Yusuf 12:69

Yusuf · from ayah 69

12:69

وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰۤی اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟وَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰى يُوۡسُفَ اٰوٰٓى اِلَيۡهِ اَخَاهُ‌ قَالَ اِنِّىۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when they entered upon Joseph, he took his brother to himself; he said, "Indeed, I am your brother, so do not despair over what they used to do [to me]."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 9 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:69

یہ لوگ یوسفؑ کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ "میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا) اب تو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ سب جب یوسف کے پاس پہنچ گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس بٹھا لیا اور کہا میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں، پس یہ جو کچھ کرتے رہے اس کا کچھ رنج نہ کر

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے (سگے) بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس خاص جگہ دی، (اور انہیں) بتایا کہ میں تمہارا بھائی ہوں، لہذا تم ان باتوں پر رنجیدہ نہ ہونا جو یہ (دوسرے بھائی) کرتے رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب وہ یوسف کے پاس گئے اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی کہا یقین جان میں ہی تیرا بھائی ہوں تو یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا غم نہ کھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب وہ یوسف ؑ کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف ؑ نے اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس جگہ دی (اسے آہستہ سے) کہا: بیشک میں ہی تیرا بھائی (یوسف) ہوں پس تو غمزدہ نہ ہو ان کاموں پر جو یہ کرتے رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب وہ یوسف کے پاس داخل ہوئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی، کہا بلاشبہ میں ہی تیرا بھائی ہوں، سو تو اس پر غم نہ کر جو وہ کرتے رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب یہ لوگ یوسف کے پاس آئے تو یوسف نے اپنے بھائی کو اپنے ہاں جگہ دی اور اسے بتادیا کہ میں ہی تیرا بھائی (یوسف) ہوں لہذا تم اب ان باتوں کا غم نہ کرو جو یہ کرتے رہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے اس نے اپنے بھائی کو خاص اپنے پاس جگہ دی۔ بتایا کہ میں تو تمہارا بھائی ہوں تو جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں اس سے آزردہ خاطر نہ ہو جیو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب یہ لوگ یوسف کے حضور پہنچے تو انہوں نے (ملتے ہی) اپنے بھائی کو اپنے پاس بلا لیا (اور چپکے سے) ان کو بتادیا کہ میں آپ کا بھائی (یوسف) ہوں، پس اب آپ ان باتوں پر غم نہ کھائیں، جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب یہ لوگ یوسف ؑ کے پاس پہنچے تو (یوسف ؑ نے) اپنے (حقیقی) بھائی کو اپنے پاس جگہ دی۔ (اور) کہا کہ میں تو تمہارا بھائی (یوسف علیہ السلام) ہوں سو جو کچھ یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔ اس (اب) نہ کڑھو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب وہ آئے یوسف کے پاس تو آپ نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتادیا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو اب مت غمگین ہونا اس پر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے (حقیقی) بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک (یہ ہمارے ساتھ) کرتے رہے اس پر افسوس نہ کرنا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When they presented themselves before Joseph, he took his brother aside to himself and said: "Verily I am your own brother Joseph; so do not grieve over the manner they have treated you."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And when they came to Yusuf, he lodged his brother (Binyamin) with himself. He said, :Look, I am your brother! So do not grieve for what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani

And when they came to Yusuf, he lodged his brother (Binyamin) with himself. He said, :Look, I am your brother! So do not grieve for what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when they went in before Yusuf, he took his brother (Binyamin) to himself and said: "Verily, I am your brother, so grieve not for what they used to do."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when they went in before Joseph, he took his brother unto him, saying: Lo! I, even I, am thy brother, therefore sorrow not for what they did.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when they entered upon Joseph, he took his brother to himself; he said, "Indeed, I am your brother, so do not despair over what they used to do [to me]."

— Saheeh International

When they entered Joseph's court, he gave lodging to his own brother (Benjamin) and said, "I am your brother. Do not feel sad about whatever they had done".

— Muhammad Sarwar

And when they went in to Yusuf. he lodged his brother with himself, saying: I am your brother, therefore grieve not at what they do.

— Muhammad Habib Shakir

And when they entered unto Yusuf, he betook his full brother unto himself, and said: verily I am thine own brother Yusuf, so sorrow not over that which they have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

Now when they came into Joseph's presence, he received his (full) brother to stay with him. He said (to him): "Behold! I am thy (own) brother; so grieve not at aught of their doings."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:69

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

بنیامین جو حضرت یوسف ؑ کے سگے بھائی تھے انہیں لے کر آپ کے اور بھائی جب مصر پہنچے آپ نے أپ نے سرکاری مہمان خانے میں ٹھیرایا، بڑی عزت تکریم کی اور صلہ اور انعام و اکرام دیا، اپنے بھائی سے تنہائی میں فرمایا کہ میں تیرا بھائی یوسف ہوں، اللہ نے مجھ پر یہ انعام و اکرام فرمایا ہے، اب تمہیں چاہئے کہ بھائیوں نے جو سلوک میرے ساتھ کیا ہے، اس کا رنج نہ کرو اور اس حقیقت کو بھی ان پر نہ کھولو میں کوشش میں ہوں کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں اپنے پاس روک لوں۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

55۔ اس فقرے میں وہ ساری داستان سمیٹ دی گئی ہے جو اکیس بائیس برس کے بعد دونوں ماں جائے بھائیوں کے ملنے پر پیش آئی ہوگی، حضرت یوسف نے بتایا ہوگا کہ وہ کن حالات سے گزتے ہوئے اس مرتبے پر پہنچے، بن یمین نے سنایا ہوگا کہ ان کے پیچھے سوتیلے بھائیوں نے اس کے ساتھ کیا کیا بدسلوکیاں کیں۔ پھر حضرت یوسف نے بھائی کو تسلی دی ہوگی کہ اب تم میرے پاس ہی رہو گے، ان ظالموں کے پنجے میں تم کو دوبارہ نہیں جانے دوں گا، بعید نہیں کہ اسی موقع پر دونوں بھائیوں میں یہ بھی طے ہوگیا ہو کہ بن یمین کو مصر میں روک رکھنے کے لیے کیا تدبیر کیا جائے جس سے وہ پردہ بھی پڑا رہے جو حضرت یوسف مصلحۃ ابھی ڈالے رکھنا چاہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ یعنی جب شہر مصر پہنچنے کے بعد یہ سب بھائی یوسف ؑ کے دربار میں حاضر ہوئے اور انہوں نے دیکھا کہ یہ وعدہ کے مطابق ان کے حقیقی بھائی کو بھی ساتھ لے آئے ہیں تو یوسف ؑ نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو خاص اپنے ساتھ ٹھہرایا امام تفسیر قتادہ ؒ نے فرمایا کہ ان سب بھائیوں کے قیام کا یوسف ؑ نے یہ انتظام فرمایا تھا کہ دو دو کو ایک کمرہ میں ٹھرایا تو بنیامین تنہارہ گئے ان کو اپنے ساتھ ٹھہرنے کے لئے فرمایا جب تنہائی کا موقع آیا تو یوسف ؑ نے حقیقی بھائی پر راز فاش کردیا اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ بھائی پر افشائے راز : جب یہ لوگ حضرت یوسف ؑ کے پاس پنچے انہوں نے اپنے بھائی بنیامین کو تنہائی میں اپنے پاس بلا کر ان کو آگاہ کردیا کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں۔ تو اب تک انہوں نے جو کچھ کیا ہے اس سے دل شکست اور آزردہ خاطر نہ ہونا۔ اب یہ دور گزر چکا۔ قرینہ دلیل ہے کہ اس موقع پر حضرت یوسف ؑ نے بھائی کو اپنی اس تدبیر سے بھی آگاہ فرمادیا ہوگا جو وہ ان کو اپنے پاس روکنے کے لیے اختیار فرمانے والے ہیں تاکہ آگے جو حالات پیش آنے والے ہیں ان میں وہ مطمئن رہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

69۔ 1 بعض مفسرین کہتے ہیں دو دو آدمیوں کو ایک ایک کمرے میں ٹھرایا گیا، یوں بنیامین جو اکیلے رہ گئے تو یوسف ؑ نے انھیں تنہا الگ ایک کمرے میں رکھا اور پھر خلوت میں ان سے باتیں کیں اور انھیں پچھلی باتیں بتلا کر کہا کہ ان بھائیوں نے میرے ساتھ جو کچھ کیا، اس پر رنج نہ کر اور بعض کہتے ہیں کہ بنیامین کو روکنے کے لئے جو حیلہ اختیار کرنا تھا، اس سے بھی انھیں آگاہ کردیا تھا تاکہ وہ پریشان نہ ہو۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

45: روایات میں مذکور ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے دو دو بھائیوں کو ایک کمرے میں ٹھہرایا تھا اس طرح پانچ کمروں میں دس بھائی مقیم ہوگئے بنیامین رہ گئے تو حضرت یوسف ؑ نے فرمایا کہ یہ میرے ساتھ رہیں گے اس طرح انہیں اپنے سگے بھائی کے ساتھ تنہائی کا موقع مل گیا جس میں ان کو بتادیا کہ میں تمہارا سگا بھائی ہوں۔ بنیامین اس موقع پر کہا کہ اب میں ان بھائیوں کے ساتھ واپس جانا نہیں چاہتا۔ اس کے لیے حضرت یوسف ؑ نے وہ تدبیر اختیار کی جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

مناسب یہ ہے کہ ہم اس وصیت اور اس سفر کو اسی طرح لکھیں جس طرح قرآن کریم نے اسے لیا ہے۔ اب برادران یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ اگلے منظر میں ہم یوں ملتے ہیں : آیت نمبر 69 اس منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے حقیقی بھائی کی ملاقات جلدی سے کرا دی جاتی ہے۔ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کسی تمہید کے بغیر بھائی کو اطلاع دے دیتے ہیں کہ میں تمہارا بھائی یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ مشورہ بھی ان کو دیتے ہیں کہ دوسرے بھائیوں نے ان کے ساتھ اس سے قبل جو سلوک کیا اس کو بھول جائیں۔ ماضی کی پریشان کن یادیں بہرحال کسی شخص کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں اور وہ چونکہ کنعان میں اسی خاندان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 حضرت یوسف نے بنیامین کے ساتھ ممتاز معاملہ کیا۔ اور خلوت میں آہستہ سے آگاہ کردیا کہ میں تیرا حقیقی بھائی (یوسف) ہوں۔ جو مظالم ان علاتی بھائیوں نے ہم پر کیے کہ مجھے باپ سے جدا کر کے کنویں میں ڈالا۔ غلام بنا کر بیچا۔ اور ہمارے باپ بھائی وغیرہ کو فراق کے صدمہ میں مبتلا کیا یا اب یہاں آتے ہوئے تمہارے ساتھ کوئی سختی کی، ان باتوں سے غمگین مت ہو۔ وقت آگیا ہے کہ ہمارے سب غم غلط ہوجائیں اور سختیوں کے بعد حق تعالیٰ راحت و عزت نصیب فرمائے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " اس بھائی کو جو یوسف نے آرزو سے بلایا اوروں کو حسد ہوا۔ اس سفر میں اس کو بات بات پر جھڑکتے اور طعنے دیتے۔ اب حضرت یوسف نے تسلی کردی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 69 وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ آپ نے اپنے چھوٹے بھائی بن یا مین کو علیحدگی میں اپنے پاس بلایا اور ان پر اپنی شناخت ظاہر کردی کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں جو بچپن میں کھو گیا تھا۔ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ حضرت یوسف نے اپنے چھوٹے بھائی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ مجھے اللہ نے اس اعلیٰ مقام تک پہنچایا ہے اور ہمیں آپس میں ملا بھی دیا ہے۔ چناچہ اب ان بڑے بھائیوں کے رویے پر تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب سختی کے دن ختم ہوگئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

68 دو بچھڑے ہوئے بھائیوں کی اتفاقی ملاقات :۔ برادران یوسف جیسے سیدنا یوسف (علیہ السلام) سے حسد رکھتے تھے۔ ویسے ہی بن یمین سے بھی رکھتے تھے کیونکہ سیدنا یوسف سے جدائی کے بعد بن یمین باپ کی توجہ کا مرکز و محور بن گئے تھے۔ چناچہ روانگی کے بعد راستہ میں اسے طعن وتشنیع سے کو ستے رہے اور طرح طرح سے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑتے رہے تھے جب یہ لوگ مصر میں داخل ہوئے تو سیدنا یوسف نے ان کا استقبال کیا اور شاہی مہمان خانہ میں ٹھہرایا۔ دو دو بھائیوں کو الگ الگ کمرہ رہنے کو دیا۔ بن یمین اکیلا رہ گیا تو آپ نے اسے کہا میں تمہارے پاس رہوں گا۔ چناچہ جب تنہائی میسر آئی تو سیدنا یوسف نے بن یمین کو بتایا کہ میں ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

131۔ (شفقت وعزت کے ساتھ) خاطر داریوں اور مہمان نوازیوں کی تفصیلات توریت میں درج ہیں۔ لیکن دوسرے بھائیوں کے شمول میں، ہمارے مفسرین نے مخصوص بنیامین کی خاطر داریوں کا ذکر کیا ہے۔ اور یہی سیاق قرآنی کے زیادہ مطابق ہے اور عقل بھی اسی کو قبول کرتی ہے۔ 132۔ (کہ اب تو اللہ نے ہم بچھڑے ہوؤں کو ملادیا) ملنے کے بعد یقیناً بھائی بھائی میں خوب باتیں ہوئی ہوں گی، اور یہ تجویز یقیناً زیر بحث آئی ہوگی کہ آئندہ کے لیے ان ظالم بھائیوں سے بچ کر بنیامین کی یوسف (علیہ السلام) ہی کے پاس رہنے کے لیے کیا تدبیر اختیار کی جائے۔ اور بالآخر ایک صورت طے پاگئی جس کا ذکر ابھی بعد کی آیتوں میں آتا ہے۔ (آیت) ” قال انی انا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–79

آیت نمبر 69 تا 79 ترجمہ : اور جب (برادران یوسف) یوسف کے حضور پہنچے تو (یوسف نے) اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس ٹھہرایا اور کہا میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو گم ہوگیا تھا) لہٰذا اب تم اس حرکت پر جو یہ ہم سے حسد کی بنا پر کرتے رہے ہیں رنجیدہ نہ ہو، اور اس سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم اس کی خبر ان کو نہ دینا، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ عنقریب کوئی ایسا حیلہ کیا جائیگا کہ اس کے ذریعہ اس کو اپنے پاس روک لے اور جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو سامان ٹھیک ٹھاک کرکے دیا تو اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں پیالہ رکھ دیا وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس پر جواہر جڑے ہوئے تھے، پھر ایک آواز دینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولما دخلوا علی یوسف اور جب برادران یوسف ‘ یوسف کے پاس پہنچے۔ تو کہا : آپ نے جو بھائی لانے کا حکم دیا تھا ‘ ہم اس کو لے آئے۔ حضرت یوسف نے کہا : تم نے بہت اچھا کیا ‘ ٹھیک کیا اور تم کو عنقریب اس کا اچھا بدلہ ملے گا۔ پھر آپ نے ان کو عزت اور آرام کے ساتھ ٹھہرایا اور ان کی مہمانی کی اور دسترخوان بچھوایا اور حکم دیا کہ (آمنے سامنے) دو ‘ دو بیٹھیں (یعنی دو ‘ دو شریک ہوجائیں۔ حکم کی تعمیل کی گئی اور دو ‘ دو بیٹھ گئے) بنیامین تنہا رہ گئے اور رو پڑے اور کہنے لگے : اگر میرا بھائی یوسف زندہ ہوتا تو مجھے اپنے ساتھ بیٹھا لیتا۔ حضرت یوسف نے فرمایا : تمہارا یہ بھائی اکیلا رہ گیا ہے ‘ میں اس کو اپنے ساتھ بٹھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(69) چناچہ جب یہ سب حضرت یوسف ؑ کے پاس پہنچے تو حضرت یوسف ؑ نے اپنے اس سگے بھائی بنیامین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور سب کو باہردروازہ پر روک دیا اور ان سے کہہ دیا کہ میں تیرا گم شدہ بھائی ہوں، یہ دوسرے تیسرے بھائی جو کچھ تیرے ساتھ بدسلوکی کرتے رہے ہیں اور برا بھلا کہتے رہے ہیں اس کا غم مت کرنا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ۔۔ : اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ یوسف ؑ نے اپنی حسن تدبیر سے دوسرے بھائیوں کو اس طرح ٹھہرایا کہ چھوٹا بھائی اکیلا رہ گیا تو اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا۔ مفسرین نے عام طور پر لکھا ہے کہ بھائیوں کو دو ، دو کرکے ایک ایک جگہ ٹھہرایا، مگر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انھیں پانچ پانچ کرکے ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا ہو یا کوئی اور ترتیب بنائی ہو۔ (واللہ اعلم) کیونکہ دو ، دو والی ترتیب قرآن و حدیث میں نہیں آئی۔ قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ۔۔ : ظاہر ہے کہ جب یوسف ؑ اپنے بھائی کے ساتھ علیحدہ ہوئے اور اسے بتایا کہ میں تمہارا سگا بھائی ہوں تو اس نے اپنے سوتیلے بھائیوں کی بدسلوکی کے قصے بیان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 68–70

آیت نمبر 68 تا 70 ولما دخلوا من حیث امرھم ابوھم یعنی مختلف دروازوں سے ماکان یغنی عنھم من اللہ من شیءٍ یعنی اگر وہ ان پر کوئی ناپسندیدہ بات واقع کرنے کا ارادہ فرمالے تو اللہ کی تقدیر سے انہیں کوئی چیز بچاسکتی۔ الا حاجۃ یہ استثنا ہے مگر متصل نہیں فی نفس یعقوب قضٰھا یعنی خدشہ تھا جو ان کے دل میں کھٹکا : اور وہ ان کی وصیت تھی کہ وہ جدا جدا رہیں۔ مجاہد نے کہا : نظر کا اندیشہ تھا، اس کے بارے میں گفتگو گزرچکی ہے۔ ایک قول یہ ہے : (متفرق داخل ہونے کی بنیاد اس خدشے پر تھی) کہ بادشاہ ان کی تعداد اور قوت کو نہ دیکھ لے کہ کہیں حسد کے مارے یا احتیاط ان کو پکڑ ہی نہ لے یہ بعض متاخرین کا قول ہے۔ نحاس نے بھی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 69–76

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اوی الیہ اخاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے بنیامین کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اس کو اپنے پاس ٹھہرایا (آیت) ” فلا تبتئس “ یعنی نہ غم کر اور نہ مایوس ہو اور (آیت ) ” فلما جھزھم بجھازہم “ جب ان کی ضرورت پوری کردی اور ان کا غلہ ناپ دیا۔ (آیت) ” جعل السقایۃ “ بادشاہ کا وہ پیالہ جس سے وہ شراب پیتا تھا (آیت) ” فی رحل اخیہ “ اپنے بھائی کی بوری میں رکھ دیا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابن الانباری رحمہما اللہ نے المصاحف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جعل السقایۃ “ وہ ایک پیالہ تھا ہر چیز جس میں پیا جائے وہ صواع…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَمَا : اور جب ] [ دَخَلُوْا : وہ لوگ داخل (حاضر) ہوئے ] [عَلٰي يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) پر ] [اٰوٰٓى: تو انھوں (علیہ السلام) نے جگہ دی ] [ اِلَيْهِ : اپنے پاس ] [اَخَاهُ : اپنے بھائی کو ] [ قَالَ : (پر) انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ انىٓ انا : کہ میں ہی ] [ اَخُوْكَ : تمہارا بھائی ہوں ] [ فَلَا تَبْتَىِٕسْ : پس تم دل برداشتہ مت ہو ] [ بِمَا : اس سے جو ] [ كَانوْا يَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

برادران یوسف کا مصر پہنچنا اور ان کا اپنے سگے بھائی کو یہ بتانا کہ رنج نہ کرنا میں تمہارا بھائی ہوں ‘ پھر اس کو روکنے کے لیے کجاوہ میں پیمانہ رکھ دینا ‘ یوسف (علیہ السلام) کے کارندوں کا چوری ہونے کا اعلان کرنا ‘ اور برادران یوسف کا یوں فیصلہ دینا کہ جس کے کجاوہ میں پیمانہ نکلے اسی کو رکھ لیا جائے یہ گیارہ بھائی جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے جن میں بنیامین بھی تھے تو بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے بنیامین کو پیش کردیا اور کہا کہ لیجئے آپ کی شرط کے مطابق ہم اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لے آئے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے بنیامین کو پیش کردیا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–87

بار دوم آمدن برادران یوسف (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولما دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ .... الیٰ .... عندہ انا اذا لظلمون (ربط) یہاں تک برادران یوسف (علیہ السلام) کی پہلی بار آمد کا ذکر تھا اب آئندہ آیات میں ان کی دوسری بار آمد کا ذکر ہے اور جب بار دوم یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت کے مطابق گیارہ بھائی یعنی دس بھائی سابق مع بنیامین کے مختلف دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور بنیامین کو پیش کرکے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے مطابق اپنے اس علاتی بھائی کو اپنے ساتھ لائے ہیں جو آپ کے سامنے ہے یوسف (علیہ السلام) نے دو دو بھائیوں کو ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا بنیامین اکیلے رہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

60:۔ جب تمام بھائی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے بنیامین کو اپنے پاس ٹھہرایا اور اسے بتا دیا کہ میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اس لیے بڑے بھائی تمہارے ساتھ جو ناروا سلوک کرتے تھے اب اس کا غم نہ کرنا۔ اس پر بنیامین نے کہا کہ اب مجھے ان کے ساتھ ہرگز نہ بھیجو اور مجھے اپنے پاس ہی رکھو۔ یہی سبب تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کو اپنے پاس رکھنے کا حیلہ سوچا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–75

ربط آیات حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا ذکر ہورہا ہے۔ دوسری دفعہ مصر جانے کے لیے انہوں نے باپ کو آمادہ کرلیا کہ وہ سب سے چھوٹے بھائی بن یامین کو بھی ہمراہ لے جائیں گے کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں عزیز مصر انہیں اناج نہیں دیگا۔ چناچہ باپ سے عہد و پیمان کیے کہ وہ بن یامین کو بھی ضرور واپس لائیں گے ‘ چلتے وقت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو بعض حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی نصیحت بھی کی کہ مصر میں داخل ہوتے وقت کسی ایک دروازے سے سب کے سب اکھٹے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ مقصد یہ تھا کہ اکٹھا داخل ہونے کی صورت میں کوئی حادثہ پیش نہ آجائے یا کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ اب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 69؀ أوى المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43] ، وقال تعالی: آوی إِلَيْهِ أَخاهُ [يوسف/ 69] آوی إِلَيْهِ أَخاهُ [يوسف/ 69] أي : ضمّه إلى نفسه . ( ا و ی ) الماویٰ ۔ ( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–75

1 ؎ نظرِ بد کے لحاظ سے بھی ایک دروازہ سے داخل ہونے کو منع کیا کیونکہ سب خوبصورت تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سب کے سب کے مل کر جانے میں خواہ مخواہ ایک چرچا ہوگا اور جو کچھ یوسف (علیہ السلام) ان سے سلوک کریں گے اس میں غمازوں کو موقع ملے گا کیونکہ مصری لوگ پردیسیوں سے گونہ نفرت رکھتے اور ان کا سلطنت سے مستفید ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰٓی اِلَیْہِ اَخَاہُ قَالَ اِنِّیْ ٓ اَنَا اَخُوْکَ فَلاَ تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 69) (جب برادرانِ یوسف حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی۔ فرمایا میں تمہارا بھائی ہوں، پس اب غمزدہ نہ ہو، ان حرکتوں پر جو یہ کیا کرتے تھے۔ ) بھائی پر افشائے راز برادرانِ یوسف جب اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لے کر مصر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انھیں بڑی عزت و احترام سے ٹھہرانے کا حکم دیا۔ ایک ایک کمرے میں دو دو بھائیوں کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 69–72

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف کا مختلف دروازوں کے ذریعے گزر کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہاں جمع ہونا۔ مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان کے ہاں جمع ہوئے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک ایک کمرے میں دو دو بھائیوں کو ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ کمرہ میں جگہ دی۔ پھر بنیامین کے پاس تشریف لے جا کر انھیں اپنا تعارف کروایا۔ ظاہر ہے اتنی مدت کے بعد ملنے پر دو بھائیوں کے جو جذبات ہوں گے انکا پوری طرح اندازہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں بتایا ہوگا اور حضرت بنیامین نے اپنے غم، گھریلو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بنیامینؔ کی امیدبر آئی : 69: وَلَمَّادَخَلُوْا عَلٰی یُوْسُفَ اٰوٰٓی اِلَیْہِ اَخَاہُ (جب وہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو اپنے بھائی کو اپنے ساتھ ٹھہرایا) ملایا اپنے ساتھ بنیامین کو روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا یہ ہمارا بھائی ہے اس کو ہم لے آئے ہیں۔ تو یوسف (علیہ السلام) نے کہا تم نے خوب کیا۔ پس ان کو مہمان ٹھہرایا اور اکرام کیا۔ پھر ان کو ملایا اور ہر دو دو کو اپنے دستر خوان پر بٹھایا۔ بنیامین اکیلئے رہ گئے پس وہ رونے لگے۔ اور کہا اگر میرا بھائی یوسف زندہ ہوتا تو میں اس کے ساتھ بیٹھ جاتا۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا تمہارا بھائی اکیلا رہ گیا ہے۔ تو اس کو اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھایا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

اوی الیہ اخاہ کی تفسیر تفسیر : 68۔” ولما دخلوا علی یوسف “ تو کہا یہ ہمارا بھائی ہے جس کے لانے کا آپ (علیہ السلام) نے حکم دیا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا تم نے اچھا کیا عنقریب تم اس کی جزا پائو گے ۔ پھر ان کو مہمان بنایا اور خواب اکرام کیا اور دستر خوان پر دو دو کو بٹھایا تو بنیا مین اکیلے رہ گئے تو وہ غمزدہ ہو کر کہنے لگے کہ اگر میرا بھائی یوسف (علیہ السلام) آج زندہ ہوتا تو مجھے اپنے ساتھ بٹھاتا تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ اکیلا رہ گیا ہے تو ان کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور رات کو بھی اپنے ساتھ سلایا کیونکہ ہر دو آدمیوں کو ایک بستر دیا تھا ۔ بنیا مین اکیلے رہ گئے تو اپنے ساتھ سلا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

69۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اس بات کی خبر دی کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ملک مصر میں جہاں یوسف (علیہ السلام) کا قبضہ و تصرف تھا داخل ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس اتارا کہتے ہیں کہ دو ، دو آدمیوں کو ایک ایک گھر میں جگہ دی دس بھائیوں کو پانچ گھر عطا کئے۔ بنیامین اکیلے رہ گئے ان کو اپنے پاس رکھا اور تنہائی میں ملاقات کر کے کہہ دیا کہ تم دل میں کچھ خوف نہ کرو میں تمہارا بھائی ہوں ان سوتیلے بھائیوں نے جو کچھ میرے اور تمہارے ساتھ سلوک کیا ہے اس کا رنج و غم نہ کرو اور بعض مفسروں نے یہ بیان کیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات بنیامین سے نہیں کہی کہ میں یوسف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (آیت) ” تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی “ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو، جس کو لانے کے لئے انہوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا، پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کرلیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کردیا۔ (آیت) ” اس نے کہا، میں تیرا بھائی ہوں، پس غمگین مت ہو “ یعنی غم زدہ نہ ہو (آیت) ” ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں “ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انہوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسف (علیہ السلام) ، بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے، جب تک کہ معاملہ اپنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–71

قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

117۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے بھائی کو تسلی دینا : سوملنے پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بنیامین کو تنہائی میں اپنے پاس بلاکر بتادیا کہ میں آپ کا بھائی ہوں۔ یعنی گمشدہ بھائی یوسف۔ پس ان لوگوں نے اب تک جو کچھ کیا اس کے بارے میں غمزدہ اور آزردہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں کہ وہ دوربہرحال اب گزرچکا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے شروروفتن سے بچا لیا۔ پس اس کے بارے میں غمگین نہ ہونا جو کچھ کہ انہوں نے کیا اس سے پہلے ہمارے بارے میں۔ کہ اللہ پاک نے ہمیں اپنے فضل وکرم سے ان کے شرور سے محفوظ رکھا۔ اور اپنی طرح طرح کی عنایتوں سے از خود نوازدیا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اب ان کو اپنے کئے پر خودہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–79

آیات 69 تا 79 اسرارومعاف جب یوسف (علیہ السلام) کے حضور پہنچے تو انھوں نے سب کو عزت واحترام سے ٹھہرایا اور بنیامین کو الگ سے بتایا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں میں تمہارا بھائی یوسف ہوں اگر میری جدائی بھی بہت تکلیف دہ تھی جو بھائیوں کے ہاتھوں واقع ہوئی مگر اب ملاقات انشاء اللہ تعالیٰ سب غم رفع کردے گی اور وقت آنے پر والد گرامی کو بھی یہ خوشی نصیب ہوگی لیکن ابھی رب جلیل کو یہ منظور ہے کہ تم بھی یہیں رہ جاؤ ۔ شاید یہ غم کا پہاڑ ابھی قلب یعقوب (علیہ السلام) پہ ٹوٹنا باقی ہے ۔ تربیت قلوب اس سے ثابت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا فعل تو اللہ کے حکم سے تھا جیسے آگے مذکور ہے اصل بات یہ ہے کہ اللہ کریم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ۔ کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے دو دو کو ایک ایک جگہ ٹھہرایا۔ اس طرح جب بنیامین اکیلے رہ گئے تو انہیں اپنے پاس ٹھہرایا۔ (فتح القدیر) 3 ۔ ظاہر ہے کہ جب حضرت یوسف ( علیہ السلام) بنیامین کے ساتھ علیحدہ ہوئے ہوں گے اور اسے بتایا ہوگا کہ میں تمہارا سگا بھائی ہوں تو بنیامین نے اپنے سوتلے بھائیوں کی بدسلوکی کے قصے بیان کئے ہوں گے اس پر حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے انہیں تسلی دی کہ اب تم اپنے بھائی کے پاس پنچ گئے ہو لہٰذا ان بھائیوں کی بدسلوکی کا رنج نہ کرو۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے تمام غم غلط ہوں اور اللہ تعالیٰ ہمیں عزت و راحت عطا فرمائے۔ (از وحیدی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:69) ادی۔ اس نے جگہ دی۔ اس نے اتارا۔ ایواء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب الماوی۔ اوی یاوی (ضرب) اوی۔ ماوی۔ جس کے معنی کسی جگہ نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنے کے ہیں۔ اوی یاوی الی۔ کسی کے پاس اترنا ۔ کسی کے ساتھ مل جانا۔ اوہ (افعال) کسی کو جگہ دینا۔ جیسا کہ آیۃ ہذا میں ہے۔ اس کا مضارع یؤوی ہے۔ قرآن مجید میں ہے و تؤوی الیک من تشاء (23:51) اور جسے چاہو اپنے پاس ٹھکانہ دو ۔ اوی الیہ اخاہ۔ اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی۔ لا تبتئس۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ ابتئاس (افتعال) سے ۔ تو غمگین نہ ہو۔ تو غم نہ کھا ۔ (ملاحظہ ہو 11 ۔ 36) یؤ س مادہ۔ جھزہم بجہازہم۔ ان کا سامان تیار کردیا۔ (ملاحظہ ہو 12:…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–76

لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76 (اوی اس نے ٹھکانا دیا۔ (پاس بٹھایا) ( لاتبتئس تو رنجیدہ نہ ہو ) (جھز تیار کردیا) ( جھاز سامان ) (السقایۃ جس سے پانی پیا جاتا ہے۔ پیالہ ) (رحل سامان) ( اذن پکارا) ( موذن پکارنے والا ) (ایتھا اے العیر : قافلہ ) (سارقون چوری کرنے والے ) (اقبلوا وہ متوجہ ہوئے، سامنے ہوئے) ( ماذا حرف سوال، حرف استفہام) ( تفقدون تم گم پاتے ہو ) (صواع پیمانہ، جس سے چیزوں کو تولا جاتا ہے) ( جاء بہ جو اس کو لے آئے گا ) (حمل بعیر ایک اونٹ کا بوجھ، جتنا سامان ایک اونٹ پر آتا ہے) ( زعیم ذمہ داری لینے والا ) (تاللہ اللہ کی قسم) ( ماجئنا ہم نہیں آئے ) (ماجزاء کیا بدلہ ہے ؟ کیا سزا ہے ؟ ) (وجد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بنیامین سے اپنا حال ذکر کردیا اور تدبیر بھی بتلادی اس آیت میں اللہ نے اس بات کی خبر دی کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی داخل ہوئے تو دو دو آدمیوں کو ایک گھر میں جگہ دی۔ بنیامین اکیلے رہ گئے ان کو اپنے پاس رکھا اور تنہائی میں ملاقات کرکے کہ دیا کہ تم دل میں کچھ خوف نہ کرو میں تمہارا بھائی ہوں۔ ان سوتیلے بھائیوں نے جو کچھ میرے اور تمہارے ساتھ سلوک کیا اس کا رنج وغم نہ کرو، پھر یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کو خبر دی کہ : میں یہ تدبیر کرتا ہوں کہ تمہارے نام کے غلہ کی گٹھڑی میں ایک برتن رکھ دیتا ہوں۔ ان کو چوری کی علت لگا کر تمہیں اپنے پاس رکھ لوں گا۔ تو اس نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[22] کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہم دونوں کو ملا دیا ہے۔ ملنے کے بعد دونوں بھائیوں میں خوب باتیں ہوئی ہوں گی اور ظاہر ہے کہ تخلیے میں ہوئی ہوں گی اور یہ تجویز زیربحث آئی ہوگی کہ آئندہ کے لئے ان ظالم بھائیوں سے بچ کر بنیامین کو یوسف (علیہ السلام) ہی کے پاس رہنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے۔ بالآخر ایک صورت طے پا گئی جس کا ذکر آگے آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 68–76

حضرت یوسف کا حسن تدبیر : (ف 1) حضرت یوسف کے قصہ میں بات صرف یہ ہے کہ بنیامین آپ کا سگا بھائی ہے ، مدت کے بعد ملاقات ہوئی ہے ، آپ بوجہ بوجہ شفقت و محبت اسے اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں ، اس لئے بہانے سے اسے طلب کیا ہے ، جبرا وقہرا روک لینا مناسب نہیں ، اس لئے ایک تدبیر کی ہے جو نہایت حکیمانہ ہے ، اناج ناپنے کا پیمانہ بنیامین کی بوری میں رکھوا دیا ، اور اس کے بعد تلاش ہوئی ، برادران یوسف کو طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ بادشاہ کا کٹورا غائب ہے ، کہیں تمہارے پاس تو نہیں ہے ، انہوں نے انکار کیا اور صفائی میں کہا تم ہماری حالات سے آگاہ نہیں ہو ، ہم چور نہیں اور نہ اس غرض سے آئے ہیں کہ ایسی بداخلاقی کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

69 ۔ اور جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی دوبارہ بن یامین کو لے کر یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے بھائی بن یامین کو اپنے پاس ٹھہرایا اور اپنے پاس رکھا اور تنہائی میں اس سے کہا میں تیرا بھائی ہوں یہ علاقی بھائی جو کارروائیاں کرتے رہے ان پر غمگین اور اندو ہگین نہ ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس بھائی کو جو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آرزو سے بلایا تھا اوروں کو حسد ہوا اس سفر میں اس کو ہر بات پر جھڑکتے اور طعنے دیتے اب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے تسلی کردی ۔ 12 ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ کیونکہ اب تو اللہ نے ہم کو ملادیا ہے اب اس غم بھلادینا چاہیے۔ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بدسلوکی تو ظاہر ہے مشہور ہے رہا بنیامین کے ساتھ سویا تو ان کو بھی کچھ تکلیف دی ہو ورنہ یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کیا ان کے حق میں کچھ کم تکلیف تھی پھر دونوں بھائیوں نے مشورہ کیا کہ کوئی ایسی صورت ہو کہ بنیامین یوسف (علیہ السلام) کے پاس رہیں کیونکہ ویسے رہنے میں تو اور بھائیوں کا بوجہ عہد وسوگند کے اصرار ہوگا ناحق جھگڑا ہوگا اور پھر اگر وجہ بھی ظاہر ہوگئی تو راز کھلا اور اگر مخفی رہی تو یعقوب (علیہ السلام) کا رنج بڑھے گا بلاسبب کیوں رکھے گئے یا کیوں رہے بعض علماء نے لکھا ہے کہ بنیامین کو جو حضرت…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قافلہ مصر پہنچا اور یوسف سے ملاقات ہوئی تو یوسف نے بنیامین کو اپنے قریب جگہ دی ۔ 81 برادران یوسف اور فرزندان یعقوب اپنے چھوٹے بھائی بنیامین کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے جب مصر کے پایہ تخت میں پہنچے تو حسب ہدایت مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہوئے۔ آپ کو ان کی آمد کی اطلاع ہوئی تو بڑی عزت و تکریم سے خوش آمدید کہا اور شاہی مہمان خانہ کے نگران کو حکم دیا کہ دو دو بھائیوں کو ایک ایک کمرہ میں ٹھہرانے کا بندوبست کیا جائے۔ عزیز کے حکم کے مطابق یہی کچھ کیا گیا سب بھائی دو دو ہو کر پانچ کمروں میں تقسیم ہوگئے لیکن بنیامین کو اکیلے ہی ٹھہرایا گیا۔ ان کو خیال آیا ہوگا اور خصوصاً ایسے موقعہ پر یوسف کی یاد نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Onwards from here, it was said in verse 69: وَلَمَّا دَخَلُوا عَلَىٰ يُوسُفَ آوَىٰ إِلَيْهِ أَخَاهُ ۖ قَالَ إِنِّي أَنَا أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ And when they came to Yusuf, he lodged his brother [ Benyamin ] with himself. He said, "Behold, I am your [ lost ] brother! So do not grieve for what they have been doing.". According to Tafsir authority, Qatadah, the arrangement made by Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) was that two brothers were lodged in one room. This left Benyamin alone. He was asked to stay with him. When alone with him, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

55. The entire story of their reunion after a separation of twenty years or so has been summed up in this brief sentence. In all probability Prophet Joseph might have told him the story of the vicissitudes that ultimately had led to his high rank, and Benjamin in his turn might have related the story of the ill treatment of the heartless step brothers. Then Prophet Joseph might have reassured him that he would not be allowed to go back with them but remain with him. It is also possible that the plan to retain him there, without disclosing the secret of Prophet Joseph’s identity, would have…

Read the full tafseer →