Yusuf 12:72

Yusuf · from ayah 72

12:72

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ ۟قَالُوۡا نَفۡقِدُ صُوَاعَ الۡمَلِكِ وَلِمَنۡ جَآءَ بِهٖ حِمۡلُ بَعِيۡرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيۡمٌ‏

وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "We are missing the measure of the king. And for he who produces it is [the reward of] a camel's load, and I am responsible for it."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 9 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:72

سرکاری ملازموں نے کہا "بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا" (اور ان کے جمعدار نے کہا) "جو شخص لا کر دے گا اُس کے لیے ایک بارشتر انعام ہے، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جواب دیا کہ شاہی پیمانہ گم ہے جو اسے لے آئےاسے ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ ملے گا۔ اس وعدے کا میں ضامن ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا کہ : ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں مل رہا ِ اور جو شخص اسے لاکر دے گا، اس کو ایک اونٹ کا بوجھ (انعام میں) ملے گا، اور میں اس (انعام کے دلوانے) کی ذمہ داری لیتا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے، بادشاہ کا پیمانہ نہیں ملتا اور جو اسے لائے گا اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ (درباری ملازم) بولے: ہمیں بادشاہ کا پیالہ نہیں مل رہا اور جو کوئی اسے (ڈھونڈ کر) لے آئے اس کے لئے ایک اونٹ کا غلہ (انعام) ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا ہم بادشاہ کا پیمانہ گم پاتے ہیں اور جو اسے لے آئے اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ (غلہ) ہوگا اور میں اس کا ضامن ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ بولے : بادشاہ کا (پانی پینے کا) پیالہ ہمیں نہیں مل رہا۔ جو شخص وہ لا کردے اسے ایک بار شتر انعام ملے گا اور میں اس کا ضامن ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے کہا ہم شاہی پیمانہ نہیں پا رہے ہیں۔ اور جو اس کو لائے گا اس کے لیے ایک بار شتر غلہ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سرکاری ملازموں نے کہا، ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں مل رہا اور (ان کے کمانڈر نے کہا کہ) جو شخص اسے لا کر دے گا، اسے ایک اونٹ کا بوجھ (بطور انعام) ملے گا، اور میں اس کا ذمہ دار ہوں

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے ہم سے شاہی پیمانہ گم ہوا ہے اور جو کوئی اسے لے آئے گا اس کے لئے ایک بار شتر (غلہ) ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں بادشاہ کا جام زریں نہیں مل رہا اور جو اسے لے آئے گا اسے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ دیا جائے گا اور میں اس کا ذمہ دار ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے کہ بادشاہ کا (پانی پینے) کا پیالہ کھو گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر انعام اور میں اس کا ضامن ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The officials said: "We have lost the king's cup." (And their chief added): "He who brings it shall have a camel-load of provisions, I guarantee that."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :We are missing the measuring-bowl of the king, and whoever brings it back shall deserve a camel-load, and I stand surety for it.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :We are missing the measuring-bowl of the king, and whoever brings it back shall deserve a camel-load, and I stand surety for it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "We have lost the bowl of the king and for him who produces it is (the reward of) a camel load; and I will be bound by it."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: We have lost the king's cup, and he who bringeth it shall have a camel-load, and I (said Joseph) am answerable for it.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "We are missing the measure of the king. And for he who produces it is [the reward of] a camel's load, and I am responsible for it."

— Saheeh International

They were told, "The King's drinking cup is missing and whoever brings it will receive a camel's load of grain. I promise you that".

— Muhammad Sarwar

They said: We miss the king's drinking cup, and he who shall bring it shall have a camel-load and I am responsible for it.

— Muhammad Habib Shakir

They said: we miss the king's cup; and for him who bringeth it shall be a camel-load; and thereof I am a guarantor.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "We miss the great beaker of the king; for him who produces it, is (the reward of) a camel load; I will be bound by it."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:72

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 70–72

جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کردیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویسا ہی پیالہ حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بھی تھا۔ پس آپ کے ملازمین نے ہوشیاری سے وہ پیالہ آپ کے بھائی حضرت بنیامین کی خورجی میں رکھ دیا۔ جب یہ چلنے لگے تو سنا کہ پیچھے سے منادی ندا کرتا آ رہا ہے کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ ان کے کان کھڑے، رک گئے، ادھر متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی کیا چیز کھوئی گئی ہے ؟ جواب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–75

58۔ خیال رہے کہ یہ بھائی خاندان ابراہیمی کے افراد تھے لہذا انہوں نے چوری کے معاملہ میں جو قانون بیان کیا وہ شریعت ابراہیمی کا قانون تھا یعنی یہ کہ چور اس شخص کی غلامی میں دے دیا جائے جس کا مال اس نے چرایا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ۔ منادی کرنے والوں نے کہا کہ بادشاہ کا صواع یعنی برتن گم ہوگیا ہے اور جو شخص اس کو کہیں سے برآمد کرے گا اس کو ایک اونٹ بھر غلہ انعام میں ملے گا اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ، یہاں ایک سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے بنیامین کو اپنے پاس روکنے کا یہ حیلہ بھی کیوں کیا جبکہ ان کو معلوم تھا کہ والد ماجد ان کی مفارقت کا صدمہ ناقابل برداشت تھا اب دوسرے بھائی کو روک کر ان کو دوسرا صدمہ دینا کیسے گوارا کیا ؟ دوسرا سوال اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ بےگناہ بھائیوں پر چوری کا الزام لگانا اور اس کے لئے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 70–76

تفیسر آیات 70۔ تا 76:۔ فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَقَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ۔ قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَاۗؤُهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ۔ قَالُوْا جَزَاۗؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ۔ فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 71–72

72۔ 1 یعنی میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کی تفتیش سے قبل ہی جو شخص یہ جام شاہی ہمارے حوالے کر دے گا تو اسے انعام یا اجرت کے طور پر اتنا غلہ دیا جائے گا جو ایک اونٹ اٹھا سکے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 71–72

47: یہ شاہی پیمانہ تھا اور بظاہر قیمتی تھا ورنہ اس کی تلاش میں اتنی محنت نہ کی جاتی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 72–73

قالوا نفقد صواع الملک (12 : 72) “ سرکاری ملازمین نے کہا بادشاہ کا نہ ہم کو نہیں مل رہا ”۔ اس دوران ایک دوسرا شخص منظر پر آتا ہے اور وہ انعام ، انعام کی ایک بڑی رقم کا اعلان کرتا ہے کہ اگر کوئی رضا کارانہ طور پر واپس کر دے تو یہ قیمتی انعام دیا جائے گا۔ ولمن جاء بہ حمل بعیر وانا بہ زعیم (12 : 72) “ جو شخص لا کر دے گا اس کے لئے ایک بار شتر انعام ہے اور اس کا میں ذمہ دارہوں ”۔ زعیم بمعنی ضامن کہ اسے ایک بار شتر گندم دوں گا۔ لیکن ان حضرات کو تو پورا یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں ، کیونکہ انہوں نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی۔ اور نہ ہی وہ اس لئے آئے تھے کہ ایسی حرکتیں کریں ، جس سے باہم اعتماد تباہ ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 محافظین نے کہا، بادشاہ کے پانی پینے کا پیالہ یا غلہ ناپنے کا پیمانہ گم ہوگیا ہے۔ اگر بدون حیل و حجت کے کوئی شخص حاضر کر دے گا تو غلہ کا ایک اونٹ انعام پائے گا۔ میں اس کا ذمہ دار ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 70–72

آیت 70 فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ یہ بادشاہ کا خصوصی جام تھا جو سونے کا بنا ہوا تھا۔ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ جب وہ قافلہ چل پڑا تو اسے روک لیا گیا کہ ہمارے ہاں سے کوئی چیز چوری ہوئی ہے اور ہمیں اس بارے میں تم لوگوں پر شک ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 70–72

69 شاہ مصر کے پیالہ کی چوری :۔ سیدنا یوسف نے اپنے بھائی بن یمین کو اپنے ہاں روک لینے کی یہ تدبیر سوچی کہ اس کے سامان میں یعنی غلہ میں اپنا مرصع پانی پینے کا پیالہ بھی رکھ دیا اور اس تدبیر کی آپ نے اپنے بھائی کو بھی خبر دے دی تاکہ وہ کسی موقع پر گھبراہٹ کا شکار نہ ہوجائے۔ چناچہ جب برادران یوسف کا سامان تیار کیا جارہا تھا تو آپ نے چپکے سے اپنا مرصع پانی پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا اور سامان تیار کرکے انھیں شہر مصر سے روانہ کردیا گیا۔ جب یہ لوگ ذرا آگے نکل آئے تو چند آدمی ان کے پیچھے تیزی سے آرہے تھے۔ ان میں سے ایک نے بلند آواز سے انھیں پکارا اور کہا : ذرا ٹھہر جاؤ، تم تو چور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

136۔ یہ انعام خزانہ سرکار کی طرف سے مقرر ہوا تھا اور قحط وخشک سالی کے زمانہ میں غلہ کا راشن اتنی بڑی مقدار میں ایک بہت بڑا انعام تھا۔ (آیت) ” انا بہ زعیم “۔ یہ کہنے والا کون تھا اور انا کی ضمیر کس کی طرف ہے ! لازمی نہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہی سے مرا دلی جائے۔ سرکاری اہلکار متعلقہ بھی مراد ہوسکتا ہے اور اکثر اکابر سلف اسی طرف گئے ہیں۔ الزعیم ھو المؤذن (ابن جریر عن مجاہد) یقول المؤذن (مدارک ومعالم) وھو قول المؤذن (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–79

آیت نمبر 69 تا 79 ترجمہ : اور جب (برادران یوسف) یوسف کے حضور پہنچے تو (یوسف نے) اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس ٹھہرایا اور کہا میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو گم ہوگیا تھا) لہٰذا اب تم اس حرکت پر جو یہ ہم سے حسد کی بنا پر کرتے رہے ہیں رنجیدہ نہ ہو، اور اس سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم اس کی خبر ان کو نہ دینا، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ عنقریب کوئی ایسا حیلہ کیا جائیگا کہ اس کے ذریعہ اس کو اپنے پاس روک لے اور جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو سامان ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں پیالہ رکھ دیا وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس پر جواہر جڑے ہوئے تھے، پھر ایک آواز دینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا نفقد صواع الملک تلاش کرنے والوں نے کہا : بادشاہ کا پانی پینے کا کٹورا ہم کو نہیں ملتا۔ ہم اس کو تلاش کررہے ہیں اور تمہارے سوا ہمارا خیال کسی اور پر نہیں ہے۔ ولمن جاء بہ حمل بعیر وانا بہ زعیم اور جو شخص اس کو لا کر حاضر کرے گا ‘ اس کو ایک بار شتر غلہ ملے گا اور میں اس (کے دلوانے) کا ذمہ دار ہوں __ یعنی بطور مزدوری اس کو ایک بار شتر غلہ ملے گا اور میں ذمہ دار ہوں اس کو مزدوری دوں گا (مزدوری سے مراد ہے : اجرت ‘ معاوضہ ‘ انعام۔ مترجم) اس آیت سے مزدوری اور کفالت اور کام سے پہلے مزدوری مقرر کردینے کا جواز ثابت ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(72) وہ بولے ہم شاہی پیمانہ کی تلاش میں ہیں جس سے بادشاہ پانی پیتا اور اناج ماپ کردیتا ہے اور پیمانہ سونے کا تھا اور اس پکارنے والے نے کہا کہ بادشاہ نے یہ کام میرے ذمہ لگایا ہے کہ جو اس پیمانہ کو حاضر کرے اس کو ایک اونٹ کے برابر اناج ملے گا اور حضرت یوسف ؑ کا خادم کہنے لگا میں اس کے دلوانے کا ذمہ دار ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 72–74

صُوَاعَ الْمَلِكِ : غلہ ماپنے کے آلے کو ”صاع“ یا ”صواع“ کہتے ہیں، اسی کو آیت (70) میں ”اَالسِّقَایَة ‘ (پینے کا برتن) کہا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ غلے کی نایابی کی وجہ سے اس کی قدر و قیمت کا احساس دلانے کے لیے شاہی پیالہ گندم کے پیمانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اکثر مفسرین نے اسے چاندی کا لکھا ہے، بعض کہتے ہیں کہ سونے کا تھا، جس پر جواہر لگے تھے، لیکن صحیح اتنی بات ہی ہے کہ وہ کوئی قیمتی پیمانہ تھا۔ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ : یعنی جو شخص تفتیش سے پہلے خود بخود وہ پیمانہ لے آئے اسے ایک اونٹ غلہ انعام ملے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 71–72

آیت نمبر 71 تا 72 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ ولمن جآء بہٖ حمل بعیروانا بہٖ زعیم اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں بعیر ٍسے مراد اونٹ ہے۔ جبکہ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ گدھا ہے یہ بعض عربوں کی لغت ہے یہ مجاہد کا قول ہے اور انہوں نے اسی کو اختیار کیا ہے اور مجاہد نے کہا : زعیم سے مراد وہ منادی کرنے والا ہے جس نے ایتھا العیر کہا تھا۔ زعیم، کفیل، جمیل، ضمین اور قبیل برابر ہیں اور زعیم سے مراد رئیس ہے۔ شاعر نے کہا : وإنی زعیم إن رجعت مملکا بسیر تری منہ الفرانق أزورا أنی زعیم یعنی میں رئیس ہوں۔ لیلی اخیلیہ نے اپنے بھائی کا مرثینہ کہتے ہوئے کہا : ومخرق عنہ القمیص تخالہ یوم اللقاء من الحیاء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 69–76

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اوی الیہ اخاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے بنیامین کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اس کو اپنے پاس ٹھہرایا (آیت) ” فلا تبتئس “ یعنی نہ غم کر اور نہ مایوس ہو اور (آیت ) ” فلما جھزھم بجھازہم “ جب ان کی ضرورت پوری کردی اور ان کا غلہ ناپ دیا۔ (آیت) ” جعل السقایۃ “ بادشاہ کا وہ پیالہ جس سے وہ شراب پیتا تھا (آیت) ” فی رحل اخیہ “ اپنے بھائی کی بوری میں رکھ دیا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابن الانباری رحمہما اللہ نے المصاحف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جعل السقایۃ “ وہ ایک پیالہ تھا ہر چیز جس میں پیا جائے وہ صواع…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ نَفْقِدُ : ہم نہیں پاتے ] [ صُوَاعَ الْمَلِكِ : بادشاہ کا پینے کا پیالہ ] [وَلِمَنْ : اور اس کے لئے جو ] [ جَاۗءَ بِهٖ : لائے گا اس کو ] [حِمْلُ بَعِيْرٍ : ایک اونٹ کا بوجھ (انعام) ہے ] [وَّانا : اور میں ] [ بِهٖ : اس کا ] [ زَعِيْمٌ: ضامن ہوں ] ص و ع [صَوْعًا : (ن) کسی پیمانے سے ناپنا۔] [صُوَاعٌ: پینے کا پیالہ۔ زیر مطالعہ آیت 72 ۔]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 70–76

برادران یوسف کے سامان کی تلاشی لینا اور بنیامین کے سامان سے پیمانہ نکل آنا اور اس کو بہانہ بنا کر بنیامین کو روک لینا جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے خود ہی یہ کہہ دیا کہ جس کے سامان میں آپ لوگوں کا گمشدہ پیمانہ نکل آئے اس کی ذات ہی کو اس کے بدلہ میں غلام بنا لیا جائے اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اسی طرح چور کو سزا دیا کرتے ہیں یعنی یہ اسی شریعت کے مطابق ہے جس پر ہم چلتے ہیں تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کے سامانوں کی تلاشی لینا شروع کردی ‘ پہلے دوسرے بھائیوں کے کجاو وں کو دیکھا پھر جب اپنے حقیقی بھائی کے کجا وہ کو ٹٹولا تو اس میں سے پیمانہ کو نکال لیا ‘ رکھا تو خود ہی تھا اور معلوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–87

بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون (ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 70–72

61:۔ جب بھائیوں کو غلہ دیکر رخصت کرنے لگے اور سب کا مال ومتاع تیار کرنے لگے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آنکھ بچا کر سقایہ (پانی پینے کا برتن جس سے غلہ ناپنے کا کام بھی لیتے تھے) ۔ بنیامین کے سامان میں خود رکھ دیا یا کسی نوکر سے رکھوا دیا۔ ” ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ الخ “ جب وہ اپنا مال و متاع اونٹوں پر لاد کر روانہ ہوگئے تو پیمانے کی غلہ ناپنے کے لیے ضرورت پڑی مگر پیمانہ مفقود تھا ملازموں نے خیال کیا کہ ابھی ابھی کنعانی قافلہ روانہ ہوا ہے شاید وہی چرا لے گئے ہوں چناچہ وہ ان کے پیچھے دوڑے اور ان میں سے ایک نے انہیں آواز دی اے قافلہ والو ! ٹھہرو تم چور معلوم ہوتے ہو۔ ” قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–75

ربط آیات حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا ذکر ہورہا ہے۔ دوسری دفعہ مصر جانے کے لیے انہوں نے باپ کو آمادہ کرلیا کہ وہ سب سے چھوٹے بھائی بن یامین کو بھی ہمراہ لے جائیں گے کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں عزیز مصر انہیں اناج نہیں دیگا۔ چناچہ باپ سے عہد و پیمان کیے کہ وہ بن یامین کو بھی ضرور واپس لائیں گے ‘ چلتے وقت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو بعض حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی نصیحت بھی کی کہ مصر میں داخل ہوتے وقت کسی ایک دروازے سے سب کے سب اکھٹے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ مقصد یہ تھا کہ اکٹھا داخل ہونے کی صورت میں کوئی حادثہ پیش نہ آجائے یا کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ اب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ 72؀ صاع صُوَاعُ الملکِ : کان إناء يشرب به ويكال به، ويقال له : الصَّاعُ ، ويذكّر ويؤنّث . قال تعالی: نَفْقِدُ صُواعَ الْمَلِكِ [يوسف/ 72] ، ثم قال : ثُمَّ اسْتَخْرَجَها [يوسف/ 76] ، ويعبّر عن المکيل باسم ما يكال به في قوله : «صَاعٌ من بُرٍّ أو صَاعٌ من شعیر» ( ص و ع ) الصواع سے بر تن کو کہتے ہیں جس میں کوئی مشروب ڈال کر پیا جاتا ہے یا اس سے غلہ ماپ کردیا جاتا ہے اسے صاع بھی کہتے ہیں اور یہ مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں آیت : ۔ نَفْقِدُ صُواعَ الْمَلِكِ [يوسف/ 72] کہ بادشاہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–75

1 ؎ نظرِ بد کے لحاظ سے بھی ایک دروازہ سے داخل ہونے کو منع کیا کیونکہ سب خوبصورت تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سب کے سب کے مل کر جانے میں خواہ مخواہ ایک چرچا ہوگا اور جو کچھ یوسف (علیہ السلام) ان سے سلوک کریں گے اس میں غمازوں کو موقع ملے گا کیونکہ مصری لوگ پردیسیوں سے گونہ نفرت رکھتے اور ان کا سلطنت سے مستفید ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 70–76

فَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ جَعَلَ ا لسِّقَایَۃَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْہِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُھَا الْعِیْرُ اِنَّکُمْ لَسٰرِقُوْنَ ۔ قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَیِھْمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ ۔ قَالُوْا نَفْقِدُصُوَاعَ الْمَلِکِ وَلِمَنْ جَآئَ بِہٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّاَنَا بِہٖ زَعِیْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَمَا کُنَّا سٰرِقِیْنَ ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ کٰذِبِیْنَ ۔ قَالُوْا جَزَآؤُہٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِہٖ فَھُوَجَزَآؤُہٗ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ۔ فَبَدَاَبِاَوْعِیَتِھِمْ قَبْلَ وِعَآئِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 69–72

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف کا مختلف دروازوں کے ذریعے گزر کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہاں جمع ہونا۔ مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان کے ہاں جمع ہوئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک ایک کمرے میں دو دو بھائیوں کو ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ کمرہ میں جگہ دی۔ پھر بنیامین کے پاس تشریف لے جا کر انھیں اپنا تعارف کروایا۔ ظاہر ہے اتنی مدت کے بعد ملنے پر دو بھائیوں کے جو جذبات ہوں گے انکا پوری طرح اندازہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں بتایا ہوگا اور حضرت بنیامین نے اپنے غم، گھریلو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

72: قَالُوْا نَفْقِدُصُوَاعَ الْمَلِکِ (انہوں نے کہا ہم گم پاتے ہیں بادشاہ کا پیالہ) صواع سے مراد صاع ہے۔ وَلِمنْ جَآ ئَ بِہٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّاَنَابِہٖ زَعِیْمٌ (اور جو شخص اس کو لا کر حاضر کرے گا۔ اس کو ایک بارشتر غلہ ملے گا اور میں اس کا ذمہ دار ہوں) یہ اعلان کرنے والے کا مقولہ ہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ میں اونٹ کے بوجھ کا ذمہ دار ہوں۔ میں خود اس کو ادا کرونگا جو اس کو لائے گا اور یہ ایک کا بوجھ سامان بطور انعام اس کو دیا جائے گا جو ڈھونڈ کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

72۔” قالوا نفقد صواع الملک ولمن جاء بہ حمل بغیر “ جو اس کو لے آئے گا اس کو انعام کے طور پر ایک اونٹ بوجھ زیادہ دیا جائے گا۔ ” وانا بہ زعیم “ ضامن یہ آواز لگانے والے نے کہا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 70–72

70۔ 72۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کا سفر کا سب سامان پورا کردیا اور غلہ ناپ تول کر اونٹوں پر بار کرا دیا تو ایک برتن چاندی کا جس سے پانی پیتے تھے اور اسی سے غلہ بھی ناپ کر لوگوں کو دیتے تھے اور اس برتن کو سقایۃ کہتے تھے یہ برتن اپنے چھوٹے بھائی کے سامان میں پوشیدہ طور پر رکھ دیا جب یہ لوگ وہاں سے کچھ دور نکل گئے تو یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے وہاں سقایتہ کا پتہ نہ پایا دل میں متفکر ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو جو ابھی ابھی غلہ لے کر واپس چلے تھے پکارنے لگے کہ اے قافلہ والو ٹھہر جاؤ تم چور معلوم ہوتے ہو یہ آواز سن کر وہ لوگ پریشان ہوئے اور پھر کر دریافت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” ہم نہیں پاتے بادشاہ کا پیمانہ اور جو کوئی اس کو لائے گا، اس کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ ہے “ یعنی اس کو ڈھونڈنے کی اجرت میں ایک بار شتر اناج ملے گا (آیت) ” اور میں اس کا ضامن ہوں۔ “ یعنی یہ اناج دلانے کا میں ذمہ لیتا ہوں، یہ بات تلاش کرنے والے نے کہی تھی۔ (آیت)

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 72–74

قول باری ہے (ولمن جاء بہ حمل بغیر وانا بہ زعیم (شاہی کارندوں کے جمعدار نے کہا) جو شخص یہ پیمانہ لا کر دے گا اس کے لئے ایک بارشتہ انعام ہے، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں) یحییٰ بن یمان سے مروی ہے، انہوں نے یزید بن زریع سے روایت کی ہے اور انہوں نے عطا خراسانی سے کہ زعیم کے معنی کفیل کے ہیں یعنی ذمہ اٹھانے والا، ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ بعض کا خیال ہے کہ یہ کسی انسان کے بارے میں کفالت تھی حالانکہ بات یہ نہیں ہے اس لئے کہ اعلان کرنے والے نے پیمانہ شاہی ڈھونڈھ نکالنے والے کے لئے ایک بارشتہ کی اجرت مقرر کی تھی اور اس امر کو اپنے اس قول سے موکد بنادیا تھا کہ میں اس کا زعیم یعنی ضامن ہوں۔ جس طرح شاعر کا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

119۔ گمشدہ پیالہ لانے والے کے لیے انعام کا اعلان : سوچوری کے اس الزام کے جواب میں برادران یوسف نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگوں کی کیا چیز کھوگئی ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ شاہی پیمانہ کھو گیا ہے اور جو اس کو لائے گا اس کو ایک اونٹ کا بوجھ بطور انعام ملے گا۔ اور میں اس کا ضامن ہوں۔ سو اسی سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اصل اور سند ہے ضمانت اور کفالت مالی کے ثبوت وجواز کی۔ (محاسن التاویل وغیرہ) بہرکیف اعلان کرنے والے نے اس بات کا اعلان کیا کہ جو کوئی گمشدہ پیالے کو لے آئے گا اس کے لیے یہ انعام ہے۔ اگرچہ وہ چور کے علاوہ کوئی اور شخص ہو اور اس انعام کا ذمہ دار میں خود ہوں۔ اس لیے وہ مطمئن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–79

آیات 69 تا 79 اسرارومعاف جب یوسف (علیہ السلام) کے حضور پہنچے تو انھوں نے سب کو عزت واحترام سے ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ سے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اگر میری جدائی بھی بہت تکلیف دہ تھی جو بھائیوں کے ہاتھوں واقع ہوئی مگر اب ملاقات انشاء اللہ تعالیٰ سب غم رفع کردے گی اور وقت آنے پر والد گرامی کو بھی یہ خوشی نصیب ہوگی لیکن ابھی رب جلیل کو یہ منظور ہے کہ تم بھی یہیں رہ جاؤ ۔ شاید یہ غم کا پہاڑ ابھی قلب یعقوب (علیہ السلام) پہ ٹوٹنا باقی ہے ۔ تربیت قلوب اس سے ثابت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا فعل تو اللہ کے حکم سے تھا جیسے آگے مذکور ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ کریم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 71–75

ف 8 ۔ مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان میں چور کی یہی سزا مقرر تھی کہ وہ ایک برس تک اس شخص کی غلامی میں دیدیا جائے جس کا مال اس نے چرایا ہو۔ (فتح القدیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:72) نفقد صواع الملک۔ ہم نے بادشاہ کا پیمانہ گم کردیا ہے۔ مفقود گم شدہ ۔ ولمن جاء بہ حمل بعیر۔ جو شخص اس کو لا کر دے گا (اس کے لئے) ایک بار شتر (غلہ) انعام ہے۔ زعیم۔ ذمہ دار۔ ضامن۔ زعامۃ۔ ضمانت دینا۔ ذمہ لینا ۔ کفیل ہونا۔ زعیم کی جمع زعمائ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–76

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76 (اوی اس نے ٹھکانا دیا۔ (پاس بٹھایا) ( لاتبتئس تو رنجیدہ نہ ہو ) (جھز تیار کردیا) ( جھاز سامان ) (السقایۃ جس سے پانی پیا جاتا ہے۔ پیالہ ) (رحل سامان) ( اذن پکارا) ( موذن پکارنے والا ) (ایتھا اے العیر : قافلہ ) (سارقون چوری کرنے والے ) (اقبلوا وہ متوجہ ہوئے، سامنے ہوئے) ( ماذا حرف سوال، حرف استفہام) ( تفقدون تم گم پاتے ہو ) (صواع پیمانہ، جس سے چیزوں کو تولا جاتا ہے) ( جاء بہ جو اس کو لے آئے گا ) (حمل بعیر ایک اونٹ کا بوجھ، جتنا سامان ایک اونٹ پر آتا ہے) ( زعیم ذمہ داری لینے والا ) (تاللہ اللہ کی قسم) ( ماجئنا ہم نہیں آئے ) (ماجزاء کیا بدلہ ہے ؟ کیا سزا ہے ؟ ) (وجد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 70–72

بنیامین کو مصر میں روک لیا گیا جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کے سفر کا سب سامان پورا کردیا اور غلہ ناپ تول کر اونٹوں پر لدوادیا تو ایک برتن سونے اور جواہرات کا جس سے پانی پیتے تھے اور اس سے غلہ بھی ناپ کر لوگوں کو دیتے تھے۔ یہ برتن اپنے چھوٹ بھائی یعنی بنیامین کے سامان میں پوشیدہ طور پر رکھ دیا۔ جب یہ لوگ وہاں سے کچھ دور نکل گئے تو یوسف (علیہ السلام) کے خمت گاروں نے وہاں اس برتن کا پتا نہ پایا، دل میں متفکر ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو جو ابھی ابھی غلہ لے کر واپس چلے تھے پکارنے لگے :'' اے قافلہ والو ! ٹھر جاؤ تم چور معلوم ہوتے ہو ''۔ یہ سن کر وہ لوگ بہت پریشان ہوئے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 70–75

[23] یہ شریعت اسرائیلی میں چور کی سزا تھی۔ یعنی جس کے پاس سے چوری کا مال نکلے وہ ایک سال تک غلام ہو کر رہے۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے بےتامل سزا کا ذکر کردیا کیونکہ انھیں پورا یقین تھا کہ وہ چور نہیں ہیں اور نہ چوری کا مال ان کے پاس سے برآمد ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 68–76

حضرت یوسف کا حسن تدبیر : (ف 1) حضرت یوسف کے قصہ میں بات صرف یہ ہے کہ بنیامین آپ کا سگا بھائی ہے ، مدت کے بعد ملاقات ہوئی ہے ، آپ بوجہ بوجہ شفقت و محبت اسے اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں ، اس لئے بہانے سے اسے طلب کیا ہے ، جبرا وقہرا روک لینا مناسب نہیں ، اس لئے ایک تدبیر کی ہے جو نہایت حکیمانہ ہے ، اناج ناپنے کا پیمانہ بنیامین کی بوری میں رکھوا دیا ، اور اس کے بعد تلاش ہوئی ، برادران یوسف کو طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ بادشاہ کا کٹورا غائب ہے ، کہیں تمہارے پاس تو نہیں ہے ، انہوں نے انکار کیا اور صفائی میں کہا تم ہماری حالات سے آگاہ نہیں ہو ، ہم چور نہیں اور نہ اس غرض سے آئے ہیں کہ ایسی بداخلاقی کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

72 ۔ خدمت گاروں نے جواب دیا کہ ہم کو بادشاہ کا پیمانہ نہیں ملتا اور جو شخص اس پیمانہ کو لے آئے اس کو ایک اونٹ کا بوجھ غلہ انعام دیا جائے گا اور میں اس انعام کے دلوانے کا ذمہ دار ہوں ۔ یعنی شاہی برتن ہے اگر کوئی پیش کر دے خواہ وہ چوری ہی کیوں نہ ہو تب بھی اس کا قصور معاف ہوجائے گا اور انعام بھی ملے گا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں باسن تھا بادشاہ کے پانی پینے کا چاندی کا اور اس کی پیاس پر سپا ہوایا اناج ماپنے کا اور گھوڑے اس میں پانی پیتے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو چور کہلوایا جھوٹ نہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو باپ کی چوری سے بیچ ڈالا ۔ 12

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کارندوں نے کہا کہ شاہی پیمانہ یعنی ماپنے کا آلہ نہیں ملتا فوراً واپس کرو ۔ 84 اتنے میں ان کارندوں میں سے ایک نے مزید آگے بڑھ کر یہ کہہ دیا کہ دیکھو جو شخص اس چوری کا پتہ لگا دے گا اس کو ایک اونٹ غلہ انعام ملے گا اور میں اس بات کا ضامن ہوں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ان کو معلوم ہے تو اس چرکہ میں وہ اس کو واپس کردیں گے اور اس طرح کی کھینچا تاین میں وقت ضائع نہیں ہوگا اور اس طرح کے انعامات شاہی ساز و سامان کی حفاظت کے لئے لگائے جاتے ہیں کیونکہ اگر سرکاری خیز بالکل معمولی بھی گم ہوجائے تو مدتوں کام کرنے والوں کو انکو ائریاں کرنا پڑتی ہیں اور یہ کام بہت لمبا ہوجاتا ہے۔ اس لئے جلدی معاملہ رفع دفع ہونا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The answer given by the announcers was: قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَن جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ‌ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ We are missing the measuring- bowl of the king, and whoever brings it back shall deserve a camel-load, and I stand a surety for it. The question which emerges here is: Why did Sayyidna (علیہ السلام) opt for this excuse to detain Benyamin with him, especially when he knew that his separation was already shocking for his father. Now, how could he bear by giving him another shock by detaining his other brother? The other question which arises here is far more…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–75

58. It should be kept in mind that these people were the descendants of Prophet Abraham. Therefore they put forward his law regarding a thief, that is, the thief should be made the bondsman of the one whose goods he had stolen.

Read the full tafseer →