Explained with ayahs 58–62
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
سورة یُوْسُف 52
اختصار بیان کی وجہ سے شاید کسی کو یہ سمجھنے میں دقت ہو کہ حضرت یوسف ؑ جب اپنی شخصیت کو ان پر ظاہر نہ کرنا چاہتے تھے تو پھر ان کے سوتیلے بھائی کا ذکر کیسے آگیا اور اس کے لانے پر اس قدر اصرار کرنے کے کیا معنی تھے، کیونکہ اس طرح تو راز فاش ہوا جاتا تھا۔ لیکن تھوڑا سا غور کرنے سے بات صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔ وہاں غلے کی ضابطہ بندی تھی اور ہر شخص ایک مقرر مقدار غلہ ہی لے سکتا تھا۔ غلہ لینے کے لیے یہ دس بھائی تھے۔ مگر وہ اپنے والد اور اپنے گیا رھویں بھائی کا حصہ بھی مانگتے ہوں گے۔ اوپر حضرت یوسف ؑ نے کہا ہوگا کہ تمہارے والد کے خود نہ آنے کے لیے تو یہ عذر معقول ہوسکتا ہے کہ وہ بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
اور پھر ایک دھمکی بھی دے دی (آیت) فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِيْ بِهٖ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِيْ وَلَا تَقْرَبُوْنِ یعنی اگر تم اپنے اس بھائی کو ساتھ نہ لائے تو پھر میں تم میں سے کسی کو بھی غلہ نہ دوں گا (کیونکہ میں سمجھوں گا کہ تم نے مجھ سے جھوٹ بولا ہے) اس طرح تم میرے پاس نہ آنا، دوسرا انتظام خفیہ یہ کیا کہ جو نقد یا زیور وغیرہ ان بھائیوں نے غلہ کی قیمت کے طور پر ادا کیا تھا اس کے متعلق کارندوں کو حکم دے دیا کہ اس کو چھپا کر انہی کے سامان میں اس طرح باندھ دو کہ ان کو اس وقت پتہ نہ لگے تاکہ جب یہ گھر پہنچ کر سامان کھولیں اور اپنا نقدو زیور بھی ان کو واپس ملے تو یہ پھر دوبارہ لینے کیلئے آسکیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
59۔ 60:۔ وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْ ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّىْٓ اُوْفِي الْكَيْلَ وَاَنَا خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ. فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِيْ بِهٖ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِيْ وَلَا تَقْرَبُوْن۔
بھائیوں کو حضرت یوسف کی ہدایت : ان کا سامان ٹھیک ٹھاک کرادینے کے بعد حضرت یوس نے ان کو ہدایت فرمائی اب کے غلہ لینے آئیوں تو اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لائیو۔ معلوم ہوتا ہے کہ راشننگ سسٹم نافذ ہونے کے سبب سے ہر ضرور مند کو بحساب افراد خاندان ملتا تھا اس وجہ سے انہیں یہ بتانا پڑا ہوگا کہ ہمارا ایک سوتیلا بھائی بھی گھر پر ہے۔ حضرت یوسف نے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →60۔ 1 ترغیب کے ساتھ یہ دھمکی ہے کہ اگر گیارہویں بھائی کو ساتھ نہ لائے تو نہ تمہیں غلہ ملے گا نہ میری طرف سے اس خاطر مدارت کا اہتمام ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
40: حضرت یوسف ؑ نے ان بھائیوں کے ساتھ یہ احسان فرمایا کہ غلے کو خریدنے کے لیے جو قیمت انہوں نے دی تھی، وہ واپس انہی کے سامان میں رکھوا دی اس زمانے میں سونے چاندی کے سکوں کے بجائے مختلف قسم کا سامان قیمت کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کنعان سے کچھ چمڑا اور جوتے لے کر آئے تھے وہی انہوں نے غلے کی قیمت کے طور پر پیش کیا، اور اسی کو حضرت یوسف ؑ نے واپس ان کے سامان میں رکھوا دیا یہ ظاہر بات ہے کہ انہوں نے اپنی جیب سے اتنی قیمت سرکاری خزانے میں جمع کرا دی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
سیاق کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو عزت و احترام سے بٹھایا اور ان کو اس طرح سبق پڑھانا شروع کیا۔
ولما جھزھم ۔۔۔۔۔ من ابیکم (12 : 59) “ پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروادیا تو چلتے وقت ان سے کہا “ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے لانا ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی ہی ملاقات میں وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بےتکلف ہوگئے تھے ، اس طرح انہوں نے عزیز مصر کو بتا دیا کہ وہ کون ہیں اور یہ کہ ان کا ایک سوتیلا بھائی بھی ہے جسے ہمارا باپ اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ نہیں آیا۔ جب ان لوگوں کا سامان تیار ہوگیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہہ دیا کہ وہ تمہارے اس…
Read the full tafseer →9 یعنی نہ لائے تو سمجھا جائے گا کہ تم جھوٹ بول کر اور دھوکہ دے کر خلاف قاعدہ ایک اونٹ زیادہ لینا چاہتے تھے اس کی سزا یہ ہوگی کہ آئندہ خود تمہارا حصہ بھی سوخت ہوجائے گا بلکہ میرے پاس یا میرے قلمرو میں آنے کی بھی اجازت نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
آیت 59 وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْ
غلہ چونکہ راشن بندی کے تحت دیا جاتا تھا اس لیے انہوں نے درخواست کی ہوگی کہ ہمارا ایک بھائی اور بھی ہے اس کے اہل خانہ بھی ہیں اسے ہم اپنے والد کی خدمت کے لیے پیچھے چھوڑ آئے ہیں اس کے حصے کا غلہ بھی ہمیں دے دیا جائے۔ اس سلسلے میں سوال و جواب کے دوران انہوں نے یہ بھی بتایا ہوگا کہ ہم دس حقیقی بھائی ہیں جبکہ وہ گیا رہواں بھائی باپ کی طرف سے سگا لیکن والدہ کی طرف سے سوتیلا ہے۔ حضرت یوسف نے یہ سارا ماجرا سننے کے بعد فرمایا ہوگا کہ ٹھیک ہے میں آپ کے گیارہویں بھائی کے حصے کا اضافی غلہ تم لوگوں کو اس شرط پردے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
58 سیدنا یوسف کے چھوٹے بھائی کو ساتھ لانے کی تاکید :۔ برادران یوسف کی درخواست میں ان کے والد اور چھوٹے بھائی کا بھی اندراج تھا۔ لیکن منظوری فی کس ایک بار شتر غلہ صرف ان افراد کی ہوئی جو غلہ لینے آئے تھے اور سیدنا یوسف کے پاس حاضر کئے گئے تھے۔ آپ نے باقی افراد کے متعلق ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا باپ سن رسیدہ آدمی ہے آنے کے قابل ہی نہیں اور چھوٹے بھائی کو ہم اس کی خبرگیری کے لیے چھوڑ آئے ہیں۔ سیدنا یوسف نے انھیں کہا۔ دیکھو ! تمہارا باپ تو واقعی آنے کے قابل نہ رہا ہوگا۔ البتہ اگلی بار جب آؤ اپنے چھوٹے بھائی کو ضرور ساتھ لانا۔ اس دفعہ تو تمہاری درخواست منظور کردی گئی ہے اور غلہ بھی…
Read the full tafseer →117۔ (کہ اس صورت میں میں تمہیں کاذب سمجھوں گا۔ اور یہی نتیجہ نکالنا ہوگا کہ تم نے مجھے دھوکا دے کر ایک زائد حصہ وصول کرنا چاہا تھا، غلہ ایک ایک کو ایک مقدار معین میں ملتا تھا اور اس میں غائبوں کا کوئی حصہ نہ تھا، ورنہ ظاہر ہے کہ ہر شخص فرضی تعداد غائبوں کی بتا کر جتنا چاہتا خود حاصل کرلیتا اور دوسروں کا حصہ کٹ جاتا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی بس یہی فرمایا کہ اپنے دعوی کا ثبوت لاحاضر کرو، ورنہ تمہارا دعوی سرے سے باطل سمجھا جائے گا۔۔ نفع اندوزی (پرافیٹرنگ) اور چور بازاری (بیلک مارکٹنگ) جس طرح آج گرانی اور کمیابی اشیاء کے زمانہ میں ایک سخت قانونی جرم ہے، عجب کیا ہے جو اس وقت کے مصری قانون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–68
آیت نمبر 58 تا 68
ترجمہ : اور قحط کے سال شروع ہوگئے اور (اس کے اثرات) ملک کنران اور شام تک پہنچ گئے، جب اہل کنعان کو یہ اطلاع پہنچی کہ عزیز مصر قیمۃً غلہ دیتا ہے تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سوائے بنیامین کے غلہ لینے کیلئے (مصر) آئے چناچہ جب بھائی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا اور بھائی یوسف کو نہ پہچان سکے، (اسکی جدائی کو) مدت دراز گذر جانے کی وجہ سے اور اس کے بارے میں یہ گمان ہونے کی وجہ سے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہوگا، بھائیوں نے یوسف سے عبرانی زبان میں گفتگو کی، یوسف (علیہ السلام) نے انجان بنکر ان سے معلوم کیا کہ میرے ملک آنے کا تمہارا کیا سبب…
Read the full tafseer →فان لم تاتوني بہ فلا کیل لکم عندي ولا تقربون اور تم اس کو میرے پاس لے کر نہ آئے تو میرے پاس نہ آنا۔ تم کو ایک ناپ غلہ بھی میرے پاس سے نہیں ملے گا اور میرے ملک میں بھی داخل نہ ہونا۔
لاَ تَقْرَبُوْنِ یا نہی کا صیغہ ہے یا نفی ہے جس کا عطف جزاء پر ہے (میرے پاس نہ آنا ‘ یا قریب بھی نہ آؤ گے) ۔
Read the full tafseer →(60) اور اگر اپنے سوتیلے بھائی کو نہ لائے تو میں سمجھوں گا کہ تم دھوکے سے زیادہ اناج لینا چاہتے ہو اس کی سزا کے طور پر نہ تمہیں آئندہ اناج ملے گا اور نہ تم دوبارہ میرے پاس آنے کا ارادہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ۔۔ : ”جَھَازٌ“ وہ سامان جس کی مسافر کو ضرورت ہوتی ہے۔ یوسف ؑ نے کہا : (ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ) یہ نہیں کہا ”بِأَخِیْکُمْ“ کہ اپنے بھائی کو جو تمہارے باپ سے ہے لے کر آنا، بلکہ ”بِاَخٍ لَّكُمْ“ کہا، یعنی ”اَخٌ“ کو نکرہ رکھا، تاکہ بھائیوں کے سامنے یہی ظاہر ہو کہ عزیز مصر اس بھائی کو نہیں جانتا۔ یہ سب سے چھوٹے اور یوسف ؑ کے سگے بھائی تھے۔ ان کا نام بنیامین مشہور ہے جس کی کوئی پختہ دلیل نہیں، جیسا کہ عزیز مصر کا نام ”فوطیفار“ ، اس کی بیوی کے نام ”زلیخا“ یا ”راعیل“ ، بادشاہ کا نام ”ریان بن ولید“ اور یوسف ؑ کے دوسرے بھائیوں کے ناموں کی دلیل اسرائیلی روایات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
آیت نمبر 59 تا 61
ولماجھزھم بجھازھم کہا جاتا ہے : جھزت القوم تجھیزا یعنی میں نے ان کو ان کے سفر کے لیے ان کا سامان دے دیا اور شادیوں کا جہیز وہی ہوتا ہے جس کی شوہر کو بطور ہدیہ ضرورت ہوتی ہے۔ بعض کو فیوں نے الجھازجیم کے کسرہ کو بھی جائز قرار دیا ہے اس آیت کریمہ میں الجھاز سے مراد کھانے کا وہ سامان ہے جو انہیں آپ کے پاس سے ملا۔ سدی نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے پاس گیارہ اونٹ تھے جبکہ وہ خود دس تھے۔ انہوں نے حضرت یوسف کو کہا : ہمارا ایک اور بھائی بھی ہے جو پیچھے رہ گیا ہے اور اس کا اونٹ ہمارے ساتھ ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ وہ کیوں پیچھے رہ گیا ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے باپ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–66
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ائتونی باخ لکم من ابیکم “ سے مراد ہے بنیامین اور وہ یوسف کے سگے بھائی تھے۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مصر میں جو مہمان نوازی کرتا ہے میں اس سے بہتر مہمان نوازی کرنے والا ہوں۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مہمان نوازی کرنے والوں میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہے۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →[فَان : پھر اگر ] [لَمْ تَاْتُوْنِيْ : تم نہ آئے میرے پاس ] [بِهٖ : اس کے ساتھ ] [فَلَا كَيْلَ : تو کوئی پیمانہ بھرنا نہیں ہے ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [ عِنْدِيْ : میرے پاس ] [ وَلَا تَقْرَبُوْنِ : اور تم لوگ قریب مت آنا میرے ]
نوٹ۔ 1: آیت 59 ۔ 60 کو سمجھنے کے لئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ قحط کے زمانے میں مصر میں غلہ کو ضابطہ بندی تھی اور ہر شخص ایک مقرر مقدار میں غلّہ لے سکتا تھا۔ غلہ لینے کے لئے دس بھائی آئے تھے مگر وہ اپنے والد اور اپنے گیارھویں بھائی کا قصّہ بھی مانگتے ہوں گے۔ اس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا ہوگا کہ تمہارے والد کے نہ آنے کا عذر تو معقول ہوسکتا ہے کہ وہ بہت بوڑھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
برادران یوسف کا اپنی پونجی کو سامان میں پا کر اپنے والد سے دوبارہ مصر جانے کی درخواست کرنا اور چھوٹے بھائی کی حفاظت کا وعدہ کرنا
باپ بیٹوں کی باتیں ہو رہی تھیں کہ مصر میں غلہ لینے گئے تو وہاں سے غلہ تو لے آئے لیکن جو صاحب غلہ تقسیم کرتے ہیں انہوں نے آئندہ کے لیے یہ شرط لگا دی ہے کہ اپنے بھائی کو بھی لاؤ گے تو غلہ ملے گا ورنہ نہیں پھر جب سامان کی طرف متوجہ ہوئے سامان کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ جو پونجی وہاں غلہ کے عوض دی تھی وہ تو اپنے ہی سامان میں موجود ہے۔ پونجی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ ابا جان ہمیں اور کیا چاہئے ہم غلہ بھی لے آئے اور پونجی بھی واپس مل گئی ایسے کریم اور محسن آدمی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–68
یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت
قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون
اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
53:۔ جب بھائیوں کو غلہ دے کر رخصت کرنے لگے تو فرمایا اپنے گیارہویں بھائی کو بھی ساتھ لانا تم نے دیکھ لیا کہ میں کتنا چھا معاملہ کرتا ہوں، پورا ناپ کردیتا ہوں اور مہمانوں کی بھی خدمت و تواضع کرتا ہوں۔ ” فَاِنْ لَّمْ تَاتُوْنِیْ بِہٖ الخ “ اگر تم اسے ساتھ نہیں لاؤ گے تو میرے پاس مت آنا میں تمہیں غلہ نہیں دوں گا۔ ” قَالُوْا سَنُرَاوِدُ “ انہوں نے کہا ہم اسے لانے کے لیے اس کے باپ سے کوئی حیلہ بہانہ ضرور کریں گے اور اسے ساتھ لے کر آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ربط آیات
گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب شاہ مصر کو اس کے خواب کی تعبیر مل گئی تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کو بلا بھیجا مگر آپ نے اپنے خلاف لگائے گئے الزام کی صفائی تک جیل سے باہر آنے سے انکار کردیا۔ پھر بادشاہ نے مصر کی معزز خواتین کو طلب کرکے یوسف (علیہ السلام) کی بےگناہی کے متعلق تسلی کرلی تو آپ جیل سے نکل کر شاہی دربار میں پہنچے۔ بادشاہ آپ کے علم و فہم اور عقل و دانش کا تو پہلے ہی معترف ہوچکا تھا ‘ جب اس نے آپ سے گفتگو کی تو مزید گرویدہ ہوگیا ‘ اور آپ کو اپنے مصاحبین میں شامل کرلیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے خود امور خزانہ کی ذمہ داری اٹھانے کی پیش کش کی جسے بادشاہ نے منظور کرلیا اور آپ کو…
Read the full tafseer →فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِيْ بِہٖ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِيْ وَلَا تَقْرَبُوْنِ 60
قرب
الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . فمن الأوّل نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى [ الإسراء/ 32] ، فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ عامِهِمْ هذا [ التوبة/ 28] . وقوله : وَلا تَقْرَبُوهُنَ [ البقرة/ 222] ، كناية عن الجماع کقوله : فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ [ التوبة/ 28] ، وقوله : فَقَرَّبَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
1 ؎ سوتیلے بھائی بنیامین جو یوسف (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی تھے 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
وَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ قَالَ ائْتُونِیْ بِاَخٍ لَّکُمْ مِّنْ اَبِیْکُمْ ج اَلاَ تَرَوْنَ اَنِّیْ ٓ اُوْفِی الْکَیْلَ وَاَنَا خَیْرُالْمُنْزِلِیْنَ ۔ فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِہٖ فَلاَکَیْلَ لَکُمْ عِنْدِیْ وَلاَ تَقْرَبُوْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 59، 60)
(سو جب اس نے ان کا سامان تیار کرلیا تو فرمایا کہ اب کے اپنے سوتیلے بھائی کو بھی میرے پاس لانا، کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں کس طرح پیمانہ پورا بھر کردیتا ہوں اور میں کتنا بہتر مہمان نواز ہوں۔ اور اگر تم اسے نہ لے کے آئے تو نہ تمہارے لیے میرے پاس غلہ ہے اور نہ تم میرے پاس پھٹکنا) ۔
بھائیوں کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ترغیب
معلوم ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قحط سالی کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا مجبور ہو کر مصر جانا۔
قرآن مجید کے مقدس الفاظ سے یہ بات مترشح ہو رہی ہے کہ بادشاہ کے خواب کے مطابق خوشحالی کے سات سال گزرنے کے بعد مصر میں قحط سالی شروع ہوچکی تھی۔ اور اس قحط کے اثرات شام، فلسطین اور کنعان تک پھیل چکے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالتے ہی بہترین منصوبہ بندی کی۔ جس کی وجہ سے دوسرے علاقوں کے لوگ بھی غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر کا رخ کر رہے تھے۔ اسی بنا پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی غلہ لینے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لیکن…
Read the full tafseer →60: فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِہٖ فَـلَاکَیْلَ لَکُمْ عِنْدِیْ (پس اگر تم اس کو میرے پاس نہ لائے تو تمہارے لئے میرے پاس کوئی غلہ نہیں) میں غلہ تمہارے ہاتھ فروخت نہ کرونگا۔ وَلَا تَقْرَبُوْنِ (اور تم میرے پاس بھی نہ آنا) اگر تم اس کو نہ لائے تو اپنے غلہ سے محروم اور تم قریب مت آنا۔
نحو : یہ حکم جزاء میں مجزوم کے تحت داخل ہے اور فلا کیل لکم کے محل پر عطف ہے نمبر 2۔ یا یہ نہی کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →60۔” فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ‘ ‘ تمہارے لئے میرے پاس کوئی غلہ نہ ہوگا جس کو کیل کر کے دوں ” ولا تقربون “ میرے گھر اور اس شہر میں داخل نہ ہونا ” لا تقربون “ یا نہی کا صیغہ ہے یا نفی کا ۔ معنی یہ ہے کہ میرے پاس یا میرے قریب بھی نہ آ ئو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
58۔ 62۔ جب یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کی جگہ بادشاہ کے وزیر ہوگئے اور سارا انتظام ملکی و مالی ان کے قبضہ و تصرف میں آگیا تو سات سال ارزانی میں انہوں نے بہت اہتمام کیا اور غلوں کو نہایت احتیاط سے جمع کیا یہاں تک کہ ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا اور جب ارزانی کا زمانہ گزر گیا اور قحط شروع ہونے لگا تو دور دور کے لوگ غلہ خریدنے کو مصر میں آنے جانے لگے۔ یوسف (علیہ السلام) کسی شخص کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ غلہ نہیں دیتے تھے اور آپ معہ بادشاہ اور لشکر کے دن میں ایک دفعہ کھانا کھاتے تاکہ یہ سات سال قحط کے بآسانی گزر جائیں جب یہ خبر رفتہ رفتہ ملک شام پہنچی کہ مصر میں غلہ فروخت ہوتا ہے تو یوسف کے…
Read the full tafseer →، پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اپنا بھائی ساتھ نہ لانے کی صورت میں ڈراتے ہوئے کہا : (آیت) ” پس اگر تم اس کو میرے پاس نہ لائے تو تمہارے لئے میرے پاس کوئی ماپ نہیں ہے اور میرے پاس نہ آنا “ یہ بات حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس لئے کہی، کیونکہ انہیں علم تھا کہ وہ مصر ان کے پاس ضرور آئیں گے اور اپنے بھائی کو ساتھ لانے پر مجبور ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
102۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے ترغیب کے بعد ترہیب سے کام لینے کا ذکر وبیان :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تم لوگ اپنے بھائی کو نہ لانے کی صورت میں میرے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ کیونکہ اگر تم اپنے اس بھائی کو اپنے ساتھ نہ لائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم جھوٹے ہو۔ اور اس کے نام کا جو غلہ تم نے لیا ہے وہ فریب اور فراڈ تھا۔ لہذا یسی صورت میں تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ اس طرح یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے ترغیب کے بعد ترہیب کا پہلو تھا تاکہ وہ آئندہ اپنے بھائی کو ضرور اپنے ہمراہ لے آئیں۔ سو اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی اس خواہش کا اندازہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–68
آیات 58 تا 68
اسرار و معارف
مصر کیا ہر جگہ بڑی فصلیں ہوئیں اور غلے اور پھلوں کی فروانی نے لوگوں کو امیر کردیا یوسف (علیہ السلام) نے بہت اہتمام فرمایا کہ ضرورت سے زائد غلہ لوگوں سے خرید کر جمع فرماتے گئے اور ابتدائی سات برسوں میں سرکاری گودام بھر گئے ۔ پھر قحط سالی شروع ہوئی تو غلہ کا دانہ نہ ملتا تھا تب آپ نے فروخت کرنے کا اہتمام فرمایا ۔
اشیاے ضرورت پر کنڑول نہ صرف جائز بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے
اور فروخت پر بھی کنڑول رکھا کہ ایک آدمی کو اس کے خاندان کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ جو مقرر تھا دیا جاتا تھا تا کہ لوگ خرید کر مہنگے داموں بیچنا شروع نہ کردیں جسے آج کی زبان میں بلیک مار کٹینگ کہا جاتا…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ ممکن ہے انہوں نے حضرت یوسف ( علیہ السلام) سے اپنے چھوٹے بھائی کا ذکر کیا ہو یا اپنے علاوہ ان کے حصے کا غلہ بھی مانگا ہو ور اس طرح حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو انہیں یہ حکم دینے کا موقع مل گیا ہو کہ آئندہ جب تو اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لائیں ورنہ غلہ نہیں ملے گا۔ (از روح)
Read the full tafseer →(12: 60) لاتقربون۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ نون وقایہ۔ ضمیر متکلم محزوف۔ تم میرے پاس مت آو۔ تم میرے نزدیک مت بھٹکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 61
(جآء آیا ) (اخوۃ بھائی) ( دخلوا وہ داخل ہوئے ) (عرف اس نے پہچان لیا) ( منکرون نہ پہچاننے والے) (جھز اس نے تیار کی، تیار کردیا) ( جھاز سامان) ( اوفی میں پورا دیتا ہوں) ( سنراود ہم درخواست کریں گے) ( لفعلون البتہ ضرور کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 58 تا 61
کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے حضرت یوسف کا واقعہ اور وہ سب معلوم کیا تھا جس کی بنا پر حضرت یعقوب، حضرت یوسف اور ان کے اہل خاندان فلسطین سے مصر پہنچ کر وہاں آباد ہوگئے تھے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ حضرت یوسف کا واقعہ اور ان اسباب کا ذکر فرمایا ہے کہ جب یہ خاندان جو بنی اسرائیل کہلاتا تھا ہجرت کر کے مصر پہنچا۔ ان آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–66
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا پنے گھر جانا اور اپنے باپ سے سوال جواب کرنا
پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ : اب جو آنا تو اپنے اس بھائی کو بھی اپنے ہمراہ لیتے آنا تاکہ تمہارا سچ معلوم ہوجائے۔ دیکھو میں نے تمہاری بہت خاطر کی ہے اور غلہ بھر پور دیا ہے۔ اگر اب کے اپنے بھائی کو نہ لاؤ گے تو تمہیں غلہ نہ دیں گے اور نہ اپنے پاس جگہ دیں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ : نہیں ہم ضرور اس کو اپنے ساتھ لائیں گے اور اگرچہ باپ اس کو اپنے پاس سے علیحدہ نہیں کرتے مگر ہم انہیں سمجھا بجھا کر جس طرح ممکن ہوگا اسے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے پختہ وعدہ ان سے لے لیا کہ وہ ضرور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
[19] ان دس بھائیوں کو جب ان کے حصے کا پورا غلہ مل گیا تو انہوں نے عرض کیا ہوگا کہ ہمارے بوڑھے باپ اور گیارہویں بھائی کا حصہ بھی عطا ہو۔ اس پر یوسف (علیہ السلام) نے کہا ہوگا کہ تمہارے والد کے خود نہ آنے کی وجہ تو سمجھ میں آسکتی ہے کہ وہ بوڑھے ہیں لیکن بھائی کے نہ آنے کا کیا معقول سبب ہوسکتا ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بھائی کے نام سے اس کے حصے کا غلہ لے جانا چاہتے ہو ؟ اس لئے تاکید کی کہ اگلے پھیرے میں اس بھائی کو بھی لیتے آنا جسے کہتے ہو کہ ہم گھر چھوڑ آئے ہیں ورنہ تمہارا اعتبار جاتا رہے گا اور تمہیں غلہ نہ ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
برائی کا جواب نیکی سے !
(ف 1) پونجی اور سرمایہ کو واپس کردینا ، کما اخلاق کی دلیل ہے ، بھائیوں نے تو مزعومہ اقتدار کی مخالفت کی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یہ نوازش ہے کہ انہوں نے ان سے یہ احسان کیا ، اناج بھی دیا اور پونجی بھی لوٹا دی ،
بات یہ ہے برائی کا بہترین انتقام نیکی ہے وہ لوگ جو بلند اخلاق کے زیور سے آراستہ ہیں ، کبھی برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے ، وہ حسن سلوک اور مروت سے پیش آتے ہیں تاکہ مخالف کے دل میں خود بخود اخلاقی حس بیدار ہو ، اور وہ اپنی غلطی کو پہچانے ، اس طرح سے عداوتیں دوستی سے بدل جاتی ہیں ، اور کدورتیں دل سے زائل ہوجاتی ہیں ، اسلام اسی طرز عمل کو پسند کرتا ہے ،…
Read the full tafseer →60 ۔ پھر اگر آئندہ تم اس کو میرے پاس لیکر نہ آئے تو میں سمجھوں گا کہ تم مجھ کو دھوکہ دینا چاہتے تھے، لہٰذا تمہارے لئے میرے یہاں نہ تو غلہ ہوگا اور نہ تم میرے پاس آنا یعنی تمہارے حصہ کا بھی غلہ ملے گا اگر تم اس اپنے بھائی کو نہ لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
ف 6۔ غرض یوسف (علیہ السلام) نے باختیار ہوکرغلہ کاشت کرانا اور جمع کرانا شروع کردیا اور سات برس کے بعد قحط شروع ہوا یہاں تک کہ دور دور سے یہ خبر سن کر کہ مصر میں سلطنت کی طرف سے غلہ فروخت ہوتا ہے جوق درجوق لوگ آنا شروع ہوئے اور کنعان میں بھی قحط ہوا تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بجز بنیامین کے غلہ لینے مصر آئے۔
Read the full tafseer →یوسف کی ہدایت کہ آئندہ اگر تم آئو تو بنیامین کو بھی ساتھ لانا ورنہ غلہ میں ملے گا
۔ 72 جب قافلہ والے غلہ لے کر رخصت ہونے لگے تو ان کو یہ بھی کہہ دیا کہ قحط اس قدر سخت ہے کہ تم کو دوبارہ یہاں آنا پڑے گا اس لئے یاد رکھو کہ اب کی مرتبہ اگر تم اپنے چھوٹے بھائی بنیامین کو ساتھ نہ لائے جس کے متعلق تم نے مجھ سے کہا ہے کہ اس کا بھائی یوسف گم ہوگیا ہے اور اس لئے تمہارا باپ اس کو کسی طرح جدا نہیں کرتا تو تم کو ہرگز غلہ نہیں دیا جائے گا اور نہ تم یہاں آنا۔
اگر بینا آنکھ رکھتے ہو تو ذرا دیکھو کہ جب حضرت یوسف کے بھائی ان کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں ، کون بھائی ؟ جنہوں نے قتل کا سامان کیا اور پھر کنوئیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
And, along with it, he gave them a warning as well:
فَإِن لَّمْ تَأْتُونِي بِهِ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِي وَلَا تَقْرَبُونِ
Still, if you do not bring him to me, then you deserve no measure from me [ because it will prove that you have lied to me, and thus ], nor shall you come even close to me. - 60
Then, he made a secret arrangement as well. He ordered his young workers on the job to collect the cash, jewelry and any other articles paid by his brothers as the cost of the grains, and tie it up secretly with their supplies in the camel-packs in a way that they should remain unaware of it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
52. As the Quran has omitted the details, someone might be at a loss to know as to how he brought Benjamin into the conversation with his brothers, and why he insisted on them to bring him with them, when he intended to keep his own identity secret from them. For, obviously these things might have led to the revelation of that secret. But a little thinking will show that he could have very easily and naturally led the conversation up to Benjamin without arousing their curiosity. As there were strict restrictions on the purchase of food, everyone was permitted to buy only a fixed quantity of…
Read the full tafseer →