Explained with ayahs 58–62
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یوسف کے بعد ان کے بھائی کو بھیجچتے وقت یعقوب کے دل پر کیا کچھ گزر رہی ہوگی گو خدا پر بھروسہ تھا اور صبر و تسلیم میں ان کا مقام نہایت بلند تھا، مگر پھر بھی تھے تو انسان ہی، طرح طرح کے اندیشے دل میں آتے ہوں گے اور رہ رہ کر اس خیال سے کانپ اٹھتے ہوں گے کہ خدا جانے اب اس لڑکے کی صورت بھی دیکھ سکوں گا یا نہیں، اسی لیے وہ چاہتے ہوں گے کہ اپنی حد تک احتیاط میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔
یہ احتیاطی مشورہ کہ مصر کے دار السلطنت میں یہ سب بھائی ایک دروازے سے نہ جائیں، ان سیاسی حالات کا تصور کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے جو وقت پائے جاتے تھے، یہ لوگ سلطنت مصر کی سرحد پر آزاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
اور پھر ایک دھمکی بھی دے دی (آیت) فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِيْ بِهٖ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِيْ وَلَا تَقْرَبُوْنِ یعنی اگر تم اپنے اس بھائی کو ساتھ نہ لائے تو پھر میں تم میں سے کسی کو بھی غلہ نہ دوں گا (کیونکہ میں سمجھوں گا کہ تم نے مجھ سے جھوٹ بولا ہے) اس طرح تم میرے پاس نہ آنا، دوسرا انتظام خفیہ یہ کیا کہ جو نقد یا زیور وغیرہ ان بھائیوں نے غلہ کی قیمت کے طور پر ادا کیا تھا اس کے متعلق کارندوں کو حکم دے دیا کہ اس کو چھپا کر انہی کے سامان میں اس طرح باندھ دو کہ ان کو اس وقت پتہ نہ لگے تاکہ جب یہ گھر پہنچ کر سامان کھولیں اور اپنا نقدو زیور بھی ان کو واپس ملے تو یہ پھر دوبارہ لینے کیلئے آسکیں
Read the full tafseer →قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَ۔
بھائیوں کا جواب : " مراودت " کے معنی بہلانے پھسلانے کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں ہم اس کے باپ کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے اور جہاں تک اپنی کوشش کا تعلق ہے اس میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔ ان کے اس جملہ کے اندر یہ بات مضمر ہے کہ اگر ہم اس کا لانے میں کامیاب نہ ہوسکے تو اس میں ہمارا قصور نہ ہوگا، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے باپ نے اس کو اجازت نہ دی اور یہ چیز ایسی ہے جس میں ہماری مجبوری واضح ہے۔ حضرت یوسف کے ساتھ جو کچھ وہ کرچکے تھے اس کے سبب سے ان کے دل میں ایک چور تھا جو ان کے اس فقرے میں نمایاں ہے۔
Read the full tafseer →61۔ 1 یعنی ہم اپنے باپ کو اس بھائی کو لانے کے لئے پھسلائیں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
40: حضرت یوسف ؑ نے ان بھائیوں کے ساتھ یہ احسان فرمایا کہ غلے کو خریدنے کے لیے جو قیمت انہوں نے دی تھی، وہ واپس انہی کے سامان میں رکھوا دی اس زمانے میں سونے چاندی کے سکوں کے بجائے مختلف قسم کا سامان قیمت کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کنعان سے کچھ چمڑا اور جوتے لے کر آئے تھے وہی انہوں نے غلے کی قیمت کے طور پر پیش کیا، اور اسی کو حضرت یوسف ؑ نے واپس ان کے سامان میں رکھوا دیا یہ ظاہر بات ہے کہ انہوں نے اپنی جیب سے اتنی قیمت سرکاری خزانے میں جمع کرا دی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
سیاق کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو عزت و احترام سے بٹھایا اور ان کو اس طرح سبق پڑھانا شروع کیا۔
ولما جھزھم ۔۔۔۔۔ من ابیکم (12 : 59) “ پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروادیا تو چلتے وقت ان سے کہا “ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے لانا ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی ہی ملاقات میں وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بےتکلف ہوگئے تھے ، اس طرح انہوں نے عزیز مصر کو بتا دیا کہ وہ کون ہیں اور یہ کہ ان کا ایک سوتیلا بھائی بھی ہے جسے ہمارا باپ اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ نہیں آیا۔ جب ان لوگوں کا سامان تیار ہوگیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہہ دیا کہ وہ تمہارے اس…
Read the full tafseer →1 یعنی گو باپ سے اس کا جدا کرنا سخت مشکل ہے تاہم ہماری یہ کوشش ہوگی کہ باپ کو کسی تدبیر سے راضی کرلیں۔ امید ہے کہ کسی نہ کسی طرح ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
آیت 59 وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْ
غلہ چونکہ راشن بندی کے تحت دیا جاتا تھا اس لیے انہوں نے درخواست کی ہوگی کہ ہمارا ایک بھائی اور بھی ہے اس کے اہل خانہ بھی ہیں اسے ہم اپنے والد کی خدمت کے لیے پیچھے چھوڑ آئے ہیں اس کے حصے کا غلہ بھی ہمیں دے دیا جائے۔ اس سلسلے میں سوال و جواب کے دوران انہوں نے یہ بھی بتایا ہوگا کہ ہم دس حقیقی بھائی ہیں جبکہ وہ گیا رہواں بھائی باپ کی طرف سے سگا لیکن والدہ کی طرف سے سوتیلا ہے۔ حضرت یوسف نے یہ سارا ماجرا سننے کے بعد فرمایا ہوگا کہ ٹھیک ہے میں آپ کے گیارہویں بھائی کے حصے کا اضافی غلہ تم لوگوں کو اس شرط پردے…
Read the full tafseer →59 وہ کہنے لگے، ہمارا باپ بوڑھا ہے۔ لہذا وہ آسانی سے اسے ہمارے ساتھ روانہ نہ کرے گا۔ تاہم ہم لوگ اپنی پوری کوشش کریں گے اور امید ہے کہ اپنے باپ کو اس بات پر آمادہ کرلیں گے۔
Read the full tafseer →118۔ یعنی باپ سے کہہ سن کے اس بھائی کے لانے کی کوشش اپنی والی تو ضرور ہی کرڈالیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–68
آیت نمبر 58 تا 68
ترجمہ : اور قحط کے سال شروع ہوگئے اور (اس کے اثرات) ملک کنران اور شام تک پہنچ گئے، جب اہل کنعان کو یہ اطلاع پہنچی کہ عزیز مصر قیمۃً غلہ دیتا ہے تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سوائے بنیامین کے غلہ لینے کیلئے (مصر) آئے چناچہ جب بھائی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا اور بھائی یوسف کو نہ پہچان سکے، (اسکی جدائی کو) مدت دراز گذر جانے کی وجہ سے اور اس کے بارے میں یہ گمان ہونے کی وجہ سے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہوگا، بھائیوں نے یوسف سے عبرانی زبان میں گفتگو کی، یوسف (علیہ السلام) نے انجان بنکر ان سے معلوم کیا کہ میرے ملک آنے کا تمہارا کیا سبب…
Read the full tafseer →قالوا سنرا ودعنہ اباہ وانا لفاعلون بولے : اس کی طرف سے باپ کو پھسلانے کی ہم کوئی تدبیر ضرور کریں گے اور (جو کچھ آپ نے حکم دیا اس کی) بلاشبہ تعمیل کریں گے۔ یعنی اس کی جدائی کا غم باپ کو ضرور ہوگا ‘ مگر ہم کوئی چال چلیں گے اور باپ کے پاس سے لانے کی کوئی تدبیر کریں گے اور اس کی طرف سے باپ کو پھسلائیں گے۔ حضرت یوسف نے فرمایا : تو اپنے میں سے کسی بھائی کو میرے پاس بطور ضمانت چھوڑ جاؤ تاکہ اس کو لا سکو۔ یہ سن کر بھائیوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی ‘ قرعہ میں شمعون کا نام نکل آیا۔ شمعون وہی شخص تھا جس کی حضرت یوسف کے متعلق سب بھائیوں سے زیادہ اچھی رائے تھی (اور اسی نے مشورہ دیا تھا کہ حضرت یوسف کو قتل…
Read the full tafseer →(61) وہ کہنے لگے ہم اپنے باپ سے اس کو ساتھ لانے کی اجازت مانگیں گے اور کوشش کریں گے اور ہم ضرور اس کو لے کر آئیں گے ہم اس کی ضمانت لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ۔۔ : یعنی ہم اس کے باپ کو ہر طرح سے آمادہ کریں گے۔ ”سین“ مستقبل کا معنی دینے کے علاوہ تاکید کے لیے بھی آتا ہے، اس لیے ترجمہ ”ضرور“ کیا گیا ہے۔ ”وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَ“ میں یہ کام کرنے کا وعدہ تین طرح کی تاکید سے کیا ہے، ”اِنَّ“ ، لام تاکید اور جملہ اسمیہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
آیت نمبر 59 تا 61
ولماجھزھم بجھازھم کہا جاتا ہے : جھزت القوم تجھیزا یعنی میں نے ان کو ان کے سفر کے لیے ان کا سامان دے دیا اور شادیوں کا جہیز وہی ہوتا ہے جس کی شوہر کو بطور ہدیہ ضرورت ہوتی ہے۔ بعض کو فیوں نے الجھازجیم کے کسرہ کو بھی جائز قرار دیا ہے اس آیت کریمہ میں الجھاز سے مراد کھانے کا وہ سامان ہے جو انہیں آپ کے پاس سے ملا۔ سدی نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے پاس گیارہ اونٹ تھے جبکہ وہ خود دس تھے۔ انہوں نے حضرت یوسف کو کہا : ہمارا ایک اور بھائی بھی ہے جو پیچھے رہ گیا ہے اور اس کا اونٹ ہمارے ساتھ ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ وہ کیوں پیچھے رہ گیا ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے باپ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–66
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ائتونی باخ لکم من ابیکم “ سے مراد ہے بنیامین اور وہ یوسف کے سگے بھائی تھے۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مصر میں جو مہمان نوازی کرتا ہے میں اس سے بہتر مہمان نوازی کرنے والا ہوں۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مہمان نوازی کرنے والوں میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہے۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →[قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [ سَنُرَاوِدُ : ہم پھسلائیں گے ] [ عَنْهُ : اس کو (روکنے) سے ] [اَبَاهُ : اس کے والد کو ] [ وَانا : اور بیشک ہم ] [ لَفٰعِلُوْنَ : (یہ) ضرور کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
برادران یوسف کا اپنی پونجی کو سامان میں پا کر اپنے والد سے دوبارہ مصر جانے کی درخواست کرنا اور چھوٹے بھائی کی حفاظت کا وعدہ کرنا
باپ بیٹوں کی باتیں ہو رہی تھیں کہ مصر میں غلہ لینے گئے تو وہاں سے غلہ تو لے آئے لیکن جو صاحب غلہ تقسیم کرتے ہیں انہوں نے آئندہ کے لیے یہ شرط لگا دی ہے کہ اپنے بھائی کو بھی لاؤ گے تو غلہ ملے گا ورنہ نہیں پھر جب سامان کی طرف متوجہ ہوئے سامان کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ جو پونجی وہاں غلہ کے عوض دی تھی وہ تو اپنے ہی سامان میں موجود ہے۔ پونجی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ ابا جان ہمیں اور کیا چاہئے ہم غلہ بھی لے آئے اور پونجی بھی واپس مل گئی ایسے کریم اور محسن آدمی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–68
یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت
قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون
اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
53:۔ جب بھائیوں کو غلہ دے کر رخصت کرنے لگے تو فرمایا اپنے گیارہویں بھائی کو بھی ساتھ لانا تم نے دیکھ لیا کہ میں کتنا چھا معاملہ کرتا ہوں، پورا ناپ کردیتا ہوں اور مہمانوں کی بھی خدمت و تواضع کرتا ہوں۔ ” فَاِنْ لَّمْ تَاتُوْنِیْ بِہٖ الخ “ اگر تم اسے ساتھ نہیں لاؤ گے تو میرے پاس مت آنا میں تمہیں غلہ نہیں دوں گا۔ ” قَالُوْا سَنُرَاوِدُ “ انہوں نے کہا ہم اسے لانے کے لیے اس کے باپ سے کوئی حیلہ بہانہ ضرور کریں گے اور اسے ساتھ لے کر آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ربط آیات
گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب شاہ مصر کو اس کے خواب کی تعبیر مل گئی تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کو بلا بھیجا مگر آپ نے اپنے خلاف لگائے گئے الزام کی صفائی تک جیل سے باہر آنے سے انکار کردیا۔ پھر بادشاہ نے مصر کی معزز خواتین کو طلب کرکے یوسف (علیہ السلام) کی بےگناہی کے متعلق تسلی کرلی تو آپ جیل سے نکل کر شاہی دربار میں پہنچے۔ بادشاہ آپ کے علم و فہم اور عقل و دانش کا تو پہلے ہی معترف ہوچکا تھا ‘ جب اس نے آپ سے گفتگو کی تو مزید گرویدہ ہوگیا ‘ اور آپ کو اپنے مصاحبین میں شامل کرلیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے خود امور خزانہ کی ذمہ داری اٹھانے کی پیش کش کی جسے بادشاہ نے منظور کرلیا اور آپ کو…
Read the full tafseer →قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْہُ اَبَاہُ وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَ 61
راود
والمُرَاوَدَةُ : أن تنازع غيرک في الإرادة، فترید غير ما يريد، أو ترود غير ما يرود، ورَاوَدْتُ فلانا عن کذا . قال : هِيَ راوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي[يوسف/ 26] ، وقال : تُراوِدُ فَتاها عَنْ نَفْسِهِ [يوسف/ 30] ، أي : تصرفه عن رأيه،
( ر و د ) الرود
المراودۃ ( مفاعلہ ) یہ راود یراود سے ہے اور اس کے معنی ارادوں میں باہم اختلاف اور کشیدگی کے ہیں ۔ یعنی ایک کا ارداہ کچھ ہو اور دوسرے کا کچھ اور راودت فلان عن کزا کے معنی کسی کو اس کے ارداہ سے پھسلانے کی کوشش کرنا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ هِيَ راوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي[يوسف/ 26] اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
1 ؎ سوتیلے بھائی بنیامین جو یوسف (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی تھے 12 منہ
Read the full tafseer →قَالُوْا سَنُرَا وِدُ عَنْہُ اَبَاہُ وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 61)
(انھوں نے کہا ہم اس کے بارے میں اس کے باپ کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے اور ہم ضرور ایسا کریں گے۔ )
بھائیوں کا خواب
سَنُرَا وِدُکا مصدر مراودت ہے۔ اس کے معنی ہوتے ہیں بہلانا پھسلانا یعنی دوسرے کو سخن سازی، ملائمت یا دلیل سے قائل کرنے کی کوشش کرنا۔ برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) چونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے معاملے میں ایک خیانت کا ارتکاب کرچکے تھے۔ انھوں نے اپنے والد ماجد کو آپ ( علیہ السلام) کی حفاظت کا پورا یقین دلایا تھا اور پھر وعدہ شکنی کرتے ہوئے ان کے ساتھ جو کچھ کیا وہ ہم پیچھے پڑھ چکے ہیں۔ وہ اپنی اس کرتوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے فرمان کے جواب میں ان کے بھائیوں کا چھوٹے بھائی کو ساتھ لانے کا وعدہ۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کی بہترین مہمان نوازی کی اور انھیں رخصت کرتے ہوئے صاف صاف فرمادیا کہ اگر تم اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ نہ لائے تو ادھر کا رخ نہ کرنا۔ ان کے بھائیوں نے ان سے الوداع ہوتے ہوئے عرض کی کہ ہم اسے ساتھ لانے کے لیے اپنے والد کو آمادہ کریں گے کہ وہ ضرور اسے ہمارے ساتھ بھیجے۔ ہم ہر صورت ایسا کریں گے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ تاکید انہیں اس لیے کی تاکہ حقیقی بھائی سے ان کی ملاقات ہو اور انہیں براہ راست اپنے والد گرامی کے حالات…
Read the full tafseer →61: قَالُوْا سَنُرَا وِدُ عَنْہُ اَبَاہُ (انہوں نے کہا ہم اس کے لئے باپ کو پھسلانے کی تدبیر کریں گے) اس کے متعلق ضرور چال چلیں گے اور کوئی حیلہ کریں گے تاکہ ان کے ہاتھوں سے ہم لاسکیں۔ وَاِنَّا لَفٰعِلُوْنَ (اور ہم نے ضرور یہ کرنا ہے) یہ بہر صورت ہوگا۔ اس میں کوئی کمی اور سستی نہ کریں گے یوسف (علیہ السلام) نے کہا ایک کو بطور رہن چھوڑدو۔ انہوں نے شمعون کو ان کے پاس چھوڑ دیا۔ جو یوسف (علیہ السلام) کے متعلق سب سے بہتر رائے والا تھا۔
Read the full tafseer →61۔” قالوا سنر اودعنہ اباہ “ ان سے یہ مطالبہ کریں گے کہ وہ اس کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔
” وانا لفاعلون “ جو آپ نے ہمیں حکم دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
58۔ 62۔ جب یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کی جگہ بادشاہ کے وزیر ہوگئے اور سارا انتظام ملکی و مالی ان کے قبضہ و تصرف میں آگیا تو سات سال ارزانی میں انہوں نے بہت اہتمام کیا اور غلوں کو نہایت احتیاط سے جمع کیا یہاں تک کہ ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا اور جب ارزانی کا زمانہ گزر گیا اور قحط شروع ہونے لگا تو دور دور کے لوگ غلہ خریدنے کو مصر میں آنے جانے لگے۔ یوسف (علیہ السلام) کسی شخص کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ غلہ نہیں دیتے تھے اور آپ معہ بادشاہ اور لشکر کے دن میں ایک دفعہ کھانا کھاتے تاکہ یہ سات سال قحط کے بآسانی گزر جائیں جب یہ خبر رفتہ رفتہ ملک شام پہنچی کہ مصر میں غلہ فروخت ہوتا ہے تو یوسف کے…
Read the full tafseer →(آیت) ” انہوں نے کہا، ہم ضرور خواہش کریں گے اس کی بابت اس کے باپ سے “ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) بنیامین سے بےحد محبت کرتے تھے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کے بعد بنیامین ہی ان کے لئے تسلی کا باعث تھے۔ اس لئے یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بلوانے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی۔ (آیت) ” اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے۔ “ یعنی جو کچھ آپ نے کہا ہے، ہم اس پر ضرور عمل کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
102۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے ترغیب کے بعد ترہیب سے کام لینے کا ذکر وبیان :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تم لوگ اپنے بھائی کو نہ لانے کی صورت میں میرے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ کیونکہ اگر تم اپنے اس بھائی کو اپنے ساتھ نہ لائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم جھوٹے ہو۔ اور اس کے نام کا جو غلہ تم نے لیا ہے وہ فریب اور فراڈ تھا۔ لہذا یسی صورت میں تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ اس طرح یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے ترغیب کے بعد ترہیب کا پہلو تھا تاکہ وہ آئندہ اپنے بھائی کو ضرور اپنے ہمراہ لے آئیں۔ سو اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی اس خواہش کا اندازہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–68
آیات 58 تا 68
اسرار و معارف
مصر کیا ہر جگہ بڑی فصلیں ہوئیں اور غلے اور پھلوں کی فروانی نے لوگوں کو امیر کردیا یوسف (علیہ السلام) نے بہت اہتمام فرمایا کہ ضرورت سے زائد غلہ لوگوں سے خرید کر جمع فرماتے گئے اور ابتدائی سات برسوں میں سرکاری گودام بھر گئے ۔ پھر قحط سالی شروع ہوئی تو غلہ کا دانہ نہ ملتا تھا تب آپ نے فروخت کرنے کا اہتمام فرمایا ۔
اشیاے ضرورت پر کنڑول نہ صرف جائز بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے
اور فروخت پر بھی کنڑول رکھا کہ ایک آدمی کو اس کے خاندان کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ جو مقرر تھا دیا جاتا تھا تا کہ لوگ خرید کر مہنگے داموں بیچنا شروع نہ کردیں جسے آج کی زبان میں بلیک مار کٹینگ کہا جاتا…
Read the full tafseer →ف 11 ۔ یعنی ہم سے جس طرح بھی بن پڑے گا اسے اپنے ساتھ لانے کی کوشش کریں گے۔
Read the full tafseer →(12:61) سنراود۔ مضارع جمع متکلم۔ مر اورۃ۔ (مفاعلۃ) مصدر۔ رود مادہ۔ ہم پھیرنے کی کوشش کریں گے۔ نیز ملاحظہ ہو 12:23
لفاعلون۔ لام تاکید کے لئے۔ اور ہم ضرور کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 61
(جآء آیا ) (اخوۃ بھائی) ( دخلوا وہ داخل ہوئے ) (عرف اس نے پہچان لیا) ( منکرون نہ پہچاننے والے) (جھز اس نے تیار کی، تیار کردیا) ( جھاز سامان) ( اوفی میں پورا دیتا ہوں) ( سنراود ہم درخواست کریں گے) ( لفعلون البتہ ضرور کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 58 تا 61
کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے حضرت یوسف کا واقعہ اور وہ سب معلوم کیا تھا جس کی بنا پر حضرت یعقوب، حضرت یوسف اور ان کے اہل خاندان فلسطین سے مصر پہنچ کر وہاں آباد ہوگئے تھے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ حضرت یوسف کا واقعہ اور ان اسباب کا ذکر فرمایا ہے کہ جب یہ خاندان جو بنی اسرائیل کہلاتا تھا ہجرت کر کے مصر پہنچا۔ ان آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–66
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا پنے گھر جانا اور اپنے باپ سے سوال جواب کرنا
پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ : اب جو آنا تو اپنے اس بھائی کو بھی اپنے ہمراہ لیتے آنا تاکہ تمہارا سچ معلوم ہوجائے۔ دیکھو میں نے تمہاری بہت خاطر کی ہے اور غلہ بھر پور دیا ہے۔ اگر اب کے اپنے بھائی کو نہ لاؤ گے تو تمہیں غلہ نہ دیں گے اور نہ اپنے پاس جگہ دیں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ : نہیں ہم ضرور اس کو اپنے ساتھ لائیں گے اور اگرچہ باپ اس کو اپنے پاس سے علیحدہ نہیں کرتے مگر ہم انہیں سمجھا بجھا کر جس طرح ممکن ہوگا اسے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے پختہ وعدہ ان سے لے لیا کہ وہ ضرور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
[20] غالباً یہ اس خیال سے کہا کہ اس قحط کے زمانے میں ایک پورا جتھا دیکھ کر مصریوں کو شبہ ہوگا کہ یہ لوگ لوٹ مار کرنے کی غرض سے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
برائی کا جواب نیکی سے !
(ف 1) پونجی اور سرمایہ کو واپس کردینا ، کما اخلاق کی دلیل ہے ، بھائیوں نے تو مزعومہ اقتدار کی مخالفت کی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یہ نوازش ہے کہ انہوں نے ان سے یہ احسان کیا ، اناج بھی دیا اور پونجی بھی لوٹا دی ،
بات یہ ہے برائی کا بہترین انتقام نیکی ہے وہ لوگ جو بلند اخلاق کے زیور سے آراستہ ہیں ، کبھی برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے ، وہ حسن سلوک اور مروت سے پیش آتے ہیں تاکہ مخالف کے دل میں خود بخود اخلاقی حس بیدار ہو ، اور وہ اپنی غلطی کو پہچانے ، اس طرح سے عداوتیں دوستی سے بدل جاتی ہیں ، اور کدورتیں دل سے زائل ہوجاتی ہیں ، اسلام اسی طرز عمل کو پسند کرتا ہے ،…
Read the full tafseer →61 ۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے جواب دیا ہم اس بن یامین کو اس کے باپ سے ترکیب و تدبیر کے ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے یقین مانیے کہ ہم اس کام کو ضرور کریں گے۔ یعنی پوری کوشش اور جدوجہد ضرور کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
ف 6۔ غرض یوسف (علیہ السلام) نے باختیار ہوکرغلہ کاشت کرانا اور جمع کرانا شروع کردیا اور سات برس کے بعد قحط شروع ہوا یہاں تک کہ دور دور سے یہ خبر سن کر کہ مصر میں سلطنت کی طرف سے غلہ فروخت ہوتا ہے جوق درجوق لوگ آنا شروع ہوئے اور کنعان میں بھی قحط ہوا تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بجز بنیامین کے غلہ لینے مصر آئے۔
Read the full tafseer →قافلہ والوں نے بھی کہا کہ والد منوا لیں گے اور ضرور ساتھ لائیں گے
۔ 63 قافلہ والوں نے یعنی برادران یوسف نے بھی کہا کہ ہم اپنے والد سے کہیں گے اور ہر طرح ترغیب دیں گے کہ وہ بنیامین کو ہمارے ساتھ یہاں بھیجنے پر رضای ہوجائیں گے کیونکہ ہم کو امید ہے کہ ہم والد سے اتنا کام تو اب بھی کروا ہی لیں گے۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کا خود ذکر کیا ہوگا تاکہ اس کے نام سیبھی غلہ وصول ہو سکے اور یوسف (علیہ السلام) نے بھی یقینا اس کی عدم موجودگی کے باعث غلہ دیا ہوگا اور اس طر ان کو یہ کہنے کا حق ہوگیا کہ آئندہ اگر تم اس بھئای کو ساتھ نہ لائے تو غلہ نہیں ملے گا اور یہ سمجھا جائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
And, along with it, he gave them a warning as well:
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِي وَلَا تَقْرَبُونِ
Still, if you do not bring him to me, then you deserve no measure from me [ because it will prove that you have lied to me, and thus ], nor shall you come even close to me. - 60
Then, he made a secret arrangement as well. He ordered his young workers on the job to collect the cash, jewelry and any other articles paid by his brothers as the cost of the grains, and tie it up secretly with their supplies in the camel-packs in a way that they should remain unaware of it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
53. Prophet Jacob’s great concern over this journey of his sons was due to the fact that his youngest son, Benjamin, was to accompany them. He was anxious about his safety because he had already had a bad experience of his son Joseph. Naturally his heart must have been full of such misgivings that it might be his last meeting with his other beloved son. Though he had full trust in Allah and was patiently resigned to His will, but, as a human being, advised his sons to take certain precautionary measures. In order to understand the significance of this precautionary measure of entering the…
Read the full tafseer →