Yusuf 12:58

Yusuf · from ayah 58

12:58

وَجَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ ۟وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡكِرُوۡنَ‏

اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the brothers of Joseph came [seeking food], and they entered upon him; and he recognized them, but he was to them unknown.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 8 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:58

یوسفؑ کے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اس سے نا آشنا تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یوسف کے بھائی آئے اور یوسف کے پاس گئے تو اس نے انہیں پہچان لیا اور انہوں نے اسے نہ پہچانا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (جب قحط پڑا تو) یوسف کے بھائی آئے، اور ان کے پاس پہنچے۔ تو یوسف نے انہیں پہچان لیا، اور وہ یوسف کو نہیں پہچانے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یوسف کے بھائی آئے تو اس کے پاس حاضر ہوئے تو یوسف نے انہیں پہچان لیا اور وہ اس سے انجان رہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (قحط کے زمانہ میں) یوسف ؑ کے بھائی (غلہ لینے کے لئے مصر) آئے تو ان کے پاس حاضر ہوئے پس یوسف ؑ نے انہیں پہچان لیا اور وہ انہیں نہ پہچان سکے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یوسف کے بھائی آئے، پھر اس کے پاس داخل ہوئے تو اس نے انھیں پہچان لیا اور وہ اسے نہ پہچاننے والے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(کچھ عرصہ بعد) یوسف کے بھائی مصر آئے اور یوسف کے پاس حاضر ہوئے۔ یوسف نے تو انھیں پہچان لیا مگر وہ انھیں نہ پہچان سکے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یوسف کے بھائی آئے اور اس سے ملے۔ اس نے تو ان کو پہچان لیا پر وہ اس سے نا آشنا ہی رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آپہنچے یوسف کے بھائی (قحط پڑنے پر کنعان سے مصر، غلہ لینے کی غرض سے) پھر وہ حاضر ہوئے آپ کی خدمت میں، تو یوسف نے تو ان کو (فوراً) پہچان لیا، مگر وہ آپ کو نہ پہچان سکے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور یوسف ؑ کے بھائی بھی آئے پھر ان کے پاس پہنچے۔ سو (یوسف ؑ نے) ان کو پہچان لیا درآنحالیکہ وہ لوگ ان سے ناآشنا رہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آئے یوسف کے بھائی اور آپ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے انہیں پہچان لیا مگر وہ آپ کو نہیں پہچان پائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف ؑ کے پاس گئے تو یوسف ؑ نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And Joseph's brothers came to Egypt and presented themselves before him. He recognized them, but they did not know him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And came the brothers of Yusuf and appeared before him. He recognized them, while they did not recognize him.

— Muhammad Taqi Usmani

And came the brothers of Yusuf and appeared before him. He recognized them, while they did not recognize him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Yusuf's brethren came and they entered unto him, and he recognized them, but they recognized him not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Joseph's brethren came and presented themselves before him, and he knew them but they knew him not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the brothers of Joseph came [seeking food], and they entered upon him; and he recognized them, but he was to them unknown.

— Saheeh International

Joseph's brothers came to him. When they entered his court, he recognized them. They did not know him.

— Muhammad Sarwar

And Yusuf's brothers came and went in to him, and he knew them, while they did not recognize him.

— Muhammad Habib Shakir

And the brethren of Yusuf came and entered unto him, and he recognized them, while they recognized him not.

— Abdul Majid Daryabadi

Then came Joseph's brethren: they entered his presence, and he knew them, but they knew him not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 58–62

کہتے ہیں کہ حضرت یوسف ؑ نے وزیر مصر بن کر سات سال تک غلے اور اناج کو بہترین طور پر جمع کیا۔ اس کے بعد جب عام قحط سالی شروع ہوئی اور لوگ ایک ایک دانے کو ترسنے لگے تو آپ نے محتاجوں کو دینا شروع کیا، یہ قحط علاقہ مصر سے نکل کر کنعان وغیرہ شہروں میں بھی پھیل گیا تھا۔ آپ ہر بیرونی شخص کو اونٹ بھر کر غلہ عطا فرمایا کرتے تھے۔ اور خود آپ کا لشکر بلکہ خود بادشاہ بھی دن بھر میں صرف ایک ہی مرتبہ دوپہر کے وقت ایک آدھ نوالہ کھالیتے تھے اور اہل مصر کو پیٹ بھر کر کھلاتے تھے پس اس زمانے میں یہ بات ایک رحمت رب تھی۔ یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پہلے سال مال کے بدلے غلہ بیچا۔ دوسرے سال سامان اسباب کے بدلے، تیسرے سال…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْسُف 50 یہاں پھر سات آٹھ برس کے واقعات درمیان میں چھوڑ کر سلسلہ بیان اس جگہ سے جوڑ دیا گیا ہے۔ جہاں سے بنی اسرائیل کے مصر منتقل ہونے اور حضرت یعقوب ؑ کو اپنے گم شدہ صاحبزادے کا پتہ ملنے کی ابتداء ہوتی ہے۔ بیچ میں جو واقعات چھوڑ دیے گئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ خواب والی پیش خبری کے مطابق حضرت یوسف ؑ کی حکومت کے پہلے سات سال مصر میں انتہائی خوشحالی کے گزرے اور ان ایام میں انہوں نے آنے والے قحط کے لیے وہ تمام پیش بندیاں کرلیں جن کا مشورہ بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتاتے وقت وہ دے چکے تھے۔ اس کے بعد قحط کا دور شروع ہوا اور یہ قحط صرف مصر ہی میں نہ تھا بلکہ آس پاس کے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (غرض یوسف ؑ نے با اختیار ہو کر غلہ کاشت کرانا اور جمع کرانا شروع کیا اور سات برس کے بعد قحط شروع ہوا یہاں تک کہ دور دور سے یہ خبر سن کر مصر میں سلطنت کی طرف سے غلہ فروخت ہوتا ہے ذوق در ذوق لوگ آنا شروع ہوئے) اور (کنعان میں بھی قحط ہوا) یوسف ؑ کے بھائی (بھی بجز بنیامین کے غلہ لینے مصر میں) آئے پھر یوسف ؑ کے پاس پہونچے سو یوسف ؑ نے (تو) ان کو پہچان لیا اور انہوں نے یوسف ؑ کو نہیں پہچانا (کیونکہ ان میں تغیر کم ہوا تھا نیز یوسف ؑ کو ان کے آنے کا خیال اور قوی احتمال بھی تھا پھر نو وارد سے پوچھ بھی لیتے ہیں کہ آپ کون ہیں کہاں سے آئے ہیں اور شناسا لوگوں کو تھوڑے پتہ سے اکثر پہچان بھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَجَاۗءَ اِخْوَةُ يُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۔ برادرانِ یوسف کی حاضری : حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں کا یہ آنا، جیسا کہ آگے کی آیت میں وضاحت ہے، غلہ لینے کی غرض سے تھا۔ یعنی یہ ساتھ سال بعد اس زمانے کی بات ہے جب مصر اور اس سے ملحقہ ممالک فلسطین و شامل وغیرہ سب قحط کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ یہ قحط تو مصر میں بھی تھا لیکن حضرت یوسف کی پیش بندی اور ان کے حسن انتطام کی بدولت مصر نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرنے میں کامیاب رہا بلکہ وہاں پاس پڑوس کے ملکوں سے آنے والے ضرورت مندوں کو بھی ایک معین مقدار میں سرکاری ڈپو سے غلہ خریدنے کی اجازت تھی۔ چناچہ غلہ ہی حاصل کرنے کی غرض…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 57–58

58۔ 1 یہ اس وقت کا وقع ہے جب خوش حالی کے سات سال گزرنے کے بعد قحط سالی شروع ہوگئی جس نے ملک مصر کے تمام علاقوں اور شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، حتیٰ کہ کنعان تک بھی اس کے اثرات جا پہنچے جہاں حضرت یعقوب ؑ اور حضرت یوسف ؑ کے بھائی رہائش پذیر تھے۔ حضرت یوسف ؑ نے اپنے حسن تدبیر سے اس قحط سالی سے نمٹنے کے لئے جو انتظامات کئے تھے وہ کام آئے اور ہر طرف سے لوگ حضرت یوسف ؑ کے پاس غلہ لینے کے لئے آرہے تھے حضرت یوسف ؑ کی یہ شہرت کنعان تک بھی جا پہنچی کہ مصر کا بادشاہ اس طرح غلہ فروخت کر رہا ہے۔ چناچہ باپ کے حکم پر یہ بردران یوسف ؑ بھی گھر کی پونجی لے کر غلے کے حصول کے لئے دربار شاہی میں پہنچ گئے جہاں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

37: جیسا کہ حضرت یوسف ؑ نے تعبیر دی تھی، سات سال بعد پورے مصر میں سخت قحط پڑا، اور آس پاس کے علاقے بھی اسکی لپیٹ میں آگئے، حضرت یوسف ؑ نے مصر کے بادشاہ کو یہ مشورہ دیا تھا کہ خوشحالی کے سات سالوں میں مسلسل غلے کا ذخیرہ کیا جائے تاکہ جب قحط کے سال آئیں تو یہ ذخیرہ لوگوں کے کام آئے، اس موقع پر آپ نہ صرف اپنے علاقے کے لوگوں کو سستے داموں غلہ فروخت کرسکیں گے بلکہ اردگرد کے دوسرے علاقوں کے لوگوں کی بھی مدد کرسکیں گے، چنانچہ اس قحط کے نتیجے میں دور دور تک غلے کی بڑی قلت ہوگئی، حضرت یعقوب ؑ (یعنی حضرت یوسف ؑ کے والد) اس پورے عرصے میں فلسطین کے علاقے کنعان ہی میں تھے جب کنعان میں بھی قحط پڑا تو انہیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 58 تا 62 خشک سالی اور قحط نے سر زمین کنعان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ چناچہ برادران یوسف بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ عازم مصر ہوئے تھے کیونکہ مصر نے اپنے غلے کے ذخائر دوسرے ممالک کے لئے کھول دئیے تھے۔ یہ ذخائر اس نے شادابی کے زمانے میں جمع کر رکھے تھے ۔ ہمارے سامنے اب منظر یہ ہے کہ یہ لوگ اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مہمان ہیں ، ایسے حالات میں کہ اپنے فرمان کو نہیں جانتے جبکہ وہ انہیں خوب جانتے ہیں۔ کیونکہ ان کے اندر کوئی زیادہ تبدیلی نہیں ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) تبدیل ہوگئے ہیں ، پھر ان کے خیال میں یہ بات آہی نہیں سکتی کہ یوسف (علیہ السلام) یہ مقام حاصل کرسکیں گے ، ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 موضح القرآن میں ہے " جب حضرت یوسف ملک " مصر " پر مختار ہوئے خواب کے موافق سات برس خوب آبادی کی اور ملک کا اناج بھرتے گئے۔ پھر سات برس کے قحط میں ایک بھاؤ میانہ باندھ کر بکوایا اپنے ملک والوں کو اور پردیسیوں کو سب کو برابر مگر پردیسی کو ایک اونٹ سے زیادہ نہ دیتے تھے۔ اس میں خلق بچی قحط سے اور خزانہ بادشاہ کا بھر گیا۔ ہر طرف خبر تھی کہ مصر میں اناج سستا ہے ان کے بھائی خریدنے کی غرض سے آئے۔ " ان کے تن و توش، ہیأت، وضع قطع میں چنداں تغیر نہ ہوا تھا۔ ادھر حضرت یوسف برابر اپنے باپ بھائیوں کا تفقد کرتے رہے ہوں گے اور وہاں پہنچنے پر ان کا نام و نشان بھی دریافت کرلیا ہوگا جیسا کہ سلاطین و اعیان سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ ان حالات میں یہ امکان ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ عزیز مصر جس کے دربار میں ان کی پیشی ہورہی ہے وہ ان کا بھائی یوسف ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

57 عام قحط اور مصر میں غلہ کی تقسیم کا نظام :۔ برادران یوسف آپ کے پاس اس وقت آئے جب آپ کو بادشاہ بنے ہوئے آٹھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ پہلے سات سال انتہائی خوشحالی کا دور تھا۔ اس دور میں آپ نے کافی غلہ محفوظ کرلیا تھا۔ اس کے بعد جب قحط سالی کا دور شروع ہوا تو یہ قحط سالی صرف ملک مصر میں ہی نہ تھی بلکہ آس پاس کے ممالک میں بھی پھیل چکی تھی۔ اب صورت حال یہ تھی کہ مصر میں تو غلہ سستا تھا جبکہ آس پاس کے علاقہ میں بہت مہنگے نرخوں پر فروخت ہو رہا تھا اور غلہ کے حصول کے لیے آس پاس کے علاقوں کے باشندے مصر کا رخ کرتے تھے۔ مصر میں غلہ کی فراہمی اور اس کی نک اس کا تمام تر انتظام سیدنا یوسف نے خود سنبھال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

114۔ یہ ذکر اس وقت کا ہے جب قحط شدید نہ صرف مصر میں پڑچکا ہے بلکہ اس کے اثرات فلسطین وغیرہ دوسرے ملکوں تک محیط ہوچکے ہیں اور یہ ذکر یوسف (علیہ السلام) کے ان دس سوتیلے بھائیوں کا ہورہا ہے، جو آپ کے سرمصیبت لائے تھے، یہ عظیم الشان اور تاریخی قحط تو مصر کے تمام ملحقہ ممالک میں تھا، فرق اتنا تھا کہ دوسری اور جگہوں میں قحط ہی قحط تھا۔ اور یہاں یوسف (علیہ السلام) کے حسن تدبیر سے قحط کا انتظام بھی تھا۔ ایسا کہ نہ صرف مصریوں کو غلہ پہنچتا رہا بلکہ باہر والوں کے ہاتھ بھی ایک نرخ مقرر پر فروخت ہوتا رہا۔۔۔ راشننگ “ اور ” کنٹرول “ کی یہ بہترین تاریخی نظیر بھی ایک پیغمبر ہی کے روئداد زندگی کا جزء ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 58–68

آیت نمبر 58 تا 68 ترجمہ : اور قحط کے سال شروع ہوگئے اور (اس کے اثرات) ملک کنران اور شام تک پہنچ گئے، جب اہل کنعان کو یہ اطلاع پہنچی کہ عزیز مصر قیمۃً غلہ دیتا ہے تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سوائے بنیامین کے غلہ لینے کیلئے (مصر) آئے چناچہ جب بھائی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا اور بھائی یوسف کو نہ پہچان سکے، (اسکی جدائی کو) مدت دراز گذر جانے کی وجہ سے اور اس کے بارے میں یہ گمان ہونے کی وجہ سے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہوگا، بھائیوں نے یوسف سے عبرانی زبان میں گفتگو کی، یوسف (علیہ السلام) نے انجان بنکر ان سے معلوم کیا کہ میرے ملک آنے کا تمہارا کیا سبب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجاء اخوۃ یوسف فدخلوا علیہ فعرفھم وھم لہ منکرون اور یوسف کے بھائی آئے اور یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ یوسف کو نہ پہچان سکے۔ یعنی دس بھائی یوسف کے پاس پہنچے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) نے فرمایا : حضرت یوسف نے پہلی ہی نظر میں بھائیوں کو پہچان لیا۔ حسن نے کہا : اوّل نظر میں نہیں پہچانا ‘ جب انہوں نے اپنے تعارف کرایا تو پہچانا۔ حضرت ابن عباس نے بھائیوں کے حضرت یوسف کو نہ پہچاننے کی یہ وجہ بیان کی کہ کنویں میں ڈالنے اور اب سامنے آنے کے درمیان چالیس برس کی مدت گذر گئی تھی۔ طول زمانہ شناخت سے مانع ہوا۔ عطاء نے کہا : حضرت یوسف اس وقت شاہانہ تاج پہنے ‘ شاہی تخت پر رونق…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(58) چناچہ حضرت یوسف ؑ کے دس بھائی مصر پہنچے اور حضرت یوسف ؑ کے پاس آئے تو حضرت یوسف ؑ نے انکو پہچان لیا اور انہوں نے حضرت یوسف ؑ کو نہیں پہچانا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَجَاۗءَ اِخْوَةُ يُوْسُفَ : یہاں اللہ تعالیٰ نے خوش حالی کے سالوں کا، ان میں یوسف ؑ کے حسن انتظام کا اور اس سے متعلق سب باتوں کا ذکر چھوڑ دیا، کیونکہ اصل مقصود یہ تھا کہ انبیاء کو اپنوں کے ہاتھوں کیا کچھ اٹھانا پڑتا ہے اور آخر کار کس طرح ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور حسن انجام کا اہتمام ہوتا ہے۔ درمیان میں گزرنے والے عرصے کا اندازہ خود بخود ہو رہا ہے، اس لیے اب خوش حالی کے سالوں کے ختم ہونے کے بعد قحط کے دوران بھائیوں کی آمد کی بات شروع فرمائی، جس سے بات خودبخود سمجھ میں آرہی ہے کہ قحط کی وسعت مصر سے نکل کر اردگرد کے ممالک فلسطین و شام وغیرہ تک پہنچ گئی تھی اور مصر کے سوا کہیں سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 58 قولہ تعالیٰ : وجآء اخوۃ یوسف یعنی جب انہیں قحط لاحق ہوا تو وہ مصر آئے تاکہ غلہ حاصل کریں۔ یہ قرآن کریم کا معجزانہ اختصار ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : جب لوگ قحط میں مبتلا ہوئے تو کنعان میں بھی قحط آگیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو بھیجا، جبکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا معاملہ ان کی نرمی، مہربانی، حسن سلوک، عدل اور سیرت کی وجہ سے پوری دنیا میں پھیل چکا تھا۔ جب لوگوں پر مصیبت آئی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) لوگوں کی خاطر سودے کے وقت خود موجود ہوتے اور ان کی تعداد کے مطابق انہیں کھانا دیتے۔ ہر آدمی کو ایک وسق (ساٹھ صاع) ملتا۔ وجآء اخوۃ یوسف فد خلواعلیہ فعرفھم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی مصر آمد : 1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یوسف کے بھائی جب ان کے پاس آئے تو انہوں نے تو ان کو پہچان لیا مگر وہ نہ پہچان سکے۔ پیالہ بادشاہ کے پاس لایا گیا جس میں وہ پیتا تھا، اس کو اس کے ہاتھ پر رکھ دیا گیا آپ اسے ٹھوکر مارتے تو وہ بجنے لگ جاتا پھر وہ ٹھوکر مارتے تو بجنے لگتا یوسف نے فرمایا کہ یہ پیالہ مجھ کو تمہاری طرف سے خبر دے رہا ہے کہ تمہاری باپ شریک ایک بھائی تھا جس کو یوسف کہا جاتا تھا اور اس کا باپ تمہاری نسبت اس سے زیادہ محبت کرتا تھا۔ تم اس کو لے گئے تھے اور اس کو ایک کنویں میں ڈال دیا تھا اور تم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَجَاۗءَ : اور آئے ] [ اِخْوَةُ يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ] [ فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ : پھر وہ لوگ داخل ہوئے ان (علیہ السلام) پر (یعنی حاضر ہوئے)] [ فَعَرَفَهُمْ : تو انھوں (علیہ السلام) نے پہچانا ان لوگوں کو ] [وَهُمْ : اور وہ لوگ ] [لَهٗ : ان (علیہ السلام) کو ] [مُنْكِرُوْنَ : نہ پہچاننے والے تھے ] ج ھـ ز [جَھْزًا : (ف) کسی ادھورے کام کو پورا کرنا جیسے زخمی کو مار کر اس کا کام تمام کردینا۔] [جَھَازٌ: کسی کی ضرورت پوری کرنے والا سامان۔ زیر مطالعہ آیت 59 ۔] [تَجْھِیْزًا : (تفعیل) کسی کے لئے ضرورت کا سامان مہیا کرنا۔ تیار کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 59]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 55–58

برادران یوسف کا غلہ لینے کے لیے مصر آنا اور سامان دے کر آپ کا یہ فرمایا کہ آئندہ اپنے علاّتی بھائی کو بھی لانا اور ان کی پونجی ان کے کجاو وں میں رکھوا دینا سر سبزی و شادابی کے سات سال گزرنے کے بعد قحط آگیا یہ قحط صرف مصر ہی میں نہ تھا آس پاس کے علاقوں میں بھی تھا۔ ملک شام بھی مصر کے ساتھ ملتا ہے یہاں بھی قحط تھا اور غلے کی ضرورت تھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والد اور بھائی سر زمین فلسطین میں رہتے تھے جو شام کا ایک حصہ ہے ان لوگوں کو بھی علم ہوا کہ مصر میں غلہ ملتا ہے اور حکومت کی طرف سے دیا جا رہا ہے لیکن حکومت کا یہ دینا مفت میں نہیں ہے غلہ حاصل کرنے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–68

یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

52:۔ یہ دسواں حال ہے۔ اس سے پہلے اندماج ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) خزائن الارض کے وزیر مقرر ہوگئے اور سات سال تک زمین کی پیداوار کا ذخیرہ کرتے رہے۔ سات سال کے بعد قحط پڑگیا اور دور دور سے لوگ غلہ لینے کے لیے مصر آنے لگے۔ اسی سلسلہ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی مصر میں ان کے پاس آئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا مگر وہ ان کو نہ پہچان سکے۔ ان کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یوسف اس قدر بلند وبالا مرتبہ پر پہنچ جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 58–62

ربط آیات گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب شاہ مصر کو اس کے خواب کی تعبیر مل گئی تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کو بلا بھیجا مگر آپ نے اپنے خلاف لگائے گئے الزام کی صفائی تک جیل سے باہر آنے سے انکار کردیا۔ پھر بادشاہ نے مصر کی معزز خواتین کو طلب کرکے یوسف (علیہ السلام) کی بےگناہی کے متعلق تسلی کرلی تو آپ جیل سے نکل کر شاہی دربار میں پہنچے۔ بادشاہ آپ کے علم و فہم اور عقل و دانش کا تو پہلے ہی معترف ہوچکا تھا ‘ جب اس نے آپ سے گفتگو کی تو مزید گرویدہ ہوگیا ‘ اور آپ کو اپنے مصاحبین میں شامل کرلیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے خود امور خزانہ کی ذمہ داری اٹھانے کی پیش کش کی جسے بادشاہ نے منظور کرلیا اور آپ کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَاۗءَ اِخْوَۃُ يُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَيْہِ فَعَرَفَہُمْ وَہُمْ لَہٗ مُنْكِرُوْنَ۝ 58 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 55–58

2 ؎ حساب کتاب سے بھی واقف ہوں یا یہ کہ حفاظت کے طریقے خوب جانتا ہوں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَجَآئَ اِخْوَۃُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْہِ فَعَرَفَھُمْ وَھُمْ لَہٗ مُنْکِرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 58) (اور ایک روز آنکلے برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے سو آپ ( علیہ السلام) نے انھیں پہچان لیا لیکن وہ آپ کو پہچان نہ سکے۔ ) برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) کی حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی خدمت میں حاضری گزشتہ آیت سے پیوستہ آیت میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مصر کے اقتدار تک پہنچا دیا اور آپ ( علیہ السلام) نے حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے خاص طور پر زمین کے وسائل اور خزائن اپنی تحویل میں لینے کی درخواست کی کیونکہ بادشاہ کے خواب کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 58–60

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ قحط سالی کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا مجبور ہو کر مصر جانا۔ قرآن مجید کے مقدس الفاظ سے یہ بات مترشح ہو رہی ہے کہ بادشاہ کے خواب کے مطابق خوشحالی کے سات سال گزرنے کے بعد مصر میں قحط سالی شروع ہوچکی تھی۔ اور اس قحط کے اثرات شام، فلسطین اور کنعان تک پھیل چکے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھالتے ہی بہترین منصوبہ بندی کی۔ جس کی وجہ سے دوسرے علاقوں کے لوگ بھی غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر کا رخ کر رہے تھے۔ اسی بنا پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی غلہ لینے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لیکن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

پہلی بار بھائیوں کی مصر آمد : 58: مصر کی طرح سرزمین کنعان میں قحط پہنچا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو غلہ لینے کیلئے بھیجا جس کا ذکر اس ارشاد میں ہے : وَجَآ ئَ اِخْوَۃُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْہِ فَعَرَفَھُمْ وَھُمْ لَہٗ مُنْکِرُوْنَ ( اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آئے۔ وہ ان کے ہاں داخل ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا۔ اور وہ ان کو نہ پہچان سکے) بغیر پہچان کروانے کے ان کو آپ نے پہچان لیا اور وہ یوسف (علیہ السلام) کو تبدیلی لباس کی وجہ سے نہ پہچان سکے اور اسلئے بھی کہ وہ پردوں کے پیچھے تھے۔ اور اسلئے کہ چالیس سال کا طویل عرصہ گزر چکا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 58:۔” وجاء اخوۃ یوسف “ یہ دس تھے ان کے گھر فلسطین کی زمین کے قریب تھے۔ غور الشام پر یہ دیہات کے رہنے والے اونٹوں اور بکریوں والے تھے تو یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو بلا کر فرمایا ۔ یعقوب (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ اے میرے بیٹو ! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ مصر کا بادشاہ نیک ہے غلہ بیچتا ہے ۔ تم تیاری کر کے اس سے غلہ خریدنے جائو ، وہ مصر آئے۔ ” قد خلوا علیہ فعرفھم وھم لہ منکرون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کیونکہ اس زمانے اور کنویں میں ڈالنے کے درمیان چالیس سال کا وقفہ تھا۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ اس لیے نہ پہچانا کہ یوسف (علیہ السلام) تخت شاہی پر تاج پہنے بیٹھے تھے تو یوسف (علیہ السلام) کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 58–62

58۔ 62۔ جب یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کی جگہ بادشاہ کے وزیر ہوگئے اور سارا انتظام ملکی و مالی ان کے قبضہ و تصرف میں آگیا تو سات سال ارزانی میں انہوں نے بہت اہتمام کیا اور غلوں کو نہایت احتیاط سے جمع کیا یہاں تک کہ ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا اور جب ارزانی کا زمانہ گزر گیا اور قحط شروع ہونے لگا تو دور دور کے لوگ غلہ خریدنے کو مصر میں آنے جانے لگے۔ یوسف (علیہ السلام) کسی شخص کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ غلہ نہیں دیتے تھے اور آپ معہ بادشاہ اور لشکر کے دن میں ایک دفعہ کھانا کھاتے تاکہ یہ سات سال قحط کے بآسانی گزر جائیں جب یہ خبر رفتہ رفتہ ملک شام پہنچی کہ مصر میں غلہ فروخت ہوتا ہے تو یوسف کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

جب یوسف (علیہ السلام) زمین کے محاصل کے ذخیرہ کے منتظم بن گئے تو انہوں نے بہترین طریقے سے ان کا انتظام کیا۔ انہوں نے شادابی کے سالوں میں مصر کی تمام قابل کاشت زمین میں غلہ کاشت کردیا اور اس غلہ کو ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے بڑے مکانات بنوائے۔ خراج اور لگا میں بہت سا غلہ جمع کیا، اس کی حفاظت کی اور اس کا بہترین انتظام کیا۔ جب قحط سالی شروع ہوئی اور قحط تمام علاقوں میں پھیل گیا حتیٰ کہ فلسطین بھی قحط کی لپیٹ میں آگیا جہاں یعقوب اور ان کے بیٹے رہتے تھے، تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو اناج کے لئے مصر بھیجا۔ (آیت) ” یوسف کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے “ تو یوسف نے ان کو پہچان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 54–58

قول باری ہے وقال الملک ائتونی بہ استخلصہ لنفی فلماکلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امین۔ بادشاہ نے کہا : ” انہیں میرے پاس لائو تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کرلوں “ جب یوسف نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا :” اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسہ ہے “ چونکہ یہ بادشاہ عقل اور سمجھ رکھتا تھا اس لیے وہ حضرت یوسف علیہ کے حسن و جمال اور پر وقار شخصیت سے اس طرح متاثر نہیں ہوا جس طرح عورتیں اپنی کم عقلی اور ناسمجھی کی بنا پر ان سے متاثر ہوگئی تھیں ، نیز ان عورتوں نے صرف آپ کے ظاہری حسن و جمال کو دیکھا تھا آپ کی عقل مندی اور سمجھ داری کی خوبیوں میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

100۔ برادران یوسف حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نہ پہنچان سکے : ایک تو اس لیے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو تو انہوں نے اپنے طور پر ختم کردیا تھا۔ اور ان کا خواب وخیال بھی گویا انہوں نے اب بھلادیا تھا کہ چالیس برس کے لگ بھگ کا عرصہ بیت چکا تھا۔ اور دوسرے یوں بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) جو اس وقت چھوٹے بچے تھے اب بڑے ہوکربہت کچھ بدل چکے ہوں گے۔ جیسا کہ چھوٹی عمر میں عام طور پر ہوتا ہے۔ بخلاف بڑی عمر کے آدمی کے کہ اس کے اندر کوئی خاص اور بنیادی تبدیلی نہیں آتی بلکہ آدمی عموماوی سے ہی رہتا ہے۔ بہرکیف اس سے اس دور کا ذکر فرمایا جارہا ہے کہ جب سات سال کے بعد مصر اور اس کے آس پاس کے ملک، شام و فلسطین…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 58–68

آیات 58 تا 68 اسرار و معارف مصر کیا ہر جگہ بڑی فصلیں ہوئیں اور غلے اور پھلوں کی فروانی نے لوگوں کو امیر کردیا یوسف (علیہ السلام) نے بہت اہتمام فرمایا کہ ضرورت سے زائد غلہ لوگوں سے خرید کر جمع فرماتے گئے اور ابتدائی سات برسوں میں سرکاری گودام بھر گئے ۔ پھر قحط سالی شروع ہوئی تو غلہ کا دانہ نہ ملتا تھا تب آپ نے فروخت کرنے کا اہتمام فرمایا ۔ اشیاے ضرورت پر کنڑول نہ صرف جائز بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور فروخت پر بھی کنڑول رکھا کہ ایک آدمی کو اس کے خاندان کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ جو مقرر تھا دیا جاتا تھا تا کہ لوگ خرید کر مہنگے داموں بیچنا شروع نہ کردیں جسے آج کی زبان میں بلیک مار کٹینگ کہا جاتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 57–58

ف 8 ۔ کیونکہ بہت مدت گزر گئی تھی چھوٹی عمر میں ان سے الگ ہوگئے تھے اور اب جو ان ہوچکے تھے۔ دوسرے یہ چیز تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ جس بھائی کو وہ کنویں میں ڈال گئے تھے وہ آج مصر کا مختار مطلق ہوگا۔ (کذافی الروح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:58) مکرون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ انکار مصدر ۔ نہ پہچاننے والے۔ ناواقف ۔ نہ ماننے والے۔ انکار کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 58–61

لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 61 (جآء آیا ) (اخوۃ بھائی) ( دخلوا وہ داخل ہوئے ) (عرف اس نے پہچان لیا) ( منکرون نہ پہچاننے والے) (جھز اس نے تیار کی، تیار کردیا) ( جھاز سامان) ( اوفی میں پورا دیتا ہوں) ( سنراود ہم درخواست کریں گے) ( لفعلون البتہ ضرور کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 58 تا 61 کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے حضرت یوسف کا واقعہ اور وہ سب معلوم کیا تھا جس کی بنا پر حضرت یعقوب، حضرت یوسف اور ان کے اہل خاندان فلسطین سے مصر پہنچ کر وہاں آباد ہوگئے تھے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ حضرت یوسف کا واقعہ اور ان اسباب کا ذکر فرمایا ہے کہ جب یہ خاندان جو بنی اسرائیل کہلاتا تھا ہجرت کر کے مصر پہنچا۔ ان آیات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

برادران یوسف (علیہ السلام) کی مصر میں آمد مطلب یہ ہے کہ سات سال ارزانی میں یوسف (علیہ السلام) نے خوب غلہ جمع کیا۔ جب قحط شروع ہونے لگا دور دور کے لوگ غلہ خریدنے مصر کو آتے تو یوسف (علیہ السلام) ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ غلہ نہیں دیتے تھے۔ جب یہ خبر ملک شام تک پہنچی تو یوسف (علیہ السلام) کے دسوں سوتیلے بھائی باپ کی اجازت سے مصر میں آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نہیں پہچانا کیونکہ عرصہ ہوگیا تھا ان کی ہئیت بدلی ہوئی تھی، عزیز مصر کی جگہ شاہانہ لباس میں تھے یوسف (علیہ السلام) نے دانستہ ان سے پوچھا کہ : تم کون ہو تم جاسوس معلوم ہوتے ہو وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 57–58

[18] قحط صرف مصر ہی میں نہ تھا بلکہ ہمسایہ ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آگئے تھے اور وہاں کے باشندے بھی مصر میں آ کر غلہ حاصل کرتے تھے کیونکہ یقینا اس بات کا شہرہ دور دور تک پہنچ گیا ہوگا کہ مصر میں غلے کے وافر ذخیرے موجود ہیں۔ چناچہ کنعان سے یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی غلہ حاصل کرنے کے لیے مصر پہنچے۔ غالباً یوسف (علیہ السلام) نے غلہ تقسیم کرنے کا طریقہ کار جسے آج کل کی اصطلاح میں راشننگ کہا جاتا ہے یہ رکھا ہوگا کہ بیرونی ممالک میں خاص اجازت ناموں کے بغیر غلہ نہ جاسکتا ہوگا۔ چناچہ اس طرح کا اجازت نامہ حاصل کرنے کے لئے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو ان کے سامنے پیش ہونا ہوا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 57–59

(ف 1 ) اللہ کی حکمت دیکھیے وہ بھائی جو اپنے زعم میں یوسف (علیہ السلام) کو مار چکے تھے اور جو اس کے اقتدار کے دشمن تھے آج اس کے دربار میں کھڑے ہیں اور پہچانتے نہیں ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی بنیا میں سے ملنا چاہتے ہیں اس لیے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کو آئیندہ اپنے ساتھ لاؤ میں تمہیں اناج پورا پورا دیتا ہوں اور مہمان نواز بھی ہوں اور اگر اسے اپنے ساتھ نہ لاؤ گے تو غلہ نہیں ملے گا حل لغات المنزلین ۔ ٹھرانے والا ۔ نزول بضاعتہ ۔ پونجی ۔ بدل ۔ معیار اشتراک سکہ وغیرہ

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

58 ۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی غلہ لینے کی غرض سے یوسف (علیہ السلام) کے پاس آئے پھر وہ یوسف (علیہ السلام) کے شہر میں داخل ہوگئے اور یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور وہ یوسف (علیہ السلام) کو نہیں پہچان سکے ۔ حضر ت یوسف (علیہ السلام) میں کافی تبدیلی ہوگئی تھی اس لئے وہ نہ پہچانے ہوں گے یا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے نقاب ڈال رکھی ہوگی یا شاہی پردے میں بات کی ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب حضرت یوسف ل ملک مصر پر مختار ہوئے تو خواب کے موافق سات برس خوب غلہ پیدا ہوا اور ملک کا اناج بھرتے گئے۔ پھرسات برس کے قحط میں ایک بھائو میانہ باندھ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 57–66

ف 6۔ غرض یوسف (علیہ السلام) نے باختیار ہوکرغلہ کاشت کرانا اور جمع کرانا شروع کردیا اور سات برس کے بعد قحط شروع ہوا یہاں تک کہ دور دور سے یہ خبر سن کر کہ مصر میں سلطنت کی طرف سے غلہ فروخت ہوتا ہے جوق درجوق لوگ آنا شروع ہوئے اور کنعان میں بھی قحط ہوا تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بجز بنیامین کے غلہ لینے مصر آئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ وقت آگیا کہ یوسف کے بھائی غلہ لینے کی غرض سے مصر پہنچ گئے اور یوسف نے پہچان بھی لیا ۔ 70 وقت کتیگ تیزی سے گزر گیا ، گویا آنکھ جھپکتے ہی چودہ سال کا طویل عرصہ گزر گیا۔ حضرت یوسف نے سلطنت مصر کے مختار کل ہونے کے بعد خواب سے متعلق وہ تمام تدابیر شروع کردیں جو چودہ سال کے اندر مفید کار ہو سکیں اور رعایا قحط سالی کے سالوں میں بھی بھوک اور پریشان حال سے محفوظ رہ کسی چونکہ یہ تفصیل خواب اور اس کی تعبیر کے ضمن میں خود بخود ذہن میں آجاتی ہے اس لئے قرآن کریم نے واقعہ کے ان غیر ضروری حصوں کو بیان نہیں کیا لیکن تورات میں ان کی تفصیل بھی مذکور ہے۔ ضرورت ہو تو ملاحظہ فرمائیں (پیدائش باب 14 : 64 ، 94 ،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Mentioned in the previous verses was how Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) was blessed by Allah Ta ala with full control over the country of Egypt. Described in the verses cited above is the coming of the brother of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) to procure food grains. As a corollary, it was also mentioned that the brothers who came to Egypt were ten in number. The younger brother, the real brother of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) was not with them on this trip. The details of the story in between were not given by the Qur'an since they can be understood contextually. The details…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

50. The events of several years after his coming into power have been left out for the sake of brevity, and the story has been resumed from the time when the brothers of Prophet Joseph came to Egypt, and paved the way for the eventual settlement of the Israelites in Egypt. It will, however, be worthwhile to have a glimpse of those events. During the first seven years of his reign, there was abundance of food as he had predicted while interpreting the dream of the king. Accordingly he adopted all the measures he had put before the king concerning the years of plenty. Then the seven years of…

Read the full tafseer →