Explained with ayahs 70–72
جب آپ اپنے بھائیوں کو حسب عادت ایک ایک اونٹ غلے کا دینے لگے اور ان کا اسباب لدنے لگا تو اپنے چالاک ملازموں سے چپکے سے اشارہ کردیا کہ چاندی کا شاہی کٹورا بنیامین کے اسباب میں چپکے سے رکھ دیں۔ بعض نے کہا ہے یہ کٹورا سونے کا تھا۔ اسی میں پانی پیا جاتا تھا اور اسی سے غلہ بھر کے دیا جاتا تھا بلکہ ویسا ہی پیالہ حضرت ابن عباس ؓ کے پاس بھی تھا۔ پس آپ کے ملازمین نے ہوشیاری سے وہ پیالہ آپ کے بھائی حضرت بنیامین کی خورجی میں رکھ دیا۔ جب یہ چلنے لگے تو سنا کہ پیچھے سے منادی ندا کرتا آ رہا ہے کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ ان کے کان کھڑے، رک گئے، ادھر متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی کیا چیز کھوئی گئی ہے ؟ جواب…
Read the full tafseer →56۔ پیالہ رکھنے کا فعل غالبا حضرت یوسف نے اپنے بھائی کی رضا مندی سے اور اس کے علم میں کیا تھا جیسا کہ اس سے پہلے والی آیت اشارہ کر رہی ہے۔ حضرت یوسف اپنے مدتوں کے بچھڑے ہوئے بھائی کو ان ظالم سوتیلے بھائیوں کے پنجے سے چھڑانا چاہتے ہوں گے، بھائی خود بھی ان ظالموں کے ساتھ واپس نہ جانا چاہتا ہوگا، مگر علانیہ آپ کا اسے روکنبا اور اس کا رک جانا بغیر اس کے ممکن نہ تھا کہ حضرت یوسف اپنی شخصیت کو ظاہر کرتے، اور اس کا اظہار اس موقع پر مصلحت کے خلاف تھا، اس لیے دونوں بھائیوں میں مشہور ہوا ہوگا کہ اسے روکنے کی یہ تدبیر کی جائے، اگرچہ تھوڑی دیر کے لیے اس میں بھائی کی سبکی تھی، اس پر چوری کا دھبہ لگتا تھا،…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
پھر جب یوسف ؑ نے ان کا سامان (غلہ اور روانگی کا) تیار کردیا تو (خود یا کسی معتمد کی معرفت) پانی پینے کا برتن (کہ وہی پیمانہ غلہ دینے کا بھی تھا) اپنے بھائی کے اسباب میں رکھ دیا پھر (جب یہ لاد پھاند کر چلے تو یوسف ؑ کے حکم سے پیچھے سے) ایک پکارنے والے نے پکارا کہ اے قافلہ والو تم ضرور چور ہو وہ ان (تلاش کرنے والوں) کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے (جس کی چوری کا ہم پر شبہ ہوا) انہوں نے کہا کہ ہم کو بادشاہی پیمانہ نہیں ملتا (وہ غائب ہے) اور جو شخص اس کو (لا کر) حاضر کرے اس کو ایک بار شتر غلہ (بطور انعام کے خزانہ سے) ملے گا (اور یا یہ مطلب ہو کہ اگر خود چور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
تفیسر آیات 70۔ تا 76:۔ فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَقَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ۔ قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَاۗؤُهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ۔ قَالُوْا جَزَاۗؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ۔ فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ…
Read the full tafseer →70۔ 1 مفسرین نے بیان کیا ہے کہ یہ سقایہ (پانی پینے کا برتن) سونے یا چاندی کا تھا، پانی پینے کے علاوہ غلہ ناپنے کا کام بھی اس سے لیا جاتا تھا، اسے چپکے سے بنیامین کے سامان میں رکھ دیا گیا۔
70۔ 2 الْعیر اصلاً ان اونٹوں، گدھوں یا خچر کو کہا جاتا ہے جن پر غلہ لاد کرلے جایا جاتا ہے۔ یہاں مراد اصحاب العیر یعنی قافلے والے۔
70۔ 3 چوری کی یہ نسبت اپنی جگہ صحیح تھی کیونکہ منادی حضرت یوسف ؑ کے سوچے سمجھے منصوبے سے آگاہ نہیں تھا یا اس کے معنی ہیں کہ تمہارا حال چوروں کا سا ہے کہ بادشاہ کا پیالہ، بادشاہ کی رضامندی کے بغیر تمہارے سامان کے اندر ہے۔
Read the full tafseer →46: یہاں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود اپنی طرف سے پیالہ ان کے سامان میں رکھنے کے بعد اتنے و ثوق کے ساتھ ان کو چور قرار دینا کیسے جائز ہوسکتا ہے اس کے جواب میں بعض حضرات نے تو یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے پیالہ خفیہ طور پر رکھوایا تھا اور عملے کے لوگوں کو پیالہ نہ ملا تو انہوں نے اپنی طرف سے ان لوگوں کو چور قرار دیا۔ حضرت یوسف ؑ کے حکم سے نہٰں۔ لیکن جس سیاق میں قرآن کریم نے یہ واقعہ بیان فرمایا ہے۔ اس میں یہ احتمال بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ان کو چور قرار دینا ایک توریہ تھا اور ان کو چور اس معنی میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے حضرت یوسف ؑ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 70 تا 78
یہ ایک نہایت ہی دلچسپ منظر ہے۔ اس میں متنوع حرکات ، تاثرات ، سر پر ائز شامل ہیں۔ جیسا کہ کوئی نہایت ہی موثر ، جذباتی اور زندگی سے بھر پور کوئی ڈرامائی منظر ہو سکتا ہے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ قرآن کریم زندہ اور حقیقی واقعات کو نہایت ہی موثر انداز میں بیان کرتا ہے۔
پس پردہ حرکت یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے پیمانے یا پیالے کو ان کے سامان میں رکھوا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے یہ پیالہ بیک وقت پینے کے کام بھی آتا تھا اور غلہ ماپنے کا پیمانہ بھی تھا ۔ اس دور میں گندم کو سونے کے پیمانے میں ناپنا تعجب انگیز امر نہیں ہے کیونکہ اس قحط کے دور میں سونے کے مقابلے میں گندم کی اہمیت…
Read the full tafseer →5 یعنی جب یوسف (علیہ السلام) کے حکم سے ان کا غلہ لدوایا اور سامان سفر تیار کیا گیا تو ایک چاندی کا پیالہ اپنے بھائی بنیامین کے اسباب میں بلا اطلاع رکھ دیا۔ جس وقت قافلہ روانہ ہونے لگا، محافظین کو پیالہ کی تلاش ہوئی۔ آخر ان کا شبہ اسی قافلہ پر گیا۔ قافلہ تھوڑی دور نکلا تھا کہ محافظین میں سے کسی نے آواز دی کہ ٹھہرو۔ تم لوگ یقینا چور معلوم ہوتے ہو (تنبیہ) اگر یہ لفظ یوسف کے حکم سے کہے گئے تو یہ مطلب ہوگا کہ کوئی مال چراتا ہے، تم وہ ہو جنہوں نے باپ کی چوری سے بھائی کو بیچ ڈالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
آیت 70 فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ
یہ بادشاہ کا خصوصی جام تھا جو سونے کا بنا ہوا تھا۔
ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ
جب وہ قافلہ چل پڑا تو اسے روک لیا گیا کہ ہمارے ہاں سے کوئی چیز چوری ہوئی ہے اور ہمیں اس بارے میں تم لوگوں پر شک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
69 شاہ مصر کے پیالہ کی چوری :۔ سیدنا یوسف نے اپنے بھائی بن یمین کو اپنے ہاں روک لینے کی یہ تدبیر سوچی کہ اس کے سامان میں یعنی غلہ میں اپنا مرصع پانی پینے کا پیالہ بھی رکھ دیا اور اس تدبیر کی آپ نے اپنے بھائی کو بھی خبر دے دی تاکہ وہ کسی موقع پر گھبراہٹ کا شکار نہ ہوجائے۔ چناچہ جب برادران یوسف کا سامان تیار کیا جارہا تھا تو آپ نے چپکے سے اپنا مرصع پانی پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا اور سامان تیار کرکے انھیں شہر مصر سے روانہ کردیا گیا۔ جب یہ لوگ ذرا آگے نکل آئے تو چند آدمی ان کے پیچھے تیزی سے آرہے تھے۔ ان میں سے ایک نے بلند آواز سے انھیں پکارا اور کہا : ذرا ٹھہر جاؤ، تم تو چور…
Read the full tafseer →133۔ (اس مصلحت کے ساتھ کہ جب یہ لوگ رخصت ہوجائیں گے تو آپ ہی اس جام شاہی کی تلاش شروع ہوگی، اور شبہ خواہ مخواہ انہیں قافلہ والوں پر ہوگا) یہ منصوبہ بنیامین کے مشورہ ہی سے تیار ہوا تھا، اس لیے وہ قدرۃ بےفکر اور مطمئن تھے اور ان کے کسی دھوکے یا غلط فہمی میں پڑنے کا امکان نہ تھا۔ السقایۃ غلہ ناپنے کا پیمانہ بھی یہی تھا۔ اور توریت میں ہے کہ یہ گلاس چاندی کا تھا۔ اور اس نے اپنے گھر کے داروغہ کو یہ حکم کیا کہ ان آدمیوں کے بوروں کو غلہ سے جتنا کہ وہ لے جاسکیں بھر اور ہر شخص کی نقدی اس کے بورے کے اندر ڈال دے اور میرا پیالہ روپے کا پیالہ چھوٹے کے بورے میں اوپر وار اس کے غلہ کی قیمت سمیت رکھ دے چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–79
آیت نمبر 69 تا 79
ترجمہ : اور جب (برادران یوسف) یوسف کے حضور پہنچے تو (یوسف نے) اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس ٹھہرایا اور کہا میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو گم ہوگیا تھا) لہٰذا اب تم اس حرکت پر جو یہ ہم سے حسد کی بنا پر کرتے رہے ہیں رنجیدہ نہ ہو، اور اس سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم اس کی خبر ان کو نہ دینا، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ عنقریب کوئی ایسا حیلہ کیا جائیگا کہ اس کے ذریعہ اس کو اپنے پاس روک لے اور جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو سامان ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں پیالہ رکھ دیا وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس پر جواہر جڑے ہوئے تھے، پھر ایک آواز دینے…
Read the full tafseer →فلما جھزھم یحھازھم جعل السقایۃ فی رحل اخیہ پھر جب ان کو سامان سفر دے کر تیار کردیا تو پانی پینے کا ایک کٹورا اپنے بھائی (بنیامین) کے سامان میں رکھ دیا ___ یعنی خادموں کو حکم دے دیا کہ کٹورا بنیامین کے سامان میں چھپا دو ۔ خادموں نے چھپا دیا۔
سقایۃ اور صواع دونوں سے مراد ایک ہی چیز ہے۔ سقایۃ پانی پینے کا برتن جس میں بادشاہ پانی پیتا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : وہ برتن زبرجد کا تھا۔ ابن اسحاق نے کہا : چاندی کا تھا۔ کسی نے کہا : سونے کا تھا۔ عکرمہ نے کہا : چاندی کا تھا مگر مرصع تھا۔ غلے کے احترام میں حضرت یوسف نے اس کو غلہ ناپنے کا پیمانہ مقرر کردیا تھا اور اس میں آپ پانی بھی پیتے تھے۔ سدی نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
(70۔ 71) چناچہ ان لوگوں کا اناج تول کر تیار کردیا (اور بنیامین اور حضرت یوسف ؑ کے باہم مشورہ سے) وہ پیالہ جس میں حضرت یوسف ؑ پانی پیا کرتے تھے اور غلہ ماپا کرتے تھے، بنیامین کے سامان میں رکھ دیا پھر ان کو روانگی کا حکم دیا اور ان کے پیچھے حضرت یوسف ؑ نے اپنے ایک خادم کو بھیج دیا، اس نے پکارا کہ قافلہ والوں تم ضرور چور ہو تو سب بھائی تلاشی لینے والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہیں کس چیز کی تلاش ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ۔۔ : ان آیات کی تفسیر میں اکثر لوگوں کو ٹھوکر لگی ہے جس کی وجہ سے وہ یوسف ؑ کے ذمے لگاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھنے کے لیے اس کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا، پھر اس کے سامان میں پیمانہ رکھ کر سب بھائیوں کے متعلق ان کے چور ہونے کا اعلان کروایا، پھر خود ہی تلاشی لی اور آخر میں بھائی کے سامان سے پیمانہ نکال کر اسے چور قرار دے کر اپنے پاس رکھ لیا۔ اس پر جو اعتراض آتا ہے کہ یہ ایک نبی کی شان کے لائق نہیں، اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ) [ یوسف : 76 ]”اس طرح ہم نے یوسف کے لیے یہ تدبیر کی“ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
آیت نمبر 68 تا 70
ولما دخلوا من حیث امرھم ابوھم یعنی مختلف دروازوں سے ماکان یغنی عنھم من اللہ من شیءٍ یعنی اگر وہ ان پر کوئی ناپسندیدہ بات واقع کرنے کا ارادہ فرمالے تو اللہ کی تقدیر سے انہیں کوئی چیز بچاسکتی۔ الا حاجۃ یہ استثنا ہے مگر متصل نہیں فی نفس یعقوب قضٰھا یعنی خدشہ تھا جو ان کے دل میں کھٹکا : اور وہ ان کی وصیت تھی کہ وہ جدا جدا رہیں۔ مجاہد نے کہا : نظر کا اندیشہ تھا، اس کے بارے میں گفتگو گزرچکی ہے۔ ایک قول یہ ہے : (متفرق داخل ہونے کی بنیاد اس خدشے پر تھی) کہ بادشاہ ان کی تعداد اور قوت کو نہ دیکھ لے کہ کہیں حسد کے مارے یا احتیاط ان کو پکڑ ہی نہ لے یہ بعض متاخرین کا قول ہے۔ نحاس نے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اوی الیہ اخاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے بنیامین کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اس کو اپنے پاس ٹھہرایا (آیت) ” فلا تبتئس “ یعنی نہ غم کر اور نہ مایوس ہو اور (آیت ) ” فلما جھزھم بجھازہم “ جب ان کی ضرورت پوری کردی اور ان کا غلہ ناپ دیا۔ (آیت) ” جعل السقایۃ “ بادشاہ کا وہ پیالہ جس سے وہ شراب پیتا تھا (آیت) ” فی رحل اخیہ “ اپنے بھائی کی بوری میں رکھ دیا۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابن الانباری رحمہما اللہ نے المصاحف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جعل السقایۃ “ وہ ایک پیالہ تھا ہر چیز جس میں پیا جائے وہ صواع…
Read the full tafseer →[فَلَمَا : پھر جب ] [ جَهَّزَهُمْ : انھوں (علیہ السلام) نے تیار کیا ان کے لئے ] [ بِجَهَازِهِمْ : ان ضرورت کے سامان کو ] [ جَعَلَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے رکھا [السِّقَايَةَ : پینے کے پیالے کو [ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ : اپنے بھائی کے تھیلے میں ] [ ثُمَّ : پھر ] [ اَذَّنَ : پکارا ] [مُؤَذِّنٌ: ایک پکارنے والے نے ] [ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ : اے قافلے والو ] [ انكُمْ : بیشک تم لوگ ] [لَسٰرِقُوْنَ : یقینا چوری کرنے والے ہو ]
ع ی ر
[عَیْرًا : (ض) ادھر ادھر آنا جانا۔] [عِیْرٌ: قافلہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 70]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
برادران یوسف کے سامان کی تلاشی لینا اور بنیامین کے سامان سے پیمانہ نکل آنا اور اس کو بہانہ بنا کر بنیامین کو روک لینا
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے خود ہی یہ کہہ دیا کہ جس کے سامان میں آپ لوگوں کا گمشدہ پیمانہ نکل آئے اس کی ذات ہی کو اس کے بدلہ میں غلام بنا لیا جائے اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہم اسی طرح چور کو سزا دیا کرتے ہیں یعنی یہ اسی شریعت کے مطابق ہے جس پر ہم چلتے ہیں تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کے سامانوں کی تلاشی لینا شروع کردی ‘ پہلے دوسرے بھائیوں کے کجاو وں کو دیکھا پھر جب اپنے حقیقی بھائی کے کجا وہ کو ٹٹولا تو اس میں سے پیمانہ کو نکال لیا ‘ رکھا تو خود ہی تھا اور معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–87
بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون
(ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
61:۔ جب بھائیوں کو غلہ دیکر رخصت کرنے لگے اور سب کا مال ومتاع تیار کرنے لگے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آنکھ بچا کر سقایہ (پانی پینے کا برتن جس سے غلہ ناپنے کا کام بھی لیتے تھے) ۔ بنیامین کے سامان میں خود رکھ دیا یا کسی نوکر سے رکھوا دیا۔ ” ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ الخ “ جب وہ اپنا مال و متاع اونٹوں پر لاد کر روانہ ہوگئے تو پیمانے کی غلہ ناپنے کے لیے ضرورت پڑی مگر پیمانہ مفقود تھا ملازموں نے خیال کیا کہ ابھی ابھی کنعانی قافلہ روانہ ہوا ہے شاید وہی چرا لے گئے ہوں چناچہ وہ ان کے پیچھے دوڑے اور ان میں سے ایک نے انہیں آواز دی اے قافلہ والو ! ٹھہرو تم چور معلوم ہوتے ہو۔ ” قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–75
ربط آیات
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا ذکر ہورہا ہے۔ دوسری دفعہ مصر جانے کے لیے انہوں نے باپ کو آمادہ کرلیا کہ وہ سب سے چھوٹے بھائی بن یامین کو بھی ہمراہ لے جائیں گے کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں عزیز مصر انہیں اناج نہیں دیگا۔ چناچہ باپ سے عہد و پیمان کیے کہ وہ بن یامین کو بھی ضرور واپس لائیں گے ‘ چلتے وقت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو بعض حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی نصیحت بھی کی کہ مصر میں داخل ہوتے وقت کسی ایک دروازے سے سب کے سب اکھٹے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ مقصد یہ تھا کہ اکٹھا داخل ہونے کی صورت میں کوئی حادثہ پیش نہ آجائے یا کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ اب…
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ 70
جهز
قال تعالی: فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهازِهِمْ [يوسف/ 70] ، الجَهَاز : ما يعدّ من متاع وغیره، والتجهيز : حمل ذلک أو بعثه،
( ج ھ ز )
الجھاز ۔ سازو سامان جو تیار کر کے رکھا جائے ۔ قرآن میں ہے : فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهازِهِمْ [يوسف/ 70] جب ان کے لئے ان کا سامان تیار کردیا ۔ التجھیز ( تفعیل ) تیار کردہ سامان کو لادنا یا بھیجنا
سقاية
ما يجعل فيه ما يسقی، وأسقیتک جلدا : أعطیتکه لتجعله سقاء، وقوله تعالی:
جَعَلَ السِّقايَةَ فِي رَحْلِ أَخِيهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–75
1 ؎ نظرِ بد کے لحاظ سے بھی ایک دروازہ سے داخل ہونے کو منع کیا کیونکہ سب خوبصورت تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سب کے سب کے مل کر جانے میں خواہ مخواہ ایک چرچا ہوگا اور جو کچھ یوسف (علیہ السلام) ان سے سلوک کریں گے اس میں غمازوں کو موقع ملے گا کیونکہ مصری لوگ پردیسیوں سے گونہ نفرت رکھتے اور ان کا سلطنت سے مستفید ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–76
فَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ جَعَلَ ا لسِّقَایَۃَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْہِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُھَا الْعِیْرُ اِنَّکُمْ لَسٰرِقُوْنَ ۔ قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَیِھْمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ ۔ قَالُوْا نَفْقِدُصُوَاعَ الْمَلِکِ وَلِمَنْ جَآئَ بِہٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّاَنَا بِہٖ زَعِیْمٌ۔ قَالُوْا تَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَمَا کُنَّا سٰرِقِیْنَ ۔ قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ کٰذِبِیْنَ ۔ قَالُوْا جَزَآؤُہٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِہٖ فَھُوَجَزَآؤُہٗ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ۔ فَبَدَاَبِاَوْعِیَتِھِمْ قَبْلَ وِعَآئِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف کا مختلف دروازوں کے ذریعے گزر کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہاں جمع ہونا۔
مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان کے ہاں جمع ہوئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک ایک کمرے میں دو دو بھائیوں کو ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ کمرہ میں جگہ دی۔ پھر بنیامین کے پاس تشریف لے جا کر انھیں اپنا تعارف کروایا۔ ظاہر ہے اتنی مدت کے بعد ملنے پر دو بھائیوں کے جو جذبات ہوں گے انکا پوری طرح اندازہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں بتایا ہوگا اور حضرت بنیامین نے اپنے غم، گھریلو…
Read the full tafseer →قافلہ کی واپسی :
70: فَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ (جب ان کا سامان سفر تیار کردیا) یعنی ان کے لئے اسباب مہیا کردیئے۔ اور ناپ پورا کردیا۔ جَعَلَ السِّقَایَۃَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْہِ (تو پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا) السقا یہ پانی پلانے کا برتن اس کو صواع کہا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے بادشاہ کو پانی پلاتے تھے پھر کھانے کی عزت و شان کی وجہ سے اس کو صاع بنادیا گیا۔ وہ سونے یا چاندی کے تاس کے مشابہ تھا۔ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ (پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا) ایک منادی نے نداء دی۔ اٰذنہٗ کا معنی، اعلم اور اذّن۔ زور سے اعلان کرنا اسی وجہ سے مؤذن کو کثرت اعلان کی وجہ سے مؤذن کہتے…
Read the full tafseer →السقایۃ کی مختلف تفاسیر
تفسیر 70۔” فلما جھزھم بجھازھم جعل السقایۃ فی رحل اخیہ “ یہ پیالا تھا جس میں بادشاہ پانی وغیرہ پیتا تھا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ زمرد کا تھا اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ یہ چاندی کا تھا اور بعض نے کہا ہے سونے کا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس کو مکیال بنا لیا تھا تا کہ اس کے علاوہ کسی چیز کے ساتھ کیل نہ کیا جائے۔ یوسف (علیہ السلام) اس سے پانی وغیرہ پیتے تھے اور سقایہ اور صواع ایک ہیں ، اس کو بنیا مین کے غلہ میں رکھ دیا گیا ۔ پھر وہ چل پڑے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو مہلت دی وہ چلتے ہوئے ایک منزل تک سفر کر گئے اور بعض نے کہا ہے آبادی سے نکل گئے ۔ پھر ان کے پیچھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
70۔ 72۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کا سفر کا سب سامان پورا کردیا اور غلہ ناپ تول کر اونٹوں پر بار کرا دیا تو ایک برتن چاندی کا جس سے پانی پیتے تھے اور اسی سے غلہ بھی ناپ کر لوگوں کو دیتے تھے اور اس برتن کو سقایۃ کہتے تھے یہ برتن اپنے چھوٹے بھائی کے سامان میں پوشیدہ طور پر رکھ دیا جب یہ لوگ وہاں سے کچھ دور نکل گئے تو یوسف (علیہ السلام) کے خدمت گاروں نے وہاں سقایتہ کا پتہ نہ پایا دل میں متفکر ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو جو ابھی ابھی غلہ لے کر واپس چلے تھے پکارنے لگے کہ اے قافلہ والو ٹھہر جاؤ تم چور معلوم ہوتے ہو یہ آواز سن کر وہ لوگ پریشان ہوئے اور پھر کر دریافت کیا کہ…
Read the full tafseer →(آیت) ” پس جب تیار کردیا ان کے واسطے ان کا اسباب “ یعنی جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ (آیت) ” تو رکھ دیا پینے کا پیالہ “ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے (آیت) یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پھر جب انہوں نے اپنا سامان سمیٹ لیا اور وہ کوچ کرنے لگے تو (آیت) ” اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو ! تم تو چور ہو “ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
118۔ برادران یوسف پر چوری کے الزام کا ذکر وبیان :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایک پکارنے والے نے پکار کر برادران یوسف سے کہا کہ تم بڑے چورہو۔ یہ آواز اگر نوکروں نے اپنی طرف سے لگائی تھی تب تو کوئی بات نہیں کہ ان کو اصل صورت حال کا پتہ نہیں تھا۔ اور اگر انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کہنے پر ایسا کیا تھا تو پھر بڑے چور ہونے کا کیا مطلب یہ تھا کہ تم نے اس سے پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو چوری کیا تھا۔ اس لیے میں حضرت یوسف (علیہ السلام) پر افتراء وغیرہ کا کوئی الزام نہیں آسکتا۔ نیزیہ سب کچھ چونکہ ان کے بھائی کی مرضی سے اور ایک خاص مقصد کے لیے تھا اس لیے اس میں کسی افتراء و بہتان کا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–79
آیات 69 تا 79
اسرارومعاف
جب یوسف (علیہ السلام) کے حضور پہنچے تو انھوں نے سب کو عزت واحترام سے ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ سے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اگر میری جدائی بھی بہت تکلیف دہ تھی جو بھائیوں کے ہاتھوں واقع ہوئی مگر اب ملاقات انشاء اللہ تعالیٰ سب غم رفع کردے گی اور وقت آنے پر والد گرامی کو بھی یہ خوشی نصیب ہوگی لیکن ابھی رب جلیل کو یہ منظور ہے کہ تم بھی یہیں رہ جاؤ ۔ شاید یہ غم کا پہاڑ ابھی قلب یعقوب (علیہ السلام) پہ ٹوٹنا باقی ہے ۔
تربیت قلوب
اس سے ثابت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا فعل تو اللہ کے حکم سے تھا جیسے آگے مذکور ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ کریم…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ جو اکثر مفسرین (رح) کے قول کے مطابق چاندی کا تھا۔ بعض کہتی ہیں کہ سونے کا تھا جس پر جواہر لگے تھے لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ کوئی قیمتی پیالہ تھا۔ (کبیر) ۔
5 ۔ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے کٹورا رکھوانے کا یہ فعل اپنے بھائی کی رضا مندی سے اور اس کے علم میں لا کر کیا ہوگا جیسا کہ اوپر والی آیت سے اندازہ ہوتا ہے واللہ اعلم۔
6 ۔ وہ اس لحاط سے واقعی چور تھے کہ انہوں نے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو باپ سے چرا کر کنویں میں پھینک دیا تھا۔ یا یہ پکارنا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اشارے اور حکم سے تھا ہی نہیں بلکہ جب لوگوں نے وہ کٹورا نہ پایا تو اسی قافلہ والوں پر چوری کا الزام لگایا جو اس وقت وہاں…
Read the full tafseer →(12:70) العیر۔ قافلہ۔ کارواں یہ مؤنث ہے۔ اور عار یعیر سے مشتق ہے۔ اس کی جمع عیرات اور عیرات ہے۔
صاحب المفردات لکھتے ہیں۔ العیر۔ قافلہ جو غذائی سامان لاد کر لاتا ہے اصل میں یہ لفظ غلہ بردار اونٹوں اور ان کے ساتھ جو لوگ ہوتے ہیں ان کے مجموعہ پر بولا جاتا ہے مگر کبھی اس کا استعمال صرف ایسے اونٹوں کے لئے اور کبھی صرف ایسے لوگوں کے لئے بھی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–76
لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76
(اوی اس نے ٹھکانا دیا۔ (پاس بٹھایا) ( لاتبتئس تو رنجیدہ نہ ہو ) (جھز تیار کردیا) ( جھاز سامان ) (السقایۃ جس سے پانی پیا جاتا ہے۔ پیالہ ) (رحل سامان) ( اذن پکارا) ( موذن پکارنے والا ) (ایتھا اے العیر : قافلہ ) (سارقون چوری کرنے والے ) (اقبلوا وہ متوجہ ہوئے، سامنے ہوئے) ( ماذا حرف سوال، حرف استفہام) ( تفقدون تم گم پاتے ہو ) (صواع پیمانہ، جس سے چیزوں کو تولا جاتا ہے) ( جاء بہ جو اس کو لے آئے گا ) (حمل بعیر ایک اونٹ کا بوجھ، جتنا سامان ایک اونٹ پر آتا ہے) ( زعیم ذمہ داری لینے والا ) (تاللہ اللہ کی قسم) ( ماجئنا ہم نہیں آئے ) (ماجزاء کیا بدلہ ہے ؟ کیا سزا ہے ؟ ) (وجد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
بنیامین کو مصر میں روک لیا گیا
جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کے سفر کا سب سامان پورا کردیا اور غلہ ناپ تول کر اونٹوں پر لدوادیا تو ایک برتن سونے اور جواہرات کا جس سے پانی پیتے تھے اور اس سے غلہ بھی ناپ کر لوگوں کو دیتے تھے۔ یہ برتن اپنے چھوٹ بھائی یعنی بنیامین کے سامان میں پوشیدہ طور پر رکھ دیا۔ جب یہ لوگ وہاں سے کچھ دور نکل گئے تو یوسف (علیہ السلام) کے خمت گاروں نے وہاں اس برتن کا پتا نہ پایا، دل میں متفکر ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو جو ابھی ابھی غلہ لے کر واپس چلے تھے پکارنے لگے :'' اے قافلہ والو ! ٹھر جاؤ تم چور معلوم ہوتے ہو ''۔ یہ سن کر وہ لوگ بہت پریشان ہوئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
[23] یہ شریعت اسرائیلی میں چور کی سزا تھی۔ یعنی جس کے پاس سے چوری کا مال نکلے وہ ایک سال تک غلام ہو کر رہے۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے بےتامل سزا کا ذکر کردیا کیونکہ انھیں پورا یقین تھا کہ وہ چور نہیں ہیں اور نہ چوری کا مال ان کے پاس سے برآمد ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–76
حضرت یوسف کا حسن تدبیر :
(ف 1) حضرت یوسف کے قصہ میں بات صرف یہ ہے کہ بنیامین آپ کا سگا بھائی ہے ، مدت کے بعد ملاقات ہوئی ہے ، آپ بوجہ بوجہ شفقت و محبت اسے اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں ، اس لئے بہانے سے اسے طلب کیا ہے ، جبرا وقہرا روک لینا مناسب نہیں ، اس لئے ایک تدبیر کی ہے جو نہایت حکیمانہ ہے ، اناج ناپنے کا پیمانہ بنیامین کی بوری میں رکھوا دیا ، اور اس کے بعد تلاش ہوئی ، برادران یوسف کو طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ بادشاہ کا کٹورا غائب ہے ، کہیں تمہارے پاس تو نہیں ہے ، انہوں نے انکار کیا اور صفائی میں کہا تم ہماری حالات سے آگاہ نہیں ہو ، ہم چور نہیں اور نہ اس غرض سے آئے ہیں کہ ایسی بداخلاقی کا…
Read the full tafseer →70 ۔ چناچہ دونوں بھائیوں کے مشورے سے بن یامین کو روکنے کی تدبیر کی گئی اور جب بھائیوں کو بھرتی وغیرہ دیکر ان کا سامان درست کیا گیا تو پانی پینے کا برتن جو غلہ دینے کا پیمانہ بھی تھا اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا اور جب وہ بھائی غلہ وغیرہ لے کر چلے تو شاہی خدمت گاروں میں سے ایک پکارنے والے نے پکارا اے قافلو والو ! یقینا تم لوگ چور ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
ف 1۔ وہی برتن پیمانہ غلہ دینے کا بھی تھا۔
Read the full tafseer →آخری الوداعی کھانے پینے کا بندوبست بنیامین کے ٹھہرنے کی جگہ پر کیا گیا
۔ 82 یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے اپنے بھائیوں کی خاطر داریوں اور مہمان نوازیوں کی تفصیلات توریت میں بھی درج ہیں لیکن دوسرے بھائیوں کے شمول میں … مہارے مفسرین نے مخصوص بنیامین کی خاطر داریوں کا ذکر کیا ہے اور یہی سیاق قرآنی کے زیادہ مطابق ہے اور عق بھی اس کو قبول کرتی ہے۔ بلاشبہ یوسف نے بھائیوں کی بڑی مدارات کیں اگرچہ ابھی ان سب کو بتایا نہیں گیا تھا تاہم وہ خود تو جانتے تھے آپ نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ ان کو شاہی مہمان خانہ میں اتاریں اور ایک ایک کمرہ میں دو دو کو ٹھہرائیں اور ان کے لئے پر تکلف دعوت کا سامان کریں چند…
Read the full tafseer →Commentary
The present verses describe how Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) arranged to have his real brother, Benyamin, stay on with him. All brothers were given grains according to rules. The grains for each brother was loaded on his camel, separately and by name.
In the supply of grain loaded on the camel for Benyamin, a bowl was concealed. This bowl has been called: سِقَایَہ (siqayah) at one place, and: صُوَاعَ الْمَلِكِ (suwa' al-malik) at another. The word: سِقَایَہ (siqayah) means a bowl used to drink water from, and: صُوَاعَ (suwa' ) too is a utensil similar to it. That it has been…
Read the full tafseer →56. In all probability, Prophet Joseph put the cup in his brother’s pack with his knowledge and consent, as may be inferred from the preceding verse. Obviously, Prophet Joseph desired to free his brother from the oppression of the cruel step brothers and he himself was reluctant to go back with them. But this could not be done directly and openly without disclosing his own identity, which was not then expedient under the circumstances. Therefore both the brothers might have thought out this plan, though this would have put the younger brother in an embarrassing situation for the time being…
Read the full tafseer →