Yusuf 12:50

Yusuf · from ayah 50

12:50

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ ۚ— فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰی رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ ؕ— اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ ۟وَقَالَ الۡمَلِكُ ائۡتُوۡنِىۡ بِهٖ‌ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوۡلُ قَالَ ارۡجِعۡ اِلٰى رَبِّكَ فَسۡـئَلۡهُ مَا بَالُ النِّسۡوَةِ الّٰتِىۡ قَطَّعۡنَ اَيۡدِيَهُنَّ‌ؕ اِنَّ رَبِّىۡ بِكَيۡدِهِنَّ عَلِيۡمٌ

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the king said, "Bring him to me." But when the messenger came to him, [Joseph] said, "Return to your master and ask him what is the case of the women who cut their hands. Indeed, my Lord is Knowing of their plan."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 7 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:50

بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ مگر جب شاہی فرستادہ یوسفؑ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا "اپنے رب کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ اُن عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ میرا رب تو ان کی مکاری سے واقف ہی ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بادشاه نے کہا یوسف کو میرے پاس لاؤ، جب قاصد یوسف کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا، اپنے بادشاه کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے، تھے؟ ان کے حیلے کو (صحیح طور پر) جاننے واﻻ میرا پروردگار ہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور بادشاہ نے کہا کہ : اس کو (یعنی یوسف کو) میرے پاس لے کر آؤ۔ چنانچہ جب ان کے پاس ایلچی پہنچا تو یوسف نے کہا : اپنے مالک کے پاس واپس جاؤ، اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈا لے تھے ؟ میرا پروردگار ان عورتوں کے مکر سے خوب واقف ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بادشاہ بولا کہ انہیں میرے پاس لے آؤ تو جب اس کے پاس ایلچی آیا کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس پلٹ جا پھر اس سے پوچھ کیا حال ہے اور عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے، بیشک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (یہ تعبیر سنتے ہی) بادشاہ نے کہا: یوسف ؑ کو (فورًا) میرے پاس لے آؤ، پس جب یوسف ؑ کے پاس قاصد آیا تو انہوں نے کہا: اپنے بادشاہ کے پاس لوٹ جا اور اس سے (یہ) پوچھ (کہ) ان عورتوں کا (اب) کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے؟ بیشک میرا رب ان کے مکر و فریب کو خوب جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ، تو جب قاصد اس کے پاس آیا تو اس نے کہا اپنے مالک کے پاس واپس جا، پھر اس سے پوچھ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، یقینا میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بادشاہ نے (جب یہ تعبیر سنی تو) کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لاؤ۔ مگر جب پیغام لے جانے والا یوسف کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا : اپنے مالک (بادشاہ مصر) کے پاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ : ان عورتوں والا معاملہ کیسا ہے۔ جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے ؟ میرا پروردگار تو ان کے چلتروں کو خوب جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بادشاہ نے کہا کہ اس کو میرے پاس لاؤ۔ پس جب قاصد اس کے پاس آیا اس نے کہا کہ تم اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور اس سے دریاف کرو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ زخمی کرلیے تھے ؟ بیشک میرا رب ان کید سے خوب واقف ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بادشاہ نے (یہ تعبیر سنتے ہی) کہا کہ اس شخص کو (فورا !) میرے پاس لے آؤ، مگر جب اس کا قاصد یوسف کے پاس پہنچا، تو آپ نے فرمایا کہ تم واپس جاؤ اپنے مالک کے پاس، اور اس سے پوچھو کہ کیا معاملہ ہے ان عورتوں کا جنہوں نے کاٹ ڈالا تھا اپنے ہاتھوں کو، (تاکہ لوگوں کے سامنے اصل حقیقت کھل جائے ورنہ) میرا رب تو یقینا ان کی مکاری کو خوب جانتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور بادشاہ نے کہا میرے پاس تو لاؤ۔ پھر جب قاصد ان کے پاس پہنچا تو (یوسف ؑ نے) کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جا اور اس سے دریافت کر کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ زخمی کرلئے تھے۔ بیشک میرا پروردگار عورتوں کے چرتر سے خوب واقف ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(یہ سن کر) بادشاہ نے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لے آؤ پھر جب آیا آپ کے پاس ایلچی تو آپ نے فرمایا کہ تم واپس چلے جاؤ اپنے آقا کے پاس اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے یقیناً میرا رب ان کی چالوں سے خوب واقف ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آئو۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے، بیشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The king said: "Bring this man to me." But when the royal messenger came to Joseph he said: "Go back to your master and ask him about the case of the women who had cut their hands. Surely my Lord has full knowledge of their guile."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (when this person went back and told the king about the interpretation of the dream), the king said, :Bring him to me. So, when the messenger came to Yusuf, he said, :Go back to your lord and ask him, _What is the case of the women who cut their hands?‘ Surely, my Lord knows well their guile.

— Muhammad Taqi Usmani

And (when this person went back and told the king about the interpretation of the dream), the king said, :Bring him to me. So, when the messenger came to Yusuf, he said, :Go back to your lord and ask him, _What is the case of the women who cut their hands?‘ Surely, my Lord knows well their guile.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the king said: "Bring him to me." But when the messenger came to him, [Yusuf] said: "Return to your king and ask him, `What happened to the women who cut their hands Surely, my Lord (Allah) is Well-Aware of their plot."'

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the king said: Bring him unto me. And when the messenger came unto him, he (Joseph) said: Return unto thy lord and ask him what was the case of the women who cut their hands. Lo! my Lord knoweth their guile.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the king said, "Bring him to me." But when the messenger came to him, [Joseph] said, "Return to your master and ask him what is the case of the women who cut their hands. Indeed, my Lord is Knowing of their plan."

— Saheeh International

The King ordered his people to bring Joseph into his presence. When the messenger came to Joseph, he (Joseph) said, "Ask your master about the women who cut their hands. My Lord knows all about their guile".

— Muhammad Sarwar

And the king said: Bring him to me. So when the messenger came to him, he said: Go back to your lord and ask him, what is the case of the women who cut their hands; surely my Lord knows their guile.

— Muhammad Habib Shakir

And the king said: bring him Unto me. Then, when the messenger came to him, he said: return to thy lord, and ask him, what about the women who cut their hands! verily my Lord is the Knower of their guile.

— Abdul Majid Daryabadi

So the king said: "Bring ye him unto me." But when the messenger came to him, (Joseph) said: "Go thou back to thy lord, and ask him, 'What is the state of mind of the ladies who cut their hands'? For my Lord is certainly well aware of their snare."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–52

تعبیر کی صداقت اور شاہ مصر کا یوسف ؑ کو وزارت سونپنا خواب کی تعبیر معلوم کر کے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقت سے مطلع کیا۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آگیا۔ ساتھ ہی اسے بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف ؑ بڑے ہی عالم فاضل شخص ہیں۔ خواب کی تعبیر میں تو آپ کو کمال حاصل ہے۔ ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے حسن تدبیر والے اور خلق اللہ کا نفع چاہنے والے اور محض بےطمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ خود آپ سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاؤ حضرت یوسف ؑ کو جیل خانے سے آزاد کر کے میرے پاس لے آؤ۔ دوبارہ قاصد آپ کے پاس آیا اور بادشاہ کا پیغام پہنچایا تو آپ نے فرمایا میں یہاں سے نہ نکلوں گا جب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْسُف 42 یہاں سے لے کر بادشاہ کی ملاقات تک جو کچھ قرآن نے بیان کیا ہے۔۔ جو اس قصے کا ایک بڑا ہی اہم باب ہے۔۔ اس کا کوئی ذکر بائیبل اور تلمود میں نہیں ہے۔ بائیبل کا بیان ہے کہ بادشاہ کی طلبی پر حضرت یوسف ؑ فورا چلنے کے لیے تیار ہوگئے، حجامت بنوائی، کپڑے بدلے اور دربار میں جا حاضر ہوئے۔ تلمود اس سے بھی زیادہ گھٹیا صورت میں اس واقعے کو پیش کرتی ہے۔ اس کا بیان یہ ہے کہ ”بادشاہ نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ یوسف ؑ کو میرے حضور پیش کرو، اور یہ بھی ہدایت کردی کہ دیکھو ایسا کوئی کام نہ کرنا کہ لڑکا گھبرا جائے اور صحیح تعبیر نہ دے سکے۔ چناچہ شاہی ملازموں نے یوسف ؑ کو قید خانے سے نکالا، حجامت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ یعنی بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف ؑ کو جیل خانہ سے نکالا جائے اور دربار میں لایا جائے چناچہ بادشاہ کا کوئی قاصد بادشاہ کا یہ پیغام لے کر جیل خانہ پہونچا، موقع بظاہر اس کا تھا کہ یوسف ؑ جیل خانہ کی طویل مدت سے عاجز آ رہے تھے، اور خلاصی چاہتے تھے جب بادشاہ کا پیغام بلانے کے لئے پہنچا تو فورا تیار ہو کر ساتھ چل دیتے مگر اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو جو مقام بلند عطا فرماتے ہیں اس کو دوسرے لوگ سمجھ بھی نہیں سکتے ہیں اس قاصد کو جواب یہ دیا (آیت) قَالَ ارْجِعْ اِلٰي رَبِّكَ فَسْـــَٔـلْهُ مَا بَال النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ ۭ اِنَّ رَبِّيْ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ ۚ فَلَمَّا جَاۗءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰي رَبِّكَ فَسْـــَٔـلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ ۭ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ۔ حضرت یوسف کو بادشاہ کی دعوت اور ان کا جواب : یہاں بھی سرگزشت کا اتنا حصہ محذوف ہے جتنا سیاق کلام سے خود واضح تھا یعنی بادشاہ کے قاصد نے حضرت یوسف کی بیان کردہ تعبیر بادشاہ کو جا کر سنائی۔ بادشاہ اپنے خواب کی تعبیر سن کر اتنا متاثر ہوا کہ اس نے فوراً حک دیا کہ اس قیدی کو میرے پاس لاؤ۔ قاصد پھر حضرت یوسف کے پاس گیا اور خوش خوش ان کو مثدہ سنایا کہ بادشاہ نے آپ کو یاد فرمایا ہے۔ قاصد کو یہ توقع…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جب وہ شخص تعبیر دریافت کر کے بادشاہ کے پاس گیا اور اسے تعبیر بتائی تو وہ اس تعبیر سے اور حضرت یوسف ؑ کی بتلائی ہوئی تدبیر سے بڑا متاثر ہوا اور اس نے اندازہ لگا لیا کہ یہ شخص، جسے ایک عرصے سے حوالہ زنداں کیا ہوا ہے، غیر معمولی علم و فضل اور اعلٰی صلاحیتوں کا حامل ہے۔ چناچہ بادشاہ نے انھیں دربار میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ 50۔ 2 حضرت یوسف ؑ نے جب دیکھا کہ بادشاہ اب مائل بہ کرم ہے، تو انہوں نے اس طرح محض عنایت خسوانہ سے جیل سے نکلنے کو پسند نہیں فرمایا، بلکہ اپنے کردار کی رفعت اور پاک دامنی کے اثبات کو ترجیح دی تاکہ دنیا کے سامنے آپ کا کردار اور اس کی بلندی واضح ہوجائے۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

32: یہاں پھر قرآن کریم نے واقعے کے وہ حصے حذف فرما دئیے ہیں جو خود سمجھ میں آسکتے ہیں۔ یعنی حضرت یوسف ؑ نے خواب کی جو تعبیر دی تھی وہ بادشاہ کو بتائی گئی۔ بادشاہ نے تعبیر سن کر ان کو قدر دانی کے طور پر اپنے پاس بلوانا چاہا۔ اور اس مقصد کے لیے اپنا ایک ایلچی بھیجا اس موقع پر حضرت یوسف ؑ نے چاہا کہ اپنی رہائی سے پہلے اس جھوٹ الزام کی واضح طور پر صفائی کروائیں جو ان پر لگایا گیا تھا۔ اس لیے اس مرحلے پر انہوں نے ایلچی کے ساتھ جانے کے بجائے بادشاہ کو یہ پیغام بھجوایا کہ آپ پہلے ان عورتوں کے معاملات کی تحقیق کریں جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، چونکہ ان عورتوں کو ساری بات معلوم تھی، اور ان کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب یہاں ہمارے سامنے ایک دوسرا منظر آتا ہے اور ان دونوں مناظر کے درمیان ایک خلا ہے۔ یہ خلا انسانی تخیل خود بھر دیتا ہے۔ اب ہم دوبارہ شاہی دربار میں ہیں۔ یہاں فرستادہ شاہی نے مکمل رپورٹ دے دی ہے۔ خواب کی تعبیر بتا دی گئی ہے۔ اب اس نے بادشاہ کو حضرت یوسف کی ناجائز سزا کے بارے میں بھی بتا دیا ہے۔ لیکن سیاق کلام میں یہ باتیں مذکور نہیں ہیں۔ ہمارے سامنے بادشاہ کی خواہش آتی ہے۔ وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ : بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ۔ مزید تفصیلات ترک کردی جاتی ہیں۔ بادشاہ کا حکم ہے۔ ہر کا رہ خود حضرت یوسف کے پاس پہنچتا ہے۔ لیکن حضرت یوسف ہر کارے کو لوٹا دیتے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 بادشاہ کچھ تو پہلے ہی ساقی کے تذکرے سے حضرت یوسف کا معتقد ہوگیا تھا۔ اب جو ایسی موزوں و دل نشین تعبیر اور رعایا کی ہمدردی کی تدبیر سنی تو ان کے علم و فضل، عقل و دانش اور حسن اخلاق کا سکہ اس کے دل پر بیٹھ گیا۔ فورا حکم دیا کہ ایسے شخص کو میرے پاس لاؤ، تاکہ اس کی زیارت سے بہرہ اندوز ہوں اور اس کے مرتبہ اور قابلیت کے موافق عزت کروں۔ قاصد پیام شاہی لے کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مگر یوسف کی نظر میں اپنی دینی و اخلاقی پوزیشن کی برتری اور صفائی اعلیٰ سے اعلیٰ دنیاوی عزت و وجاہت سے زیادہ مہم تھی۔ آپ جانتے تھے کہ پیغمبر خدا کی نسبت لوگوں کی ادنیٰ بدگمانی بھی ہدایت و ارشاد کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50 وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ بادشاہ اپنے خواب کی تعبیر اور پھر اس کی ایسی اعلیٰ تدبیر سن کر یقیناً بہت متاثر ہوا ہوگا اور اس نے سوچا ہوگا کہ ایسے ذہین فطین شخص کو جیل میں نہیں بلکہ بادشاہ کا مشیر ہونا چاہیے۔ چناچہ اس نے حکم دیا کہ اس قیدی کو فوراً میرے پاس لے کر آؤ۔ فَلَمَّا جَاۗءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰي رَبِّكَ بادشاہ کا پیغام لے کر جب قاصد آپ کے پاس پہنچا تو آپ نے اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا کہ میں اس طرح ابھی جیل سے باہر نہیں آنا چاہتا۔ پہلے پورے معاملے کی چھان بین کی جائے کہ مجھے کس جرم کی پاداش میں جیل بھیجا گیا تھا۔ اگر مجھ پر کوئی الزام ہے تو اس کی مکمل تفتیش…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 الزام کی بریت سے پہلے سیدنا یوسف کا قید سے باہر آنے سے انکار :۔ بادشاہ کو جب ساقی نے قید خانہ سے واپس جاکر یہ تعبیر، یہ تدبیر اور یہ بشارت سنائی تو وہ عش عش کر اٹھا۔ اس کے دل سے وحشت دور ہوگئی اور اطمینان حاصل ہوگیا۔ وہ سیدنا یوسف کے علم و فضل سے بہت متاثر ہوا اور کہنے لگا کہ ایسے شخص کو میرے پاس لایا جائے تاکہ میں اس کی زیارت سے فیض یاب ہوسکوں اور اس کے مرتبہ اور اس کی قابلیت کے مطابق اس کی عزت و تکریم کروں۔ جب بادشاہ کا پیغامبر یہ پیغام لے کر قید خانہ میں سیدنا یوسف کے پاس پہنچا اور آپ کو بادشاہ کا پیغام اور قید سے رہائی کی خوشخبری سنائی تو بجائے اس کے کہ آپ اس پیغامبر پر خوش ہوتے آپ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

98۔ ساقی آکر مفصل رپورٹ بادشاہ کی خدمت میں پیش کرتا ہے بادشاہ اتنی مفصل اور دلنشین تعبیر سن کر یوسف (علیہ السلام) کا غائبانہ معقتد ہوجاتگا ہے اور قدرۃ مشتاق زیارت بھی۔ 99۔ (کبھی نہیں بلا کر میرے حال کی بھی تحقیق کی ؟ ) (آیت) ” الی ربک “۔ رب کا لفظ اس سورة میں بار بار آقائے مجازی وظاہری کے لئے استعمال ہورہا ہے۔ ملاحظہ ہوا ان کو میرے پاس۔ 100۔ یعنی اللہ پر تو میری بےگناہی اور عورتوں کے جوڑ توڑ روشن ہی ہیں میں چاہتا ہوں کہ میرے جیل سے باہر آنے سے قبل خلق پر بھی میری بےگناہی روشن ہوجائے۔ (آیت) ” کیدھن “۔ میں ضمیر بعض نے کہا کہ انہیں مخصوص عورتوں کی جانب ہے اور بعض نے کہا کہ نہیں عام جنس نسوان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–52

آیت نمبر 43 تا 52 ترجمہ : مصر کے بادشاہ ریان بن ولید نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات فربہ گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں (عجاف) عجفاء کی جمع ہے اور سات ہری بالیں ہیں اور دوسری سات خشک بالیں ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر لپٹی ہوئی ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر غالب آگئی ہیں، اے درباریو تم میرے خواب کی تعبیر بتاؤ، اگر تم تعبیر بتاسکتے ہو تو بتاؤ درباریوں نے خواب دیا یہ منتشر خیالات کے خواب ہیں اور ہم منتشر خیالات کے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے، اور اس نوجوان نے جو دو نوجوانوں میں سے (جیل سے) رہا ہوا تھا اور وہ ساقی تھا جس کو ایک مدت دراز کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا حال یاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال الملک ائتوني بہ اور بادشاہ نے کہا : میرے پاس اس کو لاؤ۔ یعنی ساقی خواب کی تعبیر لے کر جب بادشاہ کے پاس پہنچا اور وہ سمجھ گیا کہ تعبیر یقیناً صحیح ہے اور ایسا ضرور ہوگا اور اس بات سے اس نے حضرت یوسف کی بزرگی کا اندازہ کرلیا تو آپ کو بلوایا۔ فلما جاءہ الرسول پس جب بادشاہ کا قاصد حضرت یوسف کے پاس پہنچا اور اس نے کہا : بادشاہ نے آپ کو طلب کیا ہے تو حضرت یوسف نے اس وقت تک اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا جب تک آپ پر سے بدچلنی کی تہمت دور نہ ہوجائے اور سب لوگ آپ کی پاکدامنی کا اقرار نہ کرلیں۔ قال ارجع الی رب فسئلہ ما بال النسوۃ التي قطعن ایدیھن کہا : اپنے آقا کے پاس لوٹ کر جاؤ اور اس سے پوچھو کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(50) غرض کہ وہ شخص تعبیر لے کر دربار میں پہنچا اور بادشاہ کو مطلع کیا بادشاہ نے حک دیا یوسف ؑ کو میرے پاس لاؤ چناچہ وہ ساق حضرت یوسف ؑ کے پاس آیا اور آکر اطلاع دی کہ بادشاہ آپ کو بلارہا ہے، حضرت یوسف ؑ نے اس سے فرمایا کہ تو اپنے بادشاہ سے جاکر کہہ وہ ان عورتوں کو بلا کر جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے پوچھے کہ میرا رب ان عورتوں کے مکرو فریب کو خوب جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ : یعنی جب ساقی نے جا کر تعبیر بتائی تو بادشاہ نے کہا : ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ اس سے علم کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ حسن بےمثال قید اور مصیبت کا باعث بنا اور علم رہائی کا۔ دنیا میں جب یہ حال ہے تو آخرت میں علم نافع کی برکتوں کا آپ خود اندازہ فرما لیں۔ قَالَ ارْجِعْ اِلٰي رَبِّكَ۔۔ : یوسف ؑ نے قید سے نکل کر قاصد کے ساتھ جانے کے بجائے مطالبہ کیا کہ واپس جاؤ اور بادشاہ سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے، یقیناً میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یوسف ؑ کا خیال تھا کہ شاید بادشاہ کو میرے قید میں بھیجے جانے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–51

آیت نمبر 50 تا 51 وقال الملک ائتونی بہٖ یعنی قاصد گیا اور بادشاہ کو خبر دی تو بادشاہ نے کہا : ائتونی بہٖۚفلما جآءہ الرسول یعنی اس نے آپ کو نکلنے کے لیے کہا تو آپ نے فرمایا : ارجع الیٰ ربک فسئلہ مابال النسوۃ یعنی عورتوں کی حالت الٰتی قطعن ایدیھن، تو آپ نے نکلنے سے انکار کردیا یہاں تک کہ بادشاہ کے نزدیک آپ کی برأت ثابت ہوجائے اور یہ ثابت ہوجائے کہ آپ بغیر جرم کے قید میں رہے۔ ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ئ فرمایا : ” کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن اسحاق بن ابراہیم ہیں “۔ آپ نے فرمایا : ” اگر میں قید خانہ میں اتنی مدت رہتا جتنی مدت حضرت یوسف (علیہ السلام) رہے تھے،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–53

1:۔ احمد وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ آیت (آیت ) ” فلما جآءہ الرسول قال ارجع الی ربک فسئلہ مابال النسوۃ التی قطعن ایدیھن “ تلاوت فرمائی اور فرمایا اگر میں ہوتا تو جلدی سے دعوت کو قبول کرلیتا اور اپنے عذر کو طلب نہ کرتا۔ 2:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یوسف (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ وہ کتنے برداشت کرنے والے اور حلم والے تھے۔ اگر میں قید میں ہوتا پھر میری طرف بلاوا آتا تو میں جلدی سے باہر نکل جاتا۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَالَ : اور کہا ] [ الْمَلِكُ : اس بادشاہ نے ] [ائْتُوْنِيْ : تم لوگ لائو میرے پاس ] [ بِهٖ : اس کو ] [ فَلَمَا : پھر جب ] [ جَاۗءَهُ : آیا ان (علیہ السلام) کے پاس ] [ الرَّسُوْلُ : پیغام لانے والا ] [ قَالَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ارْجِعْ : تو واپس جا ] [اِلٰي رَبِكَ : اپنے آقا کی طرف ] [ فَسْـــَٔـلْهُ : پھر پوچھ اس سے ] [مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِيْ : ان عورتوں کی کیا حیثیت ہے جنھوں نے ] [قَطَّعْنَ : کاٹا ] [اَيْدِيَهُنَّ : اپنے ہاتھوں کو ] [ ان : بیشک ] [ رَبِيْ : میرا رب ] [ بِكَيْدِ هِنَّ : ان عورتوں کی چالبازی کو ] [عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے ] ب و ل [یَوْلًا : (ن) اندر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 44–50

بادشاہ کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو طلب کرنا اور آپ کا تحقیق حال کے بغیر جیل سے باہر آنے سے انکار فرمانا جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر دے دی اور جو شخص تعبیر پوچھنے کے لیے آیا تھا اس نے واپس جا کر تعبیر بتادی تو لوگوں کی سمجھ میں بات آگئی اور بادشاہ نے سمجھ لیا کہ واقعی یہ تعبیر بتانے والا کوئی صاحب علم ہے جو تعبیر خواب کے فن میں ماہر ہے۔ اس نے صرف تعبیر ہی نہیں دی بلکہ معیشت پر قابو پانے کا طریقہ بھی بتادیا کہ پہلے سات سال کی پیداوار کو محفوظ رکھنا اور دانوں کو بالوں کے اندر ہی رہنے دینا تاکہ اسے کیڑا نہ کھاجائے اس پر بادشاہ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–52

شاہ مصر کا یوسف (علیہ السلام) کو ملاقات کے لئے طلب کرنا قال اللہ تعالیٰ وقال الملک ائتونی بہ جاء ہ الرسول .... الیٰ .... لا یھدی کید الخائنین (ربط) یوسف (علیہ السلام) نے جب بادشاہ کے قاصد کو خواب کی تعبیر دے دی تو قاصد نے آکر بادشاہ سے خواب کی تعبیر بھی بیان کی اور یہ بھی بیان کیا کہ یوسف صدیق نے آنے والے قحط کی یہ تدبیر بتلائی ہے تو بادشاہ سن کر حیران رہ گیا اور اس حسن تعبیر اور حسن تدبیر سے یوسف (علیہ السلام) کی جلالت شان کا سکہ اس کے دل پر بیٹھ گیا۔ فورا حکم دیا کہ ایسے شخص کو میرے پاس لاؤ تاکہ میں اس کی دید اور لقاء سے بہرہ اندوز ہوں اور اس کی لیاقت اور قابلیت کے مطابق اس کا اعزازو اکرام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 50–51

43:۔ یہ پندرہ احوال میں سے نواں حال ہے ساقی نے جب شاہ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بتائی ہوئی تعبیر بیان کی اور ساتھ ہی غلے کو ذخیرہ کرنے کا جو طریقہ انہوں نے بتایا تھا اس سے ذکر کیا تو شاہ مصر نے محسوس کیا کہ اس کے قید خانے میں ایک ایسا صاحب علم و بصیرت شخص موجود ہے جو اس کے دربار کی رونق ہونا چاہئے اور اس کے علم و تدبر اور فہم و فراست سے ملکی معاملات میں استفادہ کرنا چاہئے اس لیے انہیں فوراً اپنے پاس حاضر کرنے کا حکم دیا ” وَاْتُوْنِی بِہٖ “ لما راٰی من علمہ و فضلہ واخبارہ عما لا یعلمہ الا اللطیف الخبیر (روح ج 12 ص 257 ۔ 44:۔ شاہ کا فرستادہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 50–53

ربط آیات یوسف (علیہ السلام) سالہا سال تک قید میں پڑے رہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کے خواب کو ان کی رہائی کا سبب بنا دیا ‘ بادشاہ کو خواب آیا ‘ اس نے درباریوں سے تعبیر پوچھی مگر وہ سب عاجز آگئے۔ پھر جیل سے رہا ہونے والے ساقی نے پیشکش کی کہ وہ ایک قیدی سے خواب دریافت کرسکتا ہے۔ بادشاہ کی اجازت سے یوسف (علیہ السلام) سے خواب کی تعبیر پوچھی گئی تو انہوں نے نہ صرف تعبیر بتادی بلکہ آنے والے حالات سے متعلق نہایت مفید مشورے بھی دیے۔ یہ تعبیر پاکر بادشاہ کی تسلی ہوگئی کیونکہ یہ خواب منجانب اللہ تھا اور یوسف (علیہ السلام) نے اللہ کے عطا کردہ علم کے ذریعے اس کی تعبیر بنائی تھی۔ بہرحال بادشاہ یوسف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِہٖ۝ 0ۚ فَلَمَّا جَاۗءَہُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِـــعْ اِلٰي رَبِّكَ فَسْـــَٔـلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَہُنَّ۝ 0ۭ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِہِنَّ عَلِيْمٌ۝ 50 ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–50

2 ؎ یعنی وہ جو تخم ریزی کیلئے رکھ چھوڑو گے یا جو بڑی احتیاط سے جمع رکھا جاتا ہے۔ 12 منہ 2 ؎ حساب کتاب سے بھی واقف ہوں یا یہ کہ حفاظت کے طریقے خوب جانتا ہوں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖ ج فَلَمَّا جَآئَ ہُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَسْئَلْہُ مَابَالُ النِّسْوَۃِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ ط اِنَّ رَبِّیْ بِکَیْدِھِنَّ عَلِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 50) اور ( یہ تعبیر سنتے ہی) بادشاہ نے کہا تو اس کو میرے پاس لائو۔ پس جب قاصد اس کے پاس آیا تو آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ لوٹ جاؤ اپنے بادشاہ کے پاس اور اس سے دریافت کرو کہ حقیقت حال کیا تھی ان عورتوں کی جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔ بیشک میرا رب ان کے مکر و فریب سے خوب آگاہ ہے۔ ) بادشاہ کی دعوت اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا جواب بادشاہ کو جب تعبیر بتائی گئی تو اس کی حیرت کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بادشاہ کا خوش ہو کر سرکاری اہلکار کو رہائی کا پیغام دے کر جیل میں یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں بھیجنا۔ سرکاری اہلکار حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے ” کہ اے الصدیق ! بادشاہ سلامت آپ کو طلب فرما رہے ہیں آپ کی رہائی کا حکم ہوچکا ہے۔ لہٰذا آپ میرے ساتھ تشریف لے چلیں۔ “ کوئی عام قیدی ہوتا تو اس کی خوشی سے باچھیں کھل جاتیں اور وہ بادشاہ کے اہلکار کے ساتھ چل دوڑتا مگر یوسف (علیہ السلام) فرماتے ہیں ” آپ اپنے بادشاہ کے پاس واپس جائیں۔ اور اس سے پوچھیں کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ میرا رب تو یقیناً…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بادشاہ کی طرف سے رہائی کا پروانہ اور آپ کا انکار : 50: وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُوْنِیْ بِہٖ فَلَمَّا جَآئَ ہُ الرَّسُوْلُ (اور کہا بادشاہ نے اس کو میرے پاس لے آئو۔ جب بادشاہ کا قاصد آیا) تاکہ وہ قید سے رہائی دے قَالَ ارْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ (اس نے کہا تو لوٹ جا اپنے آقا کی طرف) ربک سے یہاں بادشاہ مراد ہے۔ فَسْئَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ (اور اس سے پوچھو کیا حال ہے ان عورتوں کا) بال بمعنی عورتوں کی حالت ہے۔ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ (جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے) یوسف (علیہ السلام) ثابت قدم رہے اور بادشاہ کے جو اب میں حوصلہ مندی سے کام لیا اور عورتوں کے متعلق سوال کو مقدم کیا تاکہ ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

50۔” وقال الملک ائتونی بہ “ جب ساقی نے ساری تعبیر بادشاہ کو جا کر بتائی تو بادشاہ کو یقین ہوگیا کہ ایسا ہوگیا تو اس نے یہ بات کہی ۔” فلما جاء الرسول “ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کا جواب دیا کہ بادشاہ کو یہ کہہ دینا کہ اسنے میرے ساتھ آنے سے انکار کردیا جب تک کہ وہ میری برأت کو ظاہر نہ کر دے۔ ” قال ارجمع الی ربک “ یعنی اپنے بادشاہ کے پاس جائو ۔ ” فاسالہ ما بال النسوۃ اللاتی فطعن ایدھن “ عزیز کی بیوی کا نام نہیں لیا ، ادب اور احترام کی وجہ سے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں قید میں اتنی لمبی مدت رہتا جو یوسف (علیہ السلام) رہے تو میں بادشاہ کے بلانے والے کی دعوت کو قبول کرلیتا ۔” ان ربی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–51

50۔ 51۔ جب ساقی نے بادشاہ کی حضور میں یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر کا حال بیان کیا تو بادشاہ مصر کو وہ تعبیر بہت پسند آئی اور یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل کو اس نے بخوبی پہچان لیا اور جان لیا کہ یہ شخص نہایت ہی صاحب کرامات ہے اس لئے پھر بادشاہ نے اپنا قاصد یوسف (علیہ السلام) کو بلانے کے واسطے بھیجا کہ ان کو قید خانہ سے نکال کر میرے دربار میں لاؤ جب قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو آپ نے قید خانہ کے نکلنے سے انکار کیا اور کہا کہ جب تک بادشاہ اس بات کو تحقیق نہ کرلے کہ میں بےجرم قید خانہ میں داخل ہوا ہوں اور جو تہمت مجھ پر لوگوں نے دھری ہے اس سے جب تک میں بری نہ ثابت ہو لوں اور جب تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

جب قاصد بادشاہ اور لوگوں کے پاس واپس پہنچا اور انہیں یوسف کی تعبیر کے بارے میں آگاہ کیا تو انہیں تعبیر سن کر تعجب ہوا اور بےحد خوش ہوئے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وقال الملک) ” بادشاہ نے (وہاں موجود لوگوں سے کہا) کہا “ (ائتونی بہ) ” اسے میرے پاس لاؤ۔ “ یعنی یوسف کو قید خانے سے نکال کر میرے سامنے حاضر کرو۔ (فلما جآء الرسول) ’ دپس جب بادشاہ کا ایلچی جناب یوسف کے پاس آیا “ اور اسے بادشاہ کے پاس حاضر ہونے کے لئے کہا، تو انہوں نے اس وقت تک قید خانے سے باہر آنے سے انکار کردیا جب تک کہ ان کی برأت مکمل طور پر لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہوجاتی۔ یہ چیز ان کے صبر، عقل اور اصابت پر دلالت کرتی ہے۔ (قال) اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 50–51

قول باری ہے وقال الملک ائتونی بہ فلما جاء ہ الرسول قال ارجع الی ربک فاسئلہ ما بال النسوۃ الاتی قطعن ایدیھن ان ربی بکیلہ ھن علیہ۔ بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لائو ، مگر جب شاہی فرستادہ یوسف کے پاس پہنچا تو اس نے کہا : اپنے رب کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کر ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے میرا رب تو ان کی مکاری سے واقف ہی ہے۔ ایک قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فوری طور پر بادشاہ کے پاس جانے کو تسلیم نہیں کیا بلکہ شاہی قاصد کو یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ پہلے ان عورتوں سے ماملہ کی اصل حقیقت معلوم کرلی جائے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے تا کہ اس معاملہ میں آپ کی پاک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

85۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مکارم اخلاق کا ایک اور نمونہ : کہ آپ نے بادشاہ کی دعوت کو فورا قبول کرنے کی بجائے قاصد سے کہا کہ تم واپس جاکر اپنے مالک سے کہو کہ وہ ان عورتوں کے بارے میں اصل حقیقت واضح کرے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے تاکہ اصل حقیقت پوری طرح واضح ہوجائے۔ اور میری بیگناہی ثابت ہوجائے کہ راہ حق کے راہی اور پیغام حق کے مبلغ وداعی کا دامن ہر طرح کے داغ دھبے سے پاک وصاف ہونا ضروری ہے۔ فایاک نسال اللہم التوفیق لذالک والثبات علیہ۔ بہرکیف حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی اس پوزیشن کو واضح کرنے کے لیے بادشاہ کے قاصدوں کو یوں ارشاد فرمایا کہ جاکران عورتوں کے بارے میں پتہ کرو کہ ان کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 50–57

آیات 50 تا 57 اسرار و معارف بہتان والزام سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیئے چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس آدمی کو ہمارے روبرولایا جائے کہ ہم خود اس سے تعبیر سننا چاہتے ہیں ۔ شاہی ہر کارہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا حکم لے کر حاضر ہوا اور بادشاہ کے طلب فرمانے کی خبردی تو آپ نے فرمایا کہ بادشاہ سے کہو پہلے میرے معاملہ کی تحقیق کرے اور درباری امراء کی ان خواتین سے اسفسار کیا جائے جنہوں نے ہاتھ کاٹ لئے تھے کہ وہ سارے معاملہ سے بخوبی واقف ہیں ۔ جو کچھ ہوا تھا زلیخا نے بھی ان کے سامنے اقرار کرلیا تھا اور جو کچھ انھوں نے سوچا تھا یا سفارش کی تھی یا مجھے دیکھنے اور پانے کا حیلہ کیا تھا میرا پروردگار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 ۔ یعنی جب ساقی نے جا کر تعبیر بتائی تو بادشاہ نے کہا۔ 6 ۔ وہی قصہ یاد دلایا جس سے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کا مقصد یہ تھا کہ بادشاہ کو میرے مقدمہ کی تحقیق کرنی چاہیے تاکہ سب کے سامنے میرا پاک دامن اور بےقصور ہنا پوری طرح واضح ہوجائے۔ معلوم ہوا کہ مواقع تہمت سے بچنا بھی واجب ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا، من کان یومن باللہ والیوم الاخر فلا یقضن مواقف التھم۔ کہ جس شخص کا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان ہے اسے اتہام کی جگہوں سے دور رہنا چاہیے۔ صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنی کسی بیوی کے پاس کھڑے تھے کہ وہاں سے ایک شخص گزرا، آنحضرت ﷺ نے اسے بلا کر فرمایا :” یہ میری…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:50) بال۔ حال ۔ خبر۔ جس حال کی پرواہ کی جائے وہ بال کہلاتا ہے اور کبھی جس حالت میں دل جمنے لگے اس کو بھی بال کہتے ہیں اور اسی اعتبار سے مجازاً اس کے معنی دل اور جی کے بھی آتے ہیں ۔ مابال النسوۃ (ان) عورتوں کی حقیقت حال کیا تھی ؟

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–53

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53 (ائتونی : میرے پاس لاؤ) ( الرسول قاصد، بھیجا گیا) ( ارجع لوٹ جا) ( اسئل پوچھ ) (مابال کیا واقعہ) ( ما خطبکن تم کیا کہتی ہو ) (سوء برائی) ( آلئن اب) ( حصحص ظاہر ہوگیا ) (لم اخن میں نے خیانت نہیں کی) ( لایھدی وہ ہدایت نہیں دیتا) ( الخائنین خیانت کرنے والے) ( ما ابرئی میں بری نہیں کرتا) ( امارۃ حکم دینے والا ) (رحم ربی میرے رب نے رحم کردیا) تشریح آیت نمبر 50 تا 53 گزشتہ آیات میں تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا تھا کہ جب بادشاہ کا ساقی حضرت یوسف کے پاس بادشاہ مصر کے خواب کی تعبیر پوچھنے گیا تو حضرت یوسف نے نہ صرف خواب کی وہ تعبیر بتائی جس سے بادشاہ کی دلی بےچینی دور ہوگئی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 50–51

یوسف (علیہ السلام) کا بےقصور ثابت ہونا اور زلیخا کا اپنے جرم کا اقرار کرنا جب ساقی نے بادشاہ کے حضور میں یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر کا حال بیان کیا تو بادشاہ مصر کو وہ تعبیر بہت پسند آئی اور یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل کو اس نے بخوبی پہچان لیا اور جان لیا کہ یہ شخص نہایت ہی صاحب کرامات ہے۔ اس لئے پھر بادشاہ نے اپنا قاصد یوسف (علیہ السلام) کے بلانے کے واسطے بھیجا کہ ان کو قید خانہ سے نکال کر میرے دربار میں لاؤ۔ جب قاصد یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو آپ نے قید خانہ کے نکلنے سے انکار کیا اور کہا کہ جب تک بادشاہ اس بات کی تحقیق نہ کرلے کہ میں بےجرم قید خانہ میں داخل ہوا ہوں، اور جو تہمت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–56

[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–51

(ف 1) چوبدار جب رہائی کا مژدہ لے کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا ، تو آپ نے فرمایا میں اس طرح جیل سے باہر آنے کے لئے طیار نہیں ، سب سے پہلے میرے جرم کی تحقیقات ہو ، اگر میں بےقصور ثابت ہوجاؤں تو پھر مجھے اس نوادش خسروانہ کے قبول کرنے میں دریغ نہ ہوگا ، ورنہ میں یہ نہیں کہلانا چاہتا کہ مجرم ہوں ، اور سزا کے دن پورے کرکے جیل سے رہائی حاصل کی ہے ۔ بادشاہ نے عورتوں کو بلایا اور پوچھا بتاؤ کیا تم یوسف (علیہ السلام) میں کوئی عیب پاتی ہو ، اور کیا تم نے یوسف (علیہ السلام) کو مائل کرنے کی کوشش کی تھی انہوں نے بالاتفاق اقرار کیا ، کہ یوسف (علیہ السلام) بےعیب ہے ، ہماری شرارت تھی کہ ہم نے اسے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

50 ۔ غرض ! ساقی نے جیل خانہ سے واپس آ کر خواب کی تعبیر اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مشورہ دربار میں بیان کیا ۔ بادشاہ اس سے متاثر ہوا اور اس نے حکم دیا یوسف (علیہ السلام) کو میرے پاس لائو پھر جب شاہی قاصد یوسف (علیہ السلام) کی طلبی کا پیام لیکر پہنچا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا تو اپنے بادشاہ اور آقا کی طرف لوٹ جا اور اس سے دریافت کر کہ ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے جنہوں نے عزیر مصر کی بیوی کے یہاں دعوت میں اپنے ہاتھ چھریوں سے کاٹے تھے ۔ بیشک میرا پروردگار ان عورتوں کی مکاریوں سے خوب واقف ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا مدعا یہ تھا کہ جس الزام کی بنا پر مجھ کو قید کیا گیا تھا اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ مطلب یہ تھا کہ ان کو بلا کر میرا حال متعلق اس واقعہ کے جس میں مجھ کو قید کی گئی تفتیش کیا جائے اور عورتوں کے حال سے مراد ان کا واقف یا ناواقف ہونا ہے حال یوسف (علیہ السلام) ہے اور ان عورتوں کی تخصیص شاید اس لیے کی ہو کہ ان کے سامنے زلیخا نے اقرار کیا تھا ولقد روادتہ عن نفسہ۔ فائدہ۔ یوسف کے اس اہتمام برات سے معلوم ہوا کہ رفع تہمت میں سعی کرنا امرمطلوب ہے حدیثوں میں اس کا مطلوب ہوناوارد ہے من جملہ اس کے فوائد کے یہ بھی ہے کہ لوگ غیبت سے بچیں گے اپناقلب بھی تشویش سے محفوظ رہے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بادشاہ نے یوسف کو طلب کیا لیکن وہ نہ آئے اور ان عورتوں کے متعلق تحقیق حال چاہی ۔ 62 ساقی نے یہ سب معاملہ بادشاہ کے سامنے جا سنایا ، بادشاہ نے ساقی کی زبان سے پہلے کچھ جملے یوسف کی تعریف میں سنے تھے تعبیر خواب کا معاملہ دیکھ کر ان کے علم و دانش اور جلالت قدر کا قائل ہوگیا اور نادیدہ مشتاق بن کر کہنے لگا کہ ایسے شخص کو جلد میرے پاس لائو۔ جب بادشاہ کا پیغام بر یوسف کے پاس پہنچا اور بادشاہ کی طلب و اشتیاق کا حال سنایا تو حضرت یوسف نے قید خانے سے باہر آنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ اس طرح تو میں جانے کو تیار نہیں ہوں تم اپنے آقا کے پاس جائو اور اس سے کہو کہ وہ یہ تحقیق کرے کہ ان عورتوں کا معاملہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ (And the king said, 'Bring him to me.' ). It means that the king gave the order that Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) be taken out of the prison and be produced before him in his court. So, some emissary of the king arrived at the prison with the message of the king. Obviously, this was an occasion which should have been welcomed by Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) . He had been in the prison for a long time, restricted and helpless. He wished to be released. When the message of the king arrived at the prison that he was wanted by the king, he should have welcomed it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

42. There is no mention in the Bible and the Talmud of this most important part of the story that Prophet Joseph declined to quit the prison till his character was cleared. On the other hand, according to the Bible: Then Pharaoh sent and called Joseph, and they brought him hastily out of the dungeon; and he shaved himself, and changed his raiment, and came in unto Pharaoh. And the Talmud depicts even a more degrading picture of the event. It says: The king ordered that Joseph should be brought before him. But he commanded his officers to be careful not to frighten the lad, lest through fear…

Read the full tafseer →