Explained with ayahs 56–57
زمین مصر میں یوں حضرت یوسف ؑ کی ترقی ہوئی۔ اب ان کے اختیار میں تھا کہ جس طرح چاہیں تصرف کریں۔ جہاں چاہیں مکانات تعمیر کریں۔ یا اس تنہائی اور قید کو دیکھئے یا اب اس اختیار اور آزادی کو دیکھئے۔ سچ ہے رب جسے چاہے اپنی رحمت کا جتنا حصہ چاہے دے۔ صابروں کا پھل لا کر ہی رہتا ہے۔ بھائیوں کا دکھ سہا، اللہ کی نافرمانی سے بچنے کے لئے عزیز مصر کی عورت سے بگاڑ لی اور قید خانے کی مصیبتیں برداشت کیں۔ پس رحمت الہی کا ہاتھ بڑھا اور صبر کا اجر ملا۔ نیک کاروں کی نیکیاں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔ پھر ایسے باایمان تقوی والے آخرت میں بڑے درجے اور اعلی ثواب پاتے ہیں۔ یہاں یہ ملا، وہاں کے ملنے کی تو کچھ نہ پوچھئے۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
سورة یُوْسُف 48
اس سے پہلے جو توضیحات گزر چکی ہیں ان کی روشنی میں دیکھا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ یہ کوئی نوکری کی درخواست نہیں تھی جو کسی طالب جاہ نے وقت کے بادشاہ کی اشارہ پاتے ہی جھٹ سے پیش کردی ہو۔ درحقیقت یہ اس انقلاب کا دروازہ کھولنے کے لیے آخری ضرب تھی جو حضرت یوسف ؑ کی اخلاقی طاقت سے پچھلے دس بارہ سال کے اندر نشونما پاکر ظہور کے لیے تیار ہوچکا تھا اور اب جس کا فتح باب صرف ایک ٹھونکے ہی کا محتاج تھا۔ حضرت یوسف ؑ آزمائشوں کے ایک طویل سلسلے سے گزر کر آرہے تھے۔ اور یہ آزمائشیں کسی گمنامی کے گوشے میں پیش نہیں آئی تھیں بلکہ بادشاہ سے لے کر عام شہریوں تک مصر کا بچہ بچہ ان سے واقف تھا۔ ان…
Read the full tafseer →(آیت) وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاۗءُ ۭ نُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَاۗءُ وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ یعنی جس طرح ہم نے یوسف ؑ کو بادشاہ مصر کے دربار میں عزت و منزلت عطا کی اسی طرح ہم نے ان کو پورے ملک مصر پر اقتدار کامل عطا کردیا کہ ان کی زمین میں جس طرح چاہیں احکام جاری کریں ہم جس کو چاہتے ہیں اپنی رحمت و نعمت سے یوں ہی نوازا کرتے ہیں اور ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتے،
تفصیل اس کی یہ ہے کہ بادشاہ مصر نے ایک سال تجربہ کرنے کے بعد دربار میں ایک جشن منایا جس میں تمام عمال دولت اور معززین حکومت کو جمع کیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
56۔ 57:۔ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاۗءُ ۭ نُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَاۗءُ وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ۔ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ۔
حضرت یوسف ؑ کا کلی اقتدار : اس طرح حضرت یوسف ؑ کو پورے ملک مصر میں عملاً وہ تمام اختیار و اقتدار حاصل ہوگیا جو بادشاہ کو حاصل تھا۔ نام تو بادشاہ کا ضرور باقی رہا۔ لیکن اپنے اختیارات اس نے سارے حضرت یوسف کو تفویض کردیے۔ یتبوء منہا حیث یشاء۔ یعنی وہ جہاں چاہیں فروکش ہوں، جس حصہ ملک کا چاہیں دورہ کریں، جہاں جو نظم و نسق ضرور سمجھیں اس کے لیے احکام…
Read the full tafseer →56۔ 1 یعنی ہم نے یوسف ؑ کو زمین میں ایسی قدرت و طاقت عطا کی کہ بادشاہ وہی کچھ کرتا جس کا حکم حضرت یوسف ؑ کرتے، اور سرزمین مصر میں اس طرح تصرف کرتے جس طرح انسان اپنے گھر میں کرتا ہے اور جہاں چاہتے، وہ رہتے، پورا مصر ان کے زیرنگین تھا۔
56۔ 2 یہ گویا اجر تھا ان کے صبر کا جو بھائیوں کے ظلم و ستم پر انہوں نے کیا اور ثابت قدمی کا زلیخا کی دعوت گناہ کے مقابلے میں اختیار کی اور اس کی اولو العزمی کا جو قید خانے کی زندگی میں اپنا رکھی۔ حضرت یوسف ؑ کو ورغلانے کی مذموم سعی کی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ بادشاہ حضرت یوسف ؑ کی دعوت و تبلیغ سے مسلمان ہوگیا تھا بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ عزیز مصر، جس کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
36:: دنیا میں حضرت یوسف ؑ کو جو عزت اور اقتدار ملا اس کے ذکر کے ساتھ قرآن کریم نے یہ بھی واضح فرمادیا کہ یہ اس اجر عظیم کے مقابلے میں بہت کم ہے جو ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں تیار کر رکھا ہے، اس طرح ہر وہ شخص جس کو دنیا میں کوئی عزت اور دولت ملی اسے یہ ابدی نصیحت فرمادی گئی ہے اس کو اصل فکر اس بات کی کرنی چاہیے کہ اس دنیا کی عزت و دولت کے نتیجے میں آخرت کا اجر ضائع نہ ہو۔
Read the full tafseer →اب ہم سیاق کلام میں اصل مضمون اور قصے کی طرف واپس ہوتے ہیں۔ یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں کہا جاتا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی درخواست منظور ہوگئی ، بلکہ ان کی جانب سے درخواست بذات خود منظوری تھی۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ان لوگوں کے ہاں اب حضرت یوسف (علیہ السلام) بہت ہی عظیم المرتبہ انسان تھے۔ چناچہ جواب درخواست کی جگہ اس پر ایک تبصرہ کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے منصب کا چارج بھی لے لیا ہے۔ کہا جاتا ہے :
وکذلک مکنا لیوسف ۔۔۔۔۔۔ خیر للذین امنوا وکانوا یتقون (12 : 56 ۔ 57) “ اس طرح ہم نے اس سر زمین میں یوسف کے لئے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ وہ مختار تھا کہ…
Read the full tafseer →5 جہاں چاہتے اترتے اور جو چاہتے تصرف کرتے۔ گویا ریان بن الولید برائے نام بادشاہ تھا۔ حقیقت میں یوسف بادشاہی کر رہے تھے۔ اور " عزیز " کہہ کر پکارے جاتے تھے۔ جیسا کہ آگے آئے گا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ بادشاہ آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا۔ نیز اسی زمانہ میں عزیز مصر کا انتقال ہوا تو اس کی عورت زلیخا نے آپ سے شادی کرلی۔ واللہ اعلم۔ محدثین اس پر اعتماد نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →آیت 56 وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاۗءُ
حضرت یوسف کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمکن عطا ہونے کا یہ دوسرامرحلہ تھا۔ پہلے مرحلے میں آپ کو بدوی اور صحرائی ماحول سے اٹھا کر اس دور کے ایک نہایت متمدن ملک کی اعلیٰ ترین سطح کی سوسائٹی میں پہنچایا گیا جبکہ دوسرے مرحلے میں آپ کو اسی ملک کے ارباب اختیار و اقتدار کی صف میں ایک نہایت ممتاز مقام عطا کردیا گیا جس کے بعد آپ پورے اختیار کے ساتھ عزیز کے عہدے پر متمکن ہوگئے۔
Read the full tafseer →55 اس جملہ کے الفاظ سابقہ حاشیہ کی پوری طرح تائید کر رہے ہیں۔ یعنی اب سیدنا یوسف جہاں چاہتے رہتے اور جو کچھ چاہتے کرسکتے تھے اور ظاہر ہے کہ اگر محض محکمہ مال کے افسر یا وزیر خزانہ ہوتے تو آپ حکومت کے احکام کے پابند ہوتے۔ آپ کو اتنی آزادی کبھی میسر نہ آسکتی تھی اور یہ محض آزادی نہ تھی بلکہ آپ کو خوشحالی کے سالوں میں غلہ کو ذخیرہ کرنے کے لیے مختلف مقامات پر جانا ضروری ہوتا تھا۔
Read the full tafseer →111۔ (اور عملا انہی کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا) (آیت) ” کذلک مکنا “۔ یعنی اس عجیب و غریب طریقہ سے، ایسے معجزانہ انداز سے۔ کہاں تو وہ کنوئیں کی گہرائیوں اور جیل کی چاردیواری کے اندر وہ بےبسی اور بےکسی تھی اور کہاں یہ اقتدار مطلق العنانی کی حد تک حاصل ہوگیا، اس وقت کی متمدن ترین سلطنت میں ! توریت میں ہے :۔ ” اور فرعون نے یوسف (علیہ السلام) کا خطاب جہاں پناہ رکھا۔۔ اور یوسف (علیہ السلام) مصر کی زمین میں پھرا۔۔ اور یوسف (علیہ السلام) فرعون کے حضور سے نکل کر مصر کی ساری زمین میں پھیرا “۔ (پیدائش 41: 44) (آیت) ” مکنا لیوسف فی الارض “۔ خوب خیال کرلیا جائے، ایک کافر بادشاہ کی بخشی ہوئی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
آیت نمبر 53 تا 57
ترجمہ : پھر اللہ کیلئے تواضح کی اور پھر (یوسف (علیہ السلام) نے) کہا میں اپنے نفس کی لغزشوں سے پاکیزگی بیان نہیں کرتا جنس نفس تو بلاشبہ کثرت سے برائی کا حکم کرنے والا ہی ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی رحم کرے تو اس کو بچا لیتا ہے ما بمعنی من ہے، بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ تاکہ میں اسے اپنے لئے مخصوص کرلوں، یعنی میں اس کو بغیر کسی شریک کے حاصل کرلوں، چناچہ قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا بادشاہ کا حکم مانو، تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اٹھے اور رفقاء زندان کو رخصت کیا اور انکو دعاء دی، پھر غسل کیا اور عمدہ لباس پہنا اور بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، چناچہ جب آپس…
Read the full tafseer →وکذلک مکنا لیوسف فی الارض یتبوا منھا حیث یشاء اور ہم نے ایسے (عجیب) طور سے یوسف کو اس سرزمین میں جماؤ عطا کردیا کہ وہاں جس جگہ چاہیں رہیں __ یعنی بادشاہ کی مجلس میں جس طرح ہم نے حضرت یوسف کو جگہ دی ‘ اسی طرح سرزمین مصر میں ہر جگہ اس کو رہنے کا اختیار دیا ‘ وہ جہاں چاہتا رہ سکتا تھا۔
نصیب برحمتنا من نشاء ولا نضیع اجر المحسنین ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نعمت عطا کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔
رحمت سے مراد ہے : نعمت اور اجر سے مراد ہے : فوراً یا کچھ مدت کے بعد نکلنے والا اچھا نتیجہ۔ المحسنین سے حضرت ابن عباس اور وہب کے نزدیک صبر کرنے والے مرد ہیں۔ مجاہد وغیرہ نے کہا : حضرت…
Read the full tafseer →(56) اور ہم نے ایسے عجیب طریقے پر حضرت یوسف ؑ کو ملک مصر میں بااختیار بنادیا کہ اس میں جہاں چاہیں رہیں۔
ہم اپنی خصوصی رحمت یعنی نبوت جس پر چاہیں کریں اور جو اس کا اہل ہو اسے متوجہ کردیں اور ہم ایسے مومنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتے جو قول وفعل میں نیکو کار ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ : اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یوسف ؑ کو سلطنت مصر میں ہر قسم کے اختیارات حاصل تھے اور وہ ایک کافر بادشاہ کے وزیر و ملازم نہیں تھے، ہوسکتا ہے کہ بادشاہ نے از خود ہی زمام حکومت ان کے سپرد کردی ہو۔ ایک مشرک بادشاہ اور ایک نبی کا اتنا قرب ممکن ہی نہیں، اگر بادشاہ کو کافر فرض کیا جائے تو ممکن ہی نہیں کہ انسانوں میں سے اللہ کا سب سے بڑا دشمن (کافر بادشاہ) اللہ کے اس وقت کے سب سے بڑے دوست (نبی) سے اتنی دلی محبت رکھ کر نباہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فیصلہ فرمایا ہے : (اِنَّ الْكٰفِرِيْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِيْنًا) [ النساء : 101 ] ”بیشک کافر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
آیت نمبر 56 تا 57
وکذٰلک مکنا لیوسف فی الارض ۚیتموامنھا حیث یشآء یعنی ان کو بادشاہ کے دل کے قریب کرکے اور قید سے نجات دے کر ہم نے جوان پر انعام کے ذریعے ہم نے انکو زمین میں تسلط واقتدار بحشا، یعنی جس طرح وہ چاہتے تھے اسی طرح ہم نے ان کو اقتدار عطا فرمایا۔ ال کیا طبری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولذلک مکنالیوسف فی الارض مباح چیز تک پہنچنے کے لیے اور جو اس میں خوشی، اصلاح اور حقوق کا حصول ہوتا ہے اس کے لیے حیلہ کے جواز پر دلیل ہے، اسی کی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وخذبیدک ضغثًا فاضرب بہٖ ولا تحنث (ص :44) ہے (اور اپنے ہاتھ میں سبز وخشک گھاس کا مٹھا پکڑ پس اس کے ساتھ مار اور حانث نہ ہو) اسی…
Read the full tafseer →مصر کی حکومت ملنا :
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکذلک مکنا لیوسف فی الارض “ یعنی ہم نے ان کو مالک بنادیا کہ اس دنیا کا (آیت) ” حیث یشآء اس میں جو چاہیں کریں اور یہ ان کے سپرد کردی گئی تھیں۔ اور فرمایا اگر وہ چلتا کردیتا تو وہ فرعون کو ماتحت (یعنی تابع) اور یوسف کو مافوق (یعنی متبوع) کردیے تھا ایسا کرسکتا تھا۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے فضیل بن عیاض (رح) سے روایت کیا کہ عزیز کی بیوی راستہ پر کھڑی ہوگئی یہاں تک کہ یوسف (علیہ السلام) وہاں سے گزرے تو کہنے لگی کہ سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے غلام کو بادشاہ بنادیا اس کی اطاعت سے اور بادشاہ کو…
Read the full tafseer →[وَكَذٰلِكَ : اس طرح [ مَكَّنَا : ہم نے اختیار دیا ] [ لِيُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کو [ فِي الْاَرْضِ : اس سر زمین میں ] [ يَتَبَوَّاُ : (کہ) وہ اقامت اختیار کریں ] [ مِنْهَا : اس میں سے ] [حَيْثُ : جہاں ] [يَشَاۗءُ : وہ چاہیں ] [نُصِيْبُ : ہم پہنچاتے ہیں ] [بِرَحْمَتِنَا : اپنی رحمت کو ] [ مَنْ : اسے جسے ] [ نَّشَاۗءُ : ہم چاہتے ہیں [ وَلَا نُضِيْعُ : اور ہم ضائع نہیں کرتے [ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ : خوب کاروں کے اجر کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
برادران یوسف کا غلہ لینے کے لیے مصر آنا اور سامان دے کر آپ کا یہ فرمایا کہ آئندہ اپنے علاّتی بھائی کو بھی لانا اور ان کی پونجی ان کے کجاو وں میں رکھوا دینا
سر سبزی و شادابی کے سات سال گزرنے کے بعد قحط آگیا یہ قحط صرف مصر ہی میں نہ تھا آس پاس کے علاقوں میں بھی تھا۔ ملک شام بھی مصر کے ساتھ ملتا ہے یہاں بھی قحط تھا اور غلے کی ضرورت تھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والد اور بھائی سر زمین فلسطین میں رہتے تھے جو شام کا ایک حصہ ہے ان لوگوں کو بھی علم ہوا کہ مصر میں غلہ ملتا ہے اور حکومت کی طرف سے دیا جا رہا ہے لیکن حکومت کا یہ دینا مفت میں نہیں ہے غلہ حاصل کرنے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–68
یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت
قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون
اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
51:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے۔ یوں ہم نے یوسف کو قید خانے سے نکال کر حکومت پر متمکن فرمایا اور سارا ملک مصر ان کے تصرف میں دے دیا کہ وہ جہاں چاہیں جائیں اور جہاں چاہیں رہیں۔ ہم اپنے مخلص بندوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں اور ان کے صبر کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ ” وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَۃِ الخ “ یہ تو دنیا میں جزاء ہے اور آخرت کی جزاء اس سے کہیں زیادہ اور اعلیٰ وارفع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
ربط آیات
یوسف (علیہ السلام) کے مطالبے پر بادشاہ وقت نے ان تمام عورتوں کو جمع کیا جو زلیخا کی دعوت میں شریک تھیں اور جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بادشاہ نے ان سے یوسف (علیہ السلام) کے کردار کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بالاتفاق آپ کی طہارت اور پاکیزگی کا اقرار کیا۔ عزیز مصر کی بیوی یوسف (علیہ السلام) کو پھسلانے کی اصل ذمہ دار تھی۔ اس نے بھی صریح الفاظ میں آپ کو راستباز اور نیک انسان تسلیم کیا اور خود اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل ‘ تقوی اور پرہیز گار ی سے تو بادشاہ تعبیر خواب کی وجہ سے ہی گرویدہ ہوچکا تھا ‘ اب جب کہ ان عورتوں نے بھی آپ کی تعریف کی تو بادشاہ پر…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ 0ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْہَا حَيْثُ يَشَاۗءُ 0ۭ نُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَاۗءُ وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ 56
مكن
المَكَان عند أهل اللّغة : الموضع الحاوي للشیء، قال : وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ [ الأعراف/ 10] وقوله : ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ
[ التکوير/ 20] أي : متمکّن ذي قدر ومنزلة . ومَكِنَات الطّيرِ ومَكُنَاتها :
مقارّه، والمَكْن : بيض الضّبّ ، وبَيْضٌ مَكْنُونٌ [ الصافات/ 49] . قال الخلیل المکان مفعل من الکون، ولکثرته في الکلام أجري مجری فعال «فقیل : تمكّن وتمسکن، نحو : تمنزل .
( م ک ن ) المکان
اہل لغت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
2 ؎ حساب کتاب سے بھی واقف ہوں یا یہ کہ حفاظت کے طریقے خوب جانتا ہوں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ج یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآئُ ط نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآئُ وَلاَنُضِیْعُ اَجْرَالْمُحْسِنِیْنَ ۔ وَلَاَجْرُالْاٰخِرَۃِ خَیْرٌلِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 56، 57)
(اور اس طرح ہم نے اس سرزمین میں یوسف ( علیہ السلام) کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ وہ اس میں جہاں چاہے متمکن ہو۔ ہم اپنے فضل سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں۔ اور ہم خوبکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔ اور آخرت کا اجر کہیں بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور تقویٰ پر قائم رہے۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کلی اقتدار
حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یوسف (علیہ السلام) کا جیل سے رہا ہو کر وزارت خزانہ تک پہنچنا اللہ تعالیٰ کے کرم کا نتیجہ تھا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اپنے طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ختم کرنے یا ہمیشہ کے لیے کسی کا محتاج یا غلام رہنے کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ لیکن درحقیقت ان سے یہ کام اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے کروایا تھا۔ کیونکہ اگر یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں نہ پھینکتے مار ڈالتے یا حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے ماں باپ کے پاس کنعان میں ہی رہتے تو وہ مصر کے بادشاہ کس طرح بن سکتے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی منشا اور اس کی تقدیر کا نتیجہ تھا کہ بھائیوں نے قتل کرنے کے بجائے کنویں میں پھینکا۔…
Read the full tafseer →انتقالِ اقتدار اور عدل و مساوات یوسف۔ :
56: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) اس ظاہر اقتدار و غلبہ کی طرح مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ (ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو زمین میں اقتدار بخشا) ارض سے ارض مصر مراد ہے۔ یہ 40×40 فرسخ تھی ( یہ اندازہ درست معلوم نہیں ہوتا) التمکین قدرت اور اختیار دینا۔ یَتَبَوَّاُ مِنْھَا حَیْثُ یَشَآ ئُ (آپ جس جگہ چاہیں رہیں) جس مقام کو منزل بنائیں غلبہ کی وجہ سے ان کے لئے کوئی رکاوٹ نہ تھی اور وہ سارا علاقہ آپ کی حکومت میں داخل تھا۔
قراءت : مکی نے نشاء نون سے پڑھا ہے۔ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا (ہم اپنی رحمت پہنچاتے ہیں) دنیا میں بادشاہی والا عطیہ اپنی طرف سے دیتے اور غناء…
Read the full tafseer →تفسیر : 56۔” وکذالک مکنا لیوسف فی الارض “ یعنی مصر کی زمین کا ان کو مالک بنایا اور جو چاہے اس میں کرتے ہیں ۔ صرف ابن کثیر نے (نشائ) نون کے ساتھ پڑھایا ہے اللہ تعالیٰ کے قول یتبوا پر لوٹاتے ہوئے ( نصیب برحمتا) اپنی نعمت کے ساتھ ، یتبواء ٹھہرتے ہیں جہاں منھا حیث یشاء نصیب برحمتنا من نشاء ولا نضیع اجر المحسنین “ ابن عباس ؓ اور وہب (رح) فرماتے ہیں کہ صبر کرنے مرد مراد ہیں ۔ مجاہد اور ان کے علاوہ لوگ فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کو برابر اسلام کی دعوت دیتے رے یہاں تک کہ وہ اور بہت سے لوگ اسلام لے آئے ، تو دنیا کے معاملہ میں ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
56۔ 57۔ بعض مفسروں نے یہاں یہ بات بیان کی ہے کہ شروع میں جو یہود نے آنحضرت ﷺ سے یہ بات پوچھی تھی کہ یعقوب (علیہ السلام) ملک شام میں رہتے تھے ان کی اولاد مصر میں کس طرح پہنچی اور وہاں کے ملکوں پر قابض ہوئے یہ اسی کے جواب میں اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ ہم نے اس طرح پر یوسف (علیہ السلام) کو پہلے کنوئیں سے نجات دی اور پھر عزیز مصر کے قبضہ میں آکر قید ہوئے وہاں سے اس طرح پر انہیں رہائی دلا کر سارے ملک مصر پر قابض کردیا تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن جریر میں جو سلف کے قول ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ریان بن ولید بادشاہ مصر سے یوسف (علیہ السلام) نے پیداوار کا خزانچی ہونے کی درخواست کی تو اس نے…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور اسی طرح “ یعنی ان مذکورہ اسباب اور مقدمات کے ذریعے سے (آیت) ” ہم نے یوسف کو جگہ دی اس ملک میں، وہ اس میں جہاں چاہتے، جگہ پکڑتے “ وہ نہایت آسودہ زندگی، بیشمار نعمتوں اور بےپناہ جاہ و جلال میں رہنے لگے۔ (آیت) ” ہم اپنی رحمت جس کو چاہتے ہیں، پہنچا دیتے ہیں “ یوسف (علیہ السلام) پر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی جو اس نے ان کے لئے مقدر کر رکھی تھی جو صرف دنیاوی نعمتوں پر ہی مشتمل نہ تھی۔
(آیت) ” اور ہم محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتے “ اور یوسف (علیہ السلام) کا شمار تو سادات محسنین میں ہوتا ہے۔ ان کے لئے دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت میں بھی بھلائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
قول باری ہے وقال الملک ائتونی بہ استخلصہ لنفی فلماکلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امین۔ بادشاہ نے کہا : ” انہیں میرے پاس لائو تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کرلوں “ جب یوسف نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا :” اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسہ ہے “ چونکہ یہ بادشاہ عقل اور سمجھ رکھتا تھا اس لیے وہ حضرت یوسف علیہ کے حسن و جمال اور پر وقار شخصیت سے اس طرح متاثر نہیں ہوا جس طرح عورتیں اپنی کم عقلی اور ناسمجھی کی بنا پر ان سے متاثر ہوگئی تھیں ، نیز ان عورتوں نے صرف آپ کے ظاہری حسن و جمال کو دیکھا تھا آپ کی عقل مندی اور سمجھ داری کی خوبیوں میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی…
Read the full tafseer →97۔ اقتدار دینا اور چھیننا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں :
یعنی سرزمین مصر میں جو کہ اس دور کی سب سے بڑی ترقی یافتہ اور متمدن سرزمین تھی۔ سو اس سے واضح ہوگیا کہ اقتدار دینا اور چھیننا اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ (مالک الملک تؤتی الملک من تشآء وتنزع الملک ممن تشآئ) سو بڑے احمق اور بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اس مالک مطلق سے منہ موڑ کر عزت و اقتدار اس کی ضعیف مخلوق بلکہ فرضی اور وہمی چیزوں سے مانگتے اور اس کے لیے طرح طرح کی ذلتیں اٹھاتے اور شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین ولکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
آیات 50 تا 57
اسرار و معارف
بہتان والزام سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیئے
چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس آدمی کو ہمارے روبرولایا جائے کہ ہم خود اس سے تعبیر سننا چاہتے ہیں ۔ شاہی ہر کارہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا حکم لے کر حاضر ہوا اور بادشاہ کے طلب فرمانے کی خبردی تو آپ نے فرمایا کہ بادشاہ سے کہو پہلے میرے معاملہ کی تحقیق کرے اور درباری امراء کی ان خواتین سے اسفسار کیا جائے جنہوں نے ہاتھ کاٹ لئے تھے کہ وہ سارے معاملہ سے بخوبی واقف ہیں ۔ جو کچھ ہوا تھا زلیخا نے بھی ان کے سامنے اقرار کرلیا تھا اور جو کچھ انھوں نے سوچا تھا یا سفارش کی تھی یا مجھے دیکھنے اور پانے کا حیلہ کیا تھا میرا پروردگار…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو سلطنتِ مصر میں ہر قسم کے اختیارات حاصل تھا اور وہ ایک کافر بادشاہ کے وزیر اور ملازم نہ تھے۔ ہوسکتا ہے کہ بادشاہ (ریان بن ولید) نے ازخود ہی زمام حکومت ان کے سپرد کردی ہو۔ بعض روایات میں ہے عزیز مصر کی بیوی سے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی شادی ہوگئی تھی۔ مگر محدثین (رح) کے نزدیک یہ روایات قابل اعتبار نہیں ہیں۔ (روح) ۔
7 ۔ یعنی دنیا و آخرت دونوں میں انہیں اپنے نیک اعمال کا بدلہ ملتا ہے۔ اس آیت کے سلسلے میں شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں، یہ جواب ہوا ان کے سوالوں کا کہ اولادِ ابراہیم ( علیہ السلام) اس طرح شام سے مصر آئی۔ اور بیان ہوا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(12:56) مکنا۔ ما ضی جمع متکلم۔ تمکین (تفعیل) مصدر۔ ہم نے اس کو جمائو عطا کیا با اقتدار بنایا۔
یتبوأ۔ وہ اترے ۔ فروکش ہو رہے۔ تبوء (تفعل) مصدر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ب و ء مادہ کے حروف ہیں۔
منہا۔ میں ھا ضمیر کا مرجع (الارض (ارض مصر) ہے۔
نصیب۔ مضارع جمع متکلم (افعال) اصاب یصیب اصابۃ۔ ہم سرفراز کرتے ہیں ہم پہنچاتے ہیں۔ صوب مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
لغات القرآن آیت نمبر 54 تا 57
(کلم کلام کیا، بات کی) ( لدینا ہمارے پاس ) (مکین معزز، باعزت ) (امین معتبر، ایماندار، امانت دار) ( اجعلنی مجھے بنا دے ) (خزائن خزانے ) (حفیظ حفاظت کرنے والا، محافظ ) (علیم بہت جاننے والا) ( مکنا ہم نے ٹھکانا دیا، جما دیا ) (یتنبوء وہ ٹھکانا بتاتا ہے، با اختیار بناتا ہے) ( نصیب ہم پہنچاتے ہیں) ( لانضیع ہم ضائع نہیں کرتے) ( اجر اجر خیر زیادہ)
تشریح آیت نمبر 54 تا 57
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کی زندگی کے اس پہلو کو نمایاں فرمایا ہے جہاں سے ان کی دنیاوی زندگی کا عروج شروع ہوتا ہے۔ یہ اس واقعہ کا اہم ترین پہلو بھی ہے مگر اس بات کو بھی ذہن میں رکھ لیجیے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
زلیخا سے شادی
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بادشاہ نے پیداوار کا خزانچی یعنی عزیز مصر کی جگہ مقرر کیا اور تمام ملکی انتظام ان کے اختیار میں دے دیا اور عزیز مصر کو معزول کردیا۔ عزیز مصر اسی رات کو فوت ہوگیا کہ اس کے بعد زلیخا اس کی بیوی کو یوسف (علیہ السلام) کے نکاح میں دے دیا اور وہ باکرہ تھی کیونکہ عزیز مصر نامرد تھا۔ زلیخا سے یوسف (علیہ السلام) کے دو لڑکے پیدا ہوئے۔ جب یوسف (علیہ السلام) وزارت پر مقرر ہوگئے تو بار بار بادشاہ مصر کو اسلام کی دعوت دیتے رہے آخر وہ مسلمان ہوئے۔ اس کو اللہ تعال نے فرمایا کہ : ہم جس پر چاہیں اس پر انعام و احسان کرتے ہیں اور جو لوگ نیکوکار ہیں ان کا اجر اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–56
[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
نفس امارہ کی شورشیں !
(ف 1) نفس کا اطلاق قرآن میں کئی معنوں میں ہوا ہے نفس کے معنی خون تن کے اور عین کے ہیں اور روح یا جان کے بھی ۔ تاکید کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے ،
یہاں سے مراد ترغیبات کا وہ مرکزی شعور ہے جو گناہوں کی تحریک پیدا کرتا ہے اور برائی کے لیے گوناگوں جواز کے پہلو تلاش کرتا ہے
یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ نفس بشری کا تقاضا تو یہی تھا کہ میں دعوت معصیت کو قبول کرتا اور بالخصوص ان حالات میں جب کہ خود عزیزہ مصر اظہار تعشق کر رہی تھی ، مگر نفس نبوی نے روکا پیغمبرانہ عقاف و عصمت آڑے آئی اور میں فسق و فجور کے دام تزویر سے صاف بچ کر نکل گیا
اب حضرت یوسف (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →56 ۔ اور ہم نے اس طرح یوسف (علیہ السلام) کو سر زمین مصر میں با اختیار اور ذی اقتدار کردیا کہ اس میں جہاں چاہیں سکونت پذیر ہوں اور جہاں چاہیں رہیں سہیں ہم جس کو چاہتے ہیں اپنی رحمت و عنایت اور توجیہات خصوصی سے بہرہ مند کرتے ہیں اور ہم نیک روش اختیار کرنے والوں کے اجر وثواب کو ضائع نہیں کیا کرتے ۔ یعنی اگرچہ یوسف (علیہ السلام) کا لقب تو عزیز ہی رہا لیکن ریان بن ولید برائے نام بادشاہ تھا ملک کا تمام انتظام و انصرام حضرت یوسف (علیہ السلام) ہی کے ہاتھ میں تھا ریان نے اسلام قبول کیا یا نہیں اس کے متعلق کوئی قطعی بات نہیں کہی جاسکتی ۔ حضرت یوسف بادشاہوں کی طرح جہاں چاہتے جاتے اور رہتے۔ حضرت حق نیک…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی یا تو وہ وقت تھا کہ کنوئیں میں محبوس تھے پھر عزیز کی ماتحتی میں مقید رہے پھر قیدخانہ میں بند رہے اور یا آج یہ خود مختاری اور آزادی ہوئی۔
5۔ یعنی دنیا میں بھی نیکی کا اجرملتا ہے کہ حیات طیبہ عطا فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →یوسف کے قدم مصر میں اس طرح جما دیئے کہ بنی اسرائیل کا مکمل ورود مصر ہو گیا
۔ 68 ” ’ یکھو اس طرح ہم نے سر زمین مصر میں یوسف کے قدم جما دیئے “ اور عملاً انہیں ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ اس واقعہ کے سننے والوں کی وتجہ اپنی شان کریمہ اور بندہ نوازی کی طرف مبذول کرا رہا ہے کہ دیکھو کس طرح ہم نے یوسف کو سرفراز فرمایا۔ ‘ کہاں سے اٹھایا اور کہاں پہنچایا ؟ کنعان کے جنگل کے ایک غیر آباد کنوئیں کی تاریکی سے نکالا اور مصر جیسے متمدن اور ترقی یافتہ ملک کے سارے خزانوں کا مالک بنا دیا ۔ دروں کو اٹھانا اور ان کو رشک خورشید بنا دینا میرا ہی کام ہے ، کوئی انسان یہ کام نہیں کرسکتا اور نہ ہی…
Read the full tafseer →The Objective of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) was to Establish the Din of Allah.
Said in verse 55 was:
وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ ۚ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَاءُ ۖ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
And thus We gave Yusuf (علیہ السلام) power in the land. He could settle there wherever he wished. We extend Our mercy to whomsoever We will, and We do not waste the reward of those who are good in deeds.
For details, it can be said that, after an experimental period of one year, the king of Egypt arranged a special celebration in his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
48. This is to show that the whole land of Egypt was under his complete control, as if it belonged to him and he could claim any piece of it as his, and there was no piece of it that could be withheld from him. The early commentators have also made the same comment on this verse. For instance, Allamah Ibn Jarir Tabari, on the authority of Ibn Zaid, says that this verse means: We made Joseph the owner of all those things that were in Egypt, and in this part of the world he could do whatever he liked and wherever he liked for he had been given complete authority over this land. So much so that…
Read the full tafseer →