Explained with ayahs 78–79
جب بنیامین کے پاس سے شاہی مال برآمد ہوا اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے تو اب انہیں رنج ہونے لگا۔ عزیز مصر کو پرچانے لگے اور اسے رحم دلانے کے لئے کہا کہ ان کے والد ان کے بڑے ہی دلدادہ ہیں۔ ضعیف اور بوڑھے شخض ہیں۔ ان کا ایک سگا بھائی پہلے ہی گم ہوچکا ہے۔ جس کے صدمے سے وہ پہلے ہی سے چور ہیں اب جو یہ سنیں گے تو ڈر ہے کہ زندہ نہ بچ سکیں۔ آپ ہم میں سے کسی کو ان کے قائم مقام اپنے پاس رکھ لیں اور اسے چھوڑ دیں آپ بڑے محسن ہیں، اتنی عرض ہماری قبول فرما لیں۔ حضرت یوسف ؑ نے جواب دیا کہ بھلا یہ سنگدلی اور ظلم کیسے ہوسکتا ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی۔ چور کو روکا جائے گا نہ کہ شاہ کو ناکردہ…
Read the full tafseer →63۔ احتیاط ملاحظہ ہو کہ " چور " نہیں کہتے بلکہ صرف یہ کہتے ہیں کہ " جس کے پاس ہم نے اپنا مال مایا ہے " اسی کو اصطلاح شرع میں " توریہ " کہتے ہیں، یعنی حقیقت پر پردہ ڈالنا، یا امر واقعہ کو چھپانا، جب کسی مظلوم کو ظالم سے بچانے یا کسی بڑے مظملہ کو دفع کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہ ہو کہ کچھ خلاف واقعہ بات کہی جائے یا کوئی خلاف حقیقت حیلہ کیا جائے، تو ایسی صورت میں ایک پرہیزگار آدمی صریح جھوٹ بولنے سے احتراز کرتے ہوئے ایسی بات کہنے یا ایسی تدبیر کرنے کی کوشش کرے گا، جس سے حقیقت کو چھپا کر بدی کو دفع کیا جاسکے۔ ایسا کرنا شرع و اخلاق میں جائز ہے بشرطیکہ محض کام نکالنے کے لیے ایسا نہ کیا جائے بلکہ…
Read the full tafseer →(آیت) قَالَ مَعَاذ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗٓ ۙ اِنَّآ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کی درخواست کا جواب ضابطہ کے مطابق یہ دیا کہ یہ بات تو ہمارے اختیار میں نہیں کہ جس کو چاہیں پکڑ لیں بلکہ جس کے پاس مال مسروقہ برآمد ہوا اگر اس کے سوا کسی دوسرے کو پکڑ لیں تو ہم تمہارے ہی فتوے اور فیصلے کے مطابق ظالم ہوجائیں گے کیونکہ تم نے ہی یہ کہا ہے کہ جس کے پاس مال مسروقہ برآمد ہو وہ ہی اس کی اجزاء ہے
Read the full tafseer →قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗٓ ۙ اِنَّآ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۔
حضرت یوسف کا جواب : حضرت یوسف ؑ نے جواب دیا کہ اس بات سے اللہ کی پناہ کہ ہم اس کے سوا کسی کو پکڑیں جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے۔ اگر ہم ایسا کریں تو ہم نہایت ظالم ٹھہریں گے۔ یہاں حضرت یوسف ؑ کی یہ احتیاط ملحوظ رہے کہ وہ یہ نہیں فرماتے کہ ہم اس کے سوا کسی کو پکڑیں جس نے ہماری چیز چرائی ہے، بلکہ محتاط الفاظ میں یوں فرماتے ہیں کہ اس کے سوا کسی کو پکڑیں جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے۔
Read the full tafseer →79۔ 1 یہ جواب اس لئے دیا کہ حضرت یوسف ؑ کا اصل مقصد تو بنیامین کو روکنا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
53: چونکہ حضرت یعقوب ؑ کو یقین تھا کہ بنیامین چوری نہیں کرسکتا۔ اس لیے انہوں نے یہ سمجھا کہ اس مرتبہ بھی ان لوگوں نے کوئی بہانہ بنایا ہے۔
Read the full tafseer →حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ نہیں کہا کہ پناہ خدا کی ، کہ ہم کسی چور کے بدلے ایک بےگناہ کو پکڑ لیں۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بھائی چور نہیں ہے ، اس لیے انہوں نے نہایت ہی ٹیکنیکل انداز تعبیر اختیار کیا۔ اگرچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان مصری ہوگی لیکن قرآن نے ان کی جو حالت بتائی ہے ظاہر ہے وہ اصل کے مطابق ہے۔ “ جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ”۔ ان الفاظ میں بالکل سادہ حقیقت کا اظہار ہے ، نہ الزام ہے اور اس کی طرف اشارہ کہ مال رکھا کس نے۔
انا اذا لظلمون “ اگر ہم دوسرے کو گرفتار کریں تو ہم ظالم ہوں گے ”۔ بس یہ آخری بات تھی ۔ وہ سمجھ گئے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب وہ سوچنے لگے کہ والد کو کس طرح…
Read the full tafseer →10 یعنی خدا پناہ میں رکھے، کہ ہم کسی کو بےسبب دوسرے کے بدلے میں پکڑنے لگیں۔ ہم تو صرف اسی شخص کو روکیں گے جس کے پاس سے اپنی چیز ملی ہے۔ (وہ بنیامین ہے جو عینی بھائی ہونے کی حیثیت سے ہمارے پاس رہے گا) یہاں بھی ( اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗٓ) 12 ۔ یوسف :79) کی جگہ " اِلَّا مَنْ سَرقَ " نہیں فرمایا جو مختصر تھا۔ کیونکہ واقعہ کے خلاف ہوتا۔
11 یعنی مجرم کے بدلہ میں بےقصور کو پکڑیں تو تمہارے خیال اور قانون کے موافق ہم بےانصاف ٹھہریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ
یہ صورت حال ان لوگوں کے لیے بہت پریشان کن تھی۔ باپ کا اعتماد وہ پہلے ہی کھو چکے تھے۔ اس دفعہ اللہ کے نام پر عہد کر کے بن یامین کو اپنے ساتھ لائے تھے۔ اب خیال آتا تھا کہ اگر اسے یہاں چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو والد کو جا کر کیا منہ دکھائیں گے۔ چناچہ وہ گڑ گڑانے پر آگئے اور حضرت یوسف کی منت سماجت کرنے لگے کہ آپ بہت شریف اور نیک انسان ہیں ‘ آپ ہم میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ اپنے پاس رکھ لیں مگر اس کو جانے دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
76 جب یہ واقعہ پیش آگیا تو برادران یوسف کو فوراً خیال آیا کہ اب ہم اپنے باپ کو کیا منہ دکھاسکتے ہیں جس سے اتنا پختہ عہد کیا تھا کہ ہم بن یمین کو ضرور ساتھ لائیں گے الا یہ کہ ہم پر ہی کوئی آفت نہ پڑجائے۔ اب اگر یہ اس کے دس بھائی باپ کے پاس جاتے اور صرف بن یمین ساتھ نہ ہوتا تو اس سے زیادہ ان کے جھوٹ اور مکر و فریب کا اور کیا ثبوت ہوسکتا تھا۔ بالخصوص اس صورت میں کہ سیدنا یوسف والے واقعہ کی وجہ سے باپ پہلے ہی ان کی طرف سے بدظن تھا۔ اب لگے سیدنا یوسف کے سامنے منت و سماجت کرنے کہ آپ نے ہم پر پہلے بھی بہت احسان کئے ہیں ایک یہ بھی کردیجئے کہ اس بن یمین کے بجائے ہم میں سے کوئی ایک اپنے ہاں غلام رکھ…
Read the full tafseer →147۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے بھی غضب کردیا ! مجھ سے یہ چاہتے ہو کہ مال کسی کے پاس نکلے اور سزا کسی کو ملے، حاشا مجھ سے تو یہ ناانصافی نہیں ہوسکتی۔ شریعت اسلامی میں بھی سزائے بدنی میں مبادلہ جائز نہیں، زید اگر اپنی خوشی سے اپنے کو عمرو کے عوض رجم یا قتل یا قطع عضو کے لئے پیش کردے تو قاضی یا مدعی کو اس کے قبول کرلینے کا اختیار نہیں، حضرت یوسف (علیہ السلام) کمال احتیاط سے بنیامین کو اپنی زبان سے چور نہیں کہتے بلکہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ مال تو تمہارے سامنے جس کی تلاشی میں نکلا، سزا تم اس کے سوا کسی اور کو دلانا چاہتے ہو !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–79
آیت نمبر 69 تا 79
ترجمہ : اور جب (برادران یوسف) یوسف کے حضور پہنچے تو (یوسف نے) اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس ٹھہرایا اور کہا میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو گم ہوگیا تھا) لہٰذا اب تم اس حرکت پر جو یہ ہم سے حسد کی بنا پر کرتے رہے ہیں رنجیدہ نہ ہو، اور اس سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم اس کی خبر ان کو نہ دینا، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ عنقریب کوئی ایسا حیلہ کیا جائیگا کہ اس کے ذریعہ اس کو اپنے پاس روک لے اور جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو سامان ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں پیالہ رکھ دیا وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس پر جواہر جڑے ہوئے تھے، پھر ایک آواز دینے…
Read the full tafseer →قال معاذ اللہ ان تاخذا الا من وجدنا متاعنا عندہ یوسف نے کہا : جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے ‘ اس کی جگہ دوسرے کو پکڑ لیں ‘ اس ناانصافی سے اللہ کی پناہ (ایسا نہیں کرسکتے ‘ مجرم کی جگہ دوسرے کو پکڑنا تو تمہارے فتوے کے لحاظ سے بھی ظلم ہے) ۔
حضرت یوسف نے مَنْ وَّجَدْنَا مَتَا عَنَا عِنْدَہٗ فرمایا مَنْ سَرَقَ نہیں فرمایا کیونکہ بنیامین نے چوری نہیں کی تھی ‘ اس کے سامان میں شاہی پیمانہ ملا تھا۔
انا اذ الظلمون اگر ہم ایسا کریں گے تو (تمہارے ہی قانون اور فتوے کی رو سے) اس وقت ہم ظالم ہوں گے۔
حضرت یوسف کے کلام کا مفہوم اور مقصد یہ تھا کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ جس کے سامان میں پیمانہ برآمد ہو ‘ اس…
Read the full tafseer →(79) حضرت یوسف ؑ نے فرمایا نعوذ باللہ ہم گناہ گار کے بجائے بےگناہ کو روک لیں۔
Read the full tafseer →قَالَ مَعَاذ اللّٰهِ۔۔ : یوسف ؑ اپنے بھائی کو پاس رکھنا بھی چاہتے تھے اور چور بھی نہیں کہنا چاہتے تھے، ان کی کمال ذہانت اور کمال صدق دیکھیے کہ دونوں معنوں پر مشتمل الفاظ میں بھائی کو ساتھ بھیجنے سے انکار کردیا۔ فرمایا کہ ہم اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ اس شخص کے سوا کسی اور کو پکڑیں جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے، اس صورت میں تو یقیناً ہم ظالم ہوں گے اور ہم ظلم نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
آیت نمبر 77 تا 79
قولہ تعالیٰ : قالوٓا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل معنی یہ ہوگا : یعنی اس نے اپنے بھائی کی پیروی کی ہے، اگر ہماری پیروی کرتا چوری نہ کرتا۔ انھوں نے یہ صرف اس لیے کہا تاکہ وہ اس کے فعل سے بری ہوں جائیں، کیوں کہ وہ ان کی ماں کا بیٹا نہیں تھا۔ اور اگر اس نے چوری کی ہے تو اس نے اپنے چور بھائی کا اثر قبول کرلیا ہے۔ کیونکہ نسب میں اشتراک اخلاق پر بھی اثر انداز ہوتا ہے
اس چوری کے بارے میں اختلاف ہے جس کی نسبت انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف کی ہے : مجاہد وغیرہ سے روایت ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پھوپھی حضرت اسحاق کی اولاد میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے بھی بڑی تھی، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
بھائیوں کے غلط الزام لگانا :
1:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے (اسی سے) یوسف (علیہ السلام) کو مراد لیا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا آزمائش میں مبتلا ہونا :
2:۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلی مصیبت جس میں یوسف (علیہ السلام) داخل ہوئی وہ یہ تھی جس کے بارے میں مجھے (یہ بات) پہنچی ہے۔ کہ ان کی ایک چچی جو اسحاق کی اولاد میں سے بڑی تھی۔ اس کے پاس ایک اسحاق (علیہ السلام) کا ٹپکا تھا۔ اور وہ وراثت میں بڑے فرد کو دیتے تھے۔ یعقوب (علیہ…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ مَعَاذَ اللّٰهِ : اللہ کی پناہ ] [ان : کہ ] [ نَاخُذَ : ہم پکڑیں ] [ اِلَّا : مگر ] [ مَنْ : اس کو ] [ وَّجَدْنَا : ہم نے پایا ] [ مَتَاعَنَا : اپنا سامان ] [ عِنْدَهٗٓ : جس کے پاس ] [ انآ : بیشک ہم ] [ اِذًا : پھر تو ] [ لَّظٰلِمُوْنَ : ضرور ظلم کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
برادران یوسف کا ایک جگہ جمع ہو کر مشورہ کرنا اور بڑے بھائی کا یوں کہنا کہ میں تو یہاں سے نہیں جاتا تم لوگ جاؤ اور والد کو چوری والی بات بتادو
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے ناامید ہوگئے کہ وہ کسی طرح سے بنیامین کو واپس کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور یہ جو پیشکش کی تھی کہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیں اس کو بھی انہوں نے نہیں مانا بلکہ اسے ظلم قرار دے دیا تو وہاں سے ہٹ کر اب مشورہ کرنے لگے کہ کیا کریں ‘ ان میں جو بڑا بھائی تھا جس کا نام کسی نے یہود اور کسی نے شمعون اور کسی نے روبیل بتایا ہے اس نے باقی بھائیوں سے خطاب کر کے کہا کہ آپ لوگوں کہ معلوم ہے کہ جب اپنے والد سے رخصت ہو رہے تھے تو مضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–87
بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون
(ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…
Read the full tafseer →68:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا ظلم سے خدا کی پناہ۔ ہم تو صرف اسی کو رکھیں گے جس سے ہمارا مال برآمد ہوا ہے اس کی جگہ دوسرے کو رکھیں تو ہم ظالم ہیں۔ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا میں اِلَّا بمعنی سوی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
ربط آیات
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ پانی پینے کا پیالہ بن یامین کے سامان میں رکھ دیا گیا اور پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ برادران یوسف نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو ہم زمین میں فساد برپا کرنے کے لئے آئے ہیں اور نہ ہی ہم چور ہیں۔ پھر بادشاہ کے کارندوں نے کہا کہ اگر چوری ثابت ہوجائے تو چور کی سزا کیا ہے تو بھائیوں نے کہا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق چور کو ایک سال تک مسروقہ مال کے مالک کی غلامی کرنا پڑتی ہے۔ اب آج کے درس میں بھائیوں کے سامان کی تلاشی اور پیالہ برآمد ہونے کا ذکر آ رہا ہے۔
سامان کی تلاشی
ارشاد ہوتا ہے فبدآء…
Read the full tafseer →قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗٓ ۙ اِنَّآ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ 79ۧ
عوذ
العَوْذُ : الالتجاء إلى الغیر والتّعلّق به . يقال :
عَاذَ فلان بفلان، ومنه قوله تعالی: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67]
( ع و ذ) العوذ
( ن ) کے معنی ہیں کسی کی پناہ لینا اور اس سے چمٹے رہنا ۔ محاورہ ہے : ۔ عاذ فلان بفلان فلاں نے اس کی پناہ لی اس سے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں ۔
متع ( سامان)
وكلّ ما ينتفع به علی وجه ما فهو مَتَاعٌ ومُتْعَةٌ ، وعلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَ مَعَاذَاللّٰہِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلاَّ مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَہٗٓ لا اِنَّـآ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 79)
(عزیزِ مصر نے کہا ! اللہ تعالیٰ کی پناہ، اس بات سے کہ ہم اس کے سوا کسی کو پکڑیں جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہو۔ اس صورت میں ہم نہایت ظالم ٹھہریں گے۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا جواب
بھائیوں کی درخواست پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہم اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم کسی ایسے شخص کو پکڑیں جس سے ہمیں کوئی شکایت نہیں۔ ہم تو اس شخص کو پکڑیں گے جس سے ہمیں اپنا پیالہ ملا ہے، اگر ہم کسی اور کو اس کی جگہ گرفتار کریں تو یہ انصاف نہیں، ظلم ہوگا۔ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بنیامین کے سامان سے بادشاہ کا پیالہ برآمد ہونے پر بھائیوں کا رد عمل۔
سامان کی تلاشی لینے پر بنیامین کے سامان سے پیالہ نکلا۔ تلاشی لینے والوں نے کہا کہ اب بتائیں کہ ہمارا قیافہ صحیح نہیں نکلا ؟ سب کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ براداران یوسف اس پر بنیابین کی طرف سے کوئی عذر اور معذرت کرتے۔ انہوں نے اس کے برعکس اپنے حسد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کے حقیقی بھائی نے بھی چوری کی تھی۔ یہ ہمارا حقیقی بھائی نہیں ہے باقی ہم سگے بھائی ہیں۔ ہم میں کوئی بھی ایسی حرکت کرنے والا نہیں ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →79: قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ اَنْ نَّاْ خُذَ اِلَّا مَنْ وَّ جَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَہٗ (اس نے کہا پناہ بخدا (اس ناانصافی سے) کہ ہم نے جس کے پاس اپنا سامان پایا اس کی جگہ کسی اور کو پکڑیں) ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں پناہ مانگنا کہ ہم پکڑیں کسی اور کو۔ مصدر کی اضافت مفعول بہ کی طرف کی۔ اور من کو حذف کردیا۔ اِنَّآ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ (ہم اس وقت ظلم کرنے والے ہونگے) اذًاؔ یہ اس کا جواب جزاء ہے کیونکہ مطلب اس طرح ہے کہ اگر ہم اس کا بدلہ لے لیں تو ہم ظالم ہونگے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ تمہارے فیصلہ پر اس نے پکڑا ہے کہ جس کے ہاں سامان ملے۔ اس کو غلام بنالیا جائے۔ اگر ہم دوسرے کو پکڑیں تو یہ…
Read the full tafseer →79۔” قال “ یوسف نے ” ماذ اللہ “ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ ” ان ناخذالا من وجدنا متاعنا عندہ “ یہ نہیں کہا کہ جس نے ماری چور ی کی جھوٹ سے بچنے کے لیے ۔ ” انا اذا لظالمون “ اگر ہم مجرم کی جگہ بےگناہ کو پکڑ لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
78۔ 79۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے دیکھا کہ اب بنیامین کو عزیز مصر نہیں چھوڑے گا تو بہت گھبرائے کیونکہ باپ سے وعدہ کر کے آئے تھے کہ ہم ہرگز کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھیں گے جس طرح ہوگا بنیامین کو ضرور اپنے ساتھ واپس لائیں گے مگر یہاں معاملہ برعکس ہوا کہ بنیامین پر چوری ثابت ہوئی اور ان کے دین کے موافق بنیامین عزیز مصر کا ایک برس تک غلام ہوچکا اس لئے گڑ گڑانے لگے اور نہایت ہی عاجزی و منت سے کہا کہ اے عزیز مصر ہماری ایک بات سن لو ہمارے باپ بہت ہی بوڑھے ہیں اور کل لڑکوں میں اسی چھوٹے لڑکے کو زیادہ چاہتے ہیں اس کے بغیر انہیں آرام نہیں اس کی جدائی کی تاب وہ ہرگز نہیں لاسکتے اس واسطے اگر آپ…
Read the full tafseer →(آیت) یوسف (علیہ السلام) نے کہا : (آیت) ” اللہ پناہ میں رکھے جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں۔ “ یعنی ہماری طرف سے یہ بہت بڑا ظلم ہوگا اگر ہم اس شخص کے بدلے جس کے پاس سے ہمارا مال برآمد ہوا ہے، ایک بےگناہ شخص کو پکڑ لیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے یہ نہیں کہا ” جس نے چوری کی “ یہ جھوٹ سے احتراز ہے۔ (آیت) ” ہم تو پھر “ یعنی اگر ہم اس شخص کو پکڑنے کی بجائے جس کے سامان سے ہمارا مال برآمد ہوا ہے کسی اور شخص کو پکڑ لیں (آیت) ” ظالم ہوں گے “ کیونکہ اس طرح ہم ایسے شخص کو سز ادیں گے جو سزا کا مستحق نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
قول باری ہے (قالو جزاء ہ من وجد فی رحلہ فھو جزاء ہ۔ انہوں نے کہا ” اس کی سزا ؟ جس کے سامان سے یہ چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے “ ) حسن، ابو اسحاق، معمر اور سدی کا قول ہے کہ اس کے ہاں یہ دستور تھا کہ وہ چور کو غلام بنا لیا کرتے تھے۔ اس طرح ترتیب عبارت یہ ہوگی۔ اس کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کے سامان سے وہ چیز برآمد ہوجائے گی اسے غلام بنا کر رکھ لیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک ایسے شخص کی یہی سزا ہے جس طرح تمہارے نزدیک اس کی یہی سزا ہے “ جب وہ پیمانہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوگیا تو انہوں نے شرط کے مطابق اپنے بھائی کو چوری کی سزا میں پکڑ لیا، اس پر برادران یوسف نے…
Read the full tafseer →131۔ ظلم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان لوگوں کے اس مطالبے کے جواب میں ان سے فرمایا کہ اللہ کی پناہ کہ ہم اس شخص کے سوا کسی اور پکڑ لیں، جس کے پاس ہم نے اپنا سامان برآمد کیا ہے، ایسی صورت میں ہم یقینا ظالم ٹھہریں گے اور ہم ہر قسم کے ظلم سے اللہ تعالیٰ کی امان وپناہ مانگتے ہیں کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ قصور کسی کا ہو اور پکڑلیا جائے کسی اور کو۔ سو اس طرح کے کسی ظلم کے مرتکب اور ایسی کسی زیادتی کے روادار ہم نہیں ہوسکتے۔ لہذا اس کو ہم کسی قیمت پر بھی چھوڑ نہیں سکتے اور ایسے نہیں ہوسکتا کہ ہم کسی اور کو پکڑ کر اس کے بدلے میں اس کو چھوڑ دیں کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–79
آیات 69 تا 79
اسرارومعاف
جب یوسف (علیہ السلام) کے حضور پہنچے تو انھوں نے سب کو عزت واحترام سے ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ سے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اگر میری جدائی بھی بہت تکلیف دہ تھی جو بھائیوں کے ہاتھوں واقع ہوئی مگر اب ملاقات انشاء اللہ تعالیٰ سب غم رفع کردے گی اور وقت آنے پر والد گرامی کو بھی یہ خوشی نصیب ہوگی لیکن ابھی رب جلیل کو یہ منظور ہے کہ تم بھی یہیں رہ جاؤ ۔ شاید یہ غم کا پہاڑ ابھی قلب یعقوب (علیہ السلام) پہ ٹوٹنا باقی ہے ۔
تربیت قلوب
اس سے ثابت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا فعل تو اللہ کے حکم سے تھا جیسے آگے مذکور ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ کریم…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ اور ظلم ہم کو نہیں سکتے۔ بنیامین حقیقت میں چور نہیں تھے اس لئے حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے یہ کہا کہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
(12:79) معاذ اللہ۔ معاذ مصدر میمی ہے اور اسم ہے اور مضاف اللہ مضاف الیہ۔ اللہ کی پناہ۔ تقدیر کلام۔ نعوذ باللہ معاذا من ان ناخذ۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم کسی آدمی کو پکڑ رکھیں (ماسوا اس آدمی کے کہ جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے)
اذا۔ حرف جزا ہے اصل میں اذن ہے وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدل لیتے ہیں جو اب اور جزاء کے لئے آتا ہے۔
لظلمون۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔
استیئسوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ وہ مایوس ہوگئے استئی اس (استفعال) سے ی ء س حروف مادہ ۔ ویسے ثلاثی مجرد سے یئس (سمع) بھی انہیں معنوں میں آتا ہے لیکن باب استفعال سے س اور ت مبالغہ کے لئے زائد لائے ہیں۔
خلصوا۔ خلص یخلص (نصر )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 79
(یسرق چوری کرتا ہے ) ( اسر اس نے چھپا لیا ) ( فی نفسہ اپنے نفس میں، اپنے دل میں ) (لم یبدظاہر نہ کیا) ( انتم تم) ( شر مکان برا ٹھکانا، برے درجے کے لوگ) ( تصفون تم بیان کرتے ہو) ( شیخ کبیر بہت زیادہ بوڑھا) ( خذ تو پکڑے، تولے لے ) (احدنا ہم میں سے ایک) ( مکانہ، اس کی جگہ ) (نرک ہم دیکھتے ہیں تجھے) ( معاذ اللہ اللہ کی پناہ) ( ان ناخذ یہ کہ ہم لے لیں) ( عندہ، اس کے پاس) ( اذا اس وقت)
تشریح : آیت نمبر 77 تا 79
جب حضرت یوسف کے سگے بھائی بن یمین کے سامان میں سے وہ شاہی پیالہ نکل آیا جس کی تلاش تھی تب حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے دلی غبض اور نفرت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
بھائیوں کی پریشانی کا ذکر
جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے دیکھا کہ اب بنیامین کو عزیز مصر نہیں چھوڑے گا تو بہت گھبرائے کیونکہ باپ سے وعدہ کر کے آئے تھے اس لئے گڑگڑانے لگے، اور نہایت ہی عاجزی و منت سے کہا کہ اے عزیز مصر ! بنیامین کا باپ بہت ہی بوڑھا ہے اور یوسف (علیہ السلام) کے بعد اس سے ہی محبت رکھتا ہے۔ اگر آپ ہم میں سے ایک کو اس کے بدلے غلام بنالیں اور اس کو چھوڑ دیں تو بہتر ہوگا۔ بہت ہی بڑا احسان آپ کا ہمارے اوپر ہوگا اور ہم آپ کو نیکو کار مرد بزرگ دیکھتے ہیں ضرور ہمارے مدعا کو پورا کریں گے۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ : یہ بڑی بےانصافی کی بات ہے کہ کسی اور کو پکڑ لیں ہم تو اسی کو…
Read the full tafseer →[29] یوسف (علیہ السلام) کمال احتیاط سے بنیامین کو اپنی زبان سے چور نہیں کہتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ '' جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے ''۔ شرع کی اصطلاح میں اس طرح کے حیلے کو '' توریہ '' کہتے ہیں۔ یعنی صریح جھوٹ بولنے سے احتراز کرتے ہوئے ایسی بات کہنے یا ایسی تدبیر کرنے کی کوشش کی جائے جس سے حقیقت کو چھپا کر مظلوم کو کسی ظالم سے بچانے یا کسی بدی کو دفع کرنے کا ارادہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
(ف 1) بالآخر یہ لوگ مایوس ہوگئے ، اور انہوں نے دیکھا کہ اب کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی ، اب بنیامین کا یہاں سے چھڑا لے جانا ناممکن ہے ، اس لئے اب اس سوچ میں پڑگئے کہ ابا کو کیا جواب دیں گے ، یوسف (علیہ السلام) کی وجہ سے پہلے ہی بدنام ہیں ، اب اور بھی بھرم کھل جائے گا ، ہم ابا کو یقین دلا کر لائے تھے ، کہ پوری پوری حفاظت کریں گے ، اب کس منہ سے کہیں گے کہ وہ ہمارے ساتھ نہیں آسکا ، صلاح ومشورہ کے بعد قرار پایا کہ اصل واقع ان کے گوش گزار کردیا جائے ، اور کہہ دیا جائے کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے ، ہم کیا جانتے تھے کہ یہ اس طرح چور بنے گا ، ہمیں غیب کی کیا خبر تھی ، جو پہلے سے معلوم کرلیتے ، ہم…
Read the full tafseer →79 ۔ عزیز نے بھائیوں کو جواب دیا ہم کو ایسی ناانصافی سے خدا بچائے کہ جس کے پاس ہم نے اپنا مال مسروقہ پایا ہے اس کو چھوڑ کر کسی اور کو گرفتار کرلیں ایسا کریں گے تو ہم اس حالت میں بڑے ظالم اور بےانصاف قرار پائیں گے یعنی یہ بڑی بےجا بات ہوگی کہ چوری کسی نے کی اور پکڑ لیں ہم کسی اور کو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–81
ف 6۔ یعنی ہم دونوں بھائیوں سے تو حقیقت سرقہ کی صادر نہیں ہوئی اور تم نے تو اتنا بڑا کام کیا کہ کوئی مال غائب کرتا ہے تم نے آدمی غائب کردیا کہ مجھ کو باپ سے بچھڑا دیا اور ظاہر ہے کہ آدمی چوری مال کی چوری سے زشت تر ہے اور برادران یوسف نے جو کہا کہ اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی اس کی حقیقت درمنثور میں یہ لکھی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو ان کی پھوپھی پرورش کرتی تھیں جب ہوشیار ہوئے تو یعقوب (علیہ السلام) نے انہیں واپس لینا چاہا لیکن وہ اپنے پاس رکھنا چاہتی تھیں اس لیے ان کی کمر میں ایک پٹکا کپڑوں کے اندر باندھ کر مشہور کردیا کہ پٹکا گم ہوگیا اور سب کی تلاشی لی تو ان کی کمر سے نکلا اور اس شریعت کے…
Read the full tafseer →عزیز مصر نے جواب دیا کہ ہم یہ کس طر کرسکتے ہیں کہ الزام ” الف “ پر اور مقدمہ ” ب “ پر
۔ 95 مفسرین اگر قرآن کریم کی اس آیت کے صرف ایک لفظ ” معاذ اللہ “ پر غور کرلیتے تو ان کے کانوں کی کھڑکیاں کھل جاتیں۔ یہ وہی جملہ ہے جو ایک بار پہلے بھی یوسف (علیہ السلام) نے استعمال کیا اور وہ کتنا مشکل اور کتنا کٹھن وقت تھا اور اس لفظ میں اس وقت کتنا زور اور کتنی کشمکش تھی جب وہ امراۃ العزیز کے ورغلانے کے وقت کہہ رہے تھے اور آج یہ جملہ وہ کس طرح بول سکتے تھے۔ اگر انہوں نے خود پیالہ بنیامین کی بوری ، بوجھ یا تثلیث میں رکھا ہوتا۔ حاشا اللہ ! دل پھٹ جاتا ہے جب مفسرین کا یہ بیان دیکھتا ہوں اور یوسف (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →The response of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) appears in verse 79 قَالَ مَعَاذَ اللَّـهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِندَهُ إِنَّا إِذًا لَّظَالِمُونَ that is, he gave his reply to their request according to the regulations followed in his country by telling them that they were not authorized to detain anyone they wished. In fact, if they were to arrest someone other than the person from whose possession the lost property has been recovered, then, according to their own fatwa and ruling, they would be accused of being unjust.
The reason he gave was that they had themselves…
Read the full tafseer →63. The use of the words“with whom we have found our property”instead of the word thief is very significant. Prophet Joseph avoided the use of the word thief for his brother because he was not really a thief. This is called touriyah, that is, to put a cover over a reality or to hide a reality. Such a practice is allowed by the Muslim law under certain conditions and with certain limitations. It may be practiced not to gain any selfish end, but to ward off some evil or to protect and save an oppressed person from some oppressor, provided that no other course might have been left except saying…
Read the full tafseer →