Yusuf 12:52

Yusuf · from ayah 52

12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىِٕنِیْنَ ۟ذٰ لِكَ لِيَـعۡلَمَ اَنِّىۡ لَمۡ اَخُنۡهُ بِالۡغَيۡبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِىۡ كَيۡدَ الۡخَـآئِنِيۡنَ

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is so al-'Azeez will know that I did not betray him in [his] absence and that Allah does not guide the plan of betrayers.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 7 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:52

(یوسفؑ نے کہا) "اِس سے میری غرض یہ تھی کہ (عزیز) یہ جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی تھی، اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ان کی چالوں کو اللہ کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

(یوسف علیہ السلام نے کہا) یہ اس واسطے کہ (عزیز) جان لے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی اور یہ بھی کہ اللہ دغابازوں کے ہتھکنڈے چلنے نہیں دیتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(جب یوسف کو قید خانے میں اس گفتگو کی خبر ملی تو انہوں نے کہا کہ :) یہ سب کچھ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو یہ بات یقین کے ساتھ معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کی، اور یہ بھی کہ جو لوگ خیانت کرتے ہیں اللہ ان کے فریب کو چلنے نہیں دیتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یوسف علیہ السلام نے کہا: میں نے) یہ اس لئے (کیا ہے) کہ وہ (عزیزِ مصر جو میرا محسن و مربّی تھا) جان لے کہ میں نے اس کی غیابت میں (پشت پیچھے) اس کی کوئی خیانت نہیں کی اور بیشک اﷲ خیانت کرنے والوں کے مکر و فریب کو کامیاب نہیں ہونے دیتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ بیشک میں نے عدم موجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اس وقت یوسف نے کہا) اس سے میری غرض یہ تھی کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی اور اللہ تعالیٰ خائنوں کی چال کو (کامیابی کی) راہ نہیں دکھاتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس سے بےوفائی نہیں کی اور بیشک اللہ خائنوں کی چال کو چلنے نہیں دیتا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(یوسف نے کہا) یہ سب کچھ (میں نے) اس لئے کیا تاکہ وہ (عزیز) جان لے کہ میں نے اس سے کوئی خیانت (و بددیانتی) نہیں کی اس کی غیر موجودگی میں، اور تاکہ (واضح ہوجائے یہ حقیقت کہ) اللہ چلنے نہیں دیتا خیانت کرنے والوں کی فریب کاریوں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

یہ (سب) اس لئے تھا کہ (عزیز کو اور زیادہ) علم ہوجائے کہ میں نے ان کے پیچھے بھی ان کی خیانت نہیں کی ہے اور یہ کہ اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو چلنے نہیں دیتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی غیرموجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ یقیناً اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یوسف نے کہا کہ میں نے یہ بات اس لیے پوچھی ہے کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی امانت میں خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے والوں کے مکروں کو چلنے نہیں دیتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Joseph said: "I did this so that he [i.e. the chief) may know that I did not betray him in his absence, and that Allah does not allow the design of the treacherous to succeed.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Then Yusuf said), :That was because he (the governor) may know that I did not betray him in his absence, and that Allah does not lead the guile of betrayers to success.

— Muhammad Taqi Usmani

(Then Yusuf said), :That was because he (the governor) may know that I did not betray him in his absence, and that Allah does not lead the guile of betrayers to success.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

[Then Yusuf said: "I asked for this inquiry] in order that he may know that I betrayed him not in (his) absence." And, verily, Allah guides not the plot of the betrayers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Then Joseph said: I asked for) this, that he (my lord) may know that I betrayed him not in secret, and that surely Allah guideth not the snare of the betrayers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is so al-'Azeez will know that I did not betray him in [his] absence and that Allah does not guide the plan of betrayers.

— Saheeh International

(Joseph said), "This proves that I was not disloyal to the King in his absence. God does not grant success to the efforts of disloyal people.

— Muhammad Sarwar

This is that he might know that I have not been unfaithful to him in secret and that Allah does not guide the device of the unfaithful.

— Muhammad Habib Shakir

He said: that did in order that he may know that I betrayed him not in secret, and that Allah guideth not the guile of betrayers.

— Abdul Majid Daryabadi

"This (say I), in order that He may know that I have never been false to him in his absence, and that Allah will never guide the snare of the false ones.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–52

تعبیر کی صداقت اور شاہ مصر کا یوسف ؑ کو وزارت سونپنا خواب کی تعبیر معلوم کر کے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقت سے مطلع کیا۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آگیا۔ ساتھ ہی اسے بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف ؑ بڑے ہی عالم فاضل شخص ہیں۔ خواب کی تعبیر میں تو آپ کو کمال حاصل ہے۔ ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے حسن تدبیر والے اور خلق اللہ کا نفع چاہنے والے اور محض بےطمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ خود آپ سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاؤ حضرت یوسف ؑ کو جیل خانے سے آزاد کر کے میرے پاس لے آؤ۔ دوبارہ قاصد آپ کے پاس آیا اور بادشاہ کا پیغام پہنچایا تو آپ نے فرمایا میں یہاں سے نہ نکلوں گا جب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْسُف 46 یہ بات غالبا یوسف ؑ نے اس وقت کہی ہوگی جب قید خانہ میں آپ کو تحقیقات کے نتیجے کی خبر دی گئی ہوگی۔ بعض مفسرین، جن میں ابن تیمیہ اور ابن کثیر جیسے فضلا بھی شامل ہیں، اس فقرے کو حضرت یوسف کا نہیں بلکہ عزیز کی بیوی کے قول کا ایک حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ فقرہ امرأة العزیز کے قول سے متصل آیا ہے اور بیچ میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ ”اِنَّہ لَمِنَ الصَّادِقِینَ“ پر امرأة العزیز کی بات ختم ہوگئی اور بعد کا کلام حضرت یوسف ؑ کی زبان سے ادا ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر دو آدمیوں کے قول ایک دوسرے سے متصل واقع ہوں اور اس امر کی صراحت نہ ہو کہ یہ قول فلاں کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اول یہ کہ ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بالْغَيْبِ یعنی یہ تاخیر میں نے اس لئے کی کہ عزیز مصر کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کے حق میں کوئی خیانت نہیں کی ، عزیز مصر کی یقین دہانی کی زیادہ فکر اس لئے ہوئی کہ یہ بہت بری صورت ہوگی کہ عزیز مصر کے دل میں میری طرف سے شبہات رہیں اور پھر شاہی اعزاز کی وجہ سے وہ کچھ نہ کہہ سکیں، تو ان کو میرا اعزاز بھی سخت ناگوار ہوگا اور اس پر سکوت ان کے لئے اور زیادہ تکلیف دہ ہوگا وہ چونکہ ایک زمانہ تک آقا کی حیثیت میں رہ چکا تھا اس لئے یوسف ؑ کی شرافت نفس نے اس کی اذیت کو گوارا نہ کیا اور یہ بھی ظاہر تھا کہ جب عزیز مصر کو براءت کا یقین…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 52–53

52۔ 53:۔ ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَايَهْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ۔ وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ تحقیقات کے مطالبہ کی وجہ : اپنا دامن بےداغ ثابت ہوجانے کے بعد یہ حضرت یوسف نے اس بات کی وجہ بھی بتا دی کہ انہوں نے اس قضیہ کو ازسر نو چھیڑنا کیوں ضروری سمجھا جب کہ بادشاہ اس معاملے کو زیر بحث ائے بغیر ان کو رہا کر رہا تھا۔ فرمایا کہ ایسا میں نے اس لیے کیا کہ بادشاہ پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ مجھے بالکل بےگناہ جیل میں ڈالا گیا تھا۔ میں عزیز کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

52۔ 1 جب جیل میں حضرت یوسف ؑ کو ساری تفصیل بتلائی گئی تو اسے سن کر یوسف ؑ نے کہا اور بعض کہتے ہیں کہ بادشاہ کے پاس جا کر انہوں نے یہ کہا اور بعض مفسرین کے نزدیک زلیخا کا قول ہے اور مطلب یہ ہے کہ یوسف ؑ کی غیر موجودگی میں بھی اس غلط طور پر خیانت کا ارتکاب نہیں کرتی بلکہ امانت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی غلطی کا اعتراف کرتی ہوں۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں نے اپنے خاوند کی خیانت نہیں کی اور کسی بڑے گناہ میں واقعہ نہیں ہوئی۔ امام ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ 52۔ 2 کہ وہ اپنے مکر و فریب میں ہمیشہ کامیاب ہی رہیں، بلکہ ان کا اثر محدود اور عارضی ہوتا ہے۔ بالآخر جیت حق اور اہل حق ہی کی ہوتی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 51–53

33: حضرت یوسف ؑ کی تواضع اور عبدیت کا کمال دیکھئے کہ اس موقع پر جب ان کی بےگناہی خود ان عورتوں کے اعتراف سے ثابت ہوگئی، تب بھی اس پر اپنی بڑائی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے یہ فرما رہے ہیں کہ میں اس انتہائی خطرناک جال سے جو بچا ہوں اس میں میرا کوئی کمال نہیں نفس تو میرے پاس بھی ہے جو انسان کو برائی کی تلقین کرتا رہتا ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اس کے فریب سے بچا لیتا ہے، البتہ دوسرے دلائل سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ رحم و کرم اسی پر ہوتا ہے جو گناہ سے بچنے کے لئے اپنی سی کوشش کر گزرے، جیسے حضرت یوسف ؑ نے دروازے تک بھاگ کر کی تھی اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس اعتراف کو سیاق کلام میں اس طرح قلم بند کیا گیا ہے کہ اس کے پس منظر میں جذبات کا ایک طوفان نظر آتا ہے ، جس طرح اس سے قبل اس نے واضح اعتراف کیا اور نہایت ہی خوبصورت انداز میں۔ انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین " وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے "۔ یہ حضرت یوسف کی پاکدامنی اور مکمل جرات کی واضح شہادت تھی۔ یہ شہادت اس نے بڑی جرات سے دی اور اس کی کوئی پروا نہیں کی کہ اس کی ذات پر اس کے کیا اثرت پڑتے ہیں۔ کیا یہ عورت بادشاہ اور اس کے درباریوں کے ساتھ صرف سچائی کی خاطر شہادت دی ؟ ہاں ایک دوسرا مقصد اور خواہش بھی اس کے دل میں ضرور ہے۔ وہ یہ کہ یہ مومن شخص…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اتنی تحقیق و تفتیش اس لیے کرائی کہ پیغمبرانہ عصمت و دیانت بالکل آشکارا ہوجائے اور لوگ معلوم کرلیں کہ خائنوں اور دغابازوں کا فریب اللہ چلنے نہیں دیتا۔ چناچہ عورتوں کا فریب نہ چلا۔ آخر حق حق ہو کر رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 52 ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بالْغَيْبِ یہ فقرہ سیاق عبارت میں کس کی زبان سے ادا ہوا ہے اس کے بارے میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں۔ اس لیے کہ اس فقرے کے موقع محل اور الفاظ میں متعدد امکانات کی گنجائش ہے۔ ان اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ یہ فقرہ عزیز کی بیوی کی زبان ہی سے ادا ہوا ہے کہ میں نے ساری بات اس لیے سچ سچ بیان کردی ہے تاکہ یوسف کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس سے کوئی غلط بات منسوب کر کے اس کی خیانت نہیں کی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

51 سیدنا یوسف کا صبر وتحمل :۔ جرم کا سب سے بہتر اور اول درجہ کا ثبوت مجرم کا اپنا اعتراف ہوتا ہے اس اعتراف کے بعد جب حق نتھر کر سامنے آگیا تو اس وقت سیدنا یوسف نے تمام لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں نے یہ مطالبہ کیا ہی اس لیے تھا کہ میری پوزیشن عام لوگوں کی نظروں میں بالکل واضح ہوجائے اور اس لیے بھی کہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ دغابازوں اور خائن قسم کے لوگوں کا فریب چلنے نہیں دیتا۔ اس مقام پر خائن سے مراد وہ ہاتھ کاٹنے والی عورتیں ہیں۔ جنہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یوسف بالکل پاکیزہ سیرت انسان ہے اور اصل مجرم زلیخا ہے۔ سیدنا یوسف پر ہی یہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

104۔ جیسا کہ اس سارے قصہ سے ظاہر ہے کہ کسی کی چلا کی دیر تک چلنے نہیں پاتی آخر میں سب کی اصلیت ظاہر ہی ہو کر رہی۔۔۔ یہ سارا قول یوسف (علیہ السلام) کا ہے۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہ اہتمام برأت ورفع تہمت۔ ای ذلک التثبیت والتشھیر لظھور البراء ۃ (کشاف) ای ذلک التثبیت (بیضاوی) (آیت) ” لیعلم “۔ ضمیر عزیر کی طرف ہے۔ لیعلم العزیز (معالم) لیعلم العزیز (کشاف۔ بیضاوی) عزیز کو یوسف کی پارسائی اور بےگناہی کا علم تو پہلے ہی ہوچکا تھا مقصود یہ ہے کہ اب یقین اور زاید ہوجائے۔ (آیت) ” انی لم اخنہ بالغیب “۔ عزیز کی خیانت اس کے غیب میں یہی تھی کہ اس کی بیوی کے ناموس کو داغدار کیا جائے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) ملک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–52

آیت نمبر 43 تا 52 ترجمہ : مصر کے بادشاہ ریان بن ولید نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات فربہ گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں (عجاف) عجفاء کی جمع ہے اور سات ہری بالیں ہیں اور دوسری سات خشک بالیں ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر لپٹی ہوئی ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر غالب آگئی ہیں، اے درباریو تم میرے خواب کی تعبیر بتاؤ، اگر تم تعبیر بتاسکتے ہو تو بتاؤ درباریوں نے خواب دیا یہ منتشر خیالات کے خواب ہیں اور ہم منتشر خیالات کے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے، اور اس نوجوان نے جو دو نوجوانوں میں سے (جیل سے) رہا ہوا تھا اور وہ ساقی تھا جس کو ایک مدت دراز کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا حال یاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب وان اللہ لا یھدی کید الخائنین یہ (باتیں یعنی قاصد کو جواب دے دینا ‘ اس کے ساتھ نہ جانا) میں نے اسلئے کیں کہ اس کو (یعنی عزیز کو) یقین کے ساتھ معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کے پس پشت اس کی غیر موجودگی میں (اس کی آبرو میں) کوئی خیانت نہیں کی اور یہ بھی (معلوم ہوجائے) کہ اللہ خیانت کرنے والوں کے فریب کو چلنے نہیں دیتا۔ بِالْغَیْبِ پس پشت جبکہ میں اس کے اور وہ میرے سامنے موجود نہ تھا۔ یا غیب سے مراد ہے : پوشیدہ مقام ‘ بند کمروں کے اندر۔ لاَ یَھْدِیْ نافذ نہیں کرتا ‘ درست نہیں ہونے دیتا بلکہ حق کو ظاہر کرتا ہے خواہ کچھ مدت کے بعد ہی ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ خیانت کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(52) چناچہ ان تصدیقات کے بعد حضرت یوسف ؑ نے فرمایا کہ میں نے یہ اہتمام اس لیے کیا ہے تاکہ عزیز کو قطعی طور پر معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی کے ساتھ خیانت کی اور اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے فریب کو چلنے نہیں دیتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بالْغَيْبِ۔۔ : عزیز مصر کی بیوی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں یہ اعتراف اس لیے کر رہی ہوں کہ اس کو (میرے خاوند کو) معلوم ہوجائے کہ اس کی عدم موجودگی میں میں نے فی الواقع اس کی خیانت نہیں کی اور نہ بڑی برائی واقع ہوئی ہے، ہاں، میں نے اس جو ان کو پھسلایا تھا، مگر اس نے سختی سے انکار کردیا۔ اس لیے میں اعتراف کر رہی ہوں، تاکہ اس کو معلوم ہوجائے کہ میں نے بڑی خیانت کا ارتکاب نہیں کیا اور اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا۔ ہاں، میں اپنے آپ کو بالکل بری بھی نہیں کہتی، کیونکہ نفس برائی کی خواہش کرتا اور اس پر ابھارتا ہے، سوائے اس کے جس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–53

آیت نمبر 52 تا 53 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ذٰلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب اس میں اختلاف ہے کہ یہ بات کس نے کہی، ایک قول یہ ہے : یہ عزیز مصر کی گفتگو میں سے ہے اور یہ اس کے قول الٰن حصحص الحق کے ساتھ متصل ہے یعنی اس نے کہا کہ میں نے سچائی کا اقرار کیا تاکہ وہ جان لے کہ میں نے غیب میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی یعنی اس کے خلاف جھوٹ نہیں بولا اور اس کی عدم موجودگی میں برائی کے ساتھ اس کا ذکر نہیں کیا بلکہ میں نے سچ بولا اور خیانت سے نکل گئی پھر اس نے کہا : ومآ ابری نفسی بلکہ میں نے اسے پھسلانا چاہا تھا : اسی بنیاد پر وہ صانع کا اقرار کررہی تھی اور اسی وجہ سے اس نے ان ربی غفوررحیم کہا۔ اور ایک قول یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–53

1:۔ احمد وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ آیت (آیت ) ” فلما جآءہ الرسول قال ارجع الی ربک فسئلہ مابال النسوۃ التی قطعن ایدیھن “ تلاوت فرمائی اور فرمایا اگر میں ہوتا تو جلدی سے دعوت کو قبول کرلیتا اور اپنے عذر کو طلب نہ کرتا۔ 2:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یوسف (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ وہ کتنے برداشت کرنے والے اور حلم والے تھے۔ اگر میں قید میں ہوتا پھر میری طرف بلاوا آتا تو میں جلدی سے باہر نکل جاتا۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ذٰلِكَ : یہ (اس لئے) ہے ] [ لِيَعْلَمَ : تاکہ وہ (عزیز مصر) جان لے ] [ انى: کہ میں (یوسف (علیہ السلام) ) نے [ لَمْ اَخُنْهُ : اس کی خیانت نہیں کی ] [ بِالْغَيْبِ : پوشیدگی میں ] [ وَان : اور یہ کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [لَايَهْدِيْ : منزل تک نہیں پہنچاتا ] [ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ : خیانت کرنے والوں کی چالبازی کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 51–54

بادشاہ کا آپ کو دوبارہ طلب کرنا اور معاملہ کی صفائی کے بعد آپ کا بادشاہ کے پاس پہنچنا اور زمین کے خزانوں کا ذمہ دار بننا مصر کے بادشاہ نے اپنے خواب کی تعبیر سنتے ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس بلانے کی فرمائش کردی تھی اور اس مقصد کے لیے قاصد کو ان کے پاس جیل میں بھیج دیا تھا لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس وقت تک جیل سے نکلنا گوارہ نہ فرمایا جب تک عزیز کی بیوی کی لگائی ہوئی تہمت سے برأت نہ ہوجائے۔ اس لیے قاصد سے فرمایا کہ جاؤ اپنے آقا سے کہو کہ معاملہ کی تحقیق کرے اور عورتوں سے پوچھے کہ صحیح صورت حال کیا ہے ؟ بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت ظاہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–52

شاہ مصر کا یوسف (علیہ السلام) کو ملاقات کے لئے طلب کرنا قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ جاء ہ الرسول .... الیٰ .... لا یھدی کید الخائنین (ربط) یوسف (علیہ السلام) نے جب بادشاہ کے قاصد کو خواب کی تعبیر دے دی تو قاصد نے آکر بادشاہ سے خواب کی تعبیر بھی بیان کی اور یہ بھی بیان کیا کہ یوسف صدیق نے آنے والے قحط کی یہ تدبیر بتلائی ہے تو بادشاہ سن کر حیران رہ گیا اور اس حسن تعبیر اور حسن تدبیر سے یوسف (علیہ السلام) کی جلالت شان کا سکہ اس کے دل پر بیٹھ گیا۔ فورا حکم دیا کہ ایسے شخص کو میرے پاس لاؤ تاکہ میں اس کی دید اور لقاء سے بہرہ اندوز ہوں اور اس کی لیاقت اور قابلیت کے مطابق اس کا اعزازو اکرام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

46:۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ امرۃ العزیز کا قول ہے یا حضرت یوسف (علیہ السلام) کا۔ حضرت قتادہ، حسن اور حضرت ابن عباس کے نزدیک یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ بادشاہ کو معلوم ہوجائے کہ میں نے عزیز مصر کی عدم موجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی۔ لِیَعْلَمَ کا فاعل بادشاہ ہے نہ کہ عزیز مصر کیونکہ وہ اس وقت مرچکا تھا۔ قال ابن عباس فارسل الملک الی النسوۃ والی امراۃ العزیز وکان قد مات العزیز (قرطبی ج 9 ص 207) لیعلم الملک انی لم اخنہ بالغیب (کبیر ج 18 ص 154) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 50–53

ربط آیات یوسف (علیہ السلام) سالہا سال تک قید میں پڑے رہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کے خواب کو ان کی رہائی کا سبب بنا دیا ‘ بادشاہ کو خواب آیا ‘ اس نے درباریوں سے تعبیر پوچھی مگر وہ سب عاجز آگئے۔ پھر جیل سے رہا ہونے والے ساقی نے پیشکش کی کہ وہ ایک قیدی سے خواب دریافت کرسکتا ہے۔ بادشاہ کی اجازت سے یوسف (علیہ السلام) سے خواب کی تعبیر پوچھی گئی تو انہوں نے نہ صرف تعبیر بتادی بلکہ آنے والے حالات سے متعلق نہایت مفید مشورے بھی دیے۔ یہ تعبیر پاکر بادشاہ کی تسلی ہوگئی کیونکہ یہ خواب منجانب اللہ تھا اور یوسف (علیہ السلام) نے اللہ کے عطا کردہ علم کے ذریعے اس کی تعبیر بنائی تھی۔ بہرحال بادشاہ یوسف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْہُ بِالْغَيْبِ وَاَنَّ اللہَ لَا يَہْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ۝ 52 خون الخِيَانَة والنّفاق واحد، إلا أنّ الخیانة تقال اعتبارا بالعهد والأمانة، والنّفاق يقال اعتبارا بالدّين، ثم يتداخلان، فالخیانة : مخالفة الحقّ بنقض العهد في السّرّ. ونقیض الخیانة : الأمانة وعلی ذلک قوله : لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، ( خ و ن ) الخیانۃ خیانت اور نفاق دونوں ہم معنی ہیں مگر خیانت کا لفظ عہد اور امانت کا پاس نہ کرنے پر بولا جاتا ہے اور نفاق دین کے متعلق بولا جاتا ہے پھر ان میں تداخل ہوجاتا ہے پس خیانت کے معنی خفیہ طور پر عہد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–54

1 ؎ عورتوں کو بلا کر اصل مقدمہ کی تحقیق کرنی شروع کی۔ عورتوں نے یوسف کی پاکدامنی کی شہادت دی۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 52–53

ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْہُ بِالْغَیْبِ وَاَنَّ اللّٰہَ لاَیَھْدِیْ کَیْدَالْخَآئِنِیْنَ ۔ وَمَآ اُبَرِّیُٔ نَفْسِیْ ج اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ م بِالسُّوْٓئِ اِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّیْ ط اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 52، 53) (یوسف ( علیہ السلام) نے کہا) یہ میں نے اس لیے کہا تھا تاکہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی غیرحاضری میں اس کی خیانت نہیں کی اور بیشک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ میں اپنے نفس کو بری نہیں قرار دیتا بیشک نفس تو بُرائیوں ہی کا حکم دینے والا ہے، مگر جب میرا رب رحم فرمائے۔ بیشک میرا رب بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ) تحقیقات کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا رہا ہو کر بادشاہ کے ساتھ ملاقات کرنا۔ اس کے سامنے تاخیر سے آنے کی وضاحت فرمانا۔ جب قرائن اور ٹھوس شواہد کے ساتھ حقیقت ہر اعتبار سے واضح ہوچکی تو بادشاہ وقت نے ایک دفعہ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل سے رہا ہونے اور اپنے ساتھ ملاقات کا پیغام بھیجا۔ تب حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے پاس تشریف لے گئے۔ انھوں نے پہلی دفعہ جیل سے نہ نکلنے کی نہایت وقار کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے انکار کرنے کا مقصد یہ تھا کہ سب کو معلوم ہوجائے کہ میں نے عزیز مصر کی نہ احسان فراموشی کی اور نہ ہی کسی قسم کی خیانت کی تھی۔ کیونکہ میرا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

براءت یوسف : 52: پھر قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس لوٹ کر آیا اور عورتوں کی گفتگو کے متعلق اطلاع دی اور عزیز مصر کی بیوی کے اعتراف و اقرار کا بھی ذکر کیا۔ اس پر یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا۔ ذٰلِکَ (یہ) نکلنے سے انکار اور اظہار براءت پر اصرار میں نے اسلئے کیا لِیَعْلَمَ (تاکہ عزیز مصر کو معلوم ہو) اَ نِّیْ لَمْ اَخُنْہُ بِالْغَیْبِ (کہ میں نے اسکی غیرموجودگی میں اسکی خیانت نہیں کی) اسکی عزت کے سلسلہ میں اس کی عدم حاضری میں۔ نحو : بالغیب یہ فاعل سے حال ہے یا مفعول سے حال ہے۔ معنی اس طرح ہوگا نمبر 1۔ میں اس سے غائب ہوں۔ نمبر 2۔ وہ میرے پاس موجود نہ ہو۔ نمبر 2۔ لیعلم کی ضمیر بادشاہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

52” ذلک “ یعنی یہ جو میں نے بادشاہ کے قاصد کو واپس بھیج کر کیا ” لیعلم “ تا کہ عزیز مصر جان لے ” انی لم اخنہ “ اس کی بیوی کے بارے میں میں نے کبھی اس کی موجودگی یا عدم موجودگی میں خیانت نہیں کی۔ ” بالغیب وان اللہ لا یھدی کید الخائنین “ یہ کلام یوسف (علیہ السلام) تھا جو عزیز کی بیوی کے کلام ” انا راوتہ عن نفسہ “ سے متصل ہے اس میں کوئی تمیز نہیں کی گئی کیونکہ سامعین پہنچانتے ہیں کہ کون سی کلام کس کی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل عبارت ہے ” ارجع الی ربک فاسالہ ما بال النسوۃ اللائی قطعن ایدیھن ان ربی بکیلھن علیم ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “ کہا گیا ہے کہ جب یوسف (علیہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

52۔ بعضے مفسروں نے اس مقولہ کو زلیخا کا مقولہ قرار 1 ؎ دیا ہے اور مطلب اس کا یہ بتلایا ہے کہ بادشاہ کے روبرو جب زلیخا نے حضرت یوسف کے بےگناہ ہونے کا اور اپنے تقصیر وار ہونے کا اقرار کرلیا تو اس وقت عورتوں سے زلیخا نے یہ بات کہی کہ یہ اقرار میں نے اس واسطے کرلیا کہ میرا خاوند جان جاوے کہ میں نے زیادہ کوئی بد فعلی نہیں کی ہاں نفس کی شامت سے بدفعلی چاہتی تھی مگر حضرت یوسف کے انکار کے سبب سے اس کا موقع نہیں آیا اور جن مفسروں نے اس مقولہ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مقولہ ٹھہرایا ہے ان پر زلیخا کا مقولہ ٹھہرانے والے نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اول تو حضرت یوسف (علیہ السلام) ان باتوں کے وقت بادشاہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ذلک) یعنی یہ اقرار جس میں، میں نے تسلیم کیا ہے کہ میں نے ہی یوسف پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ (لیعلم انی لم اخنہ بالغیب) ’ دتا کہ وہ جان لے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی “ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد عورت کا خاوند ہے، یعنی یہ اقرار میں نے اس لئے کیا، تاکہ میرا خاوند جان لے کہ میں نے یوسف پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی، مگر میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی۔ میں نے مجرد اس کو پھسلانے کی کوشش کی مگر میں نے عزیز مصر کے بستر کو خراب نہیں کیا۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یوسف ہوں، یعنی تاکہ یوسف جان لے کہ وہ سچا ہے اور میں نے ہی اس پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب ( یوسف نے کہا) اس سے میری غرض یہ تھی کہ ( عزیز مصر) یہ جان لے کہ میں نے در پردہ اس کی خیانت نہیں کی تھی ۔ حسن ، مجاہد ، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول تھا۔ آپ نے یہ فرمایا کہ ” میں نے قاصد کو بادشاہ کے پاس اس لیے بھیج دیا اور اس سے عورتوں کے معاملہ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے کہا کہ بادشاہ یعنی عزیز مصر کو یہ معلوم ہوجائے کہ میں نے در پردہ اس کی خیانت نہیں کی ہے “ اگر سلسلہ کلام کی ابتداء عورت یعنی عزیز مصر کی بیوی کے متعلق حکایت سے کی جائے تو اس صورت میں کلام کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قول کی حکایت کی طرف لوٹا جائے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

91۔ خیانت کاری چلنے والی چیز نہیں : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور حرف ان کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ خیانت کاروں کی فریب کاریوں کو نہیں چلنے دیتا جس طرح کہ یہاں عزیزمصر کی بیوی کی فریب کاری نہیں چل سکی اور اس کے برعکس مجھے یہ عزت بخشی گئی۔ سو ابتلاء و آزمائش کے مراحل تو پیش آتے ہیں لیکن آخرکار کامیابی بہرحال حق اور سچ ہی کی ہوتی ہے بشرطیکہ بندے کا دامن پاک ہو اور وہ راہ حق پر استقلال واستقامت سے کام لے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید وہوالہادی الی سواء السبیل۔ سو اپنا دامن بےداغ ثابت ہوجانے کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کی وجہ بھی بیان کردی کہ انہوں نے اس قصے کو از سرنو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 50–57

آیات 50 تا 57 اسرار و معارف بہتان والزام سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیئے چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس آدمی کو ہمارے روبرولایا جائے کہ ہم خود اس سے تعبیر سننا چاہتے ہیں ۔ شاہی ہر کارہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا حکم لے کر حاضر ہوا اور بادشاہ کے طلب فرمانے کی خبردی تو آپ نے فرمایا کہ بادشاہ سے کہو پہلے میرے معاملہ کی تحقیق کرے اور درباری امراء کی ان خواتین سے اسفسار کیا جائے جنہوں نے ہاتھ کاٹ لئے تھے کہ وہ سارے معاملہ سے بخوبی واقف ہیں ۔ جو کچھ ہوا تھا زلیخا نے بھی ان کے سامنے اقرار کرلیا تھا اور جو کچھ انھوں نے سوچا تھا یا سفارش کی تھی یا مجھے دیکھنے اور پانے کا حیلہ کیا تھا میرا پروردگار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 52–53

ف 1 ۔ تو نفس مطیع ہوجاتا ہے اور برے کام کی خواہش نہیں کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ برائی سے میرا بچ نکلنا اپنے بل ہوتے پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے تھا۔ ” ما “ کے مصدر یہ ہونے کی صورت میں مستثنیٰ منقطع ہوگا اور مصدر یہ ظرفیہ ہونے کی صورت میں متصل۔ (کذافی الروح) ۔ 2 ۔ بعض مفسرین (رح) ۔ جیسے ابنی تیمیہ (رح) اور ابن کثیر۔ نے ” ذلک لیعلم “ سے ” ان ربی غفور رحیم “ کو بھی عزیز مصر کی بیوی ہی کا کلام قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ یہی انسب اور اشھر سے اور سیاق کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ اس صورت میں گویا عزیز مصر کی بیوی کنا یہ چاہتی ہے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اپنے خاوند کی کوئی بڑی خیانت نہیں کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:52) ذلک (یہاں سے حضرت یوسف کا کلام شروع ہوتا ہے) میں نے اس لئے اس الزام کی تحقیق کرانا چاہی تھی۔ تاکہ عزیز مصر کو اطیمنان ہوجائے کہ میں احسان فراموش نہیں ہوں۔ لم اخنہ۔ لم اخن۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ واحد متکلم ہ ضمیر واحد مذکر غائب عزیز مصر کے لئے ہے۔ میں نے اس کے ساتھ خیانت نہیں کی۔ بالغیب۔ اس کی غیر حاضری میں۔ اس کی پیٹھ پیچھے۔ لا یھدی۔ کامیاب نہیں کرتا۔ چال کو سیدھی راہ پر (کامیابی کی راہ پر) نہیں چلنے دیتا۔ الخائنین۔ خیانت کرنے والے۔ دغاباز۔ خیانۃ سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–53

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53 (ائتونی : میرے پاس لاؤ) ( الرسول قاصد، بھیجا گیا) ( ارجع لوٹ جا) ( اسئل پوچھ ) (مابال کیا واقعہ) ( ما خطبکن تم کیا کہتی ہو ) (سوء برائی) ( آلئن اب) ( حصحص ظاہر ہوگیا ) (لم اخن میں نے خیانت نہیں کی) ( لایھدی وہ ہدایت نہیں دیتا) ( الخائنین خیانت کرنے والے) ( ما ابرئی میں بری نہیں کرتا) ( امارۃ حکم دینے والا ) (رحم ربی میرے رب نے رحم کردیا) تشریح آیت نمبر 50 تا 53 گزشتہ آیات میں تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا تھا کہ جب بادشاہ کا ساقی حضرت یوسف کے پاس بادشاہ مصر کے خواب کی تعبیر پوچھنے گیا تو حضرت یوسف نے نہ صرف خواب کی وہ تعبیر بتائی جس سے بادشاہ کی دلی بےچینی دور ہوگئی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نے یہ درخواست اس سبب سے کی تھی تاکہ عزیز مصر کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیبت میں اس کی امانت میں خیانت نہیں کی۔ اس کے اہل خانہ کی حرمت اور اس کی تربیت کا حق ہے میں نے ہمیشہ ملحوظ رکھا۔ اور وہ یہ بات بھی جان لے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو رسوا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–56

[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–56

نفس امارہ کی شورشیں ! (ف 1) نفس کا اطلاق قرآن میں کئی معنوں میں ہوا ہے نفس کے معنی خون تن کے اور عین کے ہیں اور روح یا جان کے بھی ۔ تاکید کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے ، یہاں سے مراد ترغیبات کا وہ مرکزی شعور ہے جو گناہوں کی تحریک پیدا کرتا ہے اور برائی کے لیے گوناگوں جواز کے پہلو تلاش کرتا ہے یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ نفس بشری کا تقاضا تو یہی تھا کہ میں دعوت معصیت کو قبول کرتا اور بالخصوص ان حالات میں جب کہ خود عزیزہ مصر اظہار تعشق کر رہی تھی ، مگر نفس نبوی نے روکا پیغمبرانہ عقاف و عصمت آڑے آئی اور میں فسق و فجور کے دام تزویر سے صاف بچ کر نکل گیا اب حضرت یوسف (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

52 ۔ غرض بادشاہ کی اس تمام کا رسوائی کی اطلاع یوسف (علیہ السلام) کو دی گئی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا اس تحقیقات اور مقدمہ پر نظر ثانی سے میر غرض یہ تھی کہ عزیر کو معلوم ہوجائے کہ میں نے عزیر کی پیٹھ پیچھے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کے ناموس میں کوئی خیانت نہیں کی اور یہ بھی اپنے معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کی چال اور دائوں کو چلنے نہیں دیتا ۔ عزیر مصر کو یقین تو پہلے ہی تھا اس صفائی سے اور پختہ یقین ہوا ہوگا ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس کی وضاحت کہ میں نے اس بات کی وضاحت کرنا ضروری کیوں سمجھا ۔ 64 زیر نظر آیت کا ترجمہ تین طرح سے کیا گیا ہے اور تینوں طرح سے کیا جاسکتا ہے اس لئے کسی ایک ترجمہ کو جو دوسرے پر ترجیح دینا ہے تو وہ فقط اپنے اپنے استدلال سے ہی ترجیح دی جاسکتی ہے اس لئے آزادی کے ساتھ جس کی طرف رغبت مضمون زیادہ سمجھیں خود نسبت دے لیں اس لئے ہم سب سے پہلے ان تینوں طرح کے ترجمہ کی وضاحت کرتے ہیں تاکہ بات کو سمجھا جاسکے کہ تینوں طرح کا ترجمہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ ۔ 1 یہ میں نے اس لئے کہا کہ اس (یوسف) کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس (یوف) کی خیانت نہیں کی نیز اس لئے کہ (واضح ہوجائے) اللہ خیانت کرنے والوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the second (52) of the two verses cited above, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) has himself pointed out to two considerations implied in the way he acted and in the option of delaying his release. The first consideration was: ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ. It means: I delayed my release so that the ` Aziz of Misr comes to know for sure that I did not betray him in any way during his absence. He was so concerned about making the ` Aziz of Misr become assured of his innocence because he thought it would be terrible if the ` Aziz of Misr continues to harbour doubts in his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

46. Prophet Joseph might have said these words in the prison when he came to know the result of the inquiry. But some commentators, including great scholars like Ibn Taimiyyah and Ibn Kathir, regard this sentence to be a continuation of the preceding speech of the wife of Al-Aziz. They argue that this sentence has been placed contiguous to her preceding speech without any dividing word between them to indicate that her speech had ended at“indeed, he is surely of the truthful”, and that the succeeding words were spoken by Prophet Joseph. They construe that if two speeches made by two different…

Read the full tafseer →