Explained with ayahs 73–76
اپنے اوپر چوری کی تہمت سن کر برادران یوسف کے کان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم ہمیں جان چکے ہو ہمارے عادات وخصائل سے واقف ہوچکے ہو ہم ایسے نہیں کہ کوئی فساد اٹھائیں ہم ایسے نہیں ہیں کہ چوریاں کرتے پھریں۔ شاہی ملازموں نے کہا اچھا اگر جام و بیمانے کا چور تم میں سے ہی کوئی ہو اور تم جھوٹے پڑو تو اس کی سزا کیا ہونی چاہئے ؟ جواب دیا کہ دین ابراہیمی کے مطابق اس کی سزا یہ ہے کہ وہ اس شخص کے سپرد کردیا جائے، جس کا مال اس نے چرایا ہے، ہماری شریعت کا یہی فیصلہ ہے۔ اب حضرت یوسف ؑ کا مطلب پورا ہوگیا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کی تلاشی لی جائے چناچہ پہلے بھائیوں کے اسباب کی تلاشی لی، حالانکہ معلوم تھا کہ ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
58۔ خیال رہے کہ یہ بھائی خاندان ابراہیمی کے افراد تھے لہذا انہوں نے چوری کے معاملہ میں جو قانون بیان کیا وہ شریعت ابراہیمی کا قانون تھا یعنی یہ کہ چور اس شخص کی غلامی میں دے دیا جائے جس کا مال اس نے چرایا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ۔ یعنی جب شاہی منادی نے برادران یوسف پر چوری کا الزام لگایا تو انہوں نے کہا کہ ارکان دولت بھی خود ہمارے حالات سے واقف ہیں کہ ہم کوئی فساد کرنے یہاں نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
تفیسر آیات 70۔ تا 76:۔ فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَقَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ۔ قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَاۗؤُهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ۔ قَالُوْا جَزَاۗؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ۔ فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ…
Read the full tafseer →73۔ 1 برداران یوسف ؑ چونکہ اس منصوبے سے بیخبر تھے جو حضرت یوسف ؑ نے تیار کیا تھا، اس لئے قسم کھا کر انہوں نے اپنے چور ہونے کی اور زمین میں فساد برپا کرنے
کی نفی کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
48: یعنی یعقوب ؑ کی شریعت میں یہی حکم ہے کہ جو چوری کرے، اسے گرفتار کرکے رکھ لیا جائے، اس طرح اللہ تعالیٰ نے خود ان بھائیوں سے یہ بات کہلوادی کہ چور کو یہ سزا ملنی چاہیے، چنانچہ جو سزا دی گئی وہ حضرت یعقوب ؑ کی شریعت کے مطابق دی گئی، ورنہ بادشاہ کے قانون میں چور کی پٹائی کی جاتی تھی، اور جرمانہ عائد کیا جاتا تھا، حضرت یوسف ؑ نے بھائیوں سے یہ سوال اس لئے فرمایا کہ انہیں حضرت یعقوب ؑ کی شریعت کے خلاف فیصلہ نہ کرنا پڑے اور بھائی کو اپنے پاس رکھنے کا موقع بھی مل جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
قالوا نفقد صواع الملک (12 : 72) “ سرکاری ملازمین نے کہا بادشاہ کا نہ ہم کو نہیں مل رہا ”۔ اس دوران ایک دوسرا شخص منظر پر آتا ہے اور وہ انعام ، انعام کی ایک بڑی رقم کا اعلان کرتا ہے کہ اگر کوئی رضا کارانہ طور پر واپس کر دے تو یہ قیمتی انعام دیا جائے گا۔ ولمن جاء بہ حمل بعیر وانا بہ زعیم (12 : 72) “ جو شخص لا کر دے گا اس کے لئے ایک بار شتر انعام ہے اور اس کا میں ذمہ دارہوں ”۔ زعیم بمعنی ضامن کہ اسے ایک بار شتر گندم دوں گا۔
لیکن ان حضرات کو تو پورا یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں ، کیونکہ انہوں نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی۔ اور نہ ہی وہ اس لئے آئے تھے کہ ایسی حرکتیں کریں ، جس سے باہم اعتماد تباہ ہوجائے…
Read the full tafseer →8 یعنی مصر میں ہمارا چال چلن عام طور پر معلوم ہے کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ ہم نے یہاں کبھی کچھ شرارت کی ؟ نہ ہم شرارتوں کے لیے یہاں آئے۔ اور نہ چوروں کے خاندان سے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 73 قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ
آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم قحط کے مارے لوگ یہاں اتنی دور سے غلہ لینے آئے ہیں ہم کوئی چور ڈاکو نہیں ہیں۔ ان کے اس فقرے اور انداز گفتگو میں بڑی لجاجت پائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
70 کنعان میں چوری کی سزا :۔ برادران یوسف کہنے لگے ہم شریف خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ہم چور یا فسادی قسم کے لوگ نہیں۔ کنعان سے یہاں غلہ لینے آئے تھے اور اب غلہ لے کر واپس جارہے ہیں تعاقب کرنے والوں نے کہا : یہ ٹھیک ہے مگر تم اپنا سامان ہمیں دکھا دو ، اور یہ بھی بتادو کہ اگر بالفرض تم میں سے کسی کے سامان سے مسروقہ مال برآمد ہوجائے تو پھر اس کی کیا سزا ہے ؟
پیالہ کی برآمدگی :۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے ملک میں چور کو یہ سزا دی جاتی ہے کہ جس شخص کے سامان میں سے یا گھر سے مسروقہ مال برآمد ہوجائے تو جس کا مال چوری ہوا ہو، چور کو سال بھر کے لیے اسی کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔ ضامن بولا ! ٹھیک ہے، ہمیں…
Read the full tafseer →137۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے اپنے اوپر یہ عجیب و غریب اور توہین آمیز الزام سن کر ان اہلکار ان سرکاری سے کہا کہ ہم اپنے ملک وقوم کے اعیان واشراف میں ہیں۔ چوری سے ہمیں واسطہ کیا۔ اور پھر ہم تو آپ کے مہمان ایک بارقبل بھی رہ چکے ہیں اور ہمارے اطوار وخصائل آپ پر واضح ہوچکے ہیں آپ کو یہ خیال ہی کیسے گزرا کہ ہم آپ کے ملک میں کوئی جرم کرنے یا قانون شکنی کرنے آئے ہیں۔ (آیت) ” تاللہ لقد علتم “۔ خطاب یہاں عہدہ داران سرکاری سے ہے اور تاے قسم اور لقد کی دہری تہری تاکید سے اپنے دعوی پر انتہائی زور دینا مقصود ہے جیسے اردو میں کہتے ہیں کہ یہ خیال ہی آپ کو کیسے پیدا ہوتا۔ (آیت) ” تاللہ “۔ ت قسم ہے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–79
آیت نمبر 69 تا 79
ترجمہ : اور جب (برادران یوسف) یوسف کے حضور پہنچے تو (یوسف نے) اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس ٹھہرایا اور کہا میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو گم ہوگیا تھا) لہٰذا اب تم اس حرکت پر جو یہ ہم سے حسد کی بنا پر کرتے رہے ہیں رنجیدہ نہ ہو، اور اس سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم اس کی خبر ان کو نہ دینا، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ عنقریب کوئی ایسا حیلہ کیا جائیگا کہ اس کے ذریعہ اس کو اپنے پاس روک لے اور جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو سامان ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں پیالہ رکھ دیا وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس پر جواہر جڑے ہوئے تھے، پھر ایک آواز دینے…
Read the full tafseer →قالوا تا اللہ لقد علمتم ما جئنا لنفسد فی الارض وما کنا سارقین بولے : اللہ کی قسم ! تم یہ یقینا جانتے ہو کہ ہم اس سرزمین میں فساد کرنے نہیں آئے اور ہم چور نہیں ہیں۔ یہ لوگ دو مرتبہ مصر آئے تھے ‘ اسلئے اہل مصر ان کی امانت داری سے واقف ہوچکے تھے۔ جو سرمایہ ان کے سامان میں بندھ کر ان کے ساتھ چلا گیا تھا ‘ وہ بھی انہوں نے واپس لا کر دے دیا تھا اور اپنے جانوروں کے منہ پر انہوں نے جالیاں بھی چڑھا دی تھیں کہ کسی کی کھیتی باڑی پر منہ نہ ڈال دیں۔ یہ تمام باتیں ان کی امانت داری پر دلالت کرتی تھیں اور لوگ ان باتوں سے واقف تھے ‘ اسی لئے اہل مصر کے علم کو ان لوگوں نے اپنی شہادت میں پیش کیا۔
Read the full tafseer →(73) یہ لوگ بولے مصر والو اللہ کی قسم تمہیں اچھی طرح پتا ہے کہ ہم مصر میں چوری کرنے اور لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں آئے ہیں اور جس چیز کی تم تلاش کررہے ہو ہم نے اسے نہیں چرایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
صُوَاعَ الْمَلِكِ : غلہ ماپنے کے آلے کو ”صاع“ یا ”صواع“ کہتے ہیں، اسی کو آیت (70) میں ”اَالسِّقَایَة ‘ (پینے کا برتن) کہا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ غلے کی نایابی کی وجہ سے اس کی قدر و قیمت کا احساس دلانے کے لیے شاہی پیالہ گندم کے پیمانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اکثر مفسرین نے اسے چاندی کا لکھا ہے، بعض کہتے ہیں کہ سونے کا تھا، جس پر جواہر لگے تھے، لیکن صحیح اتنی بات ہی ہے کہ وہ کوئی قیمتی پیمانہ تھا۔
وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ : یعنی جو شخص تفتیش سے پہلے خود بخود وہ پیمانہ لے آئے اسے ایک اونٹ غلہ انعام ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
آیت نمبر 73 تا 75
قولہ تعالیٰ : قالوا تاللہ لقد علمتم ماجئنالنفسد فی الارض روایت ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے اور نہ ہی کسی کی کھیتی کا
نقصان کرتے تھے انہوں نے اپنے اونٹوں کے مونہوں کو باندھا ہوا تھا تاکہ وہ لوگوں کی کھیتیوں کو خراب نہ کریں۔ پھر کہا : وما کنا سٰرقین روایت ہے کہ انہوں نے وہ سامان واپس لوٹا دیا جو ان کی خورجیوں میں تھا : تو اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ جو آدمی حاصل شدہ مال واپس لوٹا دے وہ چور کیسے ہوسکتا ہے ؟
قالوا فما جزآؤہٓ ان کنتم کٰذبین معنی یہ ہوگا : اگر تمہارا جھوٹ ظاہر ہوجائے تو پھر ایسا کرنے والے کی سزا کیا ہوگی ؟ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے جواب دیا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اوی الیہ اخاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے بنیامین کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اس کو اپنے پاس ٹھہرایا (آیت) ” فلا تبتئس “ یعنی نہ غم کر اور نہ مایوس ہو اور (آیت ) ” فلما جھزھم بجھازہم “ جب ان کی ضرورت پوری کردی اور ان کا غلہ ناپ دیا۔ (آیت) ” جعل السقایۃ “ بادشاہ کا وہ پیالہ جس سے وہ شراب پیتا تھا (آیت) ” فی رحل اخیہ “ اپنے بھائی کی بوری میں رکھ دیا۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابن الانباری رحمہما اللہ نے المصاحف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جعل السقایۃ “ وہ ایک پیالہ تھا ہر چیز جس میں پیا جائے وہ صواع…
Read the full tafseer →[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ تَاللّٰهِ : اللہ کی قسم ] [ لَقَدْ عَلِمْتم : بیشک تم لوگ جان چکے ہو ] [مَا جِئْنَا : ہم نہیں آئے [ لِنُفْسِدَ : کہ ہم نظم بگاڑیں [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں [ وَمَا كُنَا : اور ہم نہیں ہیں ] [ سٰرِقِيْنَ : چوری کرنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
برادران یوسف کے سامان کی تلاشی لینا اور بنیامین کے سامان سے پیمانہ نکل آنا اور اس کو بہانہ بنا کر بنیامین کو روک لینا
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے خود ہی یہ کہہ دیا کہ جس کے سامان میں آپ لوگوں کا گمشدہ پیمانہ نکل آئے اس کی ذات ہی کو اس کے بدلہ میں غلام بنا لیا جائے اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اسی طرح چور کو سزا دیا کرتے ہیں یعنی یہ اسی شریعت کے مطابق ہے جس پر ہم چلتے ہیں تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کے سامانوں کی تلاشی لینا شروع کردی ‘ پہلے دوسرے بھائیوں کے کجاو وں کو دیکھا پھر جب اپنے حقیقی بھائی کے کجا وہ کو ٹٹولا تو اس میں سے پیمانہ کو نکال لیا ‘ رکھا تو خود ہی تھا اور معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–87
بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون
(ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
62:۔ فرزندان یعقوب (علیہ السلام) نے کہا تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم یہاں فساد کرنے نہیں آئے اور نہ چوری کرنا ہمارا کام ہے۔ فرزندان یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اونٹوں کے منہ باندھ رکھے تھے تاکہ وہ لوگوں کی کھیتی باڑی کا نقصان نہ کریں نیز انہوں نے وہ سرمایہ بھی واپس کردیا تھا جو پہلی بار ان کے سامان میں واپس چلا گیا تھا۔ استشہدوا بعلمھم لما ثبت عندھم من دلائل دینھم وامانتھم حیث دخلوا وافوہ رواحلھم مشدودۃ لئلا تتناول زرعا او طعاما لاحد من اھل السوق و لانھم ردوا بضاعتھم التی وجدوھا فی رحالھم (مدارک ج 2 ص 178) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
ربط آیات
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا ذکر ہورہا ہے۔ دوسری دفعہ مصر جانے کے لیے انہوں نے باپ کو آمادہ کرلیا کہ وہ سب سے چھوٹے بھائی بن یامین کو بھی ہمراہ لے جائیں گے کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں عزیز مصر انہیں اناج نہیں دیگا۔ چناچہ باپ سے عہد و پیمان کیے کہ وہ بن یامین کو بھی ضرور واپس لائیں گے ‘ چلتے وقت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو بعض حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی نصیحت بھی کی کہ مصر میں داخل ہوتے وقت کسی ایک دروازے سے سب کے سب اکھٹے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ مقصد یہ تھا کہ اکٹھا داخل ہونے کی صورت میں کوئی حادثہ پیش نہ آجائے یا کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ اب…
Read the full tafseer →قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ 73
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم،
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–75
1 ؎ نظرِ بد کے لحاظ سے بھی ایک دروازہ سے داخل ہونے کو منع کیا کیونکہ سب خوبصورت تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سب کے سب کے مل کر جانے میں خواہ مخواہ ایک چرچا ہوگا اور جو کچھ یوسف (علیہ السلام) ان سے سلوک کریں گے اس میں غمازوں کو موقع ملے گا کیونکہ مصری لوگ پردیسیوں سے گونہ نفرت رکھتے اور ان کا سلطنت سے مستفید ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
فَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ جَعَلَ ا لسِّقَایَۃَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْہِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُھَا الْعِیْرُ اِنَّکُمْ لَسٰرِقُوْنَ ۔ قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَیِھْمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ ۔ قَالُوْا نَفْقِدُصُوَاعَ الْمَلِکِ وَلِمَنْ جَآئَ بِہٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّاَنَا بِہٖ زَعِیْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَمَا کُنَّا سٰرِقِیْنَ ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ کٰذِبِیْنَ ۔ قَالُوْا جَزَآؤُہٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِہٖ فَھُوَجَزَآؤُہٗ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ۔ فَبَدَاَبِاَوْعِیَتِھِمْ قَبْلَ وِعَآئِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–76
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قافلے والوں کا انتظامیہ کو جواب اور حلف۔
قافلے والے رک کر کہنے لگے کہ جناب آپ کو معلوم ہے کہ ہم چوری کرنے نہیں آئے۔ ہم تو بھوک کے مارے ہوئے اپنے وطن سے آپ کے ملک میں غلہ لینے کے لیے آئے ہیں۔ ہمارا چوری چکاری سے کیا تعلق۔ لیکن انتظامیہ کے لوگ تلاشی لینے کے سوا کسی دلیل کو نہیں مانتے۔ یہ بیچارے قسم پر قسم اٹھائے جا رہے ہیں کہ یقین کرو کہ ہم نے چوری نہیں کی۔ ہمارا خاندان ایسا ویسا نہیں ہے ہم تو انبیاء کی اولاد ہیں۔ نہ معلوم انہوں نے کس کس انداز سے پولیس افسر کو یقین دلانے کی کوشش کی ہوگی۔ بالآخر پولیس والے کہنے لگے کہ چلو یہ بتاؤ کہ اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے…
Read the full tafseer →73: قَالُوْا تَاللّٰہِ (انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کی قسم) اس میں قسم ہے جسمیں تعجب کا اظہار کیا گیا اس بات میں جو انکی طرف منسوب کی گئی : لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ (تحقیق تم جانتے ہو کہ ہم زمین میں فساد کرنے نہیں آئے) انہوں نے اپنے علم کے مطابق وہ بات کہی جو ان کے دین و دیانت کے مطابق تھی۔ جب مصر میں آئے تو انکی سواریوں کے منہ بندھے ہوئے تھے تاکہ کسی کی کھیتی کو نہ چریں اور بازار میں کسی کے طعام کو منہ نہ ماریں۔ بلکہ انہوں نے گھر میں پہنچا ہوا سامان بھی واپس کردیا تھا۔
وَمَاکُنَّا سٰرِقِیْنَ (اور ہم چور بھی نہیں) کبھی بھی ہمیں چور کہہ کر نہیں پکارا گیا۔
Read the full tafseer →73۔ ’ ’ قالوا “ یعنی یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کہنے لگے ” تاللہ “ واللہ ۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں صرف اسی اسم کے ساتھ یہ خصوصیت ہے کہ وائو کو تاء کے ساتھ تبدیل کردیا جاتا ہے۔ ” لقد علمتم ماجئنا لفنسد فی الارض ‘ ‘ میں چوری کرنے نہیں آئے ۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ ان کو کیسے کہہ دیا کہ تم جانتے ہو کہ ہم فساد فی الارض والے نہیں ان کو یہ علم کیسے ہوا تھا ؟ جواب یہ ہے کہ جب وہ مصر میں داخل ہوئے تھے تو اپنے جانوروں کے منہ ڈھانپ دیئے تھے کہ یہ کسی کی چیز پر منہ نہ مار سکیں تو ان کے بارے میں معروف ہوگیا کہ جو چیز ان کی نہ ہو یہ اس کو نہیں لیتے ۔” وما کنا سارقین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
73۔ 75۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے ان کے بھائیوں کو پکار کر کہا کہ اے قافلہ والو ٹھہر جاؤ تم چور معلوم ہوتے ہو تو ان لوگوں نے تعجب کی راہ سے اپنے پروردگار کی قسم کھائی اور کہا کہ تم جانتے ہو کہ ہم یہاں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں کیونکہ تم اس سے پہلے ہمارے یہاں آنے کی وجہ سے ہماری حالت سے کسی قدر واقف ہوچکے ہو اور ہم جو دوبارہ آئے ہیں اس کی وجہ بھی تمہیں معلوم ہے کہ غلہ کی قیمت ہماری گٹھڑیوں میں چلی گئی تھی جس کے واپس کردینے کا ہمیں خیال تھا۔ یہ بات سن کر یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے کہا کہ اگر تم برخلاف اپنے قول کے چور ثابت ہوگئے تو تمہاری کیا سزا ہے انہوں نے…
Read the full tafseer →” انہوں نے کہا، اللہ کی قسم، تم جانتے ہو، ہم ملک میں بگاڑ ڈالنے کے لئے نہیں آئے “ گناہوں کی تمام اقسام کے ذریعے سے (آیت) ” اور نہ ہم چورہی ہیں “ کیونکہ چوری فساد فی الارض کی سب سے بڑی قسم ہے۔
انہوں نے قسم اس لئے اٹھائی تھی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ فساد پھیلانے والے ہیں نہ چور۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے احوال کی خوب جانچ پڑتال ہوئی ہے جو ان کی پاکیزگی اور پرہیز گاری پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ یہ کام ان کے علم سے نہیں ہوسکتا جن پر وہ چوری کی تہمت لگا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ پیرا یہ چوری کی تہمت کی نفی میں اس فقرے سے زیادہ بلیغ ہے (آیت) ” اللہ کی قسم ہم نے زمین میں فساد کیا ہے نہ ہم نے چوری کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
قول باری ہے (ولمن جاء بہ حمل بغیر وانا بہ زعیم (شاہی کارندوں کے جمعدار نے کہا) جو شخص یہ پیمانہ لا کر دے گا اس کے لئے ایک بارشتہ انعام ہے، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں) یحییٰ بن یمان سے مروی ہے، انہوں نے یزید بن زریع سے روایت کی ہے اور انہوں نے عطا خراسانی سے کہ زعیم کے معنی کفیل کے ہیں یعنی ذمہ اٹھانے والا، ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ بعض کا خیال ہے کہ یہ کسی انسان کے بارے میں کفالت تھی حالانکہ بات یہ نہیں ہے اس لئے کہ اعلان کرنے والے نے پیمانہ شاہی ڈھونڈھ نکالنے والے کے لئے ایک بارشتہ کی اجرت مقرر کی تھی اور اس امر کو اپنے اس قول سے موکد بنادیا تھا کہ میں اس کا زعیم یعنی ضامن ہوں۔ جس طرح شاعر کا یہ…
Read the full tafseer →120۔ برادران یوسف کا چوری سے انکار :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کی طرف سے لگائے جانے والے چوری کے اس الزام کی تردید میں انہوں نے اللہ کی قسم اٹھا کر کہا کہ آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نہ ہم اس ملک میں فساد کرنے آئے ہیں اور نہ ہی ہم چوری کرنے والے لوگ ہیں، اور ایسا انہوں نے اس بناء پر کہا کہ اس سے پہلے کے سفر میں ان کی نیک نامی کی مصر میں شہرت ہوگئی تھی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی سواریوں کے منہ بھی باندھ رکھے تھے کہ راہ چلتے ناحق طور پر کسی کا چارہ نہ چرلیں۔ (حاشیہ جامع البیان) سو اپنی اسی سابقہ شہرت اور نیک نامی کی بناء پر انہوں نے یہ بات کہی کہ آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم لوگ نہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–79
آیات 69 تا 79
اسرارومعاف
جب یوسف (علیہ السلام) کے حضور پہنچے تو انھوں نے سب کو عزت واحترام سے ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ سے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اگر میری جدائی بھی بہت تکلیف دہ تھی جو بھائیوں کے ہاتھوں واقع ہوئی مگر اب ملاقات انشاء اللہ تعالیٰ سب غم رفع کردے گی اور وقت آنے پر والد گرامی کو بھی یہ خوشی نصیب ہوگی لیکن ابھی رب جلیل کو یہ منظور ہے کہ تم بھی یہیں رہ جاؤ ۔ شاید یہ غم کا پہاڑ ابھی قلب یعقوب (علیہ السلام) پہ ٹوٹنا باقی ہے ۔
تربیت قلوب
اس سے ثابت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا فعل تو اللہ کے حکم سے تھا جیسے آگے مذکور ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ کریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
ف 8 ۔ مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان میں چور کی یہی سزا مقرر تھی کہ وہ ایک برس تک اس شخص کی غلامی میں دیدیا جائے جس کا مال اس نے چرایا ہو۔ (فتح القدیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
(12:73) تاللہ ۔ خدا کی قسم۔ ت یہاں وائو یا باء کے بدلے میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76
(اوی اس نے ٹھکانا دیا۔ (پاس بٹھایا) ( لاتبتئس تو رنجیدہ نہ ہو ) (جھز تیار کردیا) ( جھاز سامان ) (السقایۃ جس سے پانی پیا جاتا ہے۔ پیالہ ) (رحل سامان) ( اذن پکارا) ( موذن پکارنے والا ) (ایتھا اے العیر : قافلہ ) (سارقون چوری کرنے والے ) (اقبلوا وہ متوجہ ہوئے، سامنے ہوئے) ( ماذا حرف سوال، حرف استفہام) ( تفقدون تم گم پاتے ہو ) (صواع پیمانہ، جس سے چیزوں کو تولا جاتا ہے) ( جاء بہ جو اس کو لے آئے گا ) (حمل بعیر ایک اونٹ کا بوجھ، جتنا سامان ایک اونٹ پر آتا ہے) ( زعیم ذمہ داری لینے والا ) (تاللہ اللہ کی قسم) ( ماجئنا ہم نہیں آئے ) (ماجزاء کیا بدلہ ہے ؟ کیا سزا ہے ؟ ) (وجد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
جب یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے ان کے بھائیوں کو پکار کہا :'' تم چور معلوم ہوتے ہو '' تو انہوں نے قسم کھائی اور کہا کہ تم جانتے ہو کہ ہم یہاں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں، ہم پہلے بھی آچکے ہیں اب دوبارہ آئے ہیں۔ اس کی وجہ بھی تمہیں معلوم ہے کہ غلہ کی قیمت پہلی دفعہ ہماری گٹھڑیوں میں چلی گئی تھی جس کے واپس کردینے کا ہمیں خیال یہ تھا، یہ بات سن کر یوسف علیہ السلا کے خدمت گاروں نے کہا کہ : اگر تم برخلاف اپنے قول کے چور ثابت ہوگئے تو تمہاری کیا سزا ہے ''۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے جس کے پاس وہ برتن نکلے اسی کو سزا ملے، یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت میں چور کو ایک سال تک غلام بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
[23] یہ شریعت اسرائیلی میں چور کی سزا تھی۔ یعنی جس کے پاس سے چوری کا مال نکلے وہ ایک سال تک غلام ہو کر رہے۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے بےتامل سزا کا ذکر کردیا کیونکہ انھیں پورا یقین تھا کہ وہ چور نہیں ہیں اور نہ چوری کا مال ان کے پاس سے برآمد ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–76
حضرت یوسف کا حسن تدبیر :
(ف 1) حضرت یوسف کے قصہ میں بات صرف یہ ہے کہ بنیامین آپ کا سگا بھائی ہے ، مدت کے بعد ملاقات ہوئی ہے ، آپ بوجہ بوجہ شفقت و محبت اسے اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں ، اس لئے بہانے سے اسے طلب کیا ہے ، جبرا وقہرا روک لینا مناسب نہیں ، اس لئے ایک تدبیر کی ہے جو نہایت حکیمانہ ہے ، اناج ناپنے کا پیمانہ بنیامین کی بوری میں رکھوا دیا ، اور اس کے بعد تلاش ہوئی ، برادران یوسف کو طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ بادشاہ کا کٹورا غائب ہے ، کہیں تمہارے پاس تو نہیں ہے ، انہوں نے انکار کیا اور صفائی میں کہا تم ہماری حالات سے آگاہ نہیں ہو ، ہم چور نہیں اور نہ اس غرض سے آئے ہیں کہ ایسی بداخلاقی کا…
Read the full tafseer →73 ۔ یہ لوگ کہنے لگے بخدا تم کو معلوم ہے کہ ہم اس ملک میں فساد پھیلانے نہیں آئے اور نہ کبھی چوری کرنا ہمارا شیوہ تھا اور نہ ہم چوری کرنے والے ہیں ۔ یعنی اس شہر میں ہمارا چال چلن سب کو معلوم ہے نہ ہم یہاں کسی شرارت کی غرض سے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
ف 2۔ یعنی ہمارا یہ شیوہ نہیں۔
Read the full tafseer →برادران یوسف نے کہا کہ ہم یہاں فساد کرنے کے لئے تو نہیں آئے تم یہ کیسی بات کرتے ہو ؟
۔ 85 برادران یوسف نے کہا کہ خدا گواہ ہے کہ ہم مصر میں فساد اور شرارت کی غرض سے نہیں آئے اور تم جانتے ہو کہ ہم اس سے پہلے بھی غلہ لینے آ چکے ہیں ہم میں چوری کی قطعاً عادت نہیں ہے اور اس طرح وہ قسمیں کھا کھا کر اپنی صفائی پیش کرنے لگے۔
Read the full tafseer →In verse 73, it was said: قَالُوا تَاللَّـهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ that is, when the royal announcer accused the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) of theft, they said that responsible people of the state know them and know that they had not come to create any disorder in the country, nor have they ever been thieves.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
58. It should be kept in mind that these people were the descendants of Prophet Abraham. Therefore they put forward his law regarding a thief, that is, the thief should be made the bondsman of the one whose goods he had stolen.
Read the full tafseer →