Explained with ayahs 78–79
جب بنیامین کے پاس سے شاہی مال برآمد ہوا اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے تو اب انہیں رنج ہونے لگا۔ عزیز مصر کو پرچانے لگے اور اسے رحم دلانے کے لئے کہا کہ ان کے والد ان کے بڑے ہی دلدادہ ہیں۔ ضعیف اور بوڑھے شخض ہیں۔ ان کا ایک سگا بھائی پہلے ہی گم ہوچکا ہے۔ جس کے صدمے سے وہ پہلے ہی سے چور ہیں اب جو یہ سنیں گے تو ڈر ہے کہ زندہ نہ بچ سکیں۔ آپ ہم میں سے کسی کو ان کے قائم مقام اپنے پاس رکھ لیں اور اسے چھوڑ دیں آپ بڑے محسن ہیں، اتنی عرض ہماری قبول فرما لیں۔ حضرت یوسف ؑ نے جواب دیا کہ بھلا یہ سنگدلی اور ظلم کیسے ہوسکتا ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی۔ چور کو روکا جائے گا نہ کہ شاہ کو ناکردہ…
Read the full tafseer →62۔ یہاں لفظ " عزیز " حضرت یوسف کے لیے جو استعمال ہوا ہے صرف اس کی بنا پر مفسرین نے قیاس کرلیا کہ حضرت یوسف اسی منصب پر مامور ہوئے تھے جس پر اس سے پہلے زلیخا کا شوہر مامور تھا پھر اس پر مزید قیاسات کی عمارت کھڑی کرلی گئی کہ سابق عزیز مرگیا تھا، حضرت یوسف اس کی جگہ مقرر کیے گئے، زلیخا ازسر نو معجزے کے ذریعہ سے جوان کی گئی، اور شاہ مصر نے اس سے حضرت یوسف کا نکاح کردیا۔ حد یہ ہے کہ شب عروسی میں حضرت یوسف اور زلیخا کے درمیان جو باتیں ہوئیں وہ تک کسی ذریعہ سے ہمارے مفسرین کو پہنچ گئیں۔ حالانکہ یہ سب باتیں سراسر وہم ہیں، لفظ " عزیز " کے متعلق ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ مصر میں کسی خاص منصب کا نام نہ…
Read the full tafseer →(آیت) قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗٓ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ برداران یوسف نے جب دیکھا کہ کوئی بات چلتی نہیں اور بنیامین کو یہاں چھوڑنے کے سوا چارہ نہیں تو عزیز مصر کی خوشامد شروع کی اور یہ درخواست کی کہ اس کے والد بہت بوڑھے ہیں اور ضعیف ہیں (اس کی مفارقت ان سے برداشت نہ ہوگی) اس لئے آپ اس کے بدلے میں ہم میں سے کسی کو گرفتار کرلیں یہ درخواست آپ سے ہم اس امید پر کر رہے ہیں کہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ بہت احساس کرنے والے ہیں یا یہ کہ آپ نے اس سے پہلے بھی ہمارے ساتھ احسان کا سلوک فرمایا ہے
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗٓ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ۔
حضرت یوسف ؑ کی خوشامد : جب انہوں نے دیکھا کہ بازی ہاری گئی تو فوراً خوشامد پر اتر آئے اور حضرت یوسف کو خاص سرکاری خطاب " عزیز " سے جو مصر کے اعلی سرکاری عہدہ داروں کے لیے مخصوص تھا۔ مخاطب کر کے نہایت لجاجت سے عرض کہ حضور ! اس کا باپ بہت بوڑھا ہوچکا ہے تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لیجیے اور اس کو رہا کردیجیے ہم آپ کو ایک نہایت محسن آدمی سمجھتے ہیں امید ہے کہ آپ ہمیں اپنے احسان سے محروم نہ فرمائیں گے۔
Read the full tafseer →78۔ 1 حضرت یوسف کو عزیز مصر اس لئے کہا کہ اس وقت اصل اختیارات حضرت یوسف ؑ کے ہی پاس تھے، بادشاہ صرف برائے نام فرمانروائے مصر تھا۔
78۔ 2 باپ تو یقینا بوڑھے ہی تھے، لیکن یہاں ان کا اصل مقصد بنیامین کو چھڑانا تھا۔ ان کے ذہن میں وہی یوسف ؑ والی بات تھی کہ کہیں ہمیں پھر دوبارہ بنیامین کے بغیر باپ کے پاس جانا پڑے اور باپ ہم سے کہیں کہ تم نے میرے بنیامین کو بھی یوسف ؑ کی طرح کہیں گم کردیا۔ اس لئے یوسف ؑ کے احسانات کے حوالے سے یہ بات کی کہ شاید وہ یہ احسان بھی کردیں کہ بنیامین کو چھوڑ دیں اور اس کی جگہ کسی اور بھائی کو رکھ لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
53: چونکہ حضرت یعقوب ؑ کو یقین تھا کہ بنیامین چوری نہیں کرسکتا۔ اس لیے انہوں نے یہ سمجھا کہ اس مرتبہ بھی ان لوگوں نے کوئی بہانہ بنایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
اس مختصر سبق آموز تبصرے کے بعد اب ہم برادران یوسف (علیہ السلام) کی طرف لوٹتے ہیں۔ حالات ایسے ہیں کہ اس مشکل مرحلے سے دو چار ہو کر یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے خلاف ان کے دل میں چھپی ہوئی عداوت اور بغض و حسد اب اہل پڑا ہے۔ چناچہ وہ اپنے آپ کو اس جرم سے بری قرار دے کر ، اس کا ذمہ دار حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی دوسری بیوی کی اولاد کو ٹھہراتے ہیں۔
قالوا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل (12 : 77) ان بھائیوں نے کہا “ یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں ، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسف (علیہ السلام) بھی چوری کرچکا ہے ”۔ ہمارے تفاسیر کے ذخیرے میں اس الزام پر طویل تبصرے ، حکایات اور روایات…
Read the full tafseer →9 یعنی بوڑھے باپ کو بڑا صدمہ پہنچے گا، وہ ہم سب سے زیادہ اس کو اور اس کے بھائی یوسف کو چاہتے تھے۔ یوسف کے بعد اب اسی سے اپنے دل کو تسلی دیتے ہیں۔ آپ اگر اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ آپ ہمیشہ مخلوق پر احسانات کرتے ہیں اور ہم پر خصوصی احسان فرماتے رہے ہیں۔ امید ہے ہم کو اپنے کرم سے مایوس نہ فرمائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ
یہ صورت حال ان لوگوں کے لیے بہت پریشان کن تھی۔ باپ کا اعتماد وہ پہلے ہی کھو چکے تھے۔ اس دفعہ اللہ کے نام پر عہد کر کے بن یامین کو اپنے ساتھ لائے تھے۔ اب خیال آتا تھا کہ اگر اسے یہاں چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو والد کو جا کر کیا منہ دکھائیں گے۔ چناچہ وہ گڑ گڑانے پر آگئے اور حضرت یوسف کی منت سماجت کرنے لگے کہ آپ بہت شریف اور نیک انسان ہیں ‘ آپ ہم میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ اپنے پاس رکھ لیں مگر اس کو جانے دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
76 جب یہ واقعہ پیش آگیا تو برادران یوسف کو فوراً خیال آیا کہ اب ہم اپنے باپ کو کیا منہ دکھاسکتے ہیں جس سے اتنا پختہ عہد کیا تھا کہ ہم بن یمین کو ضرور ساتھ لائیں گے الا یہ کہ ہم پر ہی کوئی آفت نہ پڑجائے۔ اب اگر یہ اس کے دس بھائی باپ کے پاس جاتے اور صرف بن یمین ساتھ نہ ہوتا تو اس سے زیادہ ان کے جھوٹ اور مکر و فریب کا اور کیا ثبوت ہوسکتا تھا۔ بالخصوص اس صورت میں کہ سیدنا یوسف والے واقعہ کی وجہ سے باپ پہلے ہی ان کی طرف سے بدظن تھا۔ اب لگے سیدنا یوسف کے سامنے منت و سماجت کرنے کہ آپ نے ہم پر پہلے بھی بہت احسان کئے ہیں ایک یہ بھی کردیجئے کہ اس بن یمین کے بجائے ہم میں سے کوئی ایک اپنے ہاں غلام رکھ…
Read the full tafseer →146۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ اب تو برے پھنسے اور ضابطہ سے اب کوئی صورت بنیامین کی عزیز مصر کے قید سے چھوٹنے کی نظر نہیں آتی اور باپ کو جو زبردست اور حلفیہ قول وقرار دے آئے تھے وہ سب یاد آئے تو اب لگے خوشامد کی راہ سے کہنے کہ حضور والا اس لڑکے کے چاہنے والے باپ بہت بوڑھے ہیں، ان کے قلب کو بہت سخت صدمہ ہوگا اس لئے آپ یہ کیجیے کہ اس لڑکے کے بجائے ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے اور اسے جانے دیجئے اور حضور جیسے رحیم المزاج حاکم ہماری درخواست ضرور ہی منظور کرلیں گے ہمیں بڑی آس لگی ہوئی ہے۔ (آیت) ” یایھا العزیز “۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) مدار المہامی پر فائز ہوچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–79
آیت نمبر 69 تا 79
ترجمہ : اور جب (برادران یوسف) یوسف کے حضور پہنچے تو (یوسف نے) اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس ٹھہرایا اور کہا میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو گم ہوگیا تھا) لہٰذا اب تم اس حرکت پر جو یہ ہم سے حسد کی بنا پر کرتے رہے ہیں رنجیدہ نہ ہو، اور اس سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم اس کی خبر ان کو نہ دینا، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ عنقریب کوئی ایسا حیلہ کیا جائیگا کہ اس کے ذریعہ اس کو اپنے پاس روک لے اور جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو سامان ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں پیالہ رکھ دیا وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس پر جواہر جڑے ہوئے تھے، پھر ایک آواز دینے…
Read the full tafseer →قالوا یایھا العزیز ان لہ ابا شیخا کبیرا فخذ احدنا مکانہ انا نرٰمک من المحسنین کہنے لگے : اے عزیز ! اس کو بوڑھا باپ ہے (جو اس سے بڑی محبت کرتا ہے۔ اس کا بھائی تو مرچکا ہے ‘ یہی باپ کے دل کا بہلاوا ہے ‘ مہربانی کیجئے) اور ہم میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ پکڑ لیجئے۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ بھلائی کرنے والوں میں سے ہیں (بھلائی اور مہربانی کرنے کی آپ کی عادت ہی ہے ‘ آپ اپنے اخلاق کو نہ بدلیں۔ آپ نے ہم پر کرم کیا ہے ‘ ہم کو پورا پورا غلہ دیا ‘ اچھی طرح مہمان رکھا ‘ ہمارا سرمایہ بھی ہم کو لوٹا دیا ‘ پس یہ بھی کرم کیجئے کہ اس کی جگہ ہم میں سے کسی اور کو پکڑ لیجئے) ۔
Read the full tafseer →(78) جب بھائیوں نے دیکھا کہ انہوں نے بنیامین کو روک لیا ہے تو خوشامد کرنے لگے کہ ان کا بوڑھا باپ ہے اگر بنیامین کو ہم لے جائیں گے تو وہ خوش ہوگا سو اس کی جگہ آپ ہم میں سے ایک کو بطور ضمانت رکھ لیجئے اگر آپ ایسا کرلیں تو ہم پر آپ کا بڑا احسان ہوگا۔
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗٓ اَبًا۔۔ : اس کا باپ بہت بوڑھا ہے، وہ اس کی جدائی برداشت نہیں کرسکے گا، پہلے بھی آپ نے ہم پر بہت سے احسان کیے ہیں، بس اب اتنا احسان اور کردیں کہ ہم میں سے کسی ایک کو اس کے بجائے رکھ لیں، امید ہے کہ آپ ہمیں اپنے کرم سے مایوس نہیں کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
آیت نمبر 77 تا 79
قولہ تعالیٰ : قالوٓا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل معنی یہ ہوگا : یعنی اس نے اپنے بھائی کی پیروی کی ہے، اگر ہماری پیروی کرتا چوری نہ کرتا۔ انھوں نے یہ صرف اس لیے کہا تاکہ وہ اس کے فعل سے بری ہوں جائیں، کیوں کہ وہ ان کی ماں کا بیٹا نہیں تھا۔ اور اگر اس نے چوری کی ہے تو اس نے اپنے چور بھائی کا اثر قبول کرلیا ہے۔ کیونکہ نسب میں اشتراک اخلاق پر بھی اثر انداز ہوتا ہے
اس چوری کے بارے میں اختلاف ہے جس کی نسبت انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف کی ہے : مجاہد وغیرہ سے روایت ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پھوپھی حضرت اسحاق کی اولاد میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے بھی بڑی تھی، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
بھائیوں کے غلط الزام لگانا :
1:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے (اسی سے) یوسف (علیہ السلام) کو مراد لیا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا آزمائش میں مبتلا ہونا :
2:۔ ابن اسحاق وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سب سے پہلی مصیبت جس میں یوسف (علیہ السلام) داخل ہوئی وہ یہ تھی جس کے بارے میں مجھے (یہ بات) پہنچی ہے۔ کہ ان کی ایک چچی جو اسحاق کی اولاد میں سے بڑی تھی۔ اس کے پاس ایک اسحاق (علیہ السلام) کا ٹپکا تھا۔ اور وہ وراثت میں بڑے فرد کو دیتے تھے۔ یعقوب (علیہ…
Read the full tafseer →[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ : اے عزیز ] [ان لَهٗٓ: کہ اس کے ] [ اَبًا : ایک والد ہیں ] [ شَيْخًا كَبِيْرًا : جو بہت بوڑھے ہیں ] [ فَخُذْ : پس آپ (علیہ السلام) پکڑیں ] [ اَحَدَنَا : ہمارے ایک کو ] [ مَكَانهٗ : اس کی جگہ ] [ انا : بیشک ] [ نَرٰىكَ : ہم دیکھتے ہیں آپ (علیہ السلام) کو [مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ : احسان کرنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
برادران یوسف (علیہ السلام) کا درخواست کرنا کہ بنیامین کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا جواب دینا
جب بنیامین کے کجا وہ سے پیالہ برآمد ہوگیا تو بھائیوں کو سخت ندامت ہوئی ‘ کچھ تو غصہ اور کچھ خفت مٹانے کا جذبہ کہنے لگے اگر اس نے چوری کی ہے تو کون سے تعجب کی بات ہے اس کا بھائی بھی اس سے پہلے چوری کرچکا ہے ‘ اس بھائی سے حضرت یوسف (علیہ السلام) مراد ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان لوگوں کی بات سن تو لی جس میں ان کی ذات پر حملہ تھا لیکن ان کی بات کا جو جواب دینا تھا اسے زبان پر نہ لائے البتہ اپنے دل میں کہا کہ تم اسے اور اس کے بھائی کو چور بتا رہے ہو حالانکہ تم چوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–87
بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون
(ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…
Read the full tafseer →67:۔ اب وہ عزیز مصر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے درخواست کرنے لگے کہ نیامین کا باپ بہت بوڑھا ہے وہ بیٹے کی جدائی کا صدمہ برداشت نہیں کرسکے گا اس لیے آپ اسے چھوڑ دیں اور اس کی جہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لیں آپ ہمیں نیکو کار اور محسن نظر آتے ہیں اس لیے امید ہے کہ آپ ہماری درخواست کو رد نہیں فرمائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
ربط آیات
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ پانی پینے کا پیالہ بن یامین کے سامان میں رکھ دیا گیا اور پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ برادران یوسف نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو ہم زمین میں فساد برپا کرنے کے لئے آئے ہیں اور نہ ہی ہم چور ہیں۔ پھر بادشاہ کے کارندوں نے کہا کہ اگر چوری ثابت ہوجائے تو چور کی سزا کیا ہے تو بھائیوں نے کہا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق چور کو ایک سال تک مسروقہ مال کے مالک کی غلامی کرنا پڑتی ہے۔ اب آج کے درس میں بھائیوں کے سامان کی تلاشی اور پیالہ برآمد ہونے کا ذکر آ رہا ہے۔
سامان کی تلاشی
ارشاد ہوتا ہے فبدآء…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗٓ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ 78
عزیز
، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88]
( ع ز ز ) العزۃ
العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )
شيخ
يقال لمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–104
2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Read the full tafseer →قَالُوْا یٰٓـاَیُّھَاالْعَزِیْزُ اِنَّ لَہٗٓ اَبًا شَیْخًا کَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَکَانَہٗ ج اِنَّا نَرٰکَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 78)
(وہ کہنے لگے اے عزیز ! اس لڑکے کا باپ بہت بوڑھا ہے تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لیجیے، ہم آپ کو نہایت ہی محسن سمجھتے ہیں۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خوشامد
برادرانِ یوسف نے جب دیکھا کہ معاملہ بہت بگڑ گیا ہے۔ بن یامین کے سامان سے پیالہ پکڑے جانے کے بعد صرف عزت ہی کو نقصان نہیں پہنچا بلکہ بن یامین کی واپسی بھی ناممکن ہوگئی ہے۔ ہم اپنے والد ماجد کو جس طرح پختہ عہد دے کر آئے تھے کہ ہم ہر صورت میں بھائی کو ساتھ لے کے آئیں گے تو اب ہم کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بنیامین کے سامان سے بادشاہ کا پیالہ برآمد ہونے پر بھائیوں کا رد عمل۔
سامان کی تلاشی لینے پر بنیامین کے سامان سے پیالہ نکلا۔ تلاشی لینے والوں نے کہا کہ اب بتائیں کہ ہمارا قیافہ صحیح نہیں نکلا ؟ سب کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ براداران یوسف اس پر بنیابین کی طرف سے کوئی عذر اور معذرت کرتے۔ انہوں نے اس کے برعکس اپنے حسد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کے حقیقی بھائی نے بھی چوری کی تھی۔ یہ ہمارا حقیقی بھائی نہیں ہے باقی ہم سگے بھائی ہیں۔ ہم میں کوئی بھی ایسی حرکت کرنے والا نہیں ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →منت و سماجت پر اتر آئے :
78: قَالُوْا یٰٓاَیُّھَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَـہٗ اَبًا شَیْخًا کَبِیْرًا (انہوں نے کہا اے عزیز ! بیشک اس کا باپ بہت بوڑھا ہے) عمر میں اور مرتبہ میں فَخُذْ اَحَدَنَا مَکَانَہٗ (تم ہم میں سے ایک کو اس کی جگہ لے لو) نمبر 1۔ بطور رہن کے اس کے بدلہ میں لے لو۔ نمبر 2۔ غلام بنانے کیلئے کیونکہ اس کا باپ اس کے مفقود بھائی کی بجائے اس سے تسلی پاتا ہے : اِنَّا نَرٰ کَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ (بیشک ہم تمہیں نیکی کرنے والوں میں سے پاتے ہیں) اپنے ساتھ پس تم یہ احسان پورا کردو نمبر 2۔ تمہاری عادت احسان کرنا ہے پس اپنی عادت پر قائم رہو اس میں تبدیلی نہ لائو۔
Read the full tafseer →78۔” قالوا یا تھا العزیز ان لہ ابا شیخا کبیرا “ ان لوگوں کو اس وقت بڑا سخت غصہ آیا اور یعقوب علیہ السلا م کی اولاد کو جب غصہ آتا تو ان سے مقابلہ کی کسی کو طاقت نہ تھی اور روبیل کو جب غصہ آتا تو اس کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکتی اور جب وہ چیخ مارتا تو جو حاملہ عورت اس کی آواز سن لیتی اس کا حمل گر جاتا لیکن اگر یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کوئی اس کے غصہ کی حالت میں اس کو ہاتھ لگا دیتا تو اس کا غصہ ختم ہوجاتا اور بعض نے کہا ہے کہ یہ حالت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں میں سے شمعون کی تھی ۔ اور روایت کیا گیا ہے کہ اس نے بھائیوں کو کہا کہ مصر کے بازاروں کی تعداد کتنی ہے ؟ انہوں نے کہا دس ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
78۔ 79۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے دیکھا کہ اب بنیامین کو عزیز مصر نہیں چھوڑے گا تو بہت گھبرائے کیونکہ باپ سے وعدہ کر کے آئے تھے کہ ہم ہرگز کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھیں گے جس طرح ہوگا بنیامین کو ضرور اپنے ساتھ واپس لائیں گے مگر یہاں معاملہ برعکس ہوا کہ بنیامین پر چوری ثابت ہوئی اور ان کے دین کے موافق بنیامین عزیز مصر کا ایک برس تک غلام ہوچکا اس لئے گڑ گڑانے لگے اور نہایت ہی عاجزی و منت سے کہا کہ اے عزیز مصر ہماری ایک بات سن لو ہمارے باپ بہت ہی بوڑھے ہیں اور کل لڑکوں میں اسی چھوٹے لڑکے کو زیادہ چاہتے ہیں اس کے بغیر انہیں آرام نہیں اس کی جدائی کی تاب وہ ہرگز نہیں لاسکتے اس واسطے اگر آپ…
Read the full tafseer →پھر انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کی خوشامد شروع کردی کہ وہ ان کے بھائی کے بارے میں نرمی سے کام لیں، پس (آیت) ” انہوں نے کہا، اے عزیز ! اس کا باپ بوڑھا ہے، بڑی عمر کا “ یعنی وہ اس کی جدائی پر صبر نہیں کرسکے گا، اس کی جدائی پر اس پر بہت شاق گزرے گی۔ (آیت) ” پس اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لے، یقیناً ہم تجھے احسان کرنے والا دیکھتے ہیں “ پس ہم پر اور ہمارے باپ پر احسان کیجیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
قول باری ہے (قالو جزاء ہ من وجد فی رحلہ فھو جزاء ہ۔ انہوں نے کہا ” اس کی سزا ؟ جس کے سامان سے یہ چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے “ ) حسن، ابو اسحاق، معمر اور سدی کا قول ہے کہ اس کے ہاں یہ دستور تھا کہ وہ چور کو غلام بنا لیا کرتے تھے۔ اس طرح ترتیب عبارت یہ ہوگی۔ اس کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کے سامان سے وہ چیز برآمد ہوجائے گی اسے غلام بنا کر رکھ لیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک ایسے شخص کی یہی سزا ہے جس طرح تمہارے نزدیک اس کی یہی سزا ہے “ جب وہ پیمانہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کے سامان سے برآمد ہوگیا تو انہوں نے شرط کے مطابق اپنے بھائی کو چوری کی سزا میں پکڑ لیا، اس پر برادران یوسف نے…
Read the full tafseer →129۔ (شیخاکبیرا) کے دو مطلب ؟ :
یعنی اس کا والد بہت بوڑھا شخص ہے۔ وہ اس کے بغیرصبر نہیں کرسکے گا کہ اس بڑھاپے میں یہ اس کے لیے اس کے مفقود بھائی کی طرف سے بھی ایک سہارا ہے۔ یہ معنی اور مطلب اس صورت میں ہے جبکہ " کبیرا " کے معنی بوڑھے شخص کے لیے جائیں اور " کبیرا " کے معنی بڑے کے بھی ہوسکتے ہیں۔ تب مطلب یہ ہوگا کہ ان کے والد ایک بہت بڑی شخصیت کے مالک ہیں۔ اس لیے آپ ان کا لحاظ کرتے ہوئے اس کو چھوڑ دیجئے۔ سو " کبیرا " کے معنی " کبیرالسن " کے بھی ہوسکتے ہیں اور " کبیرالقدر والشان " کے بھی۔ اور یہ دونوں ہی معنی مہتم بالشان ہیں۔ (المراغی وغیرہ ) ۔ سو جب انہوں نے دیکھا کہ اب وہ پھنس گئے اور اپنے قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–79
آیات 69 تا 79
اسرارومعاف
جب یوسف (علیہ السلام) کے حضور پہنچے تو انھوں نے سب کو عزت واحترام سے ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ سے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اگر میری جدائی بھی بہت تکلیف دہ تھی جو بھائیوں کے ہاتھوں واقع ہوئی مگر اب ملاقات انشاء اللہ تعالیٰ سب غم رفع کردے گی اور وقت آنے پر والد گرامی کو بھی یہ خوشی نصیب ہوگی لیکن ابھی رب جلیل کو یہ منظور ہے کہ تم بھی یہیں رہ جاؤ ۔ شاید یہ غم کا پہاڑ ابھی قلب یعقوب (علیہ السلام) پہ ٹوٹنا باقی ہے ۔
تربیت قلوب
اس سے ثابت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا فعل تو اللہ کے حکم سے تھا جیسے آگے مذکور ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ کریم…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ اس کا باپ بوڑھا ہے وہ اس کی جدائی برداشت نہ کرسکے گا۔ پہلے بھی تم نے ہم پر بہترے احسانات کئے ہیں بس اب اتنا احسان اور کرو کہ ہم میں سے کسی ایک کو اس کی بجائے رکھ لو۔ امید ہے تم ہمیں اپنے کرم سے مایوس نہیں کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(12:77) اسرھا۔ اسر۔ ماضی واحد مذکر غائب اسرار (افعال) سے۔ اس نے چھپایا اس نے چھپائے رکھا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ اس ضمیر کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔
(1) یہ اس قول کی طرف راجع ہے جو بعد میں آرہا ہے یعنی انتم شر مکاناط۔ کے الفاظ آپ نے اپنے دل میں کہے اور ان کو ان پر ظاہر نہ کیا۔ بعض نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ اس بنا پر کہ یہ طریق غیر مستعمل ہے۔
(2) ضمیر اجابت کی طرف راجع ہے یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنا جواب دل میں چھپائے رکھا اور ان پر ظاہر نہ کیا۔
(3) ضمیر ان کے قول (مقالہ۔ گفتگو) کی طرف راجع ہے۔ یعنی انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سارق ہونے کے متعلق جو بات کہی وہ انہوں نے اس کی حقیقت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
لغات القرآن آیت نمبر 77 تا 79
(یسرق چوری کرتا ہے ) ( اسر اس نے چھپا لیا ) ( فی نفسہ اپنے نفس میں، اپنے دل میں ) (لم یبدظاہر نہ کیا) ( انتم تم) ( شر مکان برا ٹھکانا، برے درجے کے لوگ) ( تصفون تم بیان کرتے ہو) ( شیخ کبیر بہت زیادہ بوڑھا) ( خذ تو پکڑے، تولے لے ) (احدنا ہم میں سے ایک) ( مکانہ، اس کی جگہ ) (نرک ہم دیکھتے ہیں تجھے) ( معاذ اللہ اللہ کی پناہ) ( ان ناخذ یہ کہ ہم لے لیں) ( عندہ، اس کے پاس) ( اذا اس وقت)
تشریح : آیت نمبر 77 تا 79
جب حضرت یوسف کے سگے بھائی بن یمین کے سامان میں سے وہ شاہی پیالہ نکل آیا جس کی تلاش تھی تب حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے دلی غبض اور نفرت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
بھائیوں کی پریشانی کا ذکر
جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے دیکھا کہ اب بنیامین کو عزیز مصر نہیں چھوڑے گا تو بہت گھبرائے کیونکہ باپ سے وعدہ کر کے آئے تھے اس لئے گڑگڑانے لگے، اور نہایت ہی عاجزی و منت سے کہا کہ اے عزیز مصر ! بنیامین کا باپ بہت ہی بوڑھا ہے اور یوسف (علیہ السلام) کے بعد اس سے ہی محبت رکھتا ہے۔ اگر آپ ہم میں سے ایک کو اس کے بدلے غلام بنالیں اور اس کو چھوڑ دیں تو بہتر ہوگا۔ بہت ہی بڑا احسان آپ کا ہمارے اوپر ہوگا اور ہم آپ کو نیکو کار مرد بزرگ دیکھتے ہیں ضرور ہمارے مدعا کو پورا کریں گے۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ : یہ بڑی بےانصافی کی بات ہے کہ کسی اور کو پکڑ لیں ہم تو اسی کو…
Read the full tafseer →[28] برادران یوسف (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ کوئی صورت بنیامین کی عزیز مصر کی قید سے چھوٹنے کی نظر نہیں آتی اور باپ کو جو حلفیہ قول وقرار دے آئے تھے وہ سب یاد آنے لگے تو لگے خوشامد کرنے۔
Read the full tafseer →(ف 2) جب اس حربہ کو بھی انہوں نے چلتا ہوا نہ دیکھا ، تو دوسری صورت اختیار کی لگے لجاجت کرنے ، کہنے لگے کہ اس کا بوڑھا باپ غم وفراق میں گھل رہا ہوگا ، آپ ہم میں سے کسی ایک کو اپنے مقدمے میں رکھ لیجئے ، اور بنیامین کو چھوڑ دیجئے ، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قاعدہ کا جواب دیا ، کہ یہ کیونکر ممکن ہے ، ہم تو اسی کو گرفتار کریں گے ، جس کے پاس سے ہمارا مال نکلا ہے ، ہم ظلم کا ارتکاب نہیں کرسکتے ۔
Read the full tafseer →78 ۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کو روکا اور مآخوذ کرلیا تو ان بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ اے عزیز لیجئے ہم آپ کو نیک لوگوں میں سے دیکھتے ہیں ۔ یعنی آپ کو احسان کرنے والا پاتے ہیں یہ بات کی خدمت میں رہتا ہے وہ بوڑھا بہت ہے اس کو مملوک بنانے سے اس کو تکلیف ہو جائیگی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ بیٹا بوڑھے باپ کا ہاتھ پکڑے پھرتا ہے۔ 12 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–81
ف 6۔ یعنی ہم دونوں بھائیوں سے تو حقیقت سرقہ کی صادر نہیں ہوئی اور تم نے تو اتنا بڑا کام کیا کہ کوئی مال غائب کرتا ہے تم نے آدمی غائب کردیا کہ مجھ کو باپ سے بچھڑا دیا اور ظاہر ہے کہ آدمی چوری مال کی چوری سے زشت تر ہے اور برادران یوسف نے جو کہا کہ اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی اس کی حقیقت درمنثور میں یہ لکھی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو ان کی پھوپھی پرورش کرتی تھیں جب ہوشیار ہوئے تو یعقوب (علیہ السلام) نے انہیں واپس لینا چاہا لیکن وہ اپنے پاس رکھنا چاہتی تھیں اس لیے ان کی کمر میں ایک پٹکا کپڑوں کے اندر باندھ کر مشہور کردیا کہ پٹکا گم ہوگیا اور سب کی تلاشی لی تو ان کی کمر سے نکلا اور اس شریعت کے…
Read the full tafseer →برادران یوسف نے اب پھر منت سماجت سے کام نکالنے کی کوشش شروع کر دی
۔ 94 برادران یوسف نے جب یہ رگن دیکھا تو بہت گھبرائے اور باپ کا عہد و پیمان یاد آگیا آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کسی صورت سے بنیامین کو حاصل کریں ؟ ہم تو پہلے ہی قول ہار چکے صرف ایک ہی پہلو باقی تھا کہ التجائیں اور خوشامدانہ عرض معروض کر کے زعیز مصر کو بنیامین کی واپسی کی ترغیب دلائیں ، کہنے لگے اے عزیز مصر ! ہمارا باپ بہت بوڑھا ہے اس کو اس کے پہلے بھائی کا بیحد غم ہے اور اس لئے اس کا عاشق و موتالا ہے ، اس پر رحم کیجیے اور اس جگہ ہم میں سے کسی ایک کو سزا کے لئے روک لیجیے۔ آپ ہم پر مہربان رہے ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جو احسان…
Read the full tafseer →In verse 78, it was said: قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُ ۖ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِين . It means when the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) realized that nothing seems to be working here and they have no option left but to leave Benyamin behind, they started flattering the ` Aziz of Misr. They told him that Benyamin's father was very old and weak (his separation will be unbearable for him). Therefore, they requested him that he should detain anyone from among them, in lieu of him. They also told him that they were…
Read the full tafseer →62. The use of the title Al-Aziz, ruler of the land, with which they addressed Prophet Joseph has given rise to the confusion that he held the same office as the husband of Zuleikha held before him. Then this misunderstanding let the commentators to the invention of further comments, such as. Al-Aziz had died and Prophet Joseph was appointed in his place, and Zuleikha was rejuvenated by a miracle and was married to him by the king. They have not stopped at this. They have, somehow or other, discovered even the conversation that took place between Prophet Joseph and Zuleikha in the first night…
Read the full tafseer →