Explained with ayahs 58–62
کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
سورة یُوْسُف 52
اختصار بیان کی وجہ سے شاید کسی کو یہ سمجھنے میں دقت ہو کہ حضرت یوسف ؑ جب اپنی شخصیت کو ان پر ظاہر نہ کرنا چاہتے تھے تو پھر ان کے سوتیلے بھائی کا ذکر کیسے آگیا اور اس کے لانے پر اس قدر اصرار کرنے کے کیا معنی تھے، کیونکہ اس طرح تو راز فاش ہوا جاتا تھا۔ لیکن تھوڑا سا غور کرنے سے بات صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔ وہاں غلے کی ضابطہ بندی تھی اور ہر شخص ایک مقرر مقدار غلہ ہی لے سکتا تھا۔ غلہ لینے کے لیے یہ دس بھائی تھے۔ مگر وہ اپنے والد اور اپنے گیا رھویں بھائی کا حصہ بھی مانگتے ہوں گے۔ اوپر حضرت یوسف ؑ نے کہا ہوگا کہ تمہارے والد کے خود نہ آنے کے لیے تو یہ عذر معقول ہوسکتا ہے کہ وہ بہت…
Read the full tafseer →یوسف ؑ کا ان سوالات سے مقصد ہی یہ تھا کہ یہ ذرا کھل کر پورے واقعات بیان کردیں تب یوسف ؑ نے دریافت کیا کہ تمہارے والد کے اور بھی کوئی اولاد تمہارے سوا ہے تو انہوں نے بتلایا کہ ہم بارہ بھائی تھے جن میں سے ایک چھوٹا بھائی جنگل میں گم ہوگیا اور ہمارے والد کو سب سے زیادہ اسی سے محبت تھی اس کے بعد سے اس کے چھوٹے حقیقی بھائی کے ساتھ زیادہ محبت کرنے لگے اور اسی لئے اس وقت بھی اس کو سفر میں ہمارے ساتھ نہیں بھیجا تاکہ وہ اس کی تسلّی کا سبب بنے،
یوسف ؑ نے یہ سب باتیں سن کر حکم دیا کہ ان کو شاہی مہمان کی حیثیت سے ٹھرائیں اور قاعدہ کے موافق غلہ دیدیں۔
تقسیم غلہ میں یوسف ؑ نے ضابطہ کار یہ بنایا تھا کہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
59۔ 60:۔ وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْ ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّىْٓ اُوْفِي الْكَيْلَ وَاَنَا خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ. فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِيْ بِهٖ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِيْ وَلَا تَقْرَبُوْن۔
بھائیوں کو حضرت یوسف کی ہدایت : ان کا سامان ٹھیک ٹھاک کرادینے کے بعد حضرت یوس نے ان کو ہدایت فرمائی اب کے غلہ لینے آئیوں تو اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لائیو۔ معلوم ہوتا ہے کہ راشننگ سسٹم نافذ ہونے کے سبب سے ہر ضرور مند کو بحساب افراد خاندان ملتا تھا اس وجہ سے انہیں یہ بتانا پڑا ہوگا کہ ہمارا ایک سوتیلا بھائی بھی گھر پر ہے۔ حضرت یوسف نے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →59۔ 1 حضرت یوسف ؑ نے انجان بن کر جب اپنے بھائیوں سے باتیں پوچھیں تو انہوں نے جہاں اور سب کچھ بتایا، یہ بھی بتادیا کہ ہم دس بھائی اس وقت یہاں موجود ہیں۔ لیکن ہمارے دو بھائی (یعنی دوسری ماں سے) اور بھی ہیں۔ ان میں سے ایک تو جنگل میں ہلاک ہوگیا اور اس کے دوسرے بھائی کو والد نے اپنی تسلی کے لئے اپنے پاس رکھا ہے، اسے ہمارے ساتھ نہیں بھیجا۔ جس پر حضرت یوسف ؑ نے کہا کہ آئندہ اسے بھی ساتھ لے کر آنا، دیکھتے نہیں کہ میں ناپ بھی پورا دیتا ہوں اور مہمان نوازی اور خاطر مدارت بھی خوب کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →39: در اصل ہوا یہ تھا کہ جب ان دس بھائیوں کو ایک ایک اونٹ کا بوجھ غلہ مل گیا تو انہوں نے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ ہمارا ایک باپ شریک بھائی ہے جو ہمارے والد کی خدمت کے لیے وہاں رہ گیا ہے اور یہاں نہیں آسکا آپ اس کے حصے کا غلہ بھی ہمیں دے دیجئے اس پر حضرت یوسف ؑ نے فرمایا کہ راشن کے جو قواعد مقرر کیے گئے ہیں ان کی رو سے میں ایسا نہیں کرسکتا۔ البتہ اگلی مرتب جب آپ آئیں تو اسے بھی ساتھ لے کر آئیں تو میں سب کا حصہ پورا پورا دوں گا اور اگر اس مرتبہ آپ لوگ اسے ساتھ نہ لائے تو آپ کے اپنے حصے کا غلہ بھی آپ کو نہیں ملے گا۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ نے جھوٹ بولا تھا کہ آپ کا کوئی اور بھائی بھی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
سیاق کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو عزت و احترام سے بٹھایا اور ان کو اس طرح سبق پڑھانا شروع کیا۔
ولما جھزھم ۔۔۔۔۔ من ابیکم (12 : 59) “ پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروادیا تو چلتے وقت ان سے کہا “ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے لانا ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی ہی ملاقات میں وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بےتکلف ہوگئے تھے ، اس طرح انہوں نے عزیز مصر کو بتا دیا کہ وہ کون ہیں اور یہ کہ ان کا ایک سوتیلا بھائی بھی ہے جسے ہمارا باپ اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ نہیں آیا۔ جب ان لوگوں کا سامان تیار ہوگیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہہ دیا کہ وہ تمہارے اس…
Read the full tafseer →8 حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کی خوب مدارات اور مہمانداری کی۔ ایک ایک اونٹ فی کس غلہ دیا۔ یہ خاص مہربانی اور اخلاق دیکھ کر کہتے ہیں انہوں نے درخواست کی کہ ہمارے ایک علاتی بھائی (بنیامین) کو بوڑھے غمزدہ باپ نے تسکین خاطر کے لیے اپنے پاس روک لیا ہے کیونکہ اس کا دوسرا عینی بھائی (یوسف) جو باپ کو بیحد محبوب تھا مدت ہوئی کہیں جنگل میں ہلاک ہوچکا ہے۔ اگر بنیامین کے حصہ کا غلہ بھی ہم کو مرحمت فرمائیں تو بڑی نوازش ہوگی۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس طرح غائب کا حصہ دینا خلاف قاعدہ ہے تم پھر آؤ تو بنیامین کو ساتھ لاؤ تب اس کا حصہ پا سکو گے۔ میرے اخلاق اور مہمان نوازی کو تم خود مشاہدہ کرچکے ہو، کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
آیت 59 وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْ
غلہ چونکہ راشن بندی کے تحت دیا جاتا تھا اس لیے انہوں نے درخواست کی ہوگی کہ ہمارا ایک بھائی اور بھی ہے اس کے اہل خانہ بھی ہیں اسے ہم اپنے والد کی خدمت کے لیے پیچھے چھوڑ آئے ہیں اس کے حصے کا غلہ بھی ہمیں دے دیا جائے۔ اس سلسلے میں سوال و جواب کے دوران انہوں نے یہ بھی بتایا ہوگا کہ ہم دس حقیقی بھائی ہیں جبکہ وہ گیا رہواں بھائی باپ کی طرف سے سگا لیکن والدہ کی طرف سے سوتیلا ہے۔ حضرت یوسف نے یہ سارا ماجرا سننے کے بعد فرمایا ہوگا کہ ٹھیک ہے میں آپ کے گیارہویں بھائی کے حصے کا اضافی غلہ تم لوگوں کو اس شرط پردے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
58 سیدنا یوسف کے چھوٹے بھائی کو ساتھ لانے کی تاکید :۔ برادران یوسف کی درخواست میں ان کے والد اور چھوٹے بھائی کا بھی اندراج تھا۔ لیکن منظوری فی کس ایک بار شتر غلہ صرف ان افراد کی ہوئی جو غلہ لینے آئے تھے اور سیدنا یوسف کے پاس حاضر کئے گئے تھے۔ آپ نے باقی افراد کے متعلق ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا باپ سن رسیدہ آدمی ہے آنے کے قابل ہی نہیں اور چھوٹے بھائی کو ہم اس کی خبرگیری کے لیے چھوڑ آئے ہیں۔ سیدنا یوسف نے انھیں کہا۔ دیکھو ! تمہارا باپ تو واقعی آنے کے قابل نہ رہا ہوگا۔ البتہ اگلی بار جب آؤ اپنے چھوٹے بھائی کو ضرور ساتھ لانا۔ اس دفعہ تو تمہاری درخواست منظور کردی گئی ہے اور غلہ بھی…
Read the full tafseer →116۔ یعنی اب تو تمہیں خود ہی مشاہدہ ہوگیا کہ میں ہر شخص کا حصہ دیتا رہتا ہوں۔ کسی کا حصہ کاٹتا نہیں، گیارہ آدمی آؤگے تو پورے گیارہ حصے ملیں گے، توریت میں ہے :۔ ” اور تم کال کے لیے اپنے گھر میں غلہ لے جاؤ لیکن اپنے چھوٹے بھائی کو مجھ پاس سے آئیو۔ تمہاری باتیں یوں ثابت ہوں گی اور تم نہ مرو گے “۔ (پیدائش 42: 19۔ 20) (آیت) ” ائتونی ، ، ، ابیکم “۔ ان دس بھائیوں کو جب ان کے حصہ کا پورا غلہ مل گیا تو انہوں نے عرض کیا کہ علاوہ ہمارے بوڑھے باپ کے ہمارا ایک علاتی بھائی بھی ہے، اس کا حصہ بھی عطا ہو۔ اس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ضابطہ کا جواب دیا کہ اس کو لاکر حاضر ہو، جب تمہارا دعوی ثابت ہو، اور جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–68
آیت نمبر 58 تا 68
ترجمہ : اور قحط کے سال شروع ہوگئے اور (اس کے اثرات) ملک کنران اور شام تک پہنچ گئے، جب اہل کنعان کو یہ اطلاع پہنچی کہ عزیز مصر قیمۃً غلہ دیتا ہے تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سوائے بنیامین کے غلہ لینے کیلئے (مصر) آئے چناچہ جب بھائی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا اور بھائی یوسف کو نہ پہچان سکے، (اسکی جدائی کو) مدت دراز گذر جانے کی وجہ سے اور اس کے بارے میں یہ گمان ہونے کی وجہ سے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہوگا، بھائیوں نے یوسف سے عبرانی زبان میں گفتگو کی، یوسف (علیہ السلام) نے انجان بنکر ان سے معلوم کیا کہ میرے ملک آنے کا تمہارا کیا سبب…
Read the full tafseer →ولما جھزھم بجھازھم قال ائتوني باخ لکم من ابیکم اور جب ان کا سامان سفر درست کرا دیا تو یوسف نے ان سے کہا : (اب کی مرتبہ) اپنے علاتی بھائی کو میرے پاس لے کر آنا ‘ اگر تم سچے ہو۔ اگر تم اپنے بھائی کو لے آؤ گے تو ایک بارشتہ میں تم کو اور دوں گا اور تمہاری عزت بڑھاؤں گا۔
الا ترون اني اوف الکیل وانا خیر المنزلین کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں غلہ کا ناپ پورا دیتا ہوں (کسی کو کم نہیں دیتا) اور میں بہترین میزبان ہوں۔ مجاہد نے کہا : یعنی تمہاری مہمانی اچھی طرح کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →(59) غرض کہ حضرت یوسف ؑ نے جب ان کو انجاج تول دیا تو ان سے کہا کہ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا ایک سوتیلا بھائی اور ہے تو اب اگر آنے کا ارادہ کرو تو اس کو بھی لانا تاکہ اس کا اناج بھی ملے تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں پورا ماپ کردیتا ہوں اور اناج کو ناپ تول کر تقسیم کرانا میرے اختیار میں ہے اور میں سب سے زیادہ مہمان نوازی کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ۔۔ : ”جَھَازٌ“ وہ سامان جس کی مسافر کو ضرورت ہوتی ہے۔ یوسف ؑ نے کہا : (ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ) یہ نہیں کہا ”بِأَخِیْکُمْ“ کہ اپنے بھائی کو جو تمہارے باپ سے ہے لے کر آنا، بلکہ ”بِاَخٍ لَّكُمْ“ کہا، یعنی ”اَخٌ“ کو نکرہ رکھا، تاکہ بھائیوں کے سامنے یہی ظاہر ہو کہ عزیز مصر اس بھائی کو نہیں جانتا۔ یہ سب سے چھوٹے اور یوسف ؑ کے سگے بھائی تھے۔ ان کا نام بنیامین مشہور ہے جس کی کوئی پختہ دلیل نہیں، جیسا کہ عزیز مصر کا نام ”فوطیفار“ ، اس کی بیوی کے نام ”زلیخا“ یا ”راعیل“ ، بادشاہ کا نام ”ریان بن ولید“ اور یوسف ؑ کے دوسرے بھائیوں کے ناموں کی دلیل اسرائیلی روایات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
آیت نمبر 59 تا 61
ولماجھزھم بجھازھم کہا جاتا ہے : جھزت القوم تجھیزا یعنی میں نے ان کو ان کے سفر کے لیے ان کا سامان دے دیا اور شادیوں کا جہیز وہی ہوتا ہے جس کی شوہر کو بطور ہدیہ ضرورت ہوتی ہے۔ بعض کو فیوں نے الجھازجیم کے کسرہ کو بھی جائز قرار دیا ہے اس آیت کریمہ میں الجھاز سے مراد کھانے کا وہ سامان ہے جو انہیں آپ کے پاس سے ملا۔ سدی نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے پاس گیارہ اونٹ تھے جبکہ وہ خود دس تھے۔ انہوں نے حضرت یوسف کو کہا : ہمارا ایک اور بھائی بھی ہے جو پیچھے رہ گیا ہے اور اس کا اونٹ ہمارے ساتھ ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ وہ کیوں پیچھے رہ گیا ؟ تو انہوں نے کہا : اس کے باپ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–66
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ائتونی باخ لکم من ابیکم “ سے مراد ہے بنیامین اور وہ یوسف کے سگے بھائی تھے۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مصر میں جو مہمان نوازی کرتا ہے میں اس سے بہتر مہمان نوازی کرنے والا ہوں۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ یعنی مہمان نوازی کرنے والوں میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہے۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وانا خیر المنزلین “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →[وَلَمَا : اور جب ] [ جَهَّزَهُمْ : انھوں (علیہ السلام) نے تیار کیا ان کے لئے ] [بِجَهَازِهِمْ : ان کی ضرورت کے سامان کو ] [ قَالَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ ائْتُوْنِيْ : تم لوگ آنا میرے پاس ] [ بِاَخٍ لَكُمْ : اپنے اس بھائی کے ساتھ جو ] [ مِّنْ اَبِيْكُمْ : تمہارے والد سے ہے ] [ اَ : کیا ] [لَا تَرَوْنَ : تم لوگ دیکھتی نہیں ] [ انىٓ: کہ میں ] [اُوْفِي : پورا کرتا ہوں ] [الْكَيْلَ : پیمانہ بھرنے کو ] [وَانا : اور میں ] [خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ : اتارنے والوں (یعنی مہمان نوازوں) کا بہترین ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–65
برادران یوسف کا اپنی پونجی کو سامان میں پا کر اپنے والد سے دوبارہ مصر جانے کی درخواست کرنا اور چھوٹے بھائی کی حفاظت کا وعدہ کرنا
باپ بیٹوں کی باتیں ہو رہی تھیں کہ مصر میں غلہ لینے گئے تو وہاں سے غلہ تو لے آئے لیکن جو صاحب غلہ تقسیم کرتے ہیں انہوں نے آئندہ کے لیے یہ شرط لگا دی ہے کہ اپنے بھائی کو بھی لاؤ گے تو غلہ ملے گا ورنہ نہیں پھر جب سامان کی طرف متوجہ ہوئے سامان کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ جو پونجی وہاں غلہ کے عوض دی تھی وہ تو اپنے ہی سامان میں موجود ہے۔ پونجی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ ابا جان ہمیں اور کیا چاہئے ہم غلہ بھی لے آئے اور پونجی بھی واپس مل گئی ایسے کریم اور محسن آدمی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–68
یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت
قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون
اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
53:۔ جب بھائیوں کو غلہ دے کر رخصت کرنے لگے تو فرمایا اپنے گیارہویں بھائی کو بھی ساتھ لانا تم نے دیکھ لیا کہ میں کتنا چھا معاملہ کرتا ہوں، پورا ناپ کردیتا ہوں اور مہمانوں کی بھی خدمت و تواضع کرتا ہوں۔ ” فَاِنْ لَّمْ تَاتُوْنِیْ بِہٖ الخ “ اگر تم اسے ساتھ نہیں لاؤ گے تو میرے پاس مت آنا میں تمہیں غلہ نہیں دوں گا۔ ” قَالُوْا سَنُرَاوِدُ “ انہوں نے کہا ہم اسے لانے کے لیے اس کے باپ سے کوئی حیلہ بہانہ ضرور کریں گے اور اسے ساتھ لے کر آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ربط آیات
گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب شاہ مصر کو اس کے خواب کی تعبیر مل گئی تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کو بلا بھیجا مگر آپ نے اپنے خلاف لگائے گئے الزام کی صفائی تک جیل سے باہر آنے سے انکار کردیا۔ پھر بادشاہ نے مصر کی معزز خواتین کو طلب کرکے یوسف (علیہ السلام) کی بےگناہی کے متعلق تسلی کرلی تو آپ جیل سے نکل کر شاہی دربار میں پہنچے۔ بادشاہ آپ کے علم و فہم اور عقل و دانش کا تو پہلے ہی معترف ہوچکا تھا ‘ جب اس نے آپ سے گفتگو کی تو مزید گرویدہ ہوگیا ‘ اور آپ کو اپنے مصاحبین میں شامل کرلیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے خود امور خزانہ کی ذمہ داری اٹھانے کی پیش کش کی جسے بادشاہ نے منظور کرلیا اور آپ کو…
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَہَّزَہُمْ بِجَہَازِہِمْ قَالَ ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْ 0ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّىْٓ اُوْفِي الْكَيْلَ وَاَنَا خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ 59
جهز
قال تعالی: فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهازِهِمْ [يوسف/ 70] ، الجَهَاز : ما يعدّ من متاع وغیره، والتجهيز : حمل ذلک أو بعثه،
( ج ھ ز )
الجھاز ۔ سازو سامان جو تیار کر کے رکھا جائے ۔ قرآن میں ہے : فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهازِهِمْ [يوسف/ 70] جب ان کے لئے ان کا سامان تیار کردیا ۔ التجھیز ( تفعیل ) تیار کردہ سامان کو لادنا یا بھیجنا
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
1 ؎ سوتیلے بھائی بنیامین جو یوسف (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی تھے 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
وَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ قَالَ ائْتُونِیْ بِاَخٍ لَّکُمْ مِّنْ اَبِیْکُمْ ج اَلاَ تَرَوْنَ اَنِّیْ ٓ اُوْفِی الْکَیْلَ وَاَنَا خَیْرُالْمُنْزِلِیْنَ ۔ فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِہٖ فَلاَکَیْلَ لَکُمْ عِنْدِیْ وَلاَ تَقْرَبُوْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 59، 60)
(سو جب اس نے ان کا سامان تیار کرلیا تو فرمایا کہ اب کے اپنے سوتیلے بھائی کو بھی میرے پاس لانا، کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں کس طرح پیمانہ پورا بھر کردیتا ہوں اور میں کتنا بہتر مہمان نواز ہوں۔ اور اگر تم اسے نہ لے کے آئے تو نہ تمہارے لیے میرے پاس غلہ ہے اور نہ تم میرے پاس پھٹکنا) ۔
بھائیوں کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ترغیب
معلوم ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قحط سالی کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا مجبور ہو کر مصر جانا۔
قرآن مجید کے مقدس الفاظ سے یہ بات مترشح ہو رہی ہے کہ بادشاہ کے خواب کے مطابق خوشحالی کے سات سال گزرنے کے بعد مصر میں قحط سالی شروع ہوچکی تھی۔ اور اس قحط کے اثرات شام، فلسطین اور کنعان تک پھیل چکے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالتے ہی بہترین منصوبہ بندی کی۔ جس کی وجہ سے دوسرے علاقوں کے لوگ بھی غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر کا رخ کر رہے تھے۔ اسی بنا پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی غلہ لینے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لیکن…
Read the full tafseer →59: وَلَمَّا جَھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ قَالَ (اور جب ان کا سامان درست کرا دیا تو ان سے کہا) روایت میں ہے کہ جب بھائیوں کو دیکھا تو ان سے عبرانی زبان میں بات کی اور فرمایا تم بتلائو کون ہو ؟ اور کیا کام کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم شامی ہیں۔ بکریاں چرانا ہمارا پیشہ ہے۔ ہم قحط کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا ہوئے۔ آپ کے ہاں غلہ لینے آئے ہیں آپ نے فرمایا شاید یہاں کے حالات کی جاسوسی کیلئے آئے ہو۔ انہوں نے کہا خدا کی پناہ ہم ایک بیٹے کی گمشدگی سے غم زدہ پیغمبر باپ کی اولاد ہیں۔ اس کا وہ بیٹا اسے زیادہ محبوب تھا۔ اور ہمارے ایک ماں جائے بھائی کو اس نے انس کیلئے پاس رکھ لیا ہے۔ تو آپ نے فرمایا اگر تم سچے ہو…
Read the full tafseer →تفسیر :۔ 59” ولما جھزھم بجھازھم “ ان سے کئے ہوئے وعدہ کے مطابق ہر ایک کو اونٹ جتنا سامان دیا ۔ قال انتونی باخ لکم من ابیکم “ بنیا مین کو لے آئو ” الا ترون انی او فی الکیل “ پورا تول دیتا ہوں کچھ کمی نہیں کرتا تو تمہیں ایک اونٹ کا غلہ زیادہ دوں گا تمہارے بھائی کی وجہ سے اور تمہاری اچھی مہمانی کروں گا ۔ ” وانا خیر المنزلین “ مجاہد (رح) فرماتے اچھا مہمان نواز کیونکہ یوسف (علیہ السلام) نے ان کے خوب طرف داری کی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
58۔ 62۔ جب یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کی جگہ بادشاہ کے وزیر ہوگئے اور سارا انتظام ملکی و مالی ان کے قبضہ و تصرف میں آگیا تو سات سال ارزانی میں انہوں نے بہت اہتمام کیا اور غلوں کو نہایت احتیاط سے جمع کیا یہاں تک کہ ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا اور جب ارزانی کا زمانہ گزر گیا اور قحط شروع ہونے لگا تو دور دور کے لوگ غلہ خریدنے کو مصر میں آنے جانے لگے۔ یوسف (علیہ السلام) کسی شخص کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ غلہ نہیں دیتے تھے اور آپ معہ بادشاہ اور لشکر کے دن میں ایک دفعہ کھانا کھاتے تاکہ یہ سات سال قحط کے بآسانی گزر جائیں جب یہ خبر رفتہ رفتہ ملک شام پہنچی کہ مصر میں غلہ فروخت ہوتا ہے تو یوسف کے…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور جب تیار کردہ کرتے تھے۔ یہ ان کا احسان انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ (آیت) ” حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہ ان سے کہا ؟ (آیت) ” اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمہارے باپ کی طرف سے ہے “ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصرلانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا : (آیت) ” کیا ہم دیکھتے نہیں ہو کہ میں ماپ بھی پورا دیتا ہوں اور خوب مہمان نواز بھی ہوں۔ “ یعنی مہمان نوازی اور عزت و اکرام کرنے میں سب سے بہتر ہوں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–71
قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع…
Read the full tafseer →101۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے بھائی کو لانے کا مطالبہ :
یعنی بنیامین کو۔ جو کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سگے بھائی تھے۔ روایات میں ہے کہ قحط کے اس دور میں حضرت یوسف (علیہ السلام) ہر شخص کو صرف ایک اونٹ کا بوجھ دیتے تھے۔ تو ان لوگوں تو ان لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ ہمیں دو اونٹوں کا بوجھ اور بھی دیجئے۔ کیونکہ ہمارے گھر میں ہمارے بوڑھے والد بھی ہیں جو کہ ضعف اور کبرسنی کے باعث خود نہیں آسکتے۔ اور ایک ہمارا چھوٹا بھائی بھی ہے جو کہ ان کی خدمت کے لیے وہاں موجود ہے۔ تب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو دو بوجھ اور دئے اور کہا کہ آئندہ اپنے اس بھائی کو بھی ساتھ لیتے آنا۔ (المراغی، الجامع، ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–101
یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں
تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔
1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–68
آیات 58 تا 68
اسرار و معارف
مصر کیا ہر جگہ بڑی فصلیں ہوئیں اور غلے اور پھلوں کی فروانی نے لوگوں کو امیر کردیا یوسف (علیہ السلام) نے بہت اہتمام فرمایا کہ ضرورت سے زائد غلہ لوگوں سے خرید کر جمع فرماتے گئے اور ابتدائی سات برسوں میں سرکاری گودام بھر گئے ۔ پھر قحط سالی شروع ہوئی تو غلہ کا دانہ نہ ملتا تھا تب آپ نے فروخت کرنے کا اہتمام فرمایا ۔
اشیاے ضرورت پر کنڑول نہ صرف جائز بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے
اور فروخت پر بھی کنڑول رکھا کہ ایک آدمی کو اس کے خاندان کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ جو مقرر تھا دیا جاتا تھا تا کہ لوگ خرید کر مہنگے داموں بیچنا شروع نہ کردیں جسے آج کی زبان میں بلیک مار کٹینگ کہا جاتا…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ یعنی بنیامین کو، جو حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے سگے بھائی اور سب بھائیوں سے چھوٹے تھے، بلوانے کے لئے ان سے کہا۔ (از روح) ۔
Read the full tafseer →(12:59) جھزہم۔ اس نے ان کے لئے تیار کردیا۔ جھز یجہز تجھیز (تفعیل) سے بمعنی سامان تیار کردینا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ہم۔ ضمیر جمع مذکر غائب (برادرانِ یوسف کے لئے) جہاز۔ سامان ۔ مال و اسباب ۔ سازوسمان۔
ایتونی۔ ب۔ اتی یاتی اتیان (ضرب) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ جب اس کے صلہ میں بـ۔ آئے تو متعدی ہوجاتا ہے۔ ائت ب۔ میرے پاس لا۔ ائتونی باخ لکم اپنے بھائی کو میرے پاس لائو۔ نی میں نون وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم اتی مادہ۔
اوفی۔ مضارع واحد متکلم۔ میں پورا کرتا ہوں۔ میں پورا کروں گا۔ اوفی یوفی ایفاء (افعال) اوفی بالوعد۔ وعدہ پورا کرنا۔ اوفی النذر نذر پوری کرنا۔ اوفی الکیل پیمانہ پورا ماپنا۔ وفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 61
(جآء آیا ) (اخوۃ بھائی) ( دخلوا وہ داخل ہوئے ) (عرف اس نے پہچان لیا) ( منکرون نہ پہچاننے والے) (جھز اس نے تیار کی، تیار کردیا) ( جھاز سامان) ( اوفی میں پورا دیتا ہوں) ( سنراود ہم درخواست کریں گے) ( لفعلون البتہ ضرور کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 58 تا 61
کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے حضرت یوسف کا واقعہ اور وہ سب معلوم کیا تھا جس کی بنا پر حضرت یعقوب، حضرت یوسف اور ان کے اہل خاندان فلسطین سے مصر پہنچ کر وہاں آباد ہوگئے تھے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ حضرت یوسف کا واقعہ اور ان اسباب کا ذکر فرمایا ہے کہ جب یہ خاندان جو بنی اسرائیل کہلاتا تھا ہجرت کر کے مصر پہنچا۔ ان آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–66
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا پنے گھر جانا اور اپنے باپ سے سوال جواب کرنا
پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ : اب جو آنا تو اپنے اس بھائی کو بھی اپنے ہمراہ لیتے آنا تاکہ تمہارا سچ معلوم ہوجائے۔ دیکھو میں نے تمہاری بہت خاطر کی ہے اور غلہ بھر پور دیا ہے۔ اگر اب کے اپنے بھائی کو نہ لاؤ گے تو تمہیں غلہ نہ دیں گے اور نہ اپنے پاس جگہ دیں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ : نہیں ہم ضرور اس کو اپنے ساتھ لائیں گے اور اگرچہ باپ اس کو اپنے پاس سے علیحدہ نہیں کرتے مگر ہم انہیں سمجھا بجھا کر جس طرح ممکن ہوگا اسے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے پختہ وعدہ ان سے لے لیا کہ وہ ضرور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
[19] ان دس بھائیوں کو جب ان کے حصے کا پورا غلہ مل گیا تو انہوں نے عرض کیا ہوگا کہ ہمارے بوڑھے باپ اور گیارہویں بھائی کا حصہ بھی عطا ہو۔ اس پر یوسف (علیہ السلام) نے کہا ہوگا کہ تمہارے والد کے خود نہ آنے کی وجہ تو سمجھ میں آسکتی ہے کہ وہ بوڑھے ہیں لیکن بھائی کے نہ آنے کا کیا معقول سبب ہوسکتا ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بھائی کے نام سے اس کے حصے کا غلہ لے جانا چاہتے ہو ؟ اس لئے تاکید کی کہ اگلے پھیرے میں اس بھائی کو بھی لیتے آنا جسے کہتے ہو کہ ہم گھر چھوڑ آئے ہیں ورنہ تمہارا اعتبار جاتا رہے گا اور تمہیں غلہ نہ ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
(ف 1 ) اللہ کی حکمت دیکھیے وہ بھائی جو اپنے زعم میں یوسف (علیہ السلام) کو مار چکے تھے اور جو اس کے اقتدار کے دشمن تھے آج اس کے دربار میں کھڑے ہیں اور پہچانتے نہیں ۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی بنیا میں سے ملنا چاہتے ہیں اس لیے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کو آئیندہ اپنے ساتھ لاؤ میں تمہیں اناج پورا پورا دیتا ہوں اور مہمان نواز بھی ہوں اور اگر اسے اپنے ساتھ نہ لاؤ گے تو غلہ نہیں ملے گا
حل لغات
المنزلین ۔ ٹھرانے والا ۔ نزول
بضاعتہ ۔ پونجی ۔ بدل ۔ معیار اشتراک سکہ وغیرہ
Read the full tafseer →59 ۔ اور جب یوسف (علیہ السلام) نے ان کی روانگی کے وقت ان کے غلہ کا سامان وغیرہ تیار کردیا تو ان سے چلتے وقت فرمایا اگر اس غلہ کے بعد تم کو پھر غلہ کی ضرورت پیش آئے تو آئندہ اپنے علاقی بھائی بن یامین کو بھی لے کر آنا ۔ کیا تم جانتے نہیں کہ میں پیمانہ بھی پورا بھرتا ہوں اور میں سب سے زیادہ مہرمان نوازی کرتا ہوں ۔ یعنی ناپ کا بھرکھرا ہوں اور جو پردیسی آتے ہیں ان کی مہمان نوازی اور بھلا برتائو کرنے والا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سب سے چھوٹا بھائی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا سگا بھائی تھا اس کو بلوایا ۔ 12 ۔
خلاصہ :۔ یہ کہ اس کو لے آئو گے تو اس کا بھی حصہ دوں گا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
ف 6۔ غرض یوسف (علیہ السلام) نے باختیار ہوکرغلہ کاشت کرانا اور جمع کرانا شروع کردیا اور سات برس کے بعد قحط شروع ہوا یہاں تک کہ دور دور سے یہ خبر سن کر کہ مصر میں سلطنت کی طرف سے غلہ فروخت ہوتا ہے جوق درجوق لوگ آنا شروع ہوئے اور کنعان میں بھی قحط ہوا تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بجز بنیامین کے غلہ لینے مصر آئے۔
Read the full tafseer →اپنے بھائیوں کا سامان بڑی دلچسپی سے تیار کرایا اور کہا آئندہ اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لانا
۔ 71 ایک بات واضح ہونے سے بہت سی ضمنی باتیں خود بخود نکل آتی ہیں اگرچہ ان کا ذکر نہ بھی کیا جائے ذکر تو یہاں سامان تیار کرانے کا ہے لیکن ساتھ ان کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ ” اب کے آنا تو اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لانا۔ “ جس سے یہ بات خود بخود نکل آئی کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد ، حقیقی بھئای اور گھر کے دوسرے سارے حالات کو خوب کرید کیرد کر پوچھا اور آہستہ آہستہ سب کچھ معلوم کرلیا اور پھر ان کو حسب مرضی غلہ بھر دیا۔
Read the full tafseer →The purpose of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) in asking these questions was to make his brothers open up and relate events fully. So, then he asked: Does your father have any child other than you? They said: We were twelve brothers out of whom one of the younger brothers disappeared in the forest. Our father loved him most. After him, he became attached to his younger real brother and that is why he did not send him along with us on this trip so that he can be a source of his comfort.
After having heard what they said, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) gave orders that they be lodged as royal…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
52. As the Quran has omitted the details, someone might be at a loss to know as to how he brought Benjamin into the conversation with his brothers, and why he insisted on them to bring him with them, when he intended to keep his own identity secret from them. For, obviously these things might have led to the revelation of that secret. But a little thinking will show that he could have very easily and naturally led the conversation up to Benjamin without arousing their curiosity. As there were strict restrictions on the purchase of food, everyone was permitted to buy only a fixed quantity of…
Read the full tafseer →