Yusuf 12:64

Yusuf · from ayah 64

12:64

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤی اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ ؕ— فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا ۪— وَّهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۟قَالَ هَلۡ اٰمَنُكُمۡ عَلَيۡهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنۡتُكُمۡ عَلٰٓى اَخِيۡهِ مِنۡ قَبۡلُ‌ؕ فَاللّٰهُ خَيۡرٌ حٰفِظًا‌ۖ وَّهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ

(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "Should I entrust you with him except [under coercion] as I entrusted you with his brother before? But Allah is the best guardian, and He is the most merciful of the merciful."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 8 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:64

باپ نے جواب دیا "کیا میں اُس کے معاملہ میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اِس سے پہلے اُس کے بھائی کے معاملہ میں کر چکا ہوں؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(یعقوب علیہ السلام نے) کہا کہ مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تھا، بس اللہ ہی بہترین حافﻆ ہے اور وه سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

والد نے کہا : کیا میں اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اسکے بھائی (یوسف) کے بارے میں تم پر پہلے کیا تھا ؟ خیر ! اللہ سب سے بڑھ کر نگہبان ہے، اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا کیا اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا تو اللہ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یعقوب ؑ نے فرمایا: کیا میں اس کے بارے میں (بھی) تم پر اسی طرح اعتماد کر لوں جیسے اس سے قبل میں نے اس کے بھائی (یوسف علیہ السلام) کے بارے میں تم پر اعتماد کر لیا تھا؟ تو اﷲ ہی بہتر حفاظت فرمانے والا ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا میں اس پر اس کے سوا تمہارا کیا اعتبار کروں جس طرح میں نے اس کے بھائی پر اس سے پہلے تمہارا اعتبار کیا، سو اللہ بہتر حفاظت کرنے والا ہے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یعقوب نے کہا : کیا میں ایسے ہی تم پر اعتبار کروں جیسے اس سے پیشتر اس کے بھائی کے بارے میں اعتبار کیا تھا ؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا کہ اس کے معاملے میں تم پر میرا اعتماد نہیں ہوگا مگر ویسا ہی جیسا کہ میں نے اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں تم پر کیا۔ تو اللہ بہترین محافظ اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

باپ نے جواب دیا کیا میں اس کے بارے میں بھی تم پر ویسا ہی اعتماد کرلوں جیسا کہ اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کرچکا ہوں ؟ پس اللہ ہی سب سے اچھا نگہبان ہے اور وہی ہے سب سے بڑا مہربان،

— مولانا اسحاق مدنی

انہوں نے کہا کیا اس کے بارے میں بھی تمہارا ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا (اس سے) قبل اس کے بھائی کے بارے میں تمہارا اعتبار کرچکا ہوں سو اللہ ہی سب سے بڑھ کر نگہبان ہے اور وہ بہی سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یعقوب نے فرمایا کہ کیا میں اس کے بارے میں اسی طرح تم پر اعتبار کرلوں جیسے میں نے اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں پہلے تم پر اعتبار کیا تھا (ویسے تو) اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور وہی تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(یعقوب نے کہا) کیا میں اس کے بارے میں تم پر اعتبار کروں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا ؟ سو اللہ ہی بہتر نگہبان ہے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The father said: "Shall I trust you with regard to him as I had trusted you earlier with regard to his brother? Allah is the Best Protector and is the Most Merciful."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Shall I trust you about him as I trusted you earlier about his brother? Well, Allah is the best guardian, and He is the Most-Merciful of all the merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Shall I trust you about him as I trusted you earlier about his brother? Well, Allah is the best guardian, and He is the Most-Merciful of all the merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Can I entrust him to you except as I entrusted his brother [Yusuf] to you aforetime But Allah is the Best to guard, and He is the Most Merciful of those who show mercy."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Can I entrust him to you save as I entrusted his brother to you aforetime? Allah is better at guarding, and He is the Most Merciful of those who show mercy.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "Should I entrust you with him except [under coercion] as I entrusted you with his brother before? But Allah is the best guardian, and He is the most merciful of the merciful."

— Saheeh International

Jacob replied, "How can I trust you after what happened to his brother before? Only God is the best Protector. His mercy is far greater than that of others."

— Muhammad Sarwar

He said: I cannot trust in you with respect to him, except as I trusted in you with respect to his brother before; but Allah is the best Keeper, and He is the most Merciful of the merciful ones.

— Muhammad Habib Shakir

He said: I intrust you with him only as I intrusted you with his brother aforetime; Allah is the best Guard, and He is the Most Merciful of the merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "Shall I trust you with him with any result other than when I trusted you with his brother aforetime? But Allah is the best to take care (of him), and He is the Most Merciful of those who show mercy!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:64

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–64

بیان ہو رہا ہے کہ باپ کے پاس پہنچ کر انہوں کہا کہ اب ہمیں تو غلہ مل نہیں سکتا تاوقتیکہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو نہ بھجیں اگر انہیں ساتھ کردیں تو البتہ مل سکتا ہے آپ بےفکر رہئے ہم اس کی نگہبانی کرلیں گے نکتل کی دوسری قرأت یکتل بھی ہے۔ حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ بس وہی تم ان کے ساتھ کرو گے جو اس سے پہلے ان کے بھائی حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کرچکے ہو کہ یہاں سے لے گئے اور یہاں پہنچ کر کوئی بات بنادی۔ حافظاکی دوسری قرأت حفظا بھی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بہترین حافظ اور نگہبان ہے اور ہے بھی وہ ارحم الراحمین میرے بڑھاپے پر میری کمزوری پر رحم فرمائے گا اور جو غم و رنج مجھے اپنے بچے کا ہے وہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 61–67

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یوسف کے بعد ان کے بھائی کو بھیجچتے وقت یعقوب کے دل پر کیا کچھ گزر رہی ہوگی گو خدا پر بھروسہ تھا اور صبر و تسلیم میں ان کا مقام نہایت بلند تھا، مگر پھر بھی تھے تو انسان ہی، طرح طرح کے اندیشے دل میں آتے ہوں گے اور رہ رہ کر اس خیال سے کانپ اٹھتے ہوں گے کہ خدا جانے اب اس لڑکے کی صورت بھی دیکھ سکوں گا یا نہیں، اسی لیے وہ چاہتے ہوں گے کہ اپنی حد تک احتیاط میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔ یہ احتیاطی مشورہ کہ مصر کے دار السلطنت میں یہ سب بھائی ایک دروازے سے نہ جائیں، ان سیاسی حالات کا تصور کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے جو وقت پائے جاتے تھے، یہ لوگ سلطنت مصر کی سرحد پر آزاد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس لئے فرمایا فاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا یعنی تمہاری حفاظت کا نتیجہ تو پہلے دیکھ چکا ہوں اب تو میں اللہ تعالیٰ ہی کی حفاظت پر بھروسہ کرتا ہوں وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ اور وہ سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہے اسی سے امید ہے کہ وہ میری ضعیفی اور موجودہ غم واندوہ پر نظر فرما کر مجھ پر دوہرے صدمے نہ ڈالے گا خلاصہ یہ ہے کہ یعقوب ؑ نے ظاہری حالات اور اپنی اولاد کے عہد و پیمان پر بھروسہ نہ کیا مگر اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر چھوٹے بیٹے کو بھی ساتھ بھیجنے کے لئے تیار ہو گئے

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 63–64

63۔ 64:۔ فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَآ اَخَانَا نَكْتَلْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْهِ اِلَّا كَمَآ اَمِنْتُكُمْ عَلٰٓي اَخِيْهِ مِنْ قَبْلُ ۭ فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا ۠ وَّهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ۔ بیٹوں کی گزارش باپ سے اور باپ کا جواب : جب یہ لوگ گھر پہنچے تو باپ کو ساری روداد سنائی کہ آگے کو ہم غلہ سے محروم کردیے گئے ہیں۔ اب غلہ حاصل کرنے کی ایک ہی راہ ہے کہ اہم اپنے ساتھ اپنے بھائی بن یامین کو بھی لے جائیں اور اپنے آپ کو سچا ثابت کریں کہ ہمارا ایک گیارہواں بھائی بھی ہے تو آپ اس مرتبہ بن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

64۔ 1 یعنی تم نے یوسف ؑ کو بھی ساتھ لے جاتے وقت اسی طرح حفاظت کا وعدہ کیا تھا لیکن جو کچھ ہوا وہ سامنے ہے، اب میں تمہارا کس طرح اعتبار کروں۔ 64۔ 2 تاہم چونکہ غلے کی شدید ضرورت تھی۔ اس لئے اندیشے کے باوجود بنیامین کو ساتھ بھیجنے سے انکار مناسب نہیں سمجھا اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے بھیجنے پر آمادگی ظاہر کردی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–67

42: یہ تاکید حضرت یعقوب ؑ نے اس خیال سے فرمائی کہ یہ گیارہ کے گیارہ بھائی جو سب ماشاء اللہ قد آور اور حسین و جمیل تھے جب ایک ساتھ شہر میں داخل ہوں گے تو کہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ 43۔ نظر بد سے بچنے کی تدبیر بتانے کے ساتھ ساتھ حضرت یعقوب ؑ نے یہ حقیقت بھی واضح فرما دی کہ انسان کی کسی تدبیر میں بذات خود کوئی تاثیر نہیں ہوتی۔ جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے ہوتا ہے وہ چاہتا ہے تو انسان کی تدبیر میں اثر پیدا فرما دیتا ہے اور چاہتا ہے تو وہ بےاثر ہوجاتی ہے لہذا ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سی تدبیر تو ضرور کرے۔ لیکن ھروسہ اس تدبیر کے بجائے اللہ تعالیٰ پر رکھے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال ھل ۔۔۔۔۔۔ من قبل (12 : 64) “ باپ نے جواب دیا “ کیا میں اس کے معاملے میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملہ کرچکا ہوں ؟ ” چھوڑو ، یہ جھوٹے وعدے اور اپنے پاس رکھو اپنی حفاظت ، میں اللہ کی حفاظت اور اللہ کی رحمت کا طالب ہوں۔ صرف وہی حفاظت کرنے والا ہے۔ فاللہ خیر حفظا وھو ارحم الرحمن (12 : 64) “ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے ”۔ جانوروں کو سنبھالنے اور سفر سے سستانے کے بعد جب انہوں نے اپنے سامانوں کو کھولا تا کہ لائے ہوئے غلے کو ٹھکانے لگائیں ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا وہ پورا سامان انہیں واپس کردیا گیا ہے جو وہ غلہ خریدنے کے لئے لے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی یہ ہی الفاظ " وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ " تم نے یوسف کو ساتھ لے جاتے وقت کہے تھے۔ پھر تمہارے وعدہ پر کیا اعتبار ہو۔ ہاں اس وقت ضرورت شدید ہے۔ جس سے اغماض نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے تمہارے ساتھ بھیجنا ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔ سو میں اس کو خدا کی حفاظت میں دیتا ہوں۔ وہ ہی اپنی مہربانی سے اس کی حفاظت کرے گا۔ اور مجھ کو یوسف کی جدائی کے بعد دوسری مصیبت سے بچائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 63–65

آیت 63 فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ یعنی انہوں نے آئندہ کے لیے ہمارے چھوٹے بھائی کے حصے کا غلہ روک دیا ہے اور وہ تبھی ملے گا جب ہم اس کو وہاں لے کر جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 63–64

61 بیٹوں کا بن یامین کو لے جانے پر اصرار اور باپ کا انکار :۔ جب برادران یوسف واپس اپنے گھر یعنی کنعان پہنچے تو جاتے ہی اپنے والد محترم کو اس گفتگو سے مطلع کیا جو ان کے اور شاہ مصر کے درمیان ہوئی تھی اور بڑی وضاحت سے یہ بھی بتلا دیا کہ اگر آپ بن یمین کو ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو پھر ہمیں کبھی غلہ نہ مل سکے گا اور غلہ کی فراہمی اس دور کی سب سے اہم اور شدید ضرورت ہے۔ لہذا آپ ضرور اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے اور جہاں تک ہم سے ہوسکا ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے۔ سیدنا یعقوب نے انھیں جواب دیا کہ بالکل ایسی ہی بات تم نے اس وقت بھی کہی تھی۔ جب تم یوسف کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ پھر معلوم نہیں کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

121۔ (سو میری نگہبانی اور میری شفقت سے ہوتا کیا ہے) حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم اپنی ذمہ داری اور ضمانت کس منہ سے پیش کررہے ہو ؟ تم وہی تو ہو جو یوسف کو بھی انہیں ضمانتوں اور وعدوں کے ساتھ لے گئے لیکن تم کہتے ہو کہ غلہ بغیر بنیامین کے ساتھ کیے ہوئے ملے گا نہیں تو خیر اگر لے ہی جانا ہے تو اسے اللہ کے سپرد کیا۔ حفاظت وذمہ داری بھی اسی کی سب سے بڑھی ہوئی اور شفقت و عنایت بھی اسی کی سب سے بڑھی ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 58–68

آیت نمبر 58 تا 68 ترجمہ : اور قحط کے سال شروع ہوگئے اور (اس کے اثرات) ملک کنران اور شام تک پہنچ گئے، جب اہل کنعان کو یہ اطلاع پہنچی کہ عزیز مصر قیمۃً غلہ دیتا ہے تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سوائے بنیامین کے غلہ لینے کیلئے (مصر) آئے چناچہ جب بھائی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا اور بھائی یوسف کو نہ پہچان سکے، (اسکی جدائی کو) مدت دراز گذر جانے کی وجہ سے اور اس کے بارے میں یہ گمان ہونے کی وجہ سے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہوگا، بھائیوں نے یوسف سے عبرانی زبان میں گفتگو کی، یوسف (علیہ السلام) نے انجان بنکر ان سے معلوم کیا کہ میرے ملک آنے کا تمہارا کیا سبب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال ھل امنکم علیہ الا کما امنتکم علی اخیہ من قبل فا اللہ خیر حفظا وھو ارحم الرحمین یعقوب نے کہا : کیا میں اس کے بارے میں تمہارا ویسا ہی اعتبار کروں جیسا اس کے بھائی کے بارے میں اس سے پہلے کیا تھا (تم کیا حفاظت کرو گے) اللہ ہی سب سے بڑھ کر محافظ ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ امید ہے کہ اللہ اس کی حفاظت کرے گا اور مجھ پر رحم فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(64) یہ سن کر حضرت یعقوب ؑ نے ان سے کہا کیا میں بنیامین کے بارے میں بھی تم پر ویسا ہی اعتبار کروں جیسا کہ اس سے پہلے یوسف ؑ کے بارے میں تمہارا اعتبار کرچکا ہوں اور حضرت یوسف ؑ کے بارے میں جو تم سے میں نے عہد لیا تھا، اب اس سے زیادہ اور کیا عہد لے سکتا ہوں بس تمہاری نگہبانی سے کیا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے اور وہی بنیامین پر اس کے والدین اور بھائیوں سے زیادہ مہربان ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْهِ۔۔ : فرمایا، تم جب یوسف ؑ کو لے گئے تھے تب بھی تم نے یہی کہا تھا کہ ”وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ“ پھر تم نے اس کی اچھی حفاظت کی کہ آج تک اس بےچارے کی کوئی خیر خبر نہیں، تو کیا اس کے متعلق بھی تمہاری حفاظت کا ایسا ہی اعتماد کروں، جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے متعلق تم پر اعتبار کیا تھا۔ فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا۔۔ : یعنی میں اسے بحالت مجبوری غلہ کی ضرورت کے پیش نظر تمہارے ساتھ بھیج رہا ہوں، سو میں اسے تمہاری حفاظت میں نہیں بلکہ اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوں، وہ ارحم الراحمین ہی اپنی مہربانی سے اس کی حفاظت فرمائے گا۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یعقوب ؑ نے یوسف ؑ کو بھائیوں کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–65

آیت نمبر 63 تا 65 فلما رجعوٓا الیٰ ابیھم قالو ایٰٓا بانامنع منا الکیل انہوں نے یہ اس وجہ سے کہا کیونکہ انہیں فان لم تاتونی بہٖ فلا کیل لکم عندی کہا گیا تھا۔ اور انہوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ ہونے والے معاملے اور ملنے والی عزت و آرام سے آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ شمعون بطور رہن ان کے پاس اس وقت تک رہے گا جب تک کہ وہ (یوسف) ان کی سچائی وصداقت کو جان نہیں لیتے۔ فارسل معنآ اخانانکتل یعنی انہوں نے اس وقت کہا : ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجئے نکتل اصل میں نکتال تھا لام کلمہ سے ضمہ کو جزم کے لیے حذف کردیا گیا۔ اور پھر الف کو التفائے ساکنین کی وجہ سے حذف کردیا گیا۔ اہل حرمین،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 59–66

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ائتونی باخ لکم من ابیکم “ سے مراد ہے بنیامین اور وہ یوسف کے سگے بھائی تھے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مصر میں جو مہمان نوازی کرتا ہے میں اس سے بہتر مہمان نوازی کرنے والا ہوں۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مہمان نوازی کرنے والوں میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا ] [هَلْ : کیا ] [ اٰمَنُكُمْ : میں اعتبار کروں تم لوگوں کا ] [عَلَيْهِ : اس (بات) پر ] [اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [ كَمَآ : جس طرح ] [اَمِنْتُكُمْ : میں نے اعتبار کیا تمہارا ] [عَلٰٓي اَخِيْهِ : اس کے بھائی کے بارے میں ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ فَاللّٰهُ : پس اللہ ] [خَيْرٌ: سب سے بہتر ہے ] [حٰفِظًا : بطور حفاظت کرنے والے کے ] [ وَّهُوَ : اور وہ ] [اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ : رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 59–65

برادران یوسف کا اپنی پونجی کو سامان میں پا کر اپنے والد سے دوبارہ مصر جانے کی درخواست کرنا اور چھوٹے بھائی کی حفاظت کا وعدہ کرنا باپ بیٹوں کی باتیں ہو رہی تھیں کہ مصر میں غلہ لینے گئے تو وہاں سے غلہ تو لے آئے لیکن جو صاحب غلہ تقسیم کرتے ہیں انہوں نے آئندہ کے لیے یہ شرط لگا دی ہے کہ اپنے بھائی کو بھی لاؤ گے تو غلہ ملے گا ورنہ نہیں پھر جب سامان کی طرف متوجہ ہوئے سامان کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ جو پونجی وہاں غلہ کے عوض دی تھی وہ تو اپنے ہی سامان میں موجود ہے۔ پونجی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ ابا جان ہمیں اور کیا چاہئے ہم غلہ بھی لے آئے اور پونجی بھی واپس مل گئی ایسے کریم اور محسن آدمی کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–68

یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 63–64

55:۔ جب وہ واپس والد گرامی کی خدمت میں پہنچے تو عرض کیا کہ بنیامین کا حصہ تو ہم سے روک لیا گیا ہے جب تک وہ ہمارے ساتھ نہیں جائے گا اس وقت تک ہمیں اس کے حصے کا غلہ نہیں ملے گا۔ اس لیے آپ اسے ہمارے ساتھ بھیج دیں ہم اس کی پوری پوری حفاظت کریں گے۔ ” قَالَ ھَلْ اٰمَنُکُمْ عَلَیْہِ الخ “ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا جس طرح میں نے یوسف کے بارے میں تم پر اعتماد کیا تھا اسی طرح بنیامین کے بارے میں تم پر اعتماد کروں یعنی تم ایک بار میرے اعتماد کو مجروح کرچکے ہو لیکن اچھا خدا حافظ ہے اور وہ مہربان ہے مجھے امید ہے کہ وہ مجھ پر جدائی کی دو مصیبتیں مسلط نہیں فرمائے گا۔ فارجوا ان ینعم علی بحفظہ ولا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 63–66

ربط آیات قحط کے زمانے میں جب برادران یوسف غلہ لینے کے لیے مصر پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور نہایت عزت و احترام کے ساتھ ان کی مہمان نوازی کی ۔ پھر جب وہ واپس جانے لگے تو ان کی لائی ہوئی پونجی بھی ان کے سامان میں رکھ دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ یہی پونجی ان کے دوبارہ مصر آنے میں مدد گار ثابت ہو۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو تاکید کی کہ جب دوسری دفعہ مصر آئیں تو اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ہمراہ لائیں ورنہ وہ مصر آنے کی کوشش نہ کریں ‘ انہیں اناج نہیں دیا جائے گا ‘ تورات کے حوالے سے مفسرین کرام یہ بھی لکھتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں میں سے شمعون کو روک لیا تھا جو کہ ان کے بارے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ ہَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْہِ اِلَّا كَـمَآ اَمِنْتُكُمْ عَلٰٓي اَخِيْہِ مِنْ قَبْلُ۝ 0 ۭ فَاللہُ خَيْرٌ حٰفِظًا۝ 0 ۠ وَّہُوَاَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ۝ 64 رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–66

2 ؎ یعنی غلہ جو پیمانہ سے دیا جاتا ہے ہندوستان میں غلہ تل کردیا جاتا ہے۔ ان ملکوں میں پیمانہ ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 63–64

فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓی اَبِیْھِمْ قَالُوْا یٰٓـاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْکَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَآ اَخَانَا نَکْتَلْ وَاِنَّا لَہٗ لِحٰفِظُوْنَ ۔ قَالَ ھَلْ اٰمَنُکُمْ عَلَیْہِ اِلاَّ کَمَآ اَمِنْتُکُمْ عَلٰٓی اَخِیْہِ مِنْ قَبْلُ ط فَاللّٰہُ خَیْرٌحٰفِظًا ص وَّھُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 63، 64) (پھر جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس لوٹے تو عرض کرنے لگے کہ اے ہمارے ابا جان ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے، سو آپ ( علیہ السلام) ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجئے تاکہ ہم غلہ لاسکیں اور ہم اس کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا : کیا میں اعتماد کروں تم پر،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–65

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف (علیہ السلام) واپس اپنے گھر آکر اپنے والد سے حسب وعدہ اور ضرورت اپنے بھائی بنیامین کو آئندہ سفر میں ساتھ لے جانے کی درخواست کرتے ہیں۔ برادران یوسف (علیہ السلام) گھر آکر اپنے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو مصر کے بادشاہ کی مہمان نوازی، حسن سلوک اور اس کے فرمان کا ذکر کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ ابا جی ہمیں آئندہ غلہ دینے سے اس لیے انکار کیا گیا ہے کہ جب تک ہم اپنے بھائی بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں گے ہمیں غلہ نہیں مل سکتا۔ لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے بھائی بنیا میں کو ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں ہم اس کی ضرور بضرور حفاظت کریں گے۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

64: قَالَ ھَلْ اٰمَنُکُمْ عَلَیْہِ اِلَّا کَمَآ اَمِنْتُکُمْ عَلٰٓی اَخِیْہِ مِنْ قَبْلُ ( کیا میں اس کے بارے میں اسی طرح تم پر اعتبار کروں جیسا اس کے بھائی کے بارے میں نے اس سے پہلے کیا تھا) تم نے یوسف کے متعلق یہ کہا تھا : ارسلہ معنا غدًا یرتع و یلعب وانا لہٗ لحافظون اور آج اس کے متعلق یہی کہہ رہے ہو۔ پھر تم نے اپنی ضمانت میں خیانت برتی۔ پس اس قسم کی بات مجھے اعتماد نہیں دلا سکتی۔ پھر فرمایا : فَاللّٰہُ خَیْرٌ حٰفِظًا (اللہ تعالیٰ کی حفاظت سب سے بڑھ کر ہے) قراءت : ابوبکر کے علاوہ کوفی قراء کی یہ قراءت ہے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے ان کے سپرد کردیا۔ نحو : حافظًا یہ حال یا تمیز ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

64۔” قال ھل آمنکم علیہ الا کما امنتکم علی اخیہ “ یوسف پر ” من قبل “ یعنی کیسے تم پر مطمئن ہو جائوں حالانکہ تم اس کے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ جو کچھ کرنا تھا کرچکے ہو ۔ ” فاللہ خیر حافظا ً “ حمزہ اور کسائی اور حفص رحمہما اللہ نے ” حافظا “ الف کے ساتھ تفسیر کی بناء پر پڑھا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” ھو خیر رجلا ً “ اور دیگر حضرات نے ” حفظا “ بغیر الف کے مصدر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ” خیر کم حفظا “ فرمایا کہ اس کی حفاظت تمہاری حفاظت سے بہتر ہے۔ ” وھو ارحم الراحمین “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

64۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی جب دوسری دفعہ کنعان سے مصر غلہ خریدنے کو آتے وقت حضرت یعقوب سے بنیامین کو ساتھ لانے کا اصرار کرنے لگے اور کہنے لگے کہ دل جمعی رکھو ہم اس کی راستہ میں اچھی طرح نگہبانی کریں گے اس کا یہ جواب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے دیا جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ تم نے یوسف (علیہ السلام) کی نگہبانی کا بھی اقرار کیا تھا لیکن خیر بڑا نگہبان تو سب کا اللہ ہے۔ یہ کہہ کر بنیامین کو ان کے ساتھ کردیا۔ بعضے مفسرین نے یہاں مصر کے قحط کے ذکر میں یہ جو لکھا ہے کہ آخر درجہ تمام مصر کے لوگوں نے غلہ کے عوض میں اپنے آپ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا غلام بنا لیا اور حضرت یوسف (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے کہا : (آیت) ” کیا میں تمہارا اسی طرح اعتبار کروں جیسے اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں اعتبار کیا تھا ؟ “ یعنی یوسف کی حفاظت کے بارے میں تم اپنی ذمہ داری کے التزام کا وعدہ اس سے پہلے بھی کرچکے ہو۔ پاس ہمہ تم نے اس کی حفاظت کا وعدہ پورا نہیں کیا تھا، لہٰذا مجھے تمہارے اس عہد پر کوئی بھروسہ نہیں کہ تم اس کی حفاظت کا التزام کرو گے۔ مجھے تو بس اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے۔ (آیت) ” سو اللہ ہی بہتر نگہبان ہے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ یعنی وہ میرے حال کو جانتا ہے مجھے امید ہے کہ وہ مجھ پر رحم کرے گا اس کی حفاظت کرکے اسے میرے پاس لائے گا۔ گویا انہوں نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–71

قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 63–64

104۔ برادران یوسف کی اپنے والد کو پختہ یقین دہانی : سو برادران یوسف نے اپنے والد کو یقین دلایا کہ ہم اس کی حفاظت کا پوراخیال رکھیں گے۔ اپنے اس سفر میں۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہیں پہنچنے دیں گے۔ انہیں چونکہ باپ کے انکار کا پورا اندیشہ تھا کیونکہ اس سے پہلے وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں دھوکہ اور خیانت سے کام لے چکے تھے جس کی بناء پر وہ باپ کی نظروں میں گرچکے تھے اور ان کے یہاں ان کا اعتبارو اعتماد ختم ہوچکا تھا۔ اس لیے ان کو یقین دلانے کے لیے اب وہ اس قدر تاکیدی الفاظ و کلمات کا سہارا لیتے ہیں مگر وہ بات کہاں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اعتماد صنوبرکا وہ درخت ہے جو ٹوٹنے کے بعد دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 58–68

آیات 58 تا 68 اسرار و معارف مصر کیا ہر جگہ بڑی فصلیں ہوئیں اور غلے اور پھلوں کی فروانی نے لوگوں کو امیر کردیا یوسف (علیہ السلام) نے بہت اہتمام فرمایا کہ ضرورت سے زائد غلہ لوگوں سے خرید کر جمع فرماتے گئے اور ابتدائی سات برسوں میں سرکاری گودام بھر گئے ۔ پھر قحط سالی شروع ہوئی تو غلہ کا دانہ نہ ملتا تھا تب آپ نے فروخت کرنے کا اہتمام فرمایا ۔ اشیاے ضرورت پر کنڑول نہ صرف جائز بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور فروخت پر بھی کنڑول رکھا کہ ایک آدمی کو اس کے خاندان کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ جو مقرر تھا دیا جاتا تھا تا کہ لوگ خرید کر مہنگے داموں بیچنا شروع نہ کردیں جسے آج کی زبان میں بلیک مار کٹینگ کہا جاتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ تم جب یوسف ( علیہ السلام) کو لے گئے تھے تب بھی تم نے یہی کہا تھا کہ ہم اس کی حفاظت کریں گے پھر تم نے اس کی اچھی حفاظت کی کہ آج تک اس بےچارے کی کوئی خیر خبر نہیں۔ ایسی ہی حفاظت اب تم اس بھائی کی کرنی چاہتے ہو۔ (ابن کثیر) ۔ 4 ۔ یعنی میں اسے بحالت مجبوری غلہ کی ضرورت کے پیش نظر تمہارے ساتھ بھیج رہا ہوں۔ سو میں اسے تمہاری حفاظت میں نہیں بلکہ اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوں۔ وہی اپنی مہربانی سے اس کی حفاظت فرمائے گا۔ (ابن کثیر) ۔ کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو بھائیوں کے ساتھ بھیجتے وقت صرف یہ کہا تھا۔ انی خاف ان یاکلہ (مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں بھیڑیا اسے نہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:64) امنکم علیہ۔ امن۔ مضارع واحد متکلم امن یامن (سمع) امن و امان وامنۃ سے۔ امن علی کسی چیز کو کسی کی حفاظت میں دینا۔ امنکم علیہ میں اس کو تمہاری حفاظت میں دیدوں ۔ اس کو تمہارے سپرد کردوں۔ کما امنتکم علی اخیہ من قبل۔ جیسا کہ میں نے تمہیں محافظ بنایا تھا اس کے بھائی پر اس سے پہلے (کیونکہ اس وقت بھی ان بھائیوں نے یہی کہا تھا کہ وانا لہ لحافظون۔ (آیت 12) فاللہ خیر حافظا۔ حافظا۔ منصوب بوجہ تمیز ہے یا بوجہ حال کے ۔ جملہ میںمحذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے (تم کیا حفاظت کرو گے بہترین محافظ تو اللہ ہی ہے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 62–66

لغات القرآن آیت نمبر 62 تا 66 (فتین نوجوان، خدمت کرنے والے) ( اجعلوا ڈالد و، کرو) ( بضاعۃ سامان، پونجی) ( رحال اسباب، سامان، کجاوا ) ( یعرفون وہ پہچانتے ہیں) ( انقلبوا وہ پلٹے اھل گھر والے) ( رجعوا وہ لوٹے) ( منع منع کردیا گیا ) (نکتل ہم ماپ لیں گے، ماپ کر لائیں گے) ( امن میں بھروسہ کروں گا ) (خیر بہترین) ( حافظ حفاظت کرنے والا) ( ارحم بہت رحم کرنے والا ) (فتحوا انہوں نے کھولا) ( متاع سامان) (وجدوا انہوں نے پایا ) (ردت لوٹا دیا گیا) ( مانبغی ہم کیا چاہتے ہیں ؟ ) ( نمیر (میر) مدد لائیں، گھر والوں کے لئے سامان لانا) ( نزداد ہم اضافہ کریں گے، زیادہ لائیں گے) ( بعیر اونٹ ) (کیل یسیر آسان بوجھ )…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 59–66

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا پنے گھر جانا اور اپنے باپ سے سوال جواب کرنا پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ : اب جو آنا تو اپنے اس بھائی کو بھی اپنے ہمراہ لیتے آنا تاکہ تمہارا سچ معلوم ہوجائے۔ دیکھو میں نے تمہاری بہت خاطر کی ہے اور غلہ بھر پور دیا ہے۔ اگر اب کے اپنے بھائی کو نہ لاؤ گے تو تمہیں غلہ نہ دیں گے اور نہ اپنے پاس جگہ دیں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ : نہیں ہم ضرور اس کو اپنے ساتھ لائیں گے اور اگرچہ باپ اس کو اپنے پاس سے علیحدہ نہیں کرتے مگر ہم انہیں سمجھا بجھا کر جس طرح ممکن ہوگا اسے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے پختہ وعدہ ان سے لے لیا کہ وہ ضرور ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–67

[20] غالباً یہ اس خیال سے کہا کہ اس قحط کے زمانے میں ایک پورا جتھا دیکھ کر مصریوں کو شبہ ہوگا کہ یہ لوگ لوٹ مار کرنے کی غرض سے آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) حضرت یعقوب (علیہ السلام) چونکہ پہلے سے زخم خوردہ تھے ، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وجہ سے دل پر چھوٹ تھی ، اس لئے آسانی کے ساتھ ان کی باتوں پر اعتماد نہ کرسکے ، ہرچند انہوں نے حفاظت کا یقین دلایا ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے باور نہ کیا ، اور کہا کیا تم وہی نہیں ہو ، جنہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی متعلق تم نے استعمال نہیں کئے ؟ اور اب اس بات کی کیا ضمانت ہے ، کہ بنیامین کے ساتھ تم وفا نہیں کرو گے ، اور اسے صحیح وسالم مجھ تک واپس لے آؤ گے ۔ (آیت) ” فاللہ خیر حفظا “۔ سے غرض یہ ہے کہ مجھے صرف اللہ پر بھروسہ ہے ، وہ بہترین محافظ ہے ، میں اگر تم پر بھروسہ کروں گا بھی تو محض اس لئے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

64 ۔ باپ نے ان لڑکوں کو جواب دیا میں بن یامین کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرسکتا مگر ہاں ویسا ہی جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تمہارے اعتبار کرچکا ہوں ۔ پس اللہ تعالیٰ سب سے بہتر نگہبان ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ یعنی میرا دل توٹھکتا نہیں یہی تم نے اب سے پہلے یوسف (علیہ السلام) کو لے جاتے وقت الفاظ کہے تھے لیکن تم کہتے ہو کہ غلہ ہی نہیں ملے گا تو خیر اگر اس کا لے جانا ضروری ہے تو لے جائو میں خدا کے سپرد کرتا ہوں وہ سب سے بہتر محافظ اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 57–66

ف 6۔ غرض یوسف (علیہ السلام) نے باختیار ہوکرغلہ کاشت کرانا اور جمع کرانا شروع کردیا اور سات برس کے بعد قحط شروع ہوا یہاں تک کہ دور دور سے یہ خبر سن کر کہ مصر میں سلطنت کی طرف سے غلہ فروخت ہوتا ہے جوق درجوق لوگ آنا شروع ہوئے اور کنعان میں بھی قحط ہوا تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بجز بنیامین کے غلہ لینے مصر آئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ اب میں تم پر کیسے اعتماد کروں جیسے یوسف کے متعلق کیا تھا ؟ ۔ 76 یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا تم پر اس طرح اعتماد کروں جس طرح اس کے بھائی یوسف کے معاملہ میں تم پر اعتبار کرچکا ہوں اور حقیقت تو یہ ہے کہ تمہاری حفاظت ہی کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ ہی سب سے بہتر محافظ و نگہبان ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی رحم کرنے والا نہیں۔ اس کو کہتے ہیں کہ فلاں آدمی بات کو پی گیا یعنی جس طرح بات کرنی چاہی تھی وہ نہ کی اور ادھر ادھر کر کے اس کو ٹال دیا۔ یہی بات یعقوب (علیہ السلام) نے کی اور کسی دکھتی رگ کو پھر نہ چھیڑا اگرچہ وہ چھیڑ سکتے تھے۔ دور اندیشی اس چیز کا نام ہے کہ جس بات کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Therefore, he said: فَاللَّـهُ خَيْرٌ‌ حَافِظًا (Well, Allah is the best guardian - 64), that is, he had already seen the outcome of their guardianship earlier, now he was placing his trust in Allah Ta` ala alone as his guardian. Then, he added: وَهُوَ أَرْ‌حَمُ الرَّ‌احِمِينَ (and He is the most merciful of all the merciful - 64), that is, only from Him, he could hope that He would look at his old age and the sorrows he was surrounded with and would not let more shocks shake him. In short, Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) did not rely on apparent conditions and on the pledges given by his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–67

53. Prophet Jacob’s great concern over this journey of his sons was due to the fact that his youngest son, Benjamin, was to accompany them. He was anxious about his safety because he had already had a bad experience of his son Joseph. Naturally his heart must have been full of such misgivings that it might be his last meeting with his other beloved son. Though he had full trust in Allah and was patiently resigned to His will, but, as a human being, advised his sons to take certain precautionary measures. In order to understand the significance of this precautionary measure of entering the…

Read the full tafseer →