Explained with ayahs 65–66
یہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ بھائیوں کی واپسی کے وقت اللہ کے نبی نے ان کا مال و متاع ان کے اسباب کے ساتھ پوشیدہ طور پر واپس کردیا تھا۔ یہاں گھر پہنچ کر جب انہوں نے کجاوے کھولے اور اسباب علیحدہ علیحدہ کیا تو اپنی چیزیں جوں کی توں واپس شدہ پائیں تو اپنے والد سے کہنے لگے لیجئے اب آپ کو اور کیا چاہئے۔ اصل تک تو عزیز مصر نے ہمیں واپس کردی ہے اور بدلے کا غلہ پورا پورا دے دیا ہے۔ اب تو آپ بھائی صاحب کو ضرور ہمارے ساتھ کر دیجئے تو ہم خاندان کے لئے غلہ بھی لائیں گے اور بھائی کی وجہ سے ایک اونٹ کا بوجھ اور بھی مل جائے گا کیونکہ عزیز مصر ہر شخص کو ایک اونٹ کا بوجھ ہی دیتے ہیں۔ اور آپ کو انہیں ہمارے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یوسف کے بعد ان کے بھائی کو بھیجچتے وقت یعقوب کے دل پر کیا کچھ گزر رہی ہوگی گو خدا پر بھروسہ تھا اور صبر و تسلیم میں ان کا مقام نہایت بلند تھا، مگر پھر بھی تھے تو انسان ہی، طرح طرح کے اندیشے دل میں آتے ہوں گے اور رہ رہ کر اس خیال سے کانپ اٹھتے ہوں گے کہ خدا جانے اب اس لڑکے کی صورت بھی دیکھ سکوں گا یا نہیں، اسی لیے وہ چاہتے ہوں گے کہ اپنی حد تک احتیاط میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔
یہ احتیاطی مشورہ کہ مصر کے دار السلطنت میں یہ سب بھائی ایک دروازے سے نہ جائیں، ان سیاسی حالات کا تصور کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے جو وقت پائے جاتے تھے، یہ لوگ سلطنت مصر کی سرحد پر آزاد…
Read the full tafseer →والد محترم نے یہ سب باتیں سن کر جواب دیا لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤ ْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِيْ بِهٖٓ یعنی میں بنیامین کو تمہارے ساتھ اس وقت تک نہ بھیجوں گا جب تک تم اللہ تعالیٰ کی قسم اور یہ عہد و پیمان مجھے نہ دے دو کہ تم اس کو ضرور اپنے ساتھ واپس لاؤ گے مگر چونکہ حقیقت میں نظروں سے یہ بات کسی وقت غائب نہیں ہوتی کہ انسان بیچارہ ظاہری قوت وقدرت کتنی ہی رکھتا ہو پھر بھی ہر چیز میں مجبور اور قدرت حق جل شانہ کے سامنے عاجز ہے وہ کسی شخص کو حفاظت کے ساتھ واپس لانے کا عہد و پیمان ہی کیا کرسکتا ہے کیونکہ وہ اس پر مکمل قدرت نہیں رکھتا اس لئے اس عہد و پیمان کے ساتھ ایک…
Read the full tafseer →قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِيْ بِهٖٓ اِلَّآ اَنْ يُّحَاطَ بِكُمْ ۚ فَلَمَّآ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰي مَا نَقُوْلُ وَكِيْل۔
حضرت یعقوب ؑ کی مشروط اجازت : حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ میں بن یامین کو صرف اس صورت میں تمہارے ساتھ جانے کی اجازت دوں گا جب تم اللہ کے نام پر مجھ سے یہ مضبوط عہد کرو کہ اس کو تم ضرور واپس لاؤگے الا آنکہ تم خود ہی کسی آفت میں گھر جاؤ۔ تو جب انہوں نے قسم کھا کے ان سے عہد کیا تو حضرت یعقوب نے فرمایا کہ جو قول وقرار کر رہے ہیں اس پر اللہ ضامن اور گواہ ہے۔
Read the full tafseer →66۔ 1 یعنی تمہیں اجتماعی مصیبت پیش آجائے یا تم سب ہلاک یا گرفتار ہوجاؤ، جس سے خلاصی پر تم قادر نہ ہو، تو اور بات ہے۔ اس صورت میں تم معذور ہو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
42: یہ تاکید حضرت یعقوب ؑ نے اس خیال سے فرمائی کہ یہ گیارہ کے گیارہ بھائی جو سب ماشاء اللہ قد آور اور حسین و جمیل تھے جب ایک ساتھ شہر میں داخل ہوں گے تو کہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔
43۔ نظر بد سے بچنے کی تدبیر بتانے کے ساتھ ساتھ حضرت یعقوب ؑ نے یہ حقیقت بھی واضح فرما دی کہ انسان کی کسی تدبیر میں بذات خود کوئی تاثیر نہیں ہوتی۔ جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے ہوتا ہے وہ چاہتا ہے تو انسان کی تدبیر میں اثر پیدا فرما دیتا ہے اور چاہتا ہے تو وہ بےاثر ہوجاتی ہے لہذا ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سی تدبیر تو ضرور کرے۔ لیکن ھروسہ اس تدبیر کے بجائے اللہ تعالیٰ پر رکھے
Read the full tafseer →حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے مجبور ہو کر ان کے اس مطالبے کو تسلیم کیا لیکن ایک شرط لگا دی اور بہت ہی کڑی شرط۔
قال لن ارسلہ۔۔۔۔۔۔ یحاط بکم (12 : 66) ان کے باپ نے کہا “ میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا۔ جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو ۔۔۔ نہ دے دو کہ اسے میرے پاس ضرور واپس لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم گھیر ہی لیے جاؤ ”۔
یعنی تم اللہ کی قسم اٹھا کر یہ یقین دلاؤ گے کہ تم اسے لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم سب کے سب گھیر لیے جاؤ اور تمہارے نکل آنے کی کوئی تدبیر نہ رہے اور ایسے حالات ہوں کہ تم بےبس ہوجاؤ۔
فلما اتوہ موثقھم ۔۔۔۔۔۔ وکیل (12 : 66) “ جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے ۔۔۔۔ دے دئیے تو اس نے کہا ،…
Read the full tafseer →7 یعنی اگر تقدیر الٰہی سے کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے جس میں تم سب گھر جاؤ اور نکلنے کی کوئی سبیل نہ رہے تب تو میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ ہاں اپنے مقدور اور زندگی بھر بنیامین کی حفاظت میں کوتاہی نہ کرو گے۔ یہ پختہ عہد و پیمان اور قسمیں لے کر زیادہ تاکید و اہتمام کے طور پر فرمایا " وَاللّٰہُ عَلٰی مَانَقُوْلُ وَکِیْلٌ" یعنی جو کچھ عہد و پیمان ہم اس وقت کر رہے ہیں وہ سب خدا کے سپرد ہیں۔ اگر کسی نے خیانت اور بدعہدی کی وہ ہی سزا دے گا، یا یہ کہ قول وقرار تو اپنے مقدور کے موافق پختہ کر رہے ہیں لیکن ان باتوں سے جو مقصد اصلی ہے وہ خدا کی حفاظت و نگہبانی سے ہی پورا ہوسکتا ہے۔ خدا نہ چاہے تو سارے اسباب و…
Read the full tafseer →آیت 66 قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِيْ بِهٖٓ اِلَّآ اَنْ يُّحَاطَ بِكُمْ
ہاں اگر کوئی ایسی مصیبت آجائے کہ تم سب کے سب گھیرلیے جاؤ اور وہاں سے گلو خلاصی مشکل ہوجائے تو اور بات ہے ‘ مگر عام حالات میں تم لوگ اسے واپس میرے پاس لانے کے پابند ہو گے۔
Read the full tafseer →64 دوبارہ مطالبہ پر سیدنا یعقوب کا مشروط طور پر تسلیم کرلینا :۔ بالآخر سیدنا یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں کے سامنے مجبور ہوگئے۔ ان سے اللہ کے نام پر پختہ عہد دینے کا مطالبہ کیا جسے تسلیم کرنے کو وہ پہلے ہی تیار بیٹھے تھے۔ سیدنا یعقوب نے مزید یہ شرط عائد کردی کہ تمہیں اس وقت تک بن یمین کی حفاظت کرنا ہوگی جب تک تمہاری جان میں جان ہے ہاں اگر تم خود ہی کہیں گھیر لیے جاؤ اور تمہیں اپنی جانوں کی حفاظت بھی مشکل ہوجائے تو یہ الگ بات ہے۔ بیٹوں نے اس بات کو بھی تسلیم کرلیا تو اس وقت سیدنا یعقوب نے ان سے کہا کہ جو کچھ ہم میں قول و اقرار پایا ہے۔ اس پر اللہ گواہ ہے اور وہی اسے بخیر و عافیت سرانجام دینے…
Read the full tafseer →124۔ (تو البتہ مجبوری کی بات ہے) زمانہ قدیم کے سفر ہر طرح کی بدامنی اور خطرات کے شکار رہتے تھے اور پھر یہ سفر تو کنعان سے مصر تک کا اس وقت کے معیار سے بہت دور دراز کا تھا۔ (آیت) ” موثقا من اللہ “۔ قول وقرار کا قسم سے مؤکد کرنا ظاہر ہے کہ مزید احتیاط اور مضبوطی کے لیے تھا۔ (آیت) ” الا ان یحاط بکم “۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ استثناء دلیل ہے شفقت پدری کی، توریت میں اس مقام پر یوں ہے :۔ ” اور ان کے باپ یعقوب (علیہ السلام) نے انہیں کہا تم نے مجھے بےاولاد کیا، یوسف نہیں ہے اور شمعون بھی نہیں، بنیامین کو بھی لے جاؤ گے، یہ سب باتیں میرے مخالف ہیں، تب روبن نے اپنے باپ سے خطاب کرکے کہا کہ اگر میں اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–68
آیت نمبر 58 تا 68
ترجمہ : اور قحط کے سال شروع ہوگئے اور (اس کے اثرات) ملک کنران اور شام تک پہنچ گئے، جب اہل کنعان کو یہ اطلاع پہنچی کہ عزیز مصر قیمۃً غلہ دیتا ہے تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سوائے بنیامین کے غلہ لینے کیلئے (مصر) آئے چناچہ جب بھائی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا اور بھائی یوسف کو نہ پہچان سکے، (اسکی جدائی کو) مدت دراز گذر جانے کی وجہ سے اور اس کے بارے میں یہ گمان ہونے کی وجہ سے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہوگا، بھائیوں نے یوسف سے عبرانی زبان میں گفتگو کی، یوسف (علیہ السلام) نے انجان بنکر ان سے معلوم کیا کہ میرے ملک آنے کا تمہارا کیا سبب…
Read the full tafseer →قال لن ارسلہ معکم حتی یؤتون موثقا من اللہ لتاتنني بہ الا ان یحاط بکم یعقوب نے کہا :
اس کو اس وقت تک ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک اللہ کی قسم کھا کر مجھے پکا وعدہ نہ دو گے کہ تم اس کو ضرور میرے پاس لے ہی آؤ گے ‘ ہاں اگر کہیں گھِر ہی جاؤ تو مجبوری ہے۔
مَرْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ یعنی ایسا عہد جس کو اللہ کی قسم کھا کر پختہ کیا گیا ہو ‘ یا اس پر اللہ کو گواہ بنایا گیا ہو۔
اِلاّآ اَنْ یُّحَاطَ بِکُمْ کا مطلب مجاہد نے بیان کیا : مگر یہ کہ تم سب ہلاک ہوجاؤ گے۔ قتادہ نے کہا : مگر یہ کہ تم بےبس اور مغلوب ہوجاؤ اور تم میں حفاظت کی طاقت ہی نہ رہے۔
یہ استثناء مفرغ ہے یعنی ہر حال میں تم اس کی حفاظت…
Read the full tafseer →(66) یعقوب ؑ نے ان سے فرمایا خیر ! محض ان باتوں پر میں اس وقت تک تمہارے ساتھ بنیامین کو نہیں بھیجوں گا جب تک کہ اللہ کی قسم کھا کر مجھے پختہ قول نہ دو گے کہ تم اس کو ضرور میرے پاس لے کر آؤ گے ہاں اگر کوئی تم پر آسمانی آفت نازل ہوجائے یا یہ کہ سماوی یا دنیاوی مصیبت میں گھر جاؤ تو مجبوری ہے، چناچہ جب وہ اللہ کی قسم کھا کر بنیامین کے واپس لانے کا اپنے باپ سے وعدہ کرچکے، تب حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا ہماری ان باتوں کا اللہ گواہ ہے ،۔
Read the full tafseer →قَال اللّٰهُ عَلٰي مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ : ”وَكِيْلٌ“ بروزن ”فَعِیْلٌ“ بمعنی مفعول ہے، یعنی ”مَوْکُوْلٌ اِلَیْہِ“ جس کے سپرد اپنا کام کردیا جائے۔ یعقوب ؑ نے ایک طرف بیٹوں سے پختہ عہد، یعنی قسمیں لے لیں اور ظاہری اسباب سے پورا وثوق حاصل کرلیا اور دوسری طرف معاملہ اللہ کے سپرد کر کے بھروسا اسی پر رکھا کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اسے پورا کرنا اسی کے اختیار میں ہے اور جو جان بوجھ کر بدعہدی یا خیانت کرے گا وہ خود اسے سزا دے گا، اللہ پر توکل کا صحیح مطلب بھی یہی ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 66
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : تؤتون کا مطلب ہے تعطونی، موثقًا من اللہ یعنی ایسا عہد جس پر یقین کیا جاسکے۔ سدی نے کہا : انہوں نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ وہ ضرور اسے واپس لوٹائیں گے اور اسے کسی کے سپرد نہیں کریں گے لتاتننی میں ” لام “ لام قسم ہے۔ الاان یحاط بکم مجاہد نے کہا : (اس کا مطلب ہے) مگر تم ہلاک ہوجاؤ یا مرجاؤ۔ قتادہ نے کہا : مگر یہ کہ تم پر غلبہ پالیا جائے۔ زجاج نے کہا : محل نصب میں ہے۔ فلمآ اٰتوہ موثقھم قال اللہ علیٰ مانقول وکیل یعنی اس قسم کی حفاظت کرنے والا ہے۔ ایک قول یہ ہے : عہد کی حفاظت کرنے والا، تدبیر وعدل کے ذریعے اسے قائم کرنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–66
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ائتونی باخ لکم من ابیکم “ سے مراد ہے بنیامین اور وہ یوسف کے سگے بھائی تھے۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مصر میں جو مہمان نوازی کرتا ہے میں اس سے بہتر مہمان نوازی کرنے والا ہوں۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مہمان نوازی کرنے والوں میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہے۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ لَنْ اُرْسِلَهٗ : میں ہرگز نہیں بھیجونگا اس کو ] [مَعَكُمْ : تم لوگوں کے ساتھ ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [ تُؤْتُوْنِ : تو لوگ دو مجھ کو [ مَوْثِقًا : ایک پختہ وعدہ ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [ لَتَاْتُنَّنِيْ : (کہ) تم لوگ لازماً آئو گے میرے پاس ] [بِهٖٓ: اس کے ساتھ ] [ اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ ] [ يُّحَاطَ : گھیر لیا جائے ] [ بِكُمْ : تم لوگوں کو ] [ فَلَمَآ : پھر جب ] [ اٰتَوْهُ : ان لوگوں نے دیا ان (علیہ السلام) کو ] [مَوْثِقَهُمْ : اپنا پختہ وعدہ [ قَالَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [عَلٰي مَا : اس پر جو ] [ نَقُوْلُ : ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا بیٹوں کو وصیت فرمانا کہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور یہ کہنا کہ میں نے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کیا
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی دوبارہ مصر کے لئے روانہ ہونے کے لیے تیار ہوگئے اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لے لیا چلنے لگے تو ان کے والد نے کہا کہ اے بیٹو ! تم سب ایک دروازہ سے داخل مت ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا ‘ مفسرین نے فرمایا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ وصیت اس لئے فرمائی کہ یہ لوگ خوبصورت تھے ان کو نظر لگ جانے کا خطرہ تھا نیز ایک ہی باپ کے گیارہ بیٹے بحیثیت ایک جماعت کے کسی جگہ پہنچیں تو اس میں حسد کا بھی اندیشہ تھا اس لیے انہوں نے متفرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–68
یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت
قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون
اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق…
Read the full tafseer →57:۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا جب تک تم اس کی واپسی کے لیے اللہ تعالیٰ کا عہد نہیں دوگے اس تک میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔ چناچہ جب انہوں نے عہد دے دیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو وداع کرتے ہوئے فرمایا ” لَاتَدْخُلُوْا مِنْ بَابٍ وَّاحِدٍ الخ “ مصر میں سب ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا تاکہ تم کو کسی کی نظر بد نہ لگ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حسن و جمال اور قوت و قامت کی خوبیاں عطا فرمائی تھیں۔ وانما امرھم بذلک لانہ خاف علیھم العین النھم کانوا قد اعطوا جمالا وقوۃ وامتداد قامۃ الخ (خازن ج 3 ص 298) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
ربط آیات
قحط کے زمانے میں جب برادران یوسف غلہ لینے کے لیے مصر پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور نہایت عزت و احترام کے ساتھ ان کی مہمان نوازی کی ۔ پھر جب وہ واپس جانے لگے تو ان کی لائی ہوئی پونجی بھی ان کے سامان میں رکھ دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ یہی پونجی ان کے دوبارہ مصر آنے میں مدد گار ثابت ہو۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو تاکید کی کہ جب دوسری دفعہ مصر آئیں تو اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ہمراہ لائیں ورنہ وہ مصر آنے کی کوشش نہ کریں ‘ انہیں اناج نہیں دیا جائے گا ‘ تورات کے حوالے سے مفسرین کرام یہ بھی لکھتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں میں سے شمعون کو روک لیا تھا جو کہ ان کے بارے…
Read the full tafseer →قَالَ لَنْ اُرْسِلَہٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللہِ لَتَاْتُنَّنِيْ بِہٖٓ اِلَّآ اَنْ يُّحَاطَ بِكُمْ 0ۚ فَلَمَّآ اٰتَوْہُ مَوْثِقَہُمْ قَالَ اللہُ عَلٰي مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ 66
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40]
( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
2 ؎ یعنی غلہ جو پیمانہ سے دیا جاتا ہے ہندوستان میں غلہ تل کردیا جاتا ہے۔ ان ملکوں میں پیمانہ ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَ لَنْ اُرْسِلَہٗ مَعَکُمْ حَتّٰی تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ لَتَاْ تُنَّنِیْ بِہٖٓ اِلاَّ ٓ اَنْ یُّحَاطَ بِکُمْ ج فَلَمَّآ اٰتَوْہُ مَوْثِقَھُمْ قَالَ اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوْلُ وَکِیْلٌ۔ (سورۃ یوسف : 66)
(حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا : میں بن یامین کو ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک تم میرے ساتھ خدا کے نام پر عہد نہ کرو کہ تم اسے ضرور میرے پاس لے کر آئو گے۔ الا یہ کہ تم بےبس کردیئے جاؤ۔ پس جب وہ لے آئے آپ ( علیہ السلام) کے پاس اپنا پختہ وعدہ تو آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ جو قول وقرار ہم کررہے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر نگہبان ہے۔ )
باپ کا بیٹوں سے عہد
حضرت یعقوب (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بیٹوں کے اصرار پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا مجبور ہو کر بنیامین کو بھا ئیوں کے ساتھ بھیجنے پر آمادہ ہونا۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) یہ فرماتے ہوئے اپنی آمادگی کا اظہار کرتے ہیں کہ میں بنیامین کو اس وقت تک ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک اللہ کا نام لے کر میرے ساتھ پختہ وعدہ نہ کرو کہ اسے ضرور میرے پاس واپس لاؤ گے۔ الا یہ کہ تم سب کے سب گھیر لیے جاؤ۔ جب انھوں نے قسمیں اٹھا اٹھا کر عہد دیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ ہی ہمارے قول و اقرار پر نگران ہے۔ پھر فرمانے لگے کہ بیٹا شہر کے ایک دروازے سے اندر داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے…
Read the full tafseer →66: قَالَ لَنْ اُرْسِلَہٗ مَعَکُمْ حَتّٰی تُؤْتُوْنِ (یعقوب (علیہ السلام) نے کہا میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا یہاں تک کہ تم نہ دوگے)
قراءت : مکی نے یُؤْتُوْنِپڑھا ہے۔ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر وعدہ) مطلب یہ ہے کہ تم مجھے ایسا وعدہ دو جس کو اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر پختہ کیا گیا ہو۔ حلف کو اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم سے اسلئے پختہ کیا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم سے عہد پختہ کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسکی اجازت دی ہے اور اسکی طرف سے حکم ہے۔ لَتَاْ تُنَّنِیْ بِہٖ (کہ تم اسکو ضرور میرے پاس لائو گے) یہ قسم کا جواب ہے کیونکہ مطلب اس طرح بنے گا۔ حتی…
Read the full tafseer →تفسیر 66۔” قال “ ان کو یعقوب (علیہ السلام) نے ’ لن ارسلہ معکم حتی توتون موثقا “ عہد و پیمان ” من اللہ “ اور عہدو پیمان ” من اللہ “ اور عہد موثق جس کو قسم کے ذریعے مؤکد کیا گیا ہو اور بعض نے کہا ہے اپنے اوپر اللہ کو گواہ بنا کر مؤکد کیا گیا ہو ۔ ” لتاتننی بہ ‘ ‘ اور لام اس میں داخل کیا گیا ہے اس لیے کہ کلام کا معنی قسم ہے۔ ” لتاتنی بہ الا ان یحاط بکم “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مگر یہ کہ تم سب ہلاک ہو جائو اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ مگر یہ کہ تم مغلوب ہو جائو اور مقابلہ کی طاقت نہ رکھو ، اور واقعہ میں یہ بھی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بہت دل گرفتہ ہوئے اور بہت کوشش کی اور یعقوب (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
65۔ 66۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے فرمایا کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے گھر جا کر اپنا سامان کھولا تو غلہ کی وہ قیمت جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کو انہوں نے مصر میں دی تھی اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے خدمت گار سے کہہ دیا تھا کہ روپیہ ان کی گٹھڑیوں میں باندھ دو وہ روپیہ انہوں نے یہاں آکر دیکھا پھر تو انہیں جرأت ہوئی اور باپ سے کہا اب آپ کو بنیامین کے بھیجنے میں کیا عذر ہے۔ دیکھئے عزیز مصر کیسا نیک آدمی ہے کہ ہماری قیمت بھی واپس کردی اگر اب کے آپ بنیامین کو ساتھ کردیں گے تو اس کا حصہ ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ اور زیادہ لائیں گے کیوں کہ عزیز مصر فی آدمی ایک شتر کا بار دیتا ہے اور ہم ہر…
Read the full tafseer →(آیت) یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے کہا : (آیت) ” میں ہرگز اس کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا، یہاں تک کہ دو تم مجھے عہد اللہ کا “ یعنی جب تک تم اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر پکا عہد نہ کرو۔ (آیت) ” کہ تم ضرور اس کو میرے پاس پہنچا دو گے، مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم سب “ یعنی سوائے کسی ایسی صورت حال کے جو تمہیں پیش آجائے جس پر تمہارا کوئی اختیار نہ ہو اور تم اس کو ہٹانے کی قدرت نہ رکھتے ہو۔ (آیت) ” پس جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا۔ “ یعنی جب یعقوب (علیہ السلام) کی خواہش کے مطابق انہوں نے عہد و پیمان دے دیا۔ (آیت) ” حضرت یعقوب علیہ نے کہا، اللہ ہماری باتوں پر نگہبان ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ کی گواہی، اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع…
Read the full tafseer →109۔ اللہ کی نام کی قسم کا مطالبہ :
یعنی اس کے نام کی قسم کھاکر مجھے اس بارے یقین دلاؤکہ مومن کے لیے سب سے بڑھ کر تاکید و توثیق کا ذریعہ یہی ہے کہ اپنے اس خالق ومالک کے نام پاک کی قسم کھائی جائے کہ اس کا نام بہت بڑا ہے۔ اسی لیے حدیث صحیح میں وارد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی تم سے اللہ کے نام پر سوال کرے تم اسے دے دیاکرو۔ اور جو کوئی اس کے نام کے ذریعے پناہ مانگے تم اس کو پناہ دے دیاکرو۔ سو اللہ پاک کا نام بڑی ہی عظمتوں والا ہجے۔ اس لیے اس کی ہر طرح کی تعظیم اس کے بندوں پر واجب ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید۔ بکل حال من الاحوال وفی کل موطن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–68
آیات 58 تا 68
اسرار و معارف
مصر کیا ہر جگہ بڑی فصلیں ہوئیں اور غلے اور پھلوں کی فروانی نے لوگوں کو امیر کردیا یوسف (علیہ السلام) نے بہت اہتمام فرمایا کہ ضرورت سے زائد غلہ لوگوں سے خرید کر جمع فرماتے گئے اور ابتدائی سات برسوں میں سرکاری گودام بھر گئے ۔ پھر قحط سالی شروع ہوئی تو غلہ کا دانہ نہ ملتا تھا تب آپ نے فروخت کرنے کا اہتمام فرمایا ۔
اشیاے ضرورت پر کنڑول نہ صرف جائز بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے
اور فروخت پر بھی کنڑول رکھا کہ ایک آدمی کو اس کے خاندان کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ جو مقرر تھا دیا جاتا تھا تا کہ لوگ خرید کر مہنگے داموں بیچنا شروع نہ کردیں جسے آج کی زبان میں بلیک مار کٹینگ کہا جاتا…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ وہ سب سن رہا ہے لہٰذا جس نے خیانت اور بدعہدی کی وہ اس کے ہاں سخت سزا کا مستحق قرار پائے گا۔ یا ہم جو کہہ رہے ہیں اسے پورا کرنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے یہ کہہ کر گویا ایک طرف ظاہری اسباب کے اعتبار سے وثوق حاصل کرلیا اور دوسری طرح بھروسا اللہ تعالیٰ پر کیا اور اللہ پر توکل کا صحیح مطلب بھی یہی ہے۔ (کذافی الموضح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
(12: 66) موثقا۔ مصدر منصوب ۔ وثوق بھی مصدر ہے۔ پختہ پیمان۔ موثق۔ مضبوط عہد۔ وثق مادہ۔ وثق یوثق (باب حسب) ۔
لتا تننی بہ۔ لام تاکید بانون ثقیلہ۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ تم اس کو میرے پاس ضرور لے آوگے۔
یحاط بکم۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب احاطۃ سے۔ احاطہ کرلینا۔ گھیرے میں لے لینا۔ گھیر لینا۔ بجز اس کے کہ تم گھیرے میں آجائو ۔ تمہارا احاطہ کرلیا جائے۔ تم کو بےبس کردیا جائے۔
یبنی۔ یہ مادہ ب ن ی سے مشتق ہے۔ یا حرفِ ندا۔ مبنی مضاف مضاف الیہ مل کر مناویٰ بنیت ابنی بناء وبنیۃ وبنیا کے معنی تعمیر کرنے کے ہیں قرآن مجید میں ہے۔ وبنینا فوقکم سبعا شدادا۔ (78:2) اور تہمارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
لغات القرآن آیت نمبر 62 تا 66
(فتین نوجوان، خدمت کرنے والے) ( اجعلوا ڈالد و، کرو) ( بضاعۃ سامان، پونجی) ( رحال اسباب، سامان، کجاوا ) ( یعرفون وہ پہچانتے ہیں) ( انقلبوا وہ پلٹے اھل گھر والے) ( رجعوا وہ لوٹے) ( منع منع کردیا گیا ) (نکتل ہم ماپ لیں گے، ماپ کر لائیں گے) ( امن میں بھروسہ کروں گا ) (خیر بہترین) ( حافظ حفاظت کرنے والا) ( ارحم بہت رحم کرنے والا ) (فتحوا انہوں نے کھولا) ( متاع سامان) (وجدوا انہوں نے پایا ) (ردت لوٹا دیا گیا) ( مانبغی ہم کیا چاہتے ہیں ؟ ) ( نمیر (میر) مدد لائیں، گھر والوں کے لئے سامان لانا) ( نزداد ہم اضافہ کریں گے، زیادہ لائیں گے) ( بعیر اونٹ ) (کیل یسیر آسان بوجھ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–66
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا پنے گھر جانا اور اپنے باپ سے سوال جواب کرنا
پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ : اب جو آنا تو اپنے اس بھائی کو بھی اپنے ہمراہ لیتے آنا تاکہ تمہارا سچ معلوم ہوجائے۔ دیکھو میں نے تمہاری بہت خاطر کی ہے اور غلہ بھر پور دیا ہے۔ اگر اب کے اپنے بھائی کو نہ لاؤ گے تو تمہیں غلہ نہ دیں گے اور نہ اپنے پاس جگہ دیں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ : نہیں ہم ضرور اس کو اپنے ساتھ لائیں گے اور اگرچہ باپ اس کو اپنے پاس سے علیحدہ نہیں کرتے مگر ہم انہیں سمجھا بجھا کر جس طرح ممکن ہوگا اسے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے پختہ وعدہ ان سے لے لیا کہ وہ ضرور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
[20] غالباً یہ اس خیال سے کہا کہ اس قحط کے زمانے میں ایک پورا جتھا دیکھ کر مصریوں کو شبہ ہوگا کہ یہ لوگ لوٹ مار کرنے کی غرض سے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(ف 1) باوجود مضبوط عہد لینے کے پھر بھی اللہ پر بھروسہ کیا ہے اور اسی کو کارساز قرار دیا ہے ، جس کے معنے یہ ہیں کہ کلی طور پر اسباب پر توکل کرنا جائز نہیں ، خدا پرستی یہ ہے کہ ایک طرف ضروری تدابیر اختیار کی جائیں اور دوسری جانب یقین واثق ہو کہ ان اسباب میں خیروبرکت پیدا کرنا اللہ کا کام ہے ۔
Read the full tafseer →66 ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا میں بن یامین کو اس وقت تک تمہارے ساتھ نہیں بھیج سکتا جب تک خدائے تعالیٰ کی قسم کھا کر مجھ کو یہ بات باور نہ کرا دو اور پختہ قول نہ دو کہ تم اس کو ضرور میرے پاس لے آئو گے الایہ یہ کہ کہیں تم ہی گھر جائو تو مجبوری ہے پھر جب انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر باپ کو پختہ قول دے دیا تو باپ نے کہا جو ہم عہد و پیماں کر رہے ہیں اس پر خدا شاہد ہے اور یہ تمام باتیں اسی کے سپرد ہیں اور وہی ہماری بات چیت پر وکیل ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ظاہر کا اسباب بھی پختہ کرلیا اور بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھا ، یہی حکم ہے ہر کسی کو۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
ف 6۔ غرض یوسف (علیہ السلام) نے باختیار ہوکرغلہ کاشت کرانا اور جمع کرانا شروع کردیا اور سات برس کے بعد قحط شروع ہوا یہاں تک کہ دور دور سے یہ خبر سن کر کہ مصر میں سلطنت کی طرف سے غلہ فروخت ہوتا ہے جوق درجوق لوگ آنا شروع ہوئے اور کنعان میں بھی قحط ہوا تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بجز بنیامین کے غلہ لینے مصر آئے۔
Read the full tafseer →یعقوب نے کہا کہ میں ہرگز نہیں بھیج سکتا مگر ہاں ! اس شرط پر کہ تم سب واپس آئو گے
۔ 78 تورات میں ہے کہ برادران یوسف اور حضرت یعقوب پونجی دیکھ کر ڈر گئے تھے کہ نہ معلوم اب کیا آفت آئے مگر واقعات کی ترتیب اور حضرت یوسف کے طرز عمل کے پیش نظر جس کا ذکر قرآن کریم اور تورات دونوں میں ہے یہی صحیح ہے کہہ ایسا کوئی ڈر ان کو ہوا ہو کیونکہ برادران یوسف خو داپنے ہاتھوں غلہ کی قیمت ادا کرچکے تھے اور لین دین کے بعد ہی قافلہ کو روانگی کی اجازت ملی تھی۔ پھر سامنے کھولنے کے بعد یوسف (علیہ السلام) کے کارندوں نے ان کی قیمت واپس لوٹائی تھی اس لئے اس میں ڈرنے کی کوئی بات نہ تھی۔
مختصر یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →After hearing what they said, their father answered: لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ اللَّـهِ لَتَأْتُنَّنِي بِهِ (I shall never send Benyamin with you until you give me a pledge in the name of Allah that you will definitely bring him back to me - 66). But, could someone with the ability to see reality ever miss to realize that man, no matter how strong he may be, is, after all, dependent and helpless before the all-pervading power of Allah jalla thana'uhu - how then, and on what basis, would he give a pledge to bring back someone safe? The reason is that he does…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
53. Prophet Jacob’s great concern over this journey of his sons was due to the fact that his youngest son, Benjamin, was to accompany them. He was anxious about his safety because he had already had a bad experience of his son Joseph. Naturally his heart must have been full of such misgivings that it might be his last meeting with his other beloved son. Though he had full trust in Allah and was patiently resigned to His will, but, as a human being, advised his sons to take certain precautionary measures. In order to understand the significance of this precautionary measure of entering the…
Read the full tafseer →