Explained with ayahs 54–55
جب بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی کھل گئی تو خوش ہو کر کہا کہ انہیں میرے پاس بلا لاؤ کہ میں انہیں اپنے خاص مشیروں میں کرلوں۔ چانچہ آپ تشریف لائے۔ جب وہ آپ سے ملا، آپ کی صورت دیکھی۔ آپ کی باتیں سنیں، آپ کے اخلاق دیکھے تو دل سے گرویدہ ہوگیا اور بےساختہ اس کی زبان سے نکل گیا کہ آج سے آپ ہمارے ہاں معزز اور معتبر ہیں۔ اس وقت آپ نے ایک خدمت اپنے لئے پسند فرمائی اور اس کی اہلیت ظاہر کی۔ انسان کو یہ جائز بھی ہے کہ جب وہ انجان لوگوں میں ہو تو اپنی قابلیت بوقت ضرورت بیان کر دے۔ اس خواب کی بنا پر جس کی تعبیر آپ نے دی تھی۔ آپ نے یہی آرزو کی کہ زمین کی پیداوار غلہ وغیرہ جو جمع کیا جاتا ہے اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
سورة یُوْسُف 48
اس سے پہلے جو توضیحات گزر چکی ہیں ان کی روشنی میں دیکھا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ یہ کوئی نوکری کی درخواست نہیں تھی جو کسی طالب جاہ نے وقت کے بادشاہ کی اشارہ پاتے ہی جھٹ سے پیش کردی ہو۔ درحقیقت یہ اس انقلاب کا دروازہ کھولنے کے لیے آخری ضرب تھی جو حضرت یوسف ؑ کی اخلاقی طاقت سے پچھلے دس بارہ سال کے اندر نشونما پاکر ظہور کے لیے تیار ہوچکا تھا اور اب جس کا فتح باب صرف ایک ٹھونکے ہی کا محتاج تھا۔ حضرت یوسف ؑ آزمائشوں کے ایک طویل سلسلے سے گزر کر آرہے تھے۔ اور یہ آزمائشیں کسی گمنامی کے گوشے میں پیش نہیں آئی تھیں بلکہ بادشاہ سے لے کر عام شہریوں تک مصر کا بچہ بچہ ان سے واقف تھا۔ ان…
Read the full tafseer →اس پر یوسف ؑ نے فرمایا
(آیت) اِجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ یعنی ملک کے خزانے (جن میں زمین کی پیداوار بھی شامل ہے آپ میرے سپرد کردیں میں ان کی حفاظت بھی پوری کرسکتا ہوں اور خرچ کرنے کے مواقع اور مقدار خرچ کے اندازہ سے بھی پورا واقف ہوں (قرطبی ومظہری)
ان دو لفظوں میں حضرت یوسف ؑ نے ان تمام اوصاف کو جمع کردیا جو ایک وزیر میں ہونے چاہئیں کیونکہ پہلی ضرورت تو امین خزانہ کے لئے اس کی ہے کہ وہ سرکاری اموال کو ضائع نہ ہونے دے بلکہ پوری حفاظت سے جمع کرے پھر غیر لوگوں اور غلط قسم کے مصارف میں خرچ نہ ہونے دے اور دوسری ضرورت اس کی ہے کہ جہاں جس قدر خرچ کرنا ضروری ہے…
Read the full tafseer →قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ۔
حضرت یوسف کی تجویز : " الارض " سے مراد یہاں سرزمین مصر اور " خزائن " سے مراد ملک کے ذرائع پیداوار ہیں۔ چونکہ اس وقت سب سے بڑی مہم ملک کو پیش آنے والے قحط میں سنبھالنے کی تھی اس وجہ سے حضرت یوسف نے فرمایا کہ ملک کے تمام ذرائع پیداوار کا اہتمام و انصرام میرے سپرد کردیجیے، میں پوری احتیاط سے ہر چیز کی حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے لیے علم بھی رکھتا ہوں۔ یہ واضح رہے کہ حضرت یوسف کی طرف سے کوئی درخواست نہیں تھی بلکہ خود بادشاہ کی پیشکش قبول کرنے اور اس کو بروئے کار لانے کے لیے ان کو جو شکل مناسب…
Read the full tafseer →55۔ 1 خزائن خزانۃ کی جمع ہے خزانہ ایسی جگہ کو کہتے ہیں جس میں چیزیں محفوظ کی جاتی ہیں زمین کے خزانوں سے مراد وہ گودام ہیں جہاں غلہ جمع کیا جاتا ہے۔ اس کا انتظام ہاتھ میں لینے کی خواہش اس لئے ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں (خواب کی تعبیر کی رو سے) جو قحط سالی کے ایام آنے والے ہیں، اس سے نمٹنے کے لئے مناسب انتطامات کئے جاسکیں اور غلے کی معقول مقدار بچا کر رکھی جاسکے، عام حالات میں اگرچہ عہدہ و منصب کی طلب جائز نہیں ہے، لیکن حضرت یوسف ؑ کے اس اقدام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خاص حالات میں اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ قوم اور ملک کو جو خطرات درپیش ہیں اور ان سے نمٹنے کی اچھی صلاحیت میرے اندر موجود ہیں جو…
Read the full tafseer →35: عام حالات میں حکومت کا کوئی عہدہ خود طلب کرنا شرعی اعتبار سے جائز نہیں ہے، اور آنحضرت ﷺ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے ؛ لیکن جب کسی سرکاری عہدہ کے نااہلوں کے سپرد ہونے کی وجہ سے خلق خدا کی پریشانی کا قوی خطرہ ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں کسی نیک پارسا اور متقی آدمی کے لئے عہدے کا طلب کرنا جائز ہے، یہاں حضرت یوسف ؑ کو اندیشہ تھا کہ قحط کا جو زمانہ آنے والا ہے اس میں لوگوں کے ساتھ ناانصافیاں ہوں گی، اس کے علاوہ اس ملک میں اللہ تعالیٰ کا قانون جاری کرنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ حضرت یوسف ؑ خود یہ ذمہ داری قبول فرمائیں، اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ فرمائیں، اس لئے آپ نے ملک کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
قال اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم (12 : 55) یوسف (علیہ السلام) نے کہا “ ملک کے خزانے میرے پیرو کیجئے ، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں ”۔
آئندہ کی مہم کا خلاصہ یہ ہے کہ سات سال سرسبزی کے ہیں اور ان میں اس بات کی ضرورت ہے کہ پیداوار کے ایک ۔۔۔۔۔ بچایا جائے ، امور مملکت کو اچھے طریقے سے چلایا جائے ، مملکت کے تمام شعبوں کو درست کیا جائے اور خوشحالی کے دور میں ایسی پلاننگ کی جائے کہ بدحالی اور خشک سالی میں اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اسی لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایسی ہی صلاحیتوں کا ذکر کیا اور جو ایسے حالات کے لئے ضروری تھیں یعنی حفیظ وعلیم۔ اور مصر اور تمام علاقائی ،…
Read the full tafseer →4 یعنی دولت کی حفاظت بھی پوری کروں گا اور اس کی آمد و خرچ کے ذرائع اور حساب و کتاب سے خوب واقف ہوں۔ یوسف نے خود درخواست کر کے مالیات کا کام اپنے سر لیا۔ تاکہ اس ذریعہ سے عامہ خلائق کو پورا نفع پہنچا سکیں۔ خصوصاً آنے والے خوفناک قحط میں نہایت خوش انتظامی سے مخلوق کی خبر گیری اور حکومت کی مالی حالت کو مضبوط رکھ سکیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) دنیا کی عقل بھی کامل رکھتے ہیں۔ اور یہ کہ ہمدردی خلائق کے لیے مالیات کے قصوں میں پڑنا شان نبوت یا بزرگی کے خلاف نہیں سمجھتے نیز ایک آدمی اگر نیک نیتی سے یہ سمجھے کہ فلاں منصب کا میں اہل ہوں اور دوسروں سے یہ کام اچھی طرح بن نہ پڑے گا تو…
Read the full tafseer →آیت 55 قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ
حضرت یوسف جان چکے تھے کہ اس ملک پر بہت بڑی آفت آنے والی ہے اور اگر اس ممکنہ صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے بر وقت درست اور مؤثر اقدام نہ کیے گئے تو نہ صرف خود مصر ایک خوفناک قحط کی زد میں آجائے گا بلکہ آس پاس کے علاقوں کے لیے بھی بہت بھیانک حالات پیدا ہوجائیں گے۔ اس پورے خطے میں مصر ہی ایک ایسا ملک تھا جہاں غلہ اور دوسری اشیائے خوراک پیدا ہوتی تھیں۔ اس کے ہمسایہ میں چاروں طرف خشک صحرائی علاقے تھے اور اناج وغیرہ کے سلسلے میں ان علاقوں کا انحصار بھی مصر کی زراعت پر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے موقع دیکھا تو فوراً اپنی…
Read the full tafseer →54 سیدنا یوسف نے شاہ مصر سے کس چیز کا مطالبہ کیا تھا :۔ اس کے جواب میں سیدنا یوسف نے کہا کہ پھر آپ مجھے ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنا دیجئے اور یہ بات تو آپ لوگ بھی سمجھ چکے ہیں کہ میں اس نظم و نسق کو پوری احتیاط کے ساتھ چلانے کی اہلیت رکھتا ہوں۔ بادشاہ سے آپ کے اس مطالبہ سے متعلق چند امور غور طلب ہیں :
بعض مفسرین نے خزائن الارض کے مطالبہ سے یہ سمجھا کہ آپ نے محکمہ مال کے افسر اعلیٰ یا وزیرخزانہ کا عہدہ طلب کیا تھا۔ جو ملکی معیشت سے تعلق رکھتا تھا۔ کیونکہ آپ نے خواب کی جو تعبیر بتلائی تھی وہ اسی شعبہ سے تعلق رکھتی تھی اور آئندہ جو برادران یوسف کے مصر میں آنے کا ذکر ہے۔ وہ بھی اسی شعبہ سے تعلق…
Read the full tafseer →110۔ یعنی ایسے بڑے اور ذمہ دارانہ عہدہ کے لئے ضرورت دو چیزوں کی ہوتی ہے۔ ایک دیانت وامانت، دوسرے اس کام سے واقفیت۔ سو مجھ میں یہ دونوں وصف موجود ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا عہدہ گویا آج کل کی اصطلاح میں وزیر مال (ریونیومنسٹر) اور وزیر خزانہ (فنانس منسٹر) کا جامع تھا۔ (آیت) ” اجعلنی علی خزآئن الارض “۔ یہ عہدہ آج کل کی اصطلاح میں ریونیومنسٹر (وزیر محاصل ومالگذاری) اور فنانس منسٹر (وزیر مال وخزانہ) کا جامع معلوم ہوتا ہے۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ جب مقصود نفع رسانی ہو نہ کہ نفس پروری، تو اپنے کو عہدہ ومنصب کے لئے پیش کردینا ناجائز نہیں۔ یہاں تک یہ غیر مسلم نظام حکومت کے ماتحت بھی عہدہ ومنصب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
آیت نمبر 53 تا 57
ترجمہ : پھر اللہ کیلئے تواضح کی اور پھر (یوسف (علیہ السلام) نے) کہا میں اپنے نفس کی لغزشوں سے پاکیزگی بیان نہیں کرتا جنس نفس تو بلاشبہ کثرت سے برائی کا حکم کرنے والا ہی ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی رحم کرے تو اس کو بچا لیتا ہے ما بمعنی من ہے، بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ تاکہ میں اسے اپنے لئے مخصوص کرلوں، یعنی میں اس کو بغیر کسی شریک کے حاصل کرلوں، چناچہ قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا بادشاہ کا حکم مانو، تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اٹھے اور رفقاء زندان کو رخصت کیا اور انکو دعاء دی، پھر غسل کیا اور عمدہ لباس پہنا اور بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، چناچہ جب آپس…
Read the full tafseer →قال اجعلنی علی خزائن الارض اني حفیظ علیم حضرت یوسف نے کہا : مجھے ملک (مصر) کی پیداوار اور مال پر مقرر کر دو ‘ میں (اس کام کی) بخوبی نگہداشت کرنے والا اور جاننے والا ہوں۔ حضرت یوسف نے اپنی امانت داری اور کارگذاری کا خود اظہار کیا اور خود عہدہ طلب کیا تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے احکام مخلوق میں جاری کرسکیں ‘ حق کو قائم کریں اور عدل کو دنیا میں پھیلائیں۔ اسی کام کیلئے انبیاء آتے ہیں اور ان کی بعثت کی غرض یہی ہوتی ہے۔ آپ کو معلوم تھا کہ میرے سوا اور کوئی اس کام کو کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا ‘ پس آپ نے عہدۂ حکومت کی طلب اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کی تھی ‘ جاہ و اقتدار کی طلب نہ تھی۔ خلفاء…
Read the full tafseer →(55) حضرت یوسف ؑ نے فرمایا مجھے مصر کے خزانوں پر مقرر کردیجیے میں اس کی مقدار وغیرہ کی حفاظت بھی رکھوں گا اور قحط سالی کے زمانہ وقوع سے بھی اچھی طرح واقف ہوں یا یہ کہ جو کام آپ میرے سپرد کریں گے میں اس کی حفاظت بھی کروں گا اور ان تمام لوگوں کی زبانوں سے بھی خوب واقف ہوں جو آپ کے پاس آتے ہیں۔
Read the full tafseer →قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ۔۔ : ”الْاَرْضِ“ میں الف لام عہد کا ہے ”اس زمین“ یعنی مجھے سرزمین مصر کے خزائن پر مقرر کردیجیے، کیونکہ میں ان کی پوری طرح حفاظت کرسکتا ہوں اور اس کام کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ ”خزائن“ ”خَزَانَۃٌ“ کی جمع ہے، اس سے مراد یا تو ان گوداموں کا نظام ہے جو خوش حالی کے سالوں کے لیے تعمیر کیے جائیں گے اور غلہ سنبھالیں گے اور قحط کے سالوں میں ان سے غلہ تقسیم کیا جائے گا، کیونکہ اس کے لیے بہت بڑی منصوبہ بندی، محنت و امانت اور حساب کتاب میں مہارت کی ضرورت ہے، یا مراد سلطنت کے تمام ذرائع آمدنی و پیداوار ہیں۔ قرآن میں ”خزائن“ کا لفظ عموماً اسی معنی میں استعمال ہوا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 55
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قال اجعلنی علیٰ خزآئن الارض حضرت سعید بن منصور نے کہا : میں نے حضرت مالک بن انس کو کہتے سنا ہے : مصرزمین کا خزانہ ہے : جہاں تک اجعلنی علیٰ خزآئن الارض کا تعلق ہے تو اس میں حذف ہے یعنی اجعلنی علی حفظ خزائن الررض مضاف کو حذف کردیا گیا۔ انی حفیظ یعنی جو میرے سپرد کیا جائے گا میں اس کی حفاظت کرنے والا ہوں گا علیم اس کے معاملات کو جاننے والا ہوں۔ تفسیر میں ہے : میں حساب کرنے والا اور لکھنے والا ہوں، اور آپ سب سے پہلے آدمی تھے جس نے کاغذوں میں لکھا۔ ایک قول یہ ہے : حفیظ خوارک کے اندازے کو علیم خوشحالی کے سالوں کو۔ جویبر نے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم والحاکم رحمہما اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے مجھے بحرین پر گورنر بنایا پھر مجھے معزول کردیا اور مجھ پر بارہ ہزار جرمانہ کیا پھر اس کے بعد مجھے عامل بنانے کے لئے بلایا تو میں نے انکار کردیا عمر ؓ نے فرمایا انکار کیوں کررہے ہو۔ حالانکہ یوسف (علیہ السلام) نے بھی عامل بننے کا سوال کیا تھا۔ جو تجھ سے بہتر ہے۔ میں نے کہا یوسف (علیہ السلام) نبی تھے جو ایک نبی کے بیٹے تھے اور وہ ایک نبی کے بیٹے اور ایک نبی کے بیٹے تھے اور میں (امیمہ کا بیٹا ہوں اور میں ڈرتا ہوں کہ میں بغیر برداشت کے کوئی بات کروں اور میں بغیر علم کے فتوی دے دوں۔ اور میری پیٹھ پر مارا جائے اور میری…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [اجْعَلْنِيْ : تو بنا دے مجھ کو ] [ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ : زمین کے خزانوں پر (وزیر)] [ انى : بیشک میں ] [حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ: علم رکھنے والا نگران ہوں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
برادران یوسف کا غلہ لینے کے لیے مصر آنا اور سامان دے کر آپ کا یہ فرمایا کہ آئندہ اپنے علاّتی بھائی کو بھی لانا اور ان کی پونجی ان کے کجاو وں میں رکھوا دینا
سر سبزی و شادابی کے سات سال گزرنے کے بعد قحط آگیا یہ قحط صرف مصر ہی میں نہ تھا آس پاس کے علاقوں میں بھی تھا۔ ملک شام بھی مصر کے ساتھ ملتا ہے یہاں بھی قحط تھا اور غلے کی ضرورت تھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والد اور بھائی سر زمین فلسطین میں رہتے تھے جو شام کا ایک حصہ ہے ان لوگوں کو بھی علم ہوا کہ مصر میں غلہ ملتا ہے اور حکومت کی طرف سے دیا جا رہا ہے لیکن حکومت کا یہ دینا مفت میں نہیں ہے غلہ حاصل کرنے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–68
یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت
قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون
اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق…
Read the full tafseer →50:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سمجھ لیا کہ شاہ مصر اب لازمی طور پر حکومت کا کوئی محکمہ ان کے سپرد کرے گا اس لیے انہوں نے خود ہی اپنے کو ایک ایسے محکمہ کے لیے پیش کردیا جس کا براہ راست تعلق پبلک سے تھا تاکہ متوقع قحط کے زمانے میں مخلوقِ خدا سے پوری پوری ہمدردی ہوسکے اور ہر ایک کو اس کا حق مل جائے اور قحط کے زمانہ میں غلے کی حفاظت اور اس کے خرچ کا انتظام درست رہے۔ انہ (علیہ السلام) علم بالوحی انہ سیحصل القحط والضیق الشدید الذی ربما افضی الی ھلاک الخلق العظیم فلعلہ تعالیٰ امرہ بان یدبر فی ذلک ویاتی بطریق لاجلہ یقل ضرر ذلک القحط فی حق الخلق (کبیر ج 18 ص 161) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
ربط آیات
یوسف (علیہ السلام) کے مطالبے پر بادشاہ وقت نے ان تمام عورتوں کو جمع کیا جو زلیخا کی دعوت میں شریک تھیں اور جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بادشاہ نے ان سے یوسف (علیہ السلام) کے کردار کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بالاتفاق آپ کی طہارت اور پاکیزگی کا اقرار کیا۔ عزیز مصر کی بیوی یوسف (علیہ السلام) کو پھسلانے کی اصل ذمہ دار تھی۔ اس نے بھی صریح الفاظ میں آپ کو راستباز اور نیک انسان تسلیم کیا اور خود اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل ‘ تقوی اور پرہیز گار ی سے تو بادشاہ تعبیر خواب کی وجہ سے ہی گرویدہ ہوچکا تھا ‘ اب جب کہ ان عورتوں نے بھی آپ کی تعریف کی تو بادشاہ پر…
Read the full tafseer →قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ 0ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ 55
خزن
الخَزْنُ : حفظ الشیء في الخِزَانَة، ثمّ يعبّر به عن کلّ حفظ کحفظ السّرّ ونحوه، وقوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21]
( خ زن ) الخزن
کے معنی کسی چیز کو خزانے میں محفوظ کردینے کے ہیں ۔ پھر ہر چیز کی حفاظت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے جیسے بھیدہ وغیرہ کی حفاظت کرنا اور آیت :۔ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21] اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں ۔
أرض
الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
2 ؎ حساب کتاب سے بھی واقف ہوں یا یہ کہ حفاظت کے طریقے خوب جانتا ہوں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ ج فَلَمَّا کَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔ (سورۃ یوسف : 54)
(اور بادشاہ نے کہا، اس کو میرے پاس لائو، میں اس کو اپنا معتمدِ خاص بنائوں گا۔ پھر جب بادشاہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بات کی تھی تو کہا اب آپ ہمارے یہاں بااقتدار اور معتمد ہوئے۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بادشاہ کی گرویدگی اور اس کا سبب
بادشاہ کے خواب کی تعبیر ملک کا کوئی صاحب علم نہ بتا سکا تو شاہی ساقی کے کہنے پر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے تعبیر معلوم کی گئی۔ آپ ( علیہ السلام) نے بغیر کسی تامل کے نہ صرف خواب کی تعبیر بیان کی بلکہ آنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ارشاد کے بعد بادشاہ وقت کی پیش کش۔
قرآن مجید کے مقدس انداز اور الفاظ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مصر کے بادشاہ کی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ یہ پہلی ملاقات تھی۔ جس میں اس نے آپ سے درخواست کی کہ میں آپ کو اپنے کاموں کے لیے مخصوص کرنا چاہتا ہوں۔ آج کے بعد آپ ہمارے نزدیک نہایت ہی قابل اعتماد اور مقرب ہوں گے۔
یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ مجھے ملک کے وسائل کی ذمہ داری سونپیں۔ یقیناً میں ان کے مصرف کو جانتا ہوں اور معاملات کی حفاظت کروں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ دعویٰ اس لیے کیا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ناصرف انھیں خوابوں کی تعبیر…
Read the full tafseer →مطالبہ ٔ یوسف۔ :
55: قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ (یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تم مجھے زمین کے خزائن پر مقرر کرو) تم سرزمین کے خزائن کا مجھے ذمہ دار بنادو۔ اِنِّیْ حَفِیْظٌ (میں امانتدار محافظ ہوں) اور اس چیز کی حفاظت کروں گا۔ جس کی حفاظت مجھ سے چاہو گے۔ عَلِیْمٌ (جاننے والا) تصرف و خرچ کے مقامات کو جاننے والا ہوں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی امانت و کارگزاری کو خود بیان فرمایا بادشاہوں کے ہاں جن کو عہدہ دیا جاتا ہے۔ ان میں یہی چیزیں دیکھی جاتی ہیں۔ آپ نے خود عہدہ اس لئے طلب کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل ہو ملک و دنیا ہرگز مقصود نہ تھی آپ چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →تفسیر :۔ 55۔ ’ ’ قال “ یوسف (علیہ السلام) نے ” اجعلنی علی خزائن الارض “ خزائن خزانہ کی جمع ہے اس سے مراد غلہ اور مال کے گودام ہیں اور ارض سے مراد مصر کی زمین ہے۔” انی حفیظ علیم “ یعنی ان گوداموں پر حفیظ اور اس کے مصالح کو جاننے والا ہوں ۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ میرے بھائی یوسف (علیہ السلام) پر رحم کرے۔ اگر وہ یہ کہتے ’ اجعلنی علی خزائن الارض “ تو وہ اسی وقت ان کو امیر بنا دیتا لیکن ان کے یہ کہنے کی وجہ ایک سال مؤخر کردیا ۔ آپ (علیہ السلام) ایک سال بادشاہ کے ساتھ اس کے گھر میں رہے اور اسی سند سے ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب وہ سال مکمل ہوگیا جس میں یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
54۔ 55۔ ریان بن ولید بادشاہ مصر پر جب یہ بات اچھی طرح ظاہر ہوگئی کہ یوسف (علیہ السلام) اس تہمت سے بالکل پاک وصاف ہیں اور علاوہ اس کے خواب کی تعبیر سن کر یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل سے بھی وہ اچھی طرح آگاہ ہوچکا تھا۔ اس لئے اس نے دربار میں کہا کہ قاصد جا کر انہیں میرے پاس لے آئے ہیں۔ انہیں اپنا خاص مصاحب بناؤں گا حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بادشاہ کے قاصد نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ تم یہ کپڑے قید خانہ کے اتار دو اور یہ اچھے اچھے کپڑے جو اپنے ساتھ تمہارے واسطے لے کر آیا ہوں پہن لو اور شاہی دربار میں چلو وہاں تمہاری طلب ہو رہی ہے اس وقت قید خانہ والوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →(آیت) یوسف (علیہ السلام) نے مصلحت عامہ کی خاطر بادشاہ سے مطالبہ کیا۔ (آیت) ” مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کردیجیے۔ “ یعنی مجھے زمین کی پیدا وار، اس کے محاصل کا نگران، محافظ اور منتظم مقرر کردیں (آیت) ” کیونکہ میں حفاطت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف بھی ہوں۔ “ یعنی جس چیز کا آپ مجھے نگران بنائیں گے میں اس کی حفاظت کروں گا اس میں سے کچھ بھی بےمحل استعمال ہو کر ضائع نہیں ہوگی، میں ان محاصل کے داخل خارج کو منضبط کرسکتا ہوں میں ان کے انتظام کی کیفیت کا پورا علم رکھتا ہوں۔ میں یہ بھی خوب جانتا ہوں کہ کسے عطا کرنا ہے کسے محروم رکھنا ہے اور ان میں تصرفات کی پوری طرح دیکھ بھال کرسکتا ہوں۔ یوسف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
قول باری ہے وقال الملک ائتونی بہ استخلصہ لنفی فلماکلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امین۔ بادشاہ نے کہا : ” انہیں میرے پاس لائو تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کرلوں “ جب یوسف نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا :” اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسہ ہے “ چونکہ یہ بادشاہ عقل اور سمجھ رکھتا تھا اس لیے وہ حضرت یوسف علیہ کے حسن و جمال اور پر وقار شخصیت سے اس طرح متاثر نہیں ہوا جس طرح عورتیں اپنی کم عقلی اور ناسمجھی کی بنا پر ان سے متاثر ہوگئی تھیں ، نیز ان عورتوں نے صرف آپ کے ظاہری حسن و جمال کو دیکھا تھا آپ کی عقل مندی اور سمجھ داری کی خوبیوں میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی…
Read the full tafseer →96۔ اصلاح نظام اور خدمت خلق کے لیے منصب کا مطالبہ :
کہ آپ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کردیں۔ تاکہ اس طرح مجھے نظام کار کی اصلاح اور خدمت خلق کا موقع مل سکے۔ سو یہ کوئی اپنی نوکری کا مطالبہ نہیں تھا جو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی شخصی منفعت کے لیے جھٹ کردیا ہو کہ نظام کفر میں ایک کل پرزے کی طرح کام کرنا تو نبی کی شان ہی نہیں۔ بلکہ یہ مطالبہ دراصل اصلاح احوال اور خدمت خلق کے جذبے کے تحت تھا۔ تاکہ اس طرح کار سلطنت میں شریک اور دخیل بن کر اور ضروری اختیارات حاصل کرکے آپ اس نظام کفر کی حتی المقدور اصلاح کرسکیں۔ لوگوں کی صحیح راہنمائی اور خدمت کا فریضہ انجام دے سکیں تاکہ ان کی بگڑی اور اس طرح بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
آیات 50 تا 57
اسرار و معارف
بہتان والزام سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیئے
چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس آدمی کو ہمارے روبرولایا جائے کہ ہم خود اس سے تعبیر سننا چاہتے ہیں ۔ شاہی ہر کارہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا حکم لے کر حاضر ہوا اور بادشاہ کے طلب فرمانے کی خبردی تو آپ نے فرمایا کہ بادشاہ سے کہو پہلے میرے معاملہ کی تحقیق کرے اور درباری امراء کی ان خواتین سے اسفسار کیا جائے جنہوں نے ہاتھ کاٹ لئے تھے کہ وہ سارے معاملہ سے بخوبی واقف ہیں ۔ جو کچھ ہوا تھا زلیخا نے بھی ان کے سامنے اقرار کرلیا تھا اور جو کچھ انھوں نے سوچا تھا یا سفارش کی تھی یا مجھے دیکھنے اور پانے کا حیلہ کیا تھا میرا پروردگار…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ لفظ ” خزائن الارض “ (زمین کے خزانے) سے مراد روپیہ اور غلوں کے خزانے نہیں ہیں بلکہ سلطنت کے تمام ذرائع آمدنی و پیداوار ہیں۔ قرآن حکیم میں خزائن کا لفظ عموماً اسی معنی میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ ارشاد ہے ” وللہ خزائن السموات والارض “۔ مطلب یہ ہے کہ جب حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ بادشاہ کی نگاہ میں ان کی قدر و منزلت بڑھ گئی ہے اور وہ انہیں ہر طرح اختیارات سونپنے کو تیار ہے تو اپنی اہلیت پر اعتماد کرتے ہوئے یہ پیشکش مناسب سمجھی کہ سلطنت کے تمام ذرائع آمدنی و پیداوار میرے حولاے کر دئیے جائیں اور جب انسان کو اپنی اہلیت پر اعتماد و یقین ہو اور کوئی دوسراشخص قومی امانت کا بوجھ نہ اٹھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(12:54) استخلصہ لنفسی۔ میں اس کو خالص کرلوں اپنی ذات کے لئے۔ یعنی میں اس کو ذاتی مشیر بنا لوں۔ استخلص استخلاص (استفعال) سے مضاری واحد متکلم کا صیغہ ہے۔
کلمہ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ہضمیر مفعول اس کا مرجع یوسف (علیہ السلام) ہے۔ اس (عزیز مصر) نے اس (حضرت یوسف) سے کلام کیا۔ گفتگو کی۔
مکین۔ صاحب ِ منزلت۔ معزز۔ محترم۔ مرتبہ والا۔ کون مصدر مکینصفت مشبہ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
لغات القرآن آیت نمبر 54 تا 57
(کلم کلام کیا، بات کی) ( لدینا ہمارے پاس ) (مکین معزز، باعزت ) (امین معتبر، ایماندار، امانت دار) ( اجعلنی مجھے بنا دے ) (خزائن خزانے ) (حفیظ حفاظت کرنے والا، محافظ ) (علیم بہت جاننے والا) ( مکنا ہم نے ٹھکانا دیا، جما دیا ) (یتنبوء وہ ٹھکانا بتاتا ہے، با اختیار بناتا ہے) ( نصیب ہم پہنچاتے ہیں) ( لانضیع ہم ضائع نہیں کرتے) ( اجر اجر خیر زیادہ)
تشریح آیت نمبر 54 تا 57
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کی زندگی کے اس پہلو کو نمایاں فرمایا ہے جہاں سے ان کی دنیاوی زندگی کا عروج شروع ہوتا ہے۔ یہ اس واقعہ کا اہم ترین پہلو بھی ہے مگر اس بات کو بھی ذہن میں رکھ لیجیے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر کی جگہ مقرر کرنا
جب بادشاہ مصر کے روبرو یوسف (علیہ السلام) کی یہ باتیں بیان ہوئیں تو اسے دیکھنے کی زیادہ آرزو ہوئی اور بولا '' میرے پاس اسے لاؤ میں اپنے ہی کاموں کے لئے اس کو خاص کرلوں گا '' پھر بادشاہ کے قاصد نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ : تم یہ کپڑے اتارو اور اچھے کپڑے شاہانہ جو میں تمہارے واسطے لے کر آیا ہوں پہن لو اور شاہی دربار میں چلو وہاں تمہاری طلب ہورہی ہے۔ جب یوسف (علیہ السلام) قید خانہ سے باہر چلے تو قیدی جو ان کے دیدار سے خوش تھے چیخیں مار کر رونے لگے، انہوں نے ان کی دلنوازی کرکے دعا فرمائی یوسف (علیہ السلام) کی عمر اس وقت بتیس برس کی تھی جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–56
[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
نفس امارہ کی شورشیں !
(ف 1) نفس کا اطلاق قرآن میں کئی معنوں میں ہوا ہے نفس کے معنی خون تن کے اور عین کے ہیں اور روح یا جان کے بھی ۔ تاکید کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے ،
یہاں سے مراد ترغیبات کا وہ مرکزی شعور ہے جو گناہوں کی تحریک پیدا کرتا ہے اور برائی کے لیے گوناگوں جواز کے پہلو تلاش کرتا ہے
یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ نفس بشری کا تقاضا تو یہی تھا کہ میں دعوت معصیت کو قبول کرتا اور بالخصوص ان حالات میں جب کہ خود عزیزہ مصر اظہار تعشق کر رہی تھی ، مگر نفس نبوی نے روکا پیغمبرانہ عقاف و عصمت آڑے آئی اور میں فسق و فجور کے دام تزویر سے صاف بچ کر نکل گیا
اب حضرت یوسف (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →55 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے اس ملک کے خزانوں پر مامور کر دے میں ایک اچھا نگہبان اور حساب و کتاب سے بخوبی واقف ہوں ۔ یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ دیکھا کہ آئندہ اس ملک میں قحط پڑنے والا ہے مصر کی حکومت سنبھال نہ سکے گی ملک میں ابتری پھیل جائیگی اور مخلوص بھوک سے مرجائے گی خلائق کی نفع رسانی کا خیال کرتے ہوئے انہوں نے یہ مطالبہ کیا اپنی جاہ پسندی ، ذاتی منفعت اور کنبہ پروری مقصود نہ تھی اور ایسی حالت میں کسی منصب کے طلب کرنے میں مضائقہ نہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ خلائق کے فائدے کی غرض سے انبیاء علہیم السلام مالیا ت کے قصوں میں پڑنے کو شان نبوت کیخلاف نہیں سمجھتے۔…
Read the full tafseer →ف 3۔ چناچہ بجائے اس کے کہ ان کو کوئی خاص منصب دیتا مثل اپنے پورے اختیارات ہر قسم کے دے دیے گویا حقیقت میں بادشاہ یہی ہوگئے گوبرائے نام وہ بادشاہ رہا اور یہ عزیز کے عہدے سے مشہور ہوئے۔ فائدہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی کام کی لیاقت اپنے اندرمنحصر دیکھے تو خود اس کی درخواست جائز ہے مگر مقصود نفع رسانی ہو نہ کہ نفس پروری۔
Read the full tafseer →یوسف نے کہا کہ مجھے وزیر خزانہ بنا دیجیے تو میں اس کا سارا بندوبست کرسکتا ہوں
۔ 67 اتنے بڑے عہدہ کے لئے دو ہی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک دیانت و امانت اور دوسرے اس کام سے مکمل واقفیت۔ سو مجھ میں یہ دونوں وصف موجود ہیں اس لئے میں اس عہدہ کو طلب کر رہا ہوں اور وہ سارا پروگرام جو خواب میں دکھایا گیا اس وزاتر کے متعلق ہے یہ وہی عہدہ ہے جس کو آج کل کی اصطلاح میں وزیر مال ریونیو منسٹر اور وزیر خزانہ فنانس منسٹر کا جامع ہو سکتا ہے اور قحط سالی کے شروع ہونے تک اور قحط سالی شروع ہوجانے کے بعد بھی جتنے شعبے اس معاملے میں معاون و ممد ہو سکتے ہیں وہ سب کے سب اسی عہدہ کے تحت آتے ہیں۔ اس لئے یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →Thereupon, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) said: اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ that is, ` appoint me to the treasures of the land (which includes the produce of the land) for I am indeed a knowledgeable keeper (fully capable of conserving and guarding it, and aware of where to spend and how much to spend). (Qurtubi Mazhari)
In the two words appearing here (hafiz and alim), Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) has combined together all functional virtues a genuine Finance Minister should have. To make it simple, it can be said that the chief trustee and manager of a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
48. This is to show that the whole land of Egypt was under his complete control, as if it belonged to him and he could claim any piece of it as his, and there was no piece of it that could be withheld from him. The early commentators have also made the same comment on this verse. For instance, Allamah Ibn Jarir Tabari, on the authority of Ibn Zaid, says that this verse means: We made Joseph the owner of all those things that were in Egypt, and in this part of the world he could do whatever he liked and wherever he liked for he had been given complete authority over this land. So much so that…
Read the full tafseer →