Yusuf 12:67

Yusuf · from ayah 67

12:67

وَقَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ ؕ— وَمَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ ؕ— اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ؕ— عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ ۚ— وَعَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ ۟وَقَالَ يٰبَنِىَّ لَا تَدۡخُلُوۡا مِنۡۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادۡخُلُوۡا مِنۡ اَبۡوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ‌ؕ وَمَاۤ اُغۡنِىۡ عَنۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍؕ‌ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ‌ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ‌ۚ وَعَلَيۡهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُتَوَكِّلُوۡنَ‏

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he said, "O my sons, do not enter from one gate but enter from different gates; and I cannot avail you against [the decree of] Allah at all. The decision is only for Allah; upon Him I have relied, and upon Him let those who would rely [indeed] rely."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 8 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:67

پھر اس نے کہا "میرے بچو، مصر کے دارالسطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا مگر میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اُس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اسی پر کرے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور (یعقوب علیہ السلام) نے کہا اے میرے بچو! تم سب ایک دروازے سے نہ جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا۔ میں اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا۔ حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے۔ میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (ساتھ ہی یہ بھی) کہا کہ : میرے بیٹو ! تم سب ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا، بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا میں اللہ کی مشیت سے تمہیں بچا سکتا، حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔ اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور جن جن کو بھروسہ کرنا ہو، انہیں چاہیے کہ اسی پر بھروسہ کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کہا اے میرے بیٹوں! ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروا زوں سے جانا میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا حکم تو سب اللہ ہی کا ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ چاہیے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور فرمایا: اے میرے بیٹو! (شہر میں) ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے (تقسیم ہو کر) داخل ہونا، اور میں تمہیں اﷲ (کے اَمر) سے کچھ نہیں بچا سکتا کہ حکم (تقدیر) صرف اﷲ ہی کے لئے ہے۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس نے کہا اے میرے بیٹو ! ایک دروازے سے داخل نہ ہونا اور الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم سے اللہ کی طرف سے (آنے والی) کوئی چیز نہیں ہٹا سکتا، حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اسی پر میں نے بھروسا کیا اور اسی پر پس لازم ہے کہ بھروسا کرنے والے بھروسا کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر کہنے لگے : میرے بچو ! (شہر میں) ایک ہی دراوزے سے نہیں بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ تاہم میں اللہ (کی مشیئت) سے تمہیں ذرہ بھر بھی بچا نہیں سکتا۔ حکم تو صرف اسی کا چلتا ہے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور جسے بھی بھروسہ کرنا ہو اسی پر کرنا چاہئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس نے ہدایت کی کہ اے میرے بیٹو، تم سب ایک ہی دروازے سے نہ داخل ہونا، الگ الگ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں اللہ کے مقابل میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا اختیار تو بس اللہ ہی کا ہے۔ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (چلتے وقت) یعقوب نے ان کو (نصیحت کے طور) پر یہ بھی کہہ دیا کہ میرے بیٹو (مصر کے دارالحکومت میں) تم سب ایک ہی دروازے سے اندر داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا، (تاکہ نظر بد سے دور رہو، اور یہ بھی محض ایک ظاہری تدبیر ہے ورنہ) میں خدا کے حکم کے مقابلہ میں تمہیں کچھ بھی کام نہیں دے سکتا، حکم تو بس اللہ ہی کا ہے، میرا بھروسہ بھی اسی پر ہے اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے، سب بھروسہ کرنے والوں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور فرمایا کہ اے میرے بیٹو ! ایک ہی دروازہ سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتا اختیار تو بس اللہ ہی کا ہے اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیے بھی بھروسہ رکھنے والوں کو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آپ نے کہا : اے میرے بیٹو ! تم لوگ ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم کو بچا نہیں سکتا اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اسی پر میں نے توکلّ کیا ہے اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہدایت کی کہ میرے بچو ! ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا اور میں اللہ کی تقدیر تو تم سے نہیں روک سکتا۔ بیشک حکم اسی کا ہے، میں اسی پر بھروسا رکھتا ہوں اور اہل توکل کو اسی پر بھروسا رکھنا چاہیے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And he enjoined them: "My sons! Do not enter the city by one gate; rather enter it by different gates. I can be of no help to you against Allah. Allah's command alone prevails. In Him have I put my trust and in Him should all those who have faith put their trust."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And he said, :O my sons, do not enter (the city) all of you from the same gate, rather, enter from different gates. And I cannot help you in any way against (the will of) Allah. Sovereignty belongs to none but Allah. In Him I place my trust, and all those who trust should trust in Him alone.

— Muhammad Taqi Usmani

And he said, :O my sons, do not enter (the city) all of you from the same gate, rather, enter from different gates. And I cannot help you in any way against (the will of) Allah. Sovereignty belongs to none but Allah. In Him I place my trust, and all those who trust should trust in Him alone.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he said: "O my sons! Do not enter by one gate, but enter by different gates, and I cannot avail you against Allah at all. Verily, the decision rests only with Allah. In Him, I put my trust and let all those that trust, put their trust in Him."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he said: O my sons! Go not in by one gate; go in by different gates. I can naught avail you as against Allah. Lo! the decision rests with Allah only. In Him do I put my trust, and in Him let all the trusting put their trust.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he said, "O my sons, do not enter from one gate but enter from different gates; and I cannot avail you against [the decree of] Allah at all. The decision is only for Allah; upon Him I have relied, and upon Him let those who would rely [indeed] rely."

— Saheeh International

Jacob then told his sons, "Do not enter the town all together by a single gate, but each of you enter separately. I cannot help you against (the decree of) God. Everyone's destiny is in His hands. I put my trust in Him. Whoever needs a trustee must put his trust in God."

— Muhammad Sarwar

And he said: O my sons! do not (all) enter by one gate and enter by different gates and I cannot avail you aught against Allah; judgment is only Allah's; on Him do I rely, and on Him let those who are reliant rely.

— Muhammad Habib Shakir

And he said: my sons! enter not by one gate but enter by different gates; and I cannot avail you against Allah at all: judgment is but Allah's; on Him I rely, and on Him let the relying rely.

— Abdul Majid Daryabadi

Further he said: "O my sons! enter not all by one gate: enter ye by different gates. Not that I can profit you aught against Allah (with my advice): None can command except Allah: On Him do I put my trust: and let all that trust put their trust on Him."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:67

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 67–68

چونکہ اللہ کے نبی نے حضرت یعقوب ؑ کو اپنے بچوں پر نظر لگ جانے کا کھٹکا تھا کیونکہ وہ سب اچھے، خوبصورت، تنو مند، طاقتور، مضبوط دیدہ رو نوجوان تھے اس لئے بوقت رخصت ان سے فرماتے ہیں کہ پیارے بچو تم سب شہر کے ایک دروازے سے شہر میں نہ جانا بلکہ مختلف دروازوں سے ایک ایک دو دو کر کے جانا۔ نظر کا لگ جانا حق ہے۔ گھوڑ سوار کو یہ گرا دیتی ہے۔ پھر ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ یہ میں جانتا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ یہ تدبیر تقدیر میں ہیر پہیری نہیں کرسکتی۔ اللہ کی قضا کو کوئی شخص کسی تدبیر سے بدل نہیں سکتا۔ اللہ کا چاہا پورا ہو کر ہی رہتا ہے۔ حکم اسی کا چلتا ہے۔ کون ہے جو اس کے ارادے کو بدل سکے ؟ اس کے فرمان کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 61–67

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یوسف کے بعد ان کے بھائی کو بھیجچتے وقت یعقوب کے دل پر کیا کچھ گزر رہی ہوگی گو خدا پر بھروسہ تھا اور صبر و تسلیم میں ان کا مقام نہایت بلند تھا، مگر پھر بھی تھے تو انسان ہی، طرح طرح کے اندیشے دل میں آتے ہوں گے اور رہ رہ کر اس خیال سے کانپ اٹھتے ہوں گے کہ خدا جانے اب اس لڑکے کی صورت بھی دیکھ سکوں گا یا نہیں، اسی لیے وہ چاہتے ہوں گے کہ اپنی حد تک احتیاط میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔ یہ احتیاطی مشورہ کہ مصر کے دار السلطنت میں یہ سب بھائی ایک دروازے سے نہ جائیں، ان سیاسی حالات کا تصور کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے جو وقت پائے جاتے تھے، یہ لوگ سلطنت مصر کی سرحد پر آزاد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (چلتے وقت) یعقوب (علیہ السلام نے (ان سے) فرمایا کہ اے میرے بیٹو ! (جب مصر میں پہنچو تو) سب کے سب ایک ہی دروازہ سے مت جانا بلکہ علیحٰدہ علیحٰدہ دروازوں سے جانا اور (یہ محض ایک تدبیر ظاہری ہے بعض مکروہات مثل نظر بد سے بچنے کی باقی) خدا کے حکم کو تم پر سے میں ٹال نہیں سکتا حکم تو بس اللہ تعالیٰ کا (چلتا) ہے (باوجود اس تدبیر ظاہری کے دل سے) اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی پر بھروسہ رکھنے والوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے (یعنی تم بھی اسی پر بھروسہ رکھنا تدبیر پر نظر مت کرنا، غرض سب رخصت ہو کر چلے) اور جب (مصر پہنچ کر) جس طرح ان کے باپ نے کہا تھا (اسی طرح شہر کے) اندر داخل ہوئے تو باپ کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ ۭ وَمَآ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۚ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۔ " ما اغنی عنکم " یعنی میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا، تمہیں کچھ نفع نہیں پہنچا سکتا۔ ایک مصلحت آمیز ہدایت : چونکہ قحط کا زمانہ تھا جس میں چوری، ڈکیتی اور اس نوع کے دوسرے جرائم کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں اس وجہ سے حضرت یعقوب نے ان کو رخصت کرتے وقت یہ ہدایت فرمائی کہ شہر میں جب داخل ہونا تو ایک ہی دروازے سے نہ داخل ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

67۔ 1 جب بنیامین سمیت، گیارہ بھائی مصر جانے لگے، تو یہ ہدایت دی، کیونکہ ایک ہی باپ کے گیارہ بیٹے، جو قد و قامت اور شکل و صورت میں بھی ممتاز ہوں، جب اکٹھے ایک ہی جگہ یا ایک ساتھ کہیں سے گزریں گے تو عموماً انھیں لوگ تعجب یا حسد کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہی چیز نظر لگنے کا باعث بنتی ہے۔ چناچہ انھیں نظر بد سے بچانے کے لئے بطور تدبیر یہ حکم دیا ' نظر لگ جانا حق ہے ' جیسا کہ نبی کریم ﷺ سے بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے مثلاً ' اَ لْعَیْنُ حَق ' نظر کا لگ جانا حق ہے '۔ صحیح بخاری صحیح مسلم اور آپ ﷺ نے نظر بد سے بچنے کے لیے دعائیہ کلمات بھی اپنی امت کو بتالئے ہیں مثلا فرمایا کہ جب تمہیں کوئی چیز اچھی لگے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–67

42: یہ تاکید حضرت یعقوب ؑ نے اس خیال سے فرمائی کہ یہ گیارہ کے گیارہ بھائی جو سب ماشاء اللہ قد آور اور حسین و جمیل تھے جب ایک ساتھ شہر میں داخل ہوں گے تو کہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ 43۔ نظر بد سے بچنے کی تدبیر بتانے کے ساتھ ساتھ حضرت یعقوب ؑ نے یہ حقیقت بھی واضح فرما دی کہ انسان کی کسی تدبیر میں بذات خود کوئی تاثیر نہیں ہوتی۔ جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے ہوتا ہے وہ چاہتا ہے تو انسان کی تدبیر میں اثر پیدا فرما دیتا ہے اور چاہتا ہے تو وہ بےاثر ہوجاتی ہے لہذا ایک مومن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سی تدبیر تو ضرور کرے۔ لیکن ھروسہ اس تدبیر کے بجائے اللہ تعالیٰ پر رکھے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 67 حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا (ان الحکم الا للہ ) اس پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس بات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے تقدیری اور جبری احکام اس کائنات میں اس طرح رواں اور دواں ہیں کہ ان کے اندر کوئی انغکاک ممکن نہیں ہے۔ کوئی تخلف نہیں ہے۔ ان احکام سے کوئی مغر نہیں ہے۔ اور امنت باللہ میں والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ کا یہی مطلب ہے۔ اللہ کے تکوینی اور تقدیری احکام اس دنیا میں لوگوں پر نافذ ہوتے ہیں اور ان کا اجراء خود لوگوں کی مرضی اور ارادے پر موقوف نہیں ہے۔ ان جبری اور تقدیری احکام الہیہ کے ساتھ ساتھ ایسے الٰہی احکام بھی ہوتے ہیں جو انسانوں کے دائرہ اختیار میں ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 برادران یوسف پہلی مرتبہ جو مصر گئے تھے عام مسافروں کی طرح بلا امتیاز شہر میں داخل ہوگئے تھے لیکن یوسف (علیہ السلام) کی خاص توجہات و الطاف کو دیکھ کر یقینا وہاں کے لوگوں کی نظریں ان کی طرف اٹھنے لگی ہوں گی۔ اب دوبارہ جانا خاص شان و اہتمام سے بلکہ کہنا چاہیے کہ ایک طرح کی یوسف کی دعوت پر تھا۔ بنیامین جس کی حفاظت و محبت یعقوب (علیہ السلام) یوسف کے بعد بہت کرتے تھے۔ بھائیوں کے ہمراہ تھے یعقوب (علیہ السلام) کو خیال گزرا کہ ایک باپ کے گیارہ وجیہ خوش رو بیٹوں کا خاص شان سے بہیئات اجتماعی شہر میں داخل ہونا خصوصاً اس برتاؤ کے بعد جو عزیز مصر (یوسف) کی طرف سے لوگ پہلے مشاہدہ کرچکے تھے، ایسی چیز ہے جس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 67 وَقَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ حسد اور نظر بد وغیرہ کے اثرات سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ آپ تمام بھائی اکٹھے ایک دروازے سے شہر میں داخل ہونے کے بجائے مختلف دروازوں سے داخل ہوں۔ وَمَآ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ میں اللہ کے کسی فیصلے کو تم لوگوں سے نہیں ٹال سکتا۔ اگر اللہ کی مشیت میں تم لوگوں کو کوئی گزند پہنچنا منظور ہے تو میں اس کو روک نہیں سکتا۔ یہ صرف انسانی کوشش کی حد تک احتیاطی تدابیر ہیں جو ہم اختیار کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

65 پھر جب ان گیارہ بھائیوں کی روانگی کا وقت آیا تو کئی طرح کے اندیشے سیدنا یعقوب کے دل میں پیدا ہونے لگے پہلے ان کے بیٹے اجنبی مسافروں کی حیثیت سے اور بےبسی کے عالم میں مصر داخل ہوئے تھے۔ اب یہ ایک لحاظ سے شاہی دعوت کی بنا پر شان و شوکت سے روانہ ہو رہے تھے۔ گیارہ بھائی تھے۔ سب کے سب جوان اور خوبصورت، پھر پہلی بار بھی ان سے مصر میں عام لوگوں جیسا سلوک نہ ہوا تھا بلکہ ان کی بہت عزت و تکریم کی گئی تھی جسے اہل مصر خوب جانتے تھے۔ لہذا روانگی کے وقت سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کو سب سے بڑا اندیشہ یہی تھا کہ کہیں انھیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ لہذا احتیاطی تدبیر کے طور پر انھیں یہ ہدایت کی کہ وہ مصر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

126۔ (جب ملک مصر کے پائے تخت میں شہر پناہ سے داخل ہونا) یہ ایک تدبیر تھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خیال میں مختلف مکروہات مثلا شبہ جاسوسی اور نظر بد وغیرہ سے بچنے کی، قیل نھاھم خشیۃ ان یستراب بھم لقول یوسف انتم جواسیس (بحر) (آیت) ” من ابواب متفرقۃ “۔ زمانہ قدیم میں ہر بڑے شہر کے گردا گرد شہر کے اندر داخلہ کے متعدد پھاٹک ہوتے تھے، نظر بد کا اعتقاد قدیم شریعتوں میں عام تھا۔ اس لیے اگر اس سے تحفظ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی غرض مانی جائے جب بھی کوئی مضائقہ نہیں لیکن ایک دوسرے معنی بھی ممکن ہیں، حضرت یعقوب (علیہ السلام) گویا یہ فرما رہے ہیں کہ اب مصر کے لوگ تمہیں جان پہچان گئے ہیں اور عزیز کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 58–68

آیت نمبر 58 تا 68 ترجمہ : اور قحط کے سال شروع ہوگئے اور (اس کے اثرات) ملک کنران اور شام تک پہنچ گئے، جب اہل کنعان کو یہ اطلاع پہنچی کہ عزیز مصر قیمۃً غلہ دیتا ہے تو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی سوائے بنیامین کے غلہ لینے کیلئے (مصر) آئے چناچہ جب بھائی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا اور بھائی یوسف کو نہ پہچان سکے، (اسکی جدائی کو) مدت دراز گذر جانے کی وجہ سے اور اس کے بارے میں یہ گمان ہونے کی وجہ سے کہ وہ ہلاک ہوگیا ہوگا، بھائیوں نے یوسف سے عبرانی زبان میں گفتگو کی، یوسف (علیہ السلام) نے انجان بنکر ان سے معلوم کیا کہ میرے ملک آنے کا تمہارا کیا سبب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال یبني لا تدخلوا من باب واحدوا دخلوا من ابواب متفرقہ (بیٹے جب حضرت یعقوب کے پاس سے جانے لگے تو) یعقوب نے کہا : میرے بیٹو ! شہر کے ایک دروازے سے (یعنی ساتھ ساتھ) داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے گھسنا۔ حضرت یعقوب کے بیٹے بڑے حسین و جمیل ‘ سرو قامت ‘ گل رخسار ‘ صحتمند اور طاقتور جوان تھے اور شاہ مصر کے نزدیک ان کی عزت زباں زد خلائق تھی ‘ اس وجہ سے حضرت یعقوب کو خیال ہوا کہ کہیں (اجتماعی ہیئت میں داخل ہوتے دیکھ کر) کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ حدیث میں آیا ہے کہ نظر حق ہے۔ نظر لگنے کے متعلق جو احادیث آئی ہیں ‘ سورة نون کی وان یکاد الذین کفروا لیزلقونک بِاَبْصَرھِمْ لما سمعوا الذکرالخ کی تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(67) حضرت یعقوب ؑ نے ان سے فرمایا کہ سب کے سب ایک ہی دروازہ سے مت داخل ہونا، بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا تمہارے بارے میں قدرت کے فیصلے کو تو تم سے نہیں ٹال سکتا حکم تو بہرحال اسی کا چلتا ہے، اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنے اور تمہارے معاملہ کو اسی کے سپرد کرتا ہوں اور اسی پر سب کو بھروسہ کرنا چاہیے یا کہ مومنین پر یہی واجب و ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کریں۔ اور حضرت یعقوب ؑ کو ان پر نظر بد کا خوف ہوا کیوں کہ یہ سب بھائی خوبصورت شخصیت والے اور خوبصورت چہروں والے تھے اسی وجہ سے اس چیز کا ان کے متعلق خدشہ ہوا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا۔۔ : نہ تو آیت کے الفاظ میں اس چیز کی وضاحت ہے اور نہ کسی صحیح حدیث ہی سے اس کا پتا چلتا ہے کہ یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں کو یہ حکم کیوں دیا کہ وہ ایک دروازے سے نہیں بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ صحرا کے پروردہ تنومند گیارہ نوجوان ایک ہی دروازے سے اکٹھے گزریں گے تو ان کی پڑتال زیادہ ہوگی۔ انھیں رہزنوں کا گروہ بھی سمجھا جاسکتا ہے، اگر شک یا حسد کی بنا پر گرفتار ہوئے تو یوسف ؑ تک ایک بھی نہیں پہنچ سکے گا، پھر گرفتار شدگان کی رہائی کی جدوجہد اجنبی وطن میں کون کرے گا، غرض کئی وجہیں ہوسکتی ہیں۔ مگر اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ یعقوب ؑ کو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 67 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ جب انہوں نے جانا چاہا تو آپ کو انہیں نظربدلنے کا اندیشہ لاحق ہوا : تو آپ نے انہیں شہر میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونے کا حکم فرمایا۔ شہر کے چار دروازے تھے۔ آپ کو انہیں اس وجہ سے نظر بد کا اندیشہ ہوا کہ ایک آدمی کے گیارہ بیٹے ہوسکتے ہیں اور وہ سب خوبصورت، کمال کے حامل اور بھاری بھرکم تھے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ ، ضحاک اور قتادہ وغیرہ کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اگر آیت کا معنی یہ ہو تو اس میں نظر سے بچنے پر دلیل ہے اور اس بات پر دلیل ہے کہ نظر حق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک نظر آدمی کو قبر میں اور اونٹ کو ہنڈیا میں داخل کرسکتی ہے “۔ اور اس سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 67–68

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بیٹوں کو نصیحت : 1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وقال یبنی لا تدخلوا من باب واحد “ کے بارے میں فرمایا کہ یعقوب کے بیٹوں پر نظر بد لگ جانے کا خطرہ تھا (اس لئے ان کو علیحدہ علیحدہ دروازوں سے داخل ہونے کا حکم فرمایا) 2:۔ ابن ابی شبیہ وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لا تدخلوا من باب واحد “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ان پر نظر بدلگنے کا خوف تھا۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لا تدخلوا من باب واحد “ کے بارے میں فرمایا کہ یعقوب (علیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَالَ : اور انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ يٰبَنِيَّ : اے میرے بیٹو ] [لَا تَدْخُلُوْا : تم لوگ داخل مت ہونا ] [مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ : ایک دروازے سے ] [ وَّادْخُلُوْا : اور تم لوگ داخل ہونا ] [مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ : الگ الگ دروازوں سے ] [ وَمَآ اُغْنِيْ : اور میں کام نہیں آئوں گا ] [عَنْكُمْ : تمہارے ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [مِنْ شَيْءٍ : کسی بھی چیز سے ] [ ان : نہیں ہے ] [ الْحُكْمُ : حکم دینا ] [ اِلَّا : مگر [ للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [عَلَيْهِ : اس پر بھی ] [تَوَكَّلْتُ : میں نے بھروسہ کیا ] [ وَعَلَيْهِ : اور اس پر بھی ] [ فَلْيَتَوَكَّلِ : پس چاہیے کہ بھروسہ کریں […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 66–67

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا بیٹوں کو وصیت فرمانا کہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور یہ کہنا کہ میں نے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کیا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی دوبارہ مصر کے لئے روانہ ہونے کے لیے تیار ہوگئے اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لے لیا چلنے لگے تو ان کے والد نے کہا کہ اے بیٹو ! تم سب ایک دروازہ سے داخل مت ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا ‘ مفسرین نے فرمایا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ وصیت اس لئے فرمائی کہ یہ لوگ خوبصورت تھے ان کو نظر لگ جانے کا خطرہ تھا نیز ایک ہی باپ کے گیارہ بیٹے بحیثیت ایک جماعت کے کسی جگہ پہنچیں تو اس میں حسد کا بھی اندیشہ تھا اس لیے انہوں نے متفرق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–68

یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

58:۔ میں تقدیر الٰہی کو نہیں روک سکتا جو کچھ ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ ” اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّہِ “ قضا وقدر اللہ کے اختیار میں ہے۔ میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اور سب کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ میں نے تو محض ایک حیلے کے طور پر یہ کہا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–68

ربط آیات حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں کا حال بیان ہورہا ہے وہ مصر سے اناج لے کر اپنے باپ کے پاس واپس کنعان آئے تو سفر کی ساری داستان سنائی اور یہ بھی بتایا کہ جب تک آپ ہمارے چھوٹے بھائی کو ہمراہ نہیں بھیجیں گے۔ آئندہ اناج نہیں ملے گا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے پریشانی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ پہلے بھی تھ میرے ایک بیٹے کو ساتھ لے جا کر ضائع کرچکے ہو اور اب دوسرے کو بھی لے جانا چاہتے ہو۔ تاہم چونکہ مجبوری ہے ‘ اناج بھی لانا ہے۔ اس لیے میں اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے چھوٹے بیٹے کو بھیجنے پر آمادہ ہوتا ہوں ‘ وہی اس کی حفاظت کرے گا اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ روانہ کرنے سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَۃٍ۝ 0ۭ وَمَآ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللہِ مِنْ شَيْءٍ۝ 0ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ۝ 0ۭ عَلَيْہِ تَوَكَّلْتُ۝ 0ۚ وَعَلَيْہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۝ 67 دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–75

1 ؎ نظرِ بد کے لحاظ سے بھی ایک دروازہ سے داخل ہونے کو منع کیا کیونکہ سب خوبصورت تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سب کے سب کے مل کر جانے میں خواہ مخواہ ایک چرچا ہوگا اور جو کچھ یوسف (علیہ السلام) ان سے سلوک کریں گے اس میں غمازوں کو موقع ملے گا کیونکہ مصری لوگ پردیسیوں سے گونہ نفرت رکھتے اور ان کا سلطنت سے مستفید ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالَ یٰبَنِیَّ لاَ تَدْخُلُوْا مِنْ م بَابٍ وَّاحِدٍوَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَۃٍ ط وَمَآ اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْ ئٍ ط اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ للّٰہِ ط عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ ج وَعَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 67) (حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے بیٹو ! تم سب ایک ہی دروازے میں سے (شہر میں) داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور میں اللہ تعالیٰ کے مقابل میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ حکم صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اور اسی پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے۔ ) ایک مصلحت آمیز…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 66–67

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بیٹوں کے اصرار پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا مجبور ہو کر بنیامین کو بھا ئیوں کے ساتھ بھیجنے پر آمادہ ہونا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) یہ فرماتے ہوئے اپنی آمادگی کا اظہار کرتے ہیں کہ میں بنیامین کو اس وقت تک ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک اللہ کا نام لے کر میرے ساتھ پختہ وعدہ نہ کرو کہ اسے ضرور میرے پاس واپس لاؤ گے۔ الا یہ کہ تم سب کے سب گھیر لیے جاؤ۔ جب انھوں نے قسمیں اٹھا اٹھا کر عہد دیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ ہی ہمارے قول و اقرار پر نگران ہے۔ پھر فرمانے لگے کہ بیٹا شہر کے ایک دروازے سے اندر داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دوسری مرتبہ سفر مصر کیلئے روانگی : 67: وَقَالَ یٰـبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْم بََابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَۃٍ (اور کہا اے میرے بیٹو تم ایک دروازے سے مت داخل ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا) جمہور اس بات پر ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) کو ان کے متعلق نظر لگ جانے کا خطرہ ہوا کیونکہ وہ حسین و جمیل تھے۔ پہلی مرتبہ ان کو الگ داخلے کا حکم نہیں دیا کیونکہ ان کو کوئی جانتا ہی نہ تھا۔ نظر کا اثر ہمارے نزدیک برحق ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی چیز کی طرف دیکھنے اور اس میں تعجب کرنے سے نقص و خلل پیدا کردیتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ حضرت حسن و حسین ؓ کو ان کلمات سے تعوذ فرمایا کرتے تھے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

67” قال “ جب وہ یعقوب (علیہ السلام) سے روانہ ہونے لگے تو فرمایا ۔” یا بنی لا تدخلوا من باب واحد وادخلوا من ابواب متفرقۃ “ کیونکہ وہ لوگ بڑے خوبصورت دراز قد اور مضبوط جسم والے تھے تو یعقوب (علیہ السلام) کو خوف ہوا کہ ان کو نظر نہ لگ جائے تو ان کو حکم دیا کہ مختلف دروازوں سے داخل ہوں تا کہ نظر لگنے سے بچ جائیں کیونکہ نظر کا لگنا برحق ہے اور اثر میں وارد ہوا ہے کہ نظربندے کو قبر اور اونٹ کو قدر (ہنڈیا) میں داخل ہوں گے تو یوسف (علیہ السلام) کو بھی دیکھ لیں گے اور پہلا قول اصح ہے۔” وما اغنی عنکم من اللہ من شئی “ معنی یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں کوئی فیصلہ کردیا ہے تو وہ تم کو ضرو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

67۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے فرمایا کہ برادران یوسف (علیہ السلام) نے جب سفر کی تیاری کی اور بنیامین کو لے کر مصر کی طرف چلے تو ان کے والد بزرگوار حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو نصیحت کی کہ تم سب کے سب ایک دروازہ سے نہ داخل ہونا الگ الگ دروازہ سے شہر میں جانا کہ مصر کے چار دروازے تھے سدی کہتے ہیں ابواب متفرقہ سے یہی چاروں دروازہ مراد ہیں بہرحال یعقوب (علیہ السلام) نے اس لئے یہ ہدایت کی کہ پہلی مرتبہ جو یہ لوگ گئے تھے تو کوئی ان سے واقف نہ تھا اور اب وہاں کے لوگ انہیں جان گئے ہیں اور یہ سب کے سب ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں اور جوان جوان حسن میں بھی بےمثال ہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کی نظر بد انہیں لگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر جب یعقوب (علیہ السلام) نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بھیج دیا، تو ان کو وصیت کی کہ جب وہ مصر پہنچیں تو (آیت) ” ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہوں، بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں “ یعنی وہ ان کے ایک ہی شخص کے بیٹے ہوتے ہوئے ان کی کثرت اور ان کے حسن منظر کی وجہ سے ان کو نظر لگنے سے ڈرتے تھے۔ یہ تو محض سبب سے جو میں اختیار کر رہا ہوں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ حسن منظر کی وجہ سے ان کو نظر لگنے سے ڈرتے تھے۔ یہ تو محض سبب ہے جو میں اختیار کر رہا ہوں ورنہ حقیقت یہ ہے (آیت) ” میں تم کو اللہ کی کسی بات سے نہیں بچا سکتا “ پس جو چیز تقدیر میں لکھی جاچکی ہے وہ ہو کر رہے گی (آیت) ” حکم تو اللہ ہی کا ہے۔ “ یعنی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 59–71

قول باری ہے ائتونی باخ لکم من ابیکم ۔ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا تاقول باری فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون اگر تم اسے نہ لائو گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے ان کے سوتیلے بھائی بن یامین کو لانے کا مطالبہ کیا تھا کہ جب آپ نے بھائیوں سے ان کے گھریلو حالات معلوم کیے اور اس سلسلے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے یہ بتایا کہ باپ ان کے سوتیلے بھائی کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں اور اس معاملے میں اسے ان کی فرات سے ترجیح دیتے ہیں حالانکہ باپاچھے خاصے سمجھدار انسان ہیں ۔ اس موقع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 67–68

112۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اپنے بیٹوں کو ایک خاص نصیحت : کہ تم سب ایک ہی دروازے سے داخل نہیں ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ اور پہلی مرتبہ ان کو آپ نے یہ نصیحت نہیں فرمائی تھی۔ ایک توشاید اس لیے کہ اس وقت وہ غیر معروف تھے اور دوسرے اس لیے کہ اس وقت ان کے ساتھ بنیامین نہیں تھے (حاشیہ جامع البیان) اور پہلے وہ عام مسافروں کی طرح داخل ہوئے تھے اور اب بادشاہ کی دعوت پر اور خاص اہتمام سے جارہے تھے اور تھے بھی سب کے سب خوبصورت اور جوان۔ ایک ہی باپ کی اولاد۔ اس لیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو یہ نصیحت فرمائی تاکہ نظربد سے محفوظ رہیں۔ (معارف وغیرہ) سو بندے کے ذمے صرف تدبیر واحتیاط…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 58–101

یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد، والدین سے ملاقات اور آپکی تدبیریں تشریح : مندرجہ بالا آیات کا ترجمہ بعد میں تسلسل سے لکھا جائے گا پہلے ان آیات کی تشریح اور وہ تمام نکات بیان کیے جاتے ہیں جو ہمیں اس داستان یوسف (علیہ السلام) سے ملتے ہیں۔ آپ کی زندگی چار مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ، بھائیوں کا ظلم و استبداد، دوسرے والدین سے لمبی جدائی تیسرے الزام اور قید خانے کی صعوبتیں۔ اور چوتھا دور عزت و آسائش اور انعام و اکرام کا دور ہے۔ ان آیات میں آخری دور کا ذکر ہے۔ 1 سب سے پہلے تو یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ملک پر اقتصادی پریشانی آجائے جیسا کہ مصر قحط کا شکار ہوا تو ایسی صورت میں نظم و نسق کو بحال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 58–68

آیات 58 تا 68 اسرار و معارف مصر کیا ہر جگہ بڑی فصلیں ہوئیں اور غلے اور پھلوں کی فروانی نے لوگوں کو امیر کردیا یوسف (علیہ السلام) نے بہت اہتمام فرمایا کہ ضرورت سے زائد غلہ لوگوں سے خرید کر جمع فرماتے گئے اور ابتدائی سات برسوں میں سرکاری گودام بھر گئے ۔ پھر قحط سالی شروع ہوئی تو غلہ کا دانہ نہ ملتا تھا تب آپ نے فروخت کرنے کا اہتمام فرمایا ۔ اشیاے ضرورت پر کنڑول نہ صرف جائز بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور فروخت پر بھی کنڑول رکھا کہ ایک آدمی کو اس کے خاندان کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ جو مقرر تھا دیا جاتا تھا تا کہ لوگ خرید کر مہنگے داموں بیچنا شروع نہ کردیں جسے آج کی زبان میں بلیک مار کٹینگ کہا جاتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 ۔ نہ تو آیت کے الفاظ میں اس چیز کی تصریح ہے اور نہ کسی صحیح حدیث ہی سے اس کا پتا چلتا ہے کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یہ حکم کیوں دیا کہ وہ ایک دروازے سے نہیں بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں۔ البتہ حضرات ابن عباس ؓ نے یہ حکم اس لئے دیا کہ انہیں نظر بد نہ لگ جائے حضرت شاہ صاحب (رح) بھی لکھتے ہیں، یہ ٹوک (نظر بد) سے بچائو کا طریقہ بتایا اور توکل اللہ پر کیا۔ ٹوک لگنی غلط نہیں اور نظر بد سے بچائو کرنا درست ہے۔ (اھ) صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔ المین حق۔ یعنی نظر بد کا لگ جانا ایک حقیقت ہے۔ عہد نبوی میں بہت سے لوگوں کو نظر بد سے نقصان کو پہنچنا ثابت ہے۔ ایک حدیث میں نظر بد کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 66–67

(12: 66) موثقا۔ مصدر منصوب ۔ وثوق بھی مصدر ہے۔ پختہ پیمان۔ موثق۔ مضبوط عہد۔ وثق مادہ۔ وثق یوثق (باب حسب) ۔ لتا تننی بہ۔ لام تاکید بانون ثقیلہ۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ تم اس کو میرے پاس ضرور لے آوگے۔ یحاط بکم۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب احاطۃ سے۔ احاطہ کرلینا۔ گھیرے میں لے لینا۔ گھیر لینا۔ بجز اس کے کہ تم گھیرے میں آجائو ۔ تمہارا احاطہ کرلیا جائے۔ تم کو بےبس کردیا جائے۔ یبنی۔ یہ مادہ ب ن ی سے مشتق ہے۔ یا حرفِ ندا۔ مبنی مضاف مضاف الیہ مل کر مناویٰ بنیت ابنی بناء وبنیۃ وبنیا کے معنی تعمیر کرنے کے ہیں قرآن مجید میں ہے۔ وبنینا فوقکم سبعا شدادا۔ (78:2) اور تہمارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے ابن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–68

لغات القرآن آیت نمبر 67 تا 68 لاتدخلوا تم داخل مت ہو باب واحد ایک دروازہ متفرقۃ الگ الگ، جدا جدا ما اغنی میں نہیں بچا سکوں گا الحکم فیصلہ المتوکلون بھروسہ کرنے والے امر اس نے حکم دیا حاجۃ ضرورت، ایک منصوبہ قضی اس نے فیصلہ کیا ، ظاہر کیا علمنا ہم نے سکھایا تشریح آیت نمبر 67 تا 68 گزشتہ آیات میں اس کی تفصیل بیان کی جا چکی ہے کہ برادران یوسف نے اپنے والد حضرت یعقوب کو اس بات کا یقین دلایا تھا کہ اگر وہ کہیں کسی قدرتی آفت کا شکار نہ ہوگئے تو وہ اپنی پوری قوت و طاقت سے اپنے بھائی بن یا مین کی حفاظت کریں گے۔ حضرت یعقوب نے اللہ پر بھروسہ کر کے اس بات کی اجازت دیدی کہ وہ بن یا مین کو اپنے ساتھ لے کر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

نظر بد کا ذکر۔ اللہ پر بھروسہ رکھنا ان آیتوں میں اللہ پاک نے فرمایا کہ برادران یوسف (علیہ السلام) نے جب سفر کی تیاری کی اور بنیامین لو لے کر مصر کی طرف چلے تو ان کے والد بزرگوار نے ان کو نصیحت کی کہ : تم سب کے سب ایک دروازے سے داخل نہ ہونا الگ الگ جانا۔ کیونکہ پہلی مرتبہ جب یہ لوگ گئے تھے تو ان سے کوئی واقف نہ تھا اور اب وہاں کے لوگ انہیں جان گئے ہیں کہ یہ سب کے سب ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں اور جوان جوان اور حسین ہیں، ایسا نہ ہو کہ کسی کی نظر بد انہیں لگ جائے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو معلوم ہوچکا تھا کہ مصر میں یوسف (علیہ السلام) تخت سلطنت پر ہیں مگر ان کو ظاہر کرنے کا حکم نہیں ہوا تھا اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–67

[20] غالباً یہ اس خیال سے کہا کہ اس قحط کے زمانے میں ایک پورا جتھا دیکھ کر مصریوں کو شبہ ہوگا کہ یہ لوگ لوٹ مار کرنے کی غرض سے آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا خطرہ : (ف 2) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی یہ احتیاط کہ لڑکے مصر میں ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہوں ، اس حکمت وخرم پر مبنی ہے کہ اس طرح اہل شہر کے دلوں میں خدا جانے کیا کیا شکوک پیدا ہوں اور لوگ اجنبیوں اور مسافروں کو ایک گروہ کی شکل میں دیکھ کر کہیں شبہ میں گرفتار نہ کرا دیں ، اور قبل اس کے کہ وہ عزیز مصر تک پہنچیں مختلف بدظنیوں کا شکار نہ ہوجائیں ۔ یہ بات قرین قیاس بھی ہے ، یہ سب بھائی کنعانی تھے ، مصر ان کے لئے پردیس تھا ، اس لئے امکان تھا ، کہ لوگ انہیں اس طرح ایک ساتھ دیکھ کر شور نہ مچا دیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ ڈر تھا ، کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

67 ۔ اس عہد کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) بن یامین کے بھیجنے پر آمادہ ہوگئے اور جب دوبارہ قافلہ تیار ہوا تو باپ نے فرمایا اے میرے بیٹو تم سب کے سب شہر کے ایک دروازے سے مصر میں داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا میں قضائے الٰہی اور خدا کے حکم میں سے کسی چیز کو تم پر سے دفع نہیں کرسکتا اور ٹال نہیں کرسکتا حکم تو بس اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اس کے سوا اور کسی کا حکم نہیں چلتا اسی پر میں بھروسہ رکھتا ہوں اور سب توکل کرنے والوں کو اسی کی ذات پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ یعنی نظر بد اور حسد وغیرہ سے بچنے کے لئے یہ تدبیر بتائی کہ اگر سب لڑکے ایک دروازے سے جائیں گے تو لوگوں کی نظریں اٹھیں گی مبادا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 67–68

ف 1۔ یہ محض ایک تدبیر ظاہری ہے بعض مکروہات مثل نظر بدوغیرہ سے بچنے کی۔ 2۔ یعنی تم بھی اسی پر بھروسہ رکھنا تدبیر پر نظر مت کرنا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قافلہ رخصت ہونے لگا تو یعقوب نے کہا کہ بیٹو ! مصر میں ایک دروازہ سے داخل نہ ہونا ۔ 79 عہد و پیمان کے بعد جب برادران یوسف کا قافلہ دوبارہ غلہ حاصل کرنے کے لئے کنعان سے مصر کو روانہ ہوا اور اس دفعہ بنیامین بھی قافلہ میں شامل تھا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے رخصت کرتے وقت نصیحت فرمائی کہ دیکھو جب سر پہنچو تو سب بھائی ایک ہی دروازہ سے مصر میں داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے شہر میں داخل ہونا اور ساتھ ہی یہ بھی وضاحت فرما کہ اس نصیحت کا مقصد یہ نہیں ہے کہ تم اپنی تدبیر مغرور ہو جائو کیونکہ میں تمہیں کسی ایسی بات سے ہرگز نہیں بچا سکتا جو اللہ کے حکم سے ہونے والی ہو۔ فرمانروائی تو صرف اللہ تعالیٰ ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary In the present verses, the second visit of the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، this time accompanied by their younger brother, has been mentioned. On that occasion, Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) had told them to keep in mind that they were eleven of them going there, so they should not enter Egypt collectively from one single gate of the city of their destination. Instead of that, once they have reached the outer wall of the city, they should disperse and enter there from different gates. The reason for this advice was his apprehension that all of them were young and,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–67

53. Prophet Jacob’s great concern over this journey of his sons was due to the fact that his youngest son, Benjamin, was to accompany them. He was anxious about his safety because he had already had a bad experience of his son Joseph. Naturally his heart must have been full of such misgivings that it might be his last meeting with his other beloved son. Though he had full trust in Allah and was patiently resigned to His will, but, as a human being, advised his sons to take certain precautionary measures. In order to understand the significance of this precautionary measure of entering the…

Read the full tafseer →