Explained with ayahs 58–62
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یوسف کے بعد ان کے بھائی کو بھیجچتے وقت یعقوب کے دل پر کیا کچھ گزر رہی ہوگی گو خدا پر بھروسہ تھا اور صبر و تسلیم میں ان کا مقام نہایت بلند تھا، مگر پھر بھی تھے تو انسان ہی، طرح طرح کے اندیشے دل میں آتے ہوں گے اور رہ رہ کر اس خیال سے کانپ اٹھتے ہوں گے کہ خدا جانے اب اس لڑکے کی صورت بھی دیکھ سکوں گا یا نہیں، اسی لیے وہ چاہتے ہوں گے کہ اپنی حد تک احتیاط میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔
یہ احتیاطی مشورہ کہ مصر کے دار السلطنت میں یہ سب بھائی ایک دروازے سے نہ جائیں، ان سیاسی حالات کا تصور کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے جو وقت پائے جاتے تھے، یہ لوگ سلطنت مصر کی سرحد پر آزاد…
Read the full tafseer →ابن کثیر نے یوسف ؑ کو یہ خیال آیا کہ شایدان کے پاس اس نقد وزیور وغیرہ کے سوا اور کچھ موجود ہی نہ ہو تو پھر دوبارہ غلہ لینے کے لئے نہیں آسکیں گے دوسرے یہ بھی احتمال ہے کہ اپنے والد اور بھائیوں سے کھانے کی قیمت لینا گوارا نہ ہو اس لئے شاہی خزانہ میں اپنے پاس سے جمع کردیا ان کی رقم ان کو واپس کردی اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ وہ جانتے تھے کہ جب ان کا سامان ان کے پاس پہنچ جائے گا اور والد ماجد کو علم ہوگا تو وہ اللہ کے رسول ہیں اس پر واپس شدہ سامان کو مصری خزانہ کی امانت سمجھ کر ضرور واپس بھیجیں گے اس لئے بھائیوں کا دوبارہ آنا اور یقینی ہوجائے گا، بہرحال یوسف ؑ نے یہ سب انتظامات اس لئے کئے کہ…
Read the full tafseer →وَقَالَ لِفِتْيٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِيْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُوْنَهَآ اِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْن۔
مزید احسا : حضرت یوسف ؑ نے اس خیال سے کہ مالی مشکلات ان کے دوبارہ آنے میں مانع نہ ہوں یہ کیا کہ اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ جو نقدی انہوں نے غلہ کی قیمت کے طور پر ادا کی ہے وہ ان کے سامان میں ڈال دی جائے تاکہ جب وہ گھر پر جا کر اپنا سامان کھولیں تو وہ یہ محسوس کریں کہ یہ ان پر احسان کیا گیا ہے اور خوشی، خوشی، حوصلہ کے ساتھ دوبارہ غلہ لینے آئیں۔
Read the full tafseer →62۔ 1 فِتْیَان (نوجوانوں) سے مراد یہاں وہ نوکر چاکر اور خادم و غلام ہیں جو دربار شاہی میں مامور تھے۔
62۔ 2 اس سے مراد وہ پونجی ہے جو غلہ خریدنے کے لئے برادران یوسف ؑ ساتھ لائے تھے، پونجی چپکے سے ان کے سامانوں میں اس لئے رکھوا دی کہ ممکن ہے دوبارہ آنے کے لئے ان کے پاس مذید پونجی نہ ہو تو یہی پونجی لے کر آجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
40: حضرت یوسف ؑ نے ان بھائیوں کے ساتھ یہ احسان فرمایا کہ غلے کو خریدنے کے لیے جو قیمت انہوں نے دی تھی، وہ واپس انہی کے سامان میں رکھوا دی اس زمانے میں سونے چاندی کے سکوں کے بجائے مختلف قسم کا سامان قیمت کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کنعان سے کچھ چمڑا اور جوتے لے کر آئے تھے وہی انہوں نے غلے کی قیمت کے طور پر پیش کیا، اور اسی کو حضرت یوسف ؑ نے واپس ان کے سامان میں رکھوا دیا یہ ظاہر بات ہے کہ انہوں نے اپنی جیب سے اتنی قیمت سرکاری خزانے میں جمع کرا دی ہوگی۔
Read the full tafseer →وقال لفتینہ اجعلوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لعلھم یرجعون (12 : 62) “ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ “ ان لوگوں نے غلے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو ”۔ یہ یوسف (علیہ السلام) نے اس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کر وہ اپنا واپس پایا ہوا مال پہچان جائیں گے (یا اس فیاضی پر احسان مند ہوں گے ) اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں ”۔
Read the full tafseer →2 یعنی جو پونجی دے کر غلہ خریدا تھا، حکم دیا کہ وہ بھی خفیہ طور پر ان کے اسباب میں رکھ دو تاکہ گھر پہنچ کر جب اسباب کھولیں اور دیکھیں کہ غلہ کے ساتھ قیمت بھی واپس دے دی گئی تو دوبارہ ادھر آنے کی ترغیب مزید ہو کہ ایسے کریم بادشاہ کہاں ملتے ہیں۔ اور ممکن ہے قیمت نہ موجود ہونے کی بناء پر دوبارہ آنے سے مجبور رہیں اس لیے قیمت واپس کردی۔ بعض نے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے قیمت لینا مروت و کرم کے خلاف سمجھا۔
Read the full tafseer →آیت 62 وَقَالَ لِفِتْيٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِيْ رِحَالِهِمْ
اس زمانے میں چیزوں کے عوض ہی چیزیں خریدی جاتی تھیں۔ چناچہ وہ لوگ بھی اپنے ہاں سے کچھ چیزیں بھیڑ بکریوں کی اون وغیرہ اس مقصد کے لیے لے کر آئے تھے اور غلے کی قیمت کے طور پر اپنی وہ چیزیں انہوں نے پیش کردی تھیں۔ مگر حضرت یوسف نے اپنے ملازمین کو ہدایت کردی کہ جب ان کے کجاو وں میں گندم بھری جائے تو ان لوگوں کی یہ چیزیں بھی جو انہوں نے غلے کی قیمت کے طور پر ادا کی ہیں چپکے سے واپس ان کے کجاو وں میں ہی رکھ دی جائیں۔
Read the full tafseer →60 غلہ کی قیمت کی واپسی :۔ سیدنا یوسف نے ان کی اچھی طرح مہمان نوازی کی اور غلہ بھرنے والوں کو یہ اشارہ بھی کردیا کہ جو رقم غلہ کی قیمت کے طور پر ان سے وصول کی گئی ہے وہ بھی ان کے غلہ میں رکھ دی جائے اور یہ کام انہوں نے اس غرض سے کیا کہ ممکن ہے کہ انھیں دوبارہ آنے کے لیے رقم میسر نہ ہو اور وہ آہی نہ سکیں یا بڑی دیر بعد میسر ہو تو اس صورت میں بڑی دیر سے میرے پاس دوبارہ ان کے چھوٹے حقیقی بھائی بن یمین کو ساتھ لے کر آئیں۔ قرآن کے الفاظ سے تو رقم واپس کرنے کی یہی اصل غرض معلوم ہوتی ہے۔ تاہم بعض مفسرین کہتے ہیں کہ رقم کی واپسی سے ان کا دوسرا مقصد یا تابع مقصد یہ بھی تھا کہ وہ بھائیوں سے غلہ کی قیمت…
Read the full tafseer →119۔ یعنی جب اپنے وطن پہنچ کر یہ قیمت بھی واپس شدہ پائیں گے تو اس احسان وکرم سے متاثر ہو کر پھر تو ضرور ہی آئیں گے۔ توریت میں ہے :۔ ” تب یوسف (علیہ السلام) نے حکم کیا کہ ان کے بورے غلہ سے بھریں اور ہر شخص کی نقدی اس کے بورے میں رکھ کر پھیر دیں اور انہیں سفر کی خورش بھی دے دیویں۔ ان سے یوں سلوک کیا گیا “۔ (پیدائش۔ 42: 25)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–68
آیت نمبر 58 تا 68
ترجمہ : اور قحط کے سال شروع ہوگئے اور (اس کے اثرات) ملک کنران اور شام تک پہنچ گئے، جب اہل کنعان کو یہ اطلاع پہنچی کہ عزیز مصر قیمۃً غلہ دیتا ہے تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سوائے بنیامین کے غلہ لینے کیلئے (مصر) آئے چناچہ جب بھائی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا اور بھائی یوسف کو نہ پہچان سکے، (اسکی جدائی کو) مدت دراز گذر جانے کی وجہ سے اور اس کے بارے میں یہ گمان ہونے کی وجہ سے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہوگا، بھائیوں نے یوسف سے عبرانی زبان میں گفتگو کی، یوسف (علیہ السلام) نے انجان بنکر ان سے معلوم کیا کہ میرے ملک آنے کا تمہارا کیا سبب…
Read the full tafseer →وقال لفتینہ اجعلوا بضاعتھم فی رحالھم لعلھم یعرفونھا اذا انقلبوا الی الھلم لعلھم یرجعون اور یوسف نے اپنے (غلہ ناپنے والے) خادموں سے کہا : ان کا سرمایہ (یعنی غلہ کی قیمت جو انہوں نے دی ہے) انہی کے سامان میں رکھ دو تاکہ گھر لوٹ کر جب وہ (لوٹایا ہوا) سرمایہ دیکھیں گے تو (واپسی کا حق پہچان کر) امید ہے لوٹ آئیں گے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے بیان کیا کہ ان کا سرمایہ جو انہوں نے غلہ کی قیمت میں دیا تھا ‘ جوتے اور کھالیں تھیں۔ بعض نے کہا کہ آٹھ بورے کسی قسم کے ستو تھے۔ اوّل قول حسب رائے بغوی زیادہ صحیح ہے۔
بعض علماء نے کہا کہ حضرت یوسف نے تکمیل احسان اور اتمام نوازش کے جذبہ کے زیر اثر بھائیوں…
Read the full tafseer →(62) حضرت یوسف ؑ نے اپنے نوکروں سے فرمایا ان کی جمع پونجی ان کے پلان ہی میں اس طرح چھپا کر رکھو دو کہ ان کو پتا نہ چلے۔
تاکہ یہ میرے احسان کو جان لیں یا یہ کہ ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ ان ہی کی جمع پونجی ہے اور وہ جب اپنے والد کے پہنچیں تو پھر اس رقم کو لے کر میرے پاس آئیں۔
Read the full tafseer →وَقَالَ لِفِتْيٰنِهِ۔۔ : ”فِتْیَانٌ“ ”فَتًی“ کی جمع ہے، دیکھیے (آیت 36) ”رِحَالٌ“ ”رَحْلٌ“ کی جمع ہے، وہ کجاوہ جو اونٹ پر سوار ہونے کے لیے رکھا جاتا ہے اور اس سامان کو بھی کہہ لیتے ہیں جو اونٹ پر رکھا جائے، اس لیے اونٹ کو ”رَاحِلَۃٌ“ کہہ لیتے ہیں۔ ”بِضَاعَۃٌ“ وہ رقم یا سامان جس کے ساتھ کوئی چیز خریدی جائے، یعنی اپنے جوانوں کو وہ رقم یا سازوسامان جو وہ غلہ خریدنے کے لیے قیمت کے طور پر لائے تھے، ان کو بتائے بغیر بطور احسان ان کی بوریوں میں رکھ دینے کا حکم دے دیا اور اس لیے بھی کہ بھائیوں کی حالت دیکھ کر گھر کی تنگ دستی کا اندازہ ہوگیا، جس کا ذکر تیسری دفعہ آنے پر انھوں نے خود کیا۔ دیکھیے آیت…
Read the full tafseer →آیت نمبر 62
وقال لفتیٰنہ یہ اہل مدینہ، ابوعمرو اور عاصم کی قرات ہے اور یہی ابوحاتم، نحاس اور دیگر لوگوں کے نزدیک مختار ہے، جبکہ سب کو فیوں نے اسے لفتیانہ پڑھا ہے اور ابوعبید کے نزدیک مختار ہے۔ انہوں نے کہا : حضرت عبداللہ کے مصحف میں بھی اس طرح ہے، شبلی نے کہا : یہ دونوں عمدہ لغتیں ہیں۔ جس طرح کہ الصبیان اور الصبیہ۔ نحاس نے کہا : لفتیٰنہ سواداعظم کے مخالف ہے کیونکہ سواواعظم کے نزدیک نہ اس میں الف ہے اور نہ نون لہٰذا اس منقطع سند کی بنیاد پر سواداعظم کو نہیں چھوڑا جائے گا اور یہ وجہ بھی ہے کہ فتیۃ، فتیان کی نسبت زیادہ مناسب ہے کیونکہ فتیۃ عربوں کے نزدیک کم تعداد کے لیے بولا جاتا ہے اور تھوڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–66
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ائتونی باخ لکم من ابیکم “ سے مراد ہے بنیامین اور وہ یوسف کے سگے بھائی تھے۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مصر میں جو مہمان نوازی کرتا ہے میں اس سے بہتر مہمان نوازی کرنے والا ہوں۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مہمان نوازی کرنے والوں میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہے۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →[وَقَالَ : اور انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لِفِتْيٰنِهِ : اپنے نوجوان خادموں سے ] [اجْعَلُوْا : تم لوگ رکھ دو ] [بِضَاعَتَهُمْ : ان کی پونجی کو ] [فِيْ رِحَالِهِمْ : ان کی بوریوں میں ] [ لَعَلَهُمْ؛شائد وہ لوگ ] [يَعْرِفُوْنَهَآ : پہچانیں اس کو ] [اِذَا : جب ] [انقَلَبُوْا : وہ لوگ پلٹیں ] [ اِلٰٓى اَهْلِهِمْ : اپنے گھر والوں کی طرف ] [ لَعَلَهُمْ؛شائد وہ لوگ ] [ يَرْجِعُوْنَ : واپس آئیں ]
ر ح ل
[رَحْلًا : (ف) (1) اونٹ یا گھوڑے کی پیٹھ پر کجادہ باندھنا۔ (2) سفر کرنا۔] [رَحْلٌ: ج رِحَالٌ۔ سامان رکھنے کا تھیلا یا بوری وغیرہ۔ زیر مطالعہ آیت 62 ۔] [رحلۃ : کوچ۔ سفر۔ رِحْلَۃَ الشِّتَائِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
برادران یوسف کا اپنی پونجی کو سامان میں پا کر اپنے والد سے دوبارہ مصر جانے کی درخواست کرنا اور چھوٹے بھائی کی حفاظت کا وعدہ کرنا
باپ بیٹوں کی باتیں ہو رہی تھیں کہ مصر میں غلہ لینے گئے تو وہاں سے غلہ تو لے آئے لیکن جو صاحب غلہ تقسیم کرتے ہیں انہوں نے آئندہ کے لیے یہ شرط لگا دی ہے کہ اپنے بھائی کو بھی لاؤ گے تو غلہ ملے گا ورنہ نہیں پھر جب سامان کی طرف متوجہ ہوئے سامان کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ جو پونجی وہاں غلہ کے عوض دی تھی وہ تو اپنے ہی سامان میں موجود ہے۔ پونجی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ ابا جان ہمیں اور کیا چاہئے ہم غلہ بھی لے آئے اور پونجی بھی واپس مل گئی ایسے کریم اور محسن آدمی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–68
یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت
قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون
اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق…
Read the full tafseer →54:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ملازموں سے فرمایا اس مال کو جس کے عوض انہوں نے غلہ خریدا ہے ان کی بوریوں میں واپس کردو۔ ممکن ہے جب وہ واپس گھر پہنچیں تو اپنا مال پہچان لیں اور ازراہِ دیانت و امانت ہمیں واپس دینے کے لیے دوبارہ مصر آئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ربط آیات
گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب شاہ مصر کو اس کے خواب کی تعبیر مل گئی تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کو بلا بھیجا مگر آپ نے اپنے خلاف لگائے گئے الزام کی صفائی تک جیل سے باہر آنے سے انکار کردیا۔ پھر بادشاہ نے مصر کی معزز خواتین کو طلب کرکے یوسف (علیہ السلام) کی بےگناہی کے متعلق تسلی کرلی تو آپ جیل سے نکل کر شاہی دربار میں پہنچے۔ بادشاہ آپ کے علم و فہم اور عقل و دانش کا تو پہلے ہی معترف ہوچکا تھا ‘ جب اس نے آپ سے گفتگو کی تو مزید گرویدہ ہوگیا ‘ اور آپ کو اپنے مصاحبین میں شامل کرلیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے خود امور خزانہ کی ذمہ داری اٹھانے کی پیش کش کی جسے بادشاہ نے منظور کرلیا اور آپ کو…
Read the full tafseer →وَقَالَ لِفِتْيٰنِہِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَہُمْ فِيْ رِحَالِہِمْ لَعَلَّہُمْ يَعْرِفُوْنَہَآ اِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓى اَہْلِہِمْ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ 62
فتی
الفَتَى الطّريُّ من الشّباب، والأنثی فَتَاةٌ ، والمصدر فَتَاءٌ ، ويكنّى بهما عن العبد والأمة .
قال تعالی: تُراوِدُ فَتاها عَنْ نَفْسِهِ [يوسف/ 30]
(ت ی ) الفتیٰ
کے معنی نوجوان کے ہیں اس کی مونث فتاۃ اور مصدر فتاء ہے بعدہ کنایہ کے طور پر یہ دونوں لفظ ( فتی اور فتاۃ ) غلام اور لونڈی کے معنی میں استعمال ہونے لگے ہیں ۔ قرآن میں ہے :
تُراوِدُ فَتاها عَنْ نَفْسِهِ [يوسف/ 30] اپنے ٖغلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی تھی ۔ جس طرح نوجوان آدمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
1 ؎ سوتیلے بھائی بنیامین جو یوسف (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی تھے 12 منہ
Read the full tafseer →وَقَالَ لِفِتْیٰـنِہِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَہُمْ فِیْ رِحَالِہِمْ لَعَلَّھُمْ یَعْرِفُوْنَھَآ اِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓی اَھْلِہِمْ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 62)
(حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ ان کا دیا ہوا مال (خاموشی سے) سے ان کی خورجیوں ہی میں ڈال دو ، کہ جب وہ اپنے اہل و عیال میں پہنچیں اس کو پہچانیں تاکہ وہ لوٹ کے آئیں۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا احسان
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی زبانی یہ معلوم ہوچکا تھا کہ ان کے مالی حالات نہایت مخدوش ہیں۔ بنابریں اس بات کا اندیشہ تھا کہ وہ مالی مشکلات کی وجہ سے دوبارہ غلہ لینے کے لیے نہ آسکیں اور حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے فرمان کے جواب میں ان کے بھائیوں کا چھوٹے بھائی کو ساتھ لانے کا وعدہ۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کی بہترین مہمان نوازی کی اور انھیں رخصت کرتے ہوئے صاف صاف فرمادیا کہ اگر تم اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ نہ لائے تو ادھر کا رخ نہ کرنا۔ ان کے بھائیوں نے ان سے الوداع ہوتے ہوئے عرض کی کہ ہم اسے ساتھ لانے کے لیے اپنے والد کو آمادہ کریں گے کہ وہ ضرور اسے ہمارے ساتھ بھیجے۔ ہم ہر صورت ایسا کریں گے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ تاکید انہیں اس لیے کی تاکہ حقیقی بھائی سے ان کی ملاقات ہو اور انہیں براہ راست اپنے والد گرامی کے حالات…
Read the full tafseer →62: وَقَالَ لِفِتْیٰنِہِ (آپ نے اپنے خدام سے کہا)
قراءت : کوفی نے سوائے ابوبکر کے لفتیانہ پڑھا اور دوسروں نے لفتیتہٖ پڑھا ہے۔ اور یہ دونوں جمع ہیں۔ جیسے اخوۃ۔ اخوان، اخ کی جمع ہے۔ فعلۃ کا وزن قلت اور فعلان کثرت کیلئے استعمال ہوتا ہے یعنی اپنے غلہ ناپنے والے خدام اجْعَلُوْا بِضَاعَتَھُمْ فِیْ رِحَالِھِمْ (ان کا سامان ان کے کجاوں میں رکھ دو ) نمبر 1۔ ان کے برتنوں میں اور وہ موزے تھے یا نمبر 2۔ کھالیں یا چاندی اور یہ کجا ووں میں چھپانے کیلئے زیادہ مناسب ہے۔ لَعَلَّھُمْ یَعْرِفُوْنَھَآ (شاید وہ اس کو پہچانیں) اسکی واپسی کا حق پہچانیں اور دونوں بدلوں کے ذریعہ اکرام کا حق پہچانیں۔ اِذَا…
Read the full tafseer →62۔” وقال لفتیانہ “ حمزہ ، کسائی اور حفص رحمہما اللہ نے ” لفتیانہ “ الف اور نون کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے ” لفتیتہ “ تاء کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے۔ مراد ان کے خدمت گار ہیں اور یہ دو لغتیں ہیں الصبیان اور الصبیۃ کی طرح۔ ” اجعلوا بضاعتھم “ ان کے غلہ کی قیمت ، یہ چند دراہم تھے۔ اور ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ وہ جوتے اور چمڑے تھے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ گندم کے ستو کے آٹھ توشے دان تھے اور پہلا قول اصح ہے۔” فی رحالھم “ ان کے ظروف میں ۔ یہ رحل کی جمع ہے۔” لعلم یعرفو تھا اذا انقلبوا الی اھلھم لعلھم یرجعون “ اس سبب میں اختلاف ہے جس کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) نے یہ کام کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
58۔ 62۔ جب یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کی جگہ بادشاہ کے وزیر ہوگئے اور سارا انتظام ملکی و مالی ان کے قبضہ و تصرف میں آگیا تو سات سال ارزانی میں انہوں نے بہت اہتمام کیا اور غلوں کو نہایت احتیاط سے جمع کیا یہاں تک کہ ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا اور جب ارزانی کا زمانہ گزر گیا اور قحط شروع ہونے لگا تو دور دور کے لوگ غلہ خریدنے کو مصر میں آنے جانے لگے۔ یوسف (علیہ السلام) کسی شخص کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ غلہ نہیں دیتے تھے اور آپ معہ بادشاہ اور لشکر کے دن میں ایک دفعہ کھانا کھاتے تاکہ یہ سات سال قحط کے بآسانی گزر جائیں جب یہ خبر رفتہ رفتہ ملک شام پہنچی کہ مصر میں غلہ فروخت ہوتا ہے تو یوسف کے…
Read the full tafseer →(آیت) یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : (آیت) ” اپنے خدام سے۔ “ یعنی اپنے کارندوں سے جو ان کی خدمت میں موجود تھے۔ (آیت) ” رکھ دوان کی پونجی “ یعنی وہ قیمت جس کے بدلے انہوں نے اناج خریدا تھا۔ (آیت) ” ان کے اسباب میں، شاید وہ اس کو پہچان لیں “ یعنی جب وہ اپنے مال کو جو انہوں نے قیمت کے طور پر ادا کیا تھا، واپس اپنے اپنے کجاوں میں دیکھیں گے (آیت) ” شاید پھر یہاں آئیں۔ “ یعنی شاید وہ اپنے مال کی واپسی کو گناہ سمجھتے ہوئے اسے لوٹانے کے لئے مصر واپس آئیں۔
ظاہر ہے یوسف (علیہ السلام) نے ان کے ساتھ پورے تول کے ذریعے سے نیکی کی تھی، پھر ان کی قیمت بھی ان کو اس طرح واپس لوٹ دی تھی کہ اس کی واپسی کا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع…
Read the full tafseer →103۔ بھائیوں کے واپس لوٹنے کے لیے اور ترغیب :
اول تو غلے کی ضرورت ہی بڑاسبب اور داعی ہے ان کے لوٹنے کا۔ اور مزید یہ کہ غلہ بھی بالکل مفت اور بغیر کسی عوض کے۔ پھر قیمت کی واپسی بھی ایسے شریفانہ طور پر کہ ان کی طبیعتوں پر کوئی بوجھ نہ بننے پائے کہ اس کو چپکے سے ان کے سامان کے اندرچھپاکر رکھ دیا گیا۔ سو یہ سب امورقوی ووافع اور بواعث تھے اس بات کے کہ وہ لوگ آئندہ اپنے بھائی کو ہمراہ لے کر آئیں۔ جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کی دیدولقاء کے کس قدرمشتاق اور خواہش مند تھے۔ اور یہ ایک طبعی اور فطری امر تھا کہ آپ ایک عرصہ سے جدائی کے صدمے برداشت کررہے تھے۔ علیہ الصلوۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–68
آیات 58 تا 68
اسرار و معارف
مصر کیا ہر جگہ بڑی فصلیں ہوئیں اور غلے اور پھلوں کی فروانی نے لوگوں کو امیر کردیا یوسف (علیہ السلام) نے بہت اہتمام فرمایا کہ ضرورت سے زائد غلہ لوگوں سے خرید کر جمع فرماتے گئے اور ابتدائی سات برسوں میں سرکاری گودام بھر گئے ۔ پھر قحط سالی شروع ہوئی تو غلہ کا دانہ نہ ملتا تھا تب آپ نے فروخت کرنے کا اہتمام فرمایا ۔
اشیاے ضرورت پر کنڑول نہ صرف جائز بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے
اور فروخت پر بھی کنڑول رکھا کہ ایک آدمی کو اس کے خاندان کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ جو مقرر تھا دیا جاتا تھا تا کہ لوگ خرید کر مہنگے داموں بیچنا شروع نہ کردیں جسے آج کی زبان میں بلیک مار کٹینگ کہا جاتا…
Read the full tafseer →ف 12 ۔ جس رقم کے عوض انہوں نے غلہ خریدا وہ بطور احسان کے اناج کی بوریوں میں چھپا کر رکھ دی گئی۔ (از موضح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
(12: 62) لفتیانہ۔ جمع فتی۔ واحد لام حرف ِ جر۔ فتیانمضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اپنے خادموں سے ۔ فتی۔ بمعنی غلام ۔ جوان۔ سخی۔
اجعلوا۔ رکھ دو ۔ بنادو ۔ جعل سے امر جمع مذکر حاضر۔
بضاعتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی پونجی۔ ان کا سامانِ تجارت۔ ملاحظہ ہو 12: 19 ۔
رجالہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی خرجئیں ۔ ان کے کجاوے۔ بمراد۔ ان کے سامان میں۔ ان کے مال و اسباب میں۔
اصل میں اونٹ پر سواری کے لئے جو چیز رکھی جاتی ہے یعنی پالان وغیرہ۔ اس کو رحل کہتے ہیں۔ مجازاً منزل۔ مسکن۔ خرجئیں اور سامانِ سفر کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ رحلہ اس کا اسباب ِ سفر۔ اس کا کجاوہ۔
لعلہم یعرفونہا۔ ہا ۔ ضمیر واحد مؤنث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
لغات القرآن آیت نمبر 62 تا 66
(فتین نوجوان، خدمت کرنے والے) ( اجعلوا ڈالد و، کرو) ( بضاعۃ سامان، پونجی) ( رحال اسباب، سامان، کجاوا ) ( یعرفون وہ پہچانتے ہیں) ( انقلبوا وہ پلٹے اھل گھر والے) ( رجعوا وہ لوٹے) ( منع منع کردیا گیا ) (نکتل ہم ماپ لیں گے، ماپ کر لائیں گے) ( امن میں بھروسہ کروں گا ) (خیر بہترین) ( حافظ حفاظت کرنے والا) ( ارحم بہت رحم کرنے والا ) (فتحوا انہوں نے کھولا) ( متاع سامان) (وجدوا انہوں نے پایا ) (ردت لوٹا دیا گیا) ( مانبغی ہم کیا چاہتے ہیں ؟ ) ( نمیر (میر) مدد لائیں، گھر والوں کے لئے سامان لانا) ( نزداد ہم اضافہ کریں گے، زیادہ لائیں گے) ( بعیر اونٹ ) (کیل یسیر آسان بوجھ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–66
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا پنے گھر جانا اور اپنے باپ سے سوال جواب کرنا
پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ : اب جو آنا تو اپنے اس بھائی کو بھی اپنے ہمراہ لیتے آنا تاکہ تمہارا سچ معلوم ہوجائے۔ دیکھو میں نے تمہاری بہت خاطر کی ہے اور غلہ بھر پور دیا ہے۔ اگر اب کے اپنے بھائی کو نہ لاؤ گے تو تمہیں غلہ نہ دیں گے اور نہ اپنے پاس جگہ دیں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ : نہیں ہم ضرور اس کو اپنے ساتھ لائیں گے اور اگرچہ باپ اس کو اپنے پاس سے علیحدہ نہیں کرتے مگر ہم انہیں سمجھا بجھا کر جس طرح ممکن ہوگا اسے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے پختہ وعدہ ان سے لے لیا کہ وہ ضرور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
[20] غالباً یہ اس خیال سے کہا کہ اس قحط کے زمانے میں ایک پورا جتھا دیکھ کر مصریوں کو شبہ ہوگا کہ یہ لوگ لوٹ مار کرنے کی غرض سے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
برائی کا جواب نیکی سے !
(ف 1) پونجی اور سرمایہ کو واپس کردینا ، کما اخلاق کی دلیل ہے ، بھائیوں نے تو مزعومہ اقتدار کی مخالفت کی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یہ نوازش ہے کہ انہوں نے ان سے یہ احسان کیا ، اناج بھی دیا اور پونجی بھی لوٹا دی ،
بات یہ ہے برائی کا بہترین انتقام نیکی ہے وہ لوگ جو بلند اخلاق کے زیور سے آراستہ ہیں ، کبھی برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے ، وہ حسن سلوک اور مروت سے پیش آتے ہیں تاکہ مخالف کے دل میں خود بخود اخلاقی حس بیدار ہو ، اور وہ اپنی غلطی کو پہچانے ، اس طرح سے عداوتیں دوستی سے بدل جاتی ہیں ، اور کدورتیں دل سے زائل ہوجاتی ہیں ، اسلام اسی طرز عمل کو پسند کرتا ہے ،…
Read the full tafseer →62 ۔ اور بھائیوں کے رخصت ہوتے وقت یوسف (علیہ السلام) نے خاموشی کے ساتھ اپنے خدمت گاروں اور نوکروں کو حکم دیا کہ وہ ان کی پونچی جوں کی توں ان کے سامان و اسباب میں رکھ دو تا کہ جب یہ اپنے اہل و عیال میں واپس جائیں تو اس پونجی کو پہچان لیں اور اس احسان کو دیکھ کر پھر دوبارہ آئیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ وہ جو قیمت لائے تھے وہ چھپا کر ان کے بوجھوں میں ڈال دی احسان کر کر 12
خلاصہ :۔ یہ ہے کہ غلہ کے عوض ان سے جو کچھ لیا تھا وہ چپکے سے ان ہی کے سامان میں رکھوا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
ف 6۔ غرض یوسف (علیہ السلام) نے باختیار ہوکرغلہ کاشت کرانا اور جمع کرانا شروع کردیا اور سات برس کے بعد قحط شروع ہوا یہاں تک کہ دور دور سے یہ خبر سن کر کہ مصر میں سلطنت کی طرف سے غلہ فروخت ہوتا ہے جوق درجوق لوگ آنا شروع ہوئے اور کنعان میں بھی قحط ہوا تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بجز بنیامین کے غلہ لینے مصر آئے۔
Read the full tafseer →یوسف نے جب ان کا سامان تیار کرایا تو ان کی پونجی بھی سامان میں رکھوا دی
۔ 74 سامان تیار ہوجانے کے بعد جب وہ یوسف (علیہ السلام) سے حسب ضابطہ رخصت ہونے کیلئے آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ خاموشی کے ساتھ ان کے کجاو وں میں ان کی وہ پونجی بھی رکھ دو جو انہوں نے غلہ کی قیمت کے نام سے دی ہے تاکہ جب گھر جا کر اس کو دیکھیں تو عجب نہیں کہ پھر دوبارہ واپس آئیں۔ گویا یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی زبانی اپنے خاندان کی تکلیفوں کا علم ہوا تو آپ نے یہ گوارانہ کیا کہ اپنے کنبہ والوں سے اس غلہ کی قیمت وصول کریں خصوصاً جب کہ وہ قیمت دینے کے اہل بھی نیں اس لئے آپ نے غلہ تولنے…
Read the full tafseer →Ibn Kathir has described several possibilities as to why Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) acted the way he did: (1) It occurred to him that, perhaps they may not have anything other than the cash and jewelry they had brought. If so, they would be unable to come for the grains again. (2) Perhaps, he could not bear by the idea of taking the price of foodstuff from his father and brothers, therefore, he paid the amount due from his pocket and had it deposited in the royal treasury, and returned their cash and jewelry back to them. (3) He knew when their cash and jewelry is found in their supplies…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
53. Prophet Jacob’s great concern over this journey of his sons was due to the fact that his youngest son, Benjamin, was to accompany them. He was anxious about his safety because he had already had a bad experience of his son Joseph. Naturally his heart must have been full of such misgivings that it might be his last meeting with his other beloved son. Though he had full trust in Allah and was patiently resigned to His will, but, as a human being, advised his sons to take certain precautionary measures. In order to understand the significance of this precautionary measure of entering the…
Read the full tafseer →