Explained with ayahs 80–82
جب برادران یوسف اپنے بھائی کے چھٹکار سے مایوس ہوگئے، انہیں اس بات نے شش وپنچ میں ڈال دیا کہ ہم والد سے سخت عہد پیمان کر کے آئے ہیں کہ بنیامین کو آپ کے حضور میں پہنچا دیں گے۔ اب یہاں سے یہ کسی طرح چھوٹ نہیں سکتے۔ الزام ثابت ہوچکا ہماری اپنی قراد داد کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے اب بتاؤ کیا کیا جائے اس آپس کے مشورے میں بڑے بھائی نے اپنا خیال ان لفظوں میں ظاہر کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس زبردست ٹہوس وعدے کے بعد جو ہم ابا جان سے کر کے آئے ہیں، اب انہیں منہ دکھانے کے قابل تو نہیں رہے نہ یہ ہمارے بس کی بات ہے کہ کسی طرح بنیامین کو شاہی قید سے آزاد کرلیں پھر اس وقت ہمیں اپنا پہلا قصور اور نادم کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
64۔ یعنی تمہارے نزدیک یہ باور کرلینا بہت آسان ہے کہ میرا بیٹا جس کے حسن سیرت سے میں خوب واقف ہوں ایک پیالے کی چوری کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ پہلے تمہارے لیے اپنے ایک بھائی کو جان بوجھ کر گم کردینا اور اس کے قمیص پر جھوٹا خون لگا کرلے آنا بہت آسان کام ہوگیا تھا۔ اب ایک دوسرے بھائی کو واقعی چور مان لینا اور مجھے آکر اس کی خبر دینا بھی ویسا ہی آسان ہوگیا۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا اسْتَيْـــَٔـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا یعنی جب برادران یوسف بنیامین کی رہائی سے مایوس ہوگئے تو باہم مشورہ کے لئے کسی علیحٰدہ جگہ میں جمع ہوگئے،
قَالَ كَبِيْرُهُمْ الخ ان کے بڑے بھائی نے کہا کہ تمہیں یہ معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے بنیامین کے واپس لانے کا پختہ عہد لیا تھا اور یہ کہ تم اس سے پہلے بھی یوسف ؑ کے معاملہ میں ایک کوتاہی اور غلطی کرچکے ہو اس لئے میں تو اب مصر کی زمین کو اس وقت تک نہ چھوڑونگا جب تک میرے والد خود ہی مجھے یہاں سے واپس آنے کا حکم نہ دیں یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی مجھے یہاں سے نکلنے کا حکم ہو اور اللہ تعالیٰ ہی بہترین حکم کرنے والے ہیں، یہ بڑے…
Read the full tafseer →فَلَمَّا اسْتَيْـــَٔـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا ۭ قَالَ كَبِيْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَيْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِيْ يُوْسُفَ ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى يَاْذَنَ لِيْٓ اَبِيْٓ اَوْ يَحْكُمَ اللّٰهُ لِيْ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ۔
بھائیوں کی مشورت : حضرت یوسف کے مذکورہ بالا جواب کے بعد وہ ان کی طرف سے تو مایوس ہوگئے کہ وہ چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ اب کیا کیا جائے ؟ اس سوال پر غور کرنے کے لیے سب بھائی لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر مشورہ کے لیے بیٹھے۔ بڑے نے کہا کہ یاد رکھو کہ تمہارے باپ نے اللہ کا واسطہ دلا کر تم سے…
Read the full tafseer →80۔ 1 کیونکہ بنیامین کو چھوڑ کر جانا ان کے لئے کٹھن مرحلا تھا، وہ باپ کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے تھے۔ اس لئے باہم مشورہ کرنے لگے کہ اب کیا کیا جائے ؟
80۔ 2 اس کے بڑے بھائی اس صورت حال میں باپ کا سامنے کرنے کی اپنے اندر سکت اور ہمت نہیں پائی، تو صاف کہہ دیا کہ میں تو یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک خود والد صاحب تفتیش کر کے میری بےگناہی کا یقین نہ کرلیں اور مجھے آنے کی اجازت نہ دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
53: چونکہ حضرت یعقوب ؑ کو یقین تھا کہ بنیامین چوری نہیں کرسکتا۔ اس لیے انہوں نے یہ سمجھا کہ اس مرتبہ بھی ان لوگوں نے کوئی بہانہ بنایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
درس نمبر 110 تشریح آیات
80 ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ 101
برادران یوسف اب برادر خورد کے چھڑانے سے مایوس ہوچکے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے دربار سے ذرا ہٹ کر وہ ایک مجلس مشاورت منعقد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب منظر ہے ۔ سیاق کلام میں سب کے اقوال و تجاویز کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ البتہ اس مشاورت کا آخری قول اور فیصلہ کن تجویز یہاں دے دی گئی۔
آیت نمبر 80 تا 82
برادران یوسف (علیہ السلام) میں سے بڑے بھائی سب سے پہلے ان کو یاد دلاتے ہیں کہ والد نے تم سے پختہ عہد لیا ہے اور یہ کہ اس سے پہلے تم یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھی زیادتی کرچکے ہو ، اور وہ اس کا اقرار کرلیتے ہیں۔ پھر ہو فیصلہ کن تجویز دیتے ہیں کہ وہ مصر کو اس…
Read the full tafseer →1 جب حضرت یوسف کا جواب سن کر مایوس ہوگئے تو مجمع سے ہٹ کر آپس میں مشورہ کرنے لگے۔ اکثروں کی رائے ہوئی کہ وطن واپس جانا چاہیے۔ ان میں جو عمر یا عقل وغیرہ کے اعتبار سے بڑا تھا اس نے کہا کہ باپ کے سامنے کیا منہ لے کر جائیں گے، جو عہد ہم سے لیا تھا اس کا کیا جواب دیں گے۔ ایک تقصیر تو پہلے یوسف کے معاملہ میں کرچکے ہیں جس کا اثر آج تک موجود ہے۔ اب بنیامین کو چھوڑ کر سب کا چلا جانا سخت بےحمیتی ہوگی۔ سو واضح رہے کہ بندہ تو کسی حال یہاں سے ٹلنے والا نہیں۔ اِلاّ یہ کہ خود والد بزرگوار مجھ کو یہاں سے چلے جانے کا حکم دیں یا اس درمیان میں قدرت کی طرف سے کوئی فیصلہ ہوجائے۔ مثلاً تقدیر سے میں یہیں مرجاؤں یا…
Read the full tafseer →قَالَ كَبِيْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَيْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ
ان کے سب سے بڑے بھائی کا نام یہودا تھا یہ وہی تھے جنہوں نے مشورہ دے کر حضرت یوسف کی جان بچائی تھی کہ اگر تم اس کی جان کے درپے ہوگئے ہو تو اسے قتل مت کرو بلکہ کسی دور دراز علاقے میں پھینک آؤ۔
فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى يَاْذَنَ لِيْٓ اَبِيْٓ
تم لوگ جا کر والد صاحب کو سارا واقعہ بتاؤ پھر اگر وہ مطمئن ہو کر مجھے اجازت دے دیں تو تب میں واپس جاؤں گا ورنہ میں ادھر ہی رہوں گا۔
Read the full tafseer →77 بڑے بھائی کا واپس جانے سے انکار :۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے ایسا احسان کرنے سے صاف جواب دے دیا تو سب بھائی تنہائی میں جاکر موجودہ پریشان کن صورت حال پر غور کرنے لگے۔ نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والا معاملہ بن گیا تھا۔ اگر انہوں نے پہلے یوسف کے معاملہ میں زیادتی نہ کی ہوتی تو اب صورت حال اس قدر سنگین نہ ہوتی۔ ان حالات میں بڑے بھائی نے سابقہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے آپ کو اپنے باپ کو منہ دکھانے کے قابل نہیں سمجھتا۔ البتہ تم لوگ جاکر باپ کو اس صورت حال سے مطلع کردو۔ میں یہیں رہوں گا اور پھر کوشش کروں گا کہ بن یمین کو ان لوگوں سے لاسکوں یا پھر مجھے موت آجائے، یا اگر میرا باپ مجھے…
Read the full tafseer →148۔ (کہ اب کیا کرنا چاہیے، نہ بنیامین کو چھوڑ کر واپس جاتے بنتا ہے نہ یہاں ٹھیرتے) منہ، ضمیر یوسف (علیہ السلام) کی طرف بھی جاسکتی ہے اور بنیامین کی طرف بھی، ، پہلی صورت میں ” جب ان لوگوں کو یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے یوسف (علیہ السلام) کے جواب سے مایوسی ہوگئی ، “ دوسری صورت میں ”‘ جب ان لوگوں کو بنیامین کی طرف سے بنیامین کے متعلق مایوسی ہوگئی۔
149۔ (وہی ایک پرانی شرمندگی کیا کم ہے، کہ یہ نئی شرمندگی لے کر ان کے پاس جاؤں) (آیت) ” قال کبیرھم “۔ توریت میں اس موقع پر نام یہودا کا درج ہے جو اپنے بھائیوں میں چوتھے نمبر تھا، قرآن نے اس تاریخی غلطی کی تصحیح کردی، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کبیر سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیت نمبر 80 تا 93
ترجمہ : جب برادران یوسف، یوسف کی طرف سے بالکل ناامید ہوگئے تو ایک گوشہ میں جاکر مشورہ کرنے لگے (نجیا) مصدر واحد اور غیر واحد سب پر اس کا اطلاق صحیح ہے، یعنی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں جو عمر کے لحاظ سے یا رائے کے اعتبار سے بڑا تھا جس کا نام روبیل یا یہودا تھا بولا کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے تمہارے بھائی کے بارے میں خدا کے نام پر پختہ عہد لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم زیادتی کر ہی چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے، ما، زائدہ ہے، اور کہا گیا ہے کہ ما مصدریہ مبتداء ہے اور اس کی خبر میں قبل ہے، اب میں تو ملک مصر کو ہرگز نہ چھوڑوں گا تاآنکہ…
Read the full tafseer →فلما استایئسوا منہ خلصوا نجیا جب بھائی کی طرف سے ناامید ہوگئے تو الگ جا کر باہم مشورہ کیا۔ ابوعبیدہ نے ترجمہ کیا : جب انہوں نے یقین کرلیا کہ بنیامین کی واپسی نہیں ہوسکتی۔
نَجِیًّا بمعنی جمع ہے اگرچہ لفظ مفرد ہے ‘ یعنی الگ جا کر ایک نے دوسرے سے مشورہ کیا اور سب مشورہ کرنے لگے۔
قال کبیرھم بڑے نے کہا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : عمر میں بڑا ہونا مراد نہیں ‘ بلکہ علم و فضل میں بڑا ہونا مراد ہے ‘ اور یہ یہودا تھا۔ کلبی کا بھی یہی قول ہے۔ قتادہ ‘ سدی اور ضحاک کے نزدیک عمر میں بڑا مراد ہے۔ یہ روبیل تھا ‘ اسی نے حضرت یوسف کو قتل کرنے سے بھائیوں کو روکا تھا۔ مجاہد نے کہا : وہ شمعون تھا ‘ بھائیوں کا (سفر…
Read the full tafseer →(80) چناچہ ان کو حضرت یوسف ؑ سے امید ہی نہ رہی تو اس جگہ سے ہٹ کر سب باہم مشورہ کرنے لگے چناچہ جو ان سب میں سب سے زیادہ عقل مند تھا اور جس کا نام یہودا تھا کہنے لگا بھائیو تم جانتے نہیں کہ تمہارے والد نے بنیامین کے واپس لانے کے بارے میں تم سے پختہ عہد لیا تھا اور بنیامین سے قبل یوسف ؑ کے بارے میں تم اپنے باپ کے عہد و میثاق کی کس قدر کوتاہی کرچکے ہو سو میں تو سرزمین مصر سے ٹلتا نہیں یہاں تک کہ میرا باپ مجھ کو حاضری کی اجازت نہ دے یا جب تک میرا باپ ان سے مجھے قتال کی اجازت نہ دے یا اللہ تعالیٰ میرے بھائی کی واپسی کا سبب نہ پیدا کر دے اور اللہ اس مشکل کو خوب آسان کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا اسْتَيْـــَٔـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا : ”اسْتَيْـــَٔـسُوْا“ یہاں ”یَءِسُوْا“ (ناامید ہوگئے) کے معنی ہی میں ہے۔ باب استفعال مبالغہ کے لیے ہے، یعنی بالکل ناامید ہوگئے، جیسا کہ ”عَجِبَ“ اور ”اِسْتَعْجَبَ“ ، ”سَخِرَ“ اور ”اِسْتَسْخَرَ“ میں سین اور تاء محض مبالغہ کے لیے ہیں، معنی ایک ہی ہے۔ اس سے پہلے (آیت 32) ”اِسْتَعْصَمَ“ میں بھی یہی نکتہ ہے۔ ”خلصوا نجیا“ یعنی کوئی اور ان میں موجود نہ تھا، اکیلے ہو کر مشورہ کرنے لگے۔ ”نجیا“ ”فَعِیْلٌ“ کے وزن پر ہے، مشورہ، سرگوشی کرنے والے وغیرہ، یہ وزن واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے اسی طرح آتا ہے، اس لیے ”نجیا“ کے ساتھ واحد ہی آیا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 80
فلما استئسوا منہ یعنی وہ مایوس ہوگئے یہاں استیئسوا بمعنی یئسوا ہے جیسے عجب اور استعجب، سخر اور استسخر دونوں ایک معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ خلصوا یعنی وہ علیحدہ ہوگئے اور وہ ان کے ساتھ نہیں تھا نجیا، خلصوا میں پائی جانے والی ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ یہ واحد ہے اور جمع کا معنی دے رہا ہے جس طرح کہ اس آیت میں ہے اور اس کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے جیسے وقربنٰہ نجیًا۔ (مریم) اس کی جمع أنجیۃ آتی ہے۔ شاعر نے کہا :
إنی إذا ما القوم کانوا انجیۃ واضطرب القوم إضطراب الأرشیۃ
ھنالک أوصینی ولا توصی بیہ
ابن کثیر نے استایسوا، ولا تایسوا۔ إنہ لایایس، أفلم یایس پڑھا ہے یعنی بغیر ہمزہ کے…
Read the full tafseer →حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا آپس میں مشورہ :
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) فلما استیئسوا منہ “ کے بارے میں فرمایا جب بھائی ناامید ہوگئے اور انہوں نے معاملہ میں یوسف (علیہ السلام) کی سختی کو دیکھا۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خلصوا نجیا “ یعنی وہ علیحدہ ہوگئے۔ (سوچ بچار کے لئے)
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم ابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” قال کبیرھم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ شمعون تھا جو پیچھے رہ گیا تھا اور یہ عقل کے لحاظ سے سب سے بلند مرتبہ…
Read the full tafseer →[فَلَمَا : پھر جب ] [ اسْتَيْـــَٔـسُوْا : وہ مایوس ہوئے ] [ مِنْهُ : ان (علیہ السلام) سے ] [خَلَصُوْا : تو وہ لوگ الگ ہوئے ] [ نَجِيًّا : سرگوشی کرتے ہوئے ] [ قَالَ : کہا ] [ كَبِيْرُهُمْ : ان کے بڑے نے ] [ اَلَمْ تَعْلَمُوْٓا : کیا تم لوگوں نے نہیں جانا ] [ ان : کہ ] [ اَبَاكُمْ : تمہارے والد نے ] [ قَدْ اَخَذَ : لیا ہے ] عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ مَّوْثِقًا : ایک پختہ وعدہ ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [وَمِنْ قَبْلُ : اور اس سے پہلے ] [ مَا : جو ] [ فَرَّطْتم : تم نے کوتاہی کی ] [ فِيْ يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) (کے معاملہ) میں ] [ فَلَنْ اَبْرَحَ : پس میں ہرگز نہیں ہٹوں گا ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
برادران یوسف کا ایک جگہ جمع ہو کر مشورہ کرنا اور بڑے بھائی کا یوں کہنا کہ میں تو یہاں سے نہیں جاتا تم لوگ جاؤ اور والد کو چوری والی بات بتادو
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے ناامید ہوگئے کہ وہ کسی طرح سے بنیامین کو واپس کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور یہ جو پیشکش کی تھی کہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیں اس کو بھی انہوں نے نہیں مانا بلکہ اسے ظلم قرار دے دیا تو وہاں سے ہٹ کر اب مشورہ کرنے لگے کہ کیا کریں ‘ ان میں جو بڑا بھائی تھا جس کا نام کسی نے یہود اور کسی نے شمعون اور کسی نے روبیل بتایا ہے اس نے باقی بھائیوں سے خطاب کر کے کہا کہ آپ لوگوں کہ معلوم ہے کہ جب اپنے والد سے رخصت ہو رہے تھے تو مضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–87
بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون
(ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
69:۔ یہ بارہواں حال ہے۔ جب وہ بنیامین کی واپسی سے ناامید ہوگئے تو علیحدہ ہو کر مشورہ کیا۔” قَالَ کَبِیْرُھُمْ الخ “ بڑے بھائی یہودا نے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم اپنے باپ کو اللہ کا عہد دے کر آئے ہو اور اس سے پہلے تم یوسف کے بارے میں بھی غلطی کرچکے ہو اس لیے میں تو یہاں سے نہیں ہلوں گا یہاں تک کہ باپ مجھے اجازت دے یا اللہ تعالیٰ مجھے بذریعہ الہام واپس جانے کا حکم فرما دے یا اللہ تعالیٰ میرے واپس جانے کی کوئی اور باعزت راہ نکال دے۔ یعنی عزیز مصر بنیامین مجھے واپس دے دے اور میں اسے لے کر واپس چلا جاؤ۔ ” اِرْجِعُوْا اِلیٰ اَبِیْکُمْ الخ “ تم سب واپس جاؤ اور والد گرامی کی خدمت میں عرض کرنا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
ربط آیات
گزشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ شاہی پیمانہ بن یامین کے سامان سے برآد ہوا اور ان کے اپنے بھائیوں کے مطابق چور کو ایک سال تک غلام بن کر رہنا پڑتا تھا۔ لہٰذا یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کو واپس کنعان جانے سے روک دیا۔ برادران یوسف نے ہر چند بن یامین کو رہا کرانے کی کوشش کی اور اس سلسلہ میں طاقت استعمال کرنے کی دھمکی بھی دی مگر وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ پھر انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور منت سماجت پر اتر آئے۔ یوسف (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہمارا باپ بوڑھا اور نابینا ہوچکا ہے اور وہ اپنے چھوٹے بیٹے کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنے کے قابل نہیں ، لہٰذا آپ ہم میں سے کسی ایک کو بن…
Read the full tafseer →فَلَمَّا اسْتَيْـــَٔـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا ۭ قَالَ كَبِيْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَيْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِيْ يُوْسُفَ ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى يَاْذَنَ لِيْٓ اَبِيْٓ اَوْ يَحْكُمَ اللّٰهُ لِيْ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ
يأس
اليَأْسُ : انتفاءُ الطّمعِ ، يقال : يَئِسَ واسْتَيْأَسَ مثل : عجب واستعجب، وسخر واستسخر . قال تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا[يوسف/ 80] ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ [يوسف/ 110] ،
( ی ء س ) یأس
( مصدرس ) کے معنی ناامید ہونیکے ہیں اور یئس ( مجرد)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْہُ خَلَصُوْا نَجِیًّا ط قَالَ کَبِیْرُھُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنَّ اَبَاکُمْ قَدْاَخَذَعَلَیْکُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ وَمِنْ قَبْلُ مَافَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ ج فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰی یَاْذَنَ لِیْ ٓ اَبِیْ ٓ اَوْیَحْکُمَ اللّٰہُ لِیْ ج وَھُوَ خَیْرُالْحٰکِمِیْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 80)
(جب وہ یوسف ( علیہ السلام) سے مایوس ہوگئے تو آپس میں مشورہ کرنے الگ ہوئے۔ ان کے بڑے بھائی نے کہا، کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے اللہ تعالیٰ کے نام پر تم سے مضبوط قول وقرار لیا ہے۔ اور اس سے پہلے یوسف ( علیہ السلام) کے معاملے میں جو تقصیر تم کرچکے ہو (وہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف جب بنیامین کو رہا کروانے میں نا کام ہوئے تو علیحدہ ہو کر مشورہ کرنے لگے۔
نامعلوم برادران یوسف نے بنیامین کو رہا کروانے کے لیے کس قدر منت سماجت اور ترلے کیے ہوں گے۔ مگر بادشاہ نے ان کی کوئی بات تسلیم نہ کی۔ جب بادشاہ سے پوری طرح مایوس ہوگئے تو انہوں نے علیحدہ ہو کر آپس میں مشورہ کیا کر اب کیا کرنا چاہیے۔ بالآخر ان کا بڑا بھائی جس کا نام مؤرخین یہودہ بتلاتے ہیں کہنے لگا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم سب سے والد صاحب نے قسمیں اٹھوا کر وعدہ لیا ہے کہ تم ہر صورت بنیامین کو اپنے ساتھ واپس لاؤ گے اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ تم اس سے پہلے یوسف کے ساتھ…
Read the full tafseer →80: فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا (جب وہ مایوس ہوچکے) اس میں تاؔ اور سین کو مبالغہ کیلئے بڑھایا ہے۔ جیسا کہ استعصم میں بیان ہوا مِنْہُ (اس سے) یوسف (علیہ السلام) سے اور آپ نے ان کو جواب دے دیا۔ خَلَصُوْا ( تو وہ الگ ہوئے) وہ لوگوں سے الگ ہوئے اس طرح کہ اور کوئی ان کے ساتھ نہ تھا۔ نَجِیًّا (علیحدگی والا) گروہ علیحدہ یعنی ایسا مناجی جو دوسروں کے ساتھ سرگوشی کرنے والا ہو انہوں نے سرگوشی خالص کی کیونکہ وہ اسی لئے جمع ہوئے تھے۔ اور اس میں انہوں نے محنت واہتمام کیا۔ کیونکہ صورۃً یہ باہمی مناجات ہے۔ اور حقیقت میں النجی بمعنی مناجی ہے۔ جیسا سمیر بمعنی مسامر اور تناجی مصدر کے معنی میں ہے۔ وہ اپنے معاملے میں…
Read the full tafseer →80۔” فلما استیئسوا منہ “ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو یقین ہوگیا کہ ان کا بھائی ان کے ساتھ نہ بھیجا جائے گا ۔” خلصوا نجیا “ آپس میں سرگوشیاں اور مشورے کرنے لگے۔” النجی “ جماعت کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے اور ایک کے لیے بھی جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” وقربناہ نجیا “ یہ ایک اور جمع کے لیے اس لیے جائز ہے کہ یہ مصدر ہے۔ صف بنایا جاتا ہے ، عدل اور زور کی طرح اور اسی کی مثال نجویٰ کا لفط استعم اور مصدر دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” واذھم نجوی “ یعنی متناجون اور فرمایا ” ما یکون من نجوی ثلاثہ “ اور مصدر استعمال کر کے فرمایا ” انما النجوی من الشیطان “ ۔۔۔ ” قال کبیرھم “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
80۔ 82۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی بنیامین کی رہائی سے ناامید ہوگئے تو صلاح و مشورہ کرنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہیے عزیز مصر تو کسی طرح ہماری التجا قبول نہیں کرتا۔ بڑا بھائی جس کا نام روبیل تھا اس نے یہ کہا کہ تم سب جانتے ہو کہ چلتے وقت تمہارے باپ نے بنیامین کے واپس لانے کے لئے خدا کو درمیان میں دے کر قول قرار لیا تھا اور اس سے پہلے تم سے ایک قصور اور سرزد ہوچکا ہے کہ تم یوسف (علیہ السلام) کو باپ سے جدا کرچکے ہو۔ ایسی حالت میں میری تو غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ اب باپ کو منہ دکھاؤں میں تو اب یہاں سے ہلنے کا نہیں جب تک باپ کی اجازت نہیں آئے گی میں یہیں رہوں گا یا لڑ بھڑ کر عزیز مصر سے…
Read the full tafseer →جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اس بارے میں مایوس ہوگئے کہ وہ ان کے بھائی کے معاملے میں نرمی اختیار کریں۔ (آیت) ” تو وہ علیحدگی میں اکٹھے ہوئے اور اصلاح کرنے لگے۔ “ جہاں کوئی اور موجود نہ تھا انہوں نے سر گوشیوں میں ایک دوسرے سے مشورہ کیا۔ (آیت) ” ان کے بڑے نے کہا، کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لیا تھا “ یعنی تم سے اس کی حفاظت کرنے اور ساتھ لے کر آنے کا عہد لیا تھا، سوائے اس کے کہ تم کسی مصیبت میں گھر کر بےبس ہوجاؤ۔ (آیت) ” اور اس سے پہلے تم یوسف کے بارے میں کوتاہی کرچکے ہو “ پس تم میں دو امور اکٹھے ہوگئے ہیں۔
(1) یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تمہاری گزشتہ کو تاہی۔
(2)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
قول باری ہے (قالو جزاء ہ من وجد فی رحلہ فھو جزاء ہ۔ انہوں نے کہا ” اس کی سزا ؟ جس کے سامان سے یہ چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے “ ) حسن، ابو اسحاق، معمر اور سدی کا قول ہے کہ اس کے ہاں یہ دستور تھا کہ وہ چور کو غلام بنا لیا کرتے تھے۔ اس طرح ترتیب عبارت یہ ہوگی۔ اس کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کے سامان سے وہ چیز برآمد ہوجائے گی اسے غلام بنا کر رکھ لیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک ایسے شخص کی یہی سزا ہے جس طرح تمہارے نزدیک اس کی یہی سزا ہے “ جب وہ پیمانہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوگیا تو انہوں نے شرط کے مطابق اپنے بھائی کو چوری کی سزا میں پکڑ لیا، اس پر برادران یوسف نے…
Read the full tafseer →132۔ بڑے بھائی کا فیصلہ :
کہ تم واپس جاؤمیں یہیں رہونگا۔ والد کی طرف سے اس بارے کسی صاف اور صریح حکم کے بغیر میں یہاں سے ہرگز نہیں ٹلوں گا۔ ہاں اگر میرے والد مجھے اس بات کی اجازت دیدیں کہ میں بنیامین کو یہیں چھوڑ کر واپس آجاؤں یا اللہ تعالیٰ میرے لیے غیب سے کوئی فیصلہ فرمادے۔ مثلا یہ کہ بادشاہ کے دل میں ڈال دے کہ وہ ہمارے بھائی کو رہا کردے یا کسی اور طریقے سے اس کو مجبور کردے کہ وہ ہمارے بھائی کو یوں ہی چھوڑ دے وغیرہ (المراغی وغیرہ) کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اور وہ بڑا ہی مہربان اور انتہائی لطیف تدابیر سے کام لینے والا ہے۔ اور یہاں پر اس بڑے بھائی سے مرادیہودا ہیں جو کہ اپنی عقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–93
آیات 80 تا 93
اسرار و معارف
بھائیوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بنیامین کو ساتھ لے جاسکیں مگر جب کوئی چارہ کار گرنہ ہوا تو پھر مشورہ کرنے لگے کہ اب یہاں رک بھی نہ سکتے تھے گھر میں کھانے تک کا کوئی سامان نہ تھا اور رکنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا لہٰذا اب واپس چلنا چاہیئے۔ مگر سب سے بڑے نے کہا کہ تمہیں وہ قول وقرار یاد نہیں جو والدگرزمی سے کرکے آئے تھے اور وہ بات بھی بھول گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں ہم سے کس قدرزیادتی ہوچکی ہے اور اس کی جدائی میں باپ کس حال کو پہنچا ہے لہٰذا میں نے تو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے کم ازکم ہم میں سے کوئی تو ایک یہاں ہی رہ جائے پھر اگر والد ماجداجازت دیں تو…
Read the full tafseer →ف 11 ۔ یعنی اس کی بہتری منت سماجت کی کہ بنیاین کو چھوڑ کو ہم میں سے کسی کو گرفتار کریں مگر وہ کسی طرح نہ مانے۔
12 ۔ یعنی مشورہ کرنے لگے۔
13 ۔ یعنی دوسرے بھائیوں کو اس نے رخصت کردیا خود اس توقع پر رہ گیا کہ شاید عزیز مصر کا دل پسج جائے۔ (از موضح) ۔
14 ۔ کہ بنیامین کو اپنے ساتھ ضرور واپس لانا۔ (وحیدی) ۔
15 ۔ خواہ میری موت کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو یا بنیامین کی رہائی کی کوئی صورت نکل آئے۔ (روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
(12:79) معاذ اللہ۔ معاذ مصدر میمی ہے اور اسم ہے اور مضاف اللہ مضاف الیہ۔ اللہ کی پناہ۔ تقدیر کلام۔ نعوذ باللہ معاذا من ان ناخذ۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم کسی آدمی کو پکڑ رکھیں (ماسوا اس آدمی کے کہ جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے)
اذا۔ حرف جزا ہے اصل میں اذن ہے وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدل لیتے ہیں جو اب اور جزاء کے لئے آتا ہے۔
لظلمون۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔
استیئسوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ وہ مایوس ہوگئے استئی اس (استفعال) سے ی ء س حروف مادہ ۔ ویسے ثلاثی مجرد سے یئس (سمع) بھی انہیں معنوں میں آتا ہے لیکن باب استفعال سے س اور ت مبالغہ کے لئے زائد لائے ہیں۔
خلصوا۔ خلص یخلص (نصر )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
لغات القرآن آیت نمبر 80 تا 82
استیئسوا وہ مایوس ہوگئے خلصوا وہ الگ جا بیٹھے نجی خفیہ بات کرنے والا کبیر بڑا الم تعلموا کیا تمہیں معلوم نہیں موثق پختہ، پکا فرطتم تم نے زیادتی کی ہے لنابرح میں ہرگز نہ چھوڑوں گا، نہیں ٹلوں گا حتی یاذن جب تک اجازت دیتا ہے یحکم وہ فیصلہ کرتا ہے ارجعوا لوٹ جاؤ ابنک تیرا بیٹا اسئل پوچھ لے العیر قافلہ اقبلنا ہم سامنے آئے
تشریح آیت نمبر 80 تا 82
جب برادران یوسف اپنی تدبیر اور کوشش میں ناکام ہوگئے اور انہوں نے اچھی طرح اندازہ کرلیا کہ بادشاہ بن یا مین کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑے گا اور اس نے بن یا مین کو اپنا باقاعدہ غلام بنا لیا ہے تب برادران یوسف اس تصور سے بےچین ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
جب یوسف (علیہ السلام) کے سوتیلے بھائی بنیامین کی رہائی سے ناامید ہوگئے تو صلاح ومشورہ کرنے لگے کہ ان کیا کرنا چاہئے، عزیز مصر تو کسی طرح ہماری التجا قبول نہیں کرتا، بڑا بھائی جس کا نام روبیل تھا، اس نے کہا کہ باپ نے بنیامین کے واپس لانے لئے خدا کو درمیان میں دے کر قول وقرار لیا تھا پہلے بھی قصور سرزد ہوچکا ہے، میری غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ باپ کو منہ دکھاؤں۔ جب تک باپ کی اجازت نہیں آوے گی میں یہیں رہوں گا اور اپنے بھائی کو لے کر جاؤں گا۔ قتل ہوں گے یا قتل کریں گے بغیر اس کو لئے نہیں جائیں گے۔ خدا احکم الحاکمین ہے اسی کے ہاتھ میں ہمارا فیصلہ ہے۔ جو تقدیر میں ہوگا وہ ہوگا تم اگر گھر جاتے ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
[30] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) جانتے تھے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع رکھتے تھے کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کے خواب میں وہ ان کا مستقبل دیکھ چکے تھے اور جانتے تھے کہ کسی نہ کسی دن یہ جدائی ختم ہونے والی ہے تاہم دل کے ہاتھوں مجبور تھے۔ جس کی جدائی ایک گھڑی کے لیے شاق تھی وہ برسوں کے لیے ان سے جدا ہوگیا تھا اس کے فراق کا زخم بھر نہیں سکتا تھا بلکہ اس بات کے
تصور نے کہ وہ زندہ موجود ہے مگر مجھ سے دور ہے درد فراق کی چبھن اور زیادہ کردی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
(ف 1) بالآخر یہ لوگ مایوس ہوگئے ، اور انہوں نے دیکھا کہ اب کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی ، اب بنیامین کا یہاں سے چھڑا لے جانا ناممکن ہے ، اس لئے اب اس سوچ میں پڑگئے کہ ابا کو کیا جواب دیں گے ، یوسف (علیہ السلام) کی وجہ سے پہلے ہی بدنام ہیں ، اب اور بھی بھرم کھل جائے گا ، ہم ابا کو یقین دلا کر لائے تھے ، کہ پوری پوری حفاظت کریں گے ، اب کس منہ سے کہیں گے کہ وہ ہمارے ساتھ نہیں آسکا ، صلاح ومشورہ کے بعد قرار پایا کہ اصل واقع ان کے گوش گزار کردیا جائے ، اور کہہ دیا جائے کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے ، ہم کیا جانتے تھے کہ یہ اس طرح چور بنے گا ، ہمیں غیب کی کیا خبر تھی ، جو پہلے سے معلوم کرلیتے ، ہم…
Read the full tafseer →80 ۔ پھر جب یہ لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا صاف جواب سن کر ان سے مایوس ہوگئے تو علیحدہ بیٹھ کر آپس میں مشورہ اور سر گوشی کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا بھائی تھا وہ کہنے لگا کیا تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے خدا کی قسم کہلوا کر پختہ عہد کرلیا ہے اور اس سے پیشتر بھی تم یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں سخت کوتاہی اور تقصیر کرچکے ہو لہٰذا میں تو اس ملک سے ہرگز نہ ہٹوں گا یہاں تک کہ میرا باپ مجھ کو حاضر ہونے کی اجازت دے یا میرے لئے اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ کر دے اور قضیہ چکا دے اور اس مشکل کو سلجھادے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ یعنی جو عمر میں یا عقل و دانش میں بڑا تھا اس نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–81
ف 6۔ یعنی ہم دونوں بھائیوں سے تو حقیقت سرقہ کی صادر نہیں ہوئی اور تم نے تو اتنا بڑا کام کیا کہ کوئی مال غائب کرتا ہے تم نے آدمی غائب کردیا کہ مجھ کو باپ سے بچھڑا دیا اور ظاہر ہے کہ آدمی چوری مال کی چوری سے زشت تر ہے اور برادران یوسف نے جو کہا کہ اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی اس کی حقیقت درمنثور میں یہ لکھی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو ان کی پھوپھی پرورش کرتی تھیں جب ہوشیار ہوئے تو یعقوب (علیہ السلام) نے انہیں واپس لینا چاہا لیکن وہ اپنے پاس رکھنا چاہتی تھیں اس لیے ان کی کمر میں ایک پٹکا کپڑوں کے اندر باندھ کر مشہور کردیا کہ پٹکا گم ہوگیا اور سب کی تلاشی لی تو ان کی کمر سے نکلا اور اس شریعت کے…
Read the full tafseer →برادران یوسف جب عزیز مصر کے جواب سے مایوس ہوئے تو مشورہ کیلئے الگ ہوئے۔
۔ 96 عزیز مصر نے جب ان کی درخواست مسترد کردی اور وہ اس طرف سے بالکل مایوس ہوگئے تو اب الگ خلوت میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے ان میں بڑے نے کہا بھائی تم کو معلوم ہے کہ والد نے بنیامین کے متعلق کس قدر سخت اور پختہ عہد و پیمان ہم سے لیا ہے اور اس سے پہلے تم یوسف کے ساتھ جو ظلم و زیادتی کرچکے ہو وہ بھی سامنے ہے اس لئے میں تو اب اس جگہ سے اس وقت تک ٹلنے والا نہیں کہ یا تو والد ماجد مجھ کو کنعان آنے کی اجازت دیں یا اللہ میرے لئے کوئی دوسرا فیصلہ کر دے۔
آیت 69 تا 80 ، 12 آیتوں کا مفہوم ایک بار پھر سمجھ لینا چاہئے۔ پیچھے ذکر آ رہا…
Read the full tafseer →In verse 80, it was said: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا (So when they lost hope in him, they went aside for consultation).
After that, the primary statement of the oldest brother which begins with the words: قَالَ كَبِيرُهُمْ (The oldest of them said) is continued till the end of verse 80. The statement was: "Do you not know that your father had taken pledge from you in the name of Allah, while you had defaulted earlier in the case of Yusuf (علیہ السلام) . So, I shall never leave this land unless my father permits me (to return) or Allah decides about me. And He is the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
That is, you readily believed that my son, whom I know to be of a noble character, had committed the theft of a cup. You have behaved in his case just as you behaved in the case of his elder brother. You made away with him and then pretended, without any pangs of conscience, that a wolf had devoured him and now, with the same ease, you tell me that the other brother has committed a theft.
Read the full tafseer →