Yusuf 12:49

Yusuf · from ayah 49

12:49

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیْهِ یَعْصِرُوْنَ ۟۠ثُمَّ يَاۡتِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيۡهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيۡهِ يَعۡصِرُوۡنَ

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then will come after that a year in which the people will be given rain and in which they will press [olives and grapes]."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 6 of surah · Ruku 16 of juzع

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:49

اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کے بعد جو سال آئے گا اس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس میں (شیرہٴ انگور بھی) خوب نچوڑیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں پر خوب بارش ہوگی، اور وہ اس میں انگور کا شیرہ نچوڑیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ان کے بعد ایک برس آئے گا جس میں لوگوں کو مینھ دیا جائے گا اور اس میں رس نچوڑیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں لوگوں کو (خوب) بارش دی جائے گی اور (اس سال اس قدر پھل ہوں گے کہ) لوگ اس میں (پھلوں کا) رس نچوڑیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش ہوگی اور وہ اس میں نچوڑیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور اس سال وہ رس نچوڑیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا جس میں لوگوں کی فریاد رسی ہوگی اور لوگ اس میں انگور نچوڑیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر اس کے بعد ایک سال ایسا آئے گا کہ اس میں ان لوگوں کے لئے خوب بارش برسے گی، اور اس میں یہ لوگ خوب رس نچوڑیں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں کے لئے (خوب) بارش ہوگی اور اس میں وہ شیرہ بھی نچوڑیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر آئے گا اس کے بعد ایک سال کہ اس میں خوب بارشیں ہوں گی لوگوں پر اور اس میں وہ (انگور کا) رس نچوڑیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب بارش ہوگی اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then there will come a year when people will be helped by plenty of rain and they will press (grapes)."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then there shall come after that a year in which people will have rains and in which they will extract juices.

— Muhammad Taqi Usmani

Then there shall come after that a year in which people will have rains and in which they will extract juices.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Then thereafter will come a year in which people will have abundant rain and in which they will press (wine and oil)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then, after that, will come a year when the people will have plenteous crops and when they will press (wine and oil).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then will come after that a year in which the people will be given rain and in which they will press [olives and grapes]."

— Saheeh International

Then there will be a year with plenty of rain and people will have sufficient milk and other produce."

— Muhammad Sarwar

Then there will come after that a year in which people shall have rain and in which they shall press (grapes).

— Muhammad Habib Shakir

Then thereafter will come a year wherein mankind will have rain and wherein they will press.

— Abdul Majid Daryabadi

"Then will come after that (period) a year in which the people will have abundant water, and in which they will press (wine and oil)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 43–49

شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 47–49

سورة یُوْسُف 41 متن میں لفظ ”یعصرون“ استعمال ہوا ہے جس کے لفظی معنی ”نچوڑنے“ کے ہیں۔ اس سے مقصود یہاں سر سبزی و شادابی کی وہ کیفیت بیان کرنا ہے جو قحط کے بعد باران رحمت اور دریائے نیل کے چڑھاؤ سے رونما ہونے والی تھی۔ جب زمین سیراب ہوتی ہے تو تیل دینے والے بیج اور رس دینے والے پھل اور میوے خوب پیدا ہوتے ہیں، اور مویشی بھی چاہ اچھا ملنے کی وجہ سے خوب دودھ دینے لگتے ہیں۔ حضرت یوسف ؑ نے اس تعبیر میں صرف بادشاہ کے خواب کا مطلب بتانے ہی پر اکتفا نہ کیا، بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی بتادیا کہ خوشحالی کے ابتدائی سات برسوں میں آنے والے قحط کے لیے کیا پیش بندی کی جائے اور غلہ کو محفوظ رکھنے کا کیا بندوبست کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–49

ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ یعنی پہلے سات سال کے بعد پھر سات سال سخت خشک سالی اور قحط کے آئیں گے جو پچھلے جمع کئے ہوئے ذخیرہ کو کھا جائیں گے خواب میں اس کے مناسب یہی فرمایا کہ قحط کے سال پچھلے سالوں کے جمع کردہ ذخیرہ کو کھاجائیں گے اگرچہ سال تو کوئی کھانے والی چیز نہیں مراد یہی ہے کہ انسان اور جانور قحط کے سالوں میں پچھلے ذخیرہ کو کھا لیں گے قصہ کے سیاق سے ظاہر ہے کہ یہ شخص تعبیر خواب یوسف ؑ سے معلوم کر کے لوٹا اور بادشاہ کو خبر دی وہ اس سے مطمئن اور حضرت یوسف ؑ کے فضل و کمال کا معتقد ہوگیا مگر قرآن کریم نے ان سب چیزوں کے ذکر کرنے کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 47–49

47۔ 49:۔ قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِيْ سُنْۢبُلِهٖٓ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ۔ ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ۔ ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيْهِ يَعْصِرُوْنَ۔ " تزرعون " ہے تو خبر اسلوب میں لیکن ہے یہ امر کے مفہوم میں۔ ہم دوسرے مقام میں یہ بتا چکے ہیں کہ جب موقع و محل رہنمائی، مشورہ اور ہدایت دینے کا ہو تو ایسے مواقع میں امر کی بجائے خبر کا اسلوب ہی موزوں رہتا ہے۔ قرآن میں اس کی نظیریں بہت ہیں۔ خواب کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49۔ 1 یعنی قحط کے سال گزرنے کے بعد پھر خوب بارش ہوگی، جس کے نتیجے میں کثرت پیداوار ہوگی اور تم انگوروں سے شیرہ نچوڑو گے، زیتوں سے تیل نکالو گے اور جانوروں سے دودھ دوہو گے۔ خواب کی اس تعبیر کو خواب سے کیسی لطیف مناسبت حاصل ہے، جسے صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ایسا صحیح وجدان، ذوق سلیم اور ملکہ راسخ عطا فرما دے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کو عطا فرمایا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–49

31: حضرت یوسف ؑ نے خواب کی جو تعبیر دی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ آئندہ ساتھ سال تک تو موسم ٹھیک رہے گا جس کے نتیجے میں لوگ خوب غلہ اگائیں گے لیکن اس کے بعد سات سال تک زبردست قحط پڑے گا سات موٹی تازی گائیں جو خواب میں نظر آئی ہیں ان سے مراد سات خوشحالی کے سال ہیں اور جو سات دبلی پتلی گائیں دیکھی گئی ہیں ان سے قحط کے سات سالوں کی طرف اشارہ ہے۔ اب ان سات قحط کے سالوں کا پہلے سے انتظام کرنے کے لیے حضرت یوسف ؑ نے یہ تدبیر بتائی کہ خوشحالی کے سات سالوں میں جتنا غلہ اگے اس میں سے تھوڑا تھوڑا تو اپنے روز مرہ کے کھانے کے لیے نکال لیا جائے اور باقی غلے کو اس کی بالیوں ہی میں پڑا رہنے دیا جائے۔ تاکہ وہ سڑ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب یہ سات خشک سال ختم ہوں گے ، تمہارا سابقہ محفوظ غلہ بھی ختم ہوگا اور اب سرسبزی اور شادابی کا دور لوٹ آئے گا۔ بارشیں ہوں گی ، پانی اور فصل زیادہ ہوں گے ، انگوروں کی فصل بکثرت ہوگی اور لوگ ان کا جوس نکالیں گے شراب بنائیں گے۔ اسی طرح تل اور زیتون اور دوسرے مغزیات ہوں گے۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سات سالہ خشک سالی کے بعد خوشحالی کے اس دور کی طرف بادشاہ کے خواب میں کوئی اشارہ نہیں ہے۔ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے لدنی اور نبوتی علم کے بل بوتے پر کہہ رہے ہیں ، اس طرح حضرت یوسف نے اس شاہی فرستادے کو خوشخبری دی کہ سات سالہ مشکل دور کے بعد وسیع پیمانے پر خوشحالی کا دور آئے گا تاکہ وہ بادشاہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 47–49

2 یوسف (علیہ السلام) نے تعبیر بتلانے میں دیر نہ کی نہ کوئی شرط لگائی، نہ اس شخص کو شرمندہ کیا کہ تجھ کو اتنی مدت کے بعد اب میرا خیال آیا۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاق و مروت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پھر وہ صرف خواب کی تعبیر مانگتا تھا۔ آپ نے تین چیزیں عطا فرمائیں۔ تعبیر، تدبیر، تبشیر، آپ کے کلام کا حاصل یہ تھا کہ سات موٹی گائیں اور سات ہری بالیں سات برس ہیں، جن میں متواتر خوشحالی رہے گی، کھیتوں میں خوب پیداوار ہوگی، حیوانات و نباتات خوب بڑھیں گے، اس کے بعد سات سال قحط ہوگا جس میں سارا پچھلا اندوختہ کھا کر ختم کر ڈالو گے۔ صرف آئندہ تخم ریزی کے لیے کچھ تھوڑا سا باقی رہ جائے گا۔ یہ سات سال…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْهِ يُغَاث النَّاسُ وَفِيْهِ يَعْصِرُوْنَ جب خوب بارشیں ہوں گی تو انگور کی بیلیں خوب پھلیں پھولیں گی ‘ انگور کی پیداوار بھی خوب ہوگی ‘ لوگ خوب انگور نچوڑیں گے اور شراب کشید کریں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 48–49

48 اس آیت کے مطابق سیدنا یوسف نے جو خوشخبری سنائی یہ بادشاہ کے خواب یا اس کی تعبیر کا حصہ نہیں تاہم اللہ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا تھا۔ اس کے مطابق آپ نے لوگوں کو یہ بشارت بھی دے دی کہ ان چودہ سالوں کے بعد پندرہواں سال ایسا آئے گا جس میں خوب باران رحمت ہوگی اور جن جن چیزوں کو نچوڑ کر ان سے روغن یا رس حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ایسے سب غلوں اور پھلوں کی افراط سے پیداوار ہوگی۔ کھیتی باڑی بکثرت ہوگی۔ جانوروں کے تھن دودھ سے بھر جائیں گے اور بالخصوص انگور وغیرہ کو نچوڑ کر لوگ شراب کشید کریں گے۔ یہ آخری بات سائل کے حسب حال بیان فرمائی کیونکہ وہ یہی کام کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

97۔ تعبیر وتدبیر کے بعد اب آپ ﷺ بشارت بھی غالبا وحی الہی کے ماتحت سنا رہے ہیں۔ یہ قحط جو اس قوت پڑا دنیا کے سخت ترین قحطوں میں سے ہوا ہے اور عالم کی تاریخ قحط میں ایک اہم مقام رکھتا ہے آگے چل کر یہ حدود مصر تک محدود نہ رہا بلکہ حجاز فلسطین شام تمام ممالک ملحقہ میں اس کی شدت محسوس ہوئی، بلکہ توریت میں تو یہاں تک درج ہے کہ یہ قحط عالمگیر تھا اور ساری دنیا اس مصیبت سے بلبلا اٹھی :۔ ” اور سب زمین میں گرانی ہوئی “۔ (پیدائش 41: 54) ” اور تمام روئے زمین پر کال تھا “۔ (پیدائش 41: 56) ” سارے ملک مصر میں یوسف کنے مول لینے آئے کیونکہ سب ملکوں میں سخت کال تھا “۔ (پیدائش 41: 57) ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–52

آیت نمبر 43 تا 52 ترجمہ : مصر کے بادشاہ ریان بن ولید نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات فربہ گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں (عجاف) عجفاء کی جمع ہے اور سات ہری بالیں ہیں اور دوسری سات خشک بالیں ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر لپٹی ہوئی ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر غالب آگئی ہیں، اے درباریو تم میرے خواب کی تعبیر بتاؤ، اگر تم تعبیر بتاسکتے ہو تو بتاؤ درباریوں نے خواب دیا یہ منتشر خیالات کے خواب ہیں اور ہم منتشر خیالات کے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے، اور اس نوجوان نے جو دو نوجوانوں میں سے (جیل سے) رہا ہوا تھا اور وہ ساقی تھا جس کو ایک مدت دراز کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا حال یاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم یاتي من بعد ذلک عام فیہ یغاث الناس وفیہ یعصرون پھر اس (کال) کے بعد ایک برس ایسا آئے گا جس میں لوگوں کیلئے خوب بارش ہوگی ‘ اس میں لوگ (پھلوں کے) عرق نچوڑیں گے (اور شرابیں بنائیں گے) ۔ یغاث ‘ غیث سے مشتق ہے ‘ غیث کا معنی ہے : بارش ہوگی۔ یا غوث سے مشتق ہے ‘ غوث فریادرسی یعنی لوگوں کی واویلا اور فریاد قبول کی جائے گی (اور اللہ ان پر رحم فرمائے گا۔ مترجم) یَعْصِرُوْنَ وہ نچوڑیں گے یعنی انگور ‘ زیتون (طرح طرح کے پھل) اور تِل (سرسوں اور دوسرے روغن دانہ سے) نچوڑیں گے۔ مطلب یہ کہ سرسبزی ‘ پیداوار اور آسائش کا سال ہوگا۔ ابو عبیدہ نے تعصرون بصیغۂ خطاب بضم صاد پڑھا ہے ‘ اس کا مصدر عصر ہے جس کا معنی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 48–49

(48۔ 49) پھر ان خوشحالی کے ساتھ سالوں کے بعدقحط کے سخت ترین سات سال آئیں گے جو اس خوشحالی کے تمام جمع کردہ ذخیرہ کو کھاجائیں گے جس کو تم نے ان قحط کے سالوں کے لیے جمع کر رکھا تھا، البتہ تھوڑا سا جو محفوظ کرلو گے۔ اور پھر ان سات سالوں کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں مصر والوں کے لیے خوب بارش اور پیداوار ہوگی اور انگوروں کا رسل بھی نچوڑیں گے اور زیتون وغیرہ کا تیل بھی نکالیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ۔۔ :”يُغَاثُ“ ”غَیْثٌ“ سے بھی ہوسکتا ہے اور ”غَوْثٌ“ سے بھی۔ ”غَیْثٌ“ سے ہو تو بارش برسائے جائیں گے اور ”غَوْثٌ“ سے ہو تو مدد کیے جائیں گے۔ ”يَعْصِرُوْنَ“ ”نچوڑیں گے“ یعنی اس سال وہ پھل جن سے رس نکلتا ہے، مثلاً انگور، لیموں وغیرہ اور وہ بیج جن سے تیل نکلتا ہے، مثلاً زیتون، سرسوں وغیرہ کثرت سے پیدا ہوں گے اور جانور بھی اچھا چارا ملنے کی وجہ سے خوب دودھ دیں گے۔ اس بنا پر بعض نے ”يَعْصِرُوْنَ“ کے معنی ”یَحْلِبُوْنَ“ (دودھ دو ہیں گے) کیے ہیں۔ یہ بات کہ قحط کے سات سالوں کے بعد ایک خوش حالی کا سال آئے گا، خواب سے زائد بتائی، یا تو وحی الٰہی کے ذریعے سے، یا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 49 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ثم یاتی من بعد ذٰلک عام یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے ایسی خبر ہے جو بادشاہ کے خواب میں نہیں تھی بلکہ یہ اس علم غیب میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا تھا۔ حضرت قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ایک سال کے علم کا اضافہ فرمادیا جس کے متعلق انہوں نے آپ سے نہیں پوچھا تھا اس کا سبب آپ کی فضیلت کا اظہار اور علم ومعرفت میں آپ کا مقام و مرتبہ کا اعلان تھا۔ فیہ یغاث الناس یہ الإغاثہ یا الغوث سے مشتق ہے۔ آدمی نے مدد طلب کی، اس نے کہا : واغوثاہ۔ اور اسم لغوث، الغواث اور الغواث ہے اور استغاثنی فلان فاغثتہ یعنی فلاں نے مجھ سے مدد طلب کی تو میں نے اس کی مدد کی ۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 47–49

1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تعجب کیا یوسف (علیہ السلام) کے اور ان کے صبر اور ان کے کرم پر اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ جب ان سے دبلی اور موٹی گائیوں کے بارے میں پوچھا گیا اگر میں ان کی جگہ پر ہوتا اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے جب ان کے پاس قاصد آیا تھا تو میں بھاگ جاتا دروازے کی طرف (یعنی جیل سے نکل جانے میں جلدی کرتا) لیکن انہوں نے ارادہ کیا کہ ان کے لئے ایک عذر ہوجائے (یعنی وہ بےقصور ثابت ہوجائیں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) ان کو خواب کی تعبیر دینے پر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ : پھر ] [ يَاْتِيْ : آئے گا [ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ : اس کے بعد ] [ عَامٌ : ایک ایسا سال [فِيْهِ : جس میں ] [يُغَاثُ : بارش برسائی جائے گی ] [النَاسُ : لوگوں پر ] [وَفِيْهِ : اور اس میں ] [ يَعْصِرُوْنَ : وہ لوگ نچوڑیں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 44–50

بادشاہ کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو طلب کرنا اور آپ کا تحقیق حال کے بغیر جیل سے باہر آنے سے انکار فرمانا جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر دے دی اور جو شخص تعبیر پوچھنے کے لیے آیا تھا اس نے واپس جا کر تعبیر بتادی تو لوگوں کی سمجھ میں بات آگئی اور بادشاہ نے سمجھ لیا کہ واقعی یہ تعبیر بتانے والا کوئی صاحب علم ہے جو تعبیر خواب کے فن میں ماہر ہے۔ اس نے صرف تعبیر ہی نہیں دی بلکہ معیشت پر قابو پانے کا طریقہ بھی بتادیا کہ پہلے سات سال کی پیداوار کو محفوظ رکھنا اور دانوں کو بالوں کے اندر ہی رہنے دینا تاکہ اسے کیڑا نہ کھاجائے اس پر بادشاہ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–49

شاہ مصر کا خواب دیکھنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اس کی تعبیر بتانا قال اللہ تعالیٰ وقال الملک انی اری سبع بقرت .... الیٰ .... وفیہ یعصرون۔ (ربط) حو جل شانہ جب کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایسے اسباب بھی پیدا فرما دیتے ہیں جن کی طرف آدمی کا خیال بھی نہیں جاتا چناچہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قید خانہ سے نجات دلانا منظور ہوا تو بادشاہ مصر ریان بن ولید کو ایک خواب دکھایا جو ان کی رہائی اور ظاہری عروج کا سبب بنا اور بادشاہ نے ایسا عجیب خواب دیکھا جس کی تعبیر سے تمام معتبر عاجز آگئے اس خواب کی تعبیر کسی کی سمجھ میں نہیں آئی تو اس وقت اس ساقی کو یوسف (علیہ السلام) یاد آئے اور اس نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 47–49

42:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے شاہ مصر کے خواب کی تعبیر اس طرح بیان فرمائی کہ پہلے سات سال تک تم لوگ حسب عادت کھیتی باڑی کرو گے اور غلہ اگاؤ گے لیکن ایسا کرنا کہ خوشوں سے دانے نہ نکالنا بلکہ خوشوں ہی کا ذخیرہ کرلینا تاکہ غلہ خراب نہ ہو اور اسے کیڑا نہ لگ جائے البتہ کھانے کے لیے جس قدر غلہ درکار ہو وہ خوشوں سے نکال لینا۔ ” ثُمَّ یَاْتِیْ الخ “ پھر اس کے بعد سات سال سخت قحط کے آئیں گے ان میں تم اپنا پہلے سات سالوں کا تمام ذخیرہ ختم کر ڈالو گے پھر اس کے بعد خوشحالی کا دور شروع ہوگا، بارش خوب ہوگی اور پھل میوے اور غلے وافر پیدا ہوں گے۔ خواب سے سات سال خوشحالی اور غلہ کی فراوانی کے اور پھر سات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–49

بادشاہ کا خواب گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی قیدیوں کو ان کے خوابوں کی بالکل سچی تعبیر بتائی۔ پھر جو شخص بری ہو کر اپنی ڈیوٹی پر واپس جانے والا تھا اس کو بادشاہ سے سفارش کے لئے بھی کہا مگر وہ شاہی دربار میں پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) کی بات کو فراموش کر بیٹھا۔ پھر سات ، نو یا بارہ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بادشاہ مصر کو ایک خواب آیا جس سے وہ پریشان ہوگیا اور اس نے اپنے درباریوں سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی درباریاس کی تعبیر سے عاجز آگئے اور کہنے لگے کہ یہ بےمعنی خواب ہے اس قسم کے پریشان خواب اکثر آیا کرتے ہیں مگر بادشاہ کی تسلی نہ ہوئی۔ اس دوران میں قید سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْہِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيْہِ يَعْصِرُوْنَ۝ 49 ۧ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی " آنا " ہیں خواہ کوئی بذاتہ آئے یا اس کا حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–50

2 ؎ یعنی وہ جو تخم ریزی کیلئے رکھ چھوڑو گے یا جو بڑی احتیاط سے جمع رکھا جاتا ہے۔ 12 منہ 2 ؎ حساب کتاب سے بھی واقف ہوں یا یہ کہ حفاظت کے طریقے خوب جانتا ہوں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 47–49

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا ج فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْہُ فِیْ سُنْبُلِہٖٓ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّا تَاْکُلُوْنَ ۔ ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌیَّاْکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَھُنَّ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ ۔ ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیْہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیْہِ یَعْصِرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 47، 48، 49) (آپ نے فرمایا، تم سات سال برابر کاشت کرو گے، تو جو تم کاٹو گے اسے رہنے دو اس کے خوشوں میں، مگر تھوڑا سا (ضرورت کے لیے نکال لو) جسے تم کھائو۔ پھر آئیں گے اس خوشحالی کے بعد سات سال بہت سخت۔ وہ کھا جائیں گے جو ذخیرہ تم نے پہلے جمع…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–49

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ رہائی پانے والے قیدی کا جیل میں آنا اور یوسف (علیہ السلام) کو آواز دینا۔ بادشاہ کا غلام جو حضرت یوسف کا قید میں ساتھی تھا بھاگم بھاگ یوسف (علیہ السلام) کی بیرک کے دروازے پر پہنچ کر آواز دیتا ہے کہ اے سچ بولنے والے یوسف ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں پتلی دبلی سات گائیں کھائے جا رہی ہیں اور سات سبزو شاداب بالیاں ہیں اور سات بالیاں سوکھی ہوئی ہیں۔ ازراہ کرم مجھے ان کی حقیقت بتلا تاکہ میں واپس جا کر لوگوں کو بتلاؤں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر بتلاتے ہوئے فرمایا ” کہ پہلے تم سات سال کھیتی باڑی کرو گے۔ ان سات سالوں میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

49: ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ 0 بَعْدِ ذٰلِکَ عَامٌ (پھر اس کے بعد ایک سال ہوگا) یعنی چودہ سال بعدفِیْہِ یُغَاثُ النَّاسُ (اسمیں لوگوں پر بارش برسائی جائے گی) یہ الغوث سے ہے۔ نمبر 1۔ ان کے فریادیوں کی ضرورت پوری ہوگی نمبر 2۔ الغیث سے ہے یعنی بارش کی جائے گی جیسے کہتے ہیں غیث البلاد جبکہ بارش ہو وَفِیْہِ یَعْصِرُوْنَ ( اور اس میں لوگ نچوڑیں گے) یعنی انگور زیتون تل، اور ان سے مشروبات بنائیں گے اور تری کیلئے بطور تیل استعمال کریں گے۔ قراءت : حمزہ و علی نے تعصرون پڑھا ہے۔ آپ نے بقرات سمان اور السنبلات الخضر کی تعبیر خوشحالی کے سال اور العجاف اور الیابسات کی تعبیر قحط والے سالوں سے کی اور پھر ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 49۔” ثم یاتی من بعد ذلک عام فیہ بغاث الناس “ یعنی بارش برسائے جائیں گے۔ غیث سے ہے بمعنی بارش اور بعض نے کہا ہے کہ بچائے جائیں گے۔ یہ عرب کے قول ” استغثت فلانا فاغاثنی “ سے مشتق ہے۔ ” وفیہ یعصرون “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” تعصرون “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے کہ ساری کلام خطاب پر ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے، لوگوں کی طرف لوٹاتے ہوئے ۔ مطلب یہ ہے کہ انگور کو نچوڑ کر شراب اور زیتون سے زیتون کا تیل کو نچوڑ کو ان کاتیل نکالیں گے۔ مراد یہ ہے کہ خیر اور نعمتیں زیادہ ہوں گی اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” یعصرون “ یعنی خشک سالی اور تکلیف سے نجات دیئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 44–49

44۔ 49۔ اوپر کی آیت میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ بادشاہ مصر نے ایک خواب دیکھا تھا کہ سات گائیں موٹی موٹی ہیں جن کو سات گائیں دبلی دبلی کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہری ہیں جن کو سوکھی بالیں کھا گئیں جس کی تعبیر اپنے اہل دربار اور کاہنوں سے اس نے دریافت کی تھی ان لوگوں نے بادشاہ کے سوال کا یہ جواب دیا کہ یہ خواب آپ کا محض خیال ہے جس کی تعبیر ہمارے علم و قیاس سے باہر ہے ہم کچھ نہیں بتلا سکتے غرض انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اس خواب کی تعبیر ہی نہیں ہے بلکہ یہ کہا کہ { وما نحن بتاویل الاحلام بعلمین } جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس قدر علم نہیں ہے کہ اس کی تعبیر بیان کریں اور مطلب اس گفتگو سے ان کا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ثم یاتی من بعد ذلک) ” پھر اس کے بعد آئے گا۔ “ یعنی سخت قحط سالی کے ان سات سالوں کے بعد (عام فیہ بغاث الناس وفیہ یعصرون) ” ایک سال، اس میں لوگوں پر بارش ہوگی اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے “ یعنی اس سال بہت کثرت سے بارشیں ہوں گی، بہت زیادہ سیلاب آئیں گے۔ کثرت سے غلہ پیدا ہوگا جو ان کی خوراک کی ضرویات سے زیادہ ہوگا، حتی کہ وہ انگوروں کا رس نچوڑیں گے جو ان کے کھانے سے زیادہ ہوں گے۔ شاید اس شادابی اور سرسبز سال پر استدلال اس لئے کیا۔۔۔ حالانکہ بادشاہ کے خواب میں اس سال کی صراحت نہیں تھی کہ یوسف نے سات سالہ قحط کی تعبیر سے سمجھا کہ ان کے بعد آنے والے سال میں قحط کی شدت زائل ہوجائے گی۔ کیونکہ یہ بات…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–49

فانساہ الشیطن کے دو مفہوم قول باری ہے وقال للذین ظن انہ تاج منھما اذکرنی عند ربک فانساہ الشیطن ذکر ربہ فلبث فی السجن بضع سنین ۔ پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اس سے یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ اپنے رب شاہ مصر سے میرا ذکر کرنا۔ مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب شاہ مصر سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسف کئی سال قید میں پڑا رہا ۔ یہاں ظن یقین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اس لیے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خواب کی اس تعبیر کے وقوع پذیرہونے کا یقین تھا جو آپ نے اسے بتائی تھی ۔ یہاں ظن بمعنی یقین کے استعمال کی مثال یہ آیت ہے۔ انی ظنت انی ملاق حسابیہ مجھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

84۔ قحط سالی کے بعد خوشحالی کے سال کی خوشخبری : کہ قحط سالی کے ان سات سالوں کے بعد خیروبرکت اور خوشحالی کا ایک سال ایسا آئے گا جس میں خوب بارش ہوگی اور اس میں لوگ خوب رس نچوڑیں گے۔ انگور اور زیتون وغیرہ کے رس جو وہ لوگ نچوڑا کرتے تھے۔ نیزدودھ دینے والے جانوروں کے دودھ بھی جو کہ بارش کے اس سال کے دوران بڑھ جائیں گے۔ یہ خواب کی تعبیر کا حصہ نہیں تھا بلکہ آپ نے اس پر زیادتی کے طور پر ازراہ کرم و عنایت، اللہ پاک کے القاء والہام سے ان لوگوں کو از خودبتادیا۔ تاکہ اس طرح یہ ان کے لیے امن واطمینان اور خوشی کا پیغام ہوجائے کہ یہ بھی ایک بڑی نیکی ہے کہ کسی مغموم انسان کے لیے خوشی ومسرت کا سامان کیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–49

آیات 43 تا 49 اسرار و معارف اللہ کریم کا اپنا نظام ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کوشش فرمائی تو ساقی کو شیطن نے بات ہی بھلادی مگر جب رہائی کا وقت آیا تو اللہ کریم کی طرف سے غیبی سامان ہونے لگا کہ شاہ مصرنے ایک عجیب خواب دیکھا اور صبح دم بہت گھبرایا ہوا اٹھا درباری علماء یا بخومی وکاہن جمع کئے اور کہنے لگا کہ میں نے خواب میں سات موٹے بیل دیکھے جنہیں دوسرے سات کمزور اور دبلے پتلے بیل کھا رہے تھے اور سات سرسبز بالیں دیکھی ہیں جن کے ساتھ دوسری سات خشک تھیں اس کی تعبیر بتائی جائے۔ وہ سب بھی حیران ہوگئے بات کسی کے پلے نہ پڑی اور کہہ دیا کہ حضور ! یہ محض پریشان خیالی ہے آپ اسے بھول جائیے ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 ۔ یعنی اس سال وہ پھل جن سے رس نکلتا ہے جیسے انگور، زیتون اور لیموں وغیرہ کثرت سے پیدا ہوں گے اور جانور بھی اچھا چارہ ملنے کی وجہ سے خوب دودھ دیں گے۔ اس بنا پر بعض نے ” یعصرون “ کے معنی یحلبون “ کہے ہیں۔ یعنی خوب دودھ نکالیں گے۔ (ابن کثیر) ۔ یہ بات حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے بذریعہ وحی خواب کی تعبیر سے زائد بتائی جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ ؓ سے مروی ہے۔ (روح) اور قحط کا مقابل کرنے اور غلہ محفوط رکھنے کے لئے جو طریق اختیار کیا جائے وہ بھی واضح فرمادیا۔ نیز اس کے بعد دوبارہ خوشحالی کی خوش خبری بھی دے گی۔ (از ابن کثیر وغیرہ) اس سے معلوم ہوا کہ کبھی کافر بھی سچے خواب دیکھ لیتا ہے۔ یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:49) یغات۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ اس کا مادہ غوث وغیث ہے الغیث کے معنی بارش کے ہیں۔ اور الغوث کے معنی مدد کے ہیں۔ باب استفعال سے مدد مانگنا کے طلب کے معنی میں مستعمل ہے۔ جیسے برحمتک استغیث۔ میں تیری رحمت کا طلب گار ہوں۔ یا اذتستغیثون ربکم (8:9) جب تم اپنے پروردگار سے مدد مانگتے تھے۔ اسی باب سے یستغیثون (غیث) سے پانی مانگنا بھی آتا ہے۔ یغات (فعل مجہول) بھی دونوں معنی میں آتا ہے ۔ مدد مانگنے کی صورت میں باب افعال سے اغاث یغیث۔ اور دوسری صورت میں (پانی مانگنا) غاث یغیث سے (باب ضرب) آیت ہذا میں یغاث (مضارع مجہول) غیث مصدر سے ہے (باب ضرب) مینہ برسایا جائے گا۔ یغاث الناس لوگوں کے لئے مینہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–49

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 49 الملک بادشاہ سبع سات بقرات (بقرۃ) ، گائیں سمان موٹی تازی، فربہ عجاف دبلی پتلی سنبلت (سنبلۃ) گیہوں کی بالیں جس میں دانہ ہوتا ہے خضرت ہرا بھرا یبست خشک افتونی مجھے بتاؤ رویائی میرا خواب تعبرون تم تعبیر دیتے ہو اضغاث پریشان خیالات ، فضول خیالات احلم (حلم) ۔ خیالات اداکر یاد کیا بعدامۃ مدت کے بعد ارسلون مجھے بھیج دے ارجع میں لوٹوں گا تزرعون تم کھیتی باڑی کرو گے داب لگاتار مسلسل حسدتم تم نے کھیتی کاٹی ذروہ اس کو چھوڑ دو سبع شداد سخت سات (سال) قدمتم تم نے آگے بھیجا تحصنون تم بچاؤ گے عام سال یاغث بارش برسائی جائے گی یعصرون وہ نچوڑیں گے تشریح : آیت نمبر 43 تا 49 کائنات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 44–49

بادشاہ مصر کی خواب کی تعبیر کا جواب مع تدبیر کے اوپر کی آیت میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ انہوں نے کہا :'' یہ بھی کچھ خواب ہے، یونہی دماغی بخارات ہیں اور ایسے خوابوں کی تعبیر ہم نہیں جانتے ''۔ ساقی کو مدت دراز کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا پیام یاد آیا تو بادشاہ سے کہا :'' میں اس کی تعبیر بتاؤں گا، مجھے قید خانہ تک جانے دیجئے۔ وہاں ایک شخص ہے کہ علم تعبیر کو خوب جانتا ہے ''۔ بادشاہ یہ خبر سن کر نہایت خوش ہوا اور فرمایا کہ جلدی اٹھ اور خبر لا۔ تو ساقی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس گیا اور زمین خدمت کو بوسہ دے کر عرض کیا کہ اے صدیق ! یعنی بڑے سچے ہمیں ذرا ایک خواب کی تعبیر تو بتایئے۔ ہمارے بادشاہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–56

[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–49

تعبیر کا ایک اصول : (ف 1) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خوابوں کی جو تعبیریں ، بتائی ہیں ، ان کو اصل خواب کی ہیئت کے ساتھ گہرا تعلق ہے ، اور معلوم ہوتا ہے کہ ان خوابوں کی یہی تعبیریں ہوسکتی ہیں ، مثلا جو شراب نچوڑ رہا ہے ، وہ ساقی ہے جس کے سر پر سے پرندے روٹیاں نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں ، وہ سولی دیا جائے گا اور پرندوں کا طعمہ بنے گا ، اسی طرح بادشاہ کا خواب جو قحط کی پیشگوئی ہے کس قدر واضح ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعبیر کا علم گو وجدان ہے لیکن یہ مسلم ہے کہ خواب کی کیفیت اور تعبیر میں ایک ربط ہونا چاہئے ، یہ ربط جس قدر صحیح ہوگا اسی قدر صحت کا گمان غالب ہوگا ، یہ ایک اصول ہے جس نے فن تعبیر پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

49 ۔ پھر ان سات برس کے بعد ایک برس ایسا آئے گا جس میں لوگوں کے لئے خوب بارشیں ہوں گی اور اس میں لوگ شیرہ بھی نچوڑیں گے اور پھلوں میں سے بھی رس نکالیں گے۔ یہ شاید وحی سے بتانا ہوگا کہ سات سال قحط سے گزرنے کے بعد بارشیں خوب ہوں گی اور انگورخوب پھیلیں گے اور دوسرے پھل بھی خوب آئیں گے لوگ پھلوں کا رس بھی نکالیں گے اور انگور کے شیرے سے شراب بھی بنائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ رس نچوڑنا واسطے شراب ساز کے فرمایا اور سات برس کا ذخیرہ بال میں رکھوایا تا کہ زمین میں گل نہ جائے ، سا ت برس قحط ہوگا جب تک پورا پڑے۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 44–49

ف 1۔ دو جواب اس لیے دیے کہ اول جواب سے بادشاہ کے قلب سے پریشانی اور وسواس دور کرنا ہے اور دوسرے جواب سے اپناعذر ظاہر کرنا ہے خلاصہ یہ کہ اول تو ایسی خواب قابل تعبیر نہیں دوسرے ہم اس فن سے واقف نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قحط سالی کے سات سال گزر جانے کے بعد آٹھواں سال پھر کھیتی باڑی کا ہو گا ۔ 61 یوسف (علیہ السلام) نے بتلایا کہ قحط سالی کے ساتھ سال گزر جانے کے بعد پھر ایک برس ایسا آئے گا کہ خوب پانی برسے گا ، کھیتیاں ہری ہوں گی اور لوگ پھلوں اور دانوں سے عراق اور تیل بہتات کے ساتھ نکالیں گے گویا موٹی گائیں اور بالیں خوش حالی کے سال ہیں اور دبلی گائیں اور بالیں خشک سالی کے برس۔ جو خوشحالی کی پیداوار کو کھا جائیں گے۔ یہ قرآن کریم کی بلاغت ہے کہ اس نے حضرت یوسف کی تعبیر خواب اور اس کے متعلق تدبیر کو ایک جملہ میں ساتھ ساتھ بیان کردیا تاکہ کلام میں تکرار اور دہرانے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ذرا غور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–49

Said in verse 48 was: ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ (Then there shall come, after that, seven hard years which shall eat up what you have stored for them). Since, seen in the dream was that seven lean cows ate up the seven fat ones, therefore, while giving his interpretation of the dream, he considered it appropriate to say that the years of the famine will eat up what they had stored over the past years. Though, an year is no eatable, the sense is that the people and animals will eat up during the time of famine whatever grain was stored…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–49

41. The literal meaning of yasiroon is:“they will press.”Here it has been used to denote that state of verdure which was going to prevail after the famine years because of rainfall and flood in the Nile. For, when the land will be watered, there will be abundance of seed to press oil, and abundance of fruit to press juice and abundance of fodder for cattle to press milk out of them. It should be noted that Prophet Joseph not only interpreted the king’s dream but also told them how to preserve and reserve grain during the first seven years of prosperity for the subsequent seven years of…

Read the full tafseer →