Yusuf 12:63

Yusuf · from ayah 63

12:63

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤی اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ۟فَلَمَّا رَجَعُوۡۤا اِلٰٓى اَبِيۡهِمۡ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الۡكَيۡلُ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكۡتَلۡ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ‏

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So when they returned to their father, they said, "O our father, [further] measure has been denied to us, so send with us our brother [that] we will be given measure. And indeed, we will be his guardians."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 8 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:63

جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا "ابا جان، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ ہم غلہ لے کر آئیں اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب یہ لوگ لوٹ کر اپنے والد کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ ہم سے تو غلہ کا ناپ روک لیا گیا۔ اب آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجئے کہ ہم پیمانہ بھر کر ﻻئیں ہم اس کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ جب وہ اپنے والد کے پاس واپس پہنچے تو انہوں نے کہا : ابا جان ! آئندہ ہمیں غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے۔ لہذا آپ ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے، تاکہ ہم (پھر) غلہ لاسکیں، اور یقین رکھیے کہ ہم اس کی پوری پوری حفاظت کریں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے بولے اے ہمارے باپ ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے تو ہمارے بھائی کو ہمارے پاس بھیج دیجئے کہ غلہ لائیں اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو جب وہ اپنے والد کی طرف لوٹے (تو) کہنے لگے: اے ہمارے باپ! (آئندہ کے لئے) ہم پر غلہ بند کر دیا گیا ہے (سوائے اس کے کہ بنیامین ہمارے ساتھ جائے) پس ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیج دیں (تاکہ) ہم (مزید) غلہ لے آئیں اور ہم یقیناً اس کے محافظ ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹے تو انھوں نے کہا اے ہمارے باپ ! ہم سے ماپ روک لیا گیا ہے، سو تو ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج کہ ہم (غلے کا) ماپ لائیں اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب وہ اپنے باپ کے ہاں پہنچے تو کہنے لگے : ابا جان ! آئندہ ہمیں غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے لہذا ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیں (اس طرح ہی) ہمیں غلہ مل سکے گا۔ اور ہم یقینا اس کی حفاظت کرنے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جب وہ اپنے باپ کے پاس لوٹے انہوں نے کہا کہ ابّا جان ! ہم آگے کو غلّہ سے محروم کردیے گئے ہیں تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھی جانے دیجیے کہ ہم غلہ لائیں اور ہم اس کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جب وہ واپس اپنے باپ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے، ابا جان (آئندہ کے لئے بنیامین کو اپنے ہمراہ نہ لے جانے کی صورت میں) ہمیں غلہ دینے سے انکار کردیا گیا، لہذا آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی (بنیامین) کو بھی بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ لاسکیں، اور ہم اس کی پوری پوری حفاظت کریں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

غرض جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس پہنچے تو بولے اے ہمارے باپ ! ہمارے لیے غلہ بند کردیا گیا ہے سو آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجیے تو ہم غلہ لاسکیں اور ہم ان کے پورے محافظ ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب وہ لوٹے اپنے والد کے پاس تو کہنے لگے : ابا جان ! ہم سے (ایک) پیمانہ روک لیا گیا ہے تو (آئندہ) ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجئے گا تاکہ ہم (اس کے حصے کا بھی) غلہ لے کر آئیں اور ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابا جان ! (جب تک ہم بنیا میں کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلے کی بندش کردی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجیے تاکہ ہم پھر غلہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When they returned to their father they said: "Father! We have been denied further supply of corn. So send with us our brother that we may bring the supplies. We shall be responsible for his protection."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, when they returned to their father, they said, :Father, the (required) measure (of grain) has been withheld from us, therefore, send our brother with us, so that we may receive our full measure. And, of course, we are his guards.

— Muhammad Taqi Usmani

So, when they returned to their father, they said, :Father, the (required) measure (of grain) has been withheld from us, therefore, send our brother with us, so that we may receive our full measure. And, of course, we are his guards.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, when they returned to their father, they said: "O our father! No more measure of grain shall we get (unless we take our brother). So send our brother with us, and we shall get our measure and truly, we will guard him."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So when they went back to their father they said: O our father! The measure is denied us, so send with us our brother that we may obtain the measure, surely we will guard him well.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So when they returned to their father, they said, "O our father, [further] measure has been denied to us, so send with us our brother [that] we will be given measure. And indeed, we will be his guardians."

— Saheeh International

When they returned to their father, they told him, "Father, (unless we take our brother) they will refuse us one further measure of grain. Send our brother with us so that we can obtain that measure. We shall watch over him carefully".

— Muhammad Sarwar

So when they returned to their father, they said: O our father, the measure is withheld from us, therefore send with us our brother, (so that) we may get the measure, and we will most surely guard him.

— Muhammad Habib Shakir

Then when they returned to their father, they said: our father! the measuring hath been denied us, wherefore send thou with us our brother, and we shall get our measure; and verily we shall be his guards.

— Abdul Majid Daryabadi

Now when they returned to their father, they said: "O our father! No more measure of grain shall we get (unless we take our brother): So send our brother with us, that we may get our measure; and we will indeed take every care of him."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–64

بیان ہو رہا ہے کہ باپ کے پاس پہنچ کر انہوں کہا کہ اب ہمیں تو غلہ مل نہیں سکتا تاوقتیکہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو نہ بھجیں اگر انہیں ساتھ کردیں تو البتہ مل سکتا ہے آپ بےفکر رہئے ہم اس کی نگہبانی کرلیں گے نکتل کی دوسری قرأت یکتل بھی ہے۔ حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ بس وہی تم ان کے ساتھ کرو گے جو اس سے پہلے ان کے بھائی حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کرچکے ہو کہ یہاں سے لے گئے اور یہاں پہنچ کر کوئی بات بنادی۔ حافظاکی دوسری قرأت حفظا بھی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بہترین حافظ اور نگہبان ہے اور ہے بھی وہ ارحم الراحمین میرے بڑھاپے پر میری کمزوری پر رحم فرمائے گا اور جو غم و رنج مجھے اپنے بچے کا ہے وہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 61–67

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یوسف کے بعد ان کے بھائی کو بھیجچتے وقت یعقوب کے دل پر کیا کچھ گزر رہی ہوگی گو خدا پر بھروسہ تھا اور صبر و تسلیم میں ان کا مقام نہایت بلند تھا، مگر پھر بھی تھے تو انسان ہی، طرح طرح کے اندیشے دل میں آتے ہوں گے اور رہ رہ کر اس خیال سے کانپ اٹھتے ہوں گے کہ خدا جانے اب اس لڑکے کی صورت بھی دیکھ سکوں گا یا نہیں، اسی لیے وہ چاہتے ہوں گے کہ اپنی حد تک احتیاط میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔ یہ احتیاطی مشورہ کہ مصر کے دار السلطنت میں یہ سب بھائی ایک دروازے سے نہ جائیں، ان سیاسی حالات کا تصور کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے جو وقت پائے جاتے تھے، یہ لوگ سلطنت مصر کی سرحد پر آزاد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر غرض جب لوٹ کر اپنے باپ (یعقوب ؑ کے پاس پہنچے کہنے لگے اے ابا (ہماری بڑی خاطر ہوئی اور غلہ بھی ملا مگر بنیامین کا حصہ نہیں ملا بلکہ بدون بنیامین کے ساتھ لے جاتے ہوئے آئندہ بھی) ہمارے لئے (مطلقا) غلہ کی بندش کردی گئی سو (اس صورت میں ضروری ہے کہ) آپ ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ (دوبارہ غلہ لانے سے جو امر مانع ہے وہ مرتفع ہوجاوے اور) ہم (پھر) غلہ لا سکیں اور (اگر ان کے بھیجنے سے آپ کو کوئی اندیشہ ہی مانع ہے تو اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ) ہم ان کی پوری حفاظت رکھیں گے یعقوب ؑ نے فرمایا کہ بس (رہنے دو) میں اس کے بارے میں بھی تمہارا ویسا ہی اعتبار کرتا ہوں جیسا اس سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 63–64

63۔ 64:۔ فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَآ اَخَانَا نَكْتَلْ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْهِ اِلَّا كَمَآ اَمِنْتُكُمْ عَلٰٓي اَخِيْهِ مِنْ قَبْلُ ۭ فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا ۠ وَّهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ۔ بیٹوں کی گزارش باپ سے اور باپ کا جواب : جب یہ لوگ گھر پہنچے تو باپ کو ساری روداد سنائی کہ آگے کو ہم غلہ سے محروم کردیے گئے ہیں۔ اب غلہ حاصل کرنے کی ایک ہی راہ ہے کہ اہم اپنے ساتھ اپنے بھائی بن یامین کو بھی لے جائیں اور اپنے آپ کو سچا ثابت کریں کہ ہمارا ایک گیارہواں بھائی بھی ہے تو آپ اس مرتبہ بن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

63۔ 1 مطلب یہ ہے کہ آئندہ کے لئے غلہ بنیامین کے بھیجنے کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر یہ ساتھ نہیں جائے گا تو غلہ نہیں ملے گا۔ اس لئے اسے ضرور ساتھ بھجیں تاکہ ہم دوبارہ بھی اسی طرح غلہ مل سکے، جس طرح اس دفعہ ملا ہے، اور اس طرح کا اندیشہ نہ کریں جو یوسف ؑ کو بھیجتے ہوئے کیا تھا، ہم اس کی حفاظت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

41: یعنی اگر ہم بنیامین کو ساتھ لے کر نہ گئے تو ہم میں سے کسی کو غلہ نہیں مل سکے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر میں رہ جاتے ہیں اور کنعان میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور برادران یوسف (علیہ السلام) منظر پر ہیں۔ ان کی واپسی کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ آیت نمبر 63 تا 66 معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ سیدھے باپ کے سلام کو حاضر ہوئے۔ سامان کھولنے سے بھی پہلے انہوں نے باپ کو یہ بتانا ضروری خیال کیا کہ ہمارے بارے میں تو فیصلہ کردیا گیا ہے کہ جب تک ہم اپنے چھوٹے بھائی کو عزیر مصر کے سامنے پیش نہ کریں گے ہمیں مزید کوئی غلہ نہ دیا جائے گا۔ چناچہ پہنچتے ہی انہوں نے باپ سے مطالبہ شروع کردیا کہ چھوٹے بھائی کو ساتھ بھیجیں تا کہ ایک اونٹ بار غلہ بھی مل جائے اور وہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی یوسف کی طرح اس کے متعلق کچھ تردد نہ کیجئے۔ اب ہم چوکنے ہوگئے ہیں پوری طرح حفاظت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 63–65

آیت 63 فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ یعنی انہوں نے آئندہ کے لیے ہمارے چھوٹے بھائی کے حصے کا غلہ روک دیا ہے اور وہ تبھی ملے گا جب ہم اس کو وہاں لے کر جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 63–64

61 بیٹوں کا بن یامین کو لے جانے پر اصرار اور باپ کا انکار :۔ جب برادران یوسف واپس اپنے گھر یعنی کنعان پہنچے تو جاتے ہی اپنے والد محترم کو اس گفتگو سے مطلع کیا جو ان کے اور شاہ مصر کے درمیان ہوئی تھی اور بڑی وضاحت سے یہ بھی بتلا دیا کہ اگر آپ بن یمین کو ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو پھر ہمیں کبھی غلہ نہ مل سکے گا اور غلہ کی فراہمی اس دور کی سب سے اہم اور شدید ضرورت ہے۔ لہذا آپ ضرور اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے اور جہاں تک ہم سے ہوسکا ہم ضرور اس کی حفاظت کریں گے۔ سیدنا یعقوب نے انھیں جواب دیا کہ بالکل ایسی ہی بات تم نے اس وقت بھی کہی تھی۔ جب تم یوسف کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ پھر معلوم نہیں کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

120۔ (آپ ان کو ہمارے ہمراہ کرنے میں ان کے متعلق کسی پس وپیش کو دخل نہ دیں، ہم ان کی بہ حفاظت واپسی کا پورا ذمہ لیتے ہیں) فرزندان یعقوب (علیہ السلام) نے آکر اپنے والدماجد سے عرض کیا کہ ہمیں اپنے گیارہویں بھائی کا حصہ تو ملا نہیں بلکہ آئندہ کے لیے ہمیں یہ فرمان ہوا ہے کہ ہم لوگ اگر اسے نہ لے گئے تو یہ سمجھا جائے گا کہ ہم لوگ دغا سے گیا رہواں حصہ وصول کرنا چاہتے تھے اور غلہ کا حصہ ہم میں سے کسی ایک کو بھی نہ ملے گا۔ تو اب اس کا علاج صرف یہ ہے کہ اب کی بنیامین کو بھی ہمارے ہمراہ کردیجئے۔ توریت میں ہے :۔ آخر وہ زمین کنعان میں اپنے باپ یعقوب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے۔ اور اپنا سب حال جو ان پر گزرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 58–68

آیت نمبر 58 تا 68 ترجمہ : اور قحط کے سال شروع ہوگئے اور (اس کے اثرات) ملک کنران اور شام تک پہنچ گئے، جب اہل کنعان کو یہ اطلاع پہنچی کہ عزیز مصر قیمۃً غلہ دیتا ہے تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سوائے بنیامین کے غلہ لینے کیلئے (مصر) آئے چناچہ جب بھائی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا اور بھائی یوسف کو نہ پہچان سکے، (اسکی جدائی کو) مدت دراز گذر جانے کی وجہ سے اور اس کے بارے میں یہ گمان ہونے کی وجہ سے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہوگا، بھائیوں نے یوسف سے عبرانی زبان میں گفتگو کی، یوسف (علیہ السلام) نے انجان بنکر ان سے معلوم کیا کہ میرے ملک آنے کا تمہارا کیا سبب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما رجعوا الی ابیھم قالوا جب لوٹ کر باپ کے پاس پہنچے تو بولے : ابا ! ہم ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے کہ اس نے ہماری بڑی مہمانی کی اور ایسی عزت کی کہ اگر نسل یعقوب کا بھی کوئی آدمی ہوتا تو ہماری اتنی عزت نہ کرتا۔ حضرت یعقوب نے یہ بات سن کر فرمایا : جب تم شاہ مصر کے پاس لوٹ کر جاؤ تو اس سے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ آپ نے جو ہمارے ساتھ احسان کیا ہے ‘ اس کے عوض ہم آپ کیلئے دعا کرتے ہیں ‘ اللہ آپ پر رحمت نازل فرمائے۔ پھر فرمایا : شمعون کہاں ہے ؟ بیٹوں نے جواب دیا : اس کو شاہ مصر نے بطور ضمانت اپنے پاس روک لیا ہے۔ اس کے بعد پورا قصّہ بیان کردیا۔ حضرت یعقوب نے فرمایا : اس کو یہ بات بتائی ہی کیوں ؟…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(63) چناچہ کہ جب یہ بھائی کنعان آئے تو کہنے لگے اگر اب آئندہ آپ بنیامین کو ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو اناج ہمیں نہیں ملے گا لہذا ہمارے ساتھ بنیامین کو روانہ کیجیے تاکہ وہ بھی اپنے لیے ایک اونٹ کے برابر اناج لاسکے اور اگر یہ لفظ نون کے ساتھ پڑھا جائے تو مطلب یہ ہوگا تاکہ کہ پھر ہم اناج لاسکیں، اور ہم بنیامین کی حفاظت کے پورے ضامن ہیں کہ صحیح سلامت پھر آپ کے پاس ان کو لے آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْهِمْ۔۔ : قحط میں سب سے پہلی فکر جان بچانے کی تھی اور نظر آ رہا تھا کہ یہ غلہ کتنی دیر چلے گا، اس لیے واپس جاتے ہی ابھی سامان نہیں کھولا اور سب سے پہلے یہ بات کی کہ ابا جان آئندہ ہمیں غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے، اس کے بعد سارا قصہ سنایا اور بتایا اب غلہ ملنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیں تو ہمیں غلہ مل جائے گا۔ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ : اس میں بھی تین تاکیدیں ہیں، یعنی یوسف کی طرح اس کے بارے میں فکر نہ کیجیے، ہمیں پورا احساس ہے، اس لیے ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–65

آیت نمبر 63 تا 65 فلما رجعوٓا الیٰ ابیھم قالو ایٰٓا بانامنع منا الکیل انہوں نے یہ اس وجہ سے کہا کیونکہ انہیں فان لم تاتونی بہٖ فلا کیل لکم عندی کہا گیا تھا۔ اور انہوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ ہونے والے معاملے اور ملنے والی عزت و آرام سے آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ شمعون بطور رہن ان کے پاس اس وقت تک رہے گا جب تک کہ وہ (یوسف) ان کی سچائی وصداقت کو جان نہیں لیتے۔ فارسل معنآ اخانانکتل یعنی انہوں نے اس وقت کہا : ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجئے نکتل اصل میں نکتال تھا لام کلمہ سے ضمہ کو جزم کے لیے حذف کردیا گیا۔ اور پھر الف کو التفائے ساکنین کی وجہ سے حذف کردیا گیا۔ اہل حرمین،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 59–66

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ائتونی باخ لکم من ابیکم “ سے مراد ہے بنیامین اور وہ یوسف کے سگے بھائی تھے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مصر میں جو مہمان نوازی کرتا ہے میں اس سے بہتر مہمان نوازی کرنے والا ہوں۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مہمان نوازی کرنے والوں میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَلَمَا : پھر جب ] [رَجَعُوْٓا : وہ لوگ واپس پہنچے ] [ اِلٰٓى اَبِيْهِمْ : اپنے والد کی طرف ] [ قَالُوْا : تو ان لوگوں نے کہا ] [يٰٓاَبَانا : اے ہمارے والد ] [ مُنِعَ : روکا گیا ] [ مِنَا : ہم سے ] [ الْكَيْلُ : پیمانہ بھرنے کو ] [فَاَرْسِلْ : تو آپ (علیہ السلام) بھیجیں ] [مَعَنَآ : ہمارے ساتھ ] [ اَخَانا : ہمارے بھائی کو ] [ نَكْتَلْ : تو ہم اپنے لئے پیمانہ بھریں [ وَانا : اور بیشک ] [ لَهٗ : اس کی ] [لَحٰفِظُوْنَ : یقینا حفاظت کرنے والے ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 63) نَکْتَلْ ۔ باب اطتعال کا مضارع مجزوم ہے جو فعل امر اَرْسِلْ کا جواب امر ہونے کی وجہ سے مجروم ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 59–65

برادران یوسف کا اپنی پونجی کو سامان میں پا کر اپنے والد سے دوبارہ مصر جانے کی درخواست کرنا اور چھوٹے بھائی کی حفاظت کا وعدہ کرنا باپ بیٹوں کی باتیں ہو رہی تھیں کہ مصر میں غلہ لینے گئے تو وہاں سے غلہ تو لے آئے لیکن جو صاحب غلہ تقسیم کرتے ہیں انہوں نے آئندہ کے لیے یہ شرط لگا دی ہے کہ اپنے بھائی کو بھی لاؤ گے تو غلہ ملے گا ورنہ نہیں پھر جب سامان کی طرف متوجہ ہوئے سامان کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ جو پونجی وہاں غلہ کے عوض دی تھی وہ تو اپنے ہی سامان میں موجود ہے۔ پونجی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ ابا جان ہمیں اور کیا چاہئے ہم غلہ بھی لے آئے اور پونجی بھی واپس مل گئی ایسے کریم اور محسن آدمی کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–68

یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 63–64

55:۔ جب وہ واپس والد گرامی کی خدمت میں پہنچے تو عرض کیا کہ بنیامین کا حصہ تو ہم سے روک لیا گیا ہے جب تک وہ ہمارے ساتھ نہیں جائے گا اس وقت تک ہمیں اس کے حصے کا غلہ نہیں ملے گا۔ اس لیے آپ اسے ہمارے ساتھ بھیج دیں ہم اس کی پوری پوری حفاظت کریں گے۔ ” قَالَ ھَلْ اٰمَنُکُمْ عَلَیْہِ الخ “ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا جس طرح میں نے یوسف کے بارے میں تم پر اعتماد کیا تھا اسی طرح بنیامین کے بارے میں تم پر اعتماد کروں یعنی تم ایک بار میرے اعتماد کو مجروح کرچکے ہو لیکن اچھا خدا حافظ ہے اور وہ مہربان ہے مجھے امید ہے کہ وہ مجھ پر جدائی کی دو مصیبتیں مسلط نہیں فرمائے گا۔ فارجوا ان ینعم علی بحفظہ ولا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 63–66

ربط آیات قحط کے زمانے میں جب برادران یوسف غلہ لینے کے لیے مصر پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور نہایت عزت و احترام کے ساتھ ان کی مہمان نوازی کی ۔ پھر جب وہ واپس جانے لگے تو ان کی لائی ہوئی پونجی بھی ان کے سامان میں رکھ دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ یہی پونجی ان کے دوبارہ مصر آنے میں مدد گار ثابت ہو۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو تاکید کی کہ جب دوسری دفعہ مصر آئیں تو اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ہمراہ لائیں ورنہ وہ مصر آنے کی کوشش نہ کریں ‘ انہیں اناج نہیں دیا جائے گا ‘ تورات کے حوالے سے مفسرین کرام یہ بھی لکھتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں میں سے شمعون کو روک لیا تھا جو کہ ان کے بارے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْہِمْ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَآ اَخَانَا نَكْتَلْ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ۝ 63 رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے منع المنع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–66

2 ؎ یعنی غلہ جو پیمانہ سے دیا جاتا ہے ہندوستان میں غلہ تل کردیا جاتا ہے۔ ان ملکوں میں پیمانہ ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 63–64

فَلَمَّا رَجَعُوْٓا اِلٰٓی اَبِیْھِمْ قَالُوْا یٰٓـاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْکَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَآ اَخَانَا نَکْتَلْ وَاِنَّا لَہٗ لِحٰفِظُوْنَ ۔ قَالَ ھَلْ اٰمَنُکُمْ عَلَیْہِ اِلاَّ کَمَآ اَمِنْتُکُمْ عَلٰٓی اَخِیْہِ مِنْ قَبْلُ ط فَاللّٰہُ خَیْرٌحٰفِظًا ص وَّھُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 63، 64) (پھر جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس لوٹے تو عرض کرنے لگے کہ اے ہمارے ابا جان ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے، سو آپ ( علیہ السلام) ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجئے تاکہ ہم غلہ لاسکیں اور ہم اس کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا : کیا میں اعتماد کروں تم پر،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–65

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ برادران یوسف (علیہ السلام) واپس اپنے گھر آکر اپنے والد سے حسب وعدہ اور ضرورت اپنے بھائی بنیامین کو آئندہ سفر میں ساتھ لے جانے کی درخواست کرتے ہیں۔ برادران یوسف (علیہ السلام) گھر آکر اپنے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو مصر کے بادشاہ کی مہمان نوازی، حسن سلوک اور اس کے فرمان کا ذکر کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ ابا جی ہمیں آئندہ غلہ دینے سے اس لیے انکار کیا گیا ہے کہ جب تک ہم اپنے بھائی بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں گے ہمیں غلہ نہیں مل سکتا۔ لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے بھائی بنیا میں کو ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں ہم اس کی ضرور بضرور حفاظت کریں گے۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

63: فَلَمَّا رَجَعُوْا اِلٰٓی اَبِیْہِمْ (جب وہ اپنے والد کی طرف لوٹ کر گئے) غلہ لیکر اور ان کو بادشاہ کے فعل کی اطلاع دی۔ قَالُوْا یٰٓاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْکَیْلُ (کہنے لگے ! اے ہمارے ابا ہم سے غلہ روک لیا گیا) ان کی مراد منع سے یوسف (علیہ السلام) کا یہ ارشاد تھا : فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی۔ کیونکہ جب ان کو غلہ روکنے کی دھمکی مل گئی تو گویا غلہ روک لیا گیا۔ فَاَرْسِلْ مَعَنَآ اَخَانَا نَکْتَلْ (آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیں تاکہ ہمیں غلہ مل جائے) تاکہ غلہ ملنے میں رکاوٹ کا ازالہ کریں اور ہم جتنا غلہ ضروری ہے لے آئیں۔ قراءت : حمزہ اور علی نے یکتل پڑھا ای یَکْتَلْ اَخُوْنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 63۔” فلما رجعوا الی ابیھم قالوا یا ابانا “ ہم ایک بہت اچھے آدمی کے پاس سے آ رہے ہیں اس نے ہمیں مہمان بنایا اور اتنا اکرام کیا کہ اگر یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بھی کوئی ہوتا تو ہمارا اتنا اکرام نہ کرتا تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا جب تم مصر جائو تو اس کو میرا اسلام کہنا اور اس کو کہنا کہ ہمارے والد آپ کے لیے دعا کریں گے۔ پھر پوچھا کہ شمعون کہاں ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ شاہ مصر نے اس کو رہن رکھ لیا ہے اور ساری بات بتائی تو یعقوب (علیہ السلام) نے پوچھا تم نے اس کو گیارہویں بھائی کا کیوں بتایا ؟ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے ہمیں جاسوس سمجھ کر پکڑ لیا تھا جب ہم نے عبرانی زبان میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

63: جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی غلہ لے کر اپنے گھر واپس آئے تو سامان کھولنے سے پہلے اپنے والد بزرگوار سے یوسف (علیہ السلام) کے اخلاق کا ذکر کیا کہ عزیز مصر ایک لائق شخص اور شریف النفس ہے ہمیں اچھی طرح اتارا اور ہماری خوب مہمانی کی اور ہمیں بھرپور تول کر غلہ دیا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ اس مرتبہ جانا تو انہیں میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ہمارا باپ تمہارے حق میں دعا کرتا ہے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ بھی کہا کہ اس مرتبہ اگر ہم جائیں تو وہ ہمیں غلہ نہ دیں گے۔ بنیامین اگر ساتھ جائے گا تو البتہ غلہ ملے گا کیوں کہ انہوں نے کہہ دیا ہے کہ اگر اپنے بھائی کو ساتھ نہ لاؤ گے تو ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

بولے، ابا جان روک دی گئی ہے ہم سے ماپ “ یعنی اگر آپ ہمارا بھائی ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو ہمیں اناج نہیں ملے گا۔ (آیت) ” پس ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجیں کہ ہم ماپ لے کر آئیں “ یعنی تاکہ اناج حاصل کرنے میں ہمارا بھائی ہمارے لئے سبب بن سکے۔ پھر انہوں نے اپنے بھائی کی حفاظت کا ذمہ اٹھاتے ہوئے کہا : (آیت) ” اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔ “ یعنی ہم کسی نا خوشگوار صورت حال میں اس کی حفاظت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–71

قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 63–64

104۔ برادران یوسف کی اپنے والد کو پختہ یقین دہانی : سو برادران یوسف نے اپنے والد کو یقین دلایا کہ ہم اس کی حفاظت کا پوراخیال رکھیں گے۔ اپنے اس سفر میں۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہیں پہنچنے دیں گے۔ انہیں چونکہ باپ کے انکار کا پورا اندیشہ تھا کیونکہ اس سے پہلے وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں دھوکہ اور خیانت سے کام لے چکے تھے جس کی بناء پر وہ باپ کی نظروں میں گرچکے تھے اور ان کے یہاں ان کا اعتبارو اعتماد ختم ہوچکا تھا۔ اس لیے ان کو یقین دلانے کے لیے اب وہ اس قدر تاکیدی الفاظ و کلمات کا سہارا لیتے ہیں مگر وہ بات کہاں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اعتماد صنوبرکا وہ درخت ہے جو ٹوٹنے کے بعد دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 58–68

آیات 58 تا 68 اسرار و معارف مصر کیا ہر جگہ بڑی فصلیں ہوئیں اور غلے اور پھلوں کی فروانی نے لوگوں کو امیر کردیا یوسف (علیہ السلام) نے بہت اہتمام فرمایا کہ ضرورت سے زائد غلہ لوگوں سے خرید کر جمع فرماتے گئے اور ابتدائی سات برسوں میں سرکاری گودام بھر گئے ۔ پھر قحط سالی شروع ہوئی تو غلہ کا دانہ نہ ملتا تھا تب آپ نے فروخت کرنے کا اہتمام فرمایا ۔ اشیاے ضرورت پر کنڑول نہ صرف جائز بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور فروخت پر بھی کنڑول رکھا کہ ایک آدمی کو اس کے خاندان کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ جو مقرر تھا دیا جاتا تھا تا کہ لوگ خرید کر مہنگے داموں بیچنا شروع نہ کردیں جسے آج کی زبان میں بلیک مار کٹینگ کہا جاتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ کیونکہ جب ان کے پاس غلہ خریدنے کے لئے پونچی ہوگی تو آنے کی راہ میں رکاوٹ دور ہوجائے گی۔ (کذافی الروح) ۔2 ۔ یونی یوسف کی طرح اس کے بارے میں فکر نہ کیجئے۔ ہمیں پورا احساس ہے اس لئے ہم اس کی پوری طرح حفاظت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 62–63

(12: 62) لفتیانہ۔ جمع فتی۔ واحد لام حرف ِ جر۔ فتیانمضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اپنے خادموں سے ۔ فتی۔ بمعنی غلام ۔ جوان۔ سخی۔ اجعلوا۔ رکھ دو ۔ بنادو ۔ جعل سے امر جمع مذکر حاضر۔ بضاعتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی پونجی۔ ان کا سامانِ تجارت۔ ملاحظہ ہو 12: 19 ۔ رجالہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی خرجئیں ۔ ان کے کجاوے۔ بمراد۔ ان کے سامان میں۔ ان کے مال و اسباب میں۔ اصل میں اونٹ پر سواری کے لئے جو چیز رکھی جاتی ہے یعنی پالان وغیرہ۔ اس کو رحل کہتے ہیں۔ مجازاً منزل۔ مسکن۔ خرجئیں اور سامانِ سفر کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ رحلہ اس کا اسباب ِ سفر۔ اس کا کجاوہ۔ لعلہم یعرفونہا۔ ہا ۔ ضمیر واحد مؤنث…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 62–66

لغات القرآن آیت نمبر 62 تا 66 (فتین نوجوان، خدمت کرنے والے) ( اجعلوا ڈالد و، کرو) ( بضاعۃ سامان، پونجی) ( رحال اسباب، سامان، کجاوا ) ( یعرفون وہ پہچانتے ہیں) ( انقلبوا وہ پلٹے اھل گھر والے) ( رجعوا وہ لوٹے) ( منع منع کردیا گیا ) (نکتل ہم ماپ لیں گے، ماپ کر لائیں گے) ( امن میں بھروسہ کروں گا ) (خیر بہترین) ( حافظ حفاظت کرنے والا) ( ارحم بہت رحم کرنے والا ) (فتحوا انہوں نے کھولا) ( متاع سامان) (وجدوا انہوں نے پایا ) (ردت لوٹا دیا گیا) ( مانبغی ہم کیا چاہتے ہیں ؟ ) ( نمیر (میر) مدد لائیں، گھر والوں کے لئے سامان لانا) ( نزداد ہم اضافہ کریں گے، زیادہ لائیں گے) ( بعیر اونٹ ) (کیل یسیر آسان بوجھ )…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 59–66

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا پنے گھر جانا اور اپنے باپ سے سوال جواب کرنا پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ : اب جو آنا تو اپنے اس بھائی کو بھی اپنے ہمراہ لیتے آنا تاکہ تمہارا سچ معلوم ہوجائے۔ دیکھو میں نے تمہاری بہت خاطر کی ہے اور غلہ بھر پور دیا ہے۔ اگر اب کے اپنے بھائی کو نہ لاؤ گے تو تمہیں غلہ نہ دیں گے اور نہ اپنے پاس جگہ دیں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ : نہیں ہم ضرور اس کو اپنے ساتھ لائیں گے اور اگرچہ باپ اس کو اپنے پاس سے علیحدہ نہیں کرتے مگر ہم انہیں سمجھا بجھا کر جس طرح ممکن ہوگا اسے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے پختہ وعدہ ان سے لے لیا کہ وہ ضرور ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–67

[20] غالباً یہ اس خیال سے کہا کہ اس قحط کے زمانے میں ایک پورا جتھا دیکھ کر مصریوں کو شبہ ہوگا کہ یہ لوگ لوٹ مار کرنے کی غرض سے آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–63

برائی کا جواب نیکی سے ! (ف 1) پونجی اور سرمایہ کو واپس کردینا ، کما اخلاق کی دلیل ہے ، بھائیوں نے تو مزعومہ اقتدار کی مخالفت کی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یہ نوازش ہے کہ انہوں نے ان سے یہ احسان کیا ، اناج بھی دیا اور پونجی بھی لوٹا دی ، بات یہ ہے برائی کا بہترین انتقام نیکی ہے وہ لوگ جو بلند اخلاق کے زیور سے آراستہ ہیں ، کبھی برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے ، وہ حسن سلوک اور مروت سے پیش آتے ہیں تاکہ مخالف کے دل میں خود بخود اخلاقی حس بیدار ہو ، اور وہ اپنی غلطی کو پہچانے ، اس طرح سے عداوتیں دوستی سے بدل جاتی ہیں ، اور کدورتیں دل سے زائل ہوجاتی ہیں ، اسلام اسی طرز عمل کو پسند کرتا ہے ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

63 ۔ الغرض جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اپنے باپ کے پاس واپس پہنچے تو سفر کے تمام واقعات سنا کر کہنے لگے اے ہمارے باپ آئندہ کے لئے ہم پر غلہ روک دیا گیا لہٰذا آپ ہمارے ہمراہ ہمارے بھائی بن یامین کو بھی بھیجے تا کہ ہم پر غلہ کی بھرتی لے آئیں اور یقین دلاتے ہیں کہ ہم بن یامین کی پوری حفاظت کریں گے۔ یعنی غلہ کی بھرتی ہم کو نہیں ملے گی اگر بن یامین ہمارے ساتھ نہ گیا ، عزیز مصر کی خاطر تواضع اور مہمان نوازی کا بھی ذکر کیا اور چونکہ باپ کو ان پر اعتماد نہ تھا اس لئے انہوں نے وانا لہ لحفظون بھی کہا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 57–66

ف 6۔ غرض یوسف (علیہ السلام) نے باختیار ہوکرغلہ کاشت کرانا اور جمع کرانا شروع کردیا اور سات برس کے بعد قحط شروع ہوا یہاں تک کہ دور دور سے یہ خبر سن کر کہ مصر میں سلطنت کی طرف سے غلہ فروخت ہوتا ہے جوق درجوق لوگ آنا شروع ہوئے اور کنعان میں بھی قحط ہوا تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بجز بنیامین کے غلہ لینے مصر آئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

غلہ لے جانے والوں نے جاتے ہی والد سے بنیامین کو دوبارہ ساتھ لے جانے کی اپیل کی ۔ 75 جب یہ قافلہ کنعان واپس پہنچا تو انہوں نے اپنی تمام سرگزشت اپنے باپ یعقوب (علیہ السلام) کو سنائی اور ان سے کہا کہ مصر کے والی نے اس دفعہ تو بنیامین کے نام کا پر مٹ بنا رک غلہ دے دیا ہے لیکن آگے صاف صاف کہہ دیا کہ تم اس وقت تک یہاں نہ آنا اور نہ ہی غلہ کی خرید کا دھیان کرنا جب تک اپنے سوتیلے بھائی بنیامین کو ساتھ نہ لائو جس کا اس کی عدم موجودگی میں تم نے پر مٹ بنوالیا ہے لہٰذا آپ کو چاہئے کہ اب اس کو بھی ہمارے ساتھ کر دو ، ہم اس کے ہر طرح کے نگہبان اور محافظ ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The verses appearing above carry the remaining segment of the event, that is, when the brothers of Yusuf (علیہ السلام) returned home with food-grains from Egypt, they told their father about what had happened there, specially about the condition imposed by the ` Aziz of Misr that they would receive food grains in the future only if they would bring their younger brother with them. So they requested their father to let Benyamin also accompany them in order that they may receive food grains in the future as well. Then, they would be there to protect this brother of theirs at its best…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–67

53. Prophet Jacob’s great concern over this journey of his sons was due to the fact that his youngest son, Benjamin, was to accompany them. He was anxious about his safety because he had already had a bad experience of his son Joseph. Naturally his heart must have been full of such misgivings that it might be his last meeting with his other beloved son. Though he had full trust in Allah and was patiently resigned to His will, but, as a human being, advised his sons to take certain precautionary measures. In order to understand the significance of this precautionary measure of entering the…

Read the full tafseer →