Yusuf 12:54

Yusuf · from ayah 54

12:54

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ ۚ— فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ ۟وَقَالَ الۡمَلِكُ ائۡتُوۡنِىۡ بِهٖۤ اَسۡتَخۡلِصۡهُ لِنَفۡسِىۡ‌ۚ‌ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الۡيَوۡمَ لَدَيۡنَا مَكِيۡنٌ اَمِيۡنٌ

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the king said, "Bring him to me; I will appoint him exclusively for myself." And when he spoke to him, he said, "Indeed, you are today established [in position] and trusted."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 7 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:54

بادشاہ نے کہا "اُنہیں میرے پاس لاؤ تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کر لوں" جب یوسفؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا "اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

بادشاه نے کہا اسے میرے پاس لاؤ کہ میں اسے اپنے خاص کاموں کے لئے مقرر کر لوں، پھر جب اس سے بات چیت کی تو کہنے لگا کہ آپ ہمارے ہاں آج سے ذی عزت اور امانت دار ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور بادشاہ نے کہا کہ : اس کو میرے پاس لے آؤ، میں اسے خالص اپنا (معاون) بناؤں گا۔ چنانچہ جب (یوسف بادشاہ کے پاس آگئے اور) بادشاہ نے ان سے باتیں کیں تو اس نے کہا : آج سے ہمارے پاس تمہارا بڑا مرتبہ ہوگا، اور تم پر پورا بھروسہ کیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بادشاہ بولا انہيں میرے پاس لے آؤ کہ میں انہیں اپنے لیے چن لوں پھر جب اس سے بات کی کہا بیشک آج آپ ہمارے یہاں معزز معتمد ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بادشاہ نے کہا: انہیں میرے پاس لے آؤ کہ میں انہیں اپنے لئے (مشیرِ) خاص کر لوں، سو جب بادشاہ نے آپ سے (بالمشافہ) گفتگو کی (تو نہایت متاثر ہوا اور) کہنے لگا: (اے یوسف!) بیشک آپ آج سے ہمارے ہاں مقتدر (اور) معتمد ہیں (یعنی آپ کو اقتدار میں شریک کر لیا گیا ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ کہ میں اسے اپنے لیے خاص کرلوں، پھر جب اس نے اس سے بات کی تو کہا بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانتدار ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بادشاہ نے (اپنے قاصد سے) کہا : اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنے لیے مخصوص کرنا چاہتا ہوں (یوسف آگئے) تو بادشاہ نے ان سے بات چیت کی اور کہا : آج سے تم ہمارے قابل اعتماد مقرب ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بادشاہ نے کہا، اس کو میرے پاس لاؤ، میں اس کو اپنا معتمد خاص بناؤں گا۔ پھر جب اس سے بات چیت کی تو کہا اب تم ہمارے ہاں باقتدار اور معتمد ہوئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(یہ سن کر) بادشاہ نے کہا کہ ان کو میرے پاس لے آؤ، تاکہ میں ان کو خالص اپنے لیے (مقرر) کرلوں، پھر جب بادشاہ نے آپ سے بات چیت کی، تو اس نے کہا کہ اب آپ ہمارے یہاں بڑے معزز معتمد ہیں، ف

— مولانا اسحاق مدنی

اور بادشاہ نے کہا ان کو میرے پاس لاؤ میں ان کو خاص اپنے (کام کے) لئے رکھوں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی۔ تو ان سے کہا کہ تم آج سے ہمارے ہاں (ہر طرح) معزز ہومعتبر ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور بادشاہ نے (اب فیصلہ کن انداز میں) کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا تو جب بادشاہ نے آپ سے بات چیت کی تو کہا کہ آج کے دن سے آپ ہمارے نزدیک بڑے با عزت اور معتبر انسان ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لائو میں اسے اپنا مصاحب خاص بنائوں گا، پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا، کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The king said: "Bring him to me. I will select him exclusively for my own service." So when Joseph spoke to him the king said: "You are now one of established position, fully-trusted by us."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The king said, :Bring him to me, and I shall employ him purely for myself. So, when he (the king) talked to him, he said (to Yusuf), :Today you are with us well-placed, fully trusted.

— Muhammad Taqi Usmani

The king said, :Bring him to me, and I shall employ him purely for myself. So, when he (the king) talked to him, he said (to Yusuf), :Today you are with us well-placed, fully trusted.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the king said: "Bring him to me that I may attach him to my person." Then, when he spoke to him, he said: "Verily, this day, you are with us high in rank and fully trusted."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the king said: Bring him unto me that I may attach him to my person. And when he had talked with him he said: Lo! thou art to-day in our presence established and trusted.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the king said, "Bring him to me; I will appoint him exclusively for myself." And when he spoke to him, he said, "Indeed, you are today established [in position] and trusted."

— Saheeh International

The King ordered his men to bring Joseph before him. He wanted to grant him a high office. The King said to Joseph, "From now on you will be an honored and trusted person among us".

— Muhammad Sarwar

And the king said: Bring him to me, I will choose him for myself. So when he had spoken with him, he said: Surely you are in our presence today an honorable, a faithful one.

— Muhammad Habib Shakir

And the king said: bring him unto me I will single him out for myself Then when he spake unto him, he said: verily thou art to-day with us placed high, intrusted.

— Abdul Majid Daryabadi

So the king said: "Bring him unto me; I will take him specially to serve about my own person." Therefore when he had spoken to him, he said: "Be assured this day, thou art, before our own presence, with rank firmly established, and fidelity fully proved!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 54–55

جب بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی کھل گئی تو خوش ہو کر کہا کہ انہیں میرے پاس بلا لاؤ کہ میں انہیں اپنے خاص مشیروں میں کرلوں۔ چانچہ آپ تشریف لائے۔ جب وہ آپ سے ملا، آپ کی صورت دیکھی۔ آپ کی باتیں سنیں، آپ کے اخلاق دیکھے تو دل سے گرویدہ ہوگیا اور بےساختہ اس کی زبان سے نکل گیا کہ آج سے آپ ہمارے ہاں معزز اور معتبر ہیں۔ اس وقت آپ نے ایک خدمت اپنے لئے پسند فرمائی اور اس کی اہلیت ظاہر کی۔ انسان کو یہ جائز بھی ہے کہ جب وہ انجان لوگوں میں ہو تو اپنی قابلیت بوقت ضرورت بیان کر دے۔ اس خواب کی بنا پر جس کی تعبیر آپ نے دی تھی۔ آپ نے یہی آرزو کی کہ زمین کی پیداوار غلہ وغیرہ جو جمع کیا جاتا ہے اس پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 53–54

سورة یُوْسُف 47 یہ بادشاہ کی طرف سے گویا ایک کھلا اشارہ تھا کہ آپ کو ہر ذمہ داری کا منصب سونپا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ الخ یعنی بادشاہ مصر نے جب یوسف ؑ کے فرمانے کے مطابق عورتوں سے واقعہ کی تحقیق فرمائی اور زلیخا اور دوسری سب عورتوں نے حقیقت واقعہ کا اقرار کرلیا تو بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف ؑ کو میرے پاس لایا جائے تاکہ میں ان کو اپنا مشیر خاص بنا لوں حکم کے مطابق یوسف ؑ کو اعزاز کے ساتھ جیل خانہ سے دربار میں لایا گیا اور باہمی گفتگو سے یوسف ؑ کی صلاحیتوں کا پورا اندازہ ہوگیا تو بادشاہ نے کہا کہ آپ آج ہمارے نزدیک بڑے معزز اور معتمد ہیں امام بغوی ؒ نے نقل کیا ہے کہ جب بادشاہ کا قاصد جیل میں یوسف ؑ کے پاس دوبارہ پہنچا اور بادشاہ کی دعوت پہنچائی تو یوسف ؑ نے سب جیل والوں کے لئے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 54 تا 101:۔ حضرت یوسف کی زندگی کا نیا دور : اب آگے حضرت یوسف ؑ کی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف جیل سے چھوٹتے ہیں بلکہ عملاً پورے مصر کی حکومت ان کے انگوٹھے کے نیچے آجاتی ہے۔ سات سالہ قحط کے مقابلہ کے لیے وہ حالات کو اس خوبی سے سنبھالتے ہیں کہ نہ صرف ملک کی غذائی ضررویات پوری کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں بلکہ پاس پڑوس کے ملکوں کی مشکلات حل کرنے میں بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔ اپنے جن بھائیوں کی عنایت سے وہ عزیز مصر کی غلامی اور بالآخر جیل تک پہنچے تھے، اس دور اقتدار میں وہ بھی ان کی خدمت میں غلّہ لینے کے لیے حاضر ہوتے ہیں اگرچہ انہیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ یہ ان کا وہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

54۔ 1 جب بادشاہ ریان بن ولید یوسف ؑ کے علم و فضل کے ساتھ ان کے کردار کی رفعت اور پاک دامنی بھی واضح ہوگئی، تو اسے حکم دیا کہ انھیں میرے سامنے پیش کرو، میں انھیں اپنے لئے منتخب کرنا یعنی اپنا مصاحب اور مشیر خاص بنانا چاہتا ہوں۔ 54۔ 2 مَکِیْنُ مرتبہ والا، آمِین رموز مملکت کا راز دان۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

34: بادشاہ نے حضرت یوسف ؑ سے جو باتیں کیں، ان کی تفصیل بعض روایات میں اس طرح آئی ہے کہ اس نے پہلے تو خواب کی تعبیر خود حضرت یوسف ؑ سے سننے کی خواہش ظاہر کی، اس موقع پر حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ کے خواب کی کچھ ایسی تفصیلات اس سے بیان کیں جو بادشاہ نے اب تک کسی اور کو نہیں بتائی تھیں، اس پر وہ نہایت حیرت زدہ ہوا، پھر حضرت یوسف ؑ نے قحط کے سالوں کا انتظام کرنے کے لئے بھی بڑی مفید تجویزیں پیش کیں، جو اسے بہت پسند آئیں اور اسے آپ کی نیکی کا اطمینان ہوگیا، اس موقع پر اس نے آپ سے کہا کہ آپ پر چونکہ ہمیں پورا بھروسہ ہوچکا ہے، اس لئے آپ کا شمار حکومت کے معتمد افراد میں ہوگا، نیز جب حضرت یوسف ؑ نے قحط کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 54–55

قال اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم (12 : 55) یوسف (علیہ السلام) نے کہا “ ملک کے خزانے میرے پیرو کیجئے ، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں ”۔ آئندہ کی مہم کا خلاصہ یہ ہے کہ سات سال سرسبزی کے ہیں اور ان میں اس بات کی ضرورت ہے کہ پیداوار کے ایک ۔۔۔۔۔ بچایا جائے ، امور مملکت کو اچھے طریقے سے چلایا جائے ، مملکت کے تمام شعبوں کو درست کیا جائے اور خوشحالی کے دور میں ایسی پلاننگ کی جائے کہ بدحالی اور خشک سالی میں اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اسی لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایسی ہی صلاحیتوں کا ذکر کیا اور جو ایسے حالات کے لئے ضروری تھیں یعنی حفیظ وعلیم۔ اور مصر اور تمام علاقائی ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی میرا مشیر خاص رہے گا۔ 3 کچھ پہلے سے معتقد ہوچکا تھا۔ بالمشافہ باتیں سن کر بالکل ہی گرویدہ ہوگیا اور حکم دے دیا کہ آج سے آپ ہمارے پاس نہایت معزز و معتبر ہو کر رہیں گے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اب عزیز کا علاقہ موقوف کیا اپنی صحبت میں رکھا۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ آج سے آپ کا شمار ہمارے خاص مقربین میں ہوگا اور اس لحاظ سے مملکت کے اندر آپ کا ایک خاص مقام ہوگا۔ آپ کی امانت و دیانت پر ہمیں پورا پورا بھروسا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

53 شاہ مصر کی یوسف (علیہ السلام) کو پیش کش :۔ بادشاہ سیدنا یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت سے بہت متاثر ہوچکا تھا۔ آپ کی قید سے پہلے آپ کی پاکیزہ سیرت کا چرچا اس نے بھی سنا تھا۔ اس کے ساقی نے آپ کی بہت تعریف کی تھی۔ خواب کی تعبیر کے سلسلہ میں وہ آپ کے علم و فضل اور تدبر سے بہت مرعوب ہوا تھا اور اب موجودہ قضیہ میں آپ کی مکمل بریت نے اس کے دل میں آپ کی قدر و منزلت اور بھی بڑھا دی تھی۔ لہذا اس نے اپنے قاصد کو حکم دیا کہ وہ یوسف کو بلا لائے اور ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ میں اسے اپنا مدار المہام بنانا چاہتا ہوں۔ پھر جب آپ بادشاہ کے پاس تشریف لے آئے اور آپس میں گفتگو ہوئی تو آخر میں بادشاہ نے آپ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

107۔ کہ یہ تو اپنی سیرت خاص اور کردار اعلی اور انتظامی اہلیت کے لحاظ سے سرکاری وشاہی مناصب کے لائق ہیں۔ یہ اب تک نج کی ملازمت میں کیسے پڑے رہ گئے) توریت میں ہے :۔” یہ تعبیر فرعون کی نگاہ میں اور اس کے سب نوکروں کی نظر میں اچھی معلوم ہوئی، فرعون نے اپنے نوکروں کو کہا کیا ہم ایسا جیسا یہ مرد ہے کہ جس میں خدا کی روح ہے، پاسکتے ہیں ؟ “ (پیدائش 41: 38) 108۔ (اور اس گفتگو سے بادشاہ پر آپ (علیہ السلام) کے مزید کمالات و فضائل منکشف ہوئے) 109۔ (ان اونچے اور بھروسہ کے عہدہ ومنصب کے لائق) توریت میں ہے :۔” اور فرعون نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا از بس کہ خدا نے اس سبب میں تجھے بینائی دی ہے۔ سو کوئی تجھ سا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 53–57

آیت نمبر 53 تا 57 ترجمہ : پھر اللہ کیلئے تواضح کی اور پھر (یوسف (علیہ السلام) نے) کہا میں اپنے نفس کی لغزشوں سے پاکیزگی بیان نہیں کرتا جنس نفس تو بلاشبہ کثرت سے برائی کا حکم کرنے والا ہی ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی رحم کرے تو اس کو بچا لیتا ہے ما بمعنی من ہے، بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ تاکہ میں اسے اپنے لئے مخصوص کرلوں، یعنی میں اس کو بغیر کسی شریک کے حاصل کرلوں، چناچہ قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا بادشاہ کا حکم مانو، تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اٹھے اور رفقاء زندان کو رخصت کیا اور انکو دعاء دی، پھر غسل کیا اور عمدہ لباس پہنا اور بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، چناچہ جب آپس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال الملک ائتوني بہ استخلصہ لنفسي اور بادشاہ نے (اہل دربار سے) کہا : ان کو میرے پاس لے آؤ ‘ میں ان کو خاص اپنے (کام کے) لئے رکھوں گا۔ جب حضرت یوسف کی بےگناہی بادشاہ پر ظاہر ہوگئی اور آپ کے علم و امانت کا مرتبہ بھی اس کو معلوم ہوگیا تو اس نے حضرت یوسف کو طلب کیا اور کہا : میں براہ راست اپنے لئے ان کو رکھنا چاہتا ہوں (یعنی عزیز مصر یا کسی اور کی ماتحتی میں رکھنا نہیں چاہتا۔ مترجم) حسب الحکم قاصد آپ کے پاس پہنچا اور کہا : چلئے ‘ بادشاہ نے طلب کیا ہے۔ عبدالحکم نے فتوح مصر میں بطریق کلبی بوساطت ابو صالح حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ قاصد نے حضرت یوسف کے پاس پہنچ کر گذارش کی : اب قید خانہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(54) یہ باتیں سن کر بادشاہ نے کہا کہ انکو (حضرت یوسف ؑ کو) میرے پاس لاؤ میں ان کو عزیز سے لے کر خاص اپنے کام کے لیے رکھوں گا، چناچہ لوگ ان کو بادشاہ کے پاس لائے اور بادشاہ کے سامنے پھر انہوں نے خواب کی تعبیر بیان کی، بادشاہ نے ان سے کہا تم میرے نزدیک آج سے بڑے معزز ومعتبر اور صاحب امانت ہو (بادشاہ کو انتظام قحط کی فکر ہوئی)

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِيْ : یہاں سے یوسف ؑ کی زندگی کا ایک اور دور شروع ہوتا ہے، جب غلامی و قید ختم ہوئی اور آزادی اور حکومت و سلطنت عطا ہوئی۔ ”اَسْتَخْلِصْهُ“ یہاں بادشاہ ”اُخْلِصْہُ“ بھی کہہ سکتا تھا، جیسا کہ (اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ) [ یوسف : 24 ] میں باب افعال استعمال ہوا ہے۔ ”اَسْتَخْلِصْهُ“ میں سین اور تاء مبالغہ کے لیے ہیں کہ ”میں اس کو زیادہ سے زیادہ اپنے لیے خاص کرلوں۔“ بادشاہ نے جب یوسف ؑ سے اپنے خواب کی صحیح تعبیر سنی، پھر بلانے کے باوجود کئی سال بےگناہ قید رہ کر بھی اپنی بےگناہی ثابت ہونے سے پہلے قید خانے سے نکلنے سے انکار دیکھا، پھر تمام متعلقہ خواتین حتیٰ کہ عزیز…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 54 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وقال الملک ائتونی بہٖ استخلصہ لنفسی جب بادشاہ کے سامنے آپ کی برأت ثابت ہوگئی، اس واقعہ میں آپ کی امانت متحقق ہوگئی اور وہ آپ کے صبر اور حوصلے کو بھی پہچان گیا تو اس کے نزدیک آپ کا مقام بڑھ گیا اور اسے آپ کی دوستی کی عمدگی کا یقین ہوگیا تو اس نے کہا : ائتونی بہٖ استخلصہ لنفسی بادشاہ کی گفتگو کو ملاحظہ کرو کہ جب آپ کا علم ثابت ہوا تو اس نے صرف ائتونی بہٖ کہا اور جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دوبارہ یہ معاملہ کیا تو اس نے ائتونی بہٖ استخلصہ لنفسی کہا۔ حضرت وہب بن منبہ سے روایت ہے انہوں نے کہا : جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بلایا گیا تو آپ دروازے پر کھڑے ہوگئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عزت و توقیر : 1:۔ ابن عبدالحکیم نے فتوح مصر میں الکلبی کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قاصد آیا اور ان سے کہا کہ جیل کے کپڑے اتار دو ۔ اور نئے کپڑے پہن لو، اور بادشاہ کی طرف چلو۔ یوسف (علیہ السلام) نے تمام قیدیوں کو بلالیا اور وہ اس دن تیس سال کے تھے۔ جب وہ بادشاہ کے پاس آئے تو اس نے ایک نوجوان لڑکے کو دیکھا اور کہا یہ نوجوان میرے خوابوں کی تعبیر کو جانتا ہے۔ اور بڑے بڑے جادوگر اور کاہن نہیں جانتے۔ اور ان کو اپنے آگے بٹھایا اور کہا خوف نہ کرو اور ان کو سونے کا ایک طوق پہنایا گیا اور ریشم کا لباس پہنایا اور ان کو ایک سواری دی جس میں زین سونے چاندی سے جڑی ہوئی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَالَ : اور کہا ] [الْمَلِكُ : اس بادشاہ نے ] [ ائْتُوْنِيْ : لائو میرے پاس ] [ بِهٖٓ: اس کو ] [ اَسْتَخْلِصْهُ : میں چن لوں گا اس کو [لِنَفْسِيْ : اپنے لئے ] [ فَلَمَا : پھر جب ] [كَلَّمَهٗ : اس نے بات کی ان (علیہ السلام) سے ] [قَالَ : تو اس نے کہا ] [انكَ : بیشک تو ] [الْيَوْمَ : آج سے ] [ لَدَيْنَا : ہمارے پاس ] [مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ: ایک امانتدار معزز ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–54

بادشاہ کا آپ کو دوبارہ طلب کرنا اور معاملہ کی صفائی کے بعد آپ کا بادشاہ کے پاس پہنچنا اور زمین کے خزانوں کا ذمہ دار بننا مصر کے بادشاہ نے اپنے خواب کی تعبیر سنتے ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس بلانے کی فرمائش کردی تھی اور اس مقصد کے لیے قاصد کو ان کے پاس جیل میں بھیج دیا تھا لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس وقت تک جیل سے نکلنا گوارہ نہ فرمایا جب تک عزیز کی بیوی کی لگائی ہوئی تہمت سے برأت نہ ہوجائے۔ اس لیے قاصد سے فرمایا کہ جاؤ اپنے آقا سے کہو کہ معاملہ کی تحقیق کرے اور عورتوں سے پوچھے کہ صحیح صورت حال کیا ہے ؟ بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت ظاہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–68

یوسف (علیہ السلام) کی شاہ مصر سے ملاقات اور بالمشافہ گفتگو اور تفویض اختیارات سلطنت قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔ وکانوا یتقون اور جب بادشاہ کو یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور نزاہت کا کامل یقین ہوگیا اور یوسف (علیہ السلام) کی اس شرط نے کہ عورتوں سے بھی دریافت کرلیا جائے بادشاہ کو اور بھی اطمینان دلا دیا کہ تحقیقات کی شرط وہی آدمی لگا سکتا ہے جس کو اپنی براءت کا کامل یقین ہو اور خواب کی تعبیر اور پھر اس کے متعلق تدبیر سن کر تو بادشاہ حیران ہی رہ گیا اور کہنے لگا اس شخص کو فورا میرے پاس لے کر آؤ ایسے شخص کو تو میں خالص اپنے لیے مقرر کروں گا اور عزیز مصر سے ان کا کوئی تعلق…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

48:۔ جب بادشاہ پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی اور عصمت واضح ہوگئی تو اب اس نے حکم دیا کہ انہیں فورًا میرے پاس لاؤ میں انہیں اپنا خاص مشیر بنا لوں اور اپنی مملکت کے اہم امور اس کے سپرد کردوں۔ ای اجعلہ خالصا لنفسی، افوض الیہ امر مملکتی (قرطبی ج 9 ص 212) ۔ 49:۔ جب دونوں مل کر بیٹھے اور کھل کر گفتگو ہوئی تو شاہ پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ایسی خوبیاں ظاہر ہوئیں جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھیں تو اس نے اعلان کیا کہ آج سے ہمارے یہاں آپ کو بہت بلند مرتبہ عطا کیا جاتا ہے اور حکومت کے تمام معاملات میں آپ معتمد علیہ اور امین ہیں۔ ذومکانۃ و منزلۃ امین مؤتمن علی کل شیء (مدارک ج 2 ص 174) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 54–57

ربط آیات یوسف (علیہ السلام) کے مطالبے پر بادشاہ وقت نے ان تمام عورتوں کو جمع کیا جو زلیخا کی دعوت میں شریک تھیں اور جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بادشاہ نے ان سے یوسف (علیہ السلام) کے کردار کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بالاتفاق آپ کی طہارت اور پاکیزگی کا اقرار کیا۔ عزیز مصر کی بیوی یوسف (علیہ السلام) کو پھسلانے کی اصل ذمہ دار تھی۔ اس نے بھی صریح الفاظ میں آپ کو راستباز اور نیک انسان تسلیم کیا اور خود اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل ‘ تقوی اور پرہیز گار ی سے تو بادشاہ تعبیر خواب کی وجہ سے ہی گرویدہ ہوچکا تھا ‘ اب جب کہ ان عورتوں نے بھی آپ کی تعریف کی تو بادشاہ پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِيْ۝ 0 ۚ فَلَمَّا كَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ۝ 54 ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–54

1 ؎ عورتوں کو بلا کر اصل مقدمہ کی تحقیق کرنی شروع کی۔ عورتوں نے یوسف کی پاکدامنی کی شہادت دی۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 54–55

وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ ج فَلَمَّا کَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔ (سورۃ یوسف : 54) (اور بادشاہ نے کہا، اس کو میرے پاس لائو، میں اس کو اپنا معتمدِ خاص بنائوں گا۔ پھر جب بادشاہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بات کی تھی تو کہا اب آپ ہمارے یہاں بااقتدار اور معتمد ہوئے۔ ) حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بادشاہ کی گرویدگی اور اس کا سبب بادشاہ کے خواب کی تعبیر ملک کا کوئی صاحب علم نہ بتا سکا تو شاہی ساقی کے کہنے پر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے تعبیر معلوم کی گئی۔ آپ ( علیہ السلام) نے بغیر کسی تامل کے نہ صرف خواب کی تعبیر بیان کی بلکہ آنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 54–55

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ارشاد کے بعد بادشاہ وقت کی پیش کش۔ قرآن مجید کے مقدس انداز اور الفاظ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مصر کے بادشاہ کی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ یہ پہلی ملاقات تھی۔ جس میں اس نے آپ سے درخواست کی کہ میں آپ کو اپنے کاموں کے لیے مخصوص کرنا چاہتا ہوں۔ آج کے بعد آپ ہمارے نزدیک نہایت ہی قابل اعتماد اور مقرب ہوں گے۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ مجھے ملک کے وسائل کی ذمہ داری سونپیں۔ یقیناً میں ان کے مصرف کو جانتا ہوں اور معاملات کی حفاظت کروں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ دعویٰ اس لیے کیا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ناصرف انھیں خوابوں کی تعبیر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شاہی حکم نامہ : 54: وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖٓ اَسْتَخْلِصْہُ لِنَفْسِیْ (بادشاہ نے کہا اس کو میرے پاس لے آئو۔ میں اس کو خاص کر لونگا اپنی ذات کیلئے) میں اس کو مقرر کرو نگا اپنی ذات کیلئے فَلَمَّا کََلَّمَہٗ (جب ان سے بادشاہ نے کلام کیا) اور اس چیز کا مشاہدہ کیا جو اس کے گمان میں بھی نہ تھی۔ توقَالَ (کہا) بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) کو اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ (تم آج سے ہمارے نزدیک معتبر و معزز ہو) تو مرتبے اور مقام والا ہے۔ اور ہر بات میں قابل اعتماد ہے۔ روایت تفسیر میں ہے کہ جب قاصد آیا تو اس کے ساتھ 70 ستردربان اور ستر سواریاں تھیں اور شاہی جوڑا بھی ساتھ تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

54۔” وقال الملک ائتونی بہ استخلصہ لنفسی “ میں برائے راست اس کو اپنے لئے رکھنا چاہتا ہوں ۔ ” فلما کلمہ “ اس میں اختصار ہے۔ اصل عبارت یہ ہے کہ قاصد آیا اور یوسف (علیہ السلام) کو کہا ، اب بادشاہ کے پاس چلیں ، روایت کیا گیا ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) وہاں سے کھڑے ہوئے تو قیدیوں کے لیے دعا کی اے اللہ ! ان پر نیک لوگوں کے دل نرم کردیں اور ان پر خبریں مخفی نہ رکھنا تو وہ لوگ ہر شہر میں لوگوں سے زیادہ خبریں جاننے والے ہوئے ۔ جب جیل سے نکلے تو اس کے دروازہ پر لکھا کہ یہ زندوں کی قبر ہے اور غموں کا گھر ہے اور سچوں کی تجربہ کار ہے اور دشمنوں کی خوشی کی جگہ ہے، پھر غسل کیا اور صاف ستھرے ہوئے اور اچھے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 54–55

54۔ 55۔ ریان بن ولید بادشاہ مصر پر جب یہ بات اچھی طرح ظاہر ہوگئی کہ یوسف (علیہ السلام) اس تہمت سے بالکل پاک وصاف ہیں اور علاوہ اس کے خواب کی تعبیر سن کر یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل سے بھی وہ اچھی طرح آگاہ ہوچکا تھا۔ اس لئے اس نے دربار میں کہا کہ قاصد جا کر انہیں میرے پاس لے آئے ہیں۔ انہیں اپنا خاص مصاحب بناؤں گا حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بادشاہ کے قاصد نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ تم یہ کپڑے قید خانہ کے اتار دو اور یہ اچھے اچھے کپڑے جو اپنے ساتھ تمہارے واسطے لے کر آیا ہوں پہن لو اور شاہی دربار میں چلو وہاں تمہاری طلب ہو رہی ہے اس وقت قید خانہ والوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

جب بادشاہ اور لوگوں کے پاس یوسف (علیہ السلام) کی کامل براءت متحقق ہوگئی ‘ تو بادشاہ نے ان کو بلا بھیجا اور کہا : (آیت) ” اسے میرے پاس لاؤ اور اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ “ یعنی میں اس کو مقربین خاص میں شامل کرلوں گا اسے میرے پاس نہایت عزت و احترام سے لے کر آؤ۔ (آیت) ” پس جب اس نے ان سے گفتگو کی “ یعنی جب بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) سے گفتگو کی تو اسے ان کی باتیں اچھی لگیں اور اس کے ہاں ان کی وقعت اور زیادہ ہوگئی، تو اس نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا : (آیت) ” بیشک آپ آج ہمارے ہاں “ (آیت) ” صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہیں۔ “ یعنی آپ ہمارے ہاں بلند مرتبہ کے مالک اور ہمارے رازوں کے امین ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 54–58

قول باری ہے وقال الملک ائتونی بہ استخلصہ لنفی فلماکلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امین۔ بادشاہ نے کہا : ” انہیں میرے پاس لائو تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کرلوں “ جب یوسف نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا :” اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسہ ہے “ چونکہ یہ بادشاہ عقل اور سمجھ رکھتا تھا اس لیے وہ حضرت یوسف علیہ کے حسن و جمال اور پر وقار شخصیت سے اس طرح متاثر نہیں ہوا جس طرح عورتیں اپنی کم عقلی اور ناسمجھی کی بنا پر ان سے متاثر ہوگئی تھیں ، نیز ان عورتوں نے صرف آپ کے ظاہری حسن و جمال کو دیکھا تھا آپ کی عقل مندی اور سمجھ داری کی خوبیوں میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

94۔ آزمائشوں کے بعدعنایات کے دور کا آغاز : سو یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر آزمائشوں کے بعدعنایات کے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ بادشاہ نے ان کو اپنے لیے چن لیا کہ بادشاہوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر عمدہ اور نفیس چیز کو اپنے لیے مخصوص کرلیتے ہیں۔ اور گوہر شناسی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایسے گوہر کو فورا اپنایا جائے۔ اور جوہر تابدار کا حق بھی یہی ہے کہ وہ تاج شاہی میں سجے۔ اس لیے بادشاہ کو جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت اور آپ کے کمالات کے بارے میں علم ہوا تو اس نے فورا آپ کے لیے بلاوا بھیجا۔ بہرکیف حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ابتلاء و آزمائش کا دوراب ختم ہوگیا اور اب عنایات ونوازشات کا زمانہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 50–57

آیات 50 تا 57 اسرار و معارف بہتان والزام سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیئے چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس آدمی کو ہمارے روبرولایا جائے کہ ہم خود اس سے تعبیر سننا چاہتے ہیں ۔ شاہی ہر کارہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا حکم لے کر حاضر ہوا اور بادشاہ کے طلب فرمانے کی خبردی تو آپ نے فرمایا کہ بادشاہ سے کہو پہلے میرے معاملہ کی تحقیق کرے اور درباری امراء کی ان خواتین سے اسفسار کیا جائے جنہوں نے ہاتھ کاٹ لئے تھے کہ وہ سارے معاملہ سے بخوبی واقف ہیں ۔ جو کچھ ہوا تھا زلیخا نے بھی ان کے سامنے اقرار کرلیا تھا اور جو کچھ انھوں نے سوچا تھا یا سفارش کی تھی یا مجھے دیکھنے اور پانے کا حیلہ کیا تھا میرا پروردگار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ یا حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے بادشاہ سے گفتگو کی۔ (روح) ۔ 4 ۔ اب سے عزیز کا علاقہ موقوف کیا اپنی صحبت میں رکھا (موضح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 54–55

(12:54) استخلصہ لنفسی۔ میں اس کو خالص کرلوں اپنی ذات کے لئے۔ یعنی میں اس کو ذاتی مشیر بنا لوں۔ استخلص استخلاص (استفعال) سے مضاری واحد متکلم کا صیغہ ہے۔ کلمہ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ہضمیر مفعول اس کا مرجع یوسف (علیہ السلام) ہے۔ اس (عزیز مصر) نے اس (حضرت یوسف) سے کلام کیا۔ گفتگو کی۔ مکین۔ صاحب ِ منزلت۔ معزز۔ محترم۔ مرتبہ والا۔ کون مصدر مکینصفت مشبہ ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 54–57

لغات القرآن آیت نمبر 54 تا 57 (کلم کلام کیا، بات کی) ( لدینا ہمارے پاس ) (مکین معزز، باعزت ) (امین معتبر، ایماندار، امانت دار) ( اجعلنی مجھے بنا دے ) (خزائن خزانے ) (حفیظ حفاظت کرنے والا، محافظ ) (علیم بہت جاننے والا) ( مکنا ہم نے ٹھکانا دیا، جما دیا ) (یتنبوء وہ ٹھکانا بتاتا ہے، با اختیار بناتا ہے) ( نصیب ہم پہنچاتے ہیں) ( لانضیع ہم ضائع نہیں کرتے) ( اجر اجر خیر زیادہ) تشریح آیت نمبر 54 تا 57 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کی زندگی کے اس پہلو کو نمایاں فرمایا ہے جہاں سے ان کی دنیاوی زندگی کا عروج شروع ہوتا ہے۔ یہ اس واقعہ کا اہم ترین پہلو بھی ہے مگر اس بات کو بھی ذہن میں رکھ لیجیے کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 54–55

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر کی جگہ مقرر کرنا جب بادشاہ مصر کے روبرو یوسف (علیہ السلام) کی یہ باتیں بیان ہوئیں تو اسے دیکھنے کی زیادہ آرزو ہوئی اور بولا '' میرے پاس اسے لاؤ میں اپنے ہی کاموں کے لئے اس کو خاص کرلوں گا '' پھر بادشاہ کے قاصد نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ : تم یہ کپڑے اتارو اور اچھے کپڑے شاہانہ جو میں تمہارے واسطے لے کر آیا ہوں پہن لو اور شاہی دربار میں چلو وہاں تمہاری طلب ہورہی ہے۔ جب یوسف (علیہ السلام) قید خانہ سے باہر چلے تو قیدی جو ان کے دیدار سے خوش تھے چیخیں مار کر رونے لگے، انہوں نے ان کی دلنوازی کرکے دعا فرمائی یوسف (علیہ السلام) کی عمر اس وقت بتیس برس کی تھی جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–56

[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–56

نفس امارہ کی شورشیں ! (ف 1) نفس کا اطلاق قرآن میں کئی معنوں میں ہوا ہے نفس کے معنی خون تن کے اور عین کے ہیں اور روح یا جان کے بھی ۔ تاکید کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے ، یہاں سے مراد ترغیبات کا وہ مرکزی شعور ہے جو گناہوں کی تحریک پیدا کرتا ہے اور برائی کے لیے گوناگوں جواز کے پہلو تلاش کرتا ہے یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ نفس بشری کا تقاضا تو یہی تھا کہ میں دعوت معصیت کو قبول کرتا اور بالخصوص ان حالات میں جب کہ خود عزیزہ مصر اظہار تعشق کر رہی تھی ، مگر نفس نبوی نے روکا پیغمبرانہ عقاف و عصمت آڑے آئی اور میں فسق و فجور کے دام تزویر سے صاف بچ کر نکل گیا اب حضرت یوسف (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

54 ۔ اور بادشاہ نے خواب کی تعبیر سننے اور مقدمہ کے حالات معلوم کرنے کے بعد حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو میرے پاس لائو میں خالص اس کو اپنے کام میں رکھوں گا اور میں اس کو اپنے کام میں مخصوص کرلوں گا ۔ پھر جب بادشاہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے باتیں کیں تو اور بھی زیادہ ان کی قابلیت کا معترف ہوگیا اور اس نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ تم آج سے ہمارے نزدیک بڑے معزز اور معتبر اور صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہو ۔ یعنی بادشاہ ان کی باتیں سن کر پہلے ہی ان سے خوش اعتقاد ہوگیا تھا اب گفتگو کے بعد تو اس کی رائے اور بھی پختہ ہوگئی اور اس نے آپ کو اپناخاص مقرب اور مشیر بنا لیا اور عزیز کے تعلق کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 53–54

ف 2۔ خلاف مطلب یہ ہوا کہ میری نزاہت وعصمت میرے نفس کا ذاتی کمال نہیں کہ تخلف محال ہو بلکہ رحمت و عنایت الہیہ کا اثر ہے اس لیے وہ امر بالسور نہیں کرتا ورنہ جیسے اوروں کے نفوس ہیں ویساہی میرا ہوتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یوسف کو قید کی کو ٹھڑی سے نکال کر شاہی ختت و تاج کے قریب لانے کا شاہی حکم ۔ 66 فرعون مصر پر جب حقیقت حال منکشف ہوئی تو اس کے قلب میں یوسف (علیہ السلام) کی عظمت و جلالت قدر کا سکہ بیٹھ گیا ، ساقی کا حسن عقیدت کے ساتھ یوسف کی عقل و دانش کا ذکر اپنی خواب کی بہترین اور دل لگتی تعبیر اور عصمت نفس کا یہ انکشاف یہ سب امور تھے جنہوں نے مل کر بادشاہ کی اس بزرگ اور پر عظمت ہستی کی دید اور اس سے استفادہ کا عاشق بنا دیا وہ کہنے لگا کہ ” یوسف کو میرے پاس لائو کہ اسے خاص اپنے لئے مقرر کروں۔ “ یوسف (علیہ السلام) اس رعنائی و دلبری ، اس عصمت و پاکیزگی اور اس عقل و دانش کے ساتھ زندان سے نکل کر بادشاہ کے پاس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the next verse (54) which begins with the words: وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ (Bring him to me ...), it has been said, when the king of Egypt investigated about the event, as requested by Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، Zulaikha and all other women concerned with it confessed to the truth. The king, then, ordered that Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) be brought to him so that he can appoint him as his personal adviser. According to the royal order, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) was brought with full honours from the prison to the royal court. When he got an idea of his full potential by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–54

47. It implied this: we have such a high opinion of you that we can safely entrust you with the highest office of responsibility in the country." 47a. As this verse has given rise to some important questions, let us consider these one by one. The first question is: Was it an application made by Prophet Joseph to the king for some post? In the light of the preceding explanatory notes, it would have become obvious that it was neither an application nor a request made by an ambitious person who had been on the lookout for an opportune moment for its submission, and no sooner did the king express…

Read the full tafseer →