Yusuf 12:71

Yusuf · from ayah 71

12:71

قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ ۟قَالُوۡا وَاَقۡبَلُوۡا عَلَيۡهِمۡ مَّاذَا تَفۡقِدُوۡنَ

وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said while approaching them, "What is it you are missing?"

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 9 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:71

انہوں نے پلٹ کر پوچھا "تمہاری کیا چیز کھوئی گئی؟ "

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے ان کی طرف منھ پھیر کر کہا کہ تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے ان کی طرف مڑ کر پوچھا کہ : کیا چیز ہے جو تم سے گم ہوگئی ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے اور ان کی طرف متوجہ ہوئے تم کیا نہیں پاتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا، جب کہ وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے، تم کیا چیز گم پاتے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انہوں نے پکارنے والے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا : تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے ان کی طرف مڑ کر پوچھا، تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے پلٹ کر پوچھا (کیوں صاحب) تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے اور ان کی طرف متوجہ ہوئے کہ تمہاری کیا چیز گم ہوئی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے پوچھا ان کی طرف مڑ کر کہ آپ کی کیا چیز گم ہوئی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Turning back they asked: "What have you lost?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Turning towards them, they said, :What are you missing?

— Muhammad Taqi Usmani

Turning towards them, they said, :What are you missing?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They, turning towards them, said: "What is it that you have lost"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They cried, coming toward them: What is it ye have lost?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said while approaching them, "What is it you are missing?"

— Saheeh International

Joseph's brothers turned around and asked, "What is missing?"

— Muhammad Sarwar

They said while they were facing them: What is it that you miss?

— Muhammad Habib Shakir

They said while they turned toward them: what is it that ye miss!

— Abdul Majid Daryabadi

They said, turning towards them: "What is it that ye miss?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:71

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 70–72

جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کردیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویسا ہی پیالہ حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بھی تھا۔ پس آپ کے ملازمین نے ہوشیاری سے وہ پیالہ آپ کے بھائی حضرت بنیامین کی خورجی میں رکھ دیا۔ جب یہ چلنے لگے تو سنا کہ پیچھے سے منادی ندا کرتا آ رہا ہے کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ ان کے کان کھڑے، رک گئے، ادھر متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی کیا چیز کھوئی گئی ہے ؟ جواب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–75

58۔ خیال رہے کہ یہ بھائی خاندان ابراہیمی کے افراد تھے لہذا انہوں نے چوری کے معاملہ میں جو قانون بیان کیا وہ شریعت ابراہیمی کا قانون تھا یعنی یہ کہ چور اس شخص کی غلامی میں دے دیا جائے جس کا مال اس نے چرایا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ یعنی برادران یوسف منادی کرنے والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تم ہمیں چور بنا رہے ہو یہ تو کہو کہ تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 70–76

تفیسر آیات 70۔ تا 76:۔ فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَقَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ۔ قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَاۗؤُهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ۔ قَالُوْا جَزَاۗؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ۔ فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 71–72

72۔ 1 یعنی میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کی تفتیش سے قبل ہی جو شخص یہ جام شاہی ہمارے حوالے کر دے گا تو اسے انعام یا اجرت کے طور پر اتنا غلہ دیا جائے گا جو ایک اونٹ اٹھا سکے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 71–72

47: یہ شاہی پیمانہ تھا اور بظاہر قیمتی تھا ورنہ اس کی تلاش میں اتنی محنت نہ کی جاتی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قالوا واقبلوا علیہم ما ذا تفقدون (12 : 71) “ انہوں نے پلٹ کر پوچھا تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ؟ ” چناچہ ان ملازمین نے ، جن کی ڈیوٹی تھی کہ وہ ان کے بار تیار کریں ، کہا چوکیداروں نے کہا جن میں سے یہ اعلان کنندہ بھی تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی ہم کو خواہ مخواہ چور کیوں بناتے ہو۔ اگر تمہاری کوئی چیز گم ہوئی ہے وہ بتلاؤ ہم ابھی کہیں گئے نہیں ہمارے اسباب میں تلاش کرلو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 70–72

آیت 70 فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ یہ بادشاہ کا خصوصی جام تھا جو سونے کا بنا ہوا تھا۔ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ جب وہ قافلہ چل پڑا تو اسے روک لیا گیا کہ ہمارے ہاں سے کوئی چیز چوری ہوئی ہے اور ہمیں اس بارے میں تم لوگوں پر شک ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 70–72

69 شاہ مصر کے پیالہ کی چوری :۔ سیدنا یوسف نے اپنے بھائی بن یمین کو اپنے ہاں روک لینے کی یہ تدبیر سوچی کہ اس کے سامان میں یعنی غلہ میں اپنا مرصع پانی پینے کا پیالہ بھی رکھ دیا اور اس تدبیر کی آپ نے اپنے بھائی کو بھی خبر دے دی تاکہ وہ کسی موقع پر گھبراہٹ کا شکار نہ ہوجائے۔ چناچہ جب برادران یوسف کا سامان تیار کیا جارہا تھا تو آپ نے چپکے سے اپنا مرصع پانی پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا اور سامان تیار کرکے انھیں شہر مصر سے روانہ کردیا گیا۔ جب یہ لوگ ذرا آگے نکل آئے تو چند آدمی ان کے پیچھے تیزی سے آرہے تھے۔ ان میں سے ایک نے بلند آواز سے انھیں پکارا اور کہا : ذرا ٹھہر جاؤ، تم تو چور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

135۔ (کہ جس سے ہم پر شبہ چوری کا کررہے ہو) برادران یوسف (علیہ السلام) نے یہ صدا سن کر پیچھے مڑ کر دیکھا اور حیران ہو کر کہا کہ آخر وہ ہے کیا چیز جس کے غائب ہوجانے سے آپ ہم لوگوں کو چور سمجھنے لگے ! (آیت) ” علیھم “۔ کے صیغہ جمع سے معلوم ہوتا ہے کہ تلاش میں تعاقب کرنے والا کوئی فرد واحد نہ تھا بلکہ متعدد سلطانی اہلکار تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–79

آیت نمبر 69 تا 79 ترجمہ : اور جب (برادران یوسف) یوسف کے حضور پہنچے تو (یوسف نے) اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس ٹھہرایا اور کہا میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو گم ہوگیا تھا) لہٰذا اب تم اس حرکت پر جو یہ ہم سے حسد کی بنا پر کرتے رہے ہیں رنجیدہ نہ ہو، اور اس سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم اس کی خبر ان کو نہ دینا، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ عنقریب کوئی ایسا حیلہ کیا جائیگا کہ اس کے ذریعہ اس کو اپنے پاس روک لے اور جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو سامان ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں پیالہ رکھ دیا وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس پر جواہر جڑے ہوئے تھے، پھر ایک آواز دینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا واقبلوا علیھم ما ذا تفقدون قافلے والے تلاش کرنے والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے : تمہاری کیا چیز گم ہوگئی (تم کس چیز کو ڈھونڈ رہے ہو) فَقَدٌ کسی چیز کا کھو جانا کہ یہ بھی معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں گئی اور کہاں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 70–71

(70۔ 71) چناچہ ان لوگوں کا اناج تول کر تیار کردیا (اور بنیامین اور حضرت یوسف ؑ کے باہم مشورہ سے) وہ پیالہ جس میں حضرت یوسف ؑ پانی پیا کرتے تھے اور غلہ ماپا کرتے تھے، بنیامین کے سامان میں رکھ دیا پھر ان کو روانگی کا حکم دیا اور ان کے پیچھے حضرت یوسف ؑ نے اپنے ایک خادم کو بھیج دیا، اس نے پکارا کہ قافلہ والوں تم ضرور چور ہو تو سب بھائی تلاشی لینے والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہیں کس چیز کی تلاش ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 70–71

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ۔۔ : ان آیات کی تفسیر میں اکثر لوگوں کو ٹھوکر لگی ہے جس کی وجہ سے وہ یوسف ؑ کے ذمے لگاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھنے کے لیے اس کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا، پھر اس کے سامان میں پیمانہ رکھ کر سب بھائیوں کے متعلق ان کے چور ہونے کا اعلان کروایا، پھر خود ہی تلاشی لی اور آخر میں بھائی کے سامان سے پیمانہ نکال کر اسے چور قرار دے کر اپنے پاس رکھ لیا۔ اس پر جو اعتراض آتا ہے کہ یہ ایک نبی کی شان کے لائق نہیں، اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ) [ یوسف : 76 ]”اس طرح ہم نے یوسف کے لیے یہ تدبیر کی“ اس کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 71–72

آیت نمبر 71 تا 72 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ ولمن جآء بہٖ حمل بعیروانا بہٖ زعیم اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں بعیر ٍسے مراد اونٹ ہے۔ جبکہ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ گدھا ہے یہ بعض عربوں کی لغت ہے یہ مجاہد کا قول ہے اور انہوں نے اسی کو اختیار کیا ہے اور مجاہد نے کہا : زعیم سے مراد وہ منادی کرنے والا ہے جس نے ایتھا العیر کہا تھا۔ زعیم، کفیل، جمیل، ضمین اور قبیل برابر ہیں اور زعیم سے مراد رئیس ہے۔ شاعر نے کہا : وإنی زعیم إن رجعت مملکا بسیر تری منہ الفرانق أزورا أنی زعیم یعنی میں رئیس ہوں۔ لیلی اخیلیہ نے اپنے بھائی کا مرثینہ کہتے ہوئے کہا : ومخرق عنہ القمیص تخالہ یوم اللقاء من الحیاء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 69–76

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اوی الیہ اخاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے بنیامین کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اس کو اپنے پاس ٹھہرایا (آیت) ” فلا تبتئس “ یعنی نہ غم کر اور نہ مایوس ہو اور (آیت ) ” فلما جھزھم بجھازہم “ جب ان کی ضرورت پوری کردی اور ان کا غلہ ناپ دیا۔ (آیت) ” جعل السقایۃ “ بادشاہ کا وہ پیالہ جس سے وہ شراب پیتا تھا (آیت) ” فی رحل اخیہ “ اپنے بھائی کی بوری میں رکھ دیا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابن الانباری رحمہما اللہ نے المصاحف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جعل السقایۃ “ وہ ایک پیالہ تھا ہر چیز جس میں پیا جائے وہ صواع…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ وَاَقْبَلُوْا : اور وہ لوگ سامنے ہوئے ] [ عَلَيْهِمْ : ان کے ] [مَاذَا : وہ کیا ہے جو ] [ تَفْقِدُوْنَ : تم لوگ نہیں پاتے ] ق د [فُقْدَانًا : (ض) (1) کسی چیز کا گم ہوجانا۔ (2) کسی چیز کو نہ پانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 71] [تَفْقُرًا : (تفعل) (1) تلاش کرنا۔ (2) کسی چیز کا جائزہ لینا کہ کچھ کم یا گم تو نہیں ہوئی۔ وَتَفَقَّہَ الطَّیْرَ (اور اس نے جائزہ لیا پرندوں کا) 27:20]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 70–76

برادران یوسف کے سامان کی تلاشی لینا اور بنیامین کے سامان سے پیمانہ نکل آنا اور اس کو بہانہ بنا کر بنیامین کو روک لینا جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے خود ہی یہ کہہ دیا کہ جس کے سامان میں آپ لوگوں کا گمشدہ پیمانہ نکل آئے اس کی ذات ہی کو اس کے بدلہ میں غلام بنا لیا جائے اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اسی طرح چور کو سزا دیا کرتے ہیں یعنی یہ اسی شریعت کے مطابق ہے جس پر ہم چلتے ہیں تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کے سامانوں کی تلاشی لینا شروع کردی ‘ پہلے دوسرے بھائیوں کے کجاو وں کو دیکھا پھر جب اپنے حقیقی بھائی کے کجا وہ کو ٹٹولا تو اس میں سے پیمانہ کو نکال لیا ‘ رکھا تو خود ہی تھا اور معلوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–87

بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون (ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 70–72

61:۔ جب بھائیوں کو غلہ دیکر رخصت کرنے لگے اور سب کا مال ومتاع تیار کرنے لگے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آنکھ بچا کر سقایہ (پانی پینے کا برتن جس سے غلہ ناپنے کا کام بھی لیتے تھے) ۔ بنیامین کے سامان میں خود رکھ دیا یا کسی نوکر سے رکھوا دیا۔ ” ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ الخ “ جب وہ اپنا مال و متاع اونٹوں پر لاد کر روانہ ہوگئے تو پیمانے کی غلہ ناپنے کے لیے ضرورت پڑی مگر پیمانہ مفقود تھا ملازموں نے خیال کیا کہ ابھی ابھی کنعانی قافلہ روانہ ہوا ہے شاید وہی چرا لے گئے ہوں چناچہ وہ ان کے پیچھے دوڑے اور ان میں سے ایک نے انہیں آواز دی اے قافلہ والو ! ٹھہرو تم چور معلوم ہوتے ہو۔ ” قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–75

ربط آیات حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا ذکر ہورہا ہے۔ دوسری دفعہ مصر جانے کے لیے انہوں نے باپ کو آمادہ کرلیا کہ وہ سب سے چھوٹے بھائی بن یامین کو بھی ہمراہ لے جائیں گے کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں عزیز مصر انہیں اناج نہیں دیگا۔ چناچہ باپ سے عہد و پیمان کیے کہ وہ بن یامین کو بھی ضرور واپس لائیں گے ‘ چلتے وقت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو بعض حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی نصیحت بھی کی کہ مصر میں داخل ہوتے وقت کسی ایک دروازے سے سب کے سب اکھٹے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ مقصد یہ تھا کہ اکٹھا داخل ہونے کی صورت میں کوئی حادثہ پیش نہ آجائے یا کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ اب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ 71؀ إِقْبَالُ التّوجّه نحو الْقُبُلِ ، كَالاسْتِقْبَالِ. قال تعالی: فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ [ الصافات/ 50] ، وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِمْ [يوسف/ 71] ، فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ [ الذاریات/ 29] اقبال اور استقبال کی طرح اقبال کے معنی بھی کیب کے رو برو اور اس کی طرف متوجہ ہو نیکے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ [ الصافات/ 50] پھر لگے ایک دوسرے کو رو ور ود ملا مت کرنے ۔ وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِمْ [يوسف/ 71] ، اور وہ ان کی طرف متوجہ ہوکر فقد الفَقْدُ : عدم الشیء بعد وجوده، فهو أخصّ من العدم، لأن العدم يقال فيه وفیما لم يوجد بعد . قال تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–75

1 ؎ نظرِ بد کے لحاظ سے بھی ایک دروازہ سے داخل ہونے کو منع کیا کیونکہ سب خوبصورت تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سب کے سب کے مل کر جانے میں خواہ مخواہ ایک چرچا ہوگا اور جو کچھ یوسف (علیہ السلام) ان سے سلوک کریں گے اس میں غمازوں کو موقع ملے گا کیونکہ مصری لوگ پردیسیوں سے گونہ نفرت رکھتے اور ان کا سلطنت سے مستفید ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 70–76

فَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ جَعَلَ ا لسِّقَایَۃَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْہِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُھَا الْعِیْرُ اِنَّکُمْ لَسٰرِقُوْنَ ۔ قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَیِھْمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ ۔ قَالُوْا نَفْقِدُصُوَاعَ الْمَلِکِ وَلِمَنْ جَآئَ بِہٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّاَنَا بِہٖ زَعِیْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَمَا کُنَّا سٰرِقِیْنَ ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ کٰذِبِیْنَ ۔ قَالُوْا جَزَآؤُہٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِہٖ فَھُوَجَزَآؤُہٗ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ۔ فَبَدَاَبِاَوْعِیَتِھِمْ قَبْلَ وِعَآئِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 69–72

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف کا مختلف دروازوں کے ذریعے گزر کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہاں جمع ہونا۔ مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان کے ہاں جمع ہوئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک ایک کمرے میں دو دو بھائیوں کو ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ کمرہ میں جگہ دی۔ پھر بنیامین کے پاس تشریف لے جا کر انھیں اپنا تعارف کروایا۔ ظاہر ہے اتنی مدت کے بعد ملنے پر دو بھائیوں کے جو جذبات ہوں گے انکا پوری طرح اندازہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں بتایا ہوگا اور حضرت بنیامین نے اپنے غم، گھریلو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

71: قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَیْہِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ (انہوں نے کہا اور وہ متوجہ ہو کر کہنے لگے تم کیا چیز گم پاتے ہو) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

71۔” قالوا واقبلوا علیھم “ اعلان کرنے والے اور اسی کے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے ” ماذا تفقدون “ تمہاری کیا چیزگم ہوگئی ہے اور فقدان وجدان کی ضد ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 70–72

70۔ 72۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کا سفر کا سب سامان پورا کردیا اور غلہ ناپ تول کر اونٹوں پر بار کرا دیا تو ایک برتن چاندی کا جس سے پانی پیتے تھے اور اسی سے غلہ بھی ناپ کر لوگوں کو دیتے تھے اور اس برتن کو سقایۃ کہتے تھے یہ برتن اپنے چھوٹے بھائی کے سامان میں پوشیدہ طور پر رکھ دیا جب یہ لوگ وہاں سے کچھ دور نکل گئے تو یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے وہاں سقایتہ کا پتہ نہ پایا دل میں متفکر ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو جو ابھی ابھی غلہ لے کر واپس چلے تھے پکارنے لگے کہ اے قافلہ والو ٹھہر جاؤ تم چور معلوم ہوتے ہو یہ آواز سن کر وہ لوگ پریشان ہوئے اور پھر کر دریافت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے کہا : (آیت) ” اور ان کی طرف متوجہ ہوئے “ تہمت کو دور کرنے کے لئے، کیونکہ چور ہمیشہ اس شخص سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہے جس کی اس نے چوری کی ہو تاکہ اس کی چوری پکڑی نہ جائے اور یہ لوگ ان کے پاس واپس آگئے، تہمت کے ازالے کے سوا ان کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اس صورت میں انہوں نے اعلان کرنے والوں سے پوچھا (آیت) ” تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے ؟ “ انہوں نے یہ نہیں پوچھا ” ہم نے تمہاری کیا چیز چرالی ہے ؟ “ کیونکہ وہ چوری کے اس الزام سے اپنے آپ کو یقینی طور پر بری سمجھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–71

قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 70–71

118۔ برادران یوسف پر چوری کے الزام کا ذکر وبیان : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایک پکارنے والے نے پکار کر برادران یوسف سے کہا کہ تم بڑے چورہو۔ یہ آواز اگر نوکروں نے اپنی طرف سے لگائی تھی تب تو کوئی بات نہیں کہ ان کو اصل صورت حال کا پتہ نہیں تھا۔ اور اگر انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کہنے پر ایسا کیا تھا تو پھر بڑے چور ہونے کا کیا مطلب یہ تھا کہ تم نے اس سے پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو چوری کیا تھا۔ اس لیے میں حضرت یوسف (علیہ السلام) پر افتراء وغیرہ کا کوئی الزام نہیں آسکتا۔ نیزیہ سب کچھ چونکہ ان کے بھائی کی مرضی سے اور ایک خاص مقصد کے لیے تھا اس لیے اس میں کسی افتراء و بہتان کا بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–79

آیات 69 تا 79 اسرارومعاف جب یوسف (علیہ السلام) کے حضور پہنچے تو انھوں نے سب کو عزت واحترام سے ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ سے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اگر میری جدائی بھی بہت تکلیف دہ تھی جو بھائیوں کے ہاتھوں واقع ہوئی مگر اب ملاقات انشاء اللہ تعالیٰ سب غم رفع کردے گی اور وقت آنے پر والد گرامی کو بھی یہ خوشی نصیب ہوگی لیکن ابھی رب جلیل کو یہ منظور ہے کہ تم بھی یہیں رہ جاؤ ۔ شاید یہ غم کا پہاڑ ابھی قلب یعقوب (علیہ السلام) پہ ٹوٹنا باقی ہے ۔ تربیت قلوب اس سے ثابت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا فعل تو اللہ کے حکم سے تھا جیسے آگے مذکور ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ کریم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 71–75

ف 8 ۔ مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان میں چور کی یہی سزا مقرر تھی کہ وہ ایک برس تک اس شخص کی غلامی میں دیدیا جائے جس کا مال اس نے چرایا ہو۔ (فتح القدیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:71) تفقدون۔ مضارع جمع مذکر حاضر ۔ تم گم کر رہے ہو۔ تم کھو رہے ہو۔ ما ذا تفقدون۔ تمہاری کون سی چیز گم ہوگئی ہے فقدمصدر (باب ضرب) تفقد (باب تفعل) اس نے جستجو کی۔ اس نے تلاش کیا۔ اس نے خبر لی۔ اس نے حاضری لی۔ و تفقد الطیر۔ (27:20) اس نے پرندوں کی حاضری لی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–76

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76 (اوی اس نے ٹھکانا دیا۔ (پاس بٹھایا) ( لاتبتئس تو رنجیدہ نہ ہو ) (جھز تیار کردیا) ( جھاز سامان ) (السقایۃ جس سے پانی پیا جاتا ہے۔ پیالہ ) (رحل سامان) ( اذن پکارا) ( موذن پکارنے والا ) (ایتھا اے العیر : قافلہ ) (سارقون چوری کرنے والے ) (اقبلوا وہ متوجہ ہوئے، سامنے ہوئے) ( ماذا حرف سوال، حرف استفہام) ( تفقدون تم گم پاتے ہو ) (صواع پیمانہ، جس سے چیزوں کو تولا جاتا ہے) ( جاء بہ جو اس کو لے آئے گا ) (حمل بعیر ایک اونٹ کا بوجھ، جتنا سامان ایک اونٹ پر آتا ہے) ( زعیم ذمہ داری لینے والا ) (تاللہ اللہ کی قسم) ( ماجئنا ہم نہیں آئے ) (ماجزاء کیا بدلہ ہے ؟ کیا سزا ہے ؟ ) (وجد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 70–72

بنیامین کو مصر میں روک لیا گیا جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کے سفر کا سب سامان پورا کردیا اور غلہ ناپ تول کر اونٹوں پر لدوادیا تو ایک برتن سونے اور جواہرات کا جس سے پانی پیتے تھے اور اس سے غلہ بھی ناپ کر لوگوں کو دیتے تھے۔ یہ برتن اپنے چھوٹ بھائی یعنی بنیامین کے سامان میں پوشیدہ طور پر رکھ دیا۔ جب یہ لوگ وہاں سے کچھ دور نکل گئے تو یوسف (علیہ السلام) کے خمت گاروں نے وہاں اس برتن کا پتا نہ پایا، دل میں متفکر ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو جو ابھی ابھی غلہ لے کر واپس چلے تھے پکارنے لگے :'' اے قافلہ والو ! ٹھر جاؤ تم چور معلوم ہوتے ہو ''۔ یہ سن کر وہ لوگ بہت پریشان ہوئے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 70–75

[23] یہ شریعت اسرائیلی میں چور کی سزا تھی۔ یعنی جس کے پاس سے چوری کا مال نکلے وہ ایک سال تک غلام ہو کر رہے۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے بےتامل سزا کا ذکر کردیا کیونکہ انھیں پورا یقین تھا کہ وہ چور نہیں ہیں اور نہ چوری کا مال ان کے پاس سے برآمد ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 68–76

حضرت یوسف کا حسن تدبیر : (ف 1) حضرت یوسف کے قصہ میں بات صرف یہ ہے کہ بنیامین آپ کا سگا بھائی ہے ، مدت کے بعد ملاقات ہوئی ہے ، آپ بوجہ بوجہ شفقت و محبت اسے اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں ، اس لئے بہانے سے اسے طلب کیا ہے ، جبرا وقہرا روک لینا مناسب نہیں ، اس لئے ایک تدبیر کی ہے جو نہایت حکیمانہ ہے ، اناج ناپنے کا پیمانہ بنیامین کی بوری میں رکھوا دیا ، اور اس کے بعد تلاش ہوئی ، برادران یوسف کو طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ بادشاہ کا کٹورا غائب ہے ، کہیں تمہارے پاس تو نہیں ہے ، انہوں نے انکار کیا اور صفائی میں کہا تم ہماری حالات سے آگاہ نہیں ہو ، ہم چور نہیں اور نہ اس غرض سے آئے ہیں کہ ایسی بداخلاقی کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

71 ۔ قافلہ والوں نے ان خدمت گاروں کی طرف متوجہ ہو کر کہا کیوں تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ؟

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ رک گئے اور چور چور کہنے والوں سے پوچھا کہ تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے ؟ ۔ 83 برادران یوسف بھی کارندوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم پر خوامخواہ کیوں الزام لگاتے ہیں آخر معلم تو ہو کر تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے ؟ کارندے کہنے لگے کہ سرکاری پیمانہ یعنی ماپنے کا آلہ جس کو ” صاع “ کہا اجتا ہے وہ گم ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse 71 carries the response of the accused: قَالُوا وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ that is, ` the brothers of Yusuf turned to the announcer, as if protesting on being made into thieves, and asked him to say what is it that you seem to have lost.'

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–75

58. It should be kept in mind that these people were the descendants of Prophet Abraham. Therefore they put forward his law regarding a thief, that is, the thief should be made the bondsman of the one whose goods he had stolen.

Read the full tafseer →