Yusuf 12:53

Yusuf · from ayah 53

12:53

وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ ۚ— اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ ؕ— اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفۡسِىۡ‌ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىۡ ؕاِنَّ رَبِّىۡ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And I do not acquit myself. Indeed, the soul is a persistent enjoiner of evil, except those upon which my Lord has mercy. Indeed, my Lord is Forgiving and Merciful."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 7 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:53

میں کچھ اپنے نفس کی براءَت نہیں کر رہا ہوں، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو، بے شک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

میں اپنے نفس کی پاکیزگی بیان نہیں کرتا۔ بیشک نفس تو برائی پر ابھارنے واﻻ ہی ہے، مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی اپنا رحم کرے، یقیناً میرا پالنے واﻻ بڑی بخشش کرنے واﻻ اور بہت مہربانی فرمانے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے، ہاں میرا رب رحم فرمادے تو بات اور ہے (کہ اس صورت میں نفس کا کوئی داؤ نہیں چلتا) بیشک میرا رب بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور میں اپنے نفس کی برات (کا دعوٰی) نہیں کرتا، بیشک نفس تو برائی کا بہت ہی حکم دینے والا ہے سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرما دے۔ بیشک میرا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتی، بیشک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے۔ بیشک میرا رب بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور میں اپنے آپ کو پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس تو اکثر برائی پر اکساتا رہتا ہے مگر جس پر میرے پروردگار کی رحمت ہو۔ یقینا میرا رب معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور میں اپنے نفس کو بری نہیں قرار دیتا۔ نفس تو برائیوں ہی کی راہ سجھانے والا ہے مگر جب میرا رب رحم فرمائے۔ بیشک میرا رب بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور میں برات نہیں کرتا اپنے نفس کی کہ یقینا نفس کا تو کام ہی ہمیشہ برائی پر اکسانا ہے، مگر جس پر رحم فرما دے میرا رب، بیشک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور میں اپنے نفس کو بھی بری نہیں بتلاتا بیشک نفس تو بری ہی بات کا بتلانے والا ہے بجز اس (نفس) کے جس پر میرا پروردگار رحم کردے۔ بیشک میرا پروردگار بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتی یقیناً (انسان کا) نفس تو برائی ہی کا حکم دیتا ہے سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے۔ یقیناً میرا رب بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور میں اپنے آپ کو پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ انسان کو برائی ہی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

I do not seek to acquit myself; for surely one's self prompts one to evil except him to whom my Lord may show mercy. Verily my Lord is Ever Forgiving, Most Merciful."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And I do not absolve my inner self of blame. Surely, man‘s inner self often incites to evil, unless my Lord shows mercy. Certainly, my Lord is the Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

And I do not absolve my inner self of blame. Surely, man‘s inner self often incites to evil, unless my Lord shows mercy. Certainly, my Lord is the Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And I free not myself (from the blame). Verily, the self is inclined to evil, except when my Lord bestows His mercy (upon whom He wills). Verily, my Lord is Oft-Forgiving, Most Merciful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

I do not exculpate myself. Lo! the (human) soul enjoineth unto evil, save that whereon my Lord hath mercy. Lo! my Lord is Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And I do not acquit myself. Indeed, the soul is a persistent enjoiner of evil, except those upon which my Lord has mercy. Indeed, my Lord is Forgiving and Merciful."

— Saheeh International

"I do not think that I am free from weakness; all human souls are susceptible to evil except for those to whom my Lord has granted mercy. My Lord is certainly All-forgiving and All-merciful."

— Muhammad Sarwar

And I do not declare myself free, most surely (man's) self is wont to command (him to do) evil, except such as my Lord has had mercy on, surely my Lord is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Nor I acquit myself; verily the self ever urgeth to evil save that self on Whom my Lord hath mercy; verily My Lord is Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

"Nor do I absolve my own self (of blame): the (human) soul is certainly prone to evil, unless my Lord do bestow His Mercy: but surely my Lord is Oft-forgiving, Most Merciful."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

عزیز مصر کی بیوی کہہ رہی ہے کہ میں اپنی پاکیزگی بیان نہیں کر رہی اپنے آپ کو نہیں سراہتی۔ نفس انسانی تمناؤں اور بری باتوں کا مخزن ہے۔ اس میں ایسے جذبات اور شوق اچھلتے رہتے ہیں۔ وہ برائیوں پر ابھارتا رہتا ہے۔ اسی کے پھندے میں پھنس کر میں نے حضرت یوسف ؑ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ مگر جسے اللہ چاہے نفس کی برائی سے محفوظ رکھ لیتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ بخشش کرنا معافی دینا اس کی ابدی اور لازمی صفت ہے۔ یہ قول عزیز مصر کی عورت کا ہی ہے۔ یہی بات مشہور ہے اور زیادہ لائق ہے اور واقعہ کے بیان سے بھی زیادہ مناسب ہے۔ اور کلام کے معنی کے ساتھ بھی زیادہ موافق ہے۔ اما ماوردی ؒ نے اپنی تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 53–54

سورة یُوْسُف 47 یہ بادشاہ کی طرف سے گویا ایک کھلا اشارہ تھا کہ آپ کو ہر ذمہ داری کا منصب سونپا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور میں اپنے نفس کو (بھی بالذات) بری (اور پاک) نہیں بتلاتا (کیونکہ) نفس تو (ہر ایک کا) بری ہی بات بتلاتا ہے بجز اس (نفس) کے جس پر میرا رب رحم کرے (اور اس میں برائی کا مادہ نہ رکھے جیسا انبیاء (علیہم السلام) کے نفوس ہوتے ہیں مطمئنہ جن میں یوسف ؑ کا نفس بھی داخل ہے خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ میری نزہت و عصمت میرے نفس کا ذاتی کمال نہیں، بلکہ رحمت و عنایت الہیہ کا اثر ہے، اس لئے میرا نفس برائی کا حکم نہیں کرتا ورنہ جیسے اوروں کے نفوس ہیں ویسا ہی میرا ہوتا) بلکہ میرا رب بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے (یعنی اوپر جو نفس کی دو قسمیں معلوم ہوئیں امارہ اور مطمئنہ، سو امارہ اگر توبہ کرلے تو اس کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 52–53

52۔ 53:۔ ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَايَهْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ۔ وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ تحقیقات کے مطالبہ کی وجہ : اپنا دامن بےداغ ثابت ہوجانے کے بعد یہ حضرت یوسف نے اس بات کی وجہ بھی بتا دی کہ انہوں نے اس قضیہ کو ازسر نو چھیڑنا کیوں ضروری سمجھا جب کہ بادشاہ اس معاملے کو زیر بحث ائے بغیر ان کو رہا کر رہا تھا۔ فرمایا کہ ایسا میں نے اس لیے کیا کہ بادشاہ پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ مجھے بالکل بےگناہ جیل میں ڈالا گیا تھا۔ میں عزیز کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53۔ 1 اسے اگر حضرت یوسف ؑ کا تسلیم کیا جائے تو بطور کسر نفسی کے ہے، ورنہ صاف ظاہر ہے کہ ان کی پاک دامنی ہر طرح سے ثابت ہوچکی تھی۔ اور اگر یہ عزیز مصر کا قول ہے (جیسا کہ امام ابن کثیر کا خیال ہے) تو یہ حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ اپنے گناہ کا اور یوسف ؑ کو بہلانے اور پھسلانے کا اعتراف کرلیا۔ 53۔ 2 یہ اس نے اپنی غلطی کی یا اس کی علت بیان کی کہ انسان کا نفس ہی ایسا ہے کہ برائی پر ابھارتا ہے اور اس پر آمادہ کرتا ہے۔ 53۔ 3 یعنی نفس کی شرارتوں سے وہی بچتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، جیسا کہ حضرت یوسف ؑ کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 51–53

33: حضرت یوسف ؑ کی تواضع اور عبدیت کا کمال دیکھئے کہ اس موقع پر جب ان کی بےگناہی خود ان عورتوں کے اعتراف سے ثابت ہوگئی، تب بھی اس پر اپنی بڑائی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے یہ فرما رہے ہیں کہ میں اس انتہائی خطرناک جال سے جو بچا ہوں اس میں میرا کوئی کمال نہیں نفس تو میرے پاس بھی ہے جو انسان کو برائی کی تلقین کرتا رہتا ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اس کے فریب سے بچا لیتا ہے، البتہ دوسرے دلائل سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ رحم و کرم اسی پر ہوتا ہے جو گناہ سے بچنے کے لئے اپنی سی کوشش کر گزرے، جیسے حضرت یوسف ؑ نے دروازے تک بھاگ کر کی تھی اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

پارہ 13 ایک نظر میں یہ پارہ سورة یوسف کے بقیہ حصے اور سورة رعد اور سورة ابراہیم پر مشتمل ہے۔ یہ دونوں سورتیں بھی مکی ہیں۔ گویا یہ پورا پارہ مکی قرآن پر مشتمل ہے اور اس میں مکی سورتوں کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔ سورة رعد اور سورة ابراہیم پر تبصرے ہم آئندہ پر اٹھائے رکھتے ہیں۔ رہی سورة یوسف تو اس کے بقیہ حصے کے مطالعہ سے قبل امید ہے کہ قارئین گذشتہ پارے میں سورة یوسف پر کئے گئے تبصرہ کو ذہن میں رکھیں گے۔ اس پارے میں سورة یوسف کا باقی حصہ ہے اور اس کے اندر جا بجا تبصرے ہیں۔ اور آخر میں اس پوری سورة پر ایک تبصرہ ہے۔ اس حصے میں ہم قصے کے مرکزی کردار حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ذاتی زندگی اور ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 چونکہ حضرت یوسف نے اپنی براءت پر بہت زیادہ زور دیا۔ ممکن تھا کوئی سطحی آدمی اس سے فخر اور غرور و اعجاب کا شبہ کرنے لگتا اس لیے اپنی نزاہت کی حقیقت کھول دی کہ میں کوئی شیخی نہیں مارتا نہ پاک صاف رہنے میں اپنے نفس پر بھروسہ کرسکتا ہوں۔ محض خدا کی رحمت و اعانت ہے جو کسی نفس کو برائی سے روکتی ہے۔ یہ ہی رحمت خصوصی عصمت انبیاء (علیہم السلام) کی کفیل وضامن ہے ورنہ نفس انسانی کا کام عموماً برائی کی ترغیب دینا تھا۔ خدا تعالیٰ کی خصوصی توفیق و دستگیری نہ ہوتی تو میرا نفس بھی دوسرے نفوس بشریہ کی طرح ہوتا۔ " اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرُ رَّحِیْمٌ" سے اشارہ کردیا، کہ نفس امارہ جب توبہ کر کے " لوامہ " بن جائے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ اگر گزشتہ آیت میں نقل ہونے والے بیان کو عزیز مصر کی بیوی کا بیان مانا جائے تو اس صورت میں آیت زیر نظر بھی اسی کے کلام کا تسلسل قرار پائے گی اور اس کا ترجمہ وہی ہوگا جو اوپر کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ دراصل اس نظریے کے مطابق ہے جس کے تحت ہمارے بہت سے مفسرین اور قصہ گو حضرات نے مائی زُلیخا کو ولی اللہ کے درجے تک پہنچا دیا ہے۔ اور کچھ بعید بھی نہیں کہ اس کا عشق مجازی وقت کے ساتھ ساتھ عشق حقیقی میں تبدیل ہوگیا ہو اور وہ حقیقتاً ہدایت پر آگئی ہو۔ بہر حال جو لوگ اس بات کو درست تسلیم کرتے ہیں وہ ان آیات کا ترجمہ اسی طرح کرتے ہیں ‘ کیونکہ اس نے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

52 سیدنا یوسف کی کسر نفسی :۔ بھری مجلس میں مجرم کے اعتراف اور اس قضیہ میں آپ کی شاندار جیت کے بعد یہ عین ممکن تھا کہ بشری تقاضوں کے تحت آپ کے نفس میں کچھ پندار اور غرور سر اٹھانے لگتا۔ اسی لیے ساتھ ہی آپ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہو ہی نہیں سکتی نفس کا تو کام ہی یہ ہے کہ برائی کے کاموں پر انسان کو آمادہ کرتا رہتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی رحمت ہے کہ انسان اس برائی پر عمل کرنے سے بچا رہتا ہے اور جو میں بچا رہا تو اسی لیے کہ میرا اللہ تعالیٰ اپنے رحم و فضل سے مجھے بچاتا رہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

105۔ (جیسا کہ وہ ہر نبی کے نفس کو اس آلائش سے پاک کردیتا ہی ہے) نبی برحق حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عصمت اب سب پر روشن ہوچکی ہے۔ اور آپ (علیہ السلام) خود بھی ابھی ابھی اپنی زبان سے اس کا اظہار فرما چکے ہیں۔ ذلک لیعلم انی الخ اس کے معا بعد آپ (علیہ السلام) یہ کلیہ بیان فرماتے ہیں کہ نفس بشری توبرائیوں کی جانب رجحان رکھتا ہی ہے۔ اور خود میرا نفس بھی بذات خود اس سے مستثنی نہیں، جیسا ملکہ بدی سب انسانوں کے نفس میں ہے، میرے نفس میں بھی ہے، لیکن حکیم مطلق جسے نبی بناتا ہے اسے نفس بشری کے ساتھ ایک نفس پیغمبری بھی دے دیتا ہے، ان آلایشوں سے پاک صاف جس کا تعلق اپنے مالک ومولی سے ہر وقت جڑا رہتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 53–57

آیت نمبر 53 تا 57 ترجمہ : پھر اللہ کیلئے تواضح کی اور پھر (یوسف (علیہ السلام) نے) کہا میں اپنے نفس کی لغزشوں سے پاکیزگی بیان نہیں کرتا جنس نفس تو بلاشبہ کثرت سے برائی کا حکم کرنے والا ہی ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی رحم کرے تو اس کو بچا لیتا ہے ما بمعنی من ہے، بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ تاکہ میں اسے اپنے لئے مخصوص کرلوں، یعنی میں اس کو بغیر کسی شریک کے حاصل کرلوں، چناچہ قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا بادشاہ کا حکم مانو، تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اٹھے اور رفقاء زندان کو رخصت کیا اور انکو دعاء دی، پھر غسل کیا اور عمدہ لباس پہنا اور بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، چناچہ جب آپس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ابری نفسي اور میں (بذات خود) اپنے نفس کو پاک نہیں قرار دیتا۔ اس کلام میں تنبیہ ہے اس امر پر کہ اس سے میری مراد اپنی پاکیزگی کا اظہار اور برخود غرور نہیں بلکہ اللہ کے انعام کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ اس نے مجھے محفوظ رکھا اور عصمت کی توفیق دی اور بادشاہ کو میرا پیرو بنایا۔ ابن مردویہ نے حضرت انس کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جب حضرت یوسف نے کہا : میرے اس جواب کی وجہ یہ ہے کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی آبرو میں اس کی غیرموجودگی میں کوئی دست درازی نہیں کی تو حضرت جبرئیل نے کہا : (کیا اس وقت بھی آپ نے خیانت نہیں کی تھی) جب گناہ کا ارادہ کیا تھا ؟ اس پر حضرت یوسف نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(53) اس پر جبریل امین ؑ نے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ جب زلیخا نے آپ سے اصرار کیا تھا، تب کیا ہوا تھا تو حضرت یوسف ؑ نے فرمایا میں اپنے نفس کو بالذات وساوس سے بری اور پاک نہیں کہتا کیوں کہ دل تو ہر ایک کا پورے جسم کو بری ہی بات سمجھاتا ہے ماسوا اس نفس کے یا جس کو میرا رب ان وساوس سے معصوم اور پاک رکھے اور میرا رب بڑی مغفرت والا ہے اور رحمتوں والا ہے کہ مجھ پر اس نے رحمت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ۔۔ : یہ عزیز مصر کی بیوی کے کلام کا آخری حصہ ہے۔ گویا عزیز مصر کی بیوی یہ کہنا چاہتی ہے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اپنے خاوند کی کوئی بڑی خیانت نہیں کی، بیشک میں نے یوسف کو پھسلانا چاہا تھا مگر کامیاب نہ ہوسکی، ہاں میں اپنے آپ کو پاک باز قرار نہیں دیتی، مجھ سے جتنی غلطی ہوئی اس کا اقرار و اعتراف کرتی ہوں، نفس کی شرارتوں سے تو وہی محفوظ رہ سکتا ہے جس پر اللہ کی خاص رحمت ہو (مراد یوسف ؑ ہیں)۔ 3 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی اللہ تعالیٰ کو اور اس کی صفات غفور و رحیم کو مانتی تھی اور نیکی اور گناہ کو بھی سمجھتی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اس کا قول نہیں ہوسکتا، کیونکہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–53

آیت نمبر 52 تا 53 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ذٰلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب اس میں اختلاف ہے کہ یہ بات کس نے کہی، ایک قول یہ ہے : یہ عزیز مصر کی گفتگو میں سے ہے اور یہ اس کے قول الٰن حصحص الحق کے ساتھ متصل ہے یعنی اس نے کہا کہ میں نے سچائی کا اقرار کیا تاکہ وہ جان لے کہ میں نے غیب میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی یعنی اس کے خلاف جھوٹ نہیں بولا اور اس کی عدم موجودگی میں برائی کے ساتھ اس کا ذکر نہیں کیا بلکہ میں نے سچ بولا اور خیانت سے نکل گئی پھر اس نے کہا : ومآ ابری نفسی بلکہ میں نے اسے پھسلانا چاہا تھا : اسی بنیاد پر وہ صانع کا اقرار کررہی تھی اور اسی وجہ سے اس نے ان ربی غفوررحیم کہا۔ اور ایک قول یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–53

1:۔ احمد وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ آیت (آیت ) ” فلما جآءہ الرسول قال ارجع الی ربک فسئلہ مابال النسوۃ التی قطعن ایدیھن “ تلاوت فرمائی اور فرمایا اگر میں ہوتا تو جلدی سے دعوت کو قبول کرلیتا اور اپنے عذر کو طلب نہ کرتا۔ 2:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یوسف (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ وہ کتنے برداشت کرنے والے اور حلم والے تھے۔ اگر میں قید میں ہوتا پھر میری طرف بلاوا آتا تو میں جلدی سے باہر نکل جاتا۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَآ اُبَرِّئُ : اور میں بری نہیں کرتا ] [ نَفْسِيْ : اپنے نفس کو ] [ ان : بیشک ] [النَّفْسَ : نفس ] [لَاَمَارَةٌۢ: یقینا بار بار اکسانے والا سے ] [ بِالسُّوْۗءِ : برائی پر ] [ اِلَّا : مگر ] [ مَا : جب ] [ رَحِمَ : رحم کرے ] [رَبِيْ : میرا رب [ان : بیشک [ رَبِيْ : میرا رب ] [غَفُوْرٌ: بخشنے والا ہے [ رَّحِيْمٌ: رحم کرنے والا ہے ] نوٹ۔ 1: آیت نمبر 50 سے 53 تک جو کچھ قرآن نے بیان کیا ہے اس کا کوئی ذکر بائبل اور تلمود میں نہیں ہے، حالانکہ وہ اس قصّہ کا ایک بڑا ہی اہم باب ہے۔ بائبل کا بیان ہے کہ بادشاہ کی طلبی پر حضرت یوسف (علیہ السلام) فوراً چلنے کو تیار ہوگئے۔ تلمود اس سے بھی زیادہ گھٹیا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–54

بادشاہ کا آپ کو دوبارہ طلب کرنا اور معاملہ کی صفائی کے بعد آپ کا بادشاہ کے پاس پہنچنا اور زمین کے خزانوں کا ذمہ دار بننا مصر کے بادشاہ نے اپنے خواب کی تعبیر سنتے ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس بلانے کی فرمائش کردی تھی اور اس مقصد کے لیے قاصد کو ان کے پاس جیل میں بھیج دیا تھا لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس وقت تک جیل سے نکلنا گوارہ نہ فرمایا جب تک عزیز کی بیوی کی لگائی ہوئی تہمت سے برأت نہ ہوجائے۔ اس لیے قاصد سے فرمایا کہ جاؤ اپنے آقا سے کہو کہ معاملہ کی تحقیق کرے اور عورتوں سے پوچھے کہ صحیح صورت حال کیا ہے ؟ بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت ظاہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

مشتمل بر تحدیث نعمت وبیان حقیقت عصمت قال اللہ تعالیٰ حا کیا عن یوسف (علیہ السلام) وما ابری نفسی .... الیٰ .... ان ربی غفور رحیم (ربط) جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنی براعت اور نزاہت ثابت کرنے کے لیے اتنا زور دیا اور فرمایا کہ ذالک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب الخ تو ممکن تھا کہ کوئی یہ شبہ کرے کہ یہ تو ایک قسم کا فخر اور ناز اور غرور و اعجاب اور خود پسندی اور تزکیہ نفس ہے جو عند اللہ ناپسند ہے کما قال اللہ تعالیٰ فلا تزکوا انفسکم اس لئے یوسف (علیہ السلام) نے اس شبہ کے ازالہ کے لیے فرمایا وما ابری نفسی الخ یعنی اس اظہار براءت سے میرا مقصود و اعجاب اور تزکیہ نفس نہیں بلکہ تحدیث بالنعمت مقصود ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

47:۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی براءت کا اظہار کیا تو خیال آیا میں خود ہی اپنی ذات کا تزکیہ کر رہا ہوں یہ تو سب کچھ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوا ہے اس لیے انکسار و تواضع کے طور پر فوراً کہا ” وَ مَا اُبَرِّئُ نَفْسِیْ الخ “ میں اپنی ذات کا تزکیہ نہیں کرتا نفس انسانی بڑا سرکش ہے اس کے اغواء سے صرف وہی بچ سکتا ہے جس کی اللہ تعالیٰ محض اپنی مہربانی سے دستگیری فرمائے۔ وَمَا اُبَرِّئُ نَفْسِیْ ھضم للنفس و انکسار و تواضع للہ عز و جل فان رؤیۃ النفس فی مقام العصمۃ والتزکیۃ ذنب عظیم فاراد ازالۃ ذلک عن نفسہ الخ (خازن ج 3 ص 290) قال الحسن لما قال یوسف ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْہُ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 50–53

ربط آیات یوسف (علیہ السلام) سالہا سال تک قید میں پڑے رہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کے خواب کو ان کی رہائی کا سبب بنا دیا ‘ بادشاہ کو خواب آیا ‘ اس نے درباریوں سے تعبیر پوچھی مگر وہ سب عاجز آگئے۔ پھر جیل سے رہا ہونے والے ساقی نے پیشکش کی کہ وہ ایک قیدی سے خواب دریافت کرسکتا ہے۔ بادشاہ کی اجازت سے یوسف (علیہ السلام) سے خواب کی تعبیر پوچھی گئی تو انہوں نے نہ صرف تعبیر بتادی بلکہ آنے والے حالات سے متعلق نہایت مفید مشورے بھی دیے۔ یہ تعبیر پاکر بادشاہ کی تسلی ہوگئی کیونکہ یہ خواب منجانب اللہ تھا اور یوسف (علیہ السلام) نے اللہ کے عطا کردہ علم کے ذریعے اس کی تعبیر بنائی تھی۔ بہرحال بادشاہ یوسف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآاُبَرِّئُ نَفْسِيْ۝ 0ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيْ۝ 0ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝ 53 برأ أصل البُرْءِ والبَرَاءِ والتَبَرِّي : التقصّي مما يكره مجاورته، ولذلک قيل : بَرَأْتُ من المرض وبَرِئْتُ من فلان وتَبَرَّأْتُ وأَبْرَأْتُهُ من کذا، وبَرَّأْتُهُ ، ورجل بَرِيءٌ ، وقوم بُرَآء وبَرِيئُون . قال عزّ وجلّ : بَراءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ التوبة/ 1] ( ب ر ء ) البرء والبراء والتبری کے اصل معنی کسی مکردہ امر سے نجات حاصل کرتا کے ہیں ۔ اس لئے کہا جاتا ہے ۔ برءت من المریض میں تندرست ہوا ۔ برءت من فلان وتبرءت میں فلاں سے بیزار ہوں ۔ ابررتہ من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–54

1 ؎ عورتوں کو بلا کر اصل مقدمہ کی تحقیق کرنی شروع کی۔ عورتوں نے یوسف کی پاکدامنی کی شہادت دی۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 52–53

ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْہُ بِالْغَیْبِ وَاَنَّ اللّٰہَ لاَیَھْدِیْ کَیْدَالْخَآئِنِیْنَ ۔ وَمَآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْ ج اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ م بِالسُّوْٓئِ اِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّیْ ط اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 52، 53) (یوسف ( علیہ السلام) نے کہا) یہ میں نے اس لیے کہا تھا تاکہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی غیرحاضری میں اس کی خیانت نہیں کی اور بیشک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ میں اپنے نفس کو بری نہیں قرار دیتا بیشک نفس تو بُرائیوں ہی کا حکم دینے والا ہے، مگر جب میرا رب رحم فرمائے۔ بیشک میرا رب بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ) تحقیقات کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عاجزی کی انتہا۔ امانت و دیانت اور بےانتہا پاکدامنی کے باوجود حضرت یوسف (علیہ السلام) یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ مجھ سے غلطی نہیں ہوسکتی۔ فرماتے ہیں کہ غلطی تو ہر انسان سے ہوسکتی ہے۔ کیونکہ نفس امارہ انسان کو ہمیشہ برائی کی طرف کھینچتا ہے۔ برائی سے وہی شخص بچ سکتا ہے جس پر میرا رب مہربانی فرمائے۔ کیونکہ میرا رب غلطیاں معاف کرنے والا اور نہایت ہی رحیم و کریم ہے۔ اگلی آیات سے یہ بات مترشح ہو رہی ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے پاس پہنچے تو درباری رواج کے مطابق بادشاہ نے ان کا والہانہ استقبال کیا ہو۔ حکمرانوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو ملنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

53: وَمَآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْ (اور میں اپنے نفس کو بری نہیں بتاتا) پھر آپ نے بارگاہ الٰہی میں تواضع کرتے ہوئے اور اپنے نفس کو مٹاتے ہوئے تاکہ اپنے منہ مُزکّٰی بننے کا وہم نہ ہو۔ اور یہ بھی واضح ہوجائے کہ مجھ میں جو امانت ودیانت پائی جاتی ہے۔ یہ محض توفیق الٰہی اور اسکی عصمت سے ہے۔ چناچہ فرمایا میں بذات خود اپنے نفس کو پاک قرار نہیں دیتا کہ وہ لغزشوں سے بچ جائے اور نہ میں بالکلیہ اسکی براءت کی گواہی دیتا ہوں۔ اور نہ عمومی افعال میں اس کو (لغزش سے) پاک قرار دیتا ہوں۔ نمبر 2۔ اس حادثہ میں جیسا کہ ھَمّ کو خطرئہ بشر یہ کے معنی میں جب لیا جائے اور قصدو ارادہ کا اسمیں مطلقًا دخل نہ ہو۔ اِنَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 53۔” وما ابری نفسی ‘ اور میں اپنے نفس کو خطاء اور پھسلنے سے بری نہیں کہتا ” ان النفس لا مارۃ بالسوء نفس تو نافرمانی پر ہی ابھارتا ہے۔” الا ما رحم ربی “ مگر جس پر میرا رب رحم کرے اور اس کو بچالے ۔ یہاں مامن کے معنی میں ہے جیسے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” فانکحوا ما طاب لکم “ میں ہے یعنی ” من طاب لکم “ یہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے شہوت سے بچایا ہوا ہے۔” ان ربی غفور رحیم “ جب بادشاہ کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کی بےگناہی واضح ہوگئی اور ان کی امانت کو پہچان لیا تو ملاقات کا شوق ہوا تو کہنے لگا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

53۔ اس سے اوپر کی آیت میں یہ بات بیان کی جاچکی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے ساقی سے یہ بات کہی تھی کہ میں اپنی براءت کی تحقیق کے لئے اس واسطے کہتا ہوں کہ عزیز مصر پر یہ بات اچھی طرح ثابت ہوجائے کہ میں نے اس سے پوشیدہ اس کی بیوی کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کی ہے غرض جب یہ ثابت ہوچکا کہ اوپر کی بات یوسف (علیہ السلام) کی زبانی ہے تو یہ بات بھی انہوں نے ہی کہی کہ باوجود اس بات کے کہ عورتوں نے میری پاکبازی کی گواہی دی اور دراصل میں راست باز بھی ہوں مگر پھر بھی میں اپنے آپ کو بالکل پاک و صاف نہیں سمجھتا کیوں کہ نفس ہر وقت انسان کو برائی کا حکم کرتا رہتا ہے۔ اور ہر گھڑی برائی کا راستہ دکھلاتا رہتا ہے مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

چونکہ اس کلام میں عورت کے اپنے لئے تزکیہ کے دعوے کا شائبہ پایا جاتا ہے اور یہ دعویٰ بھی پایا جاتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملے میں اس سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔ اس لئے عورت نے استدارک کے طور پر کہا : (آیت) ” اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتی۔ “ یعنی میں نے یوسف کو پھسلانے، اس کے ساتھ برائی کے ارادے اور اس کی شدید حرص اور اس کے بارے میں سازش کرنے میں اپنے آپ کو بری قرار نہیں دیتی۔ (آیت) ” کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی ہی سکھاتا رہتا ہے۔ “ یعنی نفس انسان کو بہت کثرت سے برائی، یعنی بےحیائی اور دیگر تمام گناہوں کا حکم دیتا ہے۔ نفس شیطان کی سواری ہے اور شیطان نفس کے راستے سے انسان میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

نفس امارہ کی حقیقت قول باری ہے ان النفس لا مارۃ بالسوء ۔ نفس کا کام تو بس بدی پر اکسانا ہے۔ یعنی نفس برائی کی طرف بہت زیادہ کھینچتا ہے ۔ اس لیے میں اپنے نفس کی برأت کرنا نہیں چاہتا اگرچہ میں اس کے چکر میں نہیں پھنستا۔ اس فقرے کے قائل کے متعلق اختلاف رائے ہے ، کچھ حضرات کا قول ہے کہ اس کے قائل حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں جبکہ بعض دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ یہ عورت یعنی عزیز مصر کی بیوی کا قول ہے۔ امارہ سے کہتے ہیں جو کسی کام کے کرنے کا بہت زیادہ ام کرے اور حکم دے۔ نفس کو اس صفت سے اس لیے موصوف کیا گیا ہے کہ اس کی خواہشات کی کثرت اور اس کے جذبات کی شدت کی بنا پر اکثر افعال وقوع پذیر ہوتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

92۔ پیغمبر کی شان عبدیت کا ایک نمونہ ومظہر : سو یہ پیغمبر کی شان عبدیت کا ایک نمونہ ومظہر ہے کہ آپ اپنی پاکیزگی کے دعوے سے اس طرح اظہار براءت کرتے ہیں۔ سو یہ ہے شان نبوت کا تقاضا اور اس کا امتیاز کہ اپنے آپ سے خیانت کی نفی کرتے ہی یہ خیال آگیا کہ اس میں اپنی بڑائی اور پاکیزگی کا بول پایا جاتا ہے۔ اس لیے فورا اس کے تدارک کے لیے متوجہ ہوگئے کہ اپنی پاکیزگی اور بڑائی کا دعوی اللہ پسند نہیں۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (فلاتزکوا انفسکم ھواعلم بمن اتقی) یعنی " تم لوگ اپنی پاکیزگی اور بڑائی کے دعوے مت کرو۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ کون ہے پاکیزہ "۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 93۔ بچے گا وہی جس کو اللہ بچائے : سونفس و شیطان کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 50–57

آیات 50 تا 57 اسرار و معارف بہتان والزام سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیئے چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس آدمی کو ہمارے روبرولایا جائے کہ ہم خود اس سے تعبیر سننا چاہتے ہیں ۔ شاہی ہر کارہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا حکم لے کر حاضر ہوا اور بادشاہ کے طلب فرمانے کی خبردی تو آپ نے فرمایا کہ بادشاہ سے کہو پہلے میرے معاملہ کی تحقیق کرے اور درباری امراء کی ان خواتین سے اسفسار کیا جائے جنہوں نے ہاتھ کاٹ لئے تھے کہ وہ سارے معاملہ سے بخوبی واقف ہیں ۔ جو کچھ ہوا تھا زلیخا نے بھی ان کے سامنے اقرار کرلیا تھا اور جو کچھ انھوں نے سوچا تھا یا سفارش کی تھی یا مجھے دیکھنے اور پانے کا حیلہ کیا تھا میرا پروردگار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 52–53

ف 1 ۔ تو نفس مطیع ہوجاتا ہے اور برے کام کی خواہش نہیں کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ برائی سے میرا بچ نکلنا اپنے بل ہوتے پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے تھا۔ ” ما “ کے مصدر یہ ہونے کی صورت میں مستثنیٰ منقطع ہوگا اور مصدر یہ ظرفیہ ہونے کی صورت میں متصل۔ (کذافی الروح) ۔ 2 ۔ بعض مفسرین (رح) ۔ جیسے ابنی تیمیہ (رح) اور ابن کثیر۔ نے ” ذلک لیعلم “ سے ” ان ربی غفور رحیم “ کو بھی عزیز مصر کی بیوی ہی کا کلام قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ یہی انسب اور اشھر سے اور سیاق کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ اس صورت میں گویا عزیز مصر کی بیوی کنا یہ چاہتی ہے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اپنے خاوند کی کوئی بڑی خیانت نہیں کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

12:53) ما ابریٔ۔ مانفی کا ہے۔ ابریمضارع واحد متکلم۔ ابرائ (افعال) سے جس کے معنی ہر بری چیز۔ مرض وغیرہ سے بری کرنے اور نجات دلانے کے ہیں۔ ما ابری نفسی میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا ہوں۔ لا مارۃ۔ لام تاکید کے لئے ہے امارۃ امر سے ہے جس کے معنی حکم دینے کے ہیں۔ امر۔ حکم دینے والا۔ امارمبالغہ کا صیغہ بڑا حکم دینے والا ۔ شرارت پر اکسانے والا۔ امارۃ ، امار سے صیغۂ مؤنث ہے۔ الا ما رحم ربی۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوں گی۔ 1 ۔ الاحرف استثناء متصل ما بمعنی من۔ ای کل نفس امارۃ الا من رحمھا اللہ (بےشک نفس تو برائی ہی کا حکم دینے والا ہے) سوائے اس نفس کے جس پر میرا پروردگار رحم کرے۔ 2 ۔ الا۔ استثناء…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–53

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53 (ائتونی : میرے پاس لاؤ) ( الرسول قاصد، بھیجا گیا) ( ارجع لوٹ جا) ( اسئل پوچھ ) (مابال کیا واقعہ) ( ما خطبکن تم کیا کہتی ہو ) (سوء برائی) ( آلئن اب) ( حصحص ظاہر ہوگیا ) (لم اخن میں نے خیانت نہیں کی) ( لایھدی وہ ہدایت نہیں دیتا) ( الخائنین خیانت کرنے والے) ( ما ابرئی میں بری نہیں کرتا) ( امارۃ حکم دینے والا ) (رحم ربی میرے رب نے رحم کردیا) تشریح آیت نمبر 50 تا 53 گزشتہ آیات میں تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا تھا کہ جب بادشاہ کا ساقی حضرت یوسف کے پاس بادشاہ مصر کے خواب کی تعبیر پوچھنے گیا تو حضرت یوسف نے نہ صرف خواب کی وہ تعبیر بتائی جس سے بادشاہ کی دلی بےچینی دور ہوگئی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب اپنے مقدمہ کی تحقیقات کرا لی اور اپنی برات سب کے ذہن نشین کرچکے تو اس وقت آپ کو خیال آیا کہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کردیں کہ میں نے اپنے نفس کی پاکی اور صفائی کے واسطے یہ بات نہیں کی اور میں اپنے کام پر خوش نہیں ہوا۔ میں نے یہ بات کہ کر اللہ کی جناب میں تواضع و انکسار سے عرض کیا کہ '' میں اپنے نفس کو بےقصور نہیں بتاتا مجھے اپنی بےگناہی پر ناز نہیں ہے اور میں گناہ سے بچنے کو اپنے نفس کی خوبی قرار نہیں دیتا مگر ہاں جس پر میرا پروردگار مہربان ہو، وہ نفس کی برائیوں سے اور خواہشوں سے امن میں رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میرا پروردگار بخشنے والا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–56

[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–56

نفس امارہ کی شورشیں ! (ف 1) نفس کا اطلاق قرآن میں کئی معنوں میں ہوا ہے نفس کے معنی خون تن کے اور عین کے ہیں اور روح یا جان کے بھی ۔ تاکید کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے ، یہاں سے مراد ترغیبات کا وہ مرکزی شعور ہے جو گناہوں کی تحریک پیدا کرتا ہے اور برائی کے لیے گوناگوں جواز کے پہلو تلاش کرتا ہے یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ نفس بشری کا تقاضا تو یہی تھا کہ میں دعوت معصیت کو قبول کرتا اور بالخصوص ان حالات میں جب کہ خود عزیزہ مصر اظہار تعشق کر رہی تھی ، مگر نفس نبوی نے روکا پیغمبرانہ عقاف و عصمت آڑے آئی اور میں فسق و فجور کے دام تزویر سے صاف بچ کر نکل گیا اب حضرت یوسف (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

53 ۔ اور میں کوئی اپنے نفس کی برأت نہیں کرتا بیشک نفس تو بری ہی باتوں پر ابھارا کرتا ہے مگر وہ نفس جس پر میرا پروردگار رحم فرمائے بلا شبہ میرا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس شبہ کو دور کیا کہ مبادا کوئی خیال کرے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنی برأت پر غرور ہوگیا ہے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ میرے نفس کا یہ کوئی ذاتی کمال نہیں ہے بلکہ محض حضرت حق تعالیٰ کی عنایت اور اس کی مہربانی کا نتیجہ ہے نفس تو برے ہی کاموں کی ترغیب دیا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 53–54

ف 2۔ خلاف مطلب یہ ہوا کہ میری نزاہت وعصمت میرے نفس کا ذاتی کمال نہیں کہ تخلف محال ہو بلکہ رحمت و عنایت الہیہ کا اثر ہے اس لیے وہ امر بالسور نہیں کرتا ورنہ جیسے اوروں کے نفوس ہیں ویساہی میرا ہوتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

۔ 65 اس آیت کو بھی دو طرح سیب یان کیا گیا ہے ایک طریقہ سے یہ بیان ہے امراۃ العزیز کا اور دوسرے طریقہ سے بیان ہے یوسف (علیہ السلام) کا بلحاظ ضمائر ترجمہ دونوں طرح صحیح ہے کیونکہ واحد متکلم کا صیغہ مذکر ، مونث کے لئے ایک ہی ہے ” وما ابری نفسی “ کا ترجمہ ” میں اپنے نفس کی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتی۔ “ اور ” میں اپنے نفس کی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتا۔ “ دونوں طرح صحیح اور جائز ہے۔ پہلے ترجمہ سے مراد عزیز مصر کی بیوی کا بیان ہے اور دوسرے ترجمہ سے مراد یوسف (علیہ السلام) کا اپنا بیان ہے تاہم ہم نے اس سے مراد یوسف علہک السلام کا بیان ہی لیا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے چونکہ اپنی عصمت نفسی کا اس موقع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Claiming Purity for one's own Self is not proper except under special Conditions Stated in the previous verse (52) was the statement of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) that he did not favour his release from the prison before he has been exonerated through a full investigation of the blame imputed to him so that the governor and the king of Egypt can arrive at full certainty that he was not guilty of any betrayal and that the blame was totally unfounded. In this statement, the reference to his freedom from blame and his purity of conduct was being made as based on an inevitable…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–54

47. It implied this: we have such a high opinion of you that we can safely entrust you with the highest office of responsibility in the country." 47a. As this verse has given rise to some important questions, let us consider these one by one. The first question is: Was it an application made by Prophet Joseph to the king for some post? In the light of the preceding explanatory notes, it would have become obvious that it was neither an application nor a request made by an ambitious person who had been on the lookout for an opportune moment for its submission, and no sooner did the king express…

Read the full tafseer →