہاتھ میں ہمارا فیصلہ ہے۔ جو تقدیر میں ہوگا وہ ہوگا تم اگر گھر جاتے ہو تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–86

[30] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) جانتے تھے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع رکھتے تھے کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کے خواب میں وہ ان کا مستقبل دیکھ چکے تھے اور جانتے تھے کہ کسی نہ کسی دن یہ جدائی ختم ہونے والی ہے تاہم دل کے ہاتھوں مجبور تھے۔ جس کی جدائی ایک گھڑی کے لیے شاق تھی وہ برسوں کے لیے ان سے جدا ہوگیا تھا اس کے فراق کا زخم بھر نہیں سکتا تھا بلکہ اس بات کے تصور نے کہ وہ زندہ موجود ہے مگر مجھ سے دور ہے درد فراق کی چبھن اور زیادہ کردی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 79–82

(ف 1) بالآخر یہ لوگ مایوس ہوگئے ، اور انہوں نے دیکھا کہ اب کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی ، اب بنیامین کا یہاں سے چھڑا لے جانا ناممکن ہے ، اس لئے اب اس سوچ میں پڑگئے کہ ابا کو کیا جواب دیں گے ، یوسف (علیہ السلام) کی وجہ سے پہلے ہی بدنام ہیں ، اب اور بھی بھرم کھل جائے گا ، ہم ابا کو یقین دلا کر لائے تھے ، کہ پوری پوری حفاظت کریں گے ، اب کس منہ سے کہیں گے کہ وہ ہمارے ساتھ نہیں آسکا ، صلاح ومشورہ کے بعد قرار پایا کہ اصل واقع ان کے گوش گزار کردیا جائے ، اور کہہ دیا جائے کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے ، ہم کیا جانتے تھے کہ یہ اس طرح چور بنے گا ، ہمیں غیب کی کیا خبر تھی ، جو پہلے سے معلوم کرلیتے ، ہم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

81 ۔ تم سب اپنے باپ کے پاس واپس جائو اور جا کر ان سے کہو اے ہمارے باپ ! تیرے بیٹے بن یامین نے چوری کی ہے اور ہم نے جو کچھ دیکھا ہے وہی ہم بیان کرتے ہیں اور ہم عہد کرتے وقت غیب کی باتوں کے تو حافظ تھے نہیں اور کسی پوشیدہ امر کے تو ہم نگہبان نہیں ہیں ۔ یعنی جو واقعہ پیش آگیا اس کی ہم کو خبر نہ تھی کہ یہ چور ی کرے گا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم کو قول دیا تھا اپنی دانست پر اور چوری کی خبر نہ تھی یا ہم نے چور کو پکڑ رکھنا بتایا اپنے دین کے موافق معلوم نہ تھا کہ بھائی چوری ہے۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 77–81

ف 6۔ یعنی ہم دونوں بھائیوں سے تو حقیقت سرقہ کی صادر نہیں ہوئی اور تم نے تو اتنا بڑا کام کیا کہ کوئی مال غائب کرتا ہے تم نے آدمی غائب کردیا کہ مجھ کو باپ سے بچھڑا دیا اور ظاہر ہے کہ آدمی چوری مال کی چوری سے زشت تر ہے اور برادران یوسف نے جو کہا کہ اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی اس کی حقیقت درمنثور میں یہ لکھی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو ان کی پھوپھی پرورش کرتی تھیں جب ہوشیار ہوئے تو یعقوب (علیہ السلام) نے انہیں واپس لینا چاہا لیکن وہ اپنے پاس رکھنا چاہتی تھیں اس لیے ان کی کمر میں ایک پٹکا کپڑوں کے اندر باندھ کر مشہور کردیا کہ پٹکا گم ہوگیا اور سب کی تلاشی لی تو ان کی کمر سے نکلا اور اس شریعت کے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

۔ 97 تم سب والد ماجد کے پاس جائو اور عرض کرو کہ تمہارے بیٹے بنیامین نے چوری کی اور جو بات ہمارے جاننے میں آئی وہی سچ سچ آپ کے سامنے کہہ دی ہم کو کچھ غیب کا علم تو تھا نہیں کہ پیل سے جان لیتے کہ اس سے ایسی حرکت سر زد ہونے والی ہے اور یہ بھی کہنا کہ آپ مصر کے لوگوں سے اس کی تصدیق کرلیں نیز اس قافلہ سے بھی کہ جس کے ساتھ ہم مصر سے یہاں آئے ہںٓ اس معاملہ میں بالکل سچے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 81–82

Then, in verse 81, it was said: ارْ‌جِعُوا إِلَىٰ أَبِيكُمْ , that is, the oldest brother said: I am going to stay here. You all go back to your father and tell him that his son has committed a theft, and that whatever we are saying is what we have seen with our own eyes, and that the stolen property was recovered from his baggage before us. As for the last sentence of verse 81: وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ (and we could not guard against the unseen), it means that ` the pledge we had given to you to bring back Benyamin definitely was given in terms of outwardly visible circumstances.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 80–83

That is, you readily believed that my son, whom I know to be of a noble character, had committed the theft of a cup. You have behaved in his case just as you behaved in the case of his elder brother. You made away with him and then pretended, without any pangs of conscience, that a wolf had devoured him and now, with the same ease, you tell me that the other brother has committed a theft.

Read the full tafseer →