Explained with ayahs 50–52
تعبیر کی صداقت اور شاہ مصر کا یوسف ؑ کو وزارت سونپنا
خواب کی تعبیر معلوم کر کے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقت سے مطلع کیا۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آگیا۔ ساتھ ہی اسے بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف ؑ بڑے ہی عالم فاضل شخص ہیں۔ خواب کی تعبیر میں تو آپ کو کمال حاصل ہے۔ ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے حسن تدبیر والے اور خلق اللہ کا نفع چاہنے والے اور محض بےطمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ خود آپ سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاؤ حضرت یوسف ؑ کو جیل خانے سے آزاد کر کے میرے پاس لے آؤ۔ دوبارہ قاصد آپ کے پاس آیا اور بادشاہ کا پیغام پہنچایا تو آپ نے فرمایا میں یہاں سے نہ نکلوں گا جب…
Read the full tafseer →سورة یُوْسُف 44
ممکن ہے کہ شاہی محل میں ان تمام خواتین کو جمع کر کے یہ شہادت لی گئی ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ بادشاہ نے کسی معتمد خاص کو بھیج کر فردا فردا ان سے دریافت کرایا ہو۔
سورة یُوْسُف 45
اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان شہادتوں نے کس طرح آٹھ نو سال پہلے کے واقعات کو تازہ کردیا ہوگا، کس طرح حضرت یوسف ؑ کی شخصیت زمانہ قید کی طویل گمنامی سے نکل کر یکایک پھر سطح پر آگئی ہوگی، اور کس طرح مصر کے تمام اشراف معززین، متوسطین اور عوام تک میں آپ کا اخلاقی وقار قائم ہوگیا ہوگا۔ اوپر بائیبل اور تلمود کے حوالہ سے یہ بات گزر چکی ہے کہ بادشاہ نے اعلان عام کر کے تمام مملکت کے دانشمندوں اور علماء اور پیروں کو…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
کہا کہ تمہارا کیا واقعہ ہے جب تم نے یوسف ؑ سے اپنے مطلب کی خواہش کی (یعنی ایک نے خواہش کی اور بقیہ نے اس کی مدد کی کہ اعانت فعل میں مثل فعل کے ہے اس وقت تم کو کیا تحقیق ہوا شاید بادشاہ نے اس طور پر اس لئے پوچھا ہو کہ مجرم سن لے کہ بادشاہ کو اتنی بات معلوم ہے کہ کسی عورت نے ان سے اپنا مطلب پورا کرنے کی بات کی تھی شاید اس کا نام بھی معلوم ہو اس حالت میں انکار نہ چل سکے گا پس اس طرح شاید خود اقرار کرلے) عورتوں نے جواب دیا کہ حاش للہ ہم کو ان میں ذرا بھی تو برائی کی بات نہیں معلوم ہوئی (وہ بالکل پاک صاف ہیں شاید عورتوں نے زلیخا کا وہ اقرار اس لئے ظاہر نہ کیا ہو کہ مقصود یوسف ؑ کی پاک…
Read the full tafseer →قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔
عورتوں کے واقعہ کی تحقیق : یہاں بھی قرینہ کی وضاحت کی بنا پر اتنا حصہ محذوف ہے کہ قاصد نے حضرت یوسف کی بات بادشاہ کو پہنچا دی۔ چناچہ بادشاہ نے ان عورتوں کو بلوایا اور ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا ماجرا ہے جب کہ تم نے یوسف کو پھسلانے کی کوشش کی ؟ بادشاہ کے سوال کے الفاظ یہ سب بات بالکل واضح ہے کہ کم از کم اس مرحلے میں اس پر یہ حقیقت بالکل واضح ہوچکی…
Read the full tafseer →51۔ 1 بادشاہ کے استفسار پر تمام عورتوں نے یوسف ؑ کی پاک دامنی کا اعتراف کیا۔
51۔ 2 اب زلیخا کے لئے بھی یہ اعتراف کئے بغیر چارہ نہیں رہا کہ یوسف ؑ بےقصور ہے اور یہ پیش دستی میری ہی طرف سے ہوئی تھی، اس فرشتہ صفت انسان کا اس لغزش سے کوئی تعلق نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
33: حضرت یوسف ؑ کی تواضع اور عبدیت کا کمال دیکھئے کہ اس موقع پر جب ان کی بےگناہی خود ان عورتوں کے اعتراف سے ثابت ہوگئی، تب بھی اس پر اپنی بڑائی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے یہ فرما رہے ہیں کہ میں اس انتہائی خطرناک جال سے جو بچا ہوں اس میں میرا کوئی کمال نہیں نفس تو میرے پاس بھی ہے جو انسان کو برائی کی تلقین کرتا رہتا ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اس کے فریب سے بچا لیتا ہے، البتہ دوسرے دلائل سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ رحم و کرم اسی پر ہوتا ہے جو گناہ سے بچنے کے لئے اپنی سی کوشش کر گزرے، جیسے حضرت یوسف ؑ نے دروازے تک بھاگ کر کی تھی اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →اب یہ فرستادہ واپس ہوتا ہے ، رپورٹ دیتا ہے ، لیکن قرآن کریم کی درمیانی کڑیاں انسانی تخیل پر چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ تحقیقاتی مجلس کا منظر :
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ : اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت کیا تمہارا کیا تجربہ ہے اس وقت کا جب تم نے یوسف کو رجھانے کی کوشش کی تھی ؟
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر کے گھر کیا ہوتا رہا ؟ پھر عورتوں نے اپنی مجلس میں جو گفتگو کی…
Read the full tafseer →5 بادشاہ نے دریافت کرنے کا ایسا عنوان اختیار کیا گویا وہ پہلے سے خبر رکھتا ہے تاکہ یہ دیکھ کر انھیں جھوٹ بولنے کی ہمت نہ ہو۔ نیز یوسف (علیہ السلام) کی استقامت و صبر کا اثر پڑا ہوگا کہ بدون اظہار برأت کے جیل سے نکلنا گوارا نہیں کرتے اور " اِنَّ رَبِّی بِکَیْدِ ہِنَّ عَلِیْمٌ" کہہ کر ان کے " کید " کا اظہار فرما رہے ہیں۔ ادھر ساقی وغیرہ نے واقعات سنائے ہوں گے ان سے بھی یوسف کی نزاہت اور عورتوں کے مکائد کی تائید ملی ہوگی۔
6 سب عورتوں کی متفقہ شہادت کے بعد خود زلیخا نے بھی صاف اقرار کرلیا کہ قصور میرا ہے۔ یوسف بالکل سچے ہیں۔ بیشک میں نے ان کو اپنی جانب مائل کرنا چاہا تھا۔ لیکن وہ ایسے کا ہے کو تھے…
Read the full tafseer →قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۗءٍ
اس وقت جو کچھ بھی ہوا تھا وہ سب ہماری طرف سے تھا ‘ یوسف علیہ السلام کی طرف سے کوئی غلط بات ہم نے محسوس نہیں کی۔
قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ
اس طرح عزیز کی بیوی کو اس حقیقت کا برملا اظہار کرنا پڑا کہ یوسف علیہ السلام نے نہ تو زبان سے کوئی غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی اس کے کردار میں کوئی کھوٹ ہے۔
Read the full tafseer →50 عورتوں کا اعتراف جرم :۔ اب صورت حال یہ بن گئی تھی کہ بادشاہ خود سیدنا یوسف کے معاملہ میں ذاتی دلچسپی لینے لگا تھا۔ اس نے فوراً اس تکیہ دار دعوت میں شریک ہونے والی سب عورتوں کو بلا کر گواہی طلب کی اور گواہی سے پہلے بادشاہ کا یہ کہنا کہ جب تم نے یوسف کو ورغلانا چاہا تھا سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ کو اس واقعہ کی خبر ضرور تھی۔ البتہ اس نے اعیان سلطنت کی رائے کے علی الرغم اس واقعہ کی تحقیق کو کچھ اہمیت نہ دی تھی۔ ان عورتوں کو بھی اب موقعہ کی نزاکت خوب معلوم تھی کہ اب سچ کہے بغیر چارہ نہیں۔ چناچہ انہوں نے صاف صاف اعتراف کرلیا کہ یوسف بالکل بےقصور ہے اس نے ہم میں سے کسی کو بھی میلی آنکھ سے دیکھا…
Read the full tafseer →101۔ (یعنی آیا تم نے ان میں اپنی جانب رغبت والتفات پایا تھا ؟ ھل وجدتن فیہ میلا (کشاف) اب وہ ” لیڈیاں “ دربار میں بلائی گئی ہیں اور ان سے تحقیقات شروع ہوئی ہے۔
102۔ (اور ہماری شہادت ہے کہ وہ بالکل پاک وصاف ہیں) (آیت) ” حاش للہ “۔ کلمہ تعجب یوسف (علیہ السلام) کے کمال عصمت وپاکبازی کے اظہار کے لئے ہے۔ قلن حاشا للہ تعجبا من عفتہ وذھابہ بنفسہ عن شیء من الریبۃ ومن نزاھتہ عنھا (کشاف) (آیت) ” من سوٓء “۔ یعنی کسی قسم کی بھی برائی، کوئی شائبہ بھی برائی کا ان میں نہ پایا۔
103۔ زلیخا نے جب دیکھا کہ بڑی چھوٹی سب شہادتیں اس کے خلاف ہی گزر گئیں تو اب صاف لفظوں میں اقرار کرلیا کہ قصور سرتاسر میرا ہے دامن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–52
آیت نمبر 43 تا 52
ترجمہ : مصر کے بادشاہ ریان بن ولید نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات فربہ گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں (عجاف) عجفاء کی جمع ہے اور سات ہری بالیں ہیں اور دوسری سات خشک بالیں ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر لپٹی ہوئی ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر غالب آگئی ہیں، اے درباریو تم میرے خواب کی تعبیر بتاؤ، اگر تم تعبیر بتاسکتے ہو تو بتاؤ درباریوں نے خواب دیا یہ منتشر خیالات کے خواب ہیں اور ہم منتشر خیالات کے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے، اور اس نوجوان نے جو دو نوجوانوں میں سے (جیل سے) رہا ہوا تھا اور وہ ساقی تھا جس کو ایک مدت دراز کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا حال یاد…
Read the full tafseer →قال ما خطبکن کہا : تمہارا کیا واقعہ ہے ‘ جواب دو ۔ خطب اس امر کو کہتے ہیں جس کا خطاب کیا جاسکے۔ یعنی صاحب واقعہ سے پوچھا جاسکے۔ بادشاہ نے سب عورتوں سے خطاب کیا ‘ اس سے مراد یا تو صرف عزیز کی بیوی سے خطاب کرنا تھا ‘ یا سب عورتیں مخاطب تھیں کیونکہ سب نے حضرت یوسف کو مکر کے ساتھ اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ سب نے زلیخا کا کہا ماننے کا مشورہ دیا تھا۔
ازروادنن یوسف عن نفسہ جبکہ یوسف کو تم نے پھسلایا تھا۔ یعنی کیا تم میں سے کسی نے حضرت یوسف کو اپنی طرف مائل ہوتے پایا جبکہ تم نے ان کو بہکانے کی سازش کی تھی۔
قلن حاش اللہ انہوں نے کہا : پاکی ہے اللہ کیلئے اور تعجب ہے کہ اللہ نے حضرت یوسف کو کیسا…
Read the full tafseer →(51) چناچہ اس قاصد نے آکر بادشاہ کو یہ پیغام پہنچایا تو بادشاہ نے ان عورتوں کو جمع کیا اور یہ چار عورتوں تھیں، شراب پلانے والے کی بیوی، باورچی کی بیوی، دربان کی بیوی، اور جیل خانہ کے داروغہ کی بیوی اور زلیخا اور بادشاہ کے علاوہ مصر میں ان عورتوں پر کسی کا زور نہیں تھا۔
بادشاہ نے ان سے کہا کہ تمہارا کیا واقعہ ہے جب تم نے یوسف ؑ سے اپنے مطلب کی خواہش کی۔
عورتوں نے جواب دیا نعوذ باللہ ہم نے ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔
عزیز کی بیوی کہنے لگی اب تو یوسف ؑ کے بارے میں سچی بات ظاہر ہو ہی گئی سچ یہی ہے کہ میں نے ہی خود ان سے اپنے مطلب کی خواہش کی تھی اور بیشک یوسف ؑ ہی اپنے اس قول میں کہ میں نے اس…
Read the full tafseer →قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ۔۔ : بادشاہ نے ان تمام خواتین کو طلب کرلیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس دوران میں وہ معاملے کی پوری تحقیق کرچکا تھا اور یوسف کی بےگناہی اور عورتوں کے فریب سے آگاہ ہوچکا تھا، اس لیے اس نے یہ نہیں کہا کہ تمہارا قصور تھا یا یوسف کا، بلکہ ان سے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ جب تم نے یوسف ؑ کو اس کے نفس سے پھسلایا تھا، تمہارے اس معاملے کی حقیقت کیا تھی ؟ یعنی آخر اس کا کیا جرم تھا جس کی وجہ سے اسے اتنی دیر قید خانے میں رکھا گیا ؟ وہ سب بیک زبان بولیں : ”اللہ کی پناہ ! ہم نے اس پر کوئی برائی معلوم نہیں کی۔“ ہاتھ کاٹنے والیوں نے جب یوسف ؑ کو کسی بھی قسم کی برائی سے پاک قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
آیت نمبر 50 تا 51
وقال الملک ائتونی بہٖ یعنی قاصد گیا اور بادشاہ کو خبر دی تو بادشاہ نے کہا : ائتونی بہٖۚفلما جآءہ الرسول یعنی اس نے آپ کو نکلنے کے لیے کہا تو آپ نے فرمایا : ارجع الیٰ ربک فسئلہ مابال النسوۃ یعنی عورتوں کی حالت الٰتی قطعن ایدیھن، تو آپ نے نکلنے سے انکار کردیا یہاں تک کہ بادشاہ کے نزدیک آپ کی برأت ثابت ہوجائے اور یہ ثابت ہوجائے کہ آپ بغیر جرم کے قید میں رہے۔ ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ئ فرمایا : ” کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن اسحاق بن ابراہیم ہیں “۔ آپ نے فرمایا : ” اگر میں قید خانہ میں اتنی مدت رہتا جتنی مدت حضرت یوسف (علیہ السلام) رہے تھے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
1:۔ احمد وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ آیت (آیت ) ” فلما جآءہ الرسول قال ارجع الی ربک فسئلہ مابال النسوۃ التی قطعن ایدیھن “ تلاوت فرمائی اور فرمایا اگر میں ہوتا تو جلدی سے دعوت کو قبول کرلیتا اور اپنے عذر کو طلب نہ کرتا۔
2:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یوسف (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ وہ کتنے برداشت کرنے والے اور حلم والے تھے۔ اگر میں قید میں ہوتا پھر میری طرف بلاوا آتا تو میں جلدی سے باہر نکل جاتا۔
حضرت…
Read the full tafseer →[قَالَ : (بادشاہ نے) کہا ] [ مَا : کیا ] [ خَطْبُكُنَّ : تم عورتوں کا مدّعا تھا ] [ اِذْ : جب ] [ رَاوَدْتُّنَّ : تم عورتوں نے پھسلایا ] [ يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کو ] [ عَنْ نَّفْسِهٖ : اس کے نفس نے ] [ۭ قُلْنَ : انھوں نے کہا ] [حَاشَ للّٰهِ : پاکیزگی اللہ کی ہے ] [مَا عَلِمْنَا : ہم نے نہیں جانی ] [عَلَيْهِ : اس پر ] [ مِنْ سُوْۗءٍ : کوئی بھی برائی ] [ قَالَتِ : کہا ] [ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ : عزیز کی عورت نے [ الْــٰٔنَ : اب ] [ حَصْحَصَ : سامنے آگیا ] [ الْحَقُّ : حق ] [انا : میں نے ] [رَاوَدْتُّهٗ : پھسلایا اس کو ] [عَنْ نَّفْسِهٖ : اس کے نفس سے ] [ وَانهٗ : اور بیشک وہ [ لَمِنَ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
بادشاہ کا آپ کو دوبارہ طلب کرنا اور معاملہ کی صفائی کے بعد آپ کا بادشاہ کے پاس پہنچنا اور زمین کے خزانوں کا ذمہ دار بننا
مصر کے بادشاہ نے اپنے خواب کی تعبیر سنتے ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس بلانے کی فرمائش کردی تھی اور اس مقصد کے لیے قاصد کو ان کے پاس جیل میں بھیج دیا تھا لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس وقت تک جیل سے نکلنا گوارہ نہ فرمایا جب تک عزیز کی بیوی کی لگائی ہوئی تہمت سے برأت نہ ہوجائے۔ اس لیے قاصد سے فرمایا کہ جاؤ اپنے آقا سے کہو کہ معاملہ کی تحقیق کرے اور عورتوں سے پوچھے کہ صحیح صورت حال کیا ہے ؟ بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
شاہ مصر کا یوسف (علیہ السلام) کو ملاقات کے لئے طلب کرنا
قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ جاء ہ الرسول .... الیٰ .... لا یھدی کید الخائنین
(ربط) یوسف (علیہ السلام) نے جب بادشاہ کے قاصد کو خواب کی تعبیر دے دی تو قاصد نے آکر بادشاہ سے خواب کی تعبیر بھی بیان کی اور یہ بھی بیان کیا کہ یوسف صدیق نے آنے والے قحط کی یہ تدبیر بتلائی ہے تو بادشاہ سن کر حیران رہ گیا اور اس حسن تعبیر اور حسن تدبیر سے یوسف (علیہ السلام) کی جلالت شان کا سکہ اس کے دل پر بیٹھ گیا۔ فورا حکم دیا کہ ایسے شخص کو میرے پاس لاؤ تاکہ میں اس کی دید اور لقاء سے بہرہ اندوز ہوں اور اس کی لیاقت اور قابلیت کے مطابق اس کا اعزازو اکرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
43:۔ یہ پندرہ احوال میں سے نواں حال ہے ساقی نے جب شاہ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بتائی ہوئی تعبیر بیان کی اور ساتھ ہی غلے کو ذخیرہ کرنے کا جو طریقہ انہوں نے بتایا تھا اس سے ذکر کیا تو شاہ مصر نے محسوس کیا کہ اس کے قید خانے میں ایک ایسا صاحب علم و بصیرت شخص موجود ہے جو اس کے دربار کی رونق ہونا چاہئے اور اس کے علم و تدبر اور فہم و فراست سے ملکی معاملات میں استفادہ کرنا چاہئے اس لیے انہیں فوراً اپنے پاس حاضر کرنے کا حکم دیا ” وَاْتُوْنِی بِہٖ “ لما راٰی من علمہ و فضلہ واخبارہ عما لا یعلمہ الا اللطیف الخبیر (روح ج 12 ص 257 ۔
44:۔ شاہ کا فرستادہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
ربط آیات
یوسف (علیہ السلام) سالہا سال تک قید میں پڑے رہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کے خواب کو ان کی رہائی کا سبب بنا دیا ‘ بادشاہ کو خواب آیا ‘ اس نے درباریوں سے تعبیر پوچھی مگر وہ سب عاجز آگئے۔ پھر جیل سے رہا ہونے والے ساقی نے پیشکش کی کہ وہ ایک قیدی سے خواب دریافت کرسکتا ہے۔ بادشاہ کی اجازت سے یوسف (علیہ السلام) سے خواب کی تعبیر پوچھی گئی تو انہوں نے نہ صرف تعبیر بتادی بلکہ آنے والے حالات سے متعلق نہایت مفید مشورے بھی دیے۔ یہ تعبیر پاکر بادشاہ کی تسلی ہوگئی کیونکہ یہ خواب منجانب اللہ تھا اور یوسف (علیہ السلام) نے اللہ کے عطا کردہ علم کے ذریعے اس کی تعبیر بنائی تھی۔ بہرحال بادشاہ یوسف…
Read the full tafseer →قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِہٖ 0ۭ قُلْنَ حَاشَ لِلہِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْہِ مِنْ سُوْۗءٍ 0ۭ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ 0ۡاَنَا رَاوَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ 51
خطب ( حال)
الخَطْبُ «2» والمُخَاطَبَة والتَّخَاطُب : المراجعة في الکلام، والخَطْبُ : الأمر العظیم الذي يكثر فيه التخاطب، قال تعالی: فَما خَطْبُكَ يا سامِرِيُّ [ طه/ 95] ، فَما خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ [ الذاریات/ 31]
( خ ط ب ) الخطب
والمخاطبۃ والتخاطب ۔ باہم گفتگو کرنا ۔ ایک دوسرے کی طرف بات لوٹانا ۔ الخطب ۔ اہم معاملہ جس کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
1 ؎ عورتوں کو بلا کر اصل مقدمہ کی تحقیق کرنی شروع کی۔ عورتوں نے یوسف کی پاکدامنی کی شہادت دی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَ مَا خَطْبُکُنَّ اِذْرَا وَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِہٖ ط قُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَاعَلِمْنَا عَلَیْہِ مِنْ سُوْٓئٍ ط قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ز اَنَا رَاوَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 51)
(بادشاہ نے ان عورتوں کو بلا کر) کہا، تمہارا کیا ماجرا ہے جب تم نے یوسف ( علیہ السلام) کو پھسلانے کی کوشش کی۔ وہ بولیں حَاشَالِلّٰہِ ہم نے اس میں کوئی بُرائی نہیں دیکھی۔ عزیز کی بیوی بولی اب حق آشکارہ ہوگیا۔ میں نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی۔ بیشک وہ راست بازوں میں سے ہے۔ )
بیگماتِ مصر کے واقعہ کی تحقیق
بادشاہ نے بیگماتِ مصر کو بلا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اہلکار کا واپس جاکر بادشاہ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا جواب بتلانا۔ اور بادشاہ کا ان عورتوں کو طلب کرنا۔
بادشاہ پہلے ہی خواب کی تعبیر اور اس کا حل جان کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت اور صلاحیت سے بےحد متاثر ہوچکا تھا۔ جب اس کے اہلکار نے جاکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں بتلایا کہ وہ اس حالت میں جیل سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو بادشاہ نے سوچا کہ ایسے شخص کو جیل میں رکھنا ملک و ملت کا نقصان کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے اس نے فی الفور ہاتھ کاٹنے والی عورتوں کو طلب کرکے ان سے استفسار کیا کہ مجھے ٹھیک ٹھیک بتاؤ تمہارے ہاتھ زخمی کرنے کا کیا سبب…
Read the full tafseer →شاہی تفتیش :
51: جب بادشاہ کا قاصد واپس لوٹ کر آیا تو بادشاہ نے ان ہاتھ کاٹنے والی عورتوں کو بلایا۔ اور عزیز کی عورت کو بھی بلایا اور کہا قَالَ مَاخَطْبُکُنَّ (تمہارا کیا معاملہ ہے)
اِذْرَا وَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِہٖ (جب کہ تم نے یوسف کو پھسلایا) کیا تم نے اسکی طرف سے اپنے لئے ذرہ بھر میلان پایا۔ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ (تو انہوں نے کہا پناہ بخدا) اسکی قدرت جس نے ایسا پاک باز بنایا ہے۔ مَاعَلِمْنَا عَلَیْہِ مِنْ سُوْئٍ (ہم نے ان کے متعلق ذرہ بھی برائی نہیں پائی) سوء سے گناہ مراد ہے۔ قَالَتِ امْرَاَۃُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ (عزیز کی بیوی کہنے لگی اب حق واضح ہوگیا) ظاہر اور…
Read the full tafseer →51۔” قال “ ان سب عورتوں کو کہا ” ما خطبکن “ کیا ہے تمہاری شان اور تمہارا معاملہ ۔” اذ راو دتن یوسف عن نفسہ “ ان عورتوں کو خطاب کیا اور مراد عزیز کی بیوی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ عزیز کی بیو ی نے یوسف (علیہ السلام) کو پھسلایا تھا اور باقی تمام عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کو اس کی بات ماننے کا کہا تھا اس لیے ان سب کو خطاب کیا ہے۔ ” لن حاشاء اللہ ‘ ‘ اللہ کی پناہ ” ما علمنا علیہ من سوء “ ہم نے نہیں دیکھی اس میں خیانت ” قالت امراۃ العزیز الان حصص الحق “ اب حق ظاہرہو گیا ۔ بعض نے کہا ہے کہ عورتیں عزیز کی بیوی کی طرف متوجہ ہو کر اس سے اقرار کرانے لگیں تو اس نے اقرار کیا اور بعض نے کہا ہے کہ اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
50۔ 51۔ جب ساقی نے بادشاہ کی حضور میں یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر کا حال بیان کیا تو بادشاہ مصر کو وہ تعبیر بہت پسند آئی اور یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل کو اس نے بخوبی پہچان لیا اور جان لیا کہ یہ شخص نہایت ہی صاحب کرامات ہے اس لئے پھر بادشاہ نے اپنا قاصد یوسف (علیہ السلام) کو بلانے کے واسطے بھیجا کہ ان کو قید خانہ سے نکال کر میرے دربار میں لاؤ جب قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو آپ نے قید خانہ کے نکلنے سے انکار کیا اور کہا کہ جب تک بادشاہ اس بات کو تحقیق نہ کرلے کہ میں بےجرم قید خانہ میں داخل ہوا ہوں اور جو تہمت مجھ پر لوگوں نے دھری ہے اس سے جب تک میں بری نہ ثابت ہو لوں اور جب تک…
Read the full tafseer →بادشاہ نے ان عورتوں کو بولایا اور ان سے پوچھا (ماخطبکن ) ” تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ “ (اذ راودتن یوسف عن نفسہ) ’ دجب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلانا چاہا تھا ؟ “ کیا تم نے یوسف میں کوئی برائی دیکھی ؟ ان عورتوں نے یوسف کی برأت کا اقرار کیا اور کہنے لگیں : (قلن حاش للہ ما علمنا علیہ من سوآء) ” حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ “ یعنی تھوڑا یا بہت ہم نے اس میں کوئی عیب نہیں دیکھا۔ تب وہ سبب زائل ہوگیا جس پر تہمت کا دار و مدار تھا۔ اب کوئی سبب باقی نہ بچا سوائے اس الزام کے جو عزیز مصر کی بیوی نے لگایا تھا۔ (قالت امرات العزیز الئن حصص الحق) ” عزیز کی بیوی نے کہا، اب حق واضح ہوگیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
قول باری ہے وقال الملک ائتونی بہ فلما جاء ہ الرسول قال ارجع الی ربک فاسئلہ ما بال النسوۃ الاتی قطعن ایدیھن ان ربی بکیلہ ھن علیہ۔ بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لائو ، مگر جب شاہی فرستادہ یوسف کے پاس پہنچا تو اس نے کہا : اپنے رب کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کر ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے میرا رب تو ان کی مکاری سے واقف ہی ہے۔
ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فوری طور پر بادشاہ کے پاس جانے کو تسلیم نہیں کیا بلکہ شاہی قاصد کو یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ پہلے ان عورتوں سے ماملہ کی اصل حقیقت معلوم کرلی جائے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے تا کہ اس معاملہ میں آپ کی پاک…
Read the full tafseer →87۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عفت و پاکدامنی کا اعلان و اقرار :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر ان سب عورتوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کہا کہ اللہ کی پناہ اس کے اندرہم نے برائی کا کوئی شائبہ تک نہیں پایاسو اس طرح ان سب نے اس امر کی تصریح کردی کہ یوسف نے کوئی جرم نہیں کیا یعنی معاذ اللہ یوسف نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا۔ ان کا دامن ایسے ہر داغ دھبے سے پاک اور صاف ہے۔ سو یہ ایک بڑاشرف اور اعزاز ہے کہ مدعی خود اپنے جھوٹا ہونے کا اور ملزم کے پاک اور بری ہونے کا اقرار و اعتراف کرے۔ والفضل ماشہدت بہ الاعداء کما قال بہ الزمخشری۔ بادشاہ کے سوال کے الفاظ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
آیات 50 تا 57
اسرار و معارف
بہتان والزام سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیئے
چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس آدمی کو ہمارے روبرولایا جائے کہ ہم خود اس سے تعبیر سننا چاہتے ہیں ۔ شاہی ہر کارہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا حکم لے کر حاضر ہوا اور بادشاہ کے طلب فرمانے کی خبردی تو آپ نے فرمایا کہ بادشاہ سے کہو پہلے میرے معاملہ کی تحقیق کرے اور درباری امراء کی ان خواتین سے اسفسار کیا جائے جنہوں نے ہاتھ کاٹ لئے تھے کہ وہ سارے معاملہ سے بخوبی واقف ہیں ۔ جو کچھ ہوا تھا زلیخا نے بھی ان کے سامنے اقرار کرلیا تھا اور جو کچھ انھوں نے سوچا تھا یا سفارش کی تھی یا مجھے دیکھنے اور پانے کا حیلہ کیا تھا میرا پروردگار…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ یعنی بادشاہ نے مقدمہ کی تحقیق کے سلسلہ میں عزیز مصر کی بیوی اور دوسری عورتوں سے پوچھا۔
8 ۔ سب کی طرف فریب کی نسبت اس لئے کہ دوسری عورتیں بھی عزیز مصر کی بیوی کی مددگار تھیں۔ مطلب یہ ہے کہ بادشاہ نے پوچھ کیا تم نے یوسف ( علیہ السلام) میں کوئی برائی دیکھی پھر آخر کیا وجہ ہے کہ اسے غیر معین عرصہ کے لئے جیل میں ڈال دیا گیا ؟
9 ۔ یعنی جب جیل میں حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو مقدمہ کے سلسلہ میں تحقیقات سے مطلع کیا گیا تو انہوں نے خود فرمایا۔ یہ (سب جھگڑا)…
Read the full tafseer →(12:51) قال۔ بادشاہ نے عورتوں کو بلا کر پوچھا !
ماخطبکن۔ تم عورتوں کا کیا معاملہ تھا۔ الخطب والمخاطبۃ والتخاطب باہم گفتگو کرنا۔ ایک دوسرے کی طرف بات لوٹانا اسی سے خطبۃ اور خطبۃ کا لفظ ہے لیکن خطبۃ وعظ و نصیحت کے معنی میں آتا ہے اور خطبۃ کے معنی ہیں نکاح کا پیغام۔ الخطب۔ اہم معاملہ جس کے بارے میں کثرت تخاطب ہو جیسے آیہ ہذا۔ فما خطبک یسامری۔ (20:95) (پھر سامری سے کہنے لگے) کہ سامری تیرا کیا معاملہ ہے۔
راودتین۔ تم (عورتوں) نے پھسلایا۔ تم نے بہلایا۔ مراودۃ سے جس کے معنی دوسرے کو کسی کام پر پھسلانا۔ یا امادہ کرنا جس کے کرنے کا وہ ارادہ نہ رکھتا ہو۔ ماضی جمع مؤنث حاضر۔ رود مادہ۔
حاش للہ۔ کلمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53
(ائتونی : میرے پاس لاؤ) ( الرسول قاصد، بھیجا گیا) ( ارجع لوٹ جا) ( اسئل پوچھ ) (مابال کیا واقعہ) ( ما خطبکن تم کیا کہتی ہو ) (سوء برائی) ( آلئن اب) ( حصحص ظاہر ہوگیا ) (لم اخن میں نے خیانت نہیں کی) ( لایھدی وہ ہدایت نہیں دیتا) ( الخائنین خیانت کرنے والے) ( ما ابرئی میں بری نہیں کرتا) ( امارۃ حکم دینے والا ) (رحم ربی میرے رب نے رحم کردیا)
تشریح آیت نمبر 50 تا 53
گزشتہ آیات میں تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا تھا کہ جب بادشاہ کا ساقی حضرت یوسف کے پاس بادشاہ مصر کے خواب کی تعبیر پوچھنے گیا تو حضرت یوسف نے نہ صرف خواب کی وہ تعبیر بتائی جس سے بادشاہ کی دلی بےچینی دور ہوگئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
یوسف (علیہ السلام) کا بےقصور ثابت ہونا اور زلیخا کا اپنے جرم کا اقرار کرنا
جب ساقی نے بادشاہ کے حضور میں یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر کا حال بیان کیا تو بادشاہ مصر کو وہ تعبیر بہت پسند آئی اور یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل کو اس نے بخوبی پہچان لیا اور جان لیا کہ یہ شخص نہایت ہی صاحب کرامات ہے۔ اس لئے پھر بادشاہ نے اپنا قاصد یوسف (علیہ السلام) کے بلانے کے واسطے بھیجا کہ ان کو قید خانہ سے نکال کر میرے دربار میں لاؤ۔ جب قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو آپ نے قید خانہ کے نکلنے سے انکار کیا اور کہا کہ جب تک بادشاہ اس بات کی تحقیق نہ کرلے کہ میں بےجرم قید خانہ میں داخل ہوا ہوں، اور جو تہمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–56
[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
(ف 1) چوبدار جب رہائی کا مژدہ لے کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا ، تو آپ نے فرمایا میں اس طرح جیل سے باہر آنے کے لئے طیار نہیں ، سب سے پہلے میرے جرم کی تحقیقات ہو ، اگر میں بےقصور ثابت ہوجاؤں تو پھر مجھے اس نوادش خسروانہ کے قبول کرنے میں دریغ نہ ہوگا ، ورنہ میں یہ نہیں کہلانا چاہتا کہ مجرم ہوں ، اور سزا کے دن پورے کرکے جیل سے رہائی حاصل کی ہے ۔
بادشاہ نے عورتوں کو بلایا اور پوچھا بتاؤ کیا تم یوسف (علیہ السلام) میں کوئی عیب پاتی ہو ، اور کیا تم نے یوسف (علیہ السلام) کو مائل کرنے کی کوشش کی تھی انہوں نے بالاتفاق اقرار کیا ، کہ یوسف (علیہ السلام) بےعیب ہے ، ہماری شرارت تھی کہ ہم نے اسے…
Read the full tafseer →51 ۔ بادشاہ نے ان عورتوں کو حاضر کر کے دریافت کیا جب تم یوسف (علیہ السلام) کو اپنا مطلب پورا کرنے کے لئے پھسلا میں ذرا سی بھی کوئی برائی کی بات نہیں معلوم ہوئی اس پر عزیر کی بیوی نے کہا اب تو حق اور سچی بات سب پر کھل گئی ہے۔ یعنی ادھر تو عورتوں نے صفائی کی گواہی دی اگرچہ انہوں نے مروت اور حیا کی وجہ سے زلیخا کا نام نہیں لیا جب عزیر کی بیوی نے یہ دیکھا تو مجبورا ً اس کو اقرار ہی کرنا پڑا اور پھر صاف بات کہنی ہی پڑی ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) نے سب کا فریب فرمایا اس واسطے کہ ایک کا فریب تھا اور اس کی مدد گار تھیں اور فریب والی کا نام نہیں لیا حق پرورش کو ! !
اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ف 1۔ یعنی وہ بالکل پاک وصاف ہیں۔
Read the full tafseer →بادشاہ نے ان عورتوں سے تحقیق حال کیا انہوں نے یوسف کی بریت کی گواہی دی
۔ 63 بادشاہ نے جب یہ سنا تو اس نے ان عورتوں کو بلوایا اور ان سے کہا کہ صاف صاف اور صحیح بتائو کہ اس معاملہ کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ جب کہ تم نے یوسف پر ڈورے ڈالے تھے تاکہ تم اس کو اپنی طرف مائل کرلو ؟ وہ یک زبان ہو کر بولیں ” حاشاء اللہ ہم نے اس میں برائی کی کوئی بات نہیں پائی۔ “ مجمع میں عزیز مصر کی بیوی بھی موجود تھی اور اب وہ عشق و محبت کی بھٹی میں خام بھی نہ تھی بلکہ کندن ہوچکی تھی اور ذلت و خوف کی رسوائی کے خوف سے آگے نکل چکی تھی ” اس نے جب یہ دیکھا کہ یوسف کی خواہش ہے کہ اصل حقیقت حال سامنے آجائے تو وہ بھی بےاختیار بول…
Read the full tafseer →Commentary
When the royal emissary delivered to Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) the order of his release and invited him to see the king, he asked him to first have his case investigated through the women who had cut their hands. His approach was based on many wise considerations. Allah Ta ala bestows on His prophets a perfect faith, He also gives them matching intelligence and insight into matters and conditions they have to face. From the tenor of the royal message, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) had deduced that the king of Egypt was going to confer some honour on him after his release from the…
Read the full tafseer →44. As regards to the way in which this inquiry was held, it is just possible that the king might have summoned the women to his presence or gotten their evidence through a trusted officer of his court.
45. The inquiry and the evidences must have helped to pave the way for Prophet Joseph’s rise in the land by concentrating the public attention on him, especially under the circumstances when the inquiry had been demanded by him. He had interpreted the dream of the king, when all the wise men, sooth sayers and the magicians had failed. Then he had refused to quit prison even though the king…
Read the full tafseer →