Explained with ayahs 65–66
یہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ بھائیوں کی واپسی کے وقت اللہ کے نبی نے ان کا مال و متاع ان کے اسباب کے ساتھ پوشیدہ طور پر واپس کردیا تھا۔ یہاں گھر پہنچ کر جب انہوں نے کجاوے کھولے اور اسباب علیحدہ علیحدہ کیا تو اپنی چیزیں جوں کی توں واپس شدہ پائیں تو اپنے والد سے کہنے لگے لیجئے اب آپ کو اور کیا چاہئے۔ اصل تک تو عزیز مصر نے ہمیں واپس کردی ہے اور بدلے کا غلہ پورا پورا دے دیا ہے۔ اب تو آپ بھائی صاحب کو ضرور ہمارے ساتھ کر دیجئے تو ہم خاندان کے لئے غلہ بھی لائیں گے اور بھائی کی وجہ سے ایک اونٹ کا بوجھ اور بھی مل جائے گا کیونکہ عزیز مصر ہر شخص کو ایک اونٹ کا بوجھ ہی دیتے ہیں۔ اور آپ کو انہیں ہمارے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یوسف کے بعد ان کے بھائی کو بھیجچتے وقت یعقوب کے دل پر کیا کچھ گزر رہی ہوگی گو خدا پر بھروسہ تھا اور صبر و تسلیم میں ان کا مقام نہایت بلند تھا، مگر پھر بھی تھے تو انسان ہی، طرح طرح کے اندیشے دل میں آتے ہوں گے اور رہ رہ کر اس خیال سے کانپ اٹھتے ہوں گے کہ خدا جانے اب اس لڑکے کی صورت بھی دیکھ سکوں گا یا نہیں، اسی لیے وہ چاہتے ہوں گے کہ اپنی حد تک احتیاط میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔
یہ احتیاطی مشورہ کہ مصر کے دار السلطنت میں یہ سب بھائی ایک دروازے سے نہ جائیں، ان سیاسی حالات کا تصور کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے جو وقت پائے جاتے تھے، یہ لوگ سلطنت مصر کی سرحد پر آزاد…
Read the full tafseer →(آیت) وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَيْهِمْ ۭ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَا نَبْغِيْ ۭهٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَيْنَا ۚ وَنَمِيْرُ اَهْلَنَا وَنَحْفَظُ اَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيْرٍ ۭ ذٰلِكَ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ
یعنی اب تک تو برادران یوسف ؑ کی یہ ابتدائی گفتگو حالات سفر بیان کرنے کے دوران میں ہو رہی تھی ابھی سامان کھولا نہ تھا اس کے بعد جب سامان کھولا اور دیکھا کہ ان کی وہ پونجی جو غلہ کی قیمت میں ادا کر کے آئے تھے وہ بھی سامان کے اندر جو موجود ہے تو اس وقت انہوں نے یہ محسوس کیا کہ یہ کام سہواً نہیں ہوا بلکہ قصدا ہماری پونجی ہمیں واپس کردی گئی ہے اسی…
Read the full tafseer →وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَيْهِمْ ۭ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَا نَبْغِيْ ۭهٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَيْنَا ۚ وَنَمِيْرُ اَهْلَنَا وَنَحْفَظُ اَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيْرٍ ۭ ذٰلِكَ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ.
بیٹوں کی مسرت : جب ان لوگوں نے اپنا سامان کھولا اور یہ دیکھا کہ جو رقم انہوں نے غلہ کی قیمت کے طور پر ادا کی تھی وہ پوری کی پوری ان کی غلہ کی بوریوں میں موجود ہے تو وہ خوشی سے اچھل پڑے۔ بولے کہ اباجان ! اب کی ا چاہیے، یہ دیکھیے کہ ہماری رقم بھی ہم کو لوٹا دی گئی ہے۔ اب ہم جائیں گے، اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے،…
Read the full tafseer →65۔ 1 یعنی بادشاہ کے اس حسن سلوک کے بعد، کہ اس نے ہماری خاطر تواضع بھی خوب کی اور ہماری پونجی بھی واپس کردی، اور ہمیں کیا چاہیئے۔
65۔ 2 کیونکہ فی کس ایک اونٹ جتنا بوجھ اٹھا سکتا تھا، غلہ دیا جاتا تھا، بنیامین کی وجہ سے ایک اونٹ کے بوجھ بھر غلہ مذید ملتا۔
65۔ 3 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ بادشاہ کے لئے ایک بار شتر غلہ کوئی مشکل بات نہیں ہے، آسان ہے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ ذٰ لِکَ کا اشارہ اس غلے کی طرف ہے جو ساتھ لائے تھے۔ اور یسیر بمعنی قلیل ہے یعنی جو غلہ ہم ساتھ لائے ہیں قلیل ہے بنیامین کے ساتھ جانے سے ہمیں کچھ غلہ اور مل جائے گا تو اچھی ہی بات ہے ہماری ضرورت زیادہ بہتر طریقے سے پوری ہو سکے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
42: یہ تاکید حضرت یعقوب ؑ نے اس خیال سے فرمائی کہ یہ گیارہ کے گیارہ بھائی جو سب ماشاء اللہ قد آور اور حسین و جمیل تھے جب ایک ساتھ شہر میں داخل ہوں گے تو کہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔
43۔ نظر بد سے بچنے کی تدبیر بتانے کے ساتھ ساتھ حضرت یعقوب ؑ نے یہ حقیقت بھی واضح فرما دی کہ انسان کی کسی تدبیر میں بذات خود کوئی تاثیر نہیں ہوتی۔ جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے ہوتا ہے وہ چاہتا ہے تو انسان کی تدبیر میں اثر پیدا فرما دیتا ہے اور چاہتا ہے تو وہ بےاثر ہوجاتی ہے لہذا ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سی تدبیر تو ضرور کرے۔ لیکن ھروسہ اس تدبیر کے بجائے اللہ تعالیٰ پر رکھے
Read the full tafseer →ولما فتحوا متاعھم۔۔۔۔۔۔۔۔ کیل یسیر ۔ (12 : 65) “ پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کردیا گیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے “ ابان جان ، اور ہمیں کیا چاہئے ، دیکھئے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے۔ اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل عیال کے لئے رسد لے کر آئیں گے ، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بار شتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے ، اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہوجائے گا ”۔
ان کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ صرف خاندان کا بھلا چاہتے ہیں ، جب خاندان کے لئے ہم زاد راہ کی تلاش میں جا رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ بھائی کی حفاظت کریں گے۔ بھائی کی وجہ سے ایک بار…
Read the full tafseer →5 یعنی بنیامین کا حصہ۔6 یعنی ایسی آسان بھرتی کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ جس طرح ہو بنیامین کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے۔ بعض نے " ذٰلِکَ کَیْلٌ یَّسِیْرٌ" کا اشارہ پہلے جو غلہ لائے تھے اس کی طرف کیا ہے اور " یسیر " کو بمعنی قلیل لیا ہے۔ یعنی جو پہلے لائے ہیں وہ حاجت کے اعتبار سے تھوڑا ہے۔ قحط کے زمانہ میں کہاں تک کام دے گا۔ لہذا ضروری ہے کہ جس طرح بن پڑے ہم دوبارہ جائیں اور سب کا حصہ لے کر آئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
آیت 63 فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ
یعنی انہوں نے آئندہ کے لیے ہمارے چھوٹے بھائی کے حصے کا غلہ روک دیا ہے اور وہ تبھی ملے گا جب ہم اس کو وہاں لے کر جائیں گے۔
Read the full tafseer →62 پھر جب غلہ کی بوریاں کھولنے اور ان سے غلہ نکالنے کے دوران انھیں وہ نقدی بھی واپس مل گئی جو انہوں نے بطور قیمت غلہ ادا کی تھی تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ شاہ مصر کے احسانات انھیں یاد آنے لگے اور بن یمین کو ساتھ لے جانے کے دوبارہ تقاضا کے لیے ایک نئی وجہ بھی پیدا ہوگئی۔ پہلے تقاضا کے وقت انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ غلہ کی رقم کب تک میسر آئے گی اور کب ہمیں دوبارہ مصر جانا ہوگا۔ اس لیے بن یمین کے ساتھ لے جانے کا مطالبہ بھی کچھ ایسا پرزور نہ تھا۔ شاید یہ خیال کرتے ہوں کہ وقت آنے پر باپ مان ہی جائے گا یا اسے منا لیں گے، مگر اب جبکہ غلہ کے لیے قیمت بھی میسر آگئی تو دوبارہ بن یمین کی حفاظت کے…
Read the full tafseer →122۔ (لیجئے ہم تو سرتاسر نفع ہی میں رہے، اپنے اندازہ اور توقع سے بڑھ بڑھ کر اور اب تو بنیامین کو ساتھ لے کر دوسرا سفر بہت ہی ضروری ہوگیا ہے) اے اعطانا الطعام ثم نرد علینا ثمن الطعام علی احسن الوجوہ فای شیء نبغی وراء ذلک (کبیر) (آیت) ” ولما۔۔ الیھم “۔ توریت میں ہے :۔ ” اور یوں ہوا کہ جب انہوں نے اپنے بورے خالی کیے تو دیکھا کہ ہر شخص کی نقدی بندھی ہوئی اس کے بورے میں تھی۔ “ (پیدائش 42: 35)
123۔ یعنی یہ غلہ جواب کی بار ہم لائے ہیں یہ کب تک چلے گا۔ تھوڑے ہی دن میں تو پھر ضرورت پڑجائے گی۔ اے ذلک مکیل قلیل لا یکفینا (کشاف) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ” یہ تو بڑی آسانی سے مل جانے والا غلہ ہے “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–68
آیت نمبر 58 تا 68
ترجمہ : اور قحط کے سال شروع ہوگئے اور (اس کے اثرات) ملک کنران اور شام تک پہنچ گئے، جب اہل کنعان کو یہ اطلاع پہنچی کہ عزیز مصر قیمۃً غلہ دیتا ہے تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سوائے بنیامین کے غلہ لینے کیلئے (مصر) آئے چناچہ جب بھائی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا اور بھائی یوسف کو نہ پہچان سکے، (اسکی جدائی کو) مدت دراز گذر جانے کی وجہ سے اور اس کے بارے میں یہ گمان ہونے کی وجہ سے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہوگا، بھائیوں نے یوسف سے عبرانی زبان میں گفتگو کی، یوسف (علیہ السلام) نے انجان بنکر ان سے معلوم کیا کہ میرے ملک آنے کا تمہارا کیا سبب…
Read the full tafseer →ولما فتحوا متاعھم وجدوا بضاعتھم ردت الیھم اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو اپنا سرمایہ (یعنی وہ سرمایہ جو غلہ کی قیمت میں انہوں نے شاہ مصر کو دیا تھا) اس کے اندر پایا جو ان کو واپس کردیا گیا تھا۔
قالوا یابا ناما نبغی کہنے لگے : ابا ! (لیجئے) اور ہم کو کیا چاہئے ___ یعنی اس سے بڑھ کر اور کیا احسان و کرم ہوگا کہ شاہ مصر نے ہماری مہمان نوازی کی ‘ خاطر و مدارات کی ‘ اچھی طرح سے رکھا ‘ پھر غلہ ہمارے ہاتھ فروخت کیا اور پھر ہماری دی ہوئی قیمت بھی ہم کو لوٹا دی۔
یا یہ مطلب ہے کہ اس سے بڑھ کر ہم بھلائی کے طالب نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ بادشاہ کے احسان کے متعلق کلام کرنے میں ہم اور کیا چیز طلب کریں۔ یا…
Read the full tafseer →(65) (چنانچہ اس گفتگو کے بعد) جب انہوں نے اپنے سامان اور پالانوں کو کھولا تو اس میں ان کے اناج کی قیمت بھی ملی جو ان ہی کی واپس کردی گئی تھی تو کہنے لگے اباجان لیجیے ہم نے جو کچھ اس بادشاہ کی شفقت اور احسان وکرم آپ سے آکر بیان کیا ہے وہ جھوٹ نہیں اور یہ کہ قیمت کی واپسی کی تو ہم نے ان سے درخواست نہیں کی تھی اور ہم نے اناج کی جو قیمت ادا کی تھی وہ بھی ہمارے غلہ کے ساتھ ہمیں واپس کردی گئی ہے یہ اس بادشاہ یعنی حضرت یوسف ؑ کا ہم پر مزید احسان وکرم ہے، یہ دیکھ کر حضرت یعقوب ؑ نے ان سے فرمایا بلکہ اس شخص نے تمہیں اس طریقہ سے آزمایا ہے۔
یہ قیمت بھی ان کے پاس واپس لے جاؤ اور انہیں لوٹا دو (ان کے بیٹے…
Read the full tafseer →وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ۔۔ : جب انھوں نے اپنا سامان کھولا اور دیکھا کہ جو کچھ وہ بطور قیمت لے کر گئے تھے پورا ہی انھیں واپس دے دیا گیا ہے، تو انھیں اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ بھیجنے کے لیے مزید اصرار کرنے اور اطمینان دلانے کا موقع مل گیا۔ چناچہ انھوں نے کہا، ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے، ہمارا مال ہمیں واپس مل گیا، اب قیمت موجود ہے، چھوٹا بھائی ساتھ جائے تو ہم سارے اہل خانہ کے لیے غلہ لے آئیں گے، ایک اونٹ زائد بھی مل جائے گا، ورنہ گیارہ کہاں ایک بھی نہیں ملے گا، ایسی صورت میں ہم بھائی کو کیوں نقصان پہنچائیں گے۔
ذٰلِكَ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ: اس کے دو معنی کرتے ہیں، ایک تو یہ کہ یہ دس اونٹ غلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
آیت نمبر 63 تا 65
فلما رجعوٓا الیٰ ابیھم قالو ایٰٓا بانامنع منا الکیل انہوں نے یہ اس وجہ سے کہا کیونکہ انہیں فان لم تاتونی بہٖ فلا کیل لکم عندی کہا گیا تھا۔ اور انہوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ ہونے والے معاملے اور ملنے والی عزت و آرام سے آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ شمعون بطور رہن ان کے پاس اس وقت تک رہے گا جب تک کہ وہ (یوسف) ان کی سچائی وصداقت کو جان نہیں لیتے۔ فارسل معنآ اخانانکتل یعنی انہوں نے اس وقت کہا : ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجئے نکتل اصل میں نکتال تھا لام کلمہ سے ضمہ کو جزم کے لیے حذف کردیا گیا۔ اور پھر الف کو التفائے ساکنین کی وجہ سے حذف کردیا گیا۔ اہل حرمین،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–66
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ائتونی باخ لکم من ابیکم “ سے مراد ہے بنیامین اور وہ یوسف کے سگے بھائی تھے۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مصر میں جو مہمان نوازی کرتا ہے میں اس سے بہتر مہمان نوازی کرنے والا ہوں۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مہمان نوازی کرنے والوں میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہے۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →[وَلَمَا : اور جب ] [ فَتَحُوْا : انھوں نے کھولا ] [مَتَاعَهُمْ : اپنے سامان کو ] [ وَجَدُوْا : تو انھوں نے پایا [بِضَاعَتَهُمْ : اپنی پونجی کو ] [رُدَّتْ : جو لوٹائی گئی ] [ اِلَيْهِمْ : ان کی طرف ] [قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [يٰٓاَبَانا : اے ہمارے باپ ] [ مَا نَبْغِيْ : ہم (اور) کیا چاہیں ] [هٰذِهٖ : یہ ] [ بِضَاعَتُنَا : ہماری پونجی سے ] [رُدَّتْ : جو لوٹائی گئی ] [ اِلَيْنَا : ہماری طرف ] [وَنَمِيْرُ : اور ہم خوراک لائیں گے ] [اَهْلَنَا : اپنے گھر والوں کے لئے ] [ وَنَحْفَظُ : اور ہم حفاظت کریں گے ] [ اَخَانا : اپنے بھائی کی ] [ وَنَزْدَادُ : اور ہم زیادہ ہوں گے ] [ كَيْلَ بَعِيْرٍ : ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
برادران یوسف کا اپنی پونجی کو سامان میں پا کر اپنے والد سے دوبارہ مصر جانے کی درخواست کرنا اور چھوٹے بھائی کی حفاظت کا وعدہ کرنا
باپ بیٹوں کی باتیں ہو رہی تھیں کہ مصر میں غلہ لینے گئے تو وہاں سے غلہ تو لے آئے لیکن جو صاحب غلہ تقسیم کرتے ہیں انہوں نے آئندہ کے لیے یہ شرط لگا دی ہے کہ اپنے بھائی کو بھی لاؤ گے تو غلہ ملے گا ورنہ نہیں پھر جب سامان کی طرف متوجہ ہوئے سامان کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ جو پونجی وہاں غلہ کے عوض دی تھی وہ تو اپنے ہی سامان میں موجود ہے۔ پونجی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ ابا جان ہمیں اور کیا چاہئے ہم غلہ بھی لے آئے اور پونجی بھی واپس مل گئی ایسے کریم اور محسن آدمی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–68
یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت
قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون
اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق…
Read the full tafseer →56:۔ جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ بھی واپس اس میں موجود ہے تو کہنے لگے ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہئے ہمیں غلہ بھی مل گیا اور سرمایہ بھی واپس آگیا والمعنی ای شیء نطلب وراء ھذا و فی لنا الکیل و رد علینا الثمن (قرطبی ج 9 ص 214) ۔ ” وَنَمِیْرُ اَھْلَنَا وَ نَحْفَظُ الخ “ ہم دوبارہ جا کر اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے، بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ مزید غلہ لے کر آئیں گے یہ غلہ ہمیں آسانی سے مل جائے گا صرف چھوٹے بھائی کو ساتھ لے جانے کی ضرورت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
ربط آیات
قحط کے زمانے میں جب برادران یوسف غلہ لینے کے لیے مصر پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور نہایت عزت و احترام کے ساتھ ان کی مہمان نوازی کی ۔ پھر جب وہ واپس جانے لگے تو ان کی لائی ہوئی پونجی بھی ان کے سامان میں رکھ دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ یہی پونجی ان کے دوبارہ مصر آنے میں مدد گار ثابت ہو۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو تاکید کی کہ جب دوسری دفعہ مصر آئیں تو اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ہمراہ لائیں ورنہ وہ مصر آنے کی کوشش نہ کریں ‘ انہیں اناج نہیں دیا جائے گا ‘ تورات کے حوالے سے مفسرین کرام یہ بھی لکھتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں میں سے شمعون کو روک لیا تھا جو کہ ان کے بارے…
Read the full tafseer →وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَہُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَہُمْ رُدَّتْ اِلَيْہِمْ 0ۭ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَا نَبْغِيْ 0ۭ ہٰذِہٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَيْنَا 0ۚ وَنَمِيْرُ اَہْلَنَا وَنَحْفَظُ اَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيْرٍ 0ۭ ذٰلِكَ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ 65
فتح
الفَتْحُ : إزالة الإغلاق والإشكال، وذلک ضربان :
أحدهما : يدرک بالبصر کفتح الباب ونحوه، وکفتح القفل والغلق والمتاع، نحو قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] ، وَلَوْ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ باباً مِنَ السَّماءِ [ الحجر/ 14] .
والثاني : يدرک بالبصیرة کفتح الهمّ ، وهو إزالة الغمّ ، وذلک ضروب : أحدها : في الأمور الدّنيويّة كغمّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
2 ؎ یعنی غلہ جو پیمانہ سے دیا جاتا ہے ہندوستان میں غلہ تل کردیا جاتا ہے۔ ان ملکوں میں پیمانہ ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَہُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَھُمْ رُدَّتْ اِلَیْھِمْ ط قَالُوْا یٰـٓاَبَانَا مَانَبْغِیْ ط ھٰذِہٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَاج وَنَمِیْرُ اَھْلَنَا وَنَحْفَظُ اَخَانَا وَنَرْدَادُکَیْلَ بَعِیْرٍ ط ذٰلِکَ کَیْلٌ یَّسِیْرٌ۔ (سورۃ یوسف : 65)
(اور جب انھوں نے اپنا سامان کھولاتو دیکھا کہ ان کی پونجی بھی ان کو لوٹادی گئی ہے تو وہ کہنے لگے کہ ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے، یہ ہماری پونجی بھی ہمیں لوٹا دی گئی ہے۔ اب ہم ضرور جائیں گے اور اپنے اہل خانہ کے لیے رسد لے کر آئیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک بار شتر غلہ زیادہ حاصل کریں گے۔ یہ غلہ بہت تھوڑا ہے۔ )
بھائیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف (علیہ السلام) واپس اپنے گھر آکر اپنے والد سے حسب وعدہ اور ضرورت اپنے بھائی بنیامین کو آئندہ سفر میں ساتھ لے جانے کی درخواست کرتے ہیں۔
برادران یوسف (علیہ السلام) گھر آکر اپنے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو مصر کے بادشاہ کی مہمان نوازی، حسن سلوک اور اس کے فرمان کا ذکر کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ ابا جی ہمیں آئندہ غلہ دینے سے اس لیے انکار کیا گیا ہے کہ جب تک ہم اپنے بھائی بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں گے ہمیں غلہ نہیں مل سکتا۔ لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے بھائی بنیا میں کو ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں ہم اس کی ضرور بضرور حفاظت کریں گے۔ حضرت…
Read the full tafseer →65: وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَھُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَھُمْ رُدَّتْ اِلَیْھِمْ قَالُوْایٰٓـاَبَانَا مَانَبْغِیْ (جب انہوں نے سامان کھولا تو اپنا سرمایہ پایا جو ان کو واپس کردیا گیا تھا کہنے لگے ابا لیجئے ہم کو کیا چاہیے) ماؔ نفی کیلئے ہے۔ نمبر 1۔ مطلب یہ ہے ہم بات میں تجاوز و بغاوت نہیں کر رہے۔ نمبر 2۔ مانبغی شیئا وراء مافعل بنا من الاحسان۔ ہم کوئی چیز نہیں چاہتے اس سے اوپر احسان جو اس نے ہمارے ساتھ کیا نمبر 3۔ ہم آپ سے اور سرمایہ نہیں چاہتے۔ نمبر 4۔ ما ؔ استفہامیہ ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا چیز ہم چاہتے ہیں ؟ ھٰذِہٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا (یہ ہمارا سرمایہ ہے جو ہمیں واپس کردیا گیا) ۔ یہ…
Read the full tafseer →65۔” ولما فتحوا متاعھم ‘ ‘ جو وہ مصر سے لائے تھے۔” وجدوا بضاعتھم “ اپنے غلہ میں اپنے سکوں کو موجود پایا جو ان کو واپس لوٹائے گئے تھے۔” ردت الیم قالوا یا ابانا ما نبغی “ کیا ہم اور کون سی چیز ہم تلاش کرتے ہیں ؟ کیونکہ انہوں نے یعقوب (علیہ السلام) کو بادشاہ کا احسان یاددلایا اور بنیا مین کو ان کے ساتھ بھیجنے پر ابھارا ، پھر جب انہوں نے سامان کھولا اور اپنی رقم مل گئی ۔ کہنے لگے ” یا ابانا ما نبغی “ ھذہ بضاعتنا ردت الینا “ یعنی ہم گفتگو سے کیا چیز طلب کررہے تھے، اس کا احسان اور سخاوت ہے کہ تول پورا دیا اور قیمت بھی واپس کردی ۔” و نمیر اھلنا “ ہم ان سے گندم خریدیں گے اور گھر والوں کی طرف لائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
65۔ 66۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے فرمایا کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے گھر جا کر اپنا سامان کھولا تو غلہ کی وہ قیمت جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کو انہوں نے مصر میں دی تھی اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے خدمت گار سے کہہ دیا تھا کہ روپیہ ان کی گٹھڑیوں میں باندھ دو وہ روپیہ انہوں نے یہاں آکر دیکھا پھر تو انہیں جرأت ہوئی اور باپ سے کہا اب آپ کو بنیامین کے بھیجنے میں کیا عذر ہے۔ دیکھئے عزیز مصر کیسا نیک آدمی ہے کہ ہماری قیمت بھی واپس کردی اگر اب کے آپ بنیامین کو ساتھ کردیں گے تو اس کا حصہ ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ اور زیادہ لائیں گے کیوں کہ عزیز مصر فی آدمی ایک شتر کا بار دیتا ہے اور ہم ہر…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو انہوں نے پایا کہ ان کا مال بھی واپس کردیا گیا ہے۔ “ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ یوسف (علیہ السلام) نے یہ مال قصداً واپس کیا تھا اور وہ اس مال کا واپس بھائیوں کو مالک بنانا چاہتے تھے۔ (آیت) انہوں نے بھائی کو ساتھ بھیجنے کے لئے ترغیب دیتے ہوئے باپ سے کہا : (آیت) ” ابا جان ! ہمیں (اور) کیا چاہیے۔ “ یعنی اس بہترین اکرام و تکریم کے بعد ہمیں اور کیا چاہیے جب کہ بادشاہ نے ہمیں اناج پورا دیا ہے اور نہایت خوبصورت طریقے سے ہمارا مال بھی واپس لو ٹا دیا ہے اور یہ بات اخلاص اور مکارم اخلاق پر دلالت کرتی ہے۔ (آیت) ” یہ ہماری پونجی جو ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع…
Read the full tafseer →107۔ کریمانہ روش اور اس کا تقاضا :
کہ ہمیں ہماری رقم بھی واپس کردی گئی اور اس کریمانہ انداز میں اور شریفانہ طور پر کہ ہمیں اس کا پتہ بھی نہیں چلا۔ سو اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایسے کریم و فیاض شخص کی طلب و خواہش کو پورا کیا جائے۔ یعنی احسان کا بدلہ احسان ہی ہوسکتا ہے کہ اصول و ضابطہ کے لحاظ سے بھی ہم پر لازم آتا ہے کہ ہم ان کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے ہمراہ لے جائیں۔ بہرکیف انہوں نے جب اپنا سامان کھولا اور دیکھا کہ ان کی وہ پونجی جو انہوں نے غلے کی قیمت کے طور پر ادا کی تھی وہ بھی پوری کی پوری غلے کی بوریوں کے اندر موجود ہے تو وہ خوشی سے اچھل پڑے۔ اور چیخ کر بولے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–68
آیات 58 تا 68
اسرار و معارف
مصر کیا ہر جگہ بڑی فصلیں ہوئیں اور غلے اور پھلوں کی فروانی نے لوگوں کو امیر کردیا یوسف (علیہ السلام) نے بہت اہتمام فرمایا کہ ضرورت سے زائد غلہ لوگوں سے خرید کر جمع فرماتے گئے اور ابتدائی سات برسوں میں سرکاری گودام بھر گئے ۔ پھر قحط سالی شروع ہوئی تو غلہ کا دانہ نہ ملتا تھا تب آپ نے فروخت کرنے کا اہتمام فرمایا ۔
اشیاے ضرورت پر کنڑول نہ صرف جائز بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے
اور فروخت پر بھی کنڑول رکھا کہ ایک آدمی کو اس کے خاندان کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ جو مقرر تھا دیا جاتا تھا تا کہ لوگ خرید کر مہنگے داموں بیچنا شروع نہ کردیں جسے آج کی زبان میں بلیک مار کٹینگ کہا جاتا…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ یا اس طرح ایک اونٹ بھر زائد غلہ لانا آسان ہی معاملہ ہے۔
Read the full tafseer →(12: 65) ما نبغی۔ نبغی۔ مضارع جمع متکلم ۔ بغی یبغی (ضرب) بغی سے۔ اس کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ روی کی حد سے تجاوز کرنا کے ہیں خواہ تجاوز کرسکے یا نہ کرسکے۔ گو لغت میں بغی کا لفظ محمود اور مذموم دونوں قسم کے تجاوز پر بولا جاتا ہے مگر قرآن میں اکثر جگہ مذموم کے لئے استعمال ہوا ہے۔
ما نبغی میں ما نفی کے لئے بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اس کے معنی ہوں گے۔ ہم نے بادشاہ کی تعریف میں اور اس کے احسان و کرم نوازی میں حد سے تجاوز نہیں کیا تھا۔ اور یہ اس کا ثبوت ہے کہ اس نے ہماری نقدی بھی واپس کردی ہے۔
یا ما استفہامیہ ہے ای ای شیٔ نطلب وراء ھذا ۔ اس سے زیادہ ہمیں اور کیا چاہیے کہ بادشاہ نے ہمیں غلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
لغات القرآن آیت نمبر 62 تا 66
(فتین نوجوان، خدمت کرنے والے) ( اجعلوا ڈالد و، کرو) ( بضاعۃ سامان، پونجی) ( رحال اسباب، سامان، کجاوا ) ( یعرفون وہ پہچانتے ہیں) ( انقلبوا وہ پلٹے اھل گھر والے) ( رجعوا وہ لوٹے) ( منع منع کردیا گیا ) (نکتل ہم ماپ لیں گے، ماپ کر لائیں گے) ( امن میں بھروسہ کروں گا ) (خیر بہترین) ( حافظ حفاظت کرنے والا) ( ارحم بہت رحم کرنے والا ) (فتحوا انہوں نے کھولا) ( متاع سامان) (وجدوا انہوں نے پایا ) (ردت لوٹا دیا گیا) ( مانبغی ہم کیا چاہتے ہیں ؟ ) ( نمیر (میر) مدد لائیں، گھر والوں کے لئے سامان لانا) ( نزداد ہم اضافہ کریں گے، زیادہ لائیں گے) ( بعیر اونٹ ) (کیل یسیر آسان بوجھ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–66
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا پنے گھر جانا اور اپنے باپ سے سوال جواب کرنا
پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ : اب جو آنا تو اپنے اس بھائی کو بھی اپنے ہمراہ لیتے آنا تاکہ تمہارا سچ معلوم ہوجائے۔ دیکھو میں نے تمہاری بہت خاطر کی ہے اور غلہ بھر پور دیا ہے۔ اگر اب کے اپنے بھائی کو نہ لاؤ گے تو تمہیں غلہ نہ دیں گے اور نہ اپنے پاس جگہ دیں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ : نہیں ہم ضرور اس کو اپنے ساتھ لائیں گے اور اگرچہ باپ اس کو اپنے پاس سے علیحدہ نہیں کرتے مگر ہم انہیں سمجھا بجھا کر جس طرح ممکن ہوگا اسے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے پختہ وعدہ ان سے لے لیا کہ وہ ضرور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
[20] غالباً یہ اس خیال سے کہا کہ اس قحط کے زمانے میں ایک پورا جتھا دیکھ کر مصریوں کو شبہ ہوگا کہ یہ لوگ لوٹ مار کرنے کی غرض سے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(ف 1) باوجود مضبوط عہد لینے کے پھر بھی اللہ پر بھروسہ کیا ہے اور اسی کو کارساز قرار دیا ہے ، جس کے معنے یہ ہیں کہ کلی طور پر اسباب پر توکل کرنا جائز نہیں ، خدا پرستی یہ ہے کہ ایک طرف ضروری تدابیر اختیار کی جائیں اور دوسری جانب یقین واثق ہو کہ ان اسباب میں خیروبرکت پیدا کرنا اللہ کا کام ہے ۔
Read the full tafseer →65 ۔ اور اس گفتگو کے بعد جب انہوں نے اپنا اسباب کھولاتو انہوں اپنی پونجی جوں کی توں اس اسباب میں رکھی پائی جو ان کو واپس کردی گئی تھی پونجی کی واپسی کو دیکھ کر بولے اے ہمارے باپ ہم کو اور کیا چاہئے یہ ہمارے غلہ کے عوض میں جو پونجی دی گئی تھی وہ بھی تو ہم کو لوٹا دی گئی اب ہم جائیں گے تو اپنے گھر والوں کے لئے اور رسد لائیں گے اور اپنے بھائی کی خوب حفاظت رکھیں گے اور اس بھائی کیلئے ایک اونٹ کا مزید غلہ لائیں گے اور ایک اونٹ کی بھرتی زیادہ لیں گے یہ غلہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے۔
یوسف (علیہ السلام) نے غلہ کی قیمت واپس کردی تا کہ ان پر اچھا اثر پڑے اور پھر آئیں یا اس لئے کہ آتے وقت ان کے پاس کچھ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
ف 6۔ غرض یوسف (علیہ السلام) نے باختیار ہوکرغلہ کاشت کرانا اور جمع کرانا شروع کردیا اور سات برس کے بعد قحط شروع ہوا یہاں تک کہ دور دور سے یہ خبر سن کر کہ مصر میں سلطنت کی طرف سے غلہ فروخت ہوتا ہے جوق درجوق لوگ آنا شروع ہوئے اور کنعان میں بھی قحط ہوا تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بجز بنیامین کے غلہ لینے مصر آئے۔
Read the full tafseer →جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو وہ پکار اٹھے کہ ابو یہی رہی ہماری پونجی
۔ 77 اس گفتگو کے بعد یا دوران گفتگو جب انہوں نے اپنا سامان کھولنا شروع کیا تو دیکھا کہ ان کی پونجی ان ہی کو واپس کردی گئی ہے یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ اے باپ اس سے زیادہ اور ہم کو کیا چاہئے ؟ دیکھیے کہ غلہ بھی ملا اور ہماری پونجی بھی جوں کی توں لوٹا دی گئی اس نے تو ہم سے قیمت بھی نہ لی۔ اب ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم دوبارہ اس کے پاس جائیں اور گھر والوں کے لئے رسد لائیں اور بنیامین کو بھی ہمارے ساتھ بھیج دیجیے ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ لائیں گے کیونکہ یہ غلہ جو ہم پہلے لائے تھے تھوڑا ہے اور اگر…
Read the full tafseer →At this stage, verse 65 opens with the words:
وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُوا يَا أَبَانَا مَا نَبْغِي ۖ هَـٰذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ
And when they opened their baggage, they found their capital given back to them. They said, "Our father, what else do we want? Here is our capital given back to us, and we shall bring food to our family, protect our brother and add the measure of one camel more. That is an easy measure."
It will be…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
53. Prophet Jacob’s great concern over this journey of his sons was due to the fact that his youngest son, Benjamin, was to accompany them. He was anxious about his safety because he had already had a bad experience of his son Joseph. Naturally his heart must have been full of such misgivings that it might be his last meeting with his other beloved son. Though he had full trust in Allah and was patiently resigned to His will, but, as a human being, advised his sons to take certain precautionary measures. In order to understand the significance of this precautionary measure of entering the…
Read the full tafseer →